خبر نامہ اسلامی مرکز ۶۴
۱۔ شائقین کے اصرار پر تذکیر القرآن کو کیسٹ پر لانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی آواز میں اس کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ پوری تفسیر کو اسی طرح کیسٹ پر منتقل کیا جائے گا۔
۲۔نسیم زہرا صاحبہ پاکستان کی انگریزی جرنلسٹ ہیں۔ وہ نیشن اور فرنٹیئر پوسٹ وغیرہ اخبارات میں لکھتی رہتی ہیں۸ جون ۱۹۹۰ کو وہ اسلامی مرکز میں آئیں اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر ہندستانی مسلمان اور عالم اسلام کے حالات کے بارےمیں تھے۔ آخر میں انھیں انگریزی الرسالہ اور بعض انگریزی مطبوعات دی گئیں۔
۳۔کالی کٹ(کیرالا) کے ایک صاحب نے اسلامی مرکز کی دو کتابوں کا ملیالم زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ کتا بیں یہ ہیں : مذہب اور جدید چیلنج، اسلام اور عصر حاضر۔ پہلی کتاب کو وہ چھپواچکے ہیں دوسری کتاب چھپوانے والے ہیں۔ ان کا پتہ یہ ہے:
Mohammed Kodiyathur, Purayil Manzil, Kodiyathur 673602
۴۔الرسالہ انگریز ی کی دعوتی افادیت ہر ایک تسلیم کرتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کا ایک دعوتی پرچہ صرف خریداری کی بنیاد پر نہیں چلایا جاسکتا۔ چنانچہ الرسالہ انگریزی مسلسل خساره پر نکل رہا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اس کو لوگوں کا مالی تعاون حاصل ہو۔ اگر لوگوں کاتعاون حاصل نہ ہو تو الرسالہ انگریزی کی زندگی شدید طور پر خطرہ میں پڑ جائے گی۔
۵۔کچھ لوگوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ مشن اور تبلیغی جماعت دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اس سے زبر دست فائدے ہوئے ہیں۔ تبلیغ کا طریقہ عوام کو متاثر کرنے کے لیے بہت کار آمد ہے۔مگر وہ ذہین طبقہ کو اپیل نہیں کرتا۔ دوسری طرف الرسالہ مشن ذہین طبقہ کے لیے بے حد اثر انگیز ثابت ہو رہا ہے مگر عوام تک اس کی پہنچ نہیں۔ مگر جب دونوں کو ملادیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے مددگار (supplementary force) بن جاتے ہیں۔ الرسالہ کو تبلیغ سے تقویت ملتی ہے اور تبلیغ کو الرسالہ ہے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ یہ طریقہ اختیار کر کے دونوں طبقوں میں وہ موثر دینی کام کر رہے ہیں۔ اس تجربہ کو ہر جگہ دہرانے کی ضرورت ہے۔
۶۔مولانا اکبر الدین قاسمی (حیدرآباد) لکھتے ہیں : دار العلوم سبیل السلام (حیدر آباد) جو ایک دینی عربی اقامتی درس گاہ ہے جہاں دورہ ٔ حدیث کے علاوہ تخصّص فی الدعوہ جیسے شعبہ جات قائم ہیں۔ اس درس گاہ کے علیا جماعتوں کے نصاب تعلیم میں خارجی مطالعہ کے طور پر طلبہ کے لیے مولانا وحید الدین خاں کی کتاب "مذہب اور جدید چیلنج " کو شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح ہندستان کے دینی ادارہ جات کے نصابِ تعلیم میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے شمول کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو عرب ممالک کی جامعات میں پہلے سے موجود ہے۔
۷۔ڈاکٹرا نور عباس صاحب نے بتایا کہ وہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات تین انگریزوں سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے ان سے اسلام پر گفتگو کی اور پھر ان کا پتہ لیا تا کہ ان کے نام الرسالہ انگریزی اور اسلامی مرکز کی انگریز ی کتابیں بھیج سکیں۔ اس طرح کی مثالیں کثرت سے سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ انگریزی اور مرکز کی انگریزی کتابوں نے لوگوں کے اندر ایک نیاد عوتی اعتماد پیدا کیا ہے۔ وہ مغربی لوگوں سے یا جدید تعلیم یافتہ اصحاب سے دعوتی ملاقات کرتے ہیں اور ان کو الرسالہ انگریزی یا مرکز کی انگریزی مطبوعات پورے اعتماد کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
۸۔عبید اللہ احمد صاحب (محبوب نگر) عرصہ سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ نئے ذہن کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کرنے میں بہت مددملتی ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایک امریکن نوجوان سے ہوئی۔ اس نے اسلام کے بارےمیں کچھ نئے قسم کے سوالات کیے۔ عبید اللہ صاحب نے الرسالہ کے بعض مضامین کی مدد سے اس کا جواب دیا۔ وہ متاثرہو گیا اور اسلامی مرکز میں آکر انگریزی الرسالہ اور مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات اپنے لیے حاصل کیں۔
۹۔الرسالہ کا تعمیری فکر تیزی سے عوام وخواص کے درمیان پھیل رہا ہے۔ لوگوں کے خیالات کی اصلاح ہو رہی ہے۔ اپنے اپنے انداز میں لوگوں نے الرسالہ کی بات کو دہرانا شروع کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر ہفت روزہ نقیب (۴ جون ۱۹۹۰) کے ایک مضمون کا عنوان ہے : تبدیلی ٔنظام یا تبدیلی ٔقلب۔ اس طرح اکثر مقررین و محررین الرسالہ کی بولی بولنے لگے ہیں۔
۱۰۔کئی نئی کتا بیں زیر تیاری ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب حدیث پر ہے ، دوسری کتاب سیرت پر، اور تیسری کتاب دور ِجدید میں اسلام کی دعوت کے امکانات پر۔
۱۱۔ایک صاحب نے بتایا کہ میں غیر مسلموں کے درمیان رہتا ہوں۔ وہ اکثر اسلام کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ ان کا جواب دینے کے لیے میں نے مرکز کی کتابوں کو بہت زیادہ مفید پایا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم کو اسلامی جہاد کے اوپر اعتراض تھا۔ میں نے ان کو ایک مشہور مصنف کی کتاب دی جو "جہاد فی سبیل اللہ" کے نام سے چھپی ہے۔ اس کو پڑھ کر اس غیر مسلم کی غلط فہمی میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ اس کتاب کے مطابق تو اسلام کا مقصد تمام قوموں سے لڑ کر عالمی اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ پھر تو اسلام ایک امپرلزم ہے۔ اس کے بعد میں نے الرسالہ کے مضامین کے ذریعہ انھیں سمجھایا تو وہ مطمئن ہو گئے۔
۱۲۔سلطان احمددام جی (ہوڑہ) ۱۳ جون ۱۹۹۰ کو مرکز میں آئے۔ انھوں نے بتایا کہ "میں کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں اور پانچ پر چہ کی ایجنسی بھی چلاتا ہوں۔ میرے پاس کوئی بڑی ڈگری نہیں۔مگر الرسالہ میرے لیے سب سے بڑا گائڈ ہے۔ الرسالہ پڑھنا ہر ایک کے لیے مفید ہے۔ الرسالہ پڑھنا ہماری خوراک ہے۔ یہ الرسالہ کی تعلیم کا طفیل ہے کہ میں فساد سے دور رہ کر اپنے بچوں کو پڑھا رہا ہوں۔ ۱۹۸۹ میں میرالڑ کا دسویں درجہ (سائنس گروپ) میں پورے بنگال میں فرسٹ آیا ہے۔ بھٹو نے کہا تھا کہ گھاس کھاؤ مگر ایٹم بم بناؤ۔ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ گھاس کھاؤ مگر بچوں کو پڑھاؤ - الرسالہ مسلمانوں میں برداشت پیدا کر رہا ہے اور برداشت ہی میں ساری ترقی ہے"۔ اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جو الرسالہ سے تعمیری فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔
۱۳۔عادل آباد میں ایک ہندو پوسٹ ماسٹروائی کے رام لو ہیں۔ وہ اردو جانتے ہیں۔ چنانچہ وہ الرسالہ کو باقا عدہ خرید کر پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کی کئی کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ وہ الرسالہ کے مشن سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔ اس طرح کے اور بہت سے غیر مسلم صاحبان ہیں جو پابندی کے ساتھ الرسالہ اردو یا انگریز ی کا ماہ بماہ مطالعہ کرتے ہیں۔
