حضرت عائشہ g
حضرت عائشہg ابوبکر صدیق d کی صاجنرادی تھیں۔ ہجرت سے آٹھ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں۔ 66 سال کی عمر میں 58ھ میں انتقال کیا۔ حضرت خدیجہ gکے انتقال کے بعد خولہ بنت حکیم نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حضرت ابوبکر dکو نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابوبکرd نے کہا کہ اس سے پہلے مطعم بن عدی اپنے بیٹے جُبَیرسے عائشہ کے نکاح کا پیغام دے چکے ہیں۔ اس کو میں نے منظور بھی کر لیا ہے۔ اور خدا کی قسم ابوبکر نے کبھی کسی وعدہ کے خلاف نہیں کیا:وَاللهِ، مَا أَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ وَعْدًا قَطُّ (دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد 2، صفحہ411)۔
حضرت ابوبکر صدیق اس کے بعد مطعم کے یہاں جا کر اس سے ملے۔ اس سے پوچھا کہ عائشہ سے اپنے بیٹے کے نکاح کی بابت تمہاراکیا خیال ہے۔ مطعم نے اپنے بیوی سے کہا کہ اس معاملے میں تم کیا کہتی ہو۔ بیوی نے حضرت ابوبکر سے مخاطب ہوکرکہا کہ تم سے رشتہ کرنے میں مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہیں میرالڑکا صابی (بےدین) ہو جائے اور اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر تمہارے مذہب (اسلام) میں داخل ہو جائے۔ ابوبکر دوبارہ مطعم بن عدی سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ اے مطعم، تم کیا کہتے ہو۔ مطعم نے جواب دیا کہ میری بیوی نے جو کچھ کہا وہ آپ نے سن لیا۔
اس طرح مطعم اور اس کی بیوی دونوں نے رشتہ سے انکار کردیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر نے سمجھ لیا کہ وعدہ کی ذمہ داری ان کے اوپر نہیں ہے۔ اب حضرت ابوبکر نے خولہ سے کہہ دیا کہ تمہاراپیغام مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مقررہ وقت پر رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر کے مکان پر گئے، وہاں عائشہ g سے آپ کانکاح ہوا۔ مہر چار سو درہم مقرر ہوا۔
اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ معاشرتی معاملات میں اگر کبھی کوئی بات ٹوٹ جائے تو اس سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی نیا خیر نکلنے والا ہو۔ چنانچہ سردار ِمکہ کے لڑکے سے عائشہ g کا رشتہ ٹوٹا، مگر اس کے بعد انھیں پیغمبر اسلام ﷺ کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا۔
حضرت عائشہ g رسول اللہ سے بہت چھوٹی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد وہ تقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ اس نامساوی نکاح کی مصلحت یہ تھی کہ عائشہ g بے حد ذہین تھیں۔ ان کے اندر اخذ (grasp) کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ اس نکاح نے ان کی خدا داد صلاحیت کو سارے عالم کے لیے مفید بنادیا۔
حضرت عائشہ g رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تقریباً دس سال رہیں۔ اس مدت میں انھوں نے رات دن آپ کو دیکھا اور آپ کی تمام باتیں سنیں۔ اس طرح علم ِدین اور حکمت ِاسلام کا بہت بڑاذخیرہ ان کے دماغ میں جمع ہو گیا۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد انھوں نے اس علم نبوی کوامت تک پہنچایا۔ وہ تقریباً نصف صدی تک زندہ ٹیپ ریکارڈر بنی رہیں۔
حافظ ابن حجران کی بابت لکھتے ہیں کہ عائشہ g کی پیدائش ہجرت سے تقریباً آٹھ سال پہلے ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو وہ تقریباً 18 سال کی تھیں۔ انھوں نے آپ سے بہت سی باتیں یاد رکھیں اور آپ کے بعد تقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ لوگوں نے ان سے بہت زیادہ باتیں اخذکیں۔ اور احکام و آداب میں سے بہت سی چیزیں ان سے نقل کیں۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ احکام ِشریعت کا چوتھائی حصہ ان سے نقل کیا گیا ہے۔ ان کی وفات امیر معاویہd کی خلافت کے زمانہ میں 58ھ میں ہوئی(سیر اعلام النبلاء للذہبی، جلد 2، صفحہ192)۔
حضرت عائشہg سے اقوال ِرسول ﷺ بہت زیادہ منقول نہیں ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی ہر بات کو نہایت غور سے سنا۔ آپ کے ہر عمل کو نہایت توجہ سے دیکھا اور پھر اپنی خداداد ذہانت سے اس کی حکمتیں معلوم کیں۔ ان کا کلام اسلامی حکمت اور معرفت کا خزانہ ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دومیں سے ایک کاانتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ ان کے اس ایک قول میں معانی کاخزانہ چھپا ہوا ہے۔
حضرت عائشہ g نے اپنی ذہانت کوخالص اسلام کے لیے استعمال کیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے زہد کو اپنا شعار بنایا۔ بعد کے زمانہ میں آپ کے پاس کثرت سے مال آتا تھا۔ مگر آپ سارامال لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں اور خود نہایت سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ ایک بارحضرت عبداللہ بن الزبیر نے ان کے پاس ایک لاکھ 80 ہزار درہم بھیجے۔ آپ نے سارا درہم شام تک خیرات کر دیا۔ جب کہ اس دن آپ روزہ سے تھیں اور گھرمیں روٹی اور زیتون کے تیل کے سوا کوئی اور چیزموجود نہ تھی۔ خادمہ نے کہا کہ آپ کچھ درہم بچا کر گوشت منگالیتیں تو اچھا ہوتا۔ فرمایا کہ تم نے پہلے یاددلا یا ہو تا تو منگالیتی (الزهد لهناد بن السری، اثر نمبر 619)۔
یہ زہدہی حکمت کا دروازہ ہے۔ جو یہ چاہتا ہو کہ خدائی معرفت اور اسلامی حکمت کاچشمہ ان کے ذہن میں جاری ہو اس کو اس دنیا میں مادی چیزوں سے بے رغبت ہو کررہنا ہوگا ۔ (الرسالہ، مارچ 1996)
