خبرنامہ اسلامی مرکز- 272

سی پی ایس انٹرنیشنل کا پرائم مقصد تمام انسانوں خدا کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں وہ دیگر دعوتی ایکٹیویٹیز کے علاوہ بک میلے میں بھی حصہ لیتی ہے۔ کیوں کہ یہاں پر زیادہ تعداد میں وہ لوگ آتے ہیں، جن کو مطالعے سے دلچسپی ہو۔ حالیہ دنوں میں منعقدہونے والے کچھ مشہور بک فیر یہ ہیں: کراچی انٹرنیشنل بک فیر (5-9 دسمبر 2019)،جدہ انٹرنیشنل بک فیر(12-21 دسمبر 2019)، نئی دہلی ورلڈ بک فیر (4-12 جنوری 2020)، چنئی بک فیر(9-21 جنوری 2020)،دوحہ انٹرنیشنل بک فیر(9-18 جنوری 2020)، کولکاتالٹریری فیسٹول (17-19 جنوری 2020)، انٹرنیشنل کولکاتا بک فیر(29 جنوری تا 9 فروری 2020)، جے پور لٹریچر فیسٹیول (23-27 جنوری 2020)، کولکاتاکل ہند اردو کتاب میلہ (18-26 جنوری 2020) ، لاہور انٹرنیشنل بک فیر(6-10 فروری، 2020)،کنٹرا ساہتیہ سمیلن ،گلبرگہ(5-7 فروری 2020)، وغیرہ ۔ ان تمام ایونٹس میں سی پی انٹرنیشنل کے مقامی اور دوسرے مقام کے ممبران نے حصہ لیا۔ انھوں نےمیلے میں آنے والوں کو خدا کے پیغام سے آگاہ کرنے کےلیے ان کی قابلِ فہم زبانوں میں ترجمۂ قرآن دیا۔ اس سلسلے میں کچھ تاثر ات یہاںنقل کیے جاتے ہیں:

٭ نئی دہلی ورلڈ بک فیر میں سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی نے گڈ ورڈ بکس کے ساتھ مل کر حصہ لیا تھا۔ مشہور اردو اخبار روزنامہ سہارا (کولکاتا ایڈیشن )نے19 جنوری 2020کےاپنے امنگ ایڈیشن ( صفحہ 4)میں اس عنوان کے تحت ایک آرٹیکل شائع کیا: ’’توجہ کا مرکز رہا گڈورڈ‘‘۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے: اسلامی کتابوں کو دستیاب کراتے وقت اکثر کچھ باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً بچوں کو مذہب آسانی سے سمجھایا جائے، ان لوگوں کے لیے عام فہم زبان میں مذہبی کتابیں لکھی جائیں جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، غیر مسلموں کے لیے مذہبی کتابیں انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں ہوں۔ان موضوعات پر کتابیں ہوں، جنھیں پڑھ کر کوئی اسلام کے انسانیت کے پیغام کو سمجھ سکے۔ یہ جان سکے کہ اسلام نے امن سے زندگی بسر کرنے اور بھائی چارے پر بہت زور دیا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کا خیال ’گڈورڈ بکس‘ نے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی کتاب میلہ میں اس کے اسٹال پر بڑی تعداد میں غیرمسلم بھی نظر آئے، جو اسٹال سے قرآن کا ترجمہ حاصل کررہے تھے۔

٭ نئی دہلی بک فیر کا ایک تجربہ یہ ہے کہ جب میں نےایک سکھ طالبہ کو جب قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا ، تو اس نے شکریہ کے ساتھ قرآن کا ترجمہ لے لیا۔ مگر کچھ دیر کے بعد اس نے قرآن کا ترجمہ یہ کہتے ہوئے واپس کردیا کہ یہ آپ واپس لے لیجیے، شاید میں اس کی رسپکٹ نہیں کر پاؤں گی۔ جب وہ قرآن واپس کررہی تھی، تو اس وقت اسٹال پر ایک اور سکھ نوجوان قرآن لے رہا تھا۔ اس نے رسپکٹ کی بنیاد پر قرآن نہ لینے کی بات سن کر کہا: میں اس قرآن کو لے جارہا ہوں، اور میں اس کو ضرور رسپکٹ دوں گا، اور پڑھوں گا (مولانا فرہاد احمد)۔

٭ مسٹر فراز خان (دہلی ٹیم)کے ساتھ جے پور لٹریچر فیسٹیول میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔یہ جب قرآن کا ترجمہ لوگوں کو دے رہے تھے،تو وہاں پر غیر مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا ایک گروپ آیا۔ ان لوگوں نے قرآن دیکھا ، تو ان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ترجمۂ قرآن لینا چاہا ۔یہ دیکھ کر اس کے ایک ساتھی نے اس لڑکی سے پوچھا کہ تم نے گیتا پڑھی، جو تم قرآن پڑھنا چاہتی ہو۔ لڑکی نے جواب دیاکہ کوئی بات نہیں،میں پہلے قرآن پڑھ لیتی ہوں، اس کے بعد گیتا بھی پڑھ لوں گی۔ یہ کہہ کر اس نے ترجمۂ قرآن حاصل کیا۔ اس بعد تمام لوگوں نے بہت خوشی سے قرآن کا ترجمہ شکریہ کہتے ہوئے حاصل کیا۔

مولانا سید اقبال احمد عمری (تامل ناڈو)نے جے پور لٹریچر فیسٹیول اور کنڑا ساہتیہ سمیلن میں حصہ لیا تھا۔ انھوں نے اپنا تاثر درج ذیل الفاظ میں لکھا ہے:

٭جے پور لٹریچر فیسٹیول میں ترجمۂ قرآن لینے والوں کے تاثرات بہت اچھے رہے۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ جو ترجمۂ قرآن آپ تقسیم کرتے ہیں،وہ میں نے پڑھا ہے، یہ بہت آسان اور عمدہ ہے۔اسی طرح ایک نان مسلم خاتون نے جب قرآن کو دیکھا تو قریب آکر خوشی سے کہا :اوہ قرآن،کیا یہ مجھے مل سکتا ہے،اس کی قیمت کیا ہے۔میں نے کہا کہ یہ آپ کے لیے اسپریچول گفٹ ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ ریلی فری آف کوسٹ ،ویری گڈ، اور بخوشی لیکر چلی گئیں۔ اس طرح بہت سے لوگ خوشی خوشی قرآن کا ترجمہ مانگ کر لے گئے ۔

٭ 5تا7فروری 2020 کنڑا ساہتیہ سمیلن کلبرگی (سابق گلبرگہ) کرناٹک میں منعقد ہوا۔اس میں رائچور، بنگلور، چنئی، تماپور،اور گلبرگہ کی سی پی ایس ٹیموں نے مل کر گڈورڈ کا بکس سٹال لگایا، اور الرسالہ مشن کی اردو اور انگریزی کتابیں ، خصوصاً پاکٹ سائز کا کنڑا ترجمۂ قرآن رعایتی قیمت پر دیا۔ ہمارے اسٹال پر آنے والے زیادہ تر نان مسلم تھے، انھوں نےقیمت ادا کرکے تقریباً ایک ہزارترجمۂ قرآن لیا۔ قرآن کو ہاتھ میں لیتے وقت ان کے چہرے کی خوشی، اور ان کے کہے ہوئے الفاظ ،دونوںدعوتی مشن کو بوسٹ (boost)کرنے والے بنے۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ کئی سال سے میں کنڑ اترجمۂ قرآن کی تلاش میں تھا۔ آج میں نے اس کو حاصل کرلیا۔ایک صاحب نے قرآن اپنے ہاتھ میں لیکر اسے کھولا، اور پڑھنا شروع کیا ۔اس کے بعد اس نے کہا کہ میں نے صرف دو سطریں پڑھی ہیں۔ میرے سر کا بوجھ ہلکا ہوگیاہے، اورمیرا جسم کانپ رہا ہے۔ ایک نان مسلم نے سوال کیا کہ آپ قرآن دے رہے ہیں، قرآن کے بارے میں آپ کا اپنا ذاتی تجربہ کیا ہے؟ اس سوال نے مجھے اندر سے ہلا دیا۔ اس نے مجھے دوبارہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی ترغیب دی۔ اسی طرح دو عیسائی نوجوان آئے، اور انھوں نے ہمارے اسٹال سے بائبل تقسیم کرنے کی اجازت مانگی۔ ہم نے ان کو اجازت دےدی۔ جب بائبل دے رہے تھے، تو ساتھ ہی ساتھ وہ ہمارے پاس موجود پیغمبر اسلام کی سیرت کی کتابیں بھی آنے والوں کو دے رہے تھے، اورقرآن بھی ۔ اس تجربہ سے مجھے یہ سبق ملا کہ دوسروں کوموقع دو گے، تو مزیدمواقع ملیں گے ۔ ان تجربات سے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ مدعو کی زبان میں قرآن کی اشاعت ہی وہ گول ہے، جس کو سنگل گول کی حیثیت سے اپنی زندگی میں اختیار کرنا چاہیے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion