فکر کی تشکیل
ایک قاریٔ الرسالہ نے یہ سوال کیا ہے کہ فکر کی تشکیل میں سب سے زیادہ کن عناصر پر توجہ دینی چاہیے۔ (حافظ اے ایچ دانیال، پٹنہ، بہار)
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تاریخ ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ بہت زیادہ آبجیکٹیو مطالعہ کے ذریعے سب سے پہلے یہ جاننا ہے کہ اس سفر میں ہم کہاں ہیں۔ یہ سب سے پہلی شرط ہے ۔مثلاً دور جدید دراصل نئے مواقع وجود میں آنے کا زمانہ ہے۔ جس چیز کو جدید تہذیب کہتے ہیں، وہ دراصل جدید مواقع (new opportunities)کا دوسرا نام ہے۔ لیکن عین اسی زمانے میں یہ ہوا کہ مغل سلطنت اور عثمانی سلطنت کے سقوط کا واقعہ پیش آگیا۔
یہ واقعہ کسی کے ظلم یا سازش کی بنا پر نہیں ہوا، بلکہ وہ مسابقت کی بنا پر ہوا۔ یہ دنیا مسابقت (competition) کی دنیا ہے۔ یہاں مسلسل طور پر افراد اور قوموں کے درمیان مسابقت جاری رہتی ہے۔ جو فرد یا قوم مسابقت میں اسٹینڈ کرتے ہیں، ان کو زندگی ملتی ہے، اور جو اسٹینڈ نہیں کرتے، وہ زندگی کےمیدان میں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلم لیڈروں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ جو واقعہ بر بنائے مسابقت ہوا تھا، اس کو انھوں نے بر بنائے ظلم سمجھ لیا، اور مفروضہ ظالموں کے خلاف لڑائی لڑنے میں مشغول ہوگئے۔ یہ بلاشبہ اندازے (assessment) کی غلطی تھی۔ اب تمام مسلم رہنماؤں پر یا ان کے ماننے والوں (followers)پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعلان کریں، تاکہ وہ اپنے عمل کی زیادہ صحیح منصوبہ بندی کرسکیں۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا جو واقعہ پیش آیا ، اس کا تقاضا تھا کہ تمام مسلمان، عرب و عجم، اپنے عمل کی ری پلاننگ کریں۔ اس کے برعکس، انھوں نے یہ کیا کہ جدید قوموں کو دشمن قرار دےکر ان سے لڑنا شروع کردیا۔ یہ اندازے کی سنگین غلطی تھی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنے اس غلط اندازے کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔
