سفرنامہ - قسط ۳
ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ فرانس میں حال میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام اسلام اور فرانس (de l'Islam en France) ہے۔ اس کتاب کے مصنف ایک فرانسیسی بر ان تیان (Brand Tiyan) ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ فرانس میں اسلام اٹھارویں صدی عیسوی میں داخل ہوا۔ اب فرانس میں مسلمانوں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس نے مزید لکھا ہے کہ اسلام کے خلاف چرچ کا پروپیگنڈہ اب بعد از وقت ہو چکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ فرانس کے اسکولوں اور کالجوں میں اسلام کو داخل نصاب کیا جائے اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعہ اسلام کا صحیح تعارف کرایا جائے۔
یہاں ایک عربی کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے مصنف کا نام فہمی حدیدی ہے۔ کتاب کا نام القرآن و السلطان ہے۔ وہ دار الشروق بیروت سے ۱۹۸۱ میں چھپی ہے اور ۲۴۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ مصنف لکھتے ہیں : غَايَةُ الْأَمْرِ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ يُسَمُّون أُمَّةُ الْإِجَابَةِ وَغَيْرَهُم يُسَمُّون أُمَّةُ الدَّعْوَةِ . (۱۸۹) یعنی اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو امت اجابت کہا گیا ہے اور ان کے علاوہ کو امت دعوت۔
مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان یہی اصل تقسیم ہے۔ بقیہ تمام تقسیمات اضافی ہیں۔مثلاً دار الحرب کی اصطلاح اضافی حالت کو بتاتی ہے نہ کہ مستقل حالت کو۔ عام حالات میں تمام غیرمسلم قو میں مسلمانوں کے لیے امت دعوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یعنی ان کے سلسلے میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان کے اوپر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ البتہ اگر کوئی قوم یک طرفہ طور پر مسلمانوں پر حملہ کر دے، اور اعراض اور صبر کی تمام تدبیروں کے باوجود جنگ سے بچنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو اس وقت اہل اسلام بطور دفاع جنگ کریں گے۔
ایک عرب نوجوان نے بتا یا کہ ان کی شادی حال میں ایک عرب خاتون سے ہوئی ہے۔ عرب نوجوان نے اپنی تعلیم یافتہ اہلیہ کو راقم الحروف کے کچھ مضامین پڑھنے کے لیے دیے۔ ان مضامین میں اسلام کی سیاسی تعبیر پر اور اسلام کے نام پر سیاسی تحریکیں چلانے والوں پر تنقید تھی۔ خاتون الاخوان المسلمون کے طرز فکر سے متاثر تھیں۔ چنانچہ انھوں نے راقم الحروف کے مضامین کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ تاہم مذکورہ عرب نوجوان ان کو میری تحریر یں پڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ اب ان کی اہلیہ کا ذہن بالکل بدل گیا ہے۔ اور اسلامی مرکز کے فکر سے مکمل اتفاق کر رہی ہیں۔
کچھ عربوں نے یہ تجویز پیش کی کہ تعلیم یافتہ عرب خواتین کا ایک اجتماع کیا جائے اور میں انھیں خطاب کروں۔ میں نے منع کر دیا۔ میں نے کہا کہ میں اپنے ملک میں بھی خواتین کے اجتماعات کو خطاب کرنا پسند نہیں کرتا۔ اب تک میری عام پالیسی یہی ہے۔
"خواتین کا اجتماع " موجودہ صورت میں مجھے اسلامی روح کے مطابق نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین سے خطاب کرنے کی مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو ملتی ہے ،مگر صحابہ کرام کے یہاں نہیں ملتی۔ مجھے اب تک اس کی مثالیں نہیں ملی ہیں کہ صحابہ عورتوں کا اجتماع کر کے ان سے خطاب کرتے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اس کی مثال ملنا اور صحابہ کے یہاں اس کی مثال نہ ملنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ طریقہ صرف پیغمبر کے لیے خاص تھا، بعد کے لوگوں کو ایسا کرنا مناسب نہیں۔ بعد کے لوگوں کے لیے یہ ہے کہ وہ مردوں میں کام کریں اور مرد اپنے اپنے گھروں میں اپنی خواتین پر کام کریں۔
اس قسم کا فرق دوسرے امور میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت ایمان لیتے تھے۔ مگر صحابہ و تابعین نے بیعت ایمان نہیں لی۔ وہ صرف کلمۂ شہادت پڑھا کر لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے تھے۔
۲۳ مارچ ۱۹۹۰ کو طرابلس سے واپسی ہوئی۔ طرابلس سے کراچی تک کا سفر پی آئی اے کی فلائٹ ۷۱۴ کے ذریعہ ہوا۔ راستہ میں اخبار جسارت (۲۳ مارچ ۱۹۹۰) پڑھا۔ یہ اخبار جماعت اسلامی کے فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر ۲۳ مارچ (یوم پاکستان) کی مناسبت سے مینار پاکستان کے پاس ہونے والے ایک جلسہ کا اعلان تھا۔ جلی حرفوں میں یہ الفاظ چھپے ہوئے تھے:
اب لینا ہے کشمیر ، ٹوٹے شملہ کی زنجیر
پاکستانی کشمیر کے مسلمان شملہ معاہدہ کو زنجیر بتاکر اس کو توڑنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ دوسری طرف ہندستانی کشمیر کے مسلمان شیخ عبداللہ کو غدار ٹھہرا کر ان کا گھر جلا رہے ہیں اور ان کی قبر کھودنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ان واقعات پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ غالباً یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں کہا گیا کہ آخر زمانہ میں امت کے بعد کے لوگ اپنے پہلے کے لوگوں پر لعنت کریں گے۔لَعْنُ آخرِ الأُمّةِ أَوَّلَها(الاعتصام للشاطبي،ج۲ص ٥٧٤)اس روایت میں امت کے اول حصہ سے صحابہ و تابعین کا زمانہ مراد نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ دور اول کے لوگ تو بعد والوں کے لیے فخر بن چکے ہوں گے۔ پھر وہ ان پر لعنت کیسے کر سکتے ہیں۔ اس میں لعنت کا مطلب سادہ معنوں میں تنقید بھی نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ تنقید تو خو د صحابہ کے معیاری دور میں جاری تھی۔ پھر تنقید کو نامحمود چیز کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں زوال کے دور میں پیدا ہونے والے قومی مزاج کی بات کہی گئی ہے۔ دور زوال میں مسلمانوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ان کی اپنی کمزوریوں کے نتیجہ میں ان کے لیے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ، ان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو بتاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے خلاف دھوم بچا کر ایک" انقلاب" لاتے ہیں۔ بعد کو جب یہ نام نہاد انقلاب ان کے مسائل کو حل نہیں کرتا تو ان کے در میان دوسرے لیڈر ابھرتے ہیں، جو پچھلے لیڈر کو برابتا کر دوبارہ ایک اور منفی قیادت ظہور میں لاتے ہیں۔ یہی مطلب ہے حدیث کے ان الفاظ کا کہ امت کا آخر اپنے اوّل کو ملعون ٹھہرائے گا۔
راستہ میں جہاز دمشق میں اترا۔ اچانک اپنے آپ کو دمشق میں پا کر اس علاقے کے بارےمیں بہت سی باتیں ذہن میں تازہ ہوگئیں۔
دمشق غالباً دنیا کا سب سے زیادہ پرانا شہر ہے جو سمندر سے تقریباً ۵۰ میل دور آباد ہے۔ قدیم زمانےسے وہ مختلف حکمرانوں کے قبضہ میں رہا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب کہ وہ رومی (بازنطینی) قبضہ میں تھا ، یہاں کے اکثر باشندے عیسائی ہو گئے۔ جو پیٹر کا مندر گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جگہ اب جامع اموی میں شامل ہے۔ مسلم خلیفہ نے یہ جگہ عیسائیوں سے خرید کر حاصل کی تھی :
The Christian cathedral was purchased by the caliphate and turned into a mosque. (5/447)
۶۳۵ء میں دمشق عربوں کے قبضہ میں آیا۔ ۷۵۰ - ۶۶۱ ء کے درمیان وہ اسلامی خلافت کا مرکز رہا۔ ۱۵۱۶ء میں ترکوں نے اس پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد سے چار سو سال تک وہ ان کے قبضہ میں رہا۔ ۱۸۹۴ میں دمشق اور بیروت کے درمیان ریلوے لائن بچھائی گئی۔ ۱۹۰۸ میں دمشق اور مدینہ کے درمیان ریلوے لائن قائم کی گئی۔ ۱۹۴۶ میں اس کو مغربی قبضہ سے آزادی حاصل ہوئی۔
موجودہ دمشق تقریباً ایک سو مربع کیلو میٹر کے رقبہ میں آباد ہے۔ دمشق کا انٹر نیشنل ایئر پورٹ اس کے مشرق میں وسط شہر سے تقریباً ۱۹ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ۱۹۷۱ کی مردم شماری کے مطابق ، شہر کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے جس میں تقریباً سوالا کھ فلسطینی مہاجرین شامل ہیں۔ دمشق کی آبادی میں ۹۱ فی صد مسلمان ، ۸ فی صد عیسائی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ یہودی بھی یہاں آباد ہیں۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے ان کے لیے جاڑے اور گرمی میں پر امن تجارتی سفروں کا انتظام کیا (قریش ) یہاں گرمی کے زمانےکے سفر سے مراد قریش کا وہ تجارتی سفر ہے جو گرمی کے موسم میں مکہ سے دمشق وغیرہ کی طرف ہو تا تھا جو کہ حجاز کی نسبت سے ٹھنڈے علاقے تھے۔ قدیم زمانےمیں دمشق ایک عرصہ تک بین اقوامی تجارت کا مرکز رہا ہے۔
موجودہ دمشق کو بین اقوامی تجارتی نقشہ میں کوئی قابل ذکر مقام حاصل نہیں۔ البتہ وہ اپنے تاریخی آثار کی بنا پر بین اقوامی سیاحوں کی کشش کا مرکز ضرور ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ دمشق کی اہمیت آج کے انسان کے لیے صرف اپنے "ماضی "کی بہت پر ہے ، وہ اپنے" حال" کے اعتبار سے لوگوں کے لیے اہم نہیں۔ یہی آج تمام دنیا کے مسلمانوں کا معاملہ ہے۔ مسلمان اب دنیا کے لیے گزری ہوئی تاریخ کا موضوع ہیں، جدید انسان کے لیے وہ حال اور مستقبل کے عنوان کی حیثیت نہیں رکھتے۔ دمشق کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ روایات کے مطابق ،یہی وہ مقام ہے جہاں خروج دجال کے وقت حضرت میں دوبارہ اتریں گے۔ یہ روایت مسلم ، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ میں آئی ہے۔ یہاں ہم صحیح مسلم سے متعلقہ الفاظ نقل کرتے ہیں :
قال مسلم في صحيحه :
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الدَّجَّالَ فبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفْسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللهُ مِنْهُ، فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ۔(صحیح مسلم، 2937)
حضرت نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ اسی دوران اللہ مسیح بن مریمؑ کو بھیجے گا، وہ سفید مینار کے پاس دمشق کے مشرقی حصہ میں اتریں گے ، دوز رد کپڑے کے درمیان ، دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو قطرہ ٹپکے گا اور جب وہ سر کو اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی مانند (آنسو)گریں گے۔ جس منکرتک بھی ان کی سانس کی ہوا پہنچے گی وہ مرجائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی۔ حضرت مسیح دجال کا پیچھا کریں گے ، یہاں تک کہ وہ اس کو لدکے دروازہ پر پکڑ لیں گے، پھر وہ اس کو قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد عیسٰی علیہ السلام ایک ایسے گروہ کے پاس آئیں گے جس کو اللہ نے ان سے بچایا ہوگا۔ وہ ان کے چہروں کا مسح کریں گے اور جنت میں ان کے درجات کو بتائیں گے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح جامع دمشق کے منارہ پر اتریں گے۔ مگر یہ بات الفاظِ حدیث میں موجود نہیں۔ صبح کی نماز کے وقت اترنے کا ذکر تو روایات میں ملتا ہے مگر مسجد کے منارہ پر اترنے کا ذکر کسی روایت میں نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ۷۴۱ھ میں دمشق کی جامع اموی میں پتھروں کے ذریعہ ایک سفید مینار بنایا گیا ، کیوں کہ سا بقہ مینار آگ لگنے کی وجہ سے گرگیا تھا۔ اس پر کچھ لوگوں نے گمان کر لیا کہ یہی وہ "سفید مینار "ہے جس کے اوپر حضرت مسیح قیامت کے قریب اتریں گے (تفسیر ابن كثير، الجزء الاول، ۵۸۳) حالاں کہ حدیث میں جو لفظ ہے وہ صرف "مشرقی دمشق کے سفید مینارہ کے پاس "ہے نہ کہ" مسجد کے سفید مینارہ پر"۔
عیسائی حضرات کے یہاں بھی اس قسم کا ایک عقیدہ ہے جس کو ان کی مذہبی اصطلاح میں پاروسیا (Parousia) کہا جاتا ہے۔ یہ یونانی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی آمدِ ثانی (Second Coming) کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے وقت حضرت مسیح دوبارہ انسانوں کے درمیان آئیں گے۔ بائبل میں ہے : یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے ، اسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے (رسولوں کے اعمال ۱: ۱۱)۔
تا ہم حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے بارے میں عیسائی حضرات کا عقیدہ بہت زیادہ واضح نہیں۔ مثلاً اس کی ایک تعبیر یہ کی گئی ہے کہ حضرت مسیح بہ شکل روح دوبارہ دنیا میں آچکے ہیں، وہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتے ہیں۔ اور ہرمسیحی کو اس کی چیزوں میں برکت عطا کرتے ہیں۔
مولانا شمس الدین ندوی سے ملاقات ہوئی۔ وہ دمشق میں دو سال تک رہے ہیں اور شام کے مختلف علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ انھوں نے شام کے مسلمانوں کے اخلاق کی بہت تعریف کی اور ان کے بہت سے اخلاقی واقعات بتائے جو ہندستان جیسے ملکوں میں ناقابل ِتصور ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ شام میں اگر چہ سخت حکومت قائم ہے۔ مگر اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہاں بہت امن و امان ہے۔ اور جان و مال کا کوئی خطرہ کسی آدمی کو نہیں رہتا۔
ٹیکسی والا اگر کچھ پریشان کرے تو صرف یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ میں شرطہ (پولیس) کو ٹیلیفون کرتا ہوں۔ ایک شریر آدمی نے سڑک پر کسی لڑکی کو چھیڑ دیا۔ ایک آدمی آتا ہے جو بظا ہر عام لباس میں ہے۔ وہ چھیڑنے والے کی سرزنش کرتا ہے۔ وہ شخص اس آدمی سے بھی لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اب اگر وہ آدمی صرف اتنا کہہ دے کہ تعرف مين أنا (تعرف من أنا) یعنی تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ اتنا کہتے ہی شریر آدمی دہشت زدہ ہو کر رک جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ شام کے لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک بار وہ چند اور طالبعلموں کے ساتھ شام کے دیہات میں گئے۔ ایک زمیندار نے اپنے باغ میں انھیں ہرقسم کے پھل کھلائے۔ گھر پر دعوت کی۔ کہا کہ آپ لوگ کئی دن ٹھہرئے۔ جب وہ لوگ ٹھہرنے پر راضی نہیں ہوئے تو ریل کا فرسٹ کلاس کا کرایہ اور ہر ایک کو ۵۰۰ لیرا دے کر رخصت کیا۔
۲۴ مارچ کو صبح ۷ ،بجے ٹھیک وقت پر جہاز کراچی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ پاکستان ائیر ویز پر جب بھی میں نے سفر کیا ہے، میں نے پایا ہے کہ وہ وقت کے بہت پابند ہیں۔ اس کے برعکس ائیر انڈیاکم از کم میرے تجربہ میں وقت کے معاملہ میں پاکستان ایئر لائنز سے پیچھے ہے۔
اس سفر میں ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کا ساتھ تھا۔ ان کی امامت میں تین نمازیں(مغرب، عشا، فجر) ہوائی جہاز کے اندر جماعت کے ساتھ ادا کی۔ اڑتے ہوئے جہاز میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا بڑا عجیب معلوم ہوا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے سوچا کہ زمین بھی تو ایک اڑتا ہوا قدرتی جہاز ہے۔ مگر زمین کے جہاز میں بچپن سے سوار ہونے کی وجہ سے استعجاب کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن جہاز کے اندر آدمی اپنے شعور کے تحت چڑھتا ہے، اس لیے جہاز کی نماز استعجاب کی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔
کر اچی میں سوسائٹی آف فزیشنز کے تحت ایک سمپوزیم ہوا۔ اس کا عنوان تھا : "بے صبرا معاشرہ اور قومی اتحاد کے مسائل " اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ علامہ اقبال کے صاحبزادےڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا : افق پر زیادہ روشنی نہیں ہے۔ لیکن بقا کی موہوم امید موجود ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ ہم۔۔۔۔ (جنگ ۲۴ مارچ ۱۹۹۰)
"بے صبرا معاشرہ "موجودہ زمانے کے مسلم معاشرہ کے لیے صحیح ترین لفظ ہے۔ موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے، اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے صبر کو کھو دیا ہے۔
زندگی کار از صبر ہے۔ صبر کا مطلب ہے، موجودہ صورت حال میں جو مواقع حاصل نہیں ہیں، ان پر صبر کرتے ہوئے ممکن مواقع کے میدان میں جد وجہد کرنا۔ مگر مسلمان ممکن مواقع کے استعمال پر قناعت نہیں کر پاتے۔ وہ نا ممکن مواقع کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹکر اؤ پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان نہ ممکن مواقع کو استعمال کر پاتے ہیں اور نہ ناممکن مواقع کو۔
پاکستان میں مہاجر اور غیر مہاجر نے ایک دوسرے کے مقابلےمیں صبر کو کھو دیا ہے۔ ہندستان میں ہندو اور مسلمان ، مسلم ملکوں میں اسلامی جماعتیں اور مسلم حکمراں، فلپائن جیسے ملکوں میں مسلم اقلیت اور مقامی حکومت، ایک دوسرے کے خلاف بے صبر ہو رہے ہیں۔ یہی بے صبری موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کار از صبر ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے ناگواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ حتٰی کہ ایک خاندان کے مختلف افراد کے درمیان بھی بار بار اس قسم کے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ یہ خدا کا قانون ہے۔ اور یہ صورت حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک قیامت نہ آجائے۔ اس لیے اس پر صرف صبر کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
پاکستان کے مہاجر اب ایک علاحدہ قومیّت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مہاجر قومیّت کےایک شارح مولانا وصی مظہر ندوی نے لکھا ہے کہ :
"بھارت سے آنے والے مسلمان ۴۰ سال کے عرصہ میں قدیم باشندگان سندھ کے ساتھ گھل مل نہ سکے۔ اب خواہ اس صورت حال کی ذمہ داری خود آنے والوں پر ہو یا سندھ کے پرانے رہنے والوں کی قیادت پر ہو۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ مہاجرین سندھ کے معاملات میں وہ انداز فکر نہیں رکھتے جو اندازفکر پرانے سندھی بھائیوں کا ہے۔ اس وجہ سے مہاجرین اب نفسیاتی طور پر ایک علاحدہ وجو دبن چکے ہیں۔ اور اگر ان کے مسئلےکو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو اس کے نتائج سندھ اور پاکستان کے حق میں بے حد خطر ناک نکل سکتے ہیں"۔(ہفت روزہ تکبیر، ۱۲ مارچ ۱۹۸۷ صفحہ ۸)
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مہاجر اور سندھی کے درمیان جو شدید مسئلہ پیدا ہو گیا ہے وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی ہے جو ہندستان میں مسلم اور ہندو کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ دونوں جگہ عدم برداشت نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے، اور برداشت کا اصول اختیار کر کےہی اس کو حل کیا جاسکتا ہے۔
مہا جر جب پاکستان گئے وہ اس احساسِ فخر کے ساتھ گئے کہ ہم پاکستان کے خالق ہیں۔ مزید یہ کہ سندھ کے اقتصادی وسائل پر زیادہ تر انہیں مہاجرین کا قبضہ ہو گیا۔ اس نے ایک طرف مہاجرین میں احساس برتری کو ابھارا اور دوسری طرف مقامی سندھی مسلمانوں میں احساس کمتری کی صورت میں رد ّعمل پیدا ہوا۔ مہاجرین کی نوجوان قیادت نے اس مسئلہ کو پر تشدّ د قسم کی مہاجر قومی تحریک کے ذریعہ حل کرنا چاہا۔ یہ پٹرول پر آگ ڈالنے کے ہم معنی تھا۔ چنا نچہ مسئلہ پہلے سے زیادہ شدید صورت اختیار کر گیا۔
میرے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ مہا جرین سندھی مسلمانوں کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کا معاملہ کریں۔ "وہ مہاجر قومیّت "کا علاحدگی پسند نظریہ چھوڑ کرسندھیوں سے مل کربھائی بھائی بن جائیں۔ دوسری ہر تد بیر صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والی ثابت ہوگی۔
اخبار جسارت کے اندر کے صفحہ پر ایک مضمون (مسلمانانِ برصغیر کی منزلِ مراد) درج تھا۔ اس مضمون کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا : "تحریک پاکستان کا ایک طویل پس ِمنظر ہے۔ جو لوگ قیام پاکستان کو چند برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ جدو جہد صدیوں پر محیط ہے"۔ دوسری طرف روز نامہ جسارت(۲۳ مارچ ۱۹۹۰) کے صفحہ اوّل پر جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا جان محمد عباسی کی تقریر چھپی ہوئی تھی۔ انھوں نے پاکستانی عوام سے کہا : "قوم کی اکثریت نے نفسیاتی خواہشات سے مغلوب ہو کر اسلام سے نابلد قیادت منتخب کر کے اپنے تمام اختیارات انسانی خون سے سیاسی پیاس بجھانے والوں کے سپرد کر کے اپنی تباہی و بر بادی کو خود دعوت دی ہے"۔
میں نے سوچا کہ صدیوں کی اسلامی جدوجہد کے بعد تو یہ نتیجہ سامنے آیا ہے۔ اگر کہیں ہمارے اکابر کی یہ جد و جہد صرف چند برسوں پر محیط ہوتی تو اس کا نتیجہ کتنا بھیانک ہوتا۔
کراچی کے اخبار جنگ (۲۳ مارچ ۱۹۹۰) کے ایڈیٹوریل کے صفحہ پر ایک ادارتی نوٹ کا عنوان تھا : "بھارت میں مسلم کشی کی نئی سازش " اس نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ "بھارت میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا ہے"۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا تھا کہ "نئی دہلی میں نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک کے قریب انتہا پسند ہندوؤں نے ایک نئے مندر کی تعمیر شروع کر دی ہے تاکہ مسلمانوں کو اشتعال دلایا جا سکے"۔
میں اسی"نظام الدین" میں رہتا ہوں جس کی بابت یہ خبر دی گئی تھی کہ وہاں نیا مندر بنا کر مسلمانوں کومشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قدرتی طور پر مجھے تجسّس ہوا کہ معلوم کروں کہ یہ "نیامندر" نظام الدین میں کہاں بن رہا ہے۔ چنانچہ میں نے دہلی پہنچ کر معلوم کرنا شروع کیا۔ پتہ چلا کہ یہ" نیا مندر "بنانے کا مسئلہ نہ تھا۔ بلکہ قبرستان اور شمشان بھومی کا مسئلہ تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس موقع پر فرقہ پرست ہندوؤں نے زیادتی سے کام لیا۔ مگر انھیں اس زیادتی کا موقع خود مسلمانوں کی نادانی نے فراہم کیا تھا۔
کراچی میں میرا قیام مسٹر طارق(فضلی سنز لمیٹڈ)کے یہاں تھا۔ ان کے والد جناب فضل الرحمن صاحب (وفات ۸ فروری ۱۹۸۹) کو الرسالہ مشن سے نہایت گہرا تعلق تھا۔ انھوں نے ہماری تمام مطبوعات کو اپنے یہاں سے شائع کیا۔ اب ان کے صاحبزادے جناب طارق رحمٰن صاحب ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہاں جناب عبد الرحمٰن چھا بڑا صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے فاران کلب انٹرنیشنل کا سنٹر دکھایا جو کراچی میں زیر تعمیر ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی تعمیری مزاج رکھتے ہیں اور سیاست وغیرہ سے دور رہ کر تعمیری انداز میں ملی خدمت کا کام انجام دے رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران ایک واقعہ کا ذکر آیا جس میں افتتاحی تقریب کا کیک کاٹنے پر دو شخصوں کا جھگڑا ہو گیا۔ ہر ایک چاہتا تھا کہ میں کاٹوں۔ عبدالرحمن چھابڑا صاحب نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ کوحل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہترین نمونہ موجود ہے۔ وہ یہ کہ دونوں آدمی ایک ساتھ چھری کا دستہ پکڑتے اور دونوں مل کر کیک کاٹ دیتے جیسا کہ آپ نے حجر اسود کو نصب کرنے کے لیے کیا اور جھگڑا ختم ہو گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ استنباط نہایت با معنی ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہر بات کے لیے نمونہ ہے خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا معاملہ۔
پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہر بات کا نمونہ موجود ہے ، حتٰی کہ کسی تقریب کی کیک کاٹنے کے معاملہ کے لیے بھی۔ یہی مطلب ہے اسلام کے مکمل دین ہونے کا۔ نہ یہ کہ مکمل قانون نافذ کرنے کے نام پر حکمرانوں سے ٹکر اؤ شروع کر دیا جائے۔
کراچی میں مسٹر طارق رحمٰن نے بتایا کہ ان شاء اللہ مارچ ۱۹۹۰ سے الرسالہ کا پاکستان اڈیشن چھپنا شروع ہو جائے گا۔ ان کے والد مرحوم فضل الرحمن صاحب الرسالہ کے بہت قدر داں تھے۔ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں دعوتی اور تعمیری ذہن پیدا کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ الرسالہ کو پاکستان سے شائع کیا جائے۔ وہ کئی سال تک اس کا ڈکلیریشن حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر فوجی قوانین کی وجہ سے وہ ڈکلیریشن حاصل نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ۸ فروری ۱۹۸۹ کو ان کا انتقال ہو گیا۔
مرحوم کے بعد ان کے صاحبزادہ طارق رحمن صاحب نے کوشش جاری رکھی۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی ان کے لیے معاون ثابت ہوئی۔ چنانچہ وہ ڈکلیریشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی دوران جناب عبد القادر صاحب (کراچی) نے بھی الگ سے الرسالہ کے لیے ڈکلیریشن حاصل کر لیا۔ تاہم مشورہ سے یہ طے ہوا کہ جناب طارق رحمن صاحب پاکستان اڈیشن کا انتظام کریں۔ چنانچہ وہ مارچ ۱۹۹۰ میں ان شاء اللہ اس کا پہلا پر چہ شائع کر رہے ہیں۔ پاکستان کا اڈیشن کسی حذف یا اضافہ کے بغیر الرسالہ کے دہلی اڈیشن کی نقل ہوگا۔ اس معاملہ میں فارسی کاقدیم مثل پوری طرح صادق آتا ہے کہ پدر نہ کند پسر تمام کند۔
ایک صاحب نے کہا کہ پاکستان مسائل کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر پاکستان بننے کے بعد یہاں نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ مثلاً دیکھئے ، جو جنگ پہلے ہندو اور مسلمان کے درمیان جاری تھی، وہ اب مسلمان اور مسلمان کے درمیان جاری ہو گئی۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل معاملہ یہ ہے کہ وہ مسائل کے لیے لڑتے ہیں۔ حالاں کہ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مسائل پر صبر کر کے دعوت اور اشاعت اسلام کا کام کر یں۔ مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، اس لیے خدا کا انعام بھی ان پر نازل نہ ہو سکا۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ جن باتوں پر انھیں صبر کرنا تھا ان باتوں پر وہ جہاد کر رہے ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ مادی اور سیاسی اور سماجی مسائل رہتے ہیں۔ ان مسائل کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ ان مسائل کو نظر انداز نہ کریں تو آپ اپنے اصل منصبی فرض کو انجام نہیں دے سکتے۔ مسائل کا حل اپنے فرض منصبی کو انجام دینے میں ہے نہ کہ خود مسائل سےلڑنے میں۔
مسلمانوں کو پہلا کام یہ کرنا ہے کہ وہ "مسائل" سے نظریں ہٹائیں اور اپنی ساری توجہ "فرض"کے اوپر لگا دیں۔ جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے۔ ان کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔ اور پاکستان اس کی زندہ مثال ہے۔ پاکستان کے تجربہ کے بعد بھی مسلمان اگر بدستور اپنے آپ کو مسائل میں الجھائے رہیں تو اس سے بڑی نادانی اور کوئی نہیں ہوگی۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ پاکستان میں اسلام کا نام جتنا زیادہ لیا جاتا ہے اتنا اور کہیں نہیں کیا جاتا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ پاکستان میں اسلام کی جتنی زیادہ خلاف ورزی کی جاتی ہے اتنی کہیں اور نہیں کی جاتی۔ اس عجیب ظاہرہ کا سبب کیا ہے۔
میں نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا سبب وہ نام نہاد اسلام پسند ہیں جنھوں نے پچاس برس تک یہ نمونہ پیش کیا گویا اسلام کی خلاف ورزی کا دوسرا نام اسلام ہے۔میں نے کہا کہ اس معاملہ میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے حامیوں کو لیجئے۔ ان لوگوں نے پہلے کہا کہ اسلام کا نظام ایک درخت کی طرح فطری عمل کے تحت ظہور میں آتا ہے، اس کے بعد مطالبات کے ذریعہ اسلام کوقائم کرنے کا نعرہ لگانے لگے۔ انھوں نے پہلے جلوس کے طریقہ کو غلط بتایا، بعد کو خود غلاف کعبہ اور دوسرے ناموں پر جلوس کے ہنگا مے برپا کرنے لگے۔ انھوں نے اسلام کو محمد نزم کہنے کی مخالفت کی، بعد کو خود نظام اسلام کو نظام مصطفی کہنا شروع کر دیا۔ انھوں نے صدارت کے عہدہ کے لیے مس فاطمہ جناح کو کھڑا کیا اور عورت کو صدر حکومت بنانے کے حق میں دلائل دیے، اب بے نظیربھٹو وزیر اعظم بن گئیں تو یہی لوگ عورت کی حکمرانی کو نا جائزبتا رہے ہیں۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ جمہوریت اسلام کے خلاف ہے، بعد کو وہ خود " بحالیٔ جمہوریت "کے علمبردار بھی گئے۔ پہلے انھوں نے اعلان کیا کہ اسلام ایک اصول کا نام ہے نہ کہ قومیّت کا ، اب وہ اپنی پوری تحریک قومی انداز پر چلارہے ہیں جس کا الزام اس سے پہلے وہ مسلم لیگ کو دیتے تھے۔
پاکستان بننے کے بعد اگر یہ اسلام پسند ظاہر نہ ہوئے ہوتے بلکہ یہاں کے معاملات کو اپنی فطری رفتارے چلنے دیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی دینی اور اخلاقی حالت کہیں زیادہ بہتر ہوتی۔ مگر ان نام نہاد اسلام پسندوں نے جس طرح اسلام کو کھیل بنایا ، اس نے لوگوں کو اسلام کی خلاف ورزی پر جری کر دیا۔ انھوں نے اسلامی اصول کے تقدّس کو توڑ دیا۔ اب وہ تمام دینی اور اخلاقی حدیں ٹوٹ گئیں جو روایات کے زور پر قائم چلی آرہی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں اسلام کے سب سے بڑے قاتل وہ لوگ ہیں جو اپنے کو مکمل اسلام کاعلم بردار بتا کر اسلام کو سیاسی نعرہ کا عنوان بنائے ہوئے ہیں۔
"تکبیر "کر اچی کا ایک مشہور اردو ہفت روزہ ہے۔ اس کی چار قسطوں(۱۴ دسمبر ۱۹۸۹تا ۲۵ جنوری ۱۹۹۰)میں ایک جائزہ چھپا ہے۔ اس کا موضوع ہے "سندھ میں ہندؤوں کا کر دار"۔ اس مفصل جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ (پاکستان) میں اس وقت تقریباً چودہ لاکھ ہندو آباد ہیں۔ تقسیم کے بعد ان ہندوؤں نے عارضی طور پر اپنے کردار کو تبدیل کر لیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ تعلیم اور تجارت کے شعبوں میں مشغول ہوگئے۔
پاکستانی جائزہ نگار مسٹر ظہیر احمد کے الفاظ میں سندھ کے ۱۴ لا کھ ہندو اب پس ماندہ یا غیر ترقی یافتہ نہیں ہیں ، بلکہ ترقی اور معیشت کی نبض پر بعض جگہ ان کا ہاتھ اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ دَورِ رفتہ کا گمان ہوتا ہے۔ معاشی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ ہندو اب سندھ میں سیاسی کردار بھی سنبھال رہا ہے۔ اور قریباً تیس برس کی منصوبہ بندی اسے ایک اہم موڑ پر لے آئی ہے۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہندو نے اپنے کردار کو تبدیل کر لیا۔ وقتی طور پر ہندو کا سیاسی کر دارختم ہو گیا۔ وہ اپنے سابقہ کردار کے سبب نفرت سے بچنے کے لیے پس پشت چلا گیا۔ تعلیم کے میدان ، ملازمتوں اور تجارت میں اس نے اپنے استحکام کے لیے خاموش اور ٹھوس کام کیا۔ اس نے اس طرح اپنے آپ کو اس پوزیشن میں کرلیا کہ وہ اپنی مستحکم معاشی حیثیت کا فائدہ اٹھا کر تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں قدم جمائے اور پھر ان دو محاذوں سے سماجی اور سیاسی تحریکوں کو کنٹرول کرے۔(تکبیر ۱۴ دسمبر ۱۹۸۹)
رپورٹ میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ "۳۰ سالہ " خاموش تعمیری عمل کا یہ نتیجہ ہے کہ آج سندھ کے ہندو اپنے علاقہ میں تعلیم، سیاست ، زراعت ، تجارت، صحافت، ایڈ منسٹریشن، غرض ہر چیز پر اپنے عددی تنا سب سے بہت زیادہ قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ حتٰی کہ "ان کے علاقہ میں بھارتی کرنسی کے استعمال کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں "۔(صفحہ ۱۶) ۴جنوری ۱۹۹۰
عجیب بات ہے کہ اس پورے مضمون میں وہی احتجاجی زبان استعمال کی گئی ہے جو ہندستان میں مسلمانوں کے بیانات اور تقریروں میں نظر آتی ہے۔ پورے مضمون میں کوئی ایک سطر بھی ایسی نہیں ہے جس سے یہ اندازہ ہو کہ مضمون نگار نے اس تجربہ سے کوئی سبق نکالا ہو۔ میں نے اس احتجاجی رپورٹ کو پڑھا تو میری زبان سے نکلا ––––– پھر تو پاکستانی لیڈروں کو اپنا پاکستان آسمان میں بنانا چاہیے تھا۔
۲۴ مارچ ۱۹۹۰ کی شام کو پی آئی اے کی فلائٹ ۲۹۲ کے ذریعہ دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ کراچی ایر پورٹ پر بہت سے مسلمان نظر آئے جو عمرہ کرنے جارہے تھے۔ ان کے جسم پر صرف دو بغیر سلے ہوئے کپڑے تھے جن کو احرام کہا جاتا ہے۔ ایک نیچے تہمد کی طرح ، دوسرا اوپر چادر کی طرح۔ یہ عین وہی کپڑا تھا جو ہندوؤں کے مذہبی لوگ پہنتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ مسلم کپڑے کا رنگ سفید تھا اور ہندو کپڑے کا رنگ زرد ہوتا ہے۔ ائیر پورٹ کا مسلم عملہ ان احرام پوشوں کو "بابا" کہتا تھا اور" آجائیں بابا "کے لفظوں میں انھیں پکار رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ ہندو مذہب اور مسلم مذہب میں اگر کچھ اختلاف کی باتیں ہیں تو اسی کے ساتھ ان میں کچھ اتفاق کی باتیں بھی ہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ آپس کے تعلقات میں "کلمہ ٔسواء" کو بنیاد بنایا جائے۔ یعنی اختلاف کو سنجیدہ غور و فکر کے خانہ میں رکھ کر اتفاق کو عمومی تعلق کی بنیاد بنایا جائے۔ فکری اختلاف کے باو جود عملی موافقت کا یہی وہ اصول ہے جس کو رواداری کہا جاتا ہے ، اور مشترک سماج میں رواداری ہی کامیاب زندگی کا واحد راز ہے۔
کراچی سے جہاز کا وقت ۶ بجے تھا۔ ابتدائی طور پر ایئر پورٹ نے اطلاع دی تھی کہ جہاز اپنے ٹھیک وقت پر روانہ ہو گا۔ مگر آخر وقت میں کسی نامعلوم سبب سے اس کی روانگی ملتوی ہو گئی۔ اس قسم کا انتظار بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ چنانچہ مجھ کو سخت جھٹکا لگا۔ اضمحلال کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اس کے بعد ذہن اگلی دنیا کی طرف منتقل ہو گیا۔ دنیا کے دکھ کو سوچ کر آخرت کا دکھ یاد آنے لگا۔ دل نے کہا : خدا اپنے اس عاجز بندے پر رحم فرمائیے۔ کاش مجھے بخش دیا جائے۔کاش دنیا کا ستایا ہوا آخرت میں نہ ستایا جائے۔
۲۴ مارچ ۱۹۹۰ کی شام کو دہلی ایئر پورٹ پر اترا۔ دل نے کہا کہ خدایا ، آپ نے ایک سفر کرایا اور خیریت کے ساتھ واپس گھر پہنچا دیا۔ اسی طرح آخرت سے دنیا میں آنا بھی ایک سفر ہے۔ اس سفر کو بھی خیریت کے ساتھ پورا فرمائیے اور آخرت کی منزل پر اپنی رحمتوں کے ساتھ پہنچا دیجئے۔
حسبِ معمول میں گرین چینل سے گزر کر باہر جانے لگا۔ دروازہ پر "گیٹ مین" نے روکا۔ اور مجھ سے پوچھ گچھ کرنے لگا۔ میں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ خاموشی کے ساتھ دروازہ پر کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں کسٹم آفیسر نے دیکھ لیا کہ گیٹ مین مجھ سے غیر ضروری قسم کی پوچھ گچھ کر رہا ہے۔ اس نے دور ہی سے کہا : "باباجی کو جانے دو"۔ گیٹ مین نے کہا کہ جب صاحب کہہ رہے ہیں تو آپ جائیے۔
باہر نکلا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک صاحب مجھ سے لپٹ کر بے اختیار رونے لگے۔ وہ دیر تک کچھ کہے بغیر روتے رہے۔ مولانا انیس لقمان ندوی اور ڈاکٹر ثانی اثنین خاں جو میری آمد کی وجہ سے ائیر پورٹ پر آئے تھے، انھوں نے بتایا کہ ہم لوگ ائیر پورٹ پر انتظار میں بیٹھے تھے۔ الرسالہ اپریل ۱۹۹۰ ہمارے ہاتھ میں تھا۔ اس کو دیکھ کر مذکورہ صاحب ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا یہ تازہ الرسالہ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے بیگ سے" اسلامی زندگی" نکالی اور کہا کہ راستہ میں پڑھنے کے لیے میں نے اس کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ جو د ھ پور کے جناب محمد خالد صاحب ہیں وہ چار سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ ان کے بھائی آج سعودی عرب سے آنے والے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ ائیر پورٹ آئے ہوئے تھے۔
دنیا کے مختلف ملکوں میں اللہ کے بہت سے بندے ہیں جو راقم الحروف سے اس قسم کاحسنِ ظن رکھتے ہیں۔ دل سے دعا نکلی کہ خدایا ، یہ سفر جو میں نے کیا ہے ، اس کو میں اپنی قیمت پر نہیں کر سکتا تھا ، دوسروں کی ادا کی ہوئی قیمت پر یہ طویل سفر طے ہوا۔ اسی طرح میں اپنے عمل کی بنیاد پر جنت میں داخلہ کا استحقاق نہیں رکھتا۔ جو لوگ مجھ سے حسن ِظن رکھتے ہیں، ان کے حسن ظن کی قیمت پر مجھ کو جنت میں داخل کر دیجئے۔
