مقصد کی تلاش

اس عظیم کائنات کو دیکھتے ہی سب سے پہلا سوال جو ایک سنسیر(sincere) انسان کے ذہن میں آتا ہے، وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو چلا رہا ہے۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی اَن دیکھی طاقتیںاس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کررہے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طورپر اب یہ نظریہ ترک کیا جاچکا ہے۔ آج یہ ایک مردہ نظریہ ہے ،نہ کہ زندہ نظریہ ۔موجودہ زمانے کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں، اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے انسان ہیں۔ وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہےکہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کارفرمائی نہیں ہے، بلکہ ایک اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہے، اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجائے تو اس کے سبب سے کچھ دوسرے واقعات بھی وجود میں آئیں گے۔ اس طرح اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ قائم ہوجاتا ہے، اور یہی سلسلۂ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک ،اتفاق اور دوسرا، قانونِ علّت (law of causation) ۔

یہ توجیہہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریباً دو لاکھ ارب (دو سو ٹریلین) سال پہلے کائنات کا وجود نہ تھا۔ اس وقت ستارے تھے ،اور نہ سیارے، مگر فضا (space) میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا۔ بلکہ اپنے ابتدائی ذرّے یعنی برقیے (electrons) اور پروٹونوں کی شکل میں پوری فضائے بسیط (vast space) میں یکساں طورپر پھیلا ہوا تھا۔ گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس سے کائنات بھری ہوئی تھی۔ اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔ ریاضی کے نقطۂ نگاہ سے یہ توازن ایسا تھا کہ اگر اس میں کوئی ذرا سا بھی خلل(interruption) ڈال دے تو پھر یہ قائم نہیں رہ سکتا، یہ خلل بڑھتا ہی چلا جائے گا۔

اگر اس ابتدائی خلل کو مان لیجیے تو ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد کے تمام واقعات علم ریاضی کے ذریعے ثابت ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مادے کے اس بادل میں خفیف سا خلل(minutest disruption) واقع ہوا، جیسے کسی حوض کے پانی کو کوئی ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ کائنات کی پرسکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ لیکن خلل ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہوگیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جن میں سے بعض کو ہم ستارہ، بعض کو سیارہ اور بعض کو نیبولا (nebula) کہتے ہیں۔کائنات کی یہ توجیہہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ توجیہہ نہایت کمزور توجیہہ ہے ، خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرحِ صدر حاصل نہ ہوسکا۔ یہ توجیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی۔ مگر اس کے باوجود اٹھیسٹ لوگوں (atheists)کا دعوی ہے کہ انھوں نے کائنات کے محرّکِ اول کو معلوم کرلیا ہے، اور اس محرکِ اول کا نام ان کے نزدیک اتفاق ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب وغریب قسم کا اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا، جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی۔ جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے ،اور نہ مادہ کے باہر۔ وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے۔ اس توجیہہ کا یہ نہایت دل چسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعے سے پہلے ایک واقعہ کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے، جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعہ کا سبب بن سکے۔ مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے  واقعے سے ہوتی ہے، جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں۔ یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے، جس پر کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریے کی پوری عمارت کھڑی کردی گئی ہے۔

پھر یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طورپر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے، جو انھوں نے اختیار کیا۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا تھا۔ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکراکر تباہ ہوجائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہونے کے بعد کیا یہ ضروری تھا کہ یہ محض حرکت نہ رہے، بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے، اور حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ موجودہ کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کردے۔

آخر وہ کون سی منطق تھی، جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لامتناہی خلا میں نہایت باقاعدگی کے ساتھ پھرانا شروع کردیا ۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نے کائنات کے ایک بعید ترین گوشہ میں نظامِ شمسی کو وجود دیا۔ پھر وہ کونسی منطق تھی، جس سے ہمارے کرۂ ارض پر وہ عجیب وغریب تبدیلیاں ہوئیں، جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہوسکا،اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بے شمار دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں بھی معلوم نہیں کیا جاسکا ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جو ایک خاص مرحلے پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ کیا اس بات کی کوئی معقول توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی، اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔

پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نےکائنات کے ایک چھوٹے سے رقبے میں حیرت انگیز طورپر وہ تمام چیزیں پیدا کردیں، جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لیے درکار تھیں، پھر وہ کون سی منطق ہے، جو ان حالات کو ہمارے لیے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا محض ایک اتفاق کا پیش آجانا، اس بات کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسنِ ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں، اور اربوں اور کھربوں سال تک ان کا تسلسل جاری رہے، اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ کیا اس بات کی کوئی واقعی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آنے والے واقعےمیں لز وم کی صفت کہاں سے آگئی، اور اتنے عجیب وغریب طریقے پر مسلسل ارتقا کرنے کا رجحان اس میں کہاں سے پیدا ہوگیا۔

یہ اس سوال کا جواب تھا کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا چلانے والا کون ہے۔ وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو اس قدر منظم طریقے پر حرکت دے رہا ہے۔اس توجیہہ میں جس کو کائنات کا خالق قرار دیاگیاہے، اسی کو کائنات کاحاکم نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ توجیہہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے۔ کیوں کہ حرکتِ اول کی توجیہہ کے لیے تو اتفاق کا نام لیا جاسکتا ہے، مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال میں بھی اتفاق نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی توجیہہ کے لیے دوسرا خدا تلاش کرنا پڑے گا۔

اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اصولِ تعلیل (principle of causation)پیش کیا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حرکتِ اول کے بعد کائنات میں علت اور معلول کاایک سلسلہ قائم ہوگیا ، جس کے نتیجے میں ایک کے بعد ایک تمام واقعات پیش آتے چلے جارہےہیں۔ اسی طرح جیسے بچّے بہت سے اینٹیں کھڑی کرکے کنارے کی ایک اینٹ گرا دیتے ہیں تو اس کے بعد کی تمام اینٹیں خود بخود گرتی چلی جاتی ہیں۔ جو واقعہ ظہور میں آتا ہے، اس کا سبب کائنات کے باہر کہیں موجود نہیں ہے، بلکہ ناقابلِ تسخیر قوانین کے تحت حالات ماقبل کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے، اور یہ سابقہ حالات بھی اپنے سے پہلے واقعات کا لازمی نتیجہ تھے۔ اس طرح کائنات میں علّت اور معلول کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہوگیا ہے۔ حتى کہ جس صورت میں تاریخِ عالم کا آغاز ہوا، اس نے آئندہ سلسلۂ واقعات کا قطعی فیصلہ کردیا ہے۔ جب ابتدائی صورت ایک دفعہ متعین ہوگئی تو قدرت صرف ایک ہی طریقے سے منزلِ مقصود تک پہنچ سکتی تھی۔ گویا کائنات جس روز پیدا ہوئی اس کی آئندہ تاریخ بھی اسی دن متعین ہوچکی ہے۔

اس اصول کو قدرت کا اساسی قانون مقرر کرنا سترہویں صدی کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی کہ تمام کائنات کو ایک مشین ثابت کیا جائے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ تحریک اپنے پورے عروج پر آگئی۔ یہ زمانہ سائنس داں انجینئروں کا تھا، جن کی دلی خواہش تھی کہ قدرت کے مشینی ماڈل بنائے جائیں۔ اسی زمانے میں جرمن ماہر طبیعات ہیلم ہولٹز (Helm Holtz [1821-1894]) نے کہا تھا کہ تمام قدرتی سائنس کا آخری مقصد اپنے آپ کو میکانکس میں منتقل کرلینا ہے۔ اگرچہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میں ابھی سائنسدانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی، مگر ان کا یقین تھا کہ کائنات کی تشریح میکانکی پیرائے میں ہوسکتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ صرف تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے، اور بالآخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہوجائے گا۔

ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا۔ اصولِ تعلیل کی ہر توسیع اور قدرت کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے انسانی اختیار اور ارادےپر یقین کرنا محال بنادیا۔ کیوں کہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنىٰ ہوسکتی ہے۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے۔ جب یہ دریافت ہوا کہ جاندار خلیہ (living cell) بھی بےجان مادہ کی طرح محض کیمیاوی جوہروں سے بنا ہے تو فوراً سوال پیداہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم ودماغ بنےہوئے ہیں، کیوں کر اصولِ تعلیل کے دائرے سے باہر ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ یہ گمان کیا گیا، بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعوی کردیا گیا کہ زندگی بھی ایک خالص مشین ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ نیوٹن (Isaac Newton [1642-1727]) ، باخ (Johann Sebastian Bach [1685-1750]) اور مائیکل اینجلو (Michelangelo [1475-1564]) کے دماغ کسی پرنٹنگ مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے ،اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل جواب دیں۔

مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصولِ تعلیل(principle of causation) کی اب قائل نہیں ہے۔نظریۂ اضافیت اصول تعلیل کو دھوکے (elusion) کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہوگیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوتِ کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جاسکتی ہے، جو نیوٹن کے افکار، باخ کے جذبات اور مائیکل اینجلو کے خیالات کا اعادہ کرسکے۔ مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جارہا تھا کہ شمع کی روشنی اور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں دہرا سکتی۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھاکہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کرسکتی ہے، جو اول روز سےعلت اور معلول کی مسلسل کڑی کے مطابق ابد تک کے لیے معین ہوچکا ہے۔ مگر بالآخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طورپر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے، جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریت کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر میکانکی حقیقت (non-mechanical reality)کی طرف لیے جارہا ہے۔

کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارے میں یہ دونوں نظریے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے، اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات ان کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی، بلکہ اور کمزور کردیتی ہے۔ اس طرح گویا سائنس خود ہی اس نظریے کی تردید کررہی ہے، اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے، جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا نیا سفر شروع کیا تھا۔

معبود کی تلاش

یہ خالق کی تلاش کا مسئلہ تھا۔اس کے بعد دوسری چیز جو انسان جاننا چاہتا ہے وہ یہ کہ ’’میرا معبود کون ہے‘‘۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میںصریح طورپر ایک خلا(vacuum) محسوس کرتا ہے۔ مگروہ نہیں جانتاکہ وہ اس خلا کو کیسے پر کرے۔ یہی خلا کا احساس ہے جس کو میں نے ’’معبود کی تلاش‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔اپنے وجوداور باہر کی دنیا پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو نہایت شدید جذبات ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں۔پہلا، شکر اور احسان مندی کا اور دوسرا، کمزوری اور عجز کا۔

ہم اپنی زندگی کے جس گوشے میں بھی نظر ڈالتے ہیں، ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی کے احسانات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر دینے والے کے لیے ہمارے اندر بے پناہ جذبۂ شکر امنڈتا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بہترین عقیدتوں کو اپنے محسن پر قربان کرسکیں۔ یہ تلاش ہمارے لیے محض ایک فلسفیانہ نوعیت کی چیز نہیں ہے ،بلکہ ہماری نفسیات سے اس کاگہرا تعلق ہے۔ یہ سوال محض ایک خارجی مسئلہ کو حل کرنے کا سوال نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہماری ایک اندرونی طلب ہے، اور ہمارا پورا وجود اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔

غور کیجیے، کیاکوئی سنجیدہ آدمی اس حقیقت کو نظر انداز کرسکتا ہے کہ وہ کائنات میں ایک مستقل واقعے کی حیثیت سے موجود ہے ۔حالاں کہ اس میں اس کی اپنی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے جسم میں پارہا ہے، جس سے بہتر جسم کا وہ تصور نہیں کرسکتا۔ حالاں کہ اس جسم کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ اس کو ایسی عجیب وغریب قسم کی ذہنی قوتیں حاصل ہیں، جو کسی بھی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئی ہیں۔ حالاں کہ ان قوتوں کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے، اور نہ وہ کچھ کرسکتا ہے۔ ہمارا وجود ذاتی نہیں ہے، بلکہ عطیہ ہے۔ یہ عطیہ کس نے دیا ہے، انسانی فطرت اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے اس عظیم محسن کا شکر ادا کرسکے۔

پھر اپنے جسم کے باہر دیکھیے۔ دنیا میں ہم اس حال میں پیداہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ نہ ہم کو کائنات کے اوپر کوئی اختیار حاصل ہے کہ ہم اس کو اپنی ضرورت کے مطابق بنا سکیں۔ ہماری ہزاروں ضرورتیں ہیں۔ مگر کسی ایک ضرورت کو بھی ہم خود سے پورا نہیں کرسکتے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا گیاہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اپنے تمام سازوسامان کے ساتھ اس بات کی منتظر ہے کہ انسان پیدا ہو، اور وہ اس کی خدمت میں لگ جائے۔

مثال کے طورپر آواز کو لیجیے، جس کے ذریعے سے ہم اپنا خیال دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے ذہن میں پیداہونے والے خیالات زبان کا ارتعاش (wave)بن کر دوسرے کے کان تک پہنچیں اور وہ ان کو قابلِ فہم آوازوں کی صورت میں سن سکے۔ اس کے لیے ہمارے اندر اور باہر بے شمار انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک وہ درمیانی واسطہ ہے ،جس کو ہم ہوا کہتے ہیں۔ ہم جو الفاظ بولتے ہیں، وہ بے آواز لہروں (waves)کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں، جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں، اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔میرے منھ سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہنچنے کے لیے درمیان میں ہوا کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو آپ میرے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے، مگر میری آواز نہ سنیں گے۔ مثال کے طورپر شیشے کےایک بند برتن کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائےتو اس کی آواز صاف سنائی دے گی۔ لیکن اگر اس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیاجائے ،اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھیں گے، مگر اس کی آواز بالکل سنائی نہ دے گی۔ کیوں کہ گھنٹی کے بجنے سے جو لہر پیدا ہوتی ہے، اس کو آپ کے کانوں تک پہنچانے کے لیے شیشے کے برتن میں ہوا موجود نہیں ہے۔

مگر یہ ذریعہ بھی ناکافی ہے۔ کیوں کہ ہوا کے ذریعے ہماری آواز پانچ سکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طےکرتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لیے کار آمد ہے، وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا۔ اگر آواز صرف ہوا کے ذریعہ پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لیے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے۔ یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے۔ وائرلیس(wireless)پیغامات میں اسی طریقے سے کام لیا جاتاہے۔ جب کوئی اسپیکر ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائکروفون کے قریب آواز نکالتا ہے تو مائکروفون آواز کو جذب کرکے اسے برقی رومیں تبدیل کردیتاہے، اور تار کے ذریعے اسی کو ٹرانس میٹر تک بھیج دیتاہے۔ٹرانسمیٹرآواز کے پہنچتے ہی فضا میں بہت ہی طاقت ور لہریں پیدا کردیتا ہے۔ اس طرح پانچ سکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سکنڈ میں دو لاکھ میل کی رفتار حاصل کرلیتی ہے، اور لمحے بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وائرلیس موجیں (wireless waves)ہیں، جن کو ہمارے ریڈیوسٹ کی آواز گیر مشین قبول کرکے بلند آواز میں ان کا اعادہ کردیتی ہے، اور پھر ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل موجودہ دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا سسٹم ہے۔ یہ ان بے شمار انتظامات میں سے ایک ہے ،جس کو میں نے بیان نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا صرف نام لیا ہے۔ اگر اس کا اور دوسری چیزوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس کے لیے کروروں صفحے درکار ہوں گے، اور پھر بھی ان کا بیان ختم نہ ہوگا۔

یہ عطیات جن سے ہر آن آدمی فائدہ اٹھارہا ہے، اور جن کے بغیر اس زمین پر انسانی زندگی اور تمدن کا کوئی تصور نہیںکیا جاسکتا۔ انسان جاننا چاہتا ہے کہ یہ سب کس نے اس کے لیے مہیا کیا ہے۔ ہر آن جب وہ کسی نعمت سے دوچار ہوتاہے تو اس کے دل میں بے پناہ جذبۂ شکر امنڈتا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو پائے اور اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دے۔ محسن کے احسانات کو ماننا، اس کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا، اور اس کی خدمت میں اپنے بہترین جذبات کو نذر کرنا یہ انسانی فطرت کا شریف ترین جذبہ ہے۔ ہر آدمی جو اپنی زندگی اورکائنات پر غور کرتاہے، اس کے اندر نہایت شدت سے یہ جذبہ ابھرتا ہے۔ پھر کیا اس جذبے کا کوئی جواب نہیں۔ کیا انسان اس کائنات کے اندر ایک یتیم بچہ ہے، جس کے اندر امنڈتے ہوئے جذبات محبت کی تسکین کے لیے کوئی ہستی موجود نہ ہو۔ کیا یہ ایک ایسی کائنات ہے، جہاں احسانات ہیں مگر محسن کا پتہ نہیں۔ جہاں جذبہ ہے، مگر جذبے کی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔

یہ معبود کی تلاش کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے حالات فطری طورپر تقاضا کرتےہیں کہ کائنات کے اندر اس کا کوئی سہارا ہو۔ اگر ہم آنکھ کھول کر دیکھیں تو ہم اس دنیا میں ایک انتہائی عاجز اور بے بس مخلوق ہیں۔ ذرا اس اسپیس کا تصور کیجیے جس میں ہماری یہ زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کی گولائی تقریباً 25 ہزار میل ہے۔ اور وہ ناچتے ہوئے لٹو کی مانند اپنے محور پر مسلسل اس طرح گھوم رہی ہے کہ ہر 24 گھنٹے میں ایک چکر پورا ہوجاتا ہے۔ گویا اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ سورج کے چاروں طرف اٹھارہ کرور ساٹھ لاکھ میل کے لمبے دائرہ میں نہایت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔

اتھاہ اسپیس میں اس قدر تیز دوڑتی ہوئی زمین پر ہمارا و جود قائم رکھنے کے لیے زمین کی رفتار کو ایک خاص اندازے کے مطابق رکھا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زمین کے اوپر انسان کی حالت ان کنکریوں کی مانند ہوجائے، جو کسی تیزی سے گھومتے ہوئے پہیے پر رکھ دیے گئے ہوں۔ اسی کے ساتھ مزید انتظام یہ ہے کہ زمین کی کشش ہم کو کھینچے ہوئے ہے، اور اوپر سے ہوا کا زبردست دباؤ پڑتا ہے۔ ہوا کے ذریعے جو دباؤ پڑرہا ہے ،وہ جسم کے ہر مربع انچ پر پندرہ پونڈ تک معلوم کیاگیا ہے، یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا دباؤ۔ ان حیرت انگیز انتظامات نے ہم کو خلا میں مسلسل دوڑتی ہوئی زمین کے چاروں طرف قائم کر رکھا ہے۔

پھر ذرا سورج پر غور کیجیے۔ سورج کی جسامت آٹھ لاکھ 65 ہزار میل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زمین سے دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج آگ کا دہکتاہوا سمندر ہے، جس کے قریب کوئی بھی چیز ٹھوس حالت میں نہیں رہ سکتی۔ زمین اور سورج کے درمیان اس وقت تقریباً ساڑھے نو کرور میل کا فاصلہ ہے، اگر اس کے بجائے وہ اس کے نصف فاصلہ پر ہو تو سورج کی گرمی سے چیزیں جلنے لگیں، اور اگر وہ چاند کی جگہ یعنی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلے پر آجائے تو زمین پگھل کر بخارات میں تبدیل ہوجائے۔ یہی سورج ہے، جس سے زمین پر زندگی کے تمام مظاہر قائم ہیں۔ اس مقصد کے لیے اس کو ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے۔ اگر وہ دور چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے، اور قریب آجائے تو ہم سب لوگ جل بھن کر خاک ہوجائیں۔

پھر ذرا اس کائنات کی وسعت کو دیکھیے، اور اس قوتِ کشش پر غور کیجیے، جو اس عظیم کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کائنات ایک بے انتہا وسیع کارخانہ ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ ماہرینِ فلکیات کے نزدیک یہ ہے کہ روشنی جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ ہے۔ اس کو کائنات کے گرد ایک چکر طے کرنے میں کئی ارب برس درکار ہوں گے۔ یہ نظام شمسی جس کے اندر ہماری زمین ہے، بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے، مگر پوری کائنات کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کائنات میں اس سے بہت بڑے بڑے بے شمار ستارے لامحدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں بہت سے ستارےاتنے بڑے ہیں کہ ہمارا پورا نظام شمسی اس کے اوپرایک چھوٹے بال کی طرح رکھا جاسکتا ہے۔ جو قوتِ کشش ان بے شمار دنیاؤں کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کی عظمت کا تصور اس سے کیجیے کہ سورج جس بے پناہ طاقت سے زمین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، اور اس کی وسیع ترین فضا میں گر کر برباد ہو جانے سے روکتا ہے، یہ غیر مرئی طاقت اس قدر قوی ہے کہ اگر اس مقصد کے لیے کسی مادی شے سے زمین کو باندھنا پڑتا تو جس طرح گھاس کی پتیاں زمین کو ڈھانکے ہوئے ہیں،اسی طرح دھاتی تاروں سے کرۂ ارض ڈھک جاتا۔

ہماری زندگی بالکلیہ ایسی طاقتوں کے رحم وکرم پر ہے، جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ انسان کی زندگی کے لیے دنیا میں جو انتظامات ہیں، اور جن کی موجودگی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، وہ انتہائی اعلی پیمانے پر ہورہے ہیں۔ ان کو وجود میں لانے کے لیے اتنی غیر معمولی قوت تصرف درکار ہے کہ انسان خود سے انھیں وجود میں لانے کا تصور نہیں کرسکتا۔ موجودات کے لیے جو طریقِ عمل مقرر کیا گیا ہے، اس کا مقرر کرنا تو درکنار اس پر کنٹرول کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔وہ دیکھتا ہے کہ اگر کائنات کی غیر معمولی قوتیں میرے ساتھ ہم آہنگی نہ کریں تو میں زمین پر ٹھہر بھی نہیں سکتا، اس کے اوپر ایک متمدن زندگی کی تعمیر تو بہت دور کی بات ہے۔

ایسی ایک کائنات کے اندر جب انسان اپنے حقیر وجود کو دیکھتاہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرنے لگتاہے، جتنا کہ سمندر کی موجوں کے درمیان ایک چیونٹی اپنے آپ کو بچانے کی جدوجہد کررہی ہو۔ وہ بے اختیار چاہتا ہے کہ کوئی ہو،جو اس اتھاہ کائنات میں اس کا سہارا بن سکے۔ وہ ایک ایسی ہستی کی پناہ ڈھونڈھنا چاہتاہے، جو کائنات کی قوتوں سے بالا تر ہو، اور جس کی پناہ میں آجانے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ ومامون تصور کرسکے۔

اس جذبے کو معبود کی تلاش کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔ معبود کی تلاش در اصل ایک فطری جذبہ ہے جس کا مطلب ایک ایسی ہستی کی تلاش ہے،جو آدمی کی محبت اور اس کے اعتماد کا مرکز بن سکے۔ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے،اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش میں ہے، جو ساری کائنات کو کنٹرول کرتی ہو۔ اس طلب کا جواب کسی جغرافیائی خطہ میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں ایک سماج کی تعمیر میں مدد دے سکتی ہیں۔ مگر وہ انسان کی تلاشِ معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں۔ اس کے لیے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لیے ایک ایسا وجود چاہیے، جس نے کائنات (universe) کو بنایا ہو۔ اپنے سہارے کے لیے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے، جو کائنات کے اوپر با اختیارحکمراں ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا، اس کا خلا (vacuum) بدستور باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پُر (fill)کرنے والی نہیں بن سکتی۔

انجام کی تلاش

حقیقت کی تلاش کا تیسرا جزء اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے، وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ محدود زندگی کے مقابلے میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے، مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات (feelings) ہیں جو دنیامیں بری طرح پامال کیے جارہے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتاہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کرسکے گا۔ یہ سوالات کس طرح انسان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتاہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔

ماہرینِ حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے، یعنی دو لاکھ ارب سال (200 ٹریلین سال)۔ اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی، پھر اس میں حرکت ہوئی، اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہوگیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جس کو ہم ستارے، سیارے ، اور نیبولا(nebula) کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے مہیب گولے کی شکل میں نامعلوم مدت تک فضا میں گردش کرتے رہے۔ تقریباً دو ارب سال پہلے ایساہوا کہ کائنات کاکوئی بڑا ستارہ فضا میں سفر کرتا ہوا آفتاب کے قریب آنکلا، جو اس وقت اب سے بہت بڑا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سے سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں، اسی طرح اس دوسرے ستارے کی کشش سے ہمارے آفتاب پر ایک عظیم طوفان برپا ہوا، زبردست لہریں پیدا ہوئیں، جو رفتہ رفتہ نہایت بلند ہوئیں، اور قبل اس کے کہ وہ ستارہ آفتاب سے دور ہٹنا شروع ہو، اس کی قوتِ کشش اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ آفتاب کی ان زبردست گیسی لہروں کے کچھ حصے ٹوٹ کر ایک جھٹکے کے ساتھ دور فضا میں نکل گئے۔ یہی بعد کو ٹھنڈے ہو کر نظام شمسی میں سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام (objects) بنے۔ اس وقت یہ سب ٹکڑے سورج کے گرد گھوم رہےہیں، اور ان ہی میں سے ایک ہماری زمین ہے۔

زمین ابتدا میں ایک شعلے کی حالت میں سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔ مگر پھر فضا میں مسلسل حرارت خارج کرنے کی وجہ سے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، یہ عمل کروروں برس ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ بالکل سرد ہوگئی۔ مگر سورج کی گرمی اب بھی اس پر پڑ رہی تھی، جس کی وجہ سے بخارات اٹھنا شروع ہوئے، اور گھٹاؤں کی شکل میں اس کی فضا کے اوپر چھاگئے۔ پھر یہ بادل برسنا شروع ہوئے اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ زمین کا اوپری حصہ اگرچہ ٹھنڈا ہوگیا تھا، مگر اس کا اندرونی حصہ اب بھی گرم تھا، جس کا نتیجہ یہ ہواکہ زمین سکڑنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کے اندر کی گرم گیسوں پر دباؤ پڑا، اور وہ باہر نکلنے کے لیے بے قرار ہوگئیں۔ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد زمین پھٹنے لگی۔ جگہ جگہ بڑے بڑے شگاف پڑ گئے، اس طرح بحری طوفانوں، خوفناک زلزلوں اور آتش فشاں دھماکوں میں ہزاروں سال گزر گئے۔ ان ہی زلزلوں سے زمین کا کچھ حصہ اوپر ابھر آیا اور کچھ حصہ دب گیا۔ دبے ہوئے حصوں میں پانی بھر گیا اور وہ سمندر کہلائے، اور ابھرے ہوئے حصوں نے براعظم کی صورت اختیار کی۔ بعض اوقات یہ ابھار اس طرح واقع ہوا کہ بڑی بڑی اونچی باڑھیں سی بن گئیں، یہ دنیا کے پہلے پہاڑ تھے۔ماہرینِ ارضیات کا خیال ہے کہ ایک ارب 23 کرورسال ہوئے، جب پہلی بار زمین پر زندگی پیدا ہوئی۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے، جو پانی کے کنارے وجود میں آئے۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جانور پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔ کئی ہزار سال تک زمین پر صرف جانور رہے۔ اس کے بعد سمندری پودے نمودار ہوئے اور خشکی پر بھی گھاس اُگنا شروع ہوئی۔ اس طرح لمبی مدت تک بے شمار واقعات ظہور میں آتے رہے، یہاں تک کہ انسانی زندگی کے لیے حالات سازگار ہوئے اور زمین پر انسان پیداہوا۔

اس نظریے کے مطابق، انسان کی ابتدا پچھلے تین لاکھ سال سے ہوئی ہے۔ یہ مدت بہت ہی کم ہے۔ وقت کے جو فاصلے کائنات نے طے کیے ہیں، ان کے مقابلے میں انسانی تاریخ پلک جھپکنے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔پھر اگر انسانیت کی اکائی کو لیجیے تو معلوم ہوگا کہ ایک انسان کی عمر کا اوسط سو سال سے بھی کم ہے۔ ایک طرف اس واقعے کو سامنے رکھیے، اور پھر اس حقیقت پر غور کیجیے کہ کائنات میںانسان سے بہتر کوئی وجود معلوم نہیں کیا جا سکا ہے۔ زمین وآسمان کی اربوں اور کھربوں سال کی گردش کے بعد جو بہترین مخلوق اس کائنات کے اندر وجود میں آئی ہے وہ انسان ہے۔مگر یہ حیرت انگیز انسان جو ساری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے، جو تمام موجودات میں سب سے افضل ہے ،اس کی زندگی چند سال سے زیادہ نہیں۔ ہمارا وجود جن مادی اجزاء سے مرکب ہے، ان کی عمر تو اربوں اور کھربوں سال ہو، اور وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جائیں۔ مگر ان مادی اجزاء کی یکجائی سے جو اعلی ترین وجود بنتا ہے، وہ صرف سو برس زندہ رہے۔ جو کائنات کا حاصل (finest product) ہے ،وہ کائنات سے بھی کم عمر رکھتا ہے۔ تاریخ کے طویل ترین دور میں بے شمار واقعات کیا صرف اس لیے جمع ہوئے تھے کہ ایک انسان کو چند دنوں کے لیے پیدا کرکے ختم کردیاجائے۔

زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں ،اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو اس پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے، جو طول وعرض اور بلندی میںایک میل ہو۔ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت یہی ہے۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جاکر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں جاگرے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی، انسان کی نسل اپنے کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی، دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہوجائےگا کہ یہاں کبھی انسان کی قسم کی کوئی نسل آباد تھی۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا، کرۂ ارض اپنے محور پر بدستور چکر کرتا رہے گا، کائنات کی لامحدود وسعتوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیائیں اتنے بڑے حادثے کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی۔ کئی صدیوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ انسانی نسل کی قبر ہے، جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔

کیا انسان کی قیمت بس اسی قدر ہے، مادہ کو کوٹیے، پیٹیے، جلایئے، کچھ بھی کیجیے، وہ ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہر حال میں اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ مگر انسان جو مادہ سے برتر مخلوق ہے، کیا اس کے لیے بقا نہیں۔ یہ زندگی جو ساری کائنات کا خلاصہ ہے، کیا وہ اتنی بے حقیقت ہے کہ اتنی آسانی سے اسے ختم کیا جاسکتاہے۔ کیا انسانی زندگی کا منتہا (culmination) بس یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے ننھے سے وطن میں چند دنوں کے لیے پیدا ہو، اور پھر فنا ہو کر رہ جائے۔ تمام انسانی علم اور ہماری کامرانیوں کے سارے واقعات ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں، اور کائنات اسی طرح باقی رہ جائے گویا انسانی نسل کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔

اس سلسلے میں دوسری چیز جو صریح طورپر محسوس ہوتی ہے، وہ یہ کہ اگر زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے تو یہ ایک ایسی زندگی ہے، جس میں ہماری امنگوں کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ ہر انسان لامحدود مدت تک زندہ رہنا چاہتا ہے، کسی کو بھی موت پسند نہیں، مگر اس دنیامیں ہر پیدا ہونے والا جانتا ہے کہ وہ ایسی زندگی سے محروم ہے۔ آدمی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ وہ دکھ درد اور ہر قسم کی تکلیفوں سے محفوظ رہ کر زندگی گزارے۔ مگر حقیقی معنوں میں کیا کوئی شخص بھی ایسی زندگی حاصل کرسکتاہے۔ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنے حوصلوں کی تکمیل کا آخری حد تک موقع ملے، وہ اپنی ساری تمناؤں کو عملی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اس محدود دنیا میں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ ہم جو کچھ چاہتےہیں، یہ کائنات اس کے لیے بالکل محدود معلوم ہوتی ہے، وہ ہر چند قدم کے بعد ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہے، کائنات صرف ایک حد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے، اس کے بعد ہم کو مایوس اور ناکام لوٹا دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا انسان غلطی سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک کر آگیا ہے، جو دراصل اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی، اور جو بظاہر زندگی اور اس کے متعلقات سے بالکل بے پروا ہے۔ کیا ہمارے تمام جذبات وخیالات اور ہماری تمام خواہشیں غیر حقیقی ہیں، جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں، اور ہمارے ذہنوں میں بالکل الل ٹپ طریقے سے پیدا ہوگئے ہیں۔ وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہورہی ہے، اور جن کو اپنے سینے میں لیے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہوجاتی ہے کہ وہ انھیں حاصل نہ کرسکی، کیا ان احساسات کی کوئی منزل نہیں۔ کیا وہ انسانوں کے ذہن میں بس یونہی پیدا ہورہے ہیں، جن کے لیے نہ تو ماضی میں کوئی بنیاد موجود ہے، اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی مقام ہے۔

ساری کائنات میں صرف انسان ایسا وجود ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اور اپنے آئندہ حالات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض جانور مثلاً چیونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں، یا بیا (Baya) گھونسلے بناتا ہے۔ مگران کا یہ عمل غیر شعوری طورپر محض عادتاً ہوتاہے۔ان کی عقل اس کا فیصلہ نہیں کرتی کہ انھیں خوراک جمع کرکے رکھنا چاہیے تاکہ کل ان کے کام آسکےیا ایسا گھر بنانا چاہیے ،جو موسموں کے ردو بدل میں تکلیف سے بچائے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو تمام دوسری چیزوں سے زیادہ موقع ملنا چاہیے، جانوروں کے لیے زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی کَل نہیں رکھتے، کیا اسی طرح انسانی زندگی کا بھی کوئی کل نہیں ہے۔ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے۔ کَل کا تصور جوانسان میں پایا جاتاہے، اس کا صریح تقاضا ہے کہ انسان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہو جتنی آج اسے حاصل ہے۔ انسان ’’کل‘‘ چاہتا ہے مگر اس کو صرف ’’آج‘‘ دیا گیاہے۔

اسی طرح جب ہم سماجی زندگی کا مطالعہ کرتےہیں تو ہم کو ایک خلا(vacuum)کا زبردست احساس ہوتا ہے۔ ایک طرف مادی دنیا ہے، جو اپنی جگہ پر بالکل مکمل نظر آتی ہے۔ وہ ایک متعین قانون میں جکڑی ہوئی ہے، اوراس کی ہر چیز اپنے مقرر راستے پر چلی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مادی دنیا ویسی ہی ہے، جیسی کہ اسےہونا چاہیے مگر انسانی دنیا کا حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے تھا۔

ہم صریحی طورپر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتاہے،اور دونوں اس حال میں مرجاتے ہیں کہ ایک ظالم ہوتا ہے، اور دوسرا مظلوم۔ کیا ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ دیے بغیر دونوں کی زندگی کو مکمل کہا جاسکتاہے۔ایک شخص سچ بولتا ہے اور حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرتاہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی مشکل کی زندگی بن جاتی ہے، دوسرا شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے، اور لوگوں کو اکسپلائٹ کرتاہے۔اس کے نتیجے میں اس کی زندگی نہایت عیش وعشرت کی زندگی بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیااسی حال میں ختم ہوجائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہہ کی جاسکتی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے، اور اس کے وسائل وذرائع پر قبضہ کرلیتی ہے۔ اس کے باوجود دنیامیں وہی قوم نیک نام رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کے پاس نشر واشاعت کے ذرائع ہیں،اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا نا واقف رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کی آہ کےلیے دنیا کے کانوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں ہوگی۔

دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلے پر اختلاف ہوتا ہے، اور زبردست کش مکش تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو برسرحق کہتےہیں،اور ایک دوسرے کو انتہائی بُرا ثابت کرتے ہیں۔ مگر دنیا میں ان کے مقدمے کا فیصلہ نہیںہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے، جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرسکے۔موجودہ دور کو ایٹمی دور کہاجاتاہے۔ لیکن اگر اس کو خود سری کا دور کہاجائے تو زیادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے، خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔ ہر شخص غلط کار ہے،مگر ہر شخص پوری قوت کے ساتھ آوازلگا کر اپنے کو صحیح ثابت کررہا ہے۔ اخبارات میں لیڈروں اور حکمرانوں کے بیانات دیکھیے۔ ہر ایک انتہائی جسارت کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کاریوں کو عین حق ثابت کرتاہوا نظر آئے گا۔ کیا اس فریب کا پردہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ہے۔

یہ صورتِ حال واضح طورپر ظاہر کررہی ہے کہ یہ دنیا نامکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک ایسی دنیا چاہیے، جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کوئی خلا ہے ،اس کو پُر کرنے کے اسباب موجود ہیں۔ مادی دنیا میں کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی ۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ایک زبردست خلا ہے۔ جس قدرت نے مادّی دنیا کو مکمل حالت میں ترقی دی ہے، کیا اس کے پاس انسانی دنیا کا خلا پر کرنے کا کوئی سامان نہیں ۔ ہمارا احساس بعض افعال کو اچھا اور بعض کو بُرا سمجھتاہے۔ہم کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ اس کو ہونا چاہیے، اور کچھ باتوں کے متعلق چاہتےہیں کہ اس کو نہیں ہونا چاہیے۔ مگر ہماری فطری خواہش کے علی الرّغم وہ سب کچھ یہاں ہورہا ہے، جس کو انسانی فطرت برا سمجھتی ہے۔ انسان کے اندر اس طرح کے احساس کی موجودگی یہ معنی رکھتی ہے کہ کائنات کی تعمیر حق پر ہوئی ہے۔ یہاں باطل کے بجائے حق کو غالب آنا چاہیے۔ پھر کیا حق ظاہر نہیں ہوگا۔ جو چیز مادی دنیا میں پوری ہورہی ہے، کیا وہ انسانی دنیا میں پوری نہیں ہوگی۔

یہی وہ سوالات ہیں، جن کے مجموعے کو میں نے اوپرانسانیت کے ’’ انجام کی تلاش‘‘ کہا ہے۔ ایک شخص جب ان حالات کو دیکھتاہے تو وہ سخت بے چینی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے اندر نہایت شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ زندگی اگر یہی ہے، جو اس وقت نظر آرہی ہے تو یہ کس قدر لغو زندگی ہے۔ وہ ایک طرف دیکھتا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے کائنات میں اس قدر اہتمام کیا گیا ہے۔ گویا سب کچھ صرف اسی کے لیےہے، دوسری طرف انسان کی زندگی اس قدر مختصر اور اتنی ناکام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس سوال کے سلسلے میں آج لوگوں کا رجحان عام طور پر یہ ہے کہ اس قسم کے جھنجھٹ میں پڑنا فضول ہے۔ یہ سب فلسفیانہ سوالات ہیں، اور حقیقت پسندی یہ ہے کہ زندگی کا جو لمحہ تمھیں حاصل ہے اس کو پرمسرت بنانے کی کوشش کرو۔ آئندہ کیا ہوگا یا جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صحیح ہے یا غلط، اس کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
اس جواب کے بارے میں کم از کم بات جو کہی جاسکتی ہے، وہ یہ کہ جو لوگ اس انداز میں سوچتے ہیں، انھوں نے ابھی انسانیت کے مقام کو نہیں پہچانا، وہ مجاز (
illusion)کو حقیقت سمجھ لینا چاہتے ہیں۔ واقعات انھیں ابدی زندگی کا راز معلوم کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر وہ چند روزہ زندگی پر قانع ہوگئے ہیں۔ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے کہ اپنی امنگوں اور حوصلوں کی تکمیل کے لیے ایک وسیع تر دنیا کی تلاش کرے، مگر نادان انسان روشنی کے بجائے اس کے سایے (shadow) کو کافی سمجھ رہے ہیں۔ کائنات پکار رہی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے نامکمل ہے، دوسری مکمل دنیا کی کھوج لگاؤ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اسی نامکمل دنیا میں اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کریں گے، ہم کو مکمل دنیا کی ضرورت نہیں۔ حالات کا صریح اشارہ ہے کہ زندگی کا ایک انجام آنا چاہیے۔ مگر یہ لوگ صرف آغاز کو لے کر بیٹھ گئے ہیں، اور انجام کی طرف سے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ حالاں کہ یہ اسی قسم کی ایک حماقت ہے، جو شتر مرغ کے متعلق مشہور ہے۔ اگر فی الواقع زندگی کا کوئی انجام ہے تو وہ آکر رہے گا، اور کسی کا اس سے غافل ہونا، اس کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتا۔ البتہ ایسے لوگوں کے حق میں وہ ناکامی کا فیصلہ ضرور کرسکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو کُل زندگی سمجھنا، اور صرف آج کو پر مسرت بنانے کی کوشش کو اپنا مقصد بنا لینا بڑی کم ہمتی اور بے عقلی کی بات ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی اور کائنات پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس نقطۂ نظر کی لغویت فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ ایسا فیصلہ وہی کرسکتا ہے، جو حقیقتوں کی طرف سے آنکھ بند کرلے اور بالکل بے سمجھی بوجھی زندگی گزارنا شروع کردے۔
یہ ہیں وہ چند سوالات جو کائنات کو دیکھتے ہی نہایت شدت کے ساتھ ہمارے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ اس کائنات کا ایک خالق ہونا چاہیے، مگر اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ اس کا ایک چلانے والا اوراس کو سنبھالنے والا ہونا چاہیے، مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ ہم کسی کے احسانات سے ڈھکے ہوئے ہیں، اور مجسم شکر وسپاس بن کر اس ہستی کو ڈھونڈھنا چاہتے ہیں،جس کے آگے اپنی عقیدت کے جذبات کو نثار کرسکیں۔ مگر ایسا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم اس کائنات کےاندر انتہائی عجز اور بے بسی کے عالم میں ہیں۔ ہم کو ایک ایسی پناہ کی تلاش ہے، جہاں پہنچ کر ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کرسکیں۔ مگر ایسی کوئی پناہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود نہیں ہے۔ پھر جب ہم اپنی زندگی اور اپنی عمر کو دیکھتے ہیں تو کائنات کا یہ تضاد ہم کو ناقابل فہم معلوم ہوتاہے کہ کائنات کی عمر تو کھربوں سال ہو، اور انسان جو کائنات کا خلاصہ (
finest product)ہے، اس کی عمر صرف چند سال۔ فطرت ہم کو بےشمار امنگوں اور حوصلوں سے معمور کرے، مگر دنیا کے اندر اس کی تسکین کا سامان فراہم نہ کرے۔پھر سب سے زیادہ سنگین تضاد وہ ہے، جو مادی دنیا اور انسانی دنیامیں پایا جاتاہے۔ مادی دنیا انتہائی طورپر مکمل ہے۔ اس میں کہیں خلا نظر نہیں آتا، مگر انسانی زندگی میں زبردست خلا ہے۔ انسان کی حالت ساری مخلوق سے بدتر نظر آتی ہے۔ ہماری بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر پٹرول کاکوئی نیا چشمہ دریافت ہو یا بھیڑ بکریوں کی نسل بڑھے تو اس سے انسان خوش ہوتا ہے۔ مگر ایک انسان دوسرے انسان کوبرداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انسان کی نارسائی

یہ سوالات ہم کوچاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ وہ اندر سے بھی ابل رہے ہیں ،اور باہر سے بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا جواب کیا ہے۔ یہ زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کا سوال ہے، مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ ہمیں زندگی تو مل گئی، مگر اس کی حقیقت ہمیں نہیں بتائی گئی ہے۔

اس حقیقت کی دریافت کے لیے جب ہم اپنی عقل اوراپنے تجربات کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا صحیح اور قطعی جواب معلوم کرنا ہماری عقل اور ہمارے تجربے کے دائرے سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں اب تک ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں وہ اٹکل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جس طرح ہماری نظر کا دائرہ محدود ہے، اور ہم ایک مخصوص جسامت سے چھوٹی چیز کا مشاہدہ نہیں کرسکتے، اور ایک مخصوص فاصلے سے آگے کے اجسام کو نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح کائنات کے متعلق ہمارا علم بھی ایک تنگ دائرے میں محدود ہے، جس کے آگے یا پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہمارا علم نامکمل ہے، ہمارے حواس خمسہ(five senses) ناقص ہیں۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ میدہ اور کالک کو اگر ملایا جائے تو بھورے خاکستری رنگ کا ایک سفوف سا بن جاتا ہے، لیکن اس سفوف کا باریک کیڑا جو سفوف کے ذروں ہی کے برابر ہوتاہے، اور صرف خوردبین کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے، وہ اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید رنگ کی چٹان سمجھتا ہے، اس کے مشاہدے کے پیمانے میں خاکستری سفوف کوئی چیز نہیں۔

نوعِ انسانی کی زندگی اُس مدت کے مقابلے میں جب کہ یہ کرۂ ارض وجود میں آیا، اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی، اور خود کرۂ ارض کائنات کے اتھاہ خلامیں ایک ذرے کے برابر بھی نہیں۔ ایسی صورت میں انسان کائنات کی حقیقت کے بارے میں جو خیال آرائی کرتاہے، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ ہماری انتہائی لاعلمی فوراً ظاہر ہوجاتی ہے، جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ سورج، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.603 بلین سال سے موجود ہے۔ اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.543 بلین سال ہے، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کرور سال گزر چکے ہیں۔ مگر اس کے مقابلے میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں، اس طویل زمانے کا ایک بہت حقیر (tiny)جزء ہے، جو کہ دراصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لیے درکار ہے۔ کائنات کے بے حدطویل ماضی اور نا معلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے، جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کوعاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لامحدود ہے، اور اس کو سمجھنے کے لیے ہماری عقل اور ہمارے تجربے بالکل ناکافی ہیں۔ ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعے کبھی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اب تک کی کوششوں کی ناکامی اس کو ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔

اس طرح ہمارا علم اور ہمارا مطالعہ ہم کو ایک ایسے مقام پر لاکر چھوڑ دیتےہیں، جہاں ہمارے سامنے بہت سے سوالات ہیں۔ ایسے سوالات جو لازمی طور پر اپنا جواب چاہتےہیں۔ جن کے بغیر انسانی زندگی بالکل لغو اور بے کار نظر آتی ہے۔ مگر جب ہم ان پر سوچنے بیٹھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہن سے ان کا جواب معلوم نہیں کرسکتے۔ ہم کو وہ آنکھ ہی نہیں ملی جس سے حقیقت کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ اور وہ ذہن ہمیں حاصل نہیں ہے، جو براہِ راست حقیقت کا ادراک کرسکے۔

[یہ مضمون’’ حقیقت کی تلاش ‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے، افادیت کے پیش نظر جزئی ترمیم کے بعد دوبارہ شائع کیا جارہاہے]

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion