ڈر، پست ہمتی

ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیں: میرےایک ساتھی ہیں جو جنوبی ہند میں دعوتی کام کرتے ہیں۔ آج کل وہ بیمار ہیں، میں ان کی عیادت کے لیے گیا تھا۔دورانِ گفتگو انھوں نے اپنا تاثر بتایا کہ جب ہم ٹیم کی شکل میں 1998 میں شمالی ہند کے دعوتی دورے پر گئے۔ تواس وقت مختلف شخصیات اور اداروں میں جانے کا موقعہ ملا تاکہ دعوتی کام کا تعارف ہو ،اور ہمیں اچھا مشورہ اور حوصلہ ملے۔انھوں نے بتایا کہ اس سفر میں تقریباً سارے ہی افراد نے ہمیں ڈر ایا، اور پست ہمت کیا، اور کہا کہ دعوتی کام کے لیے حالات ناساز گار ہیں۔ اس میں صرف ایک شخصیت کا استثنا تھا، وہ مولانا وحیدالدین خاں صاحب ہیں۔ انھوں نے ہماری ہمت افزائی کی ،اور ہمیں مفید مشورے سے نوازا ۔ مولانا ہمارے یہ ساتھی بہت ہی ایکٹیو داعی ہیں، انھوں نے کہا کہ میں آج کل بیماری کے ایام میں خوداحتسابی (self-introspection) کی زندگی گزاررہاہوں ۔انھوں نے مزید کہا کہ میں کنفیوزن کا شکار ہوں، اور اس کی وجہ کیا ہے، اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔

جب میں ان سے مل کر واپس آگیا تو انھوں نے یہ پیغام بھیجا:" آپ میری عیادت کے لیے آئے ،اور مجھے دعاؤں کے ساتھ بہت کچھ دے کر گئے۔ جب سے میں بیمار ہوا ہوں، اپنے اور اپنی دعوتی ٹیم کے سلسلے میں بہت سوچتا رہتا ہوں کہ ہم نے بیس سال کا عرصہ لگا کر کیا حاصل کیا؟ ہمارا رخ کدھر ہے ۔کیا ہم دعوت اورینٹڈ زندگی گزار رہے ہیں، دعوت کے نام پر ہم کیا کیا کام کر رہے ہیں،وغیرہ، وغیرہ۔ اس طرح کے سوالات ذہن میں آتے ہیں ۔ میں ان کے جوابات کی تلاش میں ہوں ،کسی سوال کا کچھ جواب ملتا ہے، کسی کانہیں، خیر ساری چیزیں اپنی ڈائری میں لکھ رہا ہوں ،کیا پتہ میرے رب کی طرف سے دوبارہ موقع ملے تومیں اپنی اصلاح کروں۔" مولاناجب انھوں نے آپ کی شخصیت کا اعتراف بطور داعی کے کیا ،پھر بھی اپنے مقصد اور مشن کو لے کر کنفیوزن کا شکار ہیں،اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ۔ میرا خیال یہ ہے کہ کچھ علما اعتدالِ فکری کے نام پرکنفیوزن کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے وہ "دعوت بھی کرے گا اور عدوات (دشمنی) بھی کرے گا "کہتے ہیں ۔ اس کے برعکس، متعین رہنمائی پر اگر کوئی چلے تو اس کو شخصیت پرستی کا نام دیتے ہیں، یہی ا ن کا ذہنی انتشار ہے۔ اس پر کچھ رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

پچھلے سو سال سے زیادہ مدت کے اندر مسلمانوں میں بہت سی تحریکیں اٹھی ہیں۔ بظاہر ان کے نام مختلف ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے سب کا محرک ایک تھا، اور وہ تھا رد عمل۔یہ تمام تحریکیں ردعمل (reaction) کی تحریکیں تھیں۔ دورِ جدید کی مختلف تحریکوں کو انھوں نے اسلام کے لیے اور مسلمانوں کے لیے خطرہ سمجھا، اور وہ اس کےخلاف بطورِ دفاع اٹھ کھڑے ہوئے۔میرے علم کے مطابق ان میں سے کوئی تحریک حقیقی معنوں میں اللہ اور آخرت اور جنت کے لیے نہیں اٹھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں کہیں نہ کہیں منفی نفسیات موجود تھی۔ اسی منفی نفسیات کا سبب ہے کہ بظاہر وہ کوئی بھی نام لیں، مثلاً دعوت یا تبلیغ۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ردعمل کی تحریکیں تھیں، اور جو تحریک بطور ردعمل کے اٹھے، اس کے اندر وہی کمی پائی جائے گی، جس کی نشاندہی آپ کے ساتھی نے کی ہے۔

قرآن کی تعلیمات کے مطابق،مسلمان کی حیثیت شاہد کی ہے، اور دوسرے اقوام کی حیثیت مشہود کی(85:3)۔ یعنی دوسرے الفاظ میں مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق ہو، تو لوگوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ اس کے برعکس، اگر حریف اور رقیب کا تعلق ہو، تو مسلمان منفی ذہنیت کا شکار ہوجائیں گے، دوسری قوموں کے بارے میں وہ خیرخواہی کے انداز میں نہیں سوچ پائیں گے۔ جب کہ پیغمبر اپنی مدعو قوم سے کہتے تھے:وَأَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِینٌ (7:68)۔ یعنی میں تمھارا مانت دار خیرخواہ ہوں۔ پیغمبر شعیب نے کہا تھا:وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِینَ (7:79)۔ یعنی میں نے تمہاری خیر خواہی کی مگر تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بھلائی چاہنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہو، اس کے باوجود میں نے یک طرفہ طور پر تمھارے ساتھ خیرخواہی کی۔

اس منفی مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں مختلف قسم کی بے راہ روی پیدا ہوئی۔ اسی بنا پر یہ تحریکیں مسلمانوں کے اندر صحت مند مزاج بنانے میں بری طرح فیل ثابت ہوئی ہیں ۔ حتی کہ تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ بظاہر خواہ مختلف قسم کے داعیانہ الفاظ بولیں، لیکن ان کے اندر سے داعیانہ جذبہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے ان تحریکوں سے وابستہ افراد سے ملیے تو بہت جلد وہ ظلم اور سازش کے الفاظ بولنے لگتے ہیں، جس کو مذکورہ ملاقات میں ڈر اور پست ہمتی کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اس صورتِ حال سے محفوظ رہنے کا راستہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ ہے کہ پچھلی غلطیوںکا اعتراف کیا جائے، اور دوبارہ مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کی منصوبہ بندی کی جائے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ان کو احساس ہوتا ہے کہ ماضی میں غلطی ہوئی، تب بھی وہ کھل کر اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ غلطی کا اعتراف کیے بغیر کچھ نیا کام کیا جائے۔ مگر اس قسم کا کام کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ غلط سرگرمیوں کے زمانے میں جو ذہن بنا ہے، اس کو اعلان کے ساتھ ترک کرنا ضروری ہے۔ اگر اعلان کے ساتھ ترک نہ کیا جائے، تو ممکن ہے کہ اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہیں۔
نیز یہ کہ آپ کے دوست نے کچھ افراد کے حوالے سے جو یہ بات کہی ہے کہ انھوں نے ہمیں ڈر ایا، اور پست ہمت کیا، اور کہا کہ دعوتی کام کے لیے حالات ناساز گار ہیں۔ ایسے لوگوں پر حضرت عائشہ کا یہ قول ثابت آتا ہے کہ انھوں نے قرآن و حدیث پڑھا، مگر انھوں نے قرآن و حدیث نہیں پڑھا(
أُولَئِکَ قَرَءُوا، وَلَمْ یَقْرَءُوا)مسند احمد، حدیث نمبر24609۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث سے عام طور پر صرف کچھ چھوٹے چھوٹے مسئلے نکالے جا تے ہیں، جن کو جزئی (فروعی) مسائل کہاجاتا ہے۔ اس کے برعکس، حدیث میں ابدی رہنمائی کا جو پہلو تھا وہ امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گیا۔ یہ حدیث کی تصغیر (underestimation) ہے۔ حدیث یا سنتِ رسول سے سب سے بڑی چیز دریافت کرنے کی یہ ہے کہ رسول اللہ نے مسائل کو مواقع میں کنورٹ کیا۔ حدیث کو پڑھنے والے حدیث سے سب کچھ نکالتے ہیں، مگر اس قسم کی ابدی حکمت ابھی تک نہیں نکال پائے۔ ان کے موجودہ منفی ذہن کا یہی اصل سبب ہے۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion