پکار کے وقت
تھیو فیلس (Theophilus) بازنطینی سلطنت کے آخری دور کا حکمران ہے۔ اس کا مرکز سلطنت قسطنطنیہ تھا۔ اس کا زمانۂ حکومت ۸۲۹ ء تا ۸۴۲ ء ہے۔ تھیو فیلس عباسی خلیفہ المعتصم کا ہم عصر تھا۔
دور اوّل کے مسلمانوں نے قدیم رومی (بازنطینی) سلطنت کے بڑے حصہ کو پہلی صدی ہجری میں فتح کر لیا تھا۔ تاہم قسطنطنیہ اب بھی بازنطینی حکمراں کے قبضہ میں تھا۔ موجودہ ترکی کے ایک حصہ پر اب بھی اس کی حکومت قائم تھی۔
قسطنطنیہ کا بازنطینی بادشاه تھیوفیلس ۲۲۳ ھ(۸۳۷ ء) میں ایک بڑا لشکرلے کر نکلا اورمسلم علاقے میں پہونچ کر زبطرہ پر چھاپہ مارا۔ اس کے ساتھ اس نے ملطیہ کے مسلم قلعہ پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں اس نے بہت سے مسلمان مردوں اور عورتوں کو قتل کیا۔ انہیں گرفتار کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے کچھ لوگوں کا مُثلہ کیا۔
اس موقع پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ بازنطینی سپاہیوں نے ایک عربی عورت کو پکڑا اور اس کو گھسیٹتے ہوئے لے چلے۔ عورت چلا اٹھی۔ اس کی زبان سے نکلا : وامعتصماہ (ہائے معتصم)
خلیفہ المعتصم اس وقت بغداد میں تھا۔ وہاں سے آنے والوں نے خلیفہ کو بازنطینی حکمراں کے مظالم کی خبریں بتائیں۔ اسی کے ساتھ مذکورہ عرب عورت کا قصہ بھی بتایا۔ المعتصم اس کو سن کر تڑپ اٹھا۔ اس وقت وہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے وامعتصماه کا لفظ سنا تو اسی وقت لبيك لبيك کہتے ہوئے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اپنے محل کی چھت پر چڑھا اور پکار کر کہا : النفير،النفير (کوچ ، کوچ)
اس کے بعد المعتصم نے زبر دست تیاری کی اور ایک طاقت ور فوج کو لے کر مقام حادثہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ عموریہ (Amorium) پہونچ گیا۔ عموریہ (ترکی) اس وقت بازنطینیوں کے قبضہ میں تھا اور یہاں ان کا قلعہ تھا۔ المعتصم نے قلعہ کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ منجنیق کے ذریعہ اس پر گولے برسائے جائیں۔یہاں تک کہ اس کی دیواریں ٹوٹ گئیں۔ المعتصم اپنی فوج کو لے کر قلعہ کے اندر داخل ہو گیا۔ اہل قلعہ نےہتھیار ڈال دیے۔ المعتصم نے تمام مسلم قیدیوں کو چھڑایا اور اس عرب عورت کو بھی قید سے رہا کیا جس نے اس سے پہلے واعتصماہ کہہ کر خلیفہ کو پکارا تھا۔
مظلوم کی پکار پر دوڑنا زندہ انسان کی خاص علامت ہے۔ ایک شخص جس کے اندر انسانی جو ہر موجود ہو۔ جو اپنے مردانہ اوصاف پر قائم ہو، وہ ایسی کسی پکار کو نظر انداز کرنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ انسانی صفت ہے جس کے بارے میں عرب شاعر نے کہا ہے کہ ان کا بھائی جب اپنی کسی مصیبت پر انھیں پکارے تو اس وقت وہ تفصیل نہیں پوچھتے ، وہ فوراً اس کی مدد پر دوڑ پڑتے ہیں :
لَا يَسْأَلُونَ أَخَاهُمْ حِينَ يَنْدُبُهُمْ … فِي النَّائِبَاتِ عَلَى مَا قَالَ بُرْهَانَا
مظلوم کی مدد کرنا یا مظلوم کی پکار پر دوڑنا ایک فطری صفت ہے۔ جن لوگوں کی فطرت زندہ ہو، ان کے اندر یہ انسانی خصوصیت بھی ضرور زندہ ہوگی۔ یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی فطرت کے اعتبارسے زندہ ہو اور اس کے اندر یہ صفت نہ پائی جائے۔
قومی تعصب یا ذاتی تعلق کے تحت ہر آدمی اپنے لوگوں کی مدد کے لیے دوڑتا ہے۔ مگر اس قسم کے دوڑنے کو کوئی اعلیٰ اخلاقی صفت نہیں کہا جاسکا۔ اعلیٰ اخلاقی صفت کا درجہ صرف اس دوڑنے کو حاصل ہے جو ذاتی تعلق یا قومی تعصب جیسی چیزوں سے بلند ہو۔ جب کہ آدمی اس لیے دوڑ پڑے کہ پکارنے والا مظلوم ہے ، نہ اس لیے کہ ذاتی مفاد یا جماعتی حمیت کا تقاضا ہے کہ اس کی پکار پر دوڑا جائے۔
