بے حقیقت
کچھ عیسائیوں نے دہلی کے پلوں اور دیواروں پر کالے رنگ سے انگریزی میں یہ فقرہ لکھ دیا کہ مسیح جلد آنے والے ہیں (Jesus is coming soon) اس کے بعد کچھ ہندو نو جوانوں میں جوابی جوش پیدا ہوا۔ انھوں نے مذکورہ فقرہ کے آگے ہر جگہ یہ الفاظ لکھ دیے کہ ہندو بننے کے لیے (to become Hindu) جملہ کی ساخت بتاتی ہے کہ یہ پڑھے لکھے ہندوں کا فعل نہیں تھا۔ کیوں کہ انگریزی کے اعتبار سے صحیح جملہ یوں ہوگا:
To become a Hindu
اسی قسم کا واقعہ اگر کسی شہر میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا تو فورا ً کچھ سطحی قسم کے لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے کہ یہ توہین رسول ہے۔ یہ مسلمانوں کی دل آزاری ہے ، یہ ہماری ملی غیرت کو چیلنج ہے۔ اس کے بعد کچھ مسلم نوجوان مشتعل ہو کر جوابی کارروائی کرتے اور پھر شہرکے اندر ہندومسلم فساد ہو جاتا۔ اب نام نہاد مسلم لیڈر بیانات دے کر انتظامیہ کا نکما پن ثابت کرتے۔ ریلیف فنڈ کھول کر کچھ لوگ ملی خدمات کا کریڈٹ لینا شروع کر دیتے۔ مسلمانوں کے اردو اخبارات میں گرما گرم سرخیاں چھپتیں جس کے نتیجہ میں ان کی اشاعت بڑھ جاتی۔ اور جہاں تک مسلم عوام کا تعلق ہے ، ان کے حصہ میں اس کے سوا کچھ اور نہ آتا کہ ان کی بر بادی میں مزید اضافہ ہو جائے۔
مگر عیسائیوں نے اس" اشتعال انگیز کارروائی "کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نتیجہ یہ ہواکہ یہ واقعہ محض ایک بے واقعہ (non-event) بن کر رہ گیا۔
۱۹ فروری ۱۹۹۰ کی صبح کو میں اوبرائے ہوٹل (نئی دہلی)کے پاس فلائی اور پر کھڑا ہوا اس کی دیواروں پر یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ پل کے دونوں طرف کی کشادہ سڑک پر سواریاں تیزی سے گزر رہی تھیں۔ کسی کو بھی یہ فرصت نہ تھی کہ وہ ٹھہر کر پل کے اوپر لکھے ہوئے ان الفاظ کو پڑھے۔ یہ الفاظ پل کی دیواروں پر ناقابلِ التفات نشان کے طور پر صرف اس بات کے منتظر تھے کہ بارش کا پانی اور ہواؤں کا جھونکا ان کو مٹادے ، اس سے پہلےکہ کوئی ان کو پڑھے یا ان سے کوئی اثر قبول کرے۔
جو"اشتعال انگیزی "اتنی بے حقیقت ہو ، اس پر جو لوگ مشتعل ہو کر فساد کے اسباب پیدا کرتے ہیں وہ بلاشبہ تمام نادانوں سے زیادہ نادان ہیں۔
