ایک داعی کی یاد میں
مسٹر اعجاز احمد (پیدائش 1963) کا 29 دسمبر 2020کو بنگلور کے ایک ہاسپٹل میں انتقال ہوگیا۔ انھوں نے1985میں آئی آئی ٹی کھرگپور ( IIT Kharagpur) سے گریجویشن مکمل کیا۔ اس کے بعد ONGC سے انھوں نے اپنے کیرئیر کی شروعات کی، اور 1995میں ان کو ایک فارِن کمپنی میں جاب مل گئی۔چوں کہ وہ سمندر آئل رگ (Sea Oil Rig)پر جاب کرتے تھے اس لیے ان کی جاب کی نوعیت کچھ اس طرح ہوتی کہ وہ مکمل ایک ماہ جاب پر ہوتے اور ایک ماہ گھر پر ہوتے۔
مسٹر اعجاز انتہائی محنتی اور ایک آنسٹ انسان تھے ۔ان کی زندگی کا فارمولا تھا— سادہ زندگی ، اونچی سوچ ۔انھوں نے نہ تو تعلیمی زمانے میں کوئی چھٹی لی، اور نہ ہی جاب کے زمانے میں کبھی کوئی چھٹی لی۔ یہاں تک کہ ڈیوٹی کے اوقات میں وہ اپنی فیملی سے فون پر بھی بات نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ میں غلطی سے ڈبل سیلری آگئی تو انھوں نے اس کو واپس کیا ۔اگرچہ اس کو لوٹانے کا جو پراسس (process)تھا وہ بہت ہی مشکل اور پیچیدہ تھا۔یہاں تک کہ خود کمپنی کے ایڈمنسٹریٹیو آفسرس (Administrative Officers )نےبھی انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ خاموش ہوجائیں مگر انھوں نے ان کے اس مشورہ کو رد کردیا اور اس وقت تک چپ نہ بیٹھے جب تک کہ اسے لوٹا نہیں دیا۔
سی پی ایس مشن سے ان کا تعلق ان کی اہلیہ مزفاطمہ سارہ (پیدائش1967)کے ذریعے ہوا۔ سائنٹفک ذہن ہونے کی وجہ سےوہ سی پی ایس کے لٹریچر سے بہت زیادہ متأثر ہوئے ،اور اسلام کی پیس فل آئڈیالوجی کے معاملہ میں انھوں نے سی پی ایس مشن کا بھر پور ساتھ دیا۔ وہ اگرچہ 2000ہی سے اس مشن کے ساتھ تھے۔ مگر 2005 میں راقم الحروف نے بنگلور کا سفرکیا، جس کی تفصیل ماہنامہ الرسالہ مارچ 2006میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد سے وہ مشن کو اورزیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے لگے تھے۔
سی پی ایس مشن سےان کو بہت گہرا تعلق تھا۔ وہ مشن کے کاموں کے لیےاپنی اہلیہ کی بھی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ، اورہر لمحہ مشن کے تعاون کے لیے تیار رہتے، جو مشکل ترین حالات میں بھی کمی کے بغیر جاری رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2015کے بعد جب آئل انڈسٹری کا ڈاؤن فال شروع ہوا تو ان کا ڈموشن ہوگیا ، اور ان کو انڈین کمپنی میں واپس بھیج دیا گیا۔اس کے باوجود مشن سے تعلق اور تعاون میں انھوں نے کوئی کمی نہیں کی ۔
مولانا عنایت اللہ عمری (پیدائش 1983) بنگلور میں مسٹر اعجاز اور ان کی اہلیہ مز فاطمہ سارہ کے ساتھ مل کر دعوتی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اعجاز صاحب اور ان کی اہلیہ، دونوں مولانا کے اس فارمولا پر عمل کرتے تھے — میاں بیوی ایک دوسرے کے انٹلکچول پارٹنر ہیں۔ چنانچہ اس کو لے کر وہ ہمیشہ تھرلڈ(thrilled) رہتے تھے ۔ ان دونوں کا یہ معمول رہا کہ وہ باہم قرآن میں تدبر کرتے ، اور الرسالہ کے مطالعہ کا اہتمام کرتے تھے ۔اسی طرح اعجاز صاحب کو یہ پسند تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں سب سے اعلی کوالٹی کی چیزیں استعمال کریں، خواہ وہ آفس کا سٹ اپ (setup) ہو یا کتابوں کا ڈسٹری بیوشن ،کمپیوٹر سسٹم کی ضرورت ہو یا موبائل وین ، وغیرہ۔ ہر جگہ انھوں نے یہی کوشش کی کہ اعلیٰ کوالٹی کی چیزیں استعمال کی جائیں۔
مسٹر اعجاز کا ایک انتہائی اہم رول سی پی ایس مشن کے انگریزی میگزین اسپرٹ آف اسلام (www.spiritofislam.co.in) کی بنگلور سے اشاعت ہے۔ یہ میگزین مسٹر اعجاز اور ان کی اہلیہ مز سارہ فاطمہ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے انتہائی عمدہ طباعت کے ساتھ شائع ہوتا رہاہے۔ کووڈ 19 کے بعد سے یہ ای میگزین (e-magazine)کی شکل میں نکل رہا ہے۔ انگریزی زبان پر ان کومہارت حاصل تھی۔میگزین کے آغاز جنوری 2013 سے لے کردسمبر 2020تک مسٹر اعجازمیگزین کے ایڈیٹوریل ٹیم کے بنیادی رکن تھے، اور جب بھی وہ گھر پر ہوتے باقاعدہ میگزین کی ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ کرتےتھے۔ اس کے علاوہ راقم الحروف کی کتاب اظہارِ دین کے انگریزی ورزن کی بھی ایڈیٹنگ کررہےتھے۔ لیکن وہ اس کو مکمل نہ کرسکے ۔
بنگلور ٹیم کے دوسرے ساتھی مسٹر ابرار مدثر (پیدائش 1985) نے بتایا کہ اعجاز بھائی کی وفات کے بعد میں نے ان کی اہلیہ سارہ آپا کا رویہ دیکھا تو مجھے صحابہ کی زندگی یاد آگئی، جو مصیبت کے موقع پر صبر سے کام لیتے تھے۔ سارہ آپا نے پوری طرح اللہ کی سچی بندی ہونے کا حق ادا کیا۔صبر اور حوصلہ کے ساتھ انھوں نے ہم سب کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ غم نہ کریں، وہ کسی نامعلوم (unknown) جگہ نہیں گئے ہیں،وہ اللہ کے کنگڈم (kingdom) میں گئے ہیں ، اللہ نے انھیں اپنے پاس بلا لیا ہے، جو اس دنیا سے بہت بہتر ہے۔اس دنیا کے اندر ان کے امتحان کا وقت اتنا ہی تھا۔ اس لیے ہمیں خدا کے کریشن پلان پر راضی ہونا ہے، اور صبر کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ انھوں نے دعوتی مشن کو جو تعاون دیا ہے، اس کو آگے بڑھانا اب ہماری ذمے داری ہے۔ وہ دیر تک معرفت اور ایمان کی باتیں کرتی رہیں، جس سے خود ہمارے ایمان میں تازگی پیدا ہوئی۔
اُس وقت سارہ آپا نےمزید کہا کہ میں اور میرے شوہر مولانا (راقم الحروف) کے ساتھ ایک مجلس میں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ اگر میاں بیوی میں سے کسی ایک کا پہلے انتقال ہوجائے تو دوسرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے رفیقِ حیات کے حصے کا بھی دعوتی کام کرے ۔اس طرح وہ اپنے اور اپنے رفیق حیات کے گریڈ کو خدا کی نظر میں بڑھائے ۔اس لیےمیں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے حصہ کا دعوتی کام کرنے کے ساتھ شوہر کے حصے کا بھی دعوتی کام کروں گی تاکہ میں اپنے ساتھ اپنے شوہرکے گریڈ کو بڑھا سکوں۔
مسٹر اعجاز کی وفات کی خبر سنی تو مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی:یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (59:18)۔ یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے— انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ خدا کے منصوبۂ تخلیق کو یادرکھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔اللہ مرحوم کی لغزشوں کو معاف کرے، اور اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے (آمین) ۔
