حکیمانہ تربیت
انسان کی زندگی میں ابتدائی تقریباً دس سال کو حیاتیاتی اعتبار سے تیاری کا دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ اس ابتدائی دورِ حیات میں انسان کی شخصیت کا بڑا حصہ عملا ًبن کر تیار ہوجاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں یہ ابتدائی مدت، تربیت کے نقطۂ نظر سے بہت زیادہ اہم ہے۔
پیغمبر اسلام نے اس تربیتی مقصد کے لیے اپنی زندگی میں دو اشخاص کو خصوصی طور پر چنا۔ ایک، علی ابن ابی طالب اور دوسرے، عائشہ بنت ابی بکر۔ دونوں کو آپ نے یہ موقع دیا کہ وہ کم عمری میں آپ کی صحبت میں رہ کر تربیت پائیں، اور وہ چیز حاصل کریں جس کو قرآن (2:129) میں حکمتِ رسول (prophetic wisdom) کہا گیا ہے۔
حکیمانہ تربیت کا یہ مقصد صرف کم عمری میں حاصل کیا جاسکتا تھا۔ آپ نے علی ابن ابی طالب کو اپنی صحبت میں رکھنے کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ کم عمری میں ان کے کفیل بن گئے۔ عائشہ ایک خاتون تھیں، اس لیے ان کے لیے یہ طریقہ قابلِ عمل نہ تھا۔ چنانچہ آپ نے عائشہ بنت ابی بکر سے کم عمری میں نکاح کر لیا۔ روایات کے مطابق، یہ نکاح اس وقت ہوا جب کہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب کہ ان کی عمر نو سال ہو چکی تھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر5188)۔
کچھ لوگوں نے عائشہ کی عمرِ نکاح کے بارے میں تاویل کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مگر یہ ایک غیر ضروری کوشش ہے۔ یہ زاویۂ نظرکے فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ اس واقعہ کو نکاح کے زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تیاری کی مدت (formative period) میں پیغمبرانہ تربیت کا معاملہ ہے۔
نتیجہ اس توجیہ کی تصدیق کرتا ہے۔ چنانچہ یہ بات علما کے درمیان ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے، یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ علی اور عائشہ، دونوں بصیرت اور تفقہ کے اعتبار سے تمام صحابہ میں امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔
رسول سے استفادے کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ کے اقوال کو محفوظ کرلیا جائے، اور اس کو لوگوں سے بیان کیا جائے۔ اس معاملہ میں ابو ہریرہ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ رسول اللہ کی باتوں کو سن کر اور آپ کے عمل کو دیکھ کر حقائق کا استنباط کیا جائے۔ یہ دوسرا فائدہ صرف متواتر صحبت کے ذریعے حاصل ہوسکتا تھا۔ اس دوسرے مقصد کے لیے علی ابن ابی طالب اور عائشہ بنت ابی بکر کا کم عمری میں انتخاب کیا گیا۔
مثال کے طور پر علی ابن طالب کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے:قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُ (جامع بیان العلم وفضلہ، حدیث نمبر 609-608)۔ یہ بات ان الفاظ میں کسی حدیث رسول میں نہیں آئی ہے۔ یہ رسول کی صحبت سے مستنبط کی ہوئی ایک حکمت ہے۔ اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس اعتبار سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کو کتنے امتیاز کے ساتھ انجام دیتا ہے :
The value of a person lies in his excellence.
یہی معاملہ عائشہ بنت ابی بکر کا ہے۔ حضرت عائشہ کے استنباطات مشہور ہیں۔ یہ تمام استنباطات اعلیٰ حکمت کا نمونہ ہیں۔ وہ رسول اللہ کی صحبت سے اخذ کی ہوئی حکمت کی باتیں ہیں۔ مثلاً حضرت عائشہ کا یہ حکیمانہ قول:
مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر6786)۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان ترکا انتخاب کرتے تھے:
Whenever the Prophet had to choose between two options, he would always choose the easier one.
رسول اللہ سے سنی ہوئی باتوں کو حدیث کہا جاتا ہے۔ علی اور عائشہ کا امتیاز استنباط کے پہلو سے ہے۔ انھوں نے رسول اللہ کی صحبت میں رہ کر حکمت کی باتیں اخذ کیں۔ اور ان کو اپنی زبان میں بیان کیا۔ کم عمری میں ان دونوں صاحبان کے لیے صحبت رسول بہت مفید تھی۔ اس صحبت نے ان کے اندر اخذ (grasp) کی طاقت کو بہت بڑھا دیا۔ (الرسالہ، اگست 2016)
