آسان حل
قرآن میں جن پیغمبروں کا ذکر ہے ان میں سے ایک حضرت ایوب علیہ السلام ہیں۔ یہ بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔ ان کا زمانہ غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ اسرائیلی روایات کے مطابق، وہ جنوبی فلسطین کے قدیم شہر عوض (Uz) میں رہتے تھے۔ حضرت ایوب کا ذکر قرآن میں اِن مقامات پر آیا ہے : النسا ء: ۱۶۳، الانعا م: ۸۴ ، الا نبیا ء: ۸۳ ، ص:۴۱۔ اس کے علاوہ بائبل میں ایوب (Job) کے نام سے ایک مفصل کتاب ہے۔ آپ کے حالات کی تفصیل تفسیر کی کتابوں اور بائبل میں دیکھی جاسکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت ایوب علیہ السلام پہلے نہایت خوش حال اور تندرست تھے۔ اس کے بعد آپ کے حالات بدلے۔ دولت ختم ہو گئی۔ آپ کو سخت قسم کی بیماری لگ گئی جس میں آپ کے سارے بدن میں پھوڑے ہی پھوڑے ہو گئے۔ ایسے حالات میں آدمی کبھی کبھی جھنجھلا اٹھتا ہے۔ اسی طرح کی کیفیت میں ایک روز اپنی بیوی کے بارےمیں ان کی زبان سے نکل گیا کہ میں اچھا ہوگیا تو تم کو ایک سو کوڑے ماروں گا۔ یہ بات آپ نے خدا کی قسم کھا کر فرمائی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی۔ آپ بالکل تندرست ہوگئے۔ مال و دولت بھی دوبارہ حاصل ہو گیا۔ اب یہ مسئلہ تھا کہ قسم پورا کرنے کے لیے آپ کو اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنا چاہیے ، اور نہ آپ شرعی اعتبار سے حانث قرار پائیں گے۔ دوسری طرف آپ کا ضمیر یہ کہتا تھا کہ میں نے اپنی ذاتی کیفیت کے تحت بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھا لی تھی۔ ورنہ حقیقۃ ً اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے کہ اس کو اس قسم کی سخت سزادی جائے۔
قرآن کے مطابق، اس وقت آپ پر یہ حکم اترا کہ تم ایک سو سینکوں کا ایک مُٹھا اپنے ہاتھ میں لو اور اس سے اپنی بیوی کو مار دو۔ اس سے تمہارا عہد پورا ہو جائے گا اور تم قسم میں بھی جھوٹے ثابت نہ ہو گے (ص :۴۴) اس حکم کے مطابق حضرت ایوب نے جھاڑو کی مانند ایک سوسینکوں کا مُٹھا بنایا اور اس سے ایک بار اپنی بیوی کو ہلکے طور پر مار دیا۔ اس طرح اللہ نے ان کے ضمیر کو مطمئن کر دیا۔
اس واقعہ سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ اور وہ ہے بوقت ضرورت کسی عمل کو حقیقی صورت کے بجائے علامتی صورت میں انجام دینا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک عمل کو اس کی حقیقی صورت میں انجام دینا کسی شخصی یا اجتماعی سبب سے غیر معقول بن جاتا ہے۔ دوسری طرف بظاہر یہ بھی ممکن نہیں ہوتا کہ اس کو سرے سے چھوڑ دیا جائے۔ ایسے وقت میں شریعت میں یہ طریقہ بتا یا گیا ہے کہ اس فعل کو علامتی طور پر انجام دے لیا جائے۔
اس اصول کے توسیعی انطباق کی ایک دلچسپ مثال مجھے ۱۹۸۸ میں یمن کے سفر میں دیکھنے کوملی قدیم زمانے میں یمن میں یہ رواج تھا کہ ہر شخص اپنے پاس ایک تلوار رکھتا تھا۔ صدیوں کے عمل کے نتیجے میں تلوارر کھنے کا یہ رواج ان کے یہاں محض سادہ رواج نہ رہا بلکہ وہ مردانگی کی علامت بن گیا۔اگر کوئی شخص اپنے ساتھ تلوار نہ رکھے تو لوگوں کی نظر میں وہ حقیر بن جاتا تھا۔
تلوار رکھنے کا یہ رواج قبائلی دور کی یاد گار ہے۔ اس زمانے میں تحفظ ہر شخص کی ایک ذاتی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ منظم ریاستوں کا زمانہ ہے۔ اب تحفظ ،ریاست کی ذمہ داری بن چکی ہے، اور اس کے لیے ہر ملک میں اعلیٰ پیمانہ پر پولیس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ حالات کی اس تبدیلی نے اب ہر وقت تلوار لٹکائے رکھنے کو ایک بے فائدہ بوجھ بنا دیا ہے۔
اس بنا پر یمن کی نئی نسل نے یہ کہنا شروع کیا کہ اب ہمیں تلوار رکھنے کے طریقہ کو ختم کر دینا چاہیے ۔ تاہم صدیوں کے رواج کا زور اس کے کلی ترک میں مانع تھا۔ کچھ لوگوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ تلوار کے استعمال کو یکسر ختم نہ کیا جائے۔ البتہ اس میں یہ تبدیلی کرلی جائے کہ حقیقی تلوار کے بجائے علامتی تلوار کا استعمال شروع کر دیا جائے۔
جدیدیمن میں اب اسی کو اختیار کر لیا گیا ہے۔ وہ لوگ اب ماضی کی طرح اپنے ساتھ بڑی بڑی تلواریں نہیں لیے رہتے۔ اس کے بجائے وہ تلوار کی شکل کی چھوٹی سی چیز (الجنبیہ) اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اس کی دھار کند ہوتی ہے اور وہ غلاف کے اندر رکھی جاتی ہے۔ اس طرح ان کا احساس مردانگی بھی مجروح نہیں ہوا اور رواج بھی بظاہر باقی رہا۔ تفصیل کے لیے : الرسالہ اپریل ۱۹۸۹ صفحہ ۲۵(
یہ بات مجھے اس وقت یاد آئی جب ۵ اپریل ۱۹۹۰ کے اخبارات میں میں نے ایک خبر پڑھی، ٹائمس آف انڈیا(۱۵ اپریل ۱۹۹۰) کا صفحہ ۳ دیکھئے۔ اس پر ایک نمایاں تصویر ہے جس میں دو آدمی اپنےہاتھ میں تلوار اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں سکھ ایم پی ، مسٹر سمرن جیت سنگھ مان اور مسٹر دھن سنگھ ہیں جو پنجاب سے اکالی دل کے ٹکٹ پر ایم پی منتخب ہوئے ہیں۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ دونوں سکھ ایم پی ۴ اپریل کو پارلیمنٹ لوک سبھا پہنچے تا کہ حلف برداری کی رسم ادا کر سکیں۔ مگر لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر بی رے کی ہدایت پر واچ اینڈ وارڈ کے اسٹاف نے دونوں صاحبان کو گیٹ نمبر ایک پر روک لیا اور ان کو اندر جانے نہیں دیا۔ نامہ نگار کے الفاظ میں ، وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دئے گئے۔ کیونکہ کہ ان کا اصرار تھا کہ وہ اپنی لمبی تلوار کے ساتھ اندر جائیں گے:
They were barred from entering parliament house for their insistence on carrying their long sword to take the oath.
سکھ ممبران نے اس کے خلاف پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا۔ مذکورہ تصویر اسی دھرنا کے وقت لی گئی تھی۔
سکھ لوگ اپنے مذہب کی رو سے اس کو ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ تلوار (کر پان) رکھیں۔ تلوا ر ان کے لیے مذہبی نشان (religious emblem) کی حیثیت رکھتی ہے۔ سکھوں میں سے جو لوگ تلوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں، وہ صدیوں کے رواج کے مطابق اس کو اتنا ضروری سمجھتے ہیں کہ تلوار کو چھوڑنا ان کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسے خود مذہب کو چھوڑ دینا۔ اس لیے ان کو اس پر آمادہ کرنا بے حد مشکل ہے کہ وہ اپنے ساتھ تلوار نہ رکھیں۔
قدیم زمانہ میں اس مذہبی رواج کی اہمیت تھی مگر اب یہ رواج غیر ضروری بن چکا ہے۔ اسی کےساتھ وہ زمانہ کی اسپرٹ کے خلاف بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ حضرات کے ساتھ بار بار یہ مسئلہ مختلف صورتوں میں پیش آرہا ہے۔ ایسے سکھ بھائیوں کو بہت سے لوگ اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے کہ آج کی دنیا میں وہ غیر موزوں (misfit) ہو گئے ہوں۔
اب اس مسئلہ کا ایک قابل عمل حل یہ ہے کہ سکھ بھائی مذکورہ اصول کو اپنے لیے اختیار کرلیں۔ یعنی وہ اس پر راضی ہو جائیں کہ آئندہ وہ حقیقی تلوار کے بجائے علامتی تلوار کا استعمال کریں گے۔
مسیحی حضرات اس اصول کو پہلے ہی اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے عقیدہ کے مطابق ، مسیح علیہ السلام کو صلیب (cross) پر پھانسی دی گئی تھی۔ بطور واقعہ ہم اس کو درست نہیں سمجھتے۔ تاہم اس سے قطع ِنظر کہنا یہ ہے کہ مسیحی حضرات نے اپنے اس عقیدہ کے تحت صلیب کو اپنا مذہبی نشان بنا لیا ہے۔ ان کے یہاں اس کا خاص احترام پایا جاتا ہے۔
مسیحی حضرات کے یہاں صلیب کے مختلف استعمالات ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے جسم پر اس کو لٹکاتے ہیں۔ قد آدم صلیب کو اپنے اوپر لٹکانا بڑا عجیب ہوتا۔ اس لیے انھوں نے صلیب کو علامتی طور پر (as a symbol) استعمال کرنے کا اصول اختیار کیا۔ وہ صلیب کی صورت کے چھوٹے چھوٹے نمونے بناتے ہیں اور ان کو اپنے اوپر لٹکا لیتے ہیں۔
میرا مشورہ ہے کہ سکھ بھائی ایجی ٹیشن کرنے کے بجائے اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ وہ اس معاملہ میں مذکورہ اصول کو اختیار کر لیں۔ وہ پوری تلوار کا عام استعمال ترک کر دیں اور چھوٹے سائز کی ایسی تلوار بنا کر اس کو استعمال کر ناشروع کر دیں۔ اس طرح سکھ بھائی مذہبی دیوانگی (fanaticism) کے الزام سے بچ جائیں گے۔ اس تدبیر سے ان کا مذہبی رواج بھی باقی رہے گا ، اور وہ اپنے آپ کو زمانے کی اسپرٹ کے ساتھ ہم آہنگ بنانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔
مذہب حقیقۃ ً ایک اسپرٹ کا نام ہے نہ کہ کسی فارم کا۔ اگر اہل مذہب کسی مخصوص فارم پر بہت زیادہ اصرار کرنے لگیں تو وہ دنیا والوں کی نظر میں ایک ناقابل ِفہم عجوبہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسی چیز بن جاتے ہیں جو زمانہ کے ساتھ پر امن طور پر چلنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔
