سورۂ نور کی روشنی میں

غزوہ بنی المصطلق6 ھ میں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ اس غزوےسے فارغ ہو کر مدینہ وا پس آرہے تھے۔ آپ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ ان کی سواری کا اونٹ علاحدہ تھا۔ اس مقام پر قافلہ رکا۔ رات کو کوچ سے پہلے حضرت عائشہ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف چلی گئیں۔ وہاں ان کا ہار ٹوٹ کر گر گیا جس کو تلاش کرنے میں دیرلگی، ادھر کوچ کا وقت ہوگیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ اپنے ہودج میں ہیں۔ چنانچہ سب اونٹوں کے ساتھ ان کا اونٹ بھی ہانک دیا گیا۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ انھوں نے رائے قائم کی کہ مجھ کو یہیں ٹھہر نا چاہیے۔ آگے جا کر جب میں نہ ملوں گی تو لوگ تلاش کرتے ہوئے یہیں آئیں گے۔ اس کے بعد ان کو نیند آئی اور وہ وہیں سو گئیں۔ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ قافلے کی خبر گیری کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ صبح کو اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ قریب آکر پہچانا تو گھبراہٹ میں ان کی زبان سے نکلا:إِنَّا لِلٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ یہ سن کر حضرت عائشہ کی آنکھ کھل گئی۔ انھوں نے چادر سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔ حضرت صفوان نے خاموشی سے اپنا اونٹ ان کے قریب لاکر بٹھادیا۔ حضرت عائشہ بھی خاموشی کے ساتھ اس پر سوار ہوگئیں۔ اب حضرت صفوان اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے چلنے لگے۔ یہاں تک کہ دو پہر کے وقت قافلے میں شامل ہوگئے۔ مدینہ میں یہ خبر پھیلی توکچھ بد باطن لوگوں کو موقع مل گیا کہ وہ زوجۂ رسول ﷺ پر جھوٹی تہمت لگائیں اور اس طرح رسول اللہ ﷺ کی دینی تحریک کو بد نام کریں۔ حتیٰ کہ بعض سیدھے سادے مسلمان بھی اس الزام میں شریک ہو گئے۔ مثلاً حضرت حسان بن ثابت، حضرت مسطح بن اثاثہ او ر حضرت حمنہ بنت جحش۔ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک یہ خبر گرم رہی۔ یہاں تک کہ قرآن میں اس کی تردید نازل ہوئی اور اس کے بارے میں واضح احکام دیے گئے ۔ یہاں چند آیتوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:

’’جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگا ئیں، پھر اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسّی (80) کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ یہی لوگ اصلی نا فرمان ہیں۔ مگر جو لوگ اس کے بعد تو بہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (24:4-5)۔ جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں وہ تمہیں میں سے ایک جماعت ہیں۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو کہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے جو گناہ کمایا وہ اس کے لیے ہے اور جس نے اس کا بڑا بوجھ اٹھا یا اس کے لیے بڑا عذب ہے۔ ایساکیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ ایک کھلا ہوا بہتان ہے۔ وہ اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ کیوں نہ لائے۔ پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کر رہے تھے اور اپنے منھ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کی بابت تم کو کوئی علم نہ تھا۔ اور تم اس کو معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالاں کہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس کو سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں۔ اللہ پاک ہے، یہ ایک بہت بڑا بہتان ہے۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فحش کاری کا چرچاہو ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اوراللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (24:11-19)۔

ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا حرام ہے۔ اور جب معاملہ مسلمان عورت کاہو تو اس کی شناعت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ پاک باز مسلم خاتون پر تہمت لگانا سوبر س کے عمل کو ڈھا دیتا ہے:إِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَةِ يَهْدِمُ عَمَلَ مِائَةِ سَنَةٍ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3023)۔ بخاری ومسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول وہ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو، اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو حق کے بغیرقتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا ،میدان ِجہاد سے بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا:

وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2766 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 89)۔

اس میں ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں چند اشارے درج کیے جاتے ہیں:

ایک سادہ سے واقعہ کو بہانہ بنا کر جن لوگوں نے مذکورہ مہم چلائی ان کا مقصد رسول یاز وجۂ رسول کو بدنام کرنے سے زیادہ دعوتِ اسلامی کو بدنام کرنا تھا۔ رسول کو اخلاقی حیثیت سے مشتبہ ثابت کر کے وہ دراصل رسول کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ یہی ہر زمانے میں شیطان کا طریقہ ہے۔ مگر اس قسم کی کوشش خواہ کتنے ہی بڑے پیمانہ پر کی جائے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوں کہ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے وہ براہ ِراست خدا کی حمایت کے تحت اٹھتی ہے۔ اس کو مشتبہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا گویا خدا کے منصوبے سے ٹکرانا ہے اور کون ہے جو خدا کے منصوبے سے ٹکرا کر کامیاب ہو۔ حق کی دعوت کے لیے مقدر ہے کہ وہ لاز ماً قائم رہے، یہاں تک کہ وہ حق کو ناحق سے جدا کرنے میں آخری حد تک کامیاب ہو جائے۔

امتحان کی اس دنیا میں ایک معصوم اور بے قصور آدمی کے ساتھ کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے جس کو غلط معنی پہنایا جا سکے اور اس طرح خدا سے بے خوف لوگوں کو موقع مل جائے کہ وہ اس کے ذریعہ اس کو بد نام کر سکیں۔ مگر جواللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں ان کو ایسے موقع پر ہمیشہ خوش گمانی کے تحت رائے قائم کرنا چاہیے۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہیے کہ محض سن کر بلا تحقیق اس کو صحیح مان لیں اور اس کو پھیلانے میں لگ جائیں۔

ایسے کسی الزام کو درست ماننے کے لیے ضروری ہے کہ چار معتبر آدمی اس کے حق میں گواہی دیں۔ اگر الزام لگانے والا چار گواہ نہ پیش کر سکے تو یقین کیا جائے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور اس جرم میں اس کو 80 کوڑے مارے جائیں گے۔ اس کے بعد اگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو امید ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا۔ مگر مسلمانوں کے معاملات میں گواہ بننے کے لیے پھر بھی وہ نا اہل رہے گا۔ اس کے بعد اس کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔

کسی پاک دامن خاتون پر جھوٹی تہمت لگانا ایسا سنگین جرم ہے جس کی سخت ترین سزا نہ صرف آخرت میں ملتی ہے بلکہ دنیا میں بھی ایسے آدمی کو اس کی سزامل کر رہتی ہے۔ کسی کی عزت پر حملہ کرنا کمینہ پن کی بات ہے اور ایسا جرم جس کے ساتھ کمینہ پن شامل ہو وہ آدمی کو اللہ کی رحمت سے آخری حدتک محروم کر دیتا ہے۔ ایسے شخص سے جہنم اتنی قریب آجاتی ہے کہ وہ دنیا ہی میں اس کی آنچ سے جلنا شروع ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے پر حملہ سب سے پہلے اپنے آپ پر حملہ ہے۔

اسلامی ماحول خدا پرستی کا ماحول ہوتا ہے۔ اسلامی ماحول وہ ہے جہاں ہر آدمی اس احساس کے ساتھ اپنی زبان کھولے کہ اس کو اپنے بولے ہوئے الفاظ کا حساب اللہ کو دینا ہے۔ ایسے ماحول میں آدمی کو حد درجہ محتاط ہوکر رہنا چاہیے۔ ایسے ماحول میں جو لوگ غیر ذمہ دارانہ باتوں کو پھیلائیں وہ گویا اسلامی ماحول کی خدا پرستانہ فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں زہر گھول رہے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے نزدیک سخت ترین مجرم ہیں۔ دنیا میں اگر وہ اپنی برأت کے لیے الفاظ پالیں تو اس بنا پر ان کو ہرگز دھوکے میں نہ رہنا چاہیے کہ وہ خدا کے یہاں بھی اپنی برأت کے لیے الفاظ پالیں گے۔ آخرت حقیقتوں کے کھل جانے کا مقام ہے۔ وہاں صرف وہ شخص بری الذمہ ٹھہرے گا جوحقیقت کی سطح پر جیے۔ جو حقیقت سے انحراف کرے وہ آخرت میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔

اس قسم کے کسی واقعےکا پیش آنا بظا ہر ایک نا پسندیدہ بات ہے۔ مگر اس میں خیر کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ اس قسم کے ایک واقعے کے درمیان یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون ذمہ دار ہے اور کون غیر ذمہ دار۔ کون اپنے سینے میں دوسرے بھائیوں کی خیر خواہی لیے ہوئے ہے اور کون ہے جس کے دل میں دوسروں کے لیے حسد اور بغض بھرا ہوا ہے۔ کون اللہ کی جواب دہی کے احساس کے تحت بولتا ہے اور کون جواب دہی کے احساس سے خالی ہو کر کلام کرتا ہے۔ اس طرح ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کے ذریعہ بد باطن لوگوں کا بد باطن ہونا کھل جاتا ہے۔ دوسری طرف اہلِ حق کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خدا کی توفیق سے صبر کی روش پر قائم رہیں اور اللہ کی مزید عنایتوں کے مستحق بنیں۔

اس واقعے سےیہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حق کی دعوت جب بے آمیز شکل میں پیش کی جائے تو وہ لوگ کتنے زیادہ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں جن پر اس دعوت کی زد پڑتی ہو۔ ان مخالفین میں ایک تو عام دنیا دار ہوتے ہیں۔ وہ بھی اگر چہ ایسی تحریک کے مخالف ہوتے ہیں، مگر ان کی مخالفت ایک دائرے کے اندر رہتی ہے۔ وہ داعی کو ناکام بنانے کے لیے زور لگاتے ہیں مگر اس کو بے عزت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غزوہ ٔاحد کے واقعات میں آتا ہے کہ مکہ سے کافروں کا جو لشکر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لیے روانہ ہوا تھا، وہ راستےمیں ابواء کے مقام پر پہنچا جہاں پیغمبرِ اسلام کی والدہ آمنہ بنت وہب کی قبرتھی۔ قریش کے کچھ پُر جوش لوگوں نے چاہا کہ قبر کو کھودیں اور پیغمبر کی ماں کی بے حرمتی کریں۔ مگر خود قریش کے لوگوں نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کو اس ارادے سے روکا (اخبار مکہ للازرقی، جلد2، صفحہ272)۔ وہ پیغمبر سے لڑنے جارہے تھے مگر ان کی بے حرمتی کے لیے کوئی پست طریقہ اختیار کرنا ان کو گوارہ نہ ہوا۔ مگر یہود جو اپنے کو حق کا اجارہ دار سمجھتے تھے ان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انھوں نے بعض چیزوں کو بہانہ بناکر آپ پر رکیک حملے کیے اور آپ کو اخلاقی حیثیت سے گرانے کی کوشش کی۔ مذکورہ تہمت طرازی کے اصل ذمہ دار یہی لوگ تھے۔ جو لوگ اپنے کوحق کا واحد نمائندہ سمجھتے ہوں ، جب وہ اپنی حیثیت پر زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں تو ان کا ردِّعمل بےحد شدید ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایسی تحریک کا زور توڑنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے داعی کو بےعزت کرنے کی مہم بھی چلاتے ہیں۔ وہ اپنی مذہبی قیادت کو بچانے کے لیے ہر چیز کو اپنے لیے جائز کرلیتے ہیں خواہ وہ کوئی ذلیل حرکت یا کوئی پست کارروائی کیوں نہ ہو۔ (الرسالہ، مئی1980)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion