دورِ زوال
امتِ مسلمہ کے دورِ زوال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں گویا پیشگی تنبیہ (advance warning) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِن روایتوں کا مقصد یہ ہے کہ امت کے رہنما پیشگی طورپر زوال کی علامتوں کو جان لیں اور اُن کی اصلاح کے لیے سرگرم ہوجائیں۔ اگر چہ اِس معاملے میں امتِ مسلمہ کا حال بھی عملاً وہی ہوا جو پچھلی امتوں کا ہوا تھا، یعنی پیشگی تنبیہات کے باوجود اصلاحِ حال میں ناکامی۔اس کی وجہ مسلمانوں کے درمیان رائج خیر امت کا خود ساختہ تصور ہے۔ قرآن (3:110) میں مذکور خیر امت کا مطلب خیر الامم یا افضل الامم نہیں ہے۔ امت کے اندر اگر امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام باقی نہ رہے تو اللہ کے نزدیک امت کی حیثیت العیاذ باللہ، ملعون امت کی بن جائے گی، نہ کہ خیر امت کی۔ یہ انتباہ خود قرآن اور حدیث میں واضح طورپر دیاگیا ہے۔
