جدید دور کی ایک دین
قدیم زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا تھا کہ بیٹے کے ذریعے تسلسل کو قائم رکھنا۔ مثلا ً سردار کا بیٹا سردار، بادشاہ کا بیٹا بادشاہ، خلیفہ کا بیٹا خلیفہ، اسی طرح عہدیدار کا بیٹا عہدیدار، وغیرہ۔ یہ طریقہ برابر قائم رہا۔ اس طرح نظام کا عملی ڈھانچہ تو قائم رہا، لیکن اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ غیر اہل (incompetent) افراد عہدوں پر قابض ہونے لگے۔ مغرب نے اس کے بدل کے طور پر ادارے (institution) کا طریقہ رائج کیا، اور ادارے میں یہ اصول رکھا کہ الیکشن کے ذریعے عہدیدار منتخب کیے جاتے رہیں۔ اس طریقے میں معیار کو باقی رکھنے کی تدبیر وہ اختیار کی گئی، جس کو کوالیٹی ایجوکیشن (quality education) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایجوکیشن کے ذریعے بہتر افراد کا عہدے تک پہنچنا۔
غیر ترقی یافتہ ملکوں میں بھی اس طریقے کو اپنایا گیا ہے، لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ غیر ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ بھی بظاہر کوالیٹی ایجوکیشن کا نام لیتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ وہ رعایت اور ریزرویشن کا طریقہ بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چنانچہ رعایت اور ریزرویشن کے طریقے نے ان ملکوں میں کوالیٹی ایجوکیشن کا عملاً خاتمہ کردیا ہے۔
کوالیٹی ایجوکیشن کی کامیابی کی واحد شرط یہ ہے کہ پوری اصول پسندی کے تحت اسٹرکٹ کامپٹیشن (strict competition) کا اصول اختیار کیا جائے۔ اسٹرکٹ کامپٹیشن کا مطلب ہے— مقابلے کا سامنا کرو، یا ختم ہوجاؤ (compete or perish)۔ اس اصول کو سختی سے اختیار کیے بغیر کوالیٹی ایجوکیشن کا کوئی وجود نہیں۔
اسٹرکٹ کا مپٹیشن کو سختی سے رائج کیا جائے ،تو یہ ہوگا کہ صرف اہل لوگ منتخب ہوکر اوپر آئیں گے، اور جو نااہل افراد ہیں، وہ خود سسٹم کے تحت اپنے آپ چھٹ کر الگ ہوجائیں گے۔ مگر الگ ہونا، سادہ طور پر کنارے لگنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے ایسے افراد کے لیے دوسرے چائس کو اویل کرنے کا موقع دینا۔
