دجال کا دور

صعب بن جثامة بن قیس لیثی (وفات 25 ھـ)ایک صحابی ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَا یَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى یَذْہَلَ النَّاسُ عَنْ ذِکْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ(معجم الصحابہ، جلد2، صفحہ8)۔یعنی صعب بن جثامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ نے کہا: دجال نہیں نکلے گا، یہاں تک کہ لوگ اللہ عز و جل کے ذکر سے غافل ہوجائیں گے۔

مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کسی شخصیت کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک دور کا نام ہے، جب کہ گمراہی بہت پھیل جائے گی۔ وہ گمراہی یہ ہوگی کہ لوگوں کے ذہن سے خدا کی معرفت ختم ہوجائے گی۔ اس غفلت کا سبب ایسے خیالات یا نظریات ہوں گے، جس پر بظاہر اسلام کا لیبل لگا ہوگا، مگر وہ اسلام سے دور کرنے والے ہوں گے۔

دجالیت کا دور وہ ہے، جب کہ دنیا میں پروفیشنل ایجوکیشن کا دور دورہ ہوگا۔ یعنی وہ ایجوکیشن جس کے ذریعے افراد کو ہنر مند بنایا جائے ۔مثلاً تجارت ،نرسنگ، انجنیئرنگ اور قانون ، وغیرہ۔ لیکن وہ علم جس سے معرفت میں اضافہ ہو، وہ کم یاب ہوجائے گا۔ لوگ پیسہ کمائیں گے، لیکن سچے علم سے بے خبر ہوں گے۔ لوگوں کی جیبیں بھری ہوں گی، اس بنا پر وہ بہت بولیں گے، بہت زیادہ بحثیں کریں گے۔ بظاہر علم کا چرچا ہوگا، لیکن یہ چرچا مادی انٹرسٹ کے لیے ہوگا، نہ کہ اللہ کی معرفت میں اضافہ کے لیے۔

یہ وہ زمانہ ہوگا، جب کہ مال کی کثرت کی وجہ سے لوگ نفس پرستی میں مبتلاہوجائیں گے۔ جھوٹ کی کثرت ہوگی۔ سچائی کو ماننے کا مزاج کم ہوجائے گا۔ اس کے برعکس، اپنی بات منوانے والوں کی کثرت ہوجائے گی۔ سنانے والے بہت ہوجائیں گے، لیکن سننے والے موجود نہ ہوں گے۔ پیسے کی افراط کی بنا پر لوگ اِن سنسیرٹی (insincerity)میں مبتلا ہوجائیں گے۔ ہر آدمی اپنے ہی کو سب کچھ سمجھے گا۔ دوسرے کی بات سننا، اور اس پر غور کرنا، یہ مزاج دنیا سے ختم ہوجائے گا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion