093
ہندستان کے سابق وزیر اعظم مسٹر مرار جی ڈیسائی یورپ اور امریکا کے بارہ روزہ سرکاری دورہ کے بعد 17جون 1978کو نئی دہلی واپس آئے۔ پالم ائرپورٹ پر جب وہ اپنے ہوائی جہاز سے باہر آئے تو مرکزی وزیر صحت مسٹر راج نرائن نے وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے ان کو عطر لگایا ۔ مرارجی نے کہا:’’یہاں تو آپ مجھے عطر کی خوشبو سنگھارہے ہیں لیکن میری غیر حاضری میں آپ کی کرتوتوں کی بدبو آتی تھی۔ مسٹر راج نرائن نے جواب دیا’’نہیں نہیں مرار جی بھائی ، یہ غلط ہے۔‘‘
ہندستان ٹائمس18 جون 1978 ، صفحہ 1
یہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے جس میں ان لوگوں کی تصویر نظرآتی ہے، جو جنتا پارٹی کے نام سے حکومت میں آئے تھے۔ 1977 میں جنتا پارٹی کا حکومت میں آنا بالکل جوار بھاٹا کا معاملہ تھا۔ وہ تیزی سے گورنمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئی اور پھر دو سال بعد تیزی سے باہر نکل گئی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ جنتا پارٹی دراصل مخالف کانگریس عناصر کا دوسرا نام تھی۔ جولوگ کسی مخالفانہ نعرے کی بنیاد پر اکٹھا ہوں ان کے اجتماع واتحاد پر ایک نادان آدمی ہی خوش ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح اکھٹا ہونے والے لوگ ہمیشہ نہایت سطحی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اگر اقتدار پر قبضہ پالیں تب بھی کوئی مثبت کام نہیں کرسکتے۔ وہ جتنی تیزی سے جمع ہوتے ہیں اتنی ہی تیزی سے دوبارہ منتشر ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے جھوٹے اتحاد کا تماشہ مسلمانوں میں بھی کثرت سے دیکھا جاسکتا ہے۔
