078

سارے قرآن میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں فطرت کے مظاہر کی ایسی توجیہہ کی گئی ہو، جس سے سائنسی تحقیقات کی نفی لازم آئے۔یہی وجہ ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ملتا جو چرچ کی تاریخ میں ’’گلیلیو‘‘ کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اسلام میں اس کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی کہ علمی نظریات کے لیے کسی کی پکڑ دھکڑ کی جائے یا اس کو سزا دی جائے۔

نظریاتی احتساب کی مثالیں اسلامی تاریخ میں خالص مذہبی لوگوں کے یہاں نہیں پائی جاتیں۔ صرف معتزلہ کے یہاںاس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ معتزلہ کٹر مذہبی لوگ نہیں تھے۔ بلکہ یہ وہ لوگ تھے، جو اپنے آپ کو روشن خیال کہتے تھے، اور آزادیٔ فکر کے علَم بردار تھے۔

معتزلہ نے عباسی حکمرانوں کی مدد سے اپنے نظریاتی مخالفین کا زبردست احتساب کیا۔ اسی احتساب کی ایک مثال امام احمد بن جنبل ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو زبردست سزائیں دی گئیں۔ صرف اس لیے کہ وہ ’’خلقِ قرآن‘‘ کے مسئلے میں معتزلہ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔

امام احمد بن حنبل کو مسلسل مارا گیا۔مارنے والے ایک جلاد نے بعد میں اس ضرب کی شدت کے بارے میں کہا تھا :ضربت أحمد بن حنبل ثمانین سوطا، لو ضربتہ فیلا لہدمتہ (المنہج الأحمد لأبی الیمن العلیمی، ج 1 ص 107)۔ یعنی میں نے احمد بن حنبل کو اسی کوڑے مارے، اگر میں اس طرح کسی ہاتھی کو مارتا تو اس کو گرادیتا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion