راستہ میں
مسٹر دربارہ سنگھ پنجاب کے لیڈر تھے۔ وہ پنجاب کے چیف منسٹر بھی رہے۔ ۱۱ مارچ ۱۹۹۰ کو ۷۵ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ہندو (۱۲ مارچ ۱۹۹۰) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وہ نئی دہلی میں تھے۔ ان پر دل کا شدید دورہ پڑا۔ وہ فورا ً مقامی بترا اسپتال میں لے جائے گئے۔ مگر راستہ ہی میں ان کا انتقال ہو گیا :
He died on way to hospital.
میں نے اس خبر کو پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر آدمی کہیں جارہا ہے، مگر ہر آدمی " راستہ میں" مرجاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے خوابوں کی ایک دنیا بنانا چاہتا ہے ، مگر کسی آدمی کا خواب پورا نہیں ہوتا، اور وہ حسرت ویاس کے ساتھ اس دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے۔
اعظم گڑھ میں ایک راجہ ہر کھ چند تھے۔ ۱۹۴۷ کے پہلے کے دور میں انھوں نے شہر میں ایک محل نما کو ٹھی بنانا شروع کیا۔ برس ہا برس تک اس میں کام ہو تا رہا۔ مگر ان کی زندگی میں کوٹھی مکمل نہ ہوسکی۔ وہ اس کو مکمل صورت میں دیکھے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ اسی طرح ہر آدمی اپنا ایک دل پسند "مکان "بنا رہا ہے۔ جس آدمی کے پاس ذاتی مکان نہیں وہ دوسرے کے مکان پر غاصبانہ قبضہ کر کے صاحبِ مکان بن جاناچاہتا ہے۔
مگر آخر میں ہر آدمی بے مکان رہ جاتا ہے۔ کسی کا مکان کھڑا ہونے کے بعد بھونچال کے ذریعہ توڑ دیا جاتا ہے۔ کسی کو موت کا فرشتہ اس کے مکان سے جدا کر دیتا ہے۔ ہر آدمی " راستہ میں"ختم ہو رہا ہے۔کوئی بھی اپنی پسندیدہ منزل پر نہیں پہونچتا۔
اس دنیا میں آدمی کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ "راستہ میں" مرے۔ یہاں کسی بھی شخص کو اس کی مطلوبہ منزل نہیں مل سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا راستہ ہے۔ یہ دنیا منزل نہیں۔ انسان کی منزل آخرت میں ہے۔ عقل مند وہ ہے جو دنیا کو راستہ سمجھے اور آخرت کو اپنی منزل بنائے۔ یہی وہ شخص ہے جو آخر کار اپنی پسندیدہ منزل تک پہونچے گا۔
