دین کے نام پر بے دینی

مدنی دور میں ایک بار ایک خلاف عادت واقعہ پیش آیا۔ اس کا تعلق حضرت عائشہ صدیقہ سے تھا۔ اس واقعہ کو خود ساختہ مفہوم دے کر کچھ لوگوں نے ایک بیہودہ افسانہ بنایا۔ یہ لغو افسانہ فورا ہی سارے مدینہ میں پھیل گیا۔ اپنے خیال میں وہ اشاعت حق کر رہے تھے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اشاعت باطل تھی۔ چنانچہ وہ کیفیت ہو گئی جس کو قرآن (24:15) میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:جب کہ تم اس جھوٹ کو اپنی زبانوں سے نقل درنقل کررہے تھے ( ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی)۔ یہ فتنہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ سورۃ النور اتری اور براہ راست آسمانی وحی کے ذریعہ اس کی تروید کر دی گئی۔

اس سلسلہ میں سورہ النور میں مسلمانوں کو کچھ ہدایات دی گئیں تاکہ وہ آئندہ اس قسم کی مجرمانہ غلطی کا اعادہ نہ کریں۔ ان میں سے ایک خاص ہدایت یہ تھی۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرداور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت خیر کا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان ہے (النور، 24:12)۔ اس کی تفسیر میں ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یعنی اس بات کو وہ خود اپنے اوپر قیاس کرتے۔ پس اگر وہ خود ان کے لیے مناسب نہ تھا تو ام المو منین زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس سے بری ہوں (تفسیرا بن کثیر، جلد 3، صفحہ 273)۔

جب کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی بدگمانی پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میں یہ سوچ کر اس کو رد کر دینا چاہیے کہ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں اور جب اس کا ضمیر یہ کہے کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا تو اسی پر قیاس کر کے سمجھ لینا چاہیے کہ دوسرے مسلمان نے بھی یقینا ایسا نہیں کیا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون واقعی صاحب ایمان ہے اور کون ایمان کا صرف دعو یدا رہے۔ کسی کے دین پر قائم ہونے کا ثبوت یہ نہیں کہ وہ انقلاب خیر کانعرہ لگا تا ہو۔ اس کااصل ثبوت یہ ہے کہ وہ خود عملا ظن خیر کے مذکورہ قرآنی اصول پر قائم ہو۔ انقلاب خیر کانعرہ لگانا صرف دین کے نام پر لیڈری ہے اور ظن خیر کے اصول پر خود قائم ہونا حقیقی معنوں میں دین خداوندی کی پیروی حضرت عائشہ صدیقہ کایہ قصہ تذکیرا لقرآن یا تفسیر کی دوسری کتابوں میں سورۃ النور کی تفسیر کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں اس کی تفصیلات نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔

قابل لحاظ بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ معروف طور پر مدینہ کی ایک باعزت خاتون تھیں۔ ان کی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزری تھی۔ مدینہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے ایک واقعہ کو لے کر اس کو شوشہ بنایا اور اسے آپ کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا۔ مگر انہیں لوگوں نے کبھی یہ نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت عائشہ کی اعلیٰ وینی خدمات کاچرچا کریں۔ ان کی مجلسیں حضرت عائشہ کے تذکرہ سے اس طرح خالی تھیں جیسے کہ مدینہ میں نہ کوئی عائشہ ہیں اور نہ ان کی کوئی دینی خدمات۔

مگر جیسے ہی انہیں حضرت عائشہ کے بارے میں ایک ایسی بات ملی، جس کو خود ساختہ مفہوم دے کر وہ اس کو آپ کے خلاف استعمال کر سکیں، تو بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان کا پورا گروہ متحرک ہو گیا۔ اس نے اپنے تمام ذرائع کو استعمال کر کے اس جھوٹے قصہ کو پھیلا یا۔ انہوں نے ایک ایک شخص کے کان میں اس کو ڈال کر اسے حضرت عائشہ سے بدگمان کر نے کی کوشش کی۔ حتٰی کہ پورے مدینہ کو ان کے خلاف بد گمانیوں اور افواہوں سے بھر دیا۔ اپنے خیال کے مطابق، یہ لوگ ایک ’’واقعہ‘‘ کی اشاعت کررہے تھے، مگر اللہ کے نزدیک وہ بدترین قسم کے مجرم تھے۔ ایسا کر کے وہ خدا کے دین کی کوئی خدمت نہیں کررہے تھے بلکہ صرف شیطان کے مقصد کو پورا کررہے تھے۔

ایک شخص جو اللہ کی پکڑ سے ڈرتا ہو، اس پر فرض کے درجہ میں لازم ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرے نہ کہ شوشوں کی بنیاد پر۔ اگر کبھی کوئی غلط فہمی ہوجائے تو متعلقہ شخص سے مل کر اپنی غلط فہمی کو دورکیا جائے، نہ کہ اس کو حقیقت سمجھ کر اس کاعمومی چرچا کیاجانے لگے۔

اسی قسم کے کردار کانام منافقانہ کردار ہے اور قرآن کے مطابق، منافقانہ کردار والے لوگوں کے لیے کافروں سے بھی زیادہ سخت سزا مقرر ہے ، الا یہ کہ وہ تو بہ کریں اور کھلے طور پر اپنی مجرمانہ روش کااقرار کر کے متعلقہ اشخاص سے معافی مانگیں۔ (الرسالہ، فروری 1999)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion