اصل مسئلہ

فلسطینی تحریک انتفاضہ (uprising) کے بارےمیں بہت سی کتابیں چھپی ہیں۔ ان میں سے ایک ۱۲۵ صفحہ کی وہ عربی کتاب ہے جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے :

على طريق الانتفاضة المباركة، بقلم منير سعيد ، دار النفائس ، الكويت ، ١٤١٠ھ

 اس کتاب کے ایک باب میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مسلم عورت مدینہ کے ایک یہودی بازار میں تھی۔ ایک یہودی نے اس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ عورت نے فریاد کرتے ہوئے کہا : واإسلاماه (ہائے اسلام) قریب کے ایک مسلمان نے اس کو سنا اور فوراً  ہی تلوار لے کر یہودی کی گردن ماردی۔

اسی طرح عموریہ میں ایک مسلم عورت کو رومیوں نے گرفتار کر لیا۔ اس نے فریاد کرتے ہوئے کہا : وامعتصماہ (ہائے معتصم) ایک مسلمان نے اس پکار کو سنا اور اس کو بغداد کے خلیفہ معتصم تک پہونچایا۔ خلیفہ معتصم فورا ً فوج لے کر روانہ ہوا اور عمور یہ پہونچ کر مسلم خاتون کو رہائی دلائی۔ تاریخ اسلامی کے ان دو واقعات کو نقل کرنے کے بعد صاحب کتاب لکھتے ہیں:

كَم انْطَلَقْت صَيْحاتُ الِاسْتِغَاثَةِ والاستِنْجَادِ مِنْ أَفْوَاهِ الثُكالي وَالْيَتَامَى وَالشُّيُوخ وَالْأَطْفَال فِي فِلَسْطِينَ وَفِي مُخَيَّمَات لُبْنَان وَفِي شَتَّى بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ دُونَ أَنْ تَلْقَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ استجابةً۔ لَمْ يَتَحَرَّكْ فِي الْأُمَّةِ قَائِد و لَا زَعِيمٌ وَلَا فَرِيقٌ وَلَا عَمِيدٌ لِنَجْدَةِ هَؤُلَاء الْمُسْتَغِيثِينَ وَكَان الْمُسْلِمِينَ فِي أَرْجَاءِ الْأَرْضِ لَا يَعْنِيهِم أَمْر إخْوَانِهِم . (صفحہ ۶۰-۶۱)

کتنی ہی بار فلسطین میں اور لبنان کے خیمہ گاہوں میں اور مختلف ملکوں میں بیواؤں اور یتیموں اور بوڑھوں اور بچوں کے منہ سے فریاد اور اعانت طلبی کی پکار بلند ہوئی۔ مگر مسلمانوں کی طرف سے انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ امت میں کوئی رہنما اور کوئی لیڈر اور کوئی جماعت اور کوئی حاکم ان کی مدد کے لیے حرکت میں نہیں آیا۔ گویا کہ روئے زمین کے مسلمانوں کے لیے ان کے بھائیوں کا معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

 صاحب کتاب کے یہ آخری الفاظ بالکل خلاف واقعہ ہیں۔ حقیقت عین اس کے برعکس ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ فلسطین میں اور دوسرے ملکوں میں مظلوم مسلمانوں (عورتوں اور مردوں)کی پکار پر بے شمار لوگ اٹھے۔ ۱۹۴۸ میں حسن البنا مسلمانوں کی بہت بڑی جمعیت کے ساتھ اٹھےاور لبیک یا فلسطین کا نعرہ لگاتے ہوئے یہودیوں کے خلاف جہاد کیا۔ ۱۹۶۵ میں جمال عبد الناصرنے حکومت کی پوری طاقت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ مگر یہ ساری کوششیں غیر موثر ثابت ہوئیں۔اسی طرح ساری دنیا میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنے مظلوم بھائیوں کی حمایت میں جہاد کیا اور اسی راہ میں اپنی جانیں دیدیں۔

مدینہ میں یا عموریہ میں مظلوم خاتون کی مدد کے لیے جو قربانی دی گئی ، وہ مقدار کے اعتبار سے اس سے بہت کم ہے جو موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مظلوم عورتوں اور مردوں کے لیے دی گئی ہے۔ مگر نتیجہ بالکل مختلف ہے۔ مدینہ میں اور عموریہ میں نسبتا ً کم قربانی سے جو مقصد حاصل کر لیا گیا تھا، وہ موجودہ زمانہ میں زیادہ قربانی کے باوجود حاصل نہ کیا جاسکا۔

اس کی وجہ نہایت سادہ ہے  ––––– مدینہ اور عموریہ کا اقدام ضروری تیاری کے بعد کیا گیا تھا، جب کہ موجودہ زمانے کے اقدامات ضروری تیاری کے بغیر کیے جاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کو اپنے اقدام میں مکمل کامیابی ہوئی، اور موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو اپنے اقدام میں مطلق کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

صاحب کتاب اور اس قسم کے دوسرے مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ کا آغاز "مدینہ "اور" عموریہ "سے کر رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں۔ انھیں اپنی سوچ کا آغاز "مکہ" سے کرنا چاہیے۔ "مدینہ" اور "عموریہ " تو تاریخ کا اختتام تھا ، وہ تاریخ کا آغاز نہ تھا۔ تاریخ کا آغاز تو مکہ سے ہوا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے زوال کی بنا پر تاریخ دوبارہ پیچھے  کی طرف لوٹ گئی ہے۔ آج ہم اپنی تاریخ کے آغاز میں ہیں، ہم اپنی تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ موجودہ مسلم رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ اس لیے وہ ایسے اقدامات کرتے رہے جس کا نتیجہ ناکامی کے سوا کسی اور صورت میں نکلنے والا نہ تھا۔

اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں پیچھے لوٹ کر مکہ کے ابتدائی دور میں جانا ہوگا۔ اس اعتبار سے جب ہم مکہ کے حالات کا مطالعہ کرتے نہیں تو وہاں ہم کو "مدینہ" اور "عمورہ "سے بالکل مختلف تصویر نظر آتی ہے۔ مثلاً ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بنو مخزوم کے قبیلہ کے لوگ عمار بن یاسر کو اور ان کے باپ اور ماں کو لے کر مکہ کے باہر نکلتے۔ اور وہ سب کے سب اسلام قبول کر چکے تھے۔ دوپہر کے وقت جب گرمی خوب تیز ہو جاتی تو وہ ان مسلمانوں کو مکہ کی گرم زمین پر لٹا کر تکلیف دیتے۔رسول اللہ ان کے پاس سے گزر تےاور وہ لوگ رسول اللہ سے فریاد کرتے تو رسول اللہ ان سے کہتے:

صبراً آل یاسر فإن موعدکم الجنۃ آل یاسر صبر کرو ، تمہاری وعدہ گاہ جنّت ہے۔

یاسر کی ماں کو اسی طرح عذاب دے کر انھوں نے مار ڈالا۔ مگر وہ کسی حال میں اسلام کو چھوڑنے پرراضی نہ ہوئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مدینہ اور عمورہ کے واقعہ کو اس وقت تک سمجھا نہیں جاسکتا جب تک مکہ کے مذکورہ واقعہ کو اس سے ملاکر نہ دیکھا جائے۔ کیا وجہ ہے کہ مدینہ میں جس قسم کے واقعہ پر اقدام کیا گیا۔مکہ میں اسی قسم کے شدید تر واقعہ پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مکہ کا زمانہ تیاری اور استحکام کا زمانہ تھا۔ تیاری اور استحکام کے زمانہ میں اقدام غیر موثر ہوتا۔ اس لیے مکہ میں صبر کیا گیا۔ صبر در اصل تیاری اور استحکام کی قیمت ہے۔ جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں صبر نہ کریں وہ بعد کے مرحلہ میں تیاری اور استحکام کے درجہ کو بھی نہیں پہونچ سکتے۔

"مکہ" میں ناقابلِ برداشت کو برداشت کیا جاتا ہے، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ "مدینہ" میں نا قابل برداشت کو برداشت کرنے کی حاجت نہ رہے۔ جو لوگ مرحلۂ تیاری والی قربانی نہ دے سکیں وہ مرحلہ ٔاستحکام والی منزل کو بھی نہیں پہونچ سکتے۔

یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ صدیوں کے عمل کے نتیجے میں مسلمان دوبارہ اپنی تاریخ کے آغاز میں پہونچ گئے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ دوبارہ ان کے درمیان تیاری کا وہی عمل جاری کیا جائے جو مکہ میں جاری کیا گیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اپنے آپ کو تاریخ کے اختتام والے مرحلہ میں فرض کر کے عملی اقدامات شروع کر دیے۔ ایسے ناکافی اقدامات پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے لیے بھی مفید نہ ہو سکتے تھے، پھر وہ موجودہ مسلمانوں کے لیے کیوں کر مفید ہوئے۔ یہی وجہ ہے جس نے ان کے عملی اقدامات کو بے فائدہ اور غیر موثر بنا دیا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion