خواتین میں دعوت

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کام کے لیے کسی شخصیت کو اپنا ماڈل بنالیتے ہیں۔ مثلاً کوئی ابن تیمیہ کو اپنا ماڈل بنالیتا ہے اور کوئی غزالی کو اپنا ماڈل سمجھ لیتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھ لیتے ہیں۔پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا گول ان کے معیار کے مطابق اچیویبل (achievable) نہیں ہے تو وہ ناامیدی کا شکار ہوجاتے ہیں، اورشعوری یا غیرشعوری طور پر وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کرسکتے۔

الرسالہ مشن نے اس معاملے میں ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔مز فہمیدہ خان (پیدائش 1964)ایک سیدھی سادی گھریلو خاتون ہیں۔ وہ فیض آباد میں رہتی ہیں،اور سی پی ایس کی ممبر ہیں۔وہ میری کتابوں کا مطالعہ کرتی ہیں، اورمیری تقریریں سنتی ہیں۔ کچھ دنوں کے لیے ان کا دلی آنا ہوا۔اس دوران انھوں نے میری سنڈے کلاسز اٹینڈ کیں۔ یہ ان کی زندگی کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اس کلاس کے بعد ان کو یہ احساس ہوا کہ وہ دعوت کا کام پوری طرح نہیں کر پارہی ہیں۔ ان کے اندر زبردست جذبہ پیدا ہوا کہ انھیں دعوت کے لیے اور کوشش کرنی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اللہ سے بہت زیادہ دعا کی۔اس کے بعدان کے ذہن ایک نیا آئیڈیا آیا۔انھوں نے سی پی ایس کی خواتین ممبرس سے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جس میں انھوں  نے الرسالہ مشن کی آئڈیالوجی کے مطابق آپس میں ڈسکشن شروع کیا۔

اس خواتین واٹس ایپ گروپ میں نہ صرف انڈیا بلکہ انڈیا کے باہر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ روزانہ آپس میں دین اور آدابِ زندگی کے تعلق سے پہلے ایک سوال رکھتی ہیں، جو ان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آیا ہو، یا جس پر ان کو clarity نہ ہو۔ پھر اس پر وہ آپس میں ڈسکشن کرتی ہیں۔ یہ ڈسکشن قرآن و حدیث اور الرسالہ کے مضامین پر بیس کرتا ہے، یا ذاتی تجربات پر ۔ اس سے ان کے بہت سے کنفیوزن دور ہوتے ہیں۔ اور دین کے بہت سے نئے نئے گوشے کھلتے ہیں، اور برابر ان کا انٹلکچول ڈیولپمنٹ ہوتا رہتا ہے۔مثلاً ڈاکٹر سفینہ تبسم (سہارن پور)نے یہ تاثر دیا:’’آج میں ڈسکشن میں زیادہ حصہ نہیں لے پائی، مگر سارے میسجز پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ آج کا میرا ٹیک اوے یہ ہے کہ میں اپنی اور اپنی فیملی میں ایجوکیشن اور انٹلکچول ڈیولپمنٹ پر فوکس کروں گی، اور اس کام کو اس طرح آگے بڑھاؤں گی کہ وہ اگلی نسل تک چلتا رہے۔‘‘

مز عارفہ نصیر ( دہلی)لکھتی ہیں:’’میں ہر دن بہت سی نئی باتیں سیکھتی ہوں، اور پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ میں جو کچھ سیکھتی ہوں اس کو پریکٹس میں بھی لا رہی ہوں۔ بعض دفعہ تو مولانا اور آپ سب لوگوں کے لیے اللہ سے رو رو کر دعائیں کرتی ہوں۔‘‘ مز راضیہ خان لکھتی ہیں:’’مولانا صاحب جیسے اسکالر سے اللہ نے لرننگ کا موقع دیا۔ ہر دن اس گروپ کے ذریعے مولانا صاحب کو سنتی یا پڑھتی ہوں۔پھر اس پر ڈسکشن ہوتا ہے، جس سے نئے نئے پوائنٹ سامنے آتے ہیں۔ اس سے ذہن کھلتا ہے، سنبھلنے اور اصلاح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میں نے جب سے یہ گروپ جوائن کیا ہے، میری ٹینشن کم ہوئی ہے۔‘‘ اس ’’سی پی ایس لیڈیزگروپ‘‘ میں پوری دنیا کی سو سے زیادہ خواتین شامل ہیں، جواس کے ذریعےاپنی معرفت کا دائرہ بڑھاتی ہیں، اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ دعوت کے کام کو کیسے آگے بڑھایاجائے۔پھر اس کو اپنے تعلقات والی خواتین کے ساتھ شیئر (share)کرتی ہیں۔

یہ واقعہ جب میں نے سنا تو مجھے ایک حدیثِ رسول یاد آئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پوری زمین کو میرے لیے، اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنادیا گیا ہے(لِی وَلِأُمَّتِی مَسْجِدًا وَطَہُورًا)مسند احمد، حدیث نمبر 22137۔ توسیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب ایسا زمانہ آنے والا ہے، جب کہ میری امت کے لوگ جس طرح مسجد میں آزادی کے ساتھ عبادت کا کام کرتے ہیں، اسی طرح آزادی کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ دعوت اور عباد ت کا کام کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ کی ورچول دنیا (virtual world)میں بھی، یعنی فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ ۔

سی پی ایس خواتین کا یہ کام بلاشبہ ایک قابلِ تعریف کام ہے۔ اس طرح خواتین موجودہ دور میں دینی مشن کو آگے بڑھاسکتی ہیں۔ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں یہ سی پی ایس لیڈیز گروپ گلوبل لیول پر دعوت کا بہت بڑا کام کرے، اللہ ان کی کوششوں کو قبول کرے، اور ان کی حفاظت کرے، آمین۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion