موجوده مسلمان

امریکہ میں یہودی ظاہری سطح پر نہایت کامیاب ہیں۔ مگر اندرونی سطح پر وہاں کے باشندوں میں ان کے خلاف بیزاری پائی جاتی ہے۔ حتٰی کہ کچھ لوگوں کا اندازہ ہے کہ آئندہ امریکہ میں یہودیوں کے ساتھ وہی مخالفانہ صورت حال پیش آسکتی ہے جو دوسری عالمی جنگ سے پہلے جرمنی میں ان کے ساتھ پیش آئی تھی۔

 ایک یہودی سے کہا گیا کہ کیا آپ لوگ اس کو پسند کریں گے کہ آپ کی آبادی کے تناسب سے امریکہ میں آپ کو ایک الگ خطہ دےدیا جائے جہاں آپ "یہودی لینڈ" بنا سکیں۔ اس نے فوراً جواب دیا : ہرگز نہیں۔ اس طرح تو ہم ایک خول میں بند ہو جائیں گے۔ ہمارا کام تجارت کرنا ہے۔ آج ہم پورے امریکہ میں آزادانہ تجارت کر رہے ہیں۔ ہم کیسے پسند کر سکتے ہیں کہ ایک وسیع بر اعظم کو چھوڑ کر صرف ایک چھوٹی سی شہری ریاست میں سمٹ جائیں۔ تاجر کا کوئی ملک نہیں ہوتا :

The merchant has no country. (Thomas Jefferson)

  یہ یہودیوں کی سوچ ہے۔ اس کے مقابلے میں موجودہ زمانےکے مسلمانوں کو دیکھئے۔ ساری دنیا میں جہاں کہیں بھی ان کی کچھ تعداد ہے، ہر جگہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے لیے ایک الگ جزیرہ بنا سکیں۔ ہر جگہ وہ" آزادی "کی تحریک چلا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے لیے ایک ہوم لینڈ حاصل کر لیں۔ یہودی توسیع کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں اور مسلمان محدودیت کو۔

علامہ اقبال (۱۹۳۸ - ۱۸۷۷) نے اپنے اشعار کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ انھوں نے پر فخر طور پر یہ شعر کہا :

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا         مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

اقبال کے اس شعر پر (اور اسی طرح کے دوسرے اشعار پر) ان کے لیے ہر طرف واہ واہ، کیا خوب، کی صدائیں گونج اٹھیں۔ اکبر الہٰ آبادی (۱۹۲۱ - ۱۸۴۶) نے ان کو داد دیتے ہوئے کہا :

رقبہ کو کم سمجھ کر اقبال بول اٹھے        ہندوستان کیا سارا جہاں ہمارا

تاہم یہ سب لفظی خیال آرائی کی باتیں تھیں حقیقی عملی سطح پر معاملہ اس کے بالکل بر عکس تھا۔ ۱۹۳۰ میں الہٰ آباد میں آل انڈیامسلم لیگ کا اجلاس ہوا۔ اقبال کو اس کا صدر بنایا گیا۔ اقبال لاہور سے آکر اس جلسہ میں شریک ہوئے۔ انھوں نے اس موقع پر ایک انگریزی خطبۂ صدارت پڑھا۔ اس خطبہ میں ہندستان کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہ پیش کیا گیا تھا کہ ملک کے مغربی حصہ میں زمین کے ایک ٹکڑے کو الگ کر کے وہاں علاحدہ مسلم اسٹیٹ بنا دیا جائے۔ یہی تخیل ہے جس نے ۱۹۴۷ میں پاکستان کی صورت اختیار کی۔

شاعرانہ لفاظی میں اقبال ساری دنیا کو اپنا وطن بتا رہے تھے اور عمل کی سطح پر وہ اس پر راضی ہو گئے کہ انھیں ایک ملک کے کنارے ایک چھوٹا سا رقبہ بانٹ کر دیدیا جائے۔

"تقسیم" یا سمٹاؤ کا یہ ذہن موجودہ زمانے میں تمام دنیا کے مسلمانوں پر چھایا ہوا ہے۔ جہاں بھی مسلمانوں کی کچھ تعداد ہے،وہاں وہ اس بات کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں کہ بقیہ ملک سے کاٹ کر انھیں ایک" آزاد مسلم لینڈ" دیدیا جائے –––––  برما ، فلپائن، اریٹیریا ، لبنان ، لنکا، بلغاریہ، کشمیر، آذربیجان و غیره یہودیوں اور مسلمانوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کے سامنے ایک مقصد ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے سامنے کوئی مقصد نہیں۔ یہودیوں نے تجارت کو اپنا مقصد بنارکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنا بڑا ملک ہوگا، اتنی ہی زیادہ بڑی تجارت کے مواقع انھیں حاصل رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ سمٹاؤ کے بجائے پھیلاؤ کے ذہن سے سوچتے ہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں۔ یہودیوں کی طرح تجارت کو وہ اپنا قومی مقصد نہ بنا سکے۔ اور خدا اور رسول نے ان کو جس مقصد کی طرف رہنمائی کی تھی ، اس کو بھی انھوں نے کھو دیا۔

 مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کا مقصد صرف ایک تھا، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ مگر دعوت الی اللہ کا مسلمانوں میں کوئی وجود نہیں۔ نہ صرف ان کے اصاغر بلکہ ان کے تمام اکابر بھی اس کو مکمل طور پر بھولے ہوئے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کی غفلت یہاں تک پہونچی ہے کہ وہ دوسرے دوسرے کام کرتے ہیں اور بالکل غلط طور پر اس کو" دعوت " کا نام دیدیتے ہیں۔گویا دعوتی کام کرنا تو درکنار، وہ شعوری طور پر جانتے بھی نہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔

 دعوت ایک عظیم ترین عالمی مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں میں دعوت کا ذہن بیدار ہوتا تو وہ ہمیشہ پھیلاؤ کی بات سوچتے۔ وہ چاہتے کہ زمین کی تمام حد بندیاں ٹوٹ جائیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ دعوت الی اللہ کا کام کر سکیں۔ مگر جب انھوں نے دعوت کو بھلا دیا تو وہ ہر جگہ پناہ گاہیں تلاش کرنے لگے جہاں سمٹ کر وہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔

بے مقصد انسان تقسیم چاہتا ہے ، با مقصد انسان انضمام کا طالب ہوتا ہے۔ بے مقصد انسان تحفظ کی طرف دوڑتا ہے ، با مقصد انسان توسیع اور اقدام کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ بے مقصد انسان سمٹاؤ میں پناہ لیتا ہے ، با مقصد انسان پھیلاؤ میں اپنے حوصلوں کی تکمیل ڈھونڈتا ہے۔

 آہ وہ مسلمان ، جنہوں نے خداور سول کو کھو کر اپنی دنیا بھی کھودی اور اپنا دین بھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان آج ہر جگہ مقامی اقتدار کے طالب ہیں، عالمی اشاعت اسلام کا ان کے اندر حوصلہ نہیں۔ وہ مادی مواقع کے طالب ہیں ، دعوتی مواقع کے لیے ان کے اندر کوئی تڑپ نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ان کی تمام سرگرمیوں کو بے فائدہ بنا دیا ہے۔

 قومی اقتدار اور مادی مفاد کی جدو جہد مسلمانوں کو دوسری قوموں کا حریف بنا دیتی ہے۔ اس کے بر عکس مواقع دعوت کی طلب مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ قومی انداز فکر محدودیت کی طرف لے جاتا ہے اور دعوتی انداز فکر آدمی کی نظر کو لامحدود بناتا ہے۔ انھیں دو باتوں میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion