قیامت کا طوفان
۲۹ مئی ۱۹۹۰ کو دہلی میں ایک سخت آندھی آئی۔ اس کی رفتار ۷۵ کیلومیٹرفی گھنٹہ تھی۔ یہ آندھی ۴۵ منٹ تک چلتی رہی۔ کتنے درخت اکھڑ گئے۔ بے شمار شاخیں ٹوٹ کر گر پڑیں۔ اس سلسلے کا ایک واقعہ وہ ہے جو نیچے کی تصویر میں نظر آ رہا ہے۔ ایک بھاری درخت ٹوٹ کر ایک موٹر کار کے اوپر گر پڑا۔ اس کے نیچے کار کی باڈی کچل گئی۔
آندھی قدرت کا ایک عام مظہر ہے جس کا مشاہدہ تمام لوگوں کو بار بار ہوتا رہتا ہے۔ تاہم عام طور پر یہ آندھیاں ایک خاص حد کے اندر رہتی ہیں۔ اس کی وجہ سے کچھ وقتی نقصان تو ہوتا ہے مگر اس کا نقصان مکمل تخریب تک نہیں پہنچا۔
علمی نقطۂ نظر کہتا ہے کہ جو آندھی ۷۵ کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے ، وہ ۷۵ سویا ۷۵ ہزار کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چل سکتی ہے۔ اسی طرح جو آندھی ہماری زمین پر ۴۵ منٹ تک چلتی رہتی ہے ، اس کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ۴۵ سو دن تک مسلسل اپنی تمام ہلاکت خیز یوں کے ساتھ جاری رہے۔
اس طرح یہ آندھی قیامت کے امکان کو بتاتی ہے۔ وہ قیامت کے طوفان کی پیشگی اطلاع ہے۔ پچھلے زمانوں میں جو قو میں انکار حق کے نتیجے میں ہلاک کی گئیں ، ان کی صورت یہی تھی کہ آندھی یا بارش یا زلزلہ جو عام حالت میں کم تر شدت کے ساتھ آتے ہیں ، ان کو زمین کے کسی حصہ میں زیادہ شدت کے ساتھ بھیج دیا گیا۔
قیامت گویا شدید تر درجہ کی عالمگیر آندھی ہوگی۔ اس کی رفتار اور مدت دونوں اتنی زیادہ ہوگی کہ درخت اور مکانات تو درکنار، پہاڑ بھی اس کے آگے ٹھہر نہ سکیں گے۔ تمام زندہ اور غیر زندہ چیزیں اس کی زد میں آجائیں گی۔ اس کی بے پناہ شدت زمین کی سطح کی ہر چیز کو تہ و بالا کر دے گی۔ انسانی تمدن کے تمام نشانات اس طرح مٹ جائیں گے جیسے کہ وہ تنکوں سے بھی زیادہ بے حقیقت تھے۔
آج کی آندھی ایک موٹر کار کو کچلتی ہے، قیامت کی آندھی پورے انسانی تمدن کو کچل ڈالے گی۔ آج کا بھونچال ایک شہر کو تل پٹ کرتا ہے، قیامت کا بھونچال پورے عالم کو تل پٹ کر دے گا۔ آج کی موت ایک آدمی کی جان لیتی ہے۔ قیامت کی موت تمام انسانوں کو موت کی ہلاکت سے دوچار ہونے پر مجبور کر دے گی۔ آج خدا کا فیصلہ جزئی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے، کل خدا کا فیصلہ اپنی کلی صورت میں ظاہر ہو جائے گا۔
یہ قیامت جب آئے گی تو وہ اس بات کا اعلان ہوگی کہ موجودہ دنیا کی امتحان کی مدت پوری ہو گئی۔ اب دنیا کا مالک امتحان کی دنیا کو توڑ کر دوسری کامل دنیا بنائے گا جہاں نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے۔
آج کے چھوٹے طوفان آئندہ آنے والے بڑے طوفان کی پیشگی خبر دے رہے ہیں۔ جو لوگ اس انتباہ سے جاگ اٹھیں وہی آنکھ اور کان والے ہیں۔ اور جو لوگ قدرت کے اس انتباہ کے باوجود نہ جاگیں ، وہ اندھے اور بہرے ہیں۔ ان کے لیے ابدی بر بادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
