جمہوریت
۲۲ نومبر ۱۹۸۹ کو ہندستانی پارلیمنٹ کا نواں الیکشن ہوا۔ مختلف اسباب کی بنا پر بر سراقتدار کانگریس پارٹی کو کامیابی نہ مل سکی۔ اگر چہ کسی دوسری پارٹی کے مقابلے میں اس کے کامیاب ممبروں کی تعداد اب بھی زیادہ تھی۔ مگر اس کو ایوان میں مطلق اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ اس لیے وہ تنہا حکومت نہیں بنا سکتی تھی۔ چنانچہ کانگریسی وزیر اعظم مسٹر راجیو گاندھی کو استعفا دینا پڑا۔
اس الکشن کے بہت سے سبق آموز پہلو ہیں۔ اس کا ایک قابلِ ذکر واقعہ سابق وزیر اعظم راجیوگاندھی کا وہ بیان ہے جو نتیجہ سامنے آنے کے بعد انھوں نے ٹیلی ویژن پر دیا۔ ٹائمس آف انڈیا(۳۰ نومبر ۱۹۸۹)میں اس کا جو متن چھپا ہے ، اس کے کچھ الفاظ یہ ہیں :
The people have given their verdict. In all humility, we respect the verdict. A new government will be formed. We extend to them our good wishes and offer them our constructive cooperation. Elections are won and lost. But the work of a nation never ends.
عوام نے اپنا فیصلہ دیدیا ہے۔ ہم عاجزانہ طور پر اس فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔ اب ایک نئی حکومت بنے گی۔ ہم ان کے لیے نیک تمنا کرتے ہیں اور ان کے لیے اپنے تعمیری تعاون کی پیش کش کرتے ہیں۔ الیکشن جیتے بھی جاتے ہیں اور ہارے بھی جاتے ہیں۔ مگر قوم کی تعمیر کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا۔
یہی مزاج ہے جو کسی ملک میں جمہوریت کو قائم رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نام ہے شکست کو تسلیم کرنے کا۔ اس قسم کے مقابلوں میں ہمیشہ کسی کی جیت ہوتی ہے اور کسی کی ہار ہوتی ہے۔ اگر ہار نے والا اپنی ہار کونہ مانے تو جمہوریت کبھی قائم نہیں ہو سکتی۔
مزید یہ کہ یہ صرف حکومت اور الکشن کا معاملہ نہیں، یہ پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں پیچھے رہ جانے والے کو چاہیے کہ وہ واقعہ کا اعتراف کرے۔ واقعہ کا اعتراف کرنا سماج کو تخریبی کارروائیوں سے بچاتا ہے اور واقعہ کا اعتراف نہ کرنا سماج کو تخریبی کارروائیوں کا جنگل بنا دیتا ہے۔ کسی سماج کی ترقی ایک دوسرے کا اعتراف کیے بغیر ممکن نہیں۔
