الفاظ کا جنگل
کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ مسلسل طور پر بولتے ہیں۔ان کے الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس الفاظ کا خزانہ ہے، لیکن یہ الفاظ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں نہ کوئی تجزیہ ہوتا ہے، نہ کوئی وزڈم (wisdom) ، نہ کوئی گہری معنویت۔آپ ان کی باتوں کو گھنٹوں سنتے رہیے، لیکن ان کی باتوں میں آپ کو کوئی حکمت یا کوئی دانشمندی کی بات نہیں ملے گی۔ حتی کہ آپ اس سے بھی بے خبر رہیں گے کہ انھوں نے کیا کہا۔ ان کی باتوں میں آپ کو کوئی ٹیک اوے (takeaway) نہیں ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس حافظہ (memory)ہوتا ہے، مگر ان کے پاس دانش مندی (wisdom) نہیں ہوتی۔ ان کے پاس گہرا مطالعہ نہیں ہوتا۔اقبال نے ایک شعر کہا تھا، وہ شعر یہ ہے:
قلندر جُز دو حرفِ لااِلہ کچھ بھی نہیں رکھتا فقیہِ شہر قاروں ہے لُغَت ہائے حجازی کا
اقبال نے یہ شعر خواہ جس معنی میں کہا ہو، وہ ایک اور اعتبار سے بالکل درست ہے،ا ور وہ ہے آج کل کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں کا طبقہ۔ آج کل جو لوگ اسٹیج پر بولتے ہیں، یا مجلات میں لکھتے ہیں، ان کی باتوں کو سنیے یا پڑھیے۔ ان سب کا خلاصہ تقریباً ایک ہے۔ الفاظ کی بھرمار، لیکن معانی کا وجود نہیں۔
اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا ہے کہ خواہ تقریر کا معاملہ ہو، یا تحریر کا، وہ بامعنی اس وقت بنتی ہے، جب کہ صاحبِ تحریر یا صاحبِ تقریر میں تخلیقی صلاحیت (creativity) موجود ہو۔ صرف تعلیمی سند یا مطالعہ اس مقصد کے لیے کافی نہیں۔ بڑے سے بڑا آدمی خواہ وہ سند یافتہ ہو، یا صاحبِ مطالعہ ، کبھی وہ بامعنی تقریر یا تحریر کا مالک نہیں بن سکتا۔ ضروری ہے کہ اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پائی جائے۔ تخلیقی فکر کے بغیر آدمی باتوں کو دہرا سکتا ہے، لیکن وہ کسی بامعنی تحریر یا تقریر کو وجود میں نہیں لاسکتا۔ بامعنی تقریر یا تحریر ہمیشہ تخلیقی فکر کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ تکرار ِالفاظ کا نتیجہ۔ تخلیقی فکرکا مالک کون ہے، یہ وہ انسان ہے، جو آخری حد تک کھلا ذہن (open mind) رکھتا ہو، جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر خالص موضوعی (objective) انداز میں رائے قائم کرسکتا ہو۔
فارسی کا ایک مثل ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے ۔یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ (analysis)کرے۔وہ ظاہری اہمیت کی چیزوں سے اوپر اٹھ کر معنوی اہمیت کی چیزوں میں گم ہوجائے ۔اس کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو۔ وہ تعصب سےدور ہو۔ اس کا ذہن نفرت اور انتقام کے جذبات سے خالی ہو۔ وہ غیر متاثر انداز میں واقعات کا تجزیہ کرے۔وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے۔
تخلیقی فکر فطرت کا عطیہ ہے۔ تخلیقی فکر ایک خداداد صلاحیت ہے۔ تخلیقی انسان کے اندر وہ صفت ہو تی ہے،جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:اللَّہُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا،وَارْزُقْنَااجْتِنَابَہِ، وَلَا تَجْعَلْہُ مُلْتَبِسًا عَلَیْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر غیر واضح نہ بنا کہ ہم گمراہ ہو جائیں۔ اسی طرح یہ دعا: اللَّہُمَّ أَرِنَا الْأَشْیَاءَ کَمَا ہِیَ (تفسیر الرازی، جلد 13، صفحہ 37) ۔ یعنی اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ذہنی ارتقا کا اعلی درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر پیدا ہوجائے۔ایسا آدمی ہر لمحہ اپنے لیے انٹلکچول فوڈ حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس کی ذہنی زندگی کبھی اور کسی حال میں ختم نہیں ہوتی۔جو لوگ صرف تکرار الفاظ کو جانتے ہوں، وہ الفاظ کا جنگل اگاسکتے ہیں، لیکن معانی کا باغ وجود میں نہیںلاسکتے۔الفاظ کا جنگل اگانے کے لیے حافظہ (memory) کافی ہے۔ اگر کسی کا حافظہ اچھا ہو، تو وہ بہ آسانی الفاظ کا جنگل اگاسکتا ہے۔ لیکن معانی کا باغ اگانا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ معانی کا باغ صرف وہ لوگ اگاسکتے ہیں، جو تخلیقی فکر کے حامل ہوں۔
