استدراکات عائشہ
استدراک کا لفظی مطلب ہے، غلطی کی اصلاح کرنا (correction)۔ حضرت عائشہ کی بہت سی روایتیں ہیں جن کو استدراک کہا جاتاہے۔ ان روایتوں میں حضرت عائشہ نےکسی راوی کی روایت کی تصحیح کی ہے۔ راوی نے کوئی بات رسول اللہ سے منسوب کی تو عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ نے یہ بات اس طرح نہیں کہی تھی، بلکہ اس طرح کہی تھی۔ حضرت عائشہ کے اس طرح کے اقوال کو استدراکات عائشہ کہا جاتا ہے۔
اس موضوع پرعلما ئے حدیث نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ایک مشہور کتاب یہ ہے:عین الاصابہ فی استدراک عائشۃ علی الصحابہ للسیوطی (مکتبة العلم القاہرة 1409 ھ)۔ مصنف نے اس کتاب میں حضرت عائشہ کے 52استدراکات کو جمع کیا ہے۔ حضرت عائشہ کے استدراکات میں سے ایک یہ ہے:بَلَغَ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: إِنَّ مَوْتَ الْفَجْأَةِ سَخْطَةٌ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللهُ لِابْنِ عُمَرَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: مَوْتُ الْفَجْأَةِ تَخْفِيفٌ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ، وَسَخْطَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ (المعجم الاوسط للطبرانی،حدیث نمبر 3129)۔ یعنی، عائشہ کو یہ بات پہنچی کہ ابن عمر ایسا کہتے ہیں کہ اچانک کی موت اللہ کی ناراضگی کی علامت ہے۔ تو عائشہ نے کہا کہ اللہ ابن عمر پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اچانک کی موت مومن پر آسانی ہے اورغیر مومن پر ناراضگی ہے۔
یہ صرف عائشہ اور ایک راوی کے درمیان مکالمےکا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس سے ایک اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام میں عورت اور مردکے درمیان درجہ کے اعتبار سےکوئی فرق نہیں ہے۔ عورت اگر اپنے آپ کو علم و عقل کے اعتبار سےتیار کرے تو وہ معاملات میں مردوں کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ وہ زندگی میں قائدانہ رول ادا کرسکتی ہے۔ ایسی عورت شادی شدہ زندگی میں اپنے رفیق حیات کے لیےایک سرمایہ (asset) ہے۔ (الرسالہ، دسمبر 2016)
