خدا موجود ہے
امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این (CNN) کی ویب سائٹ پر 31 جنوری 2022 کو ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ اس کے مطابق، یو ایس نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ’درختوں کی اقسام کا تخمینہ لگانا دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کی کوششوں کو ترجیح دینے کے لیے اہم ہے‘۔اب تک درختوں کی تقریباً 64 ہزار 100 اقسام دریافت کی جا چکی ہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق، زمین پر تقریباً درختوں کی اقسام کی تعداد 73,300 موجود ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اب تک درختوں کی نو ہزار سے زیادہ اقسام کا علم نہیں ہے:
There are more than 9,000 types of trees we don't know of yet, study finds: The study, published in the Proceedings of the National Academy of Sciences, pooled data from around the world to show that there are roughly 73,000 types of trees on Earth, and some 9,200 are unaccounted for. Almost one-third of the undiscovered tree species are likely to be rare with limited dispersion, said the study authors, making them especially vulnerable to climate change. (By Danya Gainor and Angela Dewan, January 31, 2022)
مضمون میں آگے لکھا گیا ہے کہ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ فی الواقع ہم اس قیمتی آرگنزم کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ یہ اس بات کو یاد دلاتی ہے کہ ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے:
This research highlights how little we actually know about the magnificent organism and has left researchers wanting to learn more.
یہ دریافت اشارہ کرتی ہے کہ کائنات میں بہت سی حقیقتیں ایسی ہیں جو ہماری نگاہ سے اوجھل ہیں، مگر وہ موجود ہیں۔مثلاً بلیک ہول کی دنیا، وغیرہ وغیرہ۔ کائنات میں پھیلے ہوئے بےشمار عجائبات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان کا ایک خالق اور انتظام کرنے والا ہے۔ جس طرح درختوں کی بہت سی اقسام کا ہمارے علم سے باہر ہونا اس کا ثبوت نہیں کہ وہ موجود نہیں ہیں، اسی طرح خدا کا ہماری نظروں سے اوجھل ہونا اس کا ثبوت نہیں کہ وہ موجود نہیں ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
