زندگی بعد موت

۲ اکتوبر ۱۹۶۸ کو مہاتما گاندھی کی پیدائش پر ایک سو سال پورے ہو گئے تھے۔ اس موقع پر گاندھی جنم شتابدی نہایت دھوم کے ساتھ منائی گئی۔ اس سلسلہ میں سرکاری اہتمام کے تحت جو مختلف پروگرام رکھے گئے   ، ان میں سے ایک وہ تھا جو ٹیلی فون کے محکمہ نے شروع کیا تھا۔ اس کا نام تھا :

۱۷۲  ڈائل کیجئے اور گاندھی جی کو سنیے

اس پروگرام کے تحت دہلی ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ نے ایک اسپیشل سروس جاری کی تھی۔ اس میں ٹیلی فون پر مہاتما گاندھی سے ربط قائم کرناممکن تھا۔ اگر آپ ٹیلی فون پر ۱۷۲ ڈائل کریں تو دوسری طرف سےمہاتما گاندھی کی ریکارڈ کی ہوئی آواز آپ کو سنائی دینے لگے گی۔

 آدمی ختم ہو جاتا ہے مگر اس کی آواز باقی رہتی ہے۔ آدمی مرجاتا ہے مگر اس کی آواز زندہ رہتی ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آدمی کی شخصیت ایک مسلسل ہستی ہے۔ وہ موت وارد ہونے کے بعد بھی بدستور زندہ حالت میں موجود رہتی ہے۔

شاید یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں قیامت اور بعث بعد الموت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پس آسمان اور زمین کے رب کی قسم ، بے شک وہ حق ہے جیسا کہ تم بولتے ہو (الذاریات ۲۳)

انسان کی آواز کی صورت میں انسان کی جزئی شخصیت بدستور باقی رہتی ہے۔ یہ واقعہ ہما رے براہ راست تجربہ میں آرہا ہے۔ پھر جب یہ معلوم ہو جائے کہ انسان کی شخصیت جزئی طور پر اپنا تسلسل باقی رکھتی ہے تو اس کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ انسان کی شخصیت مکمل طور پر بھی اپنا تسلسل باقی رکھے ہوئے ہے۔ ایک کا علم دوسرے کے علم کو قابلِ قیاس بنا دیتا ہے۔

جزء کا وجود ثابت ہونے کے بعد کل کا وجود اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔ انسانی آواز کی بعد از موت موجودگی اس عقیدہ کو قابل فہم بنا رہی ہے کہ انسان کی پوری شخصیت بعد از موت موجود ہے۔

ایک آدمی جو ۱۹۴۸ میں مرچکا، اس کی آواز آج سنائی دینا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ آدمی آج بھی زندہ موجود ہے ، اگر چہ وہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion