گِور نیشن
امریکا کی کامیابی کا رازیہ ہے کہ وہ آج کی دنیا میں ایک دینے والی قوم (giver nation) بنی ہوئی ہے۔ امریکا دنیا سے جتنا لے رہا ہے، اس سے زیادہ وہ دنیا کو دینے والا بنا ہوا ہے۔ اس راز کو میں نے پہلی بار 1980 میں اپنے ایک ذاتی تجربے سے جانا۔ ہمارے ساتھیوں نے 1980 میں قرآن مشن کے لیے نظام الدین ویسٹ میں ایک بلڈنگ بنائی۔ یہ بلڈنگ جب بن کر تیار ہوگئی، تو معلوم ہوا کہ اس کے بیسمنٹ میں نیچے سے پانی آگیا ہے۔ میں اس کو دیکھنے گیا، تو بیسمنٹ پورا کا پورا پانی سے بھرا ہوا تھا۔ اس وقت ایک مقامی انجینئر کو بلایا گیا، انھوں نے دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ بلڈنگ پوری کی پوری فلوٹنگ اسٹیٹ (floating state) میں آگئی ہے۔ موجودہ حالت میں وہ ناقابل استعمال ہے۔ اب آپ کے لیے ایک ہی صورت ہے کہ آپ بلڈنگ کو توڑ دیں، اوردوبارہ اس کو تعمیر کرائیں۔
یہ ایک بے حد مشکل مسئلہ تھا۔ اس وقت ہمارے ایک جاننے والے تھے، جن کا نام رحمان نیر تھا۔ وہ اگلے دن اپنے ایک دوست کو لے کر آئے، یہ صاحب امریکا سے انجینئرنگ کی پڑھائی کرکے آئے تھے۔ انھوں نے پوری بلڈنگ کا معائنہ کیا، اور اس کے بعد کہا کہ آپ صرف یہ کیجیے کہ مجھ کو پچاس بوری سمنٹ، اور ضروری مقدار میں ریت منگواکر دے دیجیے۔ ان کے مشورے کے مطابق ، ایسا ہی کیا گیا۔ انھوں نے مزدور بلا کر فوراً کام شروع کرادیا، اور جلد ہی ایسا ہوا کہ پانی کا مسئلہ ختم ہوگیا، اور بلڈنگ آج تک اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی ہے، اور سارا کام معمول کے مطابق انجام پارہا ہے۔ مذکورہ انجینئر نے بتایا کہ پہلے زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ سمنٹ کا موٹا فرش بنا دیا جائے، تو پانی کے اوپر روک قائم ہوجائے گی۔ لیکن بعد کو معلوم ہوا کہ سمنٹ کا فرش خواہ کتنا ہی موٹا بنایا جائے، وہ سوراخ دار (porous) ہوتا ہے۔ اس لیے فرش بننے کے بعد پانی رِ سنا شروع ہوجاتا ہے، اور پانی کا مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد امریکا میں ایک کیمیکل ایجاد کیا گیا۔ اس کیمیکل کو سمنٹ میں ملادیا جاتا ہے، تو ایسا فرش بنانا ممکن ہوجاتا ہے، جو پانی کو کامیابی کے ساتھ روکنے والا ہو۔
