بچوں کی تربیت

ایک صاحب اپنے بچوں کی" تربیت "کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ ایک مولوی صاحب روزانہ ان کے یہاں آتے تھے تاکہ بچوں کو دینی تعلیم دیں۔ اس کے علاوہ وہ خود اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کرتے۔ وہ روزانہ اپنے بچوں کو لے کر بیٹھے۔ ان کو کلمہ اور دعائیں یاد کراتے۔ ان کو بتاتے کہ خدا کی عبادت کرو۔بڑوں کا احترام کرو۔ لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤ۔ وغیرہ مگر ان کے بچے بڑے ہو کر ویسے ہی شریر اور دنیا دار نکلے جیسے عام لوگوں کے بچے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ موصوف اپنی زبان سے تو بچوں کو دین کی تعلیم دیتے ، اور اپنے عمل سے بے دینی کا نمونہ پیش کرتے۔ الفاظ کے اعتبار سے وہ دین دار تھے ، مگر انھوں نے اپنے گھر میں عملی اعتبار سےدینداری کی فضا نہیں بنائی۔

مثلا ً انہیں اپنے محلہ کے ایک شخص سے ضد ہوگئی۔ یہ ضد محض انانیت کی بناپر تھی۔ ان کے خیال کے مطابق، اس شخص نے ایک بار ان کی توہین کر دی تھی۔ اس کے بعد ان کے اندر اس کے خلاف انتقامی جذبہ بھڑک اٹھا۔ گھر میں اس کی برائیاں کرتے۔ انھوں نے اس کو ہر طرح بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس کی معاشیات کو برباد کرنے کی تدبیریں کیں۔ حتٰی کہ اس کے خلاف جھوٹے مقدمے قائم کیے۔ وغیرہ یہ سلسلہ تقریبا ً پندرہ سال تک جاری رہا۔ بچے موصوف کی زبان سے دین کی باتیں سنتے۔ اور گھر کے بگڑے ہوئے ماحول کے اعتبار سے تخریب کاری کی فضا میں سانس لیتے۔ اور نفسیات کا فیصلہ ہے کہ جہاں اس قسم کی دوئی پائی جائے، وہاں آدمی حقیقی ماحول کا اثر قبول کرے گا نہ کہ اوپری قسم کے الفاظ کا۔ الفاظ کی زبان کے مقابلے میں عمل کی زبان ہمیشہ زیادہ طاقت ور ثابت ہوتی ہے۔

یہی اکثر" دیندار "والدین کا حال ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے خدا کی بات کریں گے مگر عملاً ان کی ساری توجہ غیر خدا کی طرف لگی ہوئی ہوگی۔ وہ زبان سے آخرت کا نام لیں گے مگر اپنے گھر کا عملی نظام اس طرح بنائیں گے جیسے دنیا کا سازو سامان جمع کرنے کے سوا زندگی کا اور کوئی مقصد نہیں۔ الفاظ کے ذریعہ وہ نیکی کا چرچا کریں گے مگر اپنی کمائی کو نیکی کی راہ میں دینے کے بجائے اس کو صرف بچوں کے دنیوی حوصلوں کی تکمیل میں خرچ کریں گے۔

 یہ دینی تربیت نہیں بلکہ دینی تربیت کا مذاق ہے۔ دینی تربیت دینی الفاظ بولنے کا نام نہیں، بلکہ دینی ماحول بنانے کا نام ہے۔ جس گھر کا عملی ماحول دین کے مطابق نہ ہو، اس گھر میں کچھ "قول" بول کر آپ دینی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھر کی بات چیت ، گھر کا پیسہ، گھر کی دل چسپی، گھر کی سرگرمی، گھر کے روز و شب ، ہر چیز کو دین پر ڈھالنا ہوگا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ بچوں کے اندر دینی مزاج پیدا ہو۔

 قول اور عمل کا یہ فرق عام ہے۔ ایسی حالت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بات کہنا سادہ طور پر صرف الفاظ بولنا ہے۔ جب کہ عمل کا تعلق دوسری بہت سی چیزوں سے جڑا ہوا ہے۔ آدمی اگر ان دوسرے پہلوؤں کی رعایت کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو وہ کبھی عمل کا ثبوت نہیں دے سکتا۔

 ایک شخص جب اسٹیج پر کھڑا ہو کر بولتا ہے تو وہ بات کو بات کی حیثیت سے کہتا ہے۔ مثلاً وہ اسلام کے اخلاقی اصولوں پر بول رہا ہو تو کتابوں میں لکھی ہوئی باتوں کو شاندار الفاظ میں دہرا دے گا۔ کتابی معلومات اور الفاظ کا ذخیرہ ایک عمدہ اخلاقی تقریر کو ظہور میں لانے کے لیے بالکل کافی ہے۔

مگر عمل کا معاملہ سراسر اس سے مختلف ہے۔ کسی اصول پر عمل کرنا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ عمل کرنے کے وقت ایسا ہوتا ہے کہ طرح طرح کی رکاوٹیں آدمی کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔ قول میں زبان سے لفظوں کو دہرا کر کام چل جاتا ہے۔ جب کہ عمل میں مشکلات کے خلاف جہاد کرکے عمل کرنا پڑتا ہے۔

 مثلاً  ایک شخص کو آپ دلائل کے ساتھ اس کی ایک غلطی بتاتے ہیں اور اس کے لیے اس عمل کا وقت آتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے یہ کہے کہ" میں نے غلطی کی " بظاہر یہ صرف چند الفاظ کا بولنا ہے۔ مگر اس قسم کا اعتراف آدمی کی پوری شخصیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا اعتراف اپنے وقار کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ دوسروں کی غلطی بیان کرنے والے بے شمار ہیں مگر اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والا کوئی نہیں۔

 آپ قدیم اسلامی شخصیتوں کے اعترافِ حق کے واقعات اپنی تقریر میں شاندار طور پر بیان کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ اس سے آپ کی اپنی ذات پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ مگر جب خود اپنی ایک غلطی کے اعتراف کا معاملہ ہو تو اس وقت خود اپنی ذات زد میں آجاتی ہے۔ چنانچہ پہلے میدان کا کامیاب انسان دوسرے میدان میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔

یہی  وہ خاص وجہ ہے جس کی بنا پر آدمی اصول کو بیان کرتا ہے مگر وہ اصول پر عمل نہیں کرتا۔ کیوں کہ اصول پر عمل کرتے ہوئے وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے مفادات مجروح ہو رہے ہیں کیوں کہ اس کو اپنی انا پر زد پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ کہیں ایک اصول پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے پیش آنیوالی ناخوش گواریوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کر لیا جائے۔ برائی کے جواب میں بھلائی کا رویہ اختیار کیا جائے۔

اسی طرح کبھی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ملی ہوئی چیز کو بلا شرط  دوسرے کے حوالے کر دیا جائے، کیوں کہ وہ اپنی چیز نہ تھی بلکہ دوسرے کی چیز بھی۔ کبھی اس کی خاطر دشمن کو گلے لگایا جاتا ہے اور جو دوست تھا، اس کو دشمن بنا لینا پڑتا ہے۔

یہ سب بلا شبہ نہایت مشکل کام ہیں۔ لیکن گھر کے اندر انھیں چیزوں کا ماحول قائم کرنے کا نام بچوں کی تربیت ہے۔ اگر آپ اپنی عملی زندگی میں ان اصولوں پر عمل نہ کریں تو اس کے بعد کوئی چیز آپ کے بچوں کو بگڑنے سے بچا نہیں سکتی، خواہ آپ صبح و شام اپنے گھر میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوں اور خواہ آپ نے اپنے بچوں اور بچیوں کو دار الاصلاح اور جامعہ الصالحات میں تعلیمی سند لینے کے لیے بھیج رکھا ہو۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion