راز داری
فتح مکہ کے واقعات کے ذیل میں آیا ہے کہ مدینہ میں آپ نے سفر کے لیے تیاری کاحکم دیا۔ عام مسلمان ضروری تیاری میں مصروف ہوگئے۔ اس زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق اپنی صاحبزادی عائشہ کے گھر میں آئے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی اہلیہ تھیں۔ وہ اس وقت ضروری تیاری کررہی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم کو اس کاحکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے دوبارہ پوچھا کہ یہ تیاری کہاں کے سفر کے لیے ہے۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم مجھ کو نہیں معلوم:وَاَللهِ مَا أَدْرِي ( سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 397)۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ تھی کہ آپ نازک معاملات میں ہمیشہ راز داری کاطریقہ اختیار فرماتے تھے۔ یہی آپ نے فتح مکہ کی مہم میں کیا۔ مدینہ سے آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ نکلے مگر آپ نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم کہاں جار ہے ہیں۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں سے راستہ سید ھا مکہ کی طرف جاتا تھا، اس وقت ہم نے جانا کہ یہ سفر مکہ کے لیے ہے۔
نازک اجتماعی معاملات میں راز داری بے حد اہم ہے اکثراوقات کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ فریقِ ثانی کو آپ کے منصوبہ کاپیشگی علم نہ ہوسکے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس حکمت کو نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار فرمایا۔ (الرسالہ، جنوری 1999)
