خدا کی دریافت (Khuda Ki Daryaft)

By
Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی دریافت

سائنسي حقائق کی روشنی میں

 

مولانا وحید الدین خاں

 

دیباچہ  

خدا کی دریافت   

فلسفیانہ تلاش کی ناکامی      

صحیح طریق کار

گلیلیو گلیلی

الکسس کیرل کا تبصرہ

ايمان بالغيب      

کائنات کی توجیہ   

خلّاق علیم

بگ بینگ، لٹل بینگ

چھ بينگ 

بگ بینگ، ایک منظم واقعہ   

ایک تقابل       

بے نقص کائنات

زیرو ڈفکٹ کائنات

علمی شہادت

خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر 

ایک علمی ملاقات

خدا کا وجود

سوال و جواب     

سائنس كي واپسي  

سائنس سے معرفت تک

معرفت كے دو درجے      

سائنس کی شہادت

سائنس اور عقیدۂ خدا       

فائن ٹیوننگ     

تبصرہ   

خدا اور آخرت     

بامعنیٰ کائنات    

سائنسی ثبوت     

تین علمی اصول   

امید کی کرن     

تضاد کا خاتمہ     

آغاز کی تکمیل     

درست فریم ورک 

اطمینان بخش توجیہ 

جنت کی حقیقت

فطرت کا حصہ

جديد سائنس

وحي والهام       

علم كا سفر

سائنس توحيد كي طرف      

اختيار اور بے اختياري

طبيعیات سے ما بعد الطبيعيات كي تصديق

كائنات اتني يكساں كيوں      

كياكوئي زڈ ذره هے  

ڈي اين اے سے پهلے كيا تھا   

جين كس طرح متحرك اور

غير متحرك هوتے هيں

همارے اندر مدافعتی نظام كيوں

 ارتقا كي پيمائش هم كيسے كريں

نظامِ عصبي كس طرح بنتا هے  

كوانٹم نظريه كيا كشش كے نظريے پر

بھي چسپاں هوتاهے

دماغ كے مختلف حصے كس طرح

رابطه قائم كرتےهيں

انسان كب سے زمين پر هے

تبصرہ    

علم كى شهادت    

خدا سب سے بڑی حقیقت   

انکار ِخدا— تجزیاتی مطالعہ

لامحدود کائنات، انسانی محدودیت

خدا كا تصور       

مخالفين مذهب كا استدلال    

كائنات بول رهي هے

حادثہ، توجیہ کے لیے کافی نہیں

سائنس اور الہٰیات

وضاحت

عقلی موقف     

ذہین کائنات

دو انتخاب

واحد انتخاب      

منطقی استدلال    

انتخابی منطق     

مجبورانہ منطق    

انسان کا وجود خدا کے وجود کا ثبوت     

خلائی مشاہدہ      

زمین ایک استثنا    

سفرنگ کا مسئلہ

غلط ریفرنس میں مطالعہ      

تقابلی مطالعہ      

سائنٹفک مطالعہ   

خدا کا تخلیقی پلان  

کائناتی معنویت کی توجیہ     

وقت کا شعور

زوجین کا اصول

آئڈیل ازم کی ناکامی

دنیا کا خاتمہ       

خدا اور سائنس    

عقیدۂ خدا اور سائنس

خدا کا وجود

خدا کو کس نے پیدا کیا      

زیادہ عجیب، کمتر عجیب      

ریاضیاتی ذہن

اللہ کی رؤیت     

كون كنٹرول كرے 

حکمت ِ تخلیق     

تاريخ كے فكري مغالطے

استدلال کی بنیاد   

ڈارونزل کا نظریہ  

ہیومنزم کا طریقہ  

خاتمہ   

خدا کا فلسفیانہ تصور 

کائنات میں خدا کی گواہی

خدا كا ثبوت      

كائنات ميں خدا كي گواهي

زمین، ایک نشانی   

ذهين كائنات

معنی خیز استثنا     

کائناتی نشانیاں    

کویزار  

عقيدهٔ خدا اور سائنس       

دریافت کی اہمیت 

كائناتي وحدت    

خدا كي عظمت     

عقيدهٔ خدا

خدا اور انسان     

ناقابلِ توجيه

انسانی دماغ       

يه محكم نظام      

كائنات كي نشانياں 

جواہر لال نہرو کا بیان

انسان کی بے اختیاری       

انسان کے لیے سبق

حفاظتي ڈھال     

خلاصۂ کلام       

میں خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں

کائنات ایک آئینہ  

ریاضیاتی دنیا      

کائنات اور انسان  

توازنِ فطرت

نیم کا معجزہ

تخلیق میں ذہانت  

ذرہ بھی غائب نہیں

زمين :الله كي عجيب وغريب نعمت    

سائنس کی گواہی

مشيني ذهانت     

ایک مثال       

كائناتي مشين     

مشيني تعبير

بے خطا نظام      

ريموٹ كنٹرول    

خدا انسانی فطرت کی آواز

برتر ہستی کا تصور

فطرت كي آواز

فلم ایکٹرس      

جوزف اسٹالن    

اسٹالن کی بیٹی

ایک روسی پائلٹ

میخائل گورباچیف

رچرڈنکسن       

برٹرینڈرسل     

خدا كي نشانياں

حقيقت كي تلاش

مذهب كي طرف واپسي

تبصرہ    

ذہین وجود کی تلاش 

معبود كي طلب

خدا کی موجودگی کا تجربہ

انكار سے اقرار تك

تبصرہ

فطرت كي پكار

ڈارون کا اعتراف

برتر ہستی کی تلاش 

خلائي تهذيب

ایلین کی تلاش

بامعني كائنات

ماورائے انسان ذهانت

جس زندگي كي هميں تلاش هے

سب سے بڑا المیہ

جس زندگي كي هميں تلاش هے

توحيد كا تصور اسلام ميں

توحید کی عملی اہمیت

توحید کا عقیدہ اور انسان

 

دیباچہ

 خدا کی دریافتکا سفر ایک فطری سفر ہے۔ وہ اتنا آسان ہے کہ ہر آدمی عین اپنے پاس سے اس کو شروع کرسکتا ہے۔ مثلاً بیان کیا جاتا ہےکہ ایک عرب بدو سے سوال کیا گیا:

 مَا الدَّلِيلُ عَلَى وُجُودِ الرَّبِّ تَعَالَى؟ فَقَالَ:يَا سُبْحَانَ اللهِ إِنَّ البعر ليدل عَلَى الْبَعِيرِ، وَإِنَّ أَثَرَ الْأَقْدَامِ لَتَدُلُّ عَلَى الْمَسِيرِ، فَسَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ، وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجٍ، وَبِحَارٌ ذَاتُ أَمْوَاجٍ أَلَا يَدُلُّ ذَلِكَ عَلَى وُجُودِ اللَّطِيفِ الْخَبِيرِ ؟(تفسیر ابن کثیر، جلد1، صفحہ106)۔ یعنی رب العالمین کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ اس نے کہا:سبحان اللہ، مینگنی اونٹنی پر دلالت کرتی ہے، قدم کے نشان چلنے والے پر دلالت کرتے ہیں، تو برجوں والا آسمان، اور كشاده راستوں والی زمین ، اور موجوں والے سمندر، کیااس ذات پر دلالت نہیں کريں گے، جو بڑا باریک بیں اور بڑا باخبر ہے؟

یہ واقعہ ایک عام انسان کا واقعہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالق کی پہچان کا معاملہ اتنا زیادہ آسان ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے طور پر وہ اپنی قریب ترین مثال سے سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی دریافت کے لیے کسی لائبریری میں جانے کی یا کسی دور کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ آدمی متلاشی (seeker)ہو۔

مثلاً ایک آدمی نے سوال کیا کہ ہم خدا کو کیسے پهچانیں۔ میں نے کہا آپ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو دیکھیے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ہاتھ کی انگلیاں چھوٹی چھوٹی ہوتیں، اور پاؤں کی انگلیاں بڑی بڑی ہوتیں تو زندگی کتنی مشکل ہوجاتی۔ اتنی گہری پلاننگ صرف خَلّاق اور رَزّاق ہی کرسکتا ہے۔اگر آپ ایک ایسے خدا کو نہ مانیں، جو خَلّاق اور رزّاق ہے، تو آپ ہر معلوم چیز کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔خدا كو پہچاننا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ خود اپنے آپ کو پہچاننا۔

اس قسم کی دریافت کو کامن سنس کی سطح پر خالق کی دریافت کہاجاتا ہے۔ لیکن دریافت کی ایک اور سطح ہے، جو جدید دور میں انسان نے ڈسکور کی ہے، اور وہ ہے سائنسی دلائل کے ذریعے خالق کی دریافت۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے (فصلت، 41:53)۔ آج انسان ان دلائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــ

سائنس فطرت (nature) كے مطالعے كا نام هے۔ فطرت ميں وه تمام چيزيں شامل هيں، جن كو هم كائنات كهتے هيں۔ سائنسي مطالعے كا آغاز كچھ ابتدائي باتوں سے هوا، ليكن يه مطالعه جتنا زياده بڑھتا گيا، اتنا هي يه ظاهر هوتا گيا كه كائنات (universe)ايك بے حد بامعني كائنات هے۔ كائنات كي كوئي بھي ايسي تشريح جو كائنات كي معنويت كے اعتراف پر قائم نه هو، وه سائنسي تحقيقات سے مطابقت نهيں ركھتي۔مثلاً سائنسي مطالعے كے ذريعے معلوم هوا كه كائنات كے اندر ايك ذهين ڈيزائن (intelligent design) هے۔ اب اگر يه نه مانا جائے كه كائنات كا ايك ذهين ڈيزائنر (intelligent designer) هے تو كائنات كا نادر ظاهره ناقابلِ توجيه بن جاتاهے۔

اِسي طرح سائنس كے مطالعے نے بتايا كه هماري كائنات ايك كسٹم ميڈ (custom-made) كائنات هے، يعني وه انسان كی ضرورتوں كے عين مطابق هے۔ اب اگر ايك ايسے خالق كو نه مانا جائے جس نے دو الگ الگ چيزوں كے درميان اِس مطابقت كو قائم كيا، تو اِس ظاهرے كي كوئي قابلِ فهم توجيه ممكن نهيں۔ اِسي طرح مختلف شعبوں ميں سائنس كا مطالعه بتاتا هے كه كائنات كے مختلف اجزاء آپس ميں بے حد مربوط هيں ،اور ان كے درميان ايك انتهائي فائن ٹيوننگ (fine-tuning) پائي جاتي هے تو اِس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاهرے كي ضروركوئي توجيه ہونی چاہیے۔

سائنس كوئي مذهبي سبجيكٹ نهيں، سائنس كا موضوع خالق كي دريافت نهيں۔ سائنس كا موضوع تخليق (creation)كي دريافت هے، ليكن خالق (Creator) تخليق سے جدا نه تھا، اِس ليے تخليق كا مطالعه عملاً خالق كا مطالعه بن گيا۔ سائنس نے اپنے مطالعے كے ذريعے جو چيزيں دريافت كيں، وه سب خدائي نشانيوں كا اظهار بن گئيں جن كو قرآن ميں ’آيات الله‘  (signs of God) كهاگيا هے۔ اِس اعتبار سے، يه كهنا درست هوگا كه تخليق كي معنويت كي دريافت خالق كي معنويت كي دريافت كے هم معني هے۔

خدا كي معرفت اول دن سے راقم الحروف کی تلاش كا مركز رهاهے۔ ميرے دن اور ميري راتيں اسي تلاش ميں گزري هيں، يهاں تك كه شايد ميں يه كهه سكتا هوں كه ميںنے خدا كو پاليا هے۔ 1960 كے آس پاس كي بات هے۔ ميںاپنے بڑے بھائي كے گھر 9 بدرقه روڈ، اعظم گڑھ ميں تھا۔ وهاں ميري ملاقات شاه نصير احمد صاحب سے هوئي۔ گفتگو كے دوران اچانك انھوںنے كها: كيا انسان خداكو ديكھ سكتا هے۔ ميري زبان سے نكلا: كيا آپ نے ابھي تك خدا كو نهيں ديكھا۔اس طرح كے تجربات ميري زندگي ميں بهت زياده هيں ۔ تاهم اس دنیا میں خداكو ديكھنا مجازي معني ميں هے، نه كه حقيقي معني ميں۔ كيوںكه حقيقي معني ميں الله رب العالمين كو ديكھنا اس دنياميں كسي انسان كے ليے ممكن نهيں۔

ـــــــــــــــــــــ

ميں نے ايك مرتبه كسي مضمون ميں لكھا تھا  —خدا كو ماننا عجيب هے، ليكن خدا كو نه ماننا اس سے بھي زياده عجيب هے۔ جب ميں خدا كو مانتا هوں تو ميں زياده عجيب كے مقابلے ميں كم عجيب كو ترجيح ديتاهوں:

To believe in God is strange, but not believing in God is stranger still. When I say that I believe in God I prefer the less strange to the more strange.

البرٹ آئن سٹائن كے ايك جرمن دوست نے اس سے پوچھا كيا آپ اتھیسٹ (atheist) هيں۔ اس نے كها كه نهيں۔ تم مجھ كو زياده صحيح طورپر اگناسٹك (agnostic) كهه سكتےهو۔ اگناسٹك كا مطلب متشكك هے۔ يعني كهنے والا يه كهه رها هے كه ميں نه يه كهه سكتاهوں كه خدا نهيں هے، اور نه يه كهه سكتا كه خدا هے۔

اس جمله كا نفسياتي تجزيه كيا جائے تو وه يه هوگا كه خدا كے انكار كے حق ميں ميرے پاس كوئي دليل نهيں۔ البته سائنٹفك دلائل (scientific evidence) اس معاملے ميں اتنے زياده هيں كه ميں يه بھي كهنے كي پوزيشن ميں نهيں هوں كه خدا نهيں هے۔ آئن اسٹائن كا يه جمله ففٹي ففٹي كا جمله نهيں هے، بلكه اس كا مطلب يه هے :

I can say that probably there is a God, but I cannot say in certain terms, 'Yes there is certainly a God'.

كوانٹم فزكس (quantum physics)كي اصطلاح ميں ميں كهوں گا كه آئن اسٹائن كا يه كهنا خدا كے اقرار كے هم معنى هے۔ كيوں كه سب ايٹمك پارٹيكل (subatomic particle) اور پرابیبلٹی ویوز (probability waves)كي دريافت كے بعدكوانٹم فزكس ميں پرابيبلٹی كو يقين كے قريب كا درجه دے ديا گيا هے۔ اب يه مانا جاتا هے :

Probability is less than certainty, but it is more than perhaps.

ــــــــــــــــــــــــــــ

حق کی تلاش ایک فطری تلاش ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کیا ہے، وہ کیسے وجود میں آیا، دنیا میں اس کی معنویت کیا ہے۔ اسی کا نام حق کی تلاش ہے۔ یہ ہمیشہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کی مشترک تلاش رہی ہے۔ شاید کوئی بھی انسان اس اسپرٹ سے خالی نہیں۔ کسی نے اس تلاش کو فلسفیانہ تلاش کا درجہ دیا، کوئی اس کو صوفیانہ تلاش سمجھا، کسی نے اس کو مراقبہ (meditation) کے ذریعے دریافت کرنا چاہا، کسی نے یہ سمجھا کہ روحانی ریاضت کے ذریعے وہ اس کو پاسکتا ہے، کسی نے کسی اور طریقے سے اس منزل تک پہنچنے کی کوشش کی۔

جہاں تک راقم الحروف کا اندازہ ہے ، اٹلی کے سائنسداں گلیلیو (1564-1642ء) کے زمانے سے اس تلاش نےایک نیا انداز اختیار کیا۔ اب یہ ہوا کہ اس تلاش کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect)، اور اس کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا۔ یہی دور اب تک جاری ہے۔

خورد بین اور دوربین کی دریافت نے اس تلاش میں ایک نئے دور کا اضافہ کیا ہے۔ اب انسان نے یہ جانا کہ اس سوال کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) عملاً قابلِ دریافت نہیں ہے، لیکن اس کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect) بڑی حد تک قابلِ دریافت ہے۔ اب یہ ہوا کہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ کیفیاتی پہلو کچھ مخصوص لوگوں کی دریافت کے موضوع کی حیثیت سے باقی رہا۔ لیکن جہاں تک کمیاتی پہلو کا سوال ہے، سائنس دانوں کی پوری جماعت اس کی دریافت میں مشغول ہوگئی۔ اسی کو آج ہم سائنس کہتے ہیں۔

پھر اس قابلِ مشاہدہ پہلو کے دو حصے ہوگئے۔ ایک وہ جس کو نظری سائنس کہا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جس کو تطبیقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جدا بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے بھی۔

اس موضوع پر راقم الحروف نے کثیر تعداد میں مضامین لکھے ہیں۔ اگلے صفحات پر اس قسم کی کچھ مذہبی صداقتوںکا ذکر کیا جاتا ہے۔

وحید الدین

25مئی2020،نئی دہلی

خدا کی دریافت

Discovery of God

خدا کی فلسفیانہ تلاش (philosophical pursuit of God) کی تاریخ قدیم یونان کے دور تک جاتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ پہلا یونانی فلاسفر تھیلز آف میلٹس (Thales of Miletus)تھا، جس کا زمانہ 624-546 قبل مسیح ہے۔ فلسفہ (philosophy) اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی تلاش کا نام ہے۔لیکن فلسفہ کبھی خالق کی دریافت میں کامیاب نہ ہوسکا۔ فلسفہ کا موضوع وجود ہے:

Philosophy is the study of general and fundamental questions about existence, knowledge, values, reason, mind, and language.

یہ فلسفہ کے مضمون کا ظاہری بیان ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے فلسفہ حقیقت اعلیٰ (supreme truth) یعنی خداکی علمی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ تمام فلسفی کسی نہ کسی عنوان کے تحت حقیقت اعلیٰ کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش میں کامیاب نہ ہوسکا۔

فلسفيانه تلاش كي ناكامي

تمام فلسفيوں كا كيس ايك تھا، وه هے حقيقت كي تلاش۔ تمام فلسفيوں نےيه چاها كه وه سچائي كو علم كے راستے سے جانيں، ليكن تجربه بتاتا هے كه هر فلسفي اپني اس تلاش ميں ناكام رها۔ برطانوي فلسفي برٹرينڈ رسل كا معامله بھي يهي تھا۔  برطانی فلسفی برٹرینڈ رسل (1872-1970) کے بارے میں اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ برٹرینڈ رسل ایک ایسا فلسفی تھا، جو اپنا کوئی فلسفہ ڈیولپ نہ کرسکا:

Bertrand Russell was a philosopher of no philosophy

تمام عمر مطالعه كرنے كے باوجود برٹرینڈ رسل سچائي كو دريافت كرنے ميں ناكام رها۔ دوسرے فلسفيوں كا كيس بھي يهي هے۔ مگر دوسرے فلسفيوں نے اس حقيقت كا بهت كم اعتراف كيا، جب كه برٹرينڈ رسل نے كھلے لفظوں ميں اس حقيقت كا اعتراف كيا هے ۔ رسل كا يه اعتراف اس كي خود نوشت سوانح عمري ميں ديكھا جاسكتا هے۔

اس نے لكھا هے:’’جب ميں اپني زندگي كا جائزه ليتا هوں تو مجھے ايسا محسوس هوتا هے كه ميري زندگي ضائع هوگئي۔ ميں ايسي باتوں كو جاننے كي كوشش كرتا رها، جن كو جاننا ممكن هي نه تھا۔ ميري سرگرمياں بطورِ عادت جاري رهيں۔ ميں بھلاوے ميں پڑا رها۔ جب ميں اكيلا هوتا هوں تو ميں اس كو چھپا نهيں پاتا كه ميري زندگي كا كوئي مقصد نهيں، اور مجھے يه بھي نهيں معلوم كه نيا مقصدِ حيات كيا هے، جس ميں ميں اپني بقيه عمر كو وقف كروں۔ ميں اپنے آپ كو كامل تنهائي ميں محسوس كرتا هوں، جذباتي اعتبار سے بھي اور مابعد الطبيعياتي اعتبار سے بھي، جس سے ميں كوئي مخرج نهيں پاتا‘‘:

‘‘When I survey my life, it seems to me to be a useless one, devoted to impossible ideals. My activities continue from force of habit, and in the company of others, I forget the despair which underlies my daily pursuits and pleasure. But when I am alone and idle, I cannot conceal for myself that my life has no purpose, and that I know of no new purpose to which to devote my remaining years. I find myself involved in a vast mist of solitude both emotional and metaphysical, from which I can find no issue.’’

(The Autobiography of Bertrand Russell, 1950, p. 395)

مگر یہ بات صرف ایک فلسفی کی بات نہیں۔ بلکہ تمام فلسفیوں کا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے۔ حقیقتِ اعلیٰ (supreme reality) ہر فلسفی کی تلاش کا موضوع رها هے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش کا جواب نہ پاسکا۔

صحیح طریقِ کار

اس ناکامی کا راز یہ ہے کہ فلسفیوں کو اپنی تلاش کے لیے صحیح میتھڈالوجی کی دریافت نہ ہوسکی۔ قرآن میں صحیح طریقِ کار (methodology)کی نشاندہی کی گئی تھی۔ لیکن اس میتھڈالوجی کو انسان صرف اس وقت دریافت کرسکا، جب کہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی (1564-1642)نے دوربین(telescope) کو فلکیاتی مطالعے کےلیے استعمال کیا۔ گلیلیو گلیلی کو ماڈرن سائنس کا موجد (father of modern science) سمجھا جاتا ہے۔ جدید سائنس کا آغازاس وقت ہواجب انسان نے 1608ء میں ابتدائی طور پر دوربین ایجاد کی۔ گلیلیو نے 1609ءمیں دوربین کو مزید ڈیولپ کیا، اور پہلی بار دوربین کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کا مطالعہ کیا۔

اس معاملے کا آغاز حقیقۃً ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیغمبر موسی کے تجربےسے ہوا۔ یہ قصہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَل فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ(7:143)۔ یعنی اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہے تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلّی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ 

قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں:لَنْ تَرَانِي ( تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے)، اور آیت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں:وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ(میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں)۔ ان دونوں الفاظ کے فرق پر غور کیجیے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان براہ راست اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ وہ بالواسطہ طور پر اللہ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔

گلیلیو گلیلی

 راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس بالواسطہ طریقِ کار کا آغاز گلیلیو کے زمانے میںہوا، جب کہ گلیلیو نے دوربین کا استعمال کیا۔ یعنی دور بین کے ذریعے پہلی بار وہ سائنسی طریقِ کارشروع ہوا، جو حقیقت اعلیٰ کی معرفت کے لیے ضروری ہے۔

چنانچہ کوانٹم فزکس (quantum physics)کے زمانے میں یہ ثابت ہوا کہ مادہ (matter) کا آخری جزء سب ایٹمک پارٹکل (subatomic particle) ہے، اور سب ایٹمک پارٹکل براہِ راست طور پر قابلِ مشاہدہ نہیں۔ یہ سب ایٹمک پارٹکل مسلسل طور پر حرکت کی حالت میں رہتا ہے۔ اس حرکت کے دوران اس سے ہیٹ جنريٹ (heat generate) ہوتا ہے۔ یہ ہیٹ (heat)بالواسطہ طور پر قابلِ دریافت ہے۔ اس طرح مادہ کا آخری جزء قابلِ دریافت بن جاتا ہے۔یہی معاملہ خالق کائنات کا ہے۔ خالق کائنات بلاشبہ اپنا حقیقی وجود رکھتا ہے۔ لیکن انسان کی نسبت سے وہ صرف بالواسطہ طور پر قابلِ دریافت ہے۔ 

اصل یہ ہے کہ فلاسفہ خدا کی تلاش میں تو سرگرداں رہے، لیکن وہ کبھی یقین کے درجے میں خدا کی دریافت تک نہ پہنچ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کا طریقہ غیر عملی تھا۔ فلسفیانہ طریقے پر خدا تک پہنچنے والے تمام اہلِ علم خدا کی تلاش کے لیے صحیح میتھڈ (right method) دریافت نہ کرسکے۔ یہ تمام لوگ خدا کو براہِ راست دیکھنا چاہتے تھے، حالاں کہ خدا کی معرفت صرف بالواسطہ انداز میں ممکن تھی۔

ہر ایک نے یہ چاہا کہ وہ خدا کو براہ راست طور پر دریافت کریں، جیسے وہ عالم خلق کی دوسری چیزوں کو دریافت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ طریقہ خالق (خدا) کے معاملے میں قابلِ عمل نہ تھا۔ اس لیے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔ سیکولر فلاسفہ اور مذہبی متکلمین دونوں کا کیس اس معاملے میں ایک ہی ہے۔

اس معاملے کا صحیح طریقِ کار کیا ہے۔ اس کی رہنمائی تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی پیغمبر حضرت موسی کے قصے میں ملتی ہے۔ پیغمبر موسی ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کا قصہ تفصیل کے ساتھ قرآن میں آٰیا ہے۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ کوہِ طور پر پیش آیا، جو صحرائے سینا میں 2285 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس واقعے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا۔ خدا کے وجود کا علم انسان کو صرف بالواسطہ طور پر حاصل ہوتا ہے، یعنی تخلیق (creation)پر غور کرکے خالق (Creator)کے علم تک پہنچنا۔ پیغمبر موسی کے تجربے کی صورت میں یہ رہنمائی تاریخ میں ساڑھے تین ہزار سال سے موجود تھی، لیکن اہلِ علم کبھی اس طریقِ کار (methodology) کو اختیار نہ کرسکے۔ وہ بدستور اس کوشش میں لگے رہے کہ وہ خالق کو براہ راست دریافت کرسکیں۔

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔یعنی بےشک اللہ ضرور ہی اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں الرجل الفاجر سے مراد سیکولر انسان ہے۔ اس طرح حدیث میں مستند طور پر یہ سراغ (clue) موجود تھا کہ اس معاملے میں ایک سیکولر انسان ہوگا جو ابتدائی رہنمائی فراہم کرے گا۔ لیکن فلاسفہ اور مسلم متکلمین دونوں اس معاملے میں صحیح رہنمائی تک نہ پہنچ سکے۔

راقم الحروف لمبی مدت تک اس موضوع پر غور کرتا رہا ہے،اور آخر کار اس دریافت تک پہنچا کہ صحیح البخاری میں جس الرجل الفاجر (سیکولر انسان) کا ذکر ہے، غالباًان میں ایک اٹلی کا سائنسداں گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) ہے، جو چار سو سال پہلے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں گلیلیو کا رول چونکہ براہ راست نہیں تھا، بلکہ بالواسطہ تھا۔ یعنی اس کی دریافت سے بالواسطہ طور پر اس سوال کا جواب مل رہا تھا کہ خدا کی معرفت تک پہنچنے کا طریقِ کا ر (method) کیا ہے۔

گلیلیو گلیلی کے زمانے میں ایک واقعہ ہوا، جس کو نیوٹن کے ایپل شاک (apple shock) کی طرح ٹیلی شاک (tele-shock) کہا جاسکتا ہے، یعنی دوربین کی دریافت۔آئن سٹائن نے لکھا ہے کہ گلیلیو جدید سائنس کا بانی تھا:

Galileo was the—‘‘father of modern science.’’

یہ ایک حقیقت ہے کہ گلیلیو سے سائنس میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن اس دور کے آغاز کا اصل سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں دور بین (telescope) کو 1608 میں  ابتدائی طور پر ہالینڈ میں ایجاد کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1609 میں گلیلیو نے اس دوربین کا ترقي يافته ورژن (developed version) خود سے تیار کیا،اورپہلی بار دور بين كو استعمال کرکے شمسی نظام (solar system)کا جزئی مشاہدہ کیا ۔ اس مطالعے کے ذریعے گلیلیو نے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ ارسطو کا قدیم نظریہ غلط تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔

اس نظریے کو علم کی زبان میں ہیلیو سینٹرک تھیَری (heliocentric theory) کہاجاتا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے دنیا میں جیو سینٹرک تھیَری (geocentric theory) کا رواج تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح نیوٹن کی کشش ثقل کا نظریہ ایپل شاک کے واقعے کے بعد دریافت ہوا، اسی طرح گلیلیوکی دریافت کا آغاز’’ٹیلی شاک‘‘ کے بعد پیش آیا۔ یہی واقعہ جدید سائنس (modern science)کے آغاز کا سبب بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دور بین کی ایجاد سے نئے سائنسی دور کا آغاز ہوا، اور اس امکان کو پہلی بار جس نے استعمال کیا، وہ اٹلی کا سائنس داں گلیلیو گلیلی تھا۔

الکسس کیرل کا تبصرہ

گلیلیو کو جدید سائنس کا بانی اس لیے کہاجاتا ہے کہ گلیلیو نے ایک چیز کو دوسری چیز سے ڈی لنک (delink) كرديا۔ اس تعلق سے ڈاکٹر الکسس کیرل(1873-1944) لکھتے ہیں— گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں، اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، ان ثانوی صفات سے الگ کردیا، جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں، اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمیت کو کیفیت سے جدا کردیا:

Galileo, as is well known, distinguished the primary qualities of things, dimensions, and weight, which are easily measurable, from their secondary qualities, form, colour, odour, which cannot be measured. The quantitative was separated from the qualitative. The quantitative, expressed in mathematical language, brought science to humanity. The qualitative was neglected. (Man, the Unknown, New York, 1939, p. 278)

کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) کو کمیاتی پہلو (quantitative aspect) سے الگ کرنے کے معاملے کو الکسس کیرل نے بظاہر ایک منفی واقعے کے طور پر بیان کیا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی وہ واقعہ ہے، جو سائنس میں نئے انقلاب کا سبب بنا۔ اس علاحدگی (delinking) نے سائنسی تحقیق کے بند دروازے کو کھول دیا، جو فلسفہ کے زیرِ اثر سائنس پر بند پڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد ہر سائنسی شعبہ ، فزکس(physics)، فلکیات(astronomy)، کیمسٹری (chemistry)،وغیرہ ، میں تحقیقات ہونے لگیں۔ ان تحقیقات کا براہِ راست تعلق مذہب سے نہ تھا، مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری طرح مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ سائنس کے شعبوں میں آزادانہ طور پر تحقیق ہونے لگی۔ اس طرح جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے والی تھیں۔

عملی طور پر گلیليو گليلي کے اس طریقِ کار کا مطلب تھا — اشیا کے قابل مشاہدہ جزء (observable aspect)کو اشیا کے ناقابل مشاہدہ جزء (unobservable aspect)سے الگ کردینا۔ اس سے پہلے اہلِ علم دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) نہیں کرسکے تھے۔ وہ ناقابل مشاہدہ پہلو کی دریافت میں مشغول ہونے کی بنا پر قابلِ مشاہدہ پہلو کی دریافت سے محروم بنے ہوئے تھے۔ اب یہ ہوا کہ سارا فوکس چیزوں کے قابلِ مشاہدہ پہلو پر آگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ قابلِ مشاہدہ پہلو کو دریافت کرکے ناقابلِ مشاہدہ پہلو تک پہنچنا ممکن ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ علمی طور پر یہ ممکن ہوگیا کہ قابل مشاہدہ مخلوق کو دریافت کرکے ناقابل مشاہدہ خالق کی بالواسطہ معرفت حاصل کی جاسکے،یعنی وہ طریقہ جس کو استنباطی طریقہ (inferential method) کہا جاتا ہے۔

سائنسی تحقیق میں اس طریقِ کار کے استعمال کے نتیجے میں بالواسطہ انداز میں خدائی حقیقتیں قابلِ دریافت ہوگئیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں اس موضوع پر بڑی تعداد میں مقالات اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔یہاں اس قسم کی صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے:

 The Evidence of God in an Expanding Universe: Forty American Scientists Declare Their Affirmative Views on Religion  (John Clover Monsma, G. P. Putnam's Sons, 1958,  pp. 250)

اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔اس کا عربی ٹائٹل یہ ہے:

اللہ یتجلی فی عصر العلم

مترجم: الدمرداش عبد المجید سرحان، مؤسسة الحلبى وشرکاہ للنشر والتوزیع، 1968۔

راقم الحروف اپنے بارے میں شاید یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اس کام کو اپنا اصل موضوع بنایا۔ وسیع مطالعے کے بعد میں نے اس موضوع پر بہت سے مقالے اور کتابیں شائع کیں۔ ان میں سے ایک بڑی کتاب وہ ہے جو اردو زبان میں مذہب اور جدید چیلنج کے نام سے1966 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کیا۔ عربی ٹائٹل کا نام ہے: الاسلام یتحدی۔ یہ عربي ورژن پہلی بار قاہرہ سے 1976میں چھپا، اور یہ 196 صفحات پر مشتمل تھا۔اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن بار بار شائع ہوتے رہے ۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، گاڈ ارائزز (God Arises)کے نام پہلی بار 1987 میں دہلی سے شائع ہوا۔

کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) کو کمیاتی پہلو (quantitative aspect)  پہلوؤں کی تفریق (delinking) کے بعد جو سائنسی معلومات سامنے آئیں، ان کو استعمال کرکے مذہب کی صداقت از سرِ نو ثابت شدہ بن گئی۔

 

ايمان بالغيب

قرآن كي سوره البقره ميں آیا هے:الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (2:3)۔ يعني هدايت ياب لوگ وه هيں، جو غيب پرايمان ركھتے هیں۔ غيب پر ايمان كا معامله ساده طورپر صرف عقيدے كا معامله نهيں هے، وه براهِ راست طورپر هدايت كے معاملے سے جڑا هوا هے۔ جس آدمي كے اندر ايمان بالغيب كي صفت هو، اُسي كو هدايت ملے گي۔ جو آدمي ايمان بالغيب كي صفت سے محروم هو، اس كو كبھي هدايت ملنے والي نهيں۔ جب تمام حقيقتيں غيب ميں هو ں تو اعلي حقيقت كي دريافت كا معامله اس سلسلے ميں استثنا (exception) نهيں هوسكتا۔

غيب كا لفظ عربي زبان ميں صرف غير موجود کے معني ميں نهيں هے۔ غيب كا لفظ ايسي چيز كے ليے بولا جاتا هے جو اگرچه غير مشهود(invisible) هو، مگر وه غير موجود (non-existent)نه هو، يعني جب ايك چيز موجود هوتے هوئے دكھائي نه دے تو اس كے ليے غيب كا لفظ بولا جائے گا۔ الله كا معامله يهي هے۔ الله اگر چه بظاهر غيب ميں هے، مگر به اعتبارِ حقيقت ، وه تمام موجود چيزوں سے زياده موجود هے۔ اِس آيت ميں ايمان بالغيب سے اصلاً ايمان بالله مراد هے، مگر تبعاً اِس ميں وه تمام متعلقاتِ ايمان شامل هيں، جن پر ايك مومن كے ليے ايمان لانا ضروري هے۔ مثلاً وحي، ملائكه، جنت اور جهنم، وغيره۔

اصل يه هے كه هم چيزوں كو دو طريقوں سے جانتے هيں — ايك، مشاهده (observation)، اور دوسرا استنباط (inference)۔ سائنسي اعتبار سے، يه دونوں طريقے يكساں طورپر معتبر هيں۔ اعتباريت (validity) كے لحاظ سے، دونوں كے درميان كوئي فرق نهيں۔

موجوده زمانے ميں سائنس كو علمي مطالعے كا ايك معتبر ذريعه سمجھا جاتا هے۔ سائنس كے دو حصے هيں — ايك هے، نظري سائنس (theoretical science) ، اور دوسرا هے، فني سائنس (technical science)۔ سائنسي مطالعے كے مطابق، فني سائنس كا دائره بهت محدود هے۔ فني سائنس كے ذريعے چيزوں كے صرف ظواهر (appearance)كو ديكھا جاسكتا هے، ليكن تمام چيزيں جو بظاهر دكھائي ديتي هيں، وه اپنے آخري تجزيے ميں غير مرئي (invisible) هوجاتي هيں۔ مثلاً آپ پھول كو ديكھ سكتے هيں، ليكن پھول كي خوشبو كو آپ نهيں ديكھ سكتے۔ پھول كي خوشبو كو كسي بھي خورد بين (microscope) يا دور بين (telescope) كے ذريعے ديكھنا ممكن نهيں۔ حالاں كه جس طرح پھول كا وجود هے، اِسي طرح پھول كي خوشبو كا بھي وجود هے۔

سائنسي مطالعے كے مطابق، تمام چيزيں آخر كار ايٹم كا مجموعه هيں، اور ايٹم اپنے آخري تجزيے ميں اليكٹران (electron) كا مجموعه هے۔ ايك پولش امریکن سائنس داں،الفریڈ کورزبسکی (Alfred  Korzybski, 1879-1950) نےاِس حقيقت كا ذكر كرتے هوئے لكھا هے كه پوري كائنات ناقابلِ مشاهده اليكٹران كا مجنونانه رقص (mad dance of electrons) هے۔ ايك اور سائنس داں نے كائنات كي ا ِسي غير مرئي حيثيت كي بنا پر كائنات كو امكان كي لهروں (waves of probability) سے تعبير كيا هے۔

اِس اعتبار سے يه كهنا درست هوگاكه صرف بظاهر غير مشهود خالق (Creator) هي غيب ميں نهيں هے، بلكه بظاهر مشهود تخليق (creature) بھي حالتِ غيب ميں هے۔ برٹش سائنس داں سرآرتھر ايڈنگٹن (وفات 1944) نے اِس موضوع پر ايك كتاب لكھي هے، اس كتاب كا نام يه هے:

Science and the Unseen World by A. S. Eddington, Macmillan, 1929, pages 91

حقيقت يه هے كه اِس دنيا ميں هم جن چيزوں كو ديكھتے هيں، هم اُن كے صرف ظاهر كو ديكھتے هيں، چيزوں كي اصل حقيقت همارے ليے پھر بھي غير مشهود (unseen) رهتي هے۔ يهي معامله خدا كا هے۔ خدا اپني ذات كے اعتبار سے، بظاهر غير مشهود هے، ليكن اپني تخليق كے اعتبار سے، خدا همارے ليے مشهود بن جاتا هے۔ تخليق كا موجود هونااپنے آپ ميں خالق كے موجود هونے كا ثبوت هے۔ كائنات اتني زياده بامعني (meaningful) هے كه خالق كو مانے بغير اس كي توجيه سرے سے ممكن هي نهيں۔

الله رب العالمين كا حالتِ غيب ميں هونا ايك اعتبار سے امتحان (test) كي مصلحت كي بنا پر هے۔ الله اگر آنکھوں سے دكھائي دے تو امتحان كي مصلحت ختم هوجائے گي۔ الله غيب ميں هے، اِسي ليے اُس پر ايمان همارے ليے ايك امتحاني پرچه (test paper) هے۔ الله اگرآنکھوں کےسامنے هوتا تو اس پر ايمان لانا انسان كے ليے اس كے امتحان كا پرچه نه بنتا۔ الله كا اور اس سے متعلق ايمانيات كا غيب ميں هونا انسان كے ليے ايك عظيم نعمت كي حيثيت ركھتا هے۔ كيوں كه اسي كي وجه سے انسان كے ذهن ميں غور وفكر كا عمل (process of thinking)جاري هوتا هے۔ اِسي كي بنا پر ايسا هے كه همارے ليے تدبر كا ايك كبھي نه ختم هونے والا ميدان موجود هے۔ اِسي بنا پر ايسا ممكن هوتا هے كه هم الله كو دريافت (discovery) كے درجے ميں پائيں۔ اِسي بنا پر يه ممكن هے كه خدا كي معرفت همارے ليے ايك خود دريافت كرده حقيقت (self-discovered reality) هو، اور بلاشبه يه ايك واقعه هے كه خود دريافت كرده حقيقت سے زياده بڑي كوئي اور چيز اِس دنيا ميں نهيں۔ الله كا اور اُس سے متعلق ايمانيات كا انسان كے ليے غيب ميں هونا، انسان كے ليے ذهني ارتقا (intellectual development) كا ايك لامتناهي ذريعه  (endless source) كي حيثيت ركھتا هے۔

هدايت كے ليے ايمان بالغيب كي شرط كوئي تحكُّمي (arbitrary) شرط نهيں هے، بلكه وه انسان جيسي مخلوق كے ليے ايك نهايت معقول شرط هے۔ كسي بھي بڑي حقيقت كو سمجھنے كے ليے هميشه بيدار شعور (awakened mind) دركار هوتا هے۔ جس انسان كا شعور بيدار هو، وهي اِس قابل هوتا هے كه وه كسي بڑي حقيقت كو سمجھ سكے۔ خدا بلا شبه سب سے بڑي حقيقت هے۔ اِس ليے خدا پر ايمان يا خدا كي معرفت حقيقي طورپر صرف اُس انسان كو حاصل هوگي، جو مطالعه اور غوروفكر كے ذريعے اپنے شعور كو بيدار كرچكا هو۔ جس انسان كا شعور بيدار نه هو، وه گويا ذهني اندھے پن (intellectual blindness)ميں مبتلا هے، اور بلا شبه ذهني اندھے پن كے ساتھ خداوندِ عالم كي معرفت كسي انسان كو نهيں مل سكتي۔

 

کائنات کی توجیہ

طبیعیات کے جدیدمطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے خلا میں ایک کاسمک بال تھا، اس کاسمک بال میں دھماکہ ہوا جس کو بگ بینگ کہاجاتاہے۔ یہ کائنات کا آغاز تھا۔ مطالعہ مزید بتاتاہے کہ دھماکے کے بعد ایک سیکنڈ کے اندر ایک اور واقعہ ہوا جس نے ذروں کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ خلا کی وسعت میں پھیلا دیا۔ اس کے بعد تدریجی طور پر موجودہ کائنات بنی۔

ایٹمی ذرات کے رفتار میں تبدیلی ایک بے حد انوکھا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ اپنے آپ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک انٹروینر (intervener) کو بتاتا ہے۔ اتفاق (accident) جیسے الفاظ اس کی توجیہ نہیں کرسکتے۔ یہ ایک بے حد بامعنی واقعہ تھا اور صرف ایک بامعنی توجیہ (meaningful explanation) ہی اِس واقعے کی تشریح کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کی دریافتوں نے انسان کو معرفتِ الٰہی کے عین دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ اب صرف اتنا ہی باقی ہے کہ لفظی طورپر اس کا اعتراف کرلیا جائے۔

Universe Origins: Giant Boost for Big Bang Theory

London: An international team of astrophysicists has discovered the signal left in the sky by the super-rapid expansion of space that would have occurred fractions of a second after everything came into being following the Big Bang. Announcing their finding over a global press call, scientists from Harvard Smithsonian Centre for Astrophysics said researchers from the BICEP2 (Background Imaging of Cosmic Extragalactic Polarization) collaboration have found this first direct evidence for this cosmic inflation, a theory pioneered by Prof Alan Guth among others. Almost 14 billion years ago the universe burst into existence in an extraordinary event that initiated the Big Bang, they said. It has been theorized that in the first fleeting fraction of a second the universe expanded exponentially in what is described as the first tremors of the Big Bang, stretching far beyond the view of our best telescopes. Their data also represents the first images of gravitational waves or ripples in space-time. The team analysed their data for more than three years in an effort to rule out any errors. They also considered whether dust in our galaxy could produce the observed pattern, but the data suggest this is highly unlikely. Harvard theorist Avi Loeb said this work offers new insights into some of our most basic questions: Why do we exist?  How did the universe begin? These results not only offer strong evidence for inflation, but they also tell us when inflation took place and how powerful the process was. These ground-breaking results came from observations by the BICEP2 telescope of the cosmic microwave background, a faint glow left over from the Big Bang.  (The Times of India, New Delhi, March 19, 2014, p. 23)

 

خلّاق علیم

اللہ رب العالمین کی ایک صفت خلَّاق علیم ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: :أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ (36:81)۔ یعنی کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کردے۔ ہاں وہ قادر ہے۔ اور وہی ہے بڑاپیدا کرنے والا، جاننے والا۔

اس آیت میں جس طرح خلّاق (the Great Creator) آیا ہے، اسی طرح اس میں علیم سے مراد علّام (the Great Knower) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمین خلّاق اور علّام ہے۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات اپنے آپ میں ا س کا ثبوت ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن کی ایک آیت میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے:أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوںرَتق کی حالت میں تھے، پھر ہم نے ان کو فتق کیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔

رَتْق کا مطلب ہے منضم الاجزاء (joined together)، اور فَتْق کا مطلب ہےپھاڑنا (to tear apart)۔ اس آیت کی ابتدا میں أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا (کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ رتق اور فتق کا یہ واقعہ انسان کے لیے مشاہدہ کے درجے میں ایک معلوم واقعہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ واقعہ سائنسی دریافتوں کے نتیجے میں علمی طور پر ایک معلوم واقعہ بن چکا ہے۔ جس کو عام زبان میں بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ سائنسی دریافت کے مطابق، بگ بینگ کا واقعہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے خلا (space) میں پیش آیا۔ اس واقعہ کی جو تفصیلات سائنس نے دریافت کی ہے، وہ قرآن کے بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔

اس دریافت کے مطابق، بگ بینگ کا فلکیاتی واقعہ حیرت انگیز طور پر اس بات کا سائنسی ثبوت ہے کہ کائنات کا پیدا کرنے والا خلّاق بھی ہے اور علّام بھی۔ یعنی وہ عظیم خالق بھی ہے، اور عظیم جاننے والا بھی۔ کائنات کا پیدا کرنے والا اگرخلَّاق (بڑا پیدا کرنے والا) اورعلّام (بڑا علم والا) نہ ہو تو کائنات کا وجود میں آنا ہی ناممکن ہوجاتا۔ خلّاق اور علّام کے الفاظ صرف پیدائش کی خبر نہیں ہے، بلکہ وہ پیدائش کے واقعہ کی دلیل بھی ہے۔

سائنس نے جس کائناتی واقعہ کو دریافت کیا ہے، وہ یہ ہے کہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے اچانک خلا میں ایک بہت بڑا ایٹم ظاہر ہوا اس سوپر ایٹم (super atom)کے اندر وہ تمام پارٹکل موجود تھے، جن کے مجموعے سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ پھر اچانک اس سوپر ایٹم میں بہت بڑا دھماکہ ہوا۔ اس عظیم دھماکے کے بعد سوپر ایٹم کے تمام پارٹکل غیر معمولی تیزی کے ساتھ خلا میں دوڑنے لگے۔ان کی رفتار (speed)بے حد تیز تھی۔ اگر پارٹکل کا یہ انتشار اسی تیزی کے ساتھ جاری رہتا تو موجودہ کائنات کا بننا ناممکن تھا۔ کیوں کہ اس کے تمام پارٹکل بے حد تیزی کے ساتھ خلا میں منتشر ہوجاتے۔ ان کا اجتماع ناممکن ہوجاتا۔ اس لیے کائنات کا بننا بھی ناممکن ہوجاتا۔

سائنسی دریافت بتاتی ہے کہ سوپر ایٹم کے پھٹنے کے بعد کچھ سیکنڈوں کے اندر پارٹکل کے انتشار کی رفتار اچانک کم ہوگئی۔ رفتار کا یہ کم ہوجانا بے حد اہم تھا۔ کیوں کہ اسی کی وجہ سے منتشر پارٹکل دوبارہ مجتمع ہونے لگے، اور ان کے اجتماع سے تمام ستارے اور کہکشائیں، اور شمسی نظام، وغیرہ، وجود میں آئے۔

  یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جس ہستی نے سوپر ایٹم میں یہ انفجار برپا کیا، وہ سب سے زیادہ طاقت ور ہونے کے ساتھ سب سے بڑا جاننے والا بھی تھا۔ اس واقعے کا اس کےخالق کو پیشگی علم تھا۔ اس علم کے مطابق اس نے اس معاملے کی پلاننگ کی۔ سیکنڈ کے فریکشن میں ہونے والے اس واقعے کا اس کو پیشگی علم نہ ہوتا تو ساری پلاننگ عبث ہوجاتی، اور کائنات کاوجود میں آنا ناممکن ہوجاتا۔ یہ سائنسی دریافت رب العالمین کے خلّاق وعلّام ہونے کا ایک یقینی ثبوت ہے۔

 

بگ بینگ، لٹل بینگ

انسان ہمیشہ یہ سوچتا رہا ہے کہ موجودہ کائنات کیسے بنی۔ وہ عقلی سطح پر اِس کا جواب پانا چاہتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پہلی بار انسان کواِس کا عقلی جواب ملا۔ فلکیاتی سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے، خلا میں ایک انفجار(explosion)ہوا۔ اِس انفجار کو عام طورپر بگ بینگ (Big Bang)کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی سائنس کے اعتبار سے، اِسی بگ بینگ کے بعد بتدریج موجودہ کائنات وجود میں آئی۔

تاہم ایک سوال کا عقلی جواب ابھی باقی تھا، وہ یہ کہ ہمارا شمسی نظام(solar system) کیسے بنا۔ شمسی نظام، ساری کائنات میںایک استثنائی نظام ہے۔ اِس نظام کے اندر سیارۂ زمین ایک انتہائی استثنائی قسم کا سیارہ ہے۔ علمائےفلکیات اِس بات کی عقلی توجیہ نہیں کرسکے تھے کہ کائنات میں استثنائی قسم کا موجودہ شمسی نظام کیسے بن گیا۔

بگ بینگ کی دریافت کے تقریباً سو سال بعد، اکیسویں صدی کے رُبعِ اول میں، سائنس دانوں نے سوئزر لینڈ میں کچھ خصوصی تجربات کیے۔ اِن تجربات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ بگ بینگ کے واقعے کے بہت بعد خلا میں ایک چھوٹا انفجار ہوا۔ اِس کو سائنس دانوں نے لٹل بینگ (Little Bang) کا نام دیا ہے۔ اِس لٹل بینگ کے بعد شمسی نظام وجود میں آیا اور بتدریج وہ استثنائی سیارہ بنا جس کو زمین (planet earth)کہا جاتا ہے۔

بگ بینگ اورلٹل بینگ کی یہ دونوں سائنسی دریافتیں بتاتی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ایک اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کے ذریعے ہوئی۔ یہ کائنات کسی اتفاق (accident) کے ذریعے وجود میں نہیں آئی، بلکہ وہ ایک بالقصد منصوبے کے ذریعے وجود میں آئی۔ یہ واقعہ اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اِس کائنات کی ایک منزل ہے۔ یہ کائنات پورے معنوں میں ایک با معنیٰ کائنات ہے، اور ایک بامعنیٰ کائنات کسی بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔

چھ بينگ

بيسويں صدي كے آغاز ميں اُس فلكياتي واقعے كي دريافت هوئي جس كو عام طورپر بگ بينگ (Big Bang)  كها جاتا هے۔ اِس واقعے كو يه نام برٹش سائنس داں فريڈ هائل (Fred Hoyle) نے ديا تھا جس كي وفات 2001 ميں هوئي۔ بگ بينگ كے بعد خلا ميں جو واقعات پيش آئے، اُن ميں سے ايك واقعه وه هے جس كو سولرسسٹم (solar system) كها جاتا هے۔ سولر سسٹم كو ايك امريكي سائنس داں الان باس (Alan P. Boss, b. 1951) نے لٹل بينگ (Little Bang) كا نام ديا۔تسميه (nomenclature) كے اِس اصول كو لے كر ميں نے سوچا تو ميري سمجھ ميں آيا كه پوري تاريخ ميں چھ قسم كے بينگ جيسے واقعات پيش آئے هيں۔ وه چھ بينگ يه هيں:

(1)  بگ بينگ (Big Bang)

(2) شمسی نظام (Little Bang)

(3)  واٹر بينگ (Water Bang)

(4)  پلانٹ بينگ (Plant Bang)

(5)  اينمل بينگ (Animal Bang)

(6)  ہیومن بينگ (Human Bang)

سائنس دانوں نے كائنات ميں اِس طرح كے چھ ادوار كي نشان دهي نهيں كي هے، ليكن سائنس نے كائنات كے بارے ميں جو معلومات فراهم كي هيں، اُن كو لے كر جب غور كيا جائے تو بظاهر يه بات درست معلوم هوتي هے كه كائنات ميں تخليق كا جو عمل هوا هے، اُس كے غالباً يهي چھ ادوار هيں۔ اب تك كي سائنسي معلومات اِس تقسيمِ ادوار كي بظاهر تصديق كرتي هيں۔اِس اعتبار سے چھ ادوار كي تقسيم بالواسطه طور پر ايك سائنسي تقسيم هے۔

 

بگ بینگ، ایک منظم واقعہ

موجوده زمانے كے فلكياتي نظريات ميں سے ايك نظريه وه هے، جس كو بگ بينگ كها جاتا هے۔ اندازه هے كه تقريباً 13.8 بلين سال پهلے كائنات(universe)ايك سمٹے هوئے واحد مادے (singularity)كي صورت ميں تھي۔ يه ابتدائي مادّه جس كو بعض سائنس دانوں نے ’’سپرايٹم‘‘ كانام ديا هے، اس كے تمام اجزاء اندر كي طرف شدت سے كھنچے هوئے تھے — اس كے بعد اس ابتدائي ماده ميں زبردست دھماكه هوا۔ اس دھماكه كے نتيجے ميں اس كے اجزاء چاروں طرف پھيلنے لگے، اور بالآخر موجوده كائنات اپنے تمام ستاروں اور سياروں سميت بن گئي۔

ٹائمس آف انڈیا (11 دسمبر 1977) میں چھپی خبر کے مطابق، كيلي فورنيا كے دو سائنس داں ايسے نئے حقائق تك پهنچے هيں، جن سے معلوم هوتا هے كه بڑا دھماكه (بگ بينگ) اس سے بهت زياده پرسكون اور منظم واقعه (orderly event)تھا جتنا كه عام طور پر سمجھا جاتا هے۔ امريكا کے خلائی اداره ناسا كے ايك اعلاميه ميں ڈاكٹر رچرڈ ملر(Richard A. Muller, b. 1944) اور ڈاكٹر جارج اسموٹ (George Fitzgerald Smoot, b. 1945) نے كها هے كه انھوںنے اپني تحقيق ميں پايا كه كائنات اپنے چاروں طرف بالكل يكساں رفتار سے پھيل رهي هے۔

اكثر سائنس داں يه يقين ركھتے هيں كه كائنات ايك عظيم دھماكه سے شروع هوئي۔ كچھ كا خيال هے كه يه ايك منتشر حالت تھي، جس سے مادّه ميںايك بھنور كي كيفيت پيداهوئي۔ مگر جديد شواهد بہ ظاهر بتا رهے هيں كه معروف معنوں ميں يه كوئي ’’دھماكه‘‘ نهيں تھا۔ بلكه اخراجِ طاقت (energy release) كا ايك پرسكون واقعه تھا، جس كي حقيقت ابھي هم سمجھ نهيں سكے۔ يه اس سے بهت زياده پيچيده واقعه تھا جيسا اب تك سمجھا جاتا رها هے۔

دونوں سائنس دانوں كے نظريات كي بنياد وه بيك گراؤنڈ شعاعيں هيں جو ناسا كے يو-2 جهاز ميں لگے هوئے نازك آلات نے دریافت کیے هيں۔ يه مخصوص جهاز 20 هزار ميٹر كي بلندي تك اڑايا گيا تھا۔ خيال كيا جاتاهے كه يه شعاعيں ابتدائي دھماكے كے وقت نكلي تھيں۔ ان شعاعوں كا علم ابتدا میں 1965 ميں هوا تھا۔ يو-2 جهاز نے معلوم كيا هے كه يه شعاعيں كائنات كے هر حصے ميں پائي جاتي هيں۔ ان ميں اتني نظم وترتيب هے كه ان كے ذريعے آسماني اجرام كي رفتار كو نهايت صحت كے ساتھ ناپ كر معلوم كيا جاسكتا هے۔

تاهم جو پيمائش كي گئي هے، ان سے نظم وضبط ميں ايك استثنا (exception) كا علم هوا هے۔ زمين، همارا شمسي نظام اور هماري كهكشاں) جس ميں شمسي نظام واقع هے( بقيه اجرام سماوي كے مقابلے ميں ايك ملين ميل في گھنٹے كي رفتار سے عليحده هورهے هيں۔ ’’يه صورتِ حال همارے مسلَّمات كے كسي قدر خلاف هے۔‘‘ ڈاكٹر اسموٹ نے كها ’’كيوں كه اگر هماري كهكشاں بقيه كائناتي توسيع كے هم آهنگ هو تو اس كو موجوده رفتار كے مقابلے ميں 1/6 رفتار سے سفر كرنا چاهيے۔‘‘ هماري كهكشاں كيوں اس طرح استثنائي انداز ميں سفر كررهي هے، اس كي وجه هم نهيں جانتے۔ اس بنيادي سوال كا جواب بھي ابھي تك لامعلوم هےكه كائنات كے ماده ميں ابتدائي حركت يا دھماكه كا آغاز كيوں كر هوا۔

The 'big bang' was not all that big

WASHINGTON, December 10 (Reuters), TWO California scientists have come up with new data suggesting that the big bang," which brought the universe into being some 15 billion years ago, was a much smoother and more orderly event than popularly imagined.

In an announcement from the National Aeronautics and Space Administration (NASA) recently, Dr. Richard Muller and Dr. George Smoot of the University of California said they had found that the universe was expanding at a constant rate in almost all directions.

The new findings "take the simplistic big bang theory a long step down the road and give us a model that will eventually help to unravel the mystery of how the universe was formed," Dr Smoot said in an interview.

Most astronomers believe the universe began with a huge explosion, some think this was a chaotic mess, occurring at different speeds in different places, giving rise to great swirls of matter.

Others see it as a homogeneous event, sending newly formed matter out in all directions in the same speed.

But the new findings seem to indicate that the bang was smoother than even the “homogeneous school" had expected.

It appears, said Dr Smoot, that "there was no explosion such as a Super Nova (large exploding star), but rather some sort of energy release which we don't understand yet.

"We're really giving added weight to the big bang theory. But it is an infinitely more complex process than the originators conceived it to be."

BACKGROUND RADIATION

The two scientists base their ideas on readings of background radiation detected by sensitive instruments aboard a NASA U-2 aircraft at an altitude of 20,000 meters. This plane, a type most famous for spy flights over the Soviet Union and Cuba in the late 1950s and early 60s, is also used for agricultural and earth resources photography, NASA said.

Background microwave radiation, discovered in 1965, is thought to be the heat left over after the bang.

But the U-2 fighters found that the radiation was the same in all sectors of the sky, indicating there is no central core of the universe and have no single primal explosion at one "spot"

The radiation is so regular that it allows the measurement of motion of heavenly bodies just as resistance to water allows ship ship’s speed to be measured.

And these measurements reveal one exception to regularity: the earth, our solar system, and our galaxy —the Milky Way—are out of step with the rest of the Hydra at more than one million miles per hour.

"This is a slight paradox", Dr. Smoot said. "Because if our galaxy was constant with the rest of the universal expansion, it should only be travelling at about one-sixth that rate of speed."

Why the Milky Way is acting this way remains unknown though Dr Bernard Jones of England's Cambridge Institute of Astronomy has suggested that the entire universe might be slightly top sided, with more matter on one side than on the other.

The gravity of this matter could be tugging the Milky Way, but in that case other galaxies would be affected.

The fact remains that the two scientists found none of the swirls of radiation a chaotic explosion might have caused.

The basic Smoot-Muller model of the universe is one of clusters of galaxies moving away from one another at a constant rate towards the end of the universe—if it has ends.

The model, mere complex than idea of a messy explosion still leaves the basic question unanswered: how did the original bang come about?

Some astronomers speculate that it was caused by the collision of matter and anti-matter. This theory holds that there was originally slightly more matter than anti-matter, so some matter was left over after the blast. (The Times of India, December 11, 1977)

 

ایک تقابل

قرآن میں انسان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ غیب کی بات کو نہیں جانتا:قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ (7:188)۔ یعنی کہو، میں مالک نہیں اپنی ذات کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے ليے حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔

یہ انسان کا معاملہ ہے۔ انسان خواہ وہ عام انسان ہو یا پیغمبر ،وہ غیب (unseen) کو نہیں جانتا۔ یعنی کل کیا ہوگا، اس سے انسان بے خبر ہوتا ہے۔ انسان آج کے علم کے تحت ایک کام کرتا ہے، لیکن کل کیا ہونے والا ہے، اس سے انسان مکمل طو رپر بے خبر ہوتا ہے۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ آئندہ آنے والے نقصان سے خود کو بچالے۔ اس کے مقابلے میں اللہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ علّام الغیوب ہے،یعنی چھپی ہوئی باتوں کو بہت زیادہ جاننے والا۔ انسان اور خدا کے درمیان اس فرق سے ایک تقابل کا اصول ملتا ہے۔ یعنی وبضدها تعرف الأشياء:

It is in comparison that you understand

انسان کا کوئی کام خالی ازنقص(free from defect) نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اللہ رب العالمین کی تخلیق کے جو نمونے ہمارے سامنے ہیں، وہ کامل معنوں میں نقص سے خالی ہیں۔ انسان کی کوئی بھی انڈسٹری نقص (defect) سے پاک نہیں ہوتی، لیکن اللہ رب العالمین کا بنایا ہوا، شمسی نظام  مکمل طو رپر زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کا نمونہ ہے۔ یہ فرق خالق کے وجود کا ایک یقینی ثبوت ہے۔

اس لیے بیسویں صدی میں ترقی یافتہ ملکوں نے بہت زیادہ کوشش کی کہ وہ اپنی انڈسٹری میں زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم کریں، جیسا کہ وہ فطرت (nature) کی دنیا میں عملاً قائم هے۔ مگر اس معاملے میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی، اور آخر میں یہ مان لیا گیا کہ انسان کا بنایا ہوا کوئی نظام زیرو ڈفکٹ نظام نہیں ہوسکتا۔ یہ فرق خالق کے وجود کا ایک یقینی ثبوت ہے۔ 

 

بے نقص کائنات

کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص (zero-defect)کائنات ہے۔قرآن میں کائنات کے اس پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: یعنی جس نے بنائے سات آسمان درجہ بدرجہ، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے (ھَلْ تَرَى مِنْ فُطُور) ۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی (67:3-4)۔

قرآن کی اس آیت میں کائنات کوبے فطور (flawless) کہا گیا ہے ۔ جس وقت قرآن میں یہ آیت اتری، اس وقت انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ انسان سورج چاند کو دیکھتا تھا، سمندروں اور پہاڑوں کو دیکھتا تھا۔ اس سے اس کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا تھا۔ اس سے کائنات کی پرستش (nature worship) کا تصور پیدا ہوا۔ خالق کا جو اصل مقصود تھا، وہ یہ تھا کہ انسان کائنات کے بے فطور (flawless) پہلو کو جانے ، اور اس طرح خالق کی قدرت کو دریافت کرے۔ مگر ہزاروں سال تک کائنات کا یہ پہلو غیردریافت شدہ بنا رہا۔

پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان سائنس کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انھوں نے پہلی بار انسا ن کو بتایا کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔ کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔ اب سائنسداں عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔ حتی کہ اب یہ ایک باقاعدہ موضوع بن گیا ہے، جس پر بہت سی کتابیں اور رسالے شائع کیے جارہے ہیں۔

نیوٹن کے زمانے میں کائنات کو ایک میکینیکل کائنات کہا جاتا تھا۔ لیکن مزید ریسرچ سے یہ نظریہ غلط ثابت ہوگیا۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جو ریسرچ ہوئی ہے، اس سے اب یہ بات تقریباً واقعہ (fact) بن چکی ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننے کے بعد یہ معاملہ ایک لفظی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننا دوسرے لفظوں میں یہ ماننا ہے کہ یہ کائنات ایک ذہین خالق کی تخلیق ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہوسکتا۔ اس موضوع پر غالباً پہلی باقاعدہ کتاب فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کی تھی، جس کا نام تھا ذہین کائنات:

The Intelligent Universe: A New View of Creation and Evolution (1983)

مگر اب ذہین ڈزائن کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اورمقالے چھپ چکے ہیں۔ ان کتابوں اور مقالات کو کسی بڑی لائبریری میں یا انٹر نیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔

 

زیرو ڈفکٹ کائنات

سیکنڈ ورلڈ وار (1939-1945) کے زمانے میں ایک تصور پیدا ہوا، جس کو زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔اس موضوع پر بہت سے آرٹکل اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جلد ہی یہ تصور ترقی یافتہ ملکوں میں تیزی سے پھیل گیا۔کئی ملکوں، مثلا ًامریکا اور جاپان، وغیرہ میں اس تصور کو بڑے پیمانے پرعمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لمبے تجربے کے بعد یہ مان لیا گیا کہ زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کا تصور ناقابلِ حصول ہے۔اس موضوع پر انٹرنیٹ میں کافی مواد موجود ہے۔ آپ نمونے کے طور پر حسبِ ذیل آرٹکل پڑھ سکتے ہیں:

The Concept of Zero Defects in Quality Management by Chandana Das (www.simplilearn.com)

دورِ جدید میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی گئی کہ زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں ریسرچ ہوئی، اور کتابیں لکھی گئیں۔ بیسویں صدی کے تقریباً پورے دور میں یہ کام جاری رہا۔ مگر اس مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی۔ حالاں کہ دورِ جدید کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ مثلاً امریکا اور جاپان، وغیرہ۔ دوسری طرف عین اسی وقت دورِ جدید کے سائنسی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فطرت کا نظام انتہائی حد تک بے خطا انداز میں قائم ہے، مثلاً ستاروں اور سیاروں کی گردش ،وغیرہ۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کل ٹھیک ٹھیک کس وقت سورج نکلے گا، اور کس وقت ٹھیک وہ غروب ہوگا، تو آپ آج ہی اس کو نہایت درست انداز میں معلوم کرسکتے ہیں۔

ایک طرف یہ تجربہ ہے کہ انسانی دنیا میں زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کا تصور مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، اور دوسری طرف انسان کے سوا جو مادی دنیا ہے، اس میں یہ تصور کامل طور پر موجود ہے۔ مثلاً اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ 15 اپریل 2025 کو سورج کے طلوع ہونے، اور غروب ہونےکا وقت کیا ہوگا تو پیشگی طور پر آپ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ 15 اپریل 2025کو دہلی میں سورج کے طلوع اور غروب کا وقت حسب ذیل ہوگا:

طلوعِ آفتاب (Sun rise) 05:56

غروبِ آفتاب (Sun set) 18:46

سورج کے طلوع و غروب کا وقت اسی صحت (accuracy) کے ساتھ ساری دنیا کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پوری مادی دنیاکا نظام کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے۔ مادی دنیا کی سائنس کو اسٹرانومی ، فزکس، کیمسٹری، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس مادی دنیا کا ریکارڈ ہزاروں سال پہلے، اور ہزاروں سال بعد تک معلوم کیا جاسکتا ہے، اور کسی ادنیٰ فرق کے بغیر وہ یہی رہے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اب تک کوئی فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔

آپ غور کیجیے کہ وہ مادی دنیا جو براہ راست خالق کے مینجمنٹ کے تحت چل رہی ہے، وہ شروع سے اب تک اسی زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی دنیا میں ، انسان جو منصوبہ بناتا ہے، مثلاً انڈسٹری کی دنیا ، وہاں انتہائی کوشش کے باوجود زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یعنی ایک طرف اسپیس میں ڈیوائن مینجمنٹ کو دیکھیے، جو زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر مسلسل چل رہا ہے۔ دوسری طرف ہیومن مینجمنٹ کو دیکھیے۔ اس دوسری دنیا میں تقریباً ایک صدی کی مسلسل کوشش کے باوجودد زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔اس معاملے میں اگر آپ کو ہیومن مینجمنٹ کا تجربہ جاننا ہو، تو آپ انٹرنیٹ پر موجود اس مضمون کو پڑھیے:

Zero Defects, a term coined by Mr. Philip Crosby in his book ‘‘Absolutes of Quality Management’’ has emerged as a popular and highly-regarded concept in quality management—so much so that Six Sigma is adopting it as one of its major theories. Unfortunately, the concept has also faced a fair degree of criticism, with some arguing that a state of zero defects simply cannot exist. Others have worked hard to prove the naysayers wrong, pointing out that ‘‘zero defects’’  in quality management doesn’t literally mean perfection, but rather refers to a state where waste is eliminated and defects are reduced. It means ensuring the highest quality standards in projects. What Do We Mean by Zero Defects: From a literal standpoint, it’s pretty obvious that attaining zero defects is technically not possible in any sizable or complex manufacturing project?

(www.simplilearn.com. accessed on 13.03.19)

اب اس دو طرفہ تجربے کے اوپر مشہور فارمولے کو منطبق (apply) کیجیے کہ چیزیں اپني ضد سے سمجھ میں آتی ہیں(تعرف الاشیاء باضدادها):

It is in comparison that you understand

قرآن کی مختلف آیتوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں جو نظام بناتا ہے، اور انسان کے باہر بقیہ کائنات میں جو نظام ہے، دونوں میں تقابل کرکے دیکھو۔ یہ تقابلی مطالعہ(comparative study) بتائے گا کہ دونوں دنیاؤں میں بنیادی فرق ہے۔ انسان کی دنیا میں انسان جو نظام بناتا ہے، اس میں ساری کوشش کے باوجود زیروڈفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ یہ مان لیا گیا کہ انسان کی دنیا میں اس تصور کا حصول ممکن نہیں۔ دوسری طرف خدا کی قائم کردہ مادی دنیا میں یہ تصور پوری تاریخ میں انتہائی صحت (accuracy) کے ساتھ قائم ہے۔

اس فرق پر جب مذکورہ فارمولا کو منطبق کیا جائے تو خود انسانی تجربے کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کا مالک ایک برتر ہستی ہے، یعنی اللہ رب العالمین۔ انسان کی دنیا اور فزیکل سائنس (exact sciences) کی دنیا میں جو فرق ہے، وہ فرق خدا کے وجود کا ایک قطعی ثبوت ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ(67:3-4) ۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔

اسی طرح ایک آیت یہ ہے:أَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاھَا وَزَیَّنَّاھَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ (50:6)۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور اس کو رونق دی اور اس میں کوئی رخنہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں کائنات کے بے خطا نظام کی یہ دریافت (discovery)اللہ رب العالمین کی ایک صفت کو ثابت شدہ بنا رہی ہے، اور وہ ہے: الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ(2:255)۔ یعنی وہ زندہ ہے، سب کو چلانے والا ہے۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے ،اور نہ نیند۔

علمی شہادت

 

خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر

البرٹ آئن سٹائن(Albert Einstein) بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ وہ 1879 میں جرمنی میں پیدا ہوا، اور 1955 میں امریکا میں اس کی وفات ہوئی۔ 1921 میں اس کو فزکس کا نوبل پرائز دیاگیا۔

البرٹ آئن سٹائن نے عالم مادّی کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اُس نے اپنے مطالعے میں پایا کہ کائنات ایک بے حد بامعنیٰ وجود ہے۔ اُس کے ہر پہلو میں اتھاہ حکمتیں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ حکمت ومعنویت کائنات میں کہاں سے آئی۔ آئن سٹائن نے کائنات کی بے پایاں حکمت کو دریافت کیا، لیکن اُس کے حکیم کو وہ دریافت نہ کرسکا۔ اُس نے تعجب کے ساتھ کہا — کائنات کے بارے میں سب سے زیادہ حسین تجربہ جو ہم کو ہوتا ہے، وہ پُراسراریت کا تجربہ ہے:

The most beautiful experience we can have been the mysterious.

البرٹ آئن سٹائن کا ایک دوسرا قول اِس معاملے میں یہ ہے— فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابلِ فہم واقعہ یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے قابلِ فہم ہے:

The most incomprehensible thing about the universe is that it is comprehensible.

سائنس داں کو یہ مشکل کیوں پیش آئی۔ اِس لیے کہ کائنات کی معنویت (meaning)کو تو اُس کے دماغ نے دریافت کیا، لیکن اِس معنوی نظام کے خالق کو وہ دریافت نہ کرسکا۔ اس بنا پر وہ تعجب کے ساتھ کہتا ہے کہ جب کائنات کی معنویت انسان کے لیے قابلِ مشاہدہ ہے تو اس کے لیے وہ ہستی کیوں ناقابلِ مشاہدہ ہے، جس نے کائنات میں اِس معنویت کو پیدا کیا ہے، جب حکمت موجود ہے تو آخر اس کا حکیم کہاں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا کے عقیدے کے بغیر کائنات بے معنیٰ بن جاتی ہے۔ یہ صرف خدا کا عقیدہ ہے جو کائنات کی معنویت کو انسان کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔

 

ایک علمی ملاقات

30 مارچ 2008 کی شام کو دو اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبان سے ملاقات ہوئی۔ ایک، مشہور برطانی جنرلسٹ سرمارک تلی (Sir Mark Tully)، اور دوسرے، برطانیہ کے ایک مسیحی عالم (Bishop of Kingston)  اور ڈاکٹر رِچرڈ (Dr. Richard Cheetham) ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ چنانچہ اُن سے اسلام کے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

سرمارک تلی نے کہا کہ اسلام کے اعتقادی نظام میں ایک خدا کے عقیدے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، یا خدا کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت بھی ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں کوئی عقیدہ محض ادّعائی عقیدہ (dogmatic belief)  نہیں ہوتا، اسلام کے اعتقادی نظام فطرت کے اٹل اصولوں پر قائم ہے۔ اِسی کو موجودہ زمانے میں سائنسی بنیاد (scientific base)  کہا جاتا ہے۔میں نے کہا کہ 1920 سے پہلے جو نیوٹنین میکانکس (Newtonian Mechanics)  تھی، اس کے مطابق، مادّہ (matter) کی آخری اکائی (unit) ایٹم تھا۔ اُس وقت ایٹم (atom)  ناقابلِ تقسیم سمجھا جاتا تھا۔ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر چیز قابلِ مشاہدہ ہے، اِس لیے معقول استدلال (valid argument)  وہی ہے، جو براہِ راست استدلال کے اصول پر مبنی ہو۔

مگر1920 کے بعد نیوکلیر سائنس (nuclear science) میںجو نئی تحقیقات ہوئیں، اس کے نتیجے میںایٹم ٹوٹ گیا۔اب کلاسکل فزکس (classical physics) کی جگہ ویومیکانکس (wave mechanics) وجود میں آئی۔ اِس تبدیلی کا اثر اصولِ استدلال پر پڑا۔ اِس نئی دریافت نے استنباطی استدلال (inferential argument) کی اہمیت بڑھا دی۔ اب یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال بھی اتنا ہی ویلڈ آرگومنٹ ہے، جتنا کہ براہِ راست استدلال (direct argument) ۔

 استدلال کی بنیاد کی اِس تبدیلی کے بعد خدا کے عقیدے پر استدلال قائم کرنا اتنا ہی ممکن ہوگیا ہے، جتنا کہ الیکٹران پر استدلال قائم کرنا۔ جیسا کہ معلوم ہے، الیکٹران کے وجود کو استنباطی دلیل کے ذریعے ثابت کیا جاتا ہے۔ یہی استنباطی استدلال اب خدا کے وجود کو علمی طورپر ثابت کرنے کے لیے بھی حاصل ہوگیا ہے۔چنانچہ برٹرینڈرسل (وفات 1970) نے ڈزائن سے استدلال (argument from design) کو اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک سائنسی استدلال قرار دیا ہے۔

میری اِس بات کو سن کر ڈاکٹر رچرڈ نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ موجودہ طبیعیاتی علما (physicists) اِس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ کائنات کی حد درجہ معنویت اِس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ موجودہ کائنات کسی ذہن (mind)کی تخلیق ہے، لیکن علمائے حیاتیات (biologists) اِس کی تائید نہیںکرتے۔میں نے کہا کہ بطور واقعہ آپ کا کہنا صحیح ہے، لیکن علمائے حیاتیات کی یہ رائے کسی سائنسی حقیقت پر مبنی نہیں، ان کی یہ رائے تمام تر ایک غلط مفروضے پر قائم ہے۔ چارلس ڈارون (وفات 1802) نے اِس معاملے میں ایک غلط مفروضہ پیش کیا اور پھر تمام لوگوں نے اِس مفروضے کو بطور حقیقت مان لیا۔ ڈارون نے زندگی کے مختلف نمونوں کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا۔ اُس نے پایا کہ ہماری زمین پر بہت سی انواعِ حیات(species) پائی جاتی ہیں، مگر ان کے جسمانی ڈھانچے میں بہت زیادہ مشابہت ہے۔ مثلاً بلّی اور شیر کے ڈھانچے میں مشابہت، بکری اور زرافہ کے ڈھانچے میں مشابہت، انسان اور بندر کے ڈھانچے میں مشابہت، وغیرہ۔ اِن مشابہتوں (similarities) کو لے کر ڈارون نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ یہاں نیچرل سلیکشن (natural selection) کے اصول کے تحت، ایک ارتقائی عمل(evolutionary process) ہواہے۔ اِس ارتقائی عمل کے تحت،ایک نوع دوسری نوع میںخود بخود تبدیل ہو رہی ہے۔

میں نے کہا کہ اِس معاملے میں ڈارون کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مختلف انواعِ حیات کے درمیان اِن مشابہتوں کی غلط توجیہ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مشابہتیں زندگی میں تنوّع (varieties) کو بتاتی ہیں، نہ کہ مفروضہ ارتقائی عمل کو۔ ہم متنوّع اقسامِ حیات کو دیکھ رہے ہیں۔ اِس لحاظ سے تنوع کا نظریہ اپنے آپ ثابت شدہ ہے۔ اِس کے مقابلے میں ارتقائی عمل کا تصور محض ایک قیاس ہے، جس کے حق میں کوئی واقعی ثبوت موجود نہیں۔انھوں نے میری بات سے اتفاق کیا۔

 

خدا کا وجود

) یہ تقریر انگریزی زبان میں 9  مئی 2009  کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر ،نئی دہلی، میں کی گئی تھی(

آج کی شام کے لیے جو موضوع ہے، وہ یہ ہے— خدا کی دریافت کس طرح کی جائے:

How to discover God?

خدا کی دریافت کا معاملہ کوئی اکیڈمک معاملہ نہیں، یہ ہر انسان کا ایک ذاتی سوال ہے۔ ہر عورت اور مرد فطری طورپر اُس ہستی کو جاننا چاہتے ہیں جس نے اُن کو وجود دیا۔ میں بھی دوسروں کی طرح، اِس سوال سے دوچار ہوا ہوں۔ میری پیدائش ایک مذہبی ماحول میں ہوئی۔ اِس کے اثر سے میں روایتی طورپر خدا کو ماننے لگا۔ بعد کو جب میرے شعور میں پختگی (maturity) آئی تو میں نے چاہا کہ میں اپنے اِس عقیدے کو ریزن آؤٹ (reason out) کروں۔ اِس معاملے کی تحقیق کے لیے میں نے تمام متعلق علوم کو پڑھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا موضوع تین علمی شعبوں سے تعلق رکھتا ہے— فلسفہ، سائنس اور مذہب۔ یہاں میں فلسفہ اور سائنس کی نسبت سے اپنے کچھ تجربات بیان کروں گا۔

سب سے پہلے مجھے فلسفہ میں اِس سوال کا ایک جواب ملا۔ مطالعے کے دوران میں نے فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ (وفات1650) کو پڑھا۔ وہ انسان کے وجود کو ثابت کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے کہا  — میں سوچتا ہوں، اِس لیے میں ہوں:

I think, therefore I am.

ڈیکارٹ کا یہ فارمولا جس طرح انسان کے وجود پر منطبق ہوتا ہے، اُسی طرح وہ خدا کے وجود کے لیے بھی قابلِ انطباق (applicable)ہے۔ میں نے اِس قول پر اضافہ کرتے ہوئے کہا—  انسان کا وجود خدا کے وجود کو قابلِ فہم بناتاہے:

Existence of man makes the existence of God understandable.

خدا کے وجود کے بارے میں یہ میرا پہلا فلسفیانہ استدلال تھا۔ میںنے کہا — میرا وجود ہے، اِس لیے خدا کا بھی وجود ہے:

I am, therefore, God is.

فلسفہ کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً تمام فلسفی کسی نہ کسی طورپر ایک برتر ہستی کا اقرار کرتے تھے۔ اگر چہ انھوںنے ’’خدا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے احتراز کیا، لیکن کچھ دوسرے الفاظ بول کر وہ خدا جیسی ایک ہستی کی موجودگی کا اعتراف کرتے رہے۔ مثلاً جرمنی کے مشہور فلسفی فریڈرک ہیگل (وفات 1831) نے اِس برتر ہستی کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit)  کا نام دیا، وغیرہ۔

اِس کے بعد میںنے چاہا کہ میں سائنسی طریقِ استدلال (scientific method) کے ذریعے اِس معاملے کی تحقیق کروں۔سائنسی مطالعے میں جو مسلّمہ طریقہ ہے، وہ مشاہدات پر مبنی طریقہ ہے۔ مگر اس مشاہداتی استدلال (observational argument) کے دو دورہیں۔ سائنس کا مطالعہ جب تک عالم ِکبیر (macro world) تک محدود تھا، اُس وقت تک استدلال کا صرف ایک طریقہ رائج تھا، یعنی آرگومینٹ فرام سین ٹو سین (argument from seen to seen)کا اصول ۔ لیکن جب سائنس کا مطالعاتی سفر عالم ِصغیر (micro world) تک پہنچ گیا تو اِس استدلال میں ایک تبدیلی واقع ہوئی۔ پہلے اگر مشاہداتی استدلال (observational argument) کو درست مانا جاتا تھا، تو اب استنباطی استدلال (inferential argument)کو بھی یکساں طورپر درست (valid) مانا جانے لگا، یعنی اب آرگومینٹ فرام سین ٹو اَن سین (argument from seen to unseen) کا اصول بھی درست استدلال کی حیثیت سے تسلیم کرلیاگیا۔ اِن دونوں طریقوں کو فنی زبان میں اِس طرح بیان کیا جاسکتاہے:

1. Observation, hypothesis, verification

2. Hypothesis, observation, verification

ایک سادہ مثال سے اس معاملے کی عملی وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ سیب کو شمار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کہتے ہیں— دو سیب جمع دو سیب، برابر چار سیب۔ یہ مشاہداتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ دوسرے استدلال کی مثال یہ ہے کہ نیوٹن (وفات1727) نے دیکھا کہ ایک سیب درخت سے گر کر نیچے آیا۔ یہ ایک مشاہدہ تھا۔ اُس نے سوچنا شروع کیا کہ سیب درخت سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آگیا۔ اِس سوچ کے بعد وہ ایک استنباط تک پہنچا، وہ یہ کہ زمین میں قوتِ کشش ہے۔ اِس کے بعد اس نے دوسرے متعلق شواہد (relevant data) کا جائزہ لیا تو اِس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اس کا استنباط درست (valid)تھا۔

سائنسی متھڈالوجی کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مشہور برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات1970) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge) ہے۔ اِس کتاب میں مصنف نے بتایا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں— چیزوں کا علم، سچائیوں کا علم:

Knowledge of things, knowledge of truths

چیزوں کی دریافت میں مشاہداتی طریقِ استدلال کار آمد ہے، لیکن خدا کے وجود کا معاملہ سچائی کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس لیے اس معاملے میں وہی استدلال قابل انطباق ہے، جس کو استنباطی استدلال (inferential argument) کہاجاتاہے۔

غالباً 1965 کی بات ہے، میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی۔ وہ فلسفہ کے پروفیسر تھے۔اُن سے خدا کے وجود کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھو ںنے ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کرائٹیرین کیا ہے:

What criterion do you have to prove the existence of God?

میں نے جواب دیا — وہی کرائٹیرین جو آپ کے پاس اِس نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہو:

Same criterion that you must prove anything else.

اِس کے بعد میں نے اُن کے سامنے مذکورہ طریق ِاستدلال کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ خدا کے وجود کا معاملہ سچائی (truth) کے موضوع سے تعلق رکھتاہے۔ آپ سچائی کی نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے جس کرائٹیرین کو استعمال کرتے ہیں، اُسی کرائٹیرین کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیجیے، اور پھر آپ جان لیںگے کہ خدا کا وجود بھی اُسی علمی معیار سے ثابت ہوتاہے، جس علمی معیار سے اِس نوعیت کی دوسری چیزیں ثابت ہورہی ہیں۔

سنجیدہ اہلِ علم نے اِس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ مثلاً معروف فلسفی، مفکّر برٹرینڈ رسل (1872-1970) نے اعتراف کیا ہے کہ تھیالوجین عام طورپر خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے وہ طریقہ استعمال کرتے ہیں جس کو ڈزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، یہ طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پورے معنوں میں سائنسی منطق (scientific  logic) پر مبنی ہے۔ اِس لیے یہ استدلال اصولی طورپر اتنا ہی حقیقی ہے، جتنا کہ کوئی دوسرا سائنسی استدلال۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے:

Where there is design, there is designer and when designer is proved, the existence of God is also proved.

اشیا کا سائنسی مطالعہ 1609 میں شروع ہوا ، جب کہ اطالوی سائنس داں گلیلیوگلیلی (وفات 1642) نے ابتدائی دور بین (telescope) کے ذریعے ستاروں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دور بینی مشاہدے(observation) میں مزید ترقی ہوئی، یہاں تک کہ 1949 میں پیلومر آبزرویٹری (Palomar Observatory) کیلی فورنیا قائم ہوئی، جس کے ذریعے زیادہ بڑے پیمانے پر آسمانی مشاہدہ ممکن ہوگیا۔ اِس کے بعد الیکٹرانک دور بین ایجاد ہوئی جس کو 1990 میں امریکا کی ہبل آبزرویٹری میں نصب کیا گیا۔

اِس قسم کے مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے خلا میں بگ بینگ کا واقعہ ہوا جس کے بعد ستاروں اور سیاروں کی موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ اِس کے بعد تقریباً ایک بلین سال پہلے لٹل بینگ (little bang) ہوا جس کے ذریعے موجودہ شمسی نظام (solar system) وجود میںآیا۔ اس کے بعد سیارۂ ارض پر واٹر بینگ (water bang) ہوا اور زمین پانی سے بھر گئی۔ اس کے بعد زندگی اور زندگی سے متعلق تمام چیزیں پیدا ہوئیں۔

بولٹز من (Ludwig Eduard Boltzmann, 1844-1906)  ایک آسٹرین سائنس داں ہے۔ اس نے اِن کائناتی حقیقتوں(signs)کو دیکھ کر کہا تھا— کیا یہ خدا تھا، جس نے ان نشانیوں کو لکھا، جو میرے ارد گرد کے نیچر کی پر اسرار اور پوشیدہ فورسز کو ظاہر کرتی ہیں، جو میرے دل میںمسرت اور خوشی کی لہر پیدا کردیتی ہے:

Was it a God that wrote these signs, revealing the hidden and mysterious forces of nature around me, which fill my heart with quiet joy?

(www.eoht.info/page/Ludwig+Boltzmann [30.03.2020])

بگ بینگ کے واقعہ کے مزید مطالعے کے لیے 1989 میں امریکا کے خلائی ادارہ ناسا (NASA) نے ایک خصوصی سيٹيلائٹ (Cosmic Background Explorer) خلا میں بھیجا۔ اِس سيٹيلائٹ نے بالائی خلاکی جو تصویریں بھیجی ہیں، اُن سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات کے بیرونی حصے میں لہر دار سطح (ripples) موجود ہیں۔ یہ بات صرف بگ بینگ سے نکلی ہوئی لہروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ کائنات میںپھیلی ہوئی بے شمار چیزوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایک سنجیدہ انسان جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ بولٹزمن کی طرح کہہ اٹھتاہے— کیا یہ خدا تھا، جس نے ان نشانیوں کو لکھا:

Was it a God that wrote these signs?

کائنات کا جب سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ وسیع خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے مسلسل طورپر حرکت میں ہیں، مگر ہمارے شہروں کے برعکس، اس اتھاہ خلا (space)میں کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوتا۔ گویا کہ عظیم خلا میں نہایت وسیع پیمانے پر ایک ایکسڈنٹ فری ٹریفک (accident-free traffic) قائم ہے۔ ہماری زمین پر نیچر ہر لمحہ بہت سے واقعات ظہور میں لارہی ہے۔ یہ گویا ایک عظیم صنعتی نظام ہے۔ مگر یہ نظام زیرو ڈفکٹ انڈسٹری (zero-defect industry) کی سطح پر چل رہا ہے۔ یہ بے مثال کائناتی کنٹرول اور یہ آفاقی توازن پکار رہا ہے کہ بلا شبہ اِس کے پیچھے ایک عظیم خدا ہے، جو اِن واقعات کو ظہور میں لارہا ہے۔

کائنات میں واضح طورپر ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) پائی جاتی ہے۔ ایک چھوٹے ذرے سے لے کر عظیم کہکشانی نظام تک یہ منصوبہ بندی نمایاں طورپر ہمارے مشاہدے میںآتی ہے۔ یہ منصوبہ بندی بلا شبہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اِس کائنات کے پیچھے ایک بہت بڑا ذہن (mind) کار فرما ہے۔ یہ عقیدہ اتنا ہی سائنسی ہے، جتنا کہ ایکس رے کی قابلِ مشاہدہ تصویر کو دیکھ کر ناقابلِ مشاہدہ ایکس ریز (X-Rays) کے وجود کو ماننا۔

موجودات کے مشاہدے سے ایک عظیم حقیقت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اُس میںجگہ جگہ یکسانیت کے ساتھ استثنا (exception amidst uniformity) کی مثالیں موجود ہیں۔ استثنا اُس کو کہاجاتاہے جو عام قانون کے خلاف ہو، جو عام قانون کی پابندی نہ کرے:

Exception: That does not follow the rule.

نیچر میں اِس معاملے کی ایک سادہ مثال یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کے ہاتھ میں پانچ انگلیاں ہوتی ہیں۔یہ انگلیاں ہر ایک میں یکساں طورپر ہوتی ہیں۔ لیکن ہر ایک کے ہاتھ میںاس کے انگوٹھے کا نشان (finger print) ایک جیسا نہیںہوتا۔ ہر ایک کا نشان دوسرے کے نشان سے الگ ہوتا ہے۔ اِس عموم میں یہ استثنا ایک برتر ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر ممکن نہیں۔ نیچر میں بھی اِس قسم کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، خلا میں تقریباً 125 بلین کہکشائیں (galaxies)موجود ہیں۔ ہرگلیکسی کے اندر تقریباً 200 بلین ستارے پائے جاتے ہیں۔ لیکن شمسی نظام ایک استثنائی نظام ہے، جو صرف ہماری قریبی کہکشاں ملکی وے (milky way) میں پایا جاتا ہے۔ عظیم کائنات میںیہ استثنا ایک طاقت ور ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر نہیںہوسکتا:

Exception means intervention, and when intervention is proved, intervenor is also proved. And intervenor is only the other name of God.

ملکی وے جس میں ہماراشمسی نظام واقع ہے، وہ اِس نوعیت کی ایک انوکھی مثال ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ اِس کہکشاں کا درمیانی حصہ ناقابلِ برداشت حد تک گرم ہے۔ اگرہمارا شمسی نظام، کہکشاں کے درمیانی حصے میں ہو تو ہماری زمین پر کسی قسم کی زندگی اور نباتات کا وجود ہی ممکن نہ رہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہمارا شمسی نظام، کہکشاں کے ایک کنارے واقع ہے۔ اِس بنا پر وہ کہکشاں کے پُرخطر درمیانی ماحول کے اثر سے بچا ہوا ہے۔ یہ استثنا واضح طورپر ایک منصوبہ بند مداخلت کا ثبوت ہے، اور منصوبہ بند مداخلت بلا شبہ خدائے برتر کی موجودگی کا ثبوت ہے۔

ہمارے شمسی نظام کے اندر بہت سے سیارے (planets) پائے جاتے ہیں۔ اُنھیں میںسے ایک سیارہ وہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ دوسرے تمام سیارے اپنے مدار (orbit) پر گھومتے ہیں۔ مگر ہماری زمین اپنے مدار پر گردش کرتے ہوئے اپنے محور (axis) پر بھی گھومتی ہے۔ زمین کی یہ دہری گردش (double- rotation) ایک انتہائی استثنائی گردش ہے، جو کسی بھی ستارے یا سیارے میں نہیں پائی جاتی۔ یہ استثنا اِس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک ایسے برتر عامل کو تسلیم کیا جائے جس نے اپنی خصوصی مداخلت کے ذریعے یہ با معنیٰ استثنا خلا میں قائم کررکھا ہے۔

ہماری زمین پر استثنا کی ایک ایسی انوکھی مثال پائی جاتی ہے، جو ساری کائنات میںکہیں بھی موجود نہیں، یہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) ہے۔ اِس لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر زمین پر انسان کا یا کسی اور نوعِ حیات کا وجود ممکن نہ تھا۔ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ استثنائی انتظام خدا کی موجودگی کا ایک ایسا ثبوت ہے ،جس کا انکار کوئی سنجیدہ انسان نہیں کرسکتا۔

البرٹ آئن سٹائن (وفات1955) کو بیسویں صدی عیسوی کا سب سے بڑا سائنسی دماغ مانا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے کائنات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اُس نے کائنات کے ہر حصے میں حیرت ناک حد تک معنویت (meaning) پائی۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا  —عالم فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ وہ قابلِ فہم ہے:

The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible.

آئن سٹائن اپنے اِس قول میں بالواسطہ طورپر خدا کے وجود کا اقرار کررہا ہے۔ اگر اس کے قول کو بدل کر کہاجائے تو وہ اِس طرح ہوگا  — خدا کے بغیر عالم ِ فطرت مکمل طورپر ناقابلِ فہم رہتاہے، اور خدا کے ساتھ عالم ِ فطرت مکمل طور پر قابلِ فہم بن جاتا ہے:

Without God, nature is totally incomprehensible, and with God, nature becomes totally comprehensible.

کائنات بلاشبہ ایک بامعنی کائنات (meaningful world) ہے۔ سائنس داں وہ لوگ ہیں، جو کائنات کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ عام انسان کے مقابلے میں کائنات کی معنویت سے بہت زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ سائنس دانوں نے عام طورپر اس کا اعتراف کیا ہے۔ سائنس داں اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر ’’خدا‘‘ (God) کا لفظ بولنے سے احتراز کرتے ہیں۔ لیکن نام کے بغیر وہ اِس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔

مثلاً برٹش سائنس داں سر آرتھر اڈنگٹن (وفات 1944) نے اِس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ کائنات کا مادّہ ایک ذہین مادہ ہے:

The stuff of the world is mind-stuff

اسی طرح برٹش سائنس داں سر جیمز جینز(وفات1947)نے 1930 میں ایک کتاب لکھی تھی۔ اس کا ٹائٹل تھا:

The Mysterious Universe

 اس کتاب میں اس نےلکھاہے کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی شہادت دیتی ہے۔ برٹش عالم فلکیات سرفریڈ ہائل(وفات 2001)نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ ہماری کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ امریکی سائنس داں پال ڈیویز (Paul Davies) نے اقرار کیا ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک باشعور ہستی (conscious being) موجود ہے۔

خدا کاوجود بلا شبہ اُسی طرح ایک ثابت شدہ واقعہ ہے، جس طرح کوئی اور ثابت شدہ واقعہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا وجود صرف ایک پُر اسرار عقیدہ کی بات نہیں۔ خدا کا وجود اُسی طرح ایک علمی مسلّمہ ہے، جس طرح کوئی اور علمی مسلّمہ۔ اب یہ سوال ہے کہ خدا ایک ہے یا کئی خدا ہیں، جوکائنات کی تخلیق اور اس کے انتظام کے ذمّے دار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خدا کا عقیدہ شرک پر مبنی ہے یا توحید پر۔ اِس معاملے میں علم کا فیصلہ مکمل طورپر توحید کے حق میں ہے۔

برٹش ماہر ریاضیات اور سائنس داں نیوٹن (Isaac Newton)کو جدید سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن سے پہلے دنیا میں توہمات superstitions) (کا زور تھا۔اُس وقت یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ خداؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مثلاًسن گاڈ (sun god) ، مون گاڈ(moon god)، رین گاڈ (rain god) ، وغیرہ۔ نیوٹن نے اِس معاملے کا سائنسی مطالعہ کیا۔ اُس نے کہا کہ چار طاقتیں (forces) ہیں، جو کائنات کے نظام کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں یہ ہیں:

(1)    قوتِ کشش (gravitational force) 

(2)  برقی مقناطیسی قوت (electromagnetic force)

(3)  طاقت ور نیوکلیر قوت (strong nuclear force)

(4)  کم زورنیو کلیر قوت (weak nuclear force)

مگر سائنسی مطالعے کے ذریعے جو دنیا دریافت ہوئی، اُس میںاتنی زیادہ ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی تھی کہ یہ ناقابلِ تصور تھا کہ اتنی زیادہ ہم آہنگ کائنات کو کئی طاقتیں کنٹرول کررہی ہوں۔ اِس لیے سائنسی ذہن اِس تعدّد پر مطمئن نہ تھا۔ مختلف سائنس داں اِس تعداد کو گھٹانے کے لیے کام کررہے تھے، یہاں تک کہ 1979 میںایک نئی تحقیق سامنے آئی۔ اِس تحقیق کے مطابق، کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں چار نہیں تھیں،بلکہ وہ صرف تین تھیں۔ اِس دریافت تک پہنچنے والے تین نوبل انعام یافتہ سائنس داں تھے۔ اُن کے نام یہ ہیں:

Sheldon Glashow (b. 1932)

Steven Weinberg (b. 1933)

Dr. Abdussalam (d. 1996)

تاہم سائنسی ذہن تین کی تعداد پر بھی مطمئن نہ تھا۔ وہ اِس تعداد کو مزید گھٹا کر ایک تک پہنچانا چاہتا تھا۔ یہ کام برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ ( 1942-2018) کے ذریعے انجام پایا۔ اسٹفن ہاکنگ (وفات 2018)کو نظریاتی سائنس میںوقت کا بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ اس نے پیچیدہ ریاضیاتی حساب (mathematical calculations) کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف ایک طاقت (force) ہے، جو پوری کائنات کو کنٹرول کررہی ہے۔ یہ نظریہ اب تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان ایک مسلّمہ کے طورپر مان لیا گیا ہے۔ عمومی زبان میں اس کو سنگل اسٹرنگ نظریہ (single string theory)  کہا جاتاہے۔

سنگل اسٹرنگ نظریہ گویا کہ ایک خدا (توحید ِالٰہ) کے عقیدے کے حق میں ایک سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ مذہبی عقیدے کو علمی مسلمّہ کی حیثیت دے رہا ہے۔ اب خالص سائنس کی بنیاد پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ اِس کائنات کا ایک خدا ہے۔ یہ خدا ایک ہے اور صرف ایک:

The concept of God is purely a scientific concept, and this God is one and one alone.

سوال

9 مئی 2009 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں خدا کے وجود کے موضوع پر انگریزی زبان میں آپ کی ایک تقریر تھی۔ میں اِس تقریر میں شروع سے آخر تک شریک رہا۔میں نے دیکھا کہ سامعین نے خدا کے وجود پر دیے گئے سائنسی دلائل سے پورا اتفاق کیا۔تاہم ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سینئر ہندو خاتون نے تقریر کے بعد مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کی بات سے مجھ کو پورا اتفاق ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ خدا کے وجود پر سائنسی دلائل کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ خدا تو ہمارے اندر موجود ہے۔ براہِ کرام، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی)

جواب

مذکورہ خاتون نے جو بات کہی، وہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ اصل یہ ہے کہ خدا کے بارے میں دو الگ الگ تصور (concept) پائے جاتے ہیں۔ ایک ہے، توحید (monotheism) ، یعنی خدا کو ایک شخصی وجود (personal God) کے طور پر ماننا۔ اور دوسرا ہے وحدتِ وجود (monism) كا تصور، یعنی خدا کو غیرشخصی ہستی(impersonal God) کے طورپر ماننا۔ یہ وہی چیز ہے، جس کو کچھ دوسرے لوگ داخل میں بسا ہوا خدا (indwelling god) کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔

وحدتِ وجود کو سنسکرت میں اُدوئت واد کہا جاتا ہے۔ اِس تصور کے مطابق، خدا ایک اسپرٹ ہے، جس طرح قوتِ کشش (gravity) ایک اسپرٹ ہے۔ وہ ہر ایک چیز کے اندر موجود ہے۔ وحدتِ وجود کے نظریے کو اگرچہ مسلم صوفیوں نے اختیار کرلیا، لیکن وہ ایک نادرست  نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود کوئی مذہبی تصور نہیں، وہ صرف ایک فلسفیانہ تصور ہے جس کو مذہب میں شامل کرلیاگیا ہے۔

موجودہ زمانے میں سائنس نے کائنات کا جو مطالعہ کیا ہے، اُس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے انتظام میں ایک برتر ذہن (superior mind) کام کررہا ہے، جس کو ایک سائنس داں نے شعوری وجود (conscious being)  کا نام دیا ہے۔ اِس طرح سائنس کی دریافتوں نے وحدتِ وجود کے تحت مفروضہ تصورِ خدا کی مکمل طور پر تردید کردی ہے، جس طرح اُس نے زمین مرکزی (geo-centric) شمسی نظام کی تردید کردی تھی۔ اِس کے برعکس، سائنس کی دریافتیں پورے معنوں میں عقیدۂ توحید کے تحت بیان کردہ تصورِ خدا کی علمی تصدیق بن گئی ہیں۔

 

سائنس كي واپسي

ايك درخت جس كي جڑ كٹي هوئي هو، اس كو زمين ميں لگائيں تو پهلےدن وه بہ ظاهر هرا بھرا دكھائي دے گا۔ مگر اگلے هي دن اس كي پتياں مرجھانا شروع هوجائيں گي۔ يهاں تك كه وه سوكھ كر ختم هوجائے گا۔ يهي حال موجوده زمانے ميں الحاد اور انكارِ مذهب كا هوا هے۔ ابتدا ميں ايسا معلوم هوتا تھا گويا مذهب كا دور ختم هوگيا، اور اب انساني تاريخ هميشه كے ليے لا مذهبيت كے دور ميں داخل هوگئي۔ مگر جلد هي يه تمام خيالات بكھر گئے۔ مذهب نئي طاقت كے ساتھ دوباره انساني زندگي ميں لوٹ آيا۔

انيسويں صدي كے آخر تك علمي دنيا ميں اس چيز كا زور تھا، جس كو علمي الحاد (scientific atheism)كها جاتا هے۔ مگر بيسويں صدي ميں سائنس ميں جو نئي تحقيقات هوئيں، انھوں نے علمي الحاد كو بے زمين كرنا شروع كرديا۔ بيسويں صدي كے آغاز ميں سر جيمز جینز نےاعلان كيا تھاكه جديد سائنس نے جو كائنات دريافت كي هے، وه مشيني توجيه (mechanical interpretation) كو قبول كرنے سے انكار كر رهي هے۔ اب اس صدي كے آخر ميں نظرياتي طبيعيات دانوں (theoretical physicists) كي بڑي تعداد ايسي پيدا هوگئي هے، جو كائنات كي تشريح ايسے انداز ميں كررهي هے، جس كے مطابق، خداكو مانے بغير كائنات كي توجيه ممكن نهيں۔ اس سلسلے ميں 1988 ميں ايك قابلِ ذكر كتاب چھپي هے۔ يه 200 صفحات پر مشتمل هے۔ كتاب كا نام اور مصنف كانام حسب ذيل هے:

Stephen W. Hawking, A Brief History of Time.

بگ بينگ (Big Bang) نظريه كهتا هے كه كائنات اپنے آغاز سے اب تك ايك خاص رفتار سے مسلسل پھيل رهي هے۔ اس سلسلے ميں اسٹيفن هاكنگ نے حساب لگا كر بتايا هے كه كائنات كے پھيلنے كا يه عمل نهايت سوچا سمجھا (well-calculated)هے۔

توسيع (expansion) كي ابتدائي رفتار حد درجه صحت كے ساتھ مقرر كي گئي هے۔ كيوں كه توسيع کی يه رفتار اس نازك رفتار (critical rate)كے انتهائي قريب هے، جو كائنات كو دوباره انهدام (re-collapse)سے بچانے كے ليے ضروري هے۔ اس كا مطلب يه هے كه اگر بگ بينگ كا ماڈل درست هے ،اور اسي سے وقت كا آغاز هواهے تو كائنات كي ابتدائي حالت حد درجه احتياط كے ساتھ منتخب كي گئي هوگي۔ اگر ايسا نه هوتا تو اب تك كائنات پھٹ كر ختم هوچكي هوتي۔

اس ظاہرے (phenomenon) كي كوئي توجيه (explanation)نهيں كي جاسكتي جب تك يه نه مانا جائے كه كائنات كي توسيع كي شرح رفتار (rate of expansion) حد درجه احتياط كے ساتھ منتخب كي گئي هے۔اسٹيفن هاكنگ نے اس قسم كي تفصيلات بتاتے هوئے لكھا هے كه كائنات كيوں ٹھيك اس انداز پر شروع هوئي، اس كا جواب دينا انتهائي مشكل هوگا، سو ائےاس كے كه يه مانا جائے كه يه خدا كا عمل هے، جس نے چاها كه وه همارے جيسي مخلوق كو يهاں پيداكرے:

It would be very difficult to explain why the universe should have begun in just this way, except as the act of a God who intended to create beings like us. (p. 134)

كائنات كي ايك حيرت ناك صفت يه هے كه وه خدائي تعبير كے سوا كسي اورتعبير كو قبول نهيں كرتي۔ كائنات ايك معلوم اور مشهورواقعه هے۔ اس كے وجود سے انكار ممكن نهيں۔ يهي وجه هے كه هر زمانے ميں بهترين دماغ اس كي تشريح وتعبير ميںمصروف رهے هيں۔كسي نے كها كه كائنات هميشه سے اسي طرح هے۔ كسي نے كها كه وه اپنے آپ بني اور اپنے آپ چلي جارهي هے۔ كسي نے كها كه اسباب وعلل(causes and effects) كا ايك سلسله هے، جس نےكائنات كي تمام چيزوں كو وجود ديا هے۔ كسي نے اصولِ ارتقا كو كائنات كا خالق ثابت كرنے كي كوشش كي، وغيره۔مگر خود انساني معلومات ان تمام تشريحات وتوجيهات كو رد كرتي هيں۔ كائنات كے نظام كے بارے ميں انسان جتنا زياده واقفيت حاصل كرتا هے۔ اتنا هي زياده يه بات بے معني معلوم هوتي هے كه اس كائنات كا خالق ومالك ايك خدائے ذوالجلال كے سوا كوئي اور هو۔كائنات اپنے وجود كے ساتھ يه گواهي ديتي هے كه اس كا خالق خدا هے۔ خدا كے سوا كسي اور كو کائنات کا خالق بتانا صرف ايك بے بنياد دعويٰ هے، جس كے حق ميں كوئي حقيقي ثبوت موجود نهيں۔ اس سلسلے ميں جتنے دعوے يا مخالفانه نظریے پيش كيے گئے، وه خود علم انساني كي روشني ميں غلط اور بےبنياد ثابت هوگئے۔

 

سائنس سے معرفت تک

انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔لیعبدون کی تفسیر صحابیٔ رسول عبد اللہ بن عباس (المجالسة وجواهر العلم للدینوری، اثر نمبر 225)،اور ان کے شاگرد مجاہد تابعی (وفات104ھ)نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد:إلا لیعبدون:لیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج (وفات150 ھ) کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریج:إلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جريج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔

 اس معرفت کا تعلق انسان کی ذات سے ہے۔ انسان ایک صاحبِ ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے، جو انسان کے علاوہ کسی دوسری معلوم مخلوق کو حاصل نہیں۔انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی خصوصی صلاحیت بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیولپ کرے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔

معرفت کے دو درجے

اس دریافت کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ہے کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا، اور دوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ پچھلے ہزارو ں سال سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کامن سنس کو بے آمیز انداز میں استعمال کرے۔ وہ اپنی فطرت کو پوری طرح بیدار کرے۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا کہ وہ کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کرلے۔ اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی، اور وہ ہے ایمانداری (honesty)۔ اگر آدمی کامل ایمانداری کی سطح پر جینے والا ہو تو یقینی طور پر کامن سنس اس کے لیے اپنے خالق کی دریافت کے لیے کافی ہوجائے گی۔

معرفت کی دوسری سطح ، سائنٹفک معرفت ہے۔ یعنی فطرت (nature) میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو جاننا، اور ان کی مدد سے اپنے خالق کی عقلی معرفت (rational realization) تک پہنچنا۔ سائنٹفک معرفت کے لیے ضروری تھا کہ آدمی کے پاس غور و فکر کے لیے سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ مجرد عقلی غور و فکر کے ذریعے سائنٹفک معرفت کا حصول ممکن نہیں۔ سائنٹفک معرفت تک پہنچناکسی کے لیےصرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ اس سائنٹفک ڈیٹا کے حصول کا واحد ذریعہ قوانینِ فطرت (laws of nature) کا علم ہے۔ قدیم زمانے میں انسان کو قوانینِ فطرت کا علم حاصل نہ تھا۔ اس لیے خالق کی سائنسی معرفت بھی انسان کے لیے ممکن نہ ہوسکی۔

خالق کی ایک سنت یہ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کو مینج کرتا ہے، یعنی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو منصوبۂ تخلیق کے مطابق مطلوب حالت تک پہنچاتا ہے۔ خالق اپنا یہ کام انسانی آزادی کو منسوخ کیے بغیر انجام دیتا ہے۔ یہ ایک بے حد پیچیدہ کام ہے، اور اس کو خالق کائنات ہی اپنی بر تر طاقت کے ذریعہ انجام دے سکتا ہے۔ ہمارا کام اس منصوبۂ خداوندی کو سمجھنا ہے، نہ کہ اس کے کورس کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔

قرآن کے ذریعے اللہ تعالی نے بار بار اہلِ ایمان کو یہ بتایا تھا کہ کائنات انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ تم ان تسخیری قوانین کو دریافت کرو، تاکہ تم معرفت کے اس درجے تک پہنچ سکو، جس کو سائنسی معرفت کہا جاتا ہے۔ مگر اہلِ ایمان اس کام کو کرنےمیںعاجز ثابت ہوئے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنی سنت کے مطابق اس کام کے لیے ایک اور قوم کو کھڑا کیا (محمد،47:38) ۔ یہ یورپ کی مسیحی قوم تھی۔ایسا اس طرح ہوا کہ صلیبی جنگوں (Crusades) میں یورپ کی مسیحی قوم کو اتنی سخت شکست ہوئی کہ بظاہران کے لیےجنگ کا آپشن (option)باقی نہ رہا۔ اب عملاًان کےلیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں ، اوراپنی کوشش کسی دوسرےمیدان میں جاری رکھیں۔ چنانچہ انھوں نے میدانِ جنگ کے بجائے قوانینِ فطرت (laws of nature) کے دریافت کی طرف بتدریج اپنی کوششوں كا رخ موڑ (divert) دیا۔

اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (وفات1642ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس ( father of modern science) کہاجاتاہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی وہ پہلا سائنس داں تھا، جس سے ماڈرن سائنس کا سفر باقاعدہ صورت میں شروع ہوا۔ یہ عمل تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ بیسویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہوگئے، جو خالق کو سائنسی سطح یا ریشنل لیول پر دریافت كرنے کے لیے ضروری تھے۔

اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کو واقف کرایا۔ اس کے بعد اس نے اس حقیقت کو چھپے طور پر (hidden form)اس کائنات میں رکھ دی، جس کو انسان خود سے دریافت کرسکتا تھا۔ یہی وہ چھپی حقیقت ہے جودریافت کے بعد ماڈرن سائنس کےنام سے جانی جاتی ہے۔

سائنس کی شہادت

سائنس کیا ہے۔ سائنس در اصل ایک منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طور پر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے:

Science: the systematized knowledge of nature and the physical world.

کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور و فکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں ، اس کے بعد فلسفیانہ طرزِ فکر کی روشنی میں، اور پھر سائنس کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں۔سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار نہیں کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن (1879-1955) کی طرح ان کا کیس کھلے طور پر خدا کے انکار (atheism)کا کیس نہیں ہے، بلکہ ان کا کیس لا ادری (agnosticism) کا کیس ہے۔

طبیعیاتی سائنس کے میدان میں پچھلی چار صدیوں میں تین انقلابی ڈیولپمنٹ پیش آئے ہیں۔ اول، برٹش سائنس داں نیوٹن کا مفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیر ی اینٹ مادہ ہے۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنس داں آئن سٹائن کا یہ نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی تعمیری اینٹ توانائی ہے، اور اب آخر میں ہم امریکن سائنس داں ڈیوڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں، جب کہ سائنس دانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ شعور ہے۔ یہ تبدیلیاں لازمی طور پر ایک نئے فلسفے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ فلسفہ مادیت سے گزر کر عملا ًروحانیت تک پہنچ گیا ہے:

In the realm of the physical science, we have had three major paradigm shifts in the last four centuries. First, we had the Newtonian hypothesis that matter was the basic building block of the universe. In the early twentieth century, this gave way to the Einsteinian paradigm of energy being the basic building block. And the latest is the David Bohm era when more and more scientists are accepting consciousness to be the basic building block. These shifts have had inevitable consequences for the New Age philosophy, which has moved away from the philosophy of crass materialism to that of spirituality.

وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، اس کا آغاز تقریباً سو سال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔ دھیرے دھیرے عمومی طور پر یہ تاثر بن گیا کہ سائنس حقیقت کو جاننے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ جو بات سائنس سے ثابت ہوجائے، وہی حقیقت ہے، جو بات سائنسی اصولوں کے ذریعے ثابت نہ ہو، وہ حقیقت بھی نہیں۔ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔ چوں کہ مذہبی حقیقتیں مادی معیارِ استدلال پر بظاہر ثابت نہیں ہوتی تھیں، اس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔ لیکن علم کا دریا مسلسل آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خود سائنس مادی علم کے بجائے عملاً غیر مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔

سائنس اور عقیدۂ خدا

پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی، جو عالمی طور پر مسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی۔ پھر اس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ کائنات ایک بالاتر شعور کی کار فرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا ہے  —کائنات کا مادہ ایک ذہن ہے:

The stuff of the world is mind-stuff (Eddington)

1927 میں بلجیم کے ایک سائنس داں جارجز لیمٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔اِس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اِس کی حیثیت ایک مسلّمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ اِن لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جویل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا تھا— یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:

The ripples are no less than the handwriting of God

(www.newsweek.com/handwriting-god-198918 [accessed 23.03.2020])

جارج اسموٹ 1945 میں پیداہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر کے لیے کام کرنے پر دیاگیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہردار سطحیںپائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر اِن الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے:

George Fitzgerald Smoot III—(born February 20, 1945)  is an American astrophysicist and cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was ‘‘like seeing the face of God.’’ (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000, p. 153)

فائن ٹیوننگ

اسی طرح سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اِس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاہرے کی کوئی توجیہ ہونی چاہیے:

Fine-Tuning in the Universe:

‘‘There is plenty of good scientific evidence that our universe began about 14 billion years ago, in a Big Bang of enormously high density and temperature, long before planets, stars and even atoms existed. But what came before [The physicist Lawrence] Krauss in his book discusses the current thinking of physicists that our entire universe could have emerged from a jitter in the amorphous haze of the subatomic world called the quantum foam, in which energy and matter can materialize out of nothing. Krauss’s punch line is that we do not need God to create the universe. The quantum foam can do it quite nicely all on its own. Aczel asks the obvious question: But where did the quantum foam come from? Where did the quantum laws come from? Hasn’t Krauss simply passed the buck? Legitimate questions. But ones we will probably never be able to answer.’’’ ... [The fine-tuning problem] For the past 50 years or so, physicists have become more and more aware that various fundamental parameters of our universe appear to be fine-tuned to allow the emergence of life - not only life as we know it but life of any kind. For example, if the nuclear force were slightly stronger than it is, then all the hydrogen atoms in the infant universe would have fused with other hydrogen atoms to make helium, and there would be no hydrogen left. No hydrogen means no water. On the other hand, if the nuclear force were substantially weaker than it is, then the complex atoms needed for biology could not hold together. In another, even more striking example, if the ‘‘cosmic dark energy” discovered by scientists 15 years ago, were a little denser than it actually is, our universe would have expanded so rapidly that matter could never have pulled itself together to form stars. And if the dark energy were a little smaller, the universe would have collapsed long before stars had time to form. Atoms are made in stars. Without stars there would be no atoms and no life. So, the question is: Why? Why do these parameters lie in the narrow range that allows life? (Book: ‘Why Science Does Not Disprove God’ by mathematician Amir D. Aczel, who is currently researcher in the history of science at Boston University. The above are excerpts taken from a review on the book by physicist Alan Lightman for The Washington Post, April 11, 2014)

تبصرہ

کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے :

Probably, there is a God

یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وِجدان (intuition) کا تعلق ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسا ن کا وجود۔

جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار فرمائی ہے۔ کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصوبہ بندی ہے، جو بے نقص ڈزائن ہے، وہ حیرت انگیز طور پر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتاتا ہے۔ کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind)کی موجودگی کا اشارہ کرتی ہے۔

اس موضوع پر اب بہت زیادہ لٹریچر تیار ہوچکا ہے، جس کو انٹرنیٹ پر یا لائبریری میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کائنات میں انٹلیجنٹ ڈیزائن ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم جس میں ہماری زمین واقع ہے، وہ ایک بڑی کہکشاں (galaxy)کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ہمارا شمسی نظام کہکشاں کے بیچ میں نہیں ہے، بلکہ اس کے کنارے واقع ہے۔ اس بنا پر ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم محفوظ طور پر زمین پر زندگی گزاریں، اور یہاں تہذیب (culture) کی تعمیر کریں:

The centre of the galaxy is a very dangerous place. Being in the outskirts of the galaxy, we can live safely from the hectic activities at the centre.

اس حکیمانہ واقعہ کا اشارہ قرآن میں موجود تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے کے ذریعے اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں، جو گویا قرآن کے اجمالی بیان کی تفسیر ہے۔جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا (God) کا نام دے دیا جائے۔

 

خدا اور آخرت

تخلیق اپنے آپ میں خالق کا ثبوت ہے۔ کائنات اتنا زیادہ بامعنٰی واقعہ ہے کہ یہ ناقابلِ تصور ہے کہ کسی کے بنائے بغیر وہ بن گئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے انتخاب باخدا کائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں ہے ،بلکہ حقیقی انتخاب با خدا کائنات یا غیر موجود کائنات میں ہے۔ کیوں کہ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں خود کائنات کو غیر موجود ماننا پڑے گا، اور ہمارے لیے ایسا چوائس (choice)سرے سے ممکن ہی نہیں۔

The choice for us in this regard is not between universe with God or universe without God. This is not the choice. The real choice is between universe with God or no universe at all. If we say that God does not exist, then we are also compelled to say that the universe does not exist. But the universe is too obvious a fact that we are not able to deny the existence of the universe. So we cannot deny the existence of God.

با معنٰی کائنات

سر جیمس جينز نے کہا تھا کہ کائنات کا خالق ایک ریاضیاتی دماغ (mathematical mind) ہے۔ میں کہوں گا کہ ہماری دنیا اتنی زیادہ بامعنٰی ہے کہ وہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق معنویت کا گہرا شعور رکھتا ہے۔ ایسا خالق ایک ایسی دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتا جو اپنے انجام کے اعتبار سے ناقص ہو۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک بامعنٰی خالق ایک بے معنٰی کائنات کی تخلیق کرے۔ کائنات اپنی ساری معنویت کے باوجود اپنی موجودہ حالت میں ناقص ہے۔ وہ اپنی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا کی طالب ہے۔ یہی وہ دنیا ہے جس کو پیغمبر وں نے آخرت کی دنیا کہا ہے۔

یہ آخرت کی دنیا صرف عقیدےکی بات نہیں۔ وہ پوری طرح ایک علمی واقعہ ہے۔ عالم آخرت کے وجود کو ٹھیک اسی علمی معیار پر ثابت کیا جاسکتا ہے جس معیار پر سائنس میں دوسری تمام چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے۔

سائنسی ثبوت

 اس معاملے میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ سائنٹفک پروف کیا ہے۔ موجودہ سائنس کے مطابق، سائنٹفک پروف یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کے معاملے میں تیقن (certainty) کا درجہ حاصل ہو جائے۔ اس قسم کا نا قابلِ انکار تیقن کسی بھی چیز کے بارے میں ممکن نہیں۔ جدید سائنسی موقف کے مطابق، کسی چیز کا علمی طورپر ثابت ہوجانا یہ ہے کہ اس کا قرینہ یا امکان (probability) ثابت ہوجائے۔ جدید سائنس میں جن نظریات کو مسلّمہ کے طور پر مانا جاتا ہے ان کو صرف اس لیے مانا جاتا ہے کہ وہ امکان (probability) کے درجے میں ثابت ہوگیا، نہ یہ کہ مشاہداتی سطح پر ان کے واقع ہونے کا قطعی علم حاصل ہوگیا ہے۔ ایٹم کے اسٹرکچر کو بطور حقیقت ماننا اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔

عالم آخرت کے وجود کو ماننے کے لیے بھی ہمیں اسی مسلّمہ سائنٹفک متھڈ کو استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے سواکسی دوسرے متھڈ کو استعمال کرنا اصولی طورپر درست نہیں۔ کیوں کہ علمی طورپر ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ دوسرے معاملات میں جس سائنٹفک متھڈ کو ہم معقول (valid) مانیں، عالم آخرت کے بارے میں ہم اس متھڈ کے استعمال سے انکار کر دیں۔

تین علمی اصول

جیسا کہ معلوم ہے ، اس طرح کے معاملے میں تین علمی اصول سائنٹفک متھڈ کے تین اجزا ہیں۔ وہ اجزا یہ ہیں— مفروضہ، مشاہدہ، اور تصدیق:

Hypothesis, Observation, Verification

اس تین نکاتی فارمولے کو عالم آخرت کے وجود کے معاملے میں استعمال کیا جائے تو ہم یقینی طورپر ایک موافق قرینہ یا ایک تائیدی امکان تک پہنچ جاتے ہیں، اور جیسا کہ عرض کیا گیا، قرینہ یا امکان تک پہنچنے ہی کا دوسرا نام تیقن (certainty)  ہے۔

اس موضوع کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلا قرینہ یہ سامنے آتا ہے کہ انسان دوسری تمام مخلوقات سے مختلف ہے۔ یہ انسان کی ایک استثنائی صفت ہے کہ وہ کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ انسان کے سوا جمادات اور نباتات اور حیوانات میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے اندر کَل کا تصور رکھتا ہو۔ اس مشاہدہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے سوا دوسری تمام مخلوقات کی منزل صرف آج ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی منزل آئندہ آنے والے کَل (tomorrow)  سے تعلق رکھتی ہے۔

انسانی جسم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کا جسم ان گنت خلیوں (living cells) سے بنا ہے۔یہ خلیے ہر لمحہ ٹوٹتے رہتے ہیں۔ اس طرح انسان کا جسم بار بار پرانے کے بعد نیا ہوتا رہتا ہے، جیسا کہ بہتے ہوئے دریا کاپانی ہر وقت پرانا اور نیا ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی شخصیت اس کے جسم سے الگ ایک مستقل وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ جسم پر موت واقع ہوتی ہے، مگر اس کی روحانی شخصیت بدستور باقی رہتی ہے۔

اسی طرح ہر انسان کے اندر نہایت گہری خواہشیں موجود ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان خواہشات کو طلب کرنے والا ایک حیوان ہے:

Man is a desire-seeking animal.

مگر اسی کے ساتھ تجربہ بتاتا ہے کہ کسی بھی انسان کی یہ خواہشیں پوری نہیں ہوتیں۔ ہر انسان اپنی خواہشات کے مطابق اپنے لیے ایک معیاری دنیا بنانا چاہتا ہے مگر ہر انسان جلد ہی مرجاتا ہے، اس سے پہلے کہ اس نے اپنی خواہشوں کے مطابق اپنا مطلوب کل بنایا ہو۔

امید کی کرن

امریکی مشنری بلی گراہم نے لکھا ہے کہ اس کو ایک بار ایک بڑے امریکی سیاست داں کا ارجنٹ پیغام ملا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ مجھ سے فوراً ملو۔ بلی گراہم نے اپنا پروگرام ملتوی کردیا۔وہ فوراً سفر کرکے اس کے پاس پہنچا۔ بلی گراہم کا بیان ہے کہ جب میں اس کے گھر پہنچا تو فوراً مجھ کو اپنے شاندار مکان کے ایک الگ کمرہ میں لے جایا گیا۔ یہاں ہم دونوں دوکرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ اس کے بعد امریکی سیاست داں نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ بلی گراہم سے کہاکہ دیکھو، میںایک بوڑھا آدمی ہوں۔ زندگی اپنی ساری معنویت کھوچکی ہے۔ میں انجان منزل کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔ اے نوجوان، کیا تم مجھے امید کی ایک کرن دے سکتے ہو:

You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leap into the unknown. Young man can you give me a ray of hope. ) The Secret of Happiness, by Billy Graham, p. 2)

یہ سوال صرف ایک امریکی سیاست داں کا سوال نہیں۔ اس دنیا میں پیداہونے والا ہر آدمی اس سوال سے دوچار ہوتا ہے، عورت بھی اور مرد بھی۔ اس سوال کا معقول جواب صرف عالم آخرت کے عقیدے میں ملتا ہے۔ اگر موت کے بعد ایک اور دنیا کو نہ مانا جائے تو یہ عالمگیر سوال ہمیشہ کے لیے بے جواب ہو کر رہ جائے گا۔

تضاد کا خاتمہ

انسان کے بارے میں اس قسم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور ہرمرد پیدائشی طورپر دو متضاد صفات رکھتے ہیں۔ ایک طرف ہر ایک کی بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ایک مطلوب دنیا (dream world)  بنائے، ایک ایسی دنیا جو اس کے آئیڈیل کے مطابق ہواور جہاں وہ اپنے ’’کَل‘‘ کے دور حیات کو خوشیوں اور راحتوں کے ساتھ گزار سکے۔ مگر دوسری طرف ہر انسان اس تضاد میں مبتلا ہے کہ وہ بظاہر تمام مادی چیزیں حاصل کرلینے کے باوجود اپنی مطلوب دنیا بنا نہیں پاتا۔ بورڈم، نقصان، بیماری، ایکسیڈنٹ، بوڑھاپا اور آخر میں سو سال سے بھی کم مدت میں موت،یہی اس دنیا میں انسان کی کہانی ہے۔

یہی معاملہ ہر عورت اورہرمرد کاہے۔ ہر ایک اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک آئیڈیل کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے۔مگر ہر ایک اپنی حسین تمناؤں کو لیے ہوئے مر جاتا ہے، قبل اس کے کہ اس نے اپنی مطلوب دنیاکو عملاًپایا ہو۔

یہاں دوبارہ ایک مشاہدہ سامنے آتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ دنیا میں عالمگیر طور پر زوجین (pairs) کااصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز جوڑے جوڑے کی صورت میں ہے۔ ہر چیز دو کے ملنے سے مکمل ہوتی ہے  —ایٹم میں نگیٹیو پارٹیکل اور پازیٹیو پارٹیکل، ستاروں کی دنیا میں جوڑا ستارے(pair stars) ، نباتات کی دنیا میں نر اور مادہ ،حیوانات کی دنیا میں مذکر اور مؤنث، انسان کی دنیا میں مرد اورعورت۔

اس عالمگیر فطری اصول کو زوجین کا اصول (pair principle) کہا جاسکتا ہے۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔ اسی عالمگیر اصول میںمذکورہ سوال کا جواب ہے۔ اس کے مطابق، ساری دنیا میں ایک جوڑا دنیا (pair world) ہے۔ موجودہ دنیا کے ساتھ ایک اور دنیا موجود ہے، اور اسی دنیا کے ملنے سے ہی موجودہ دنیا اپنے وجود کو مکمل کرتی ہے۔

آغاز کی تکمیل

اب مذکورہ مشاہدے کی روشنی میں دیکھیے تو اس بات کی واضح تصدیق ہو جاتی ہے کہ عالم آخرت کا نظریہ درست ہے۔ عالم آخرت موجودہ دنیا کا جوڑا(pair) ہے، جس کے ملنے سے موجودہ دنیا اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ آخرت کے بغیر ہماری موجودہ دنیا اسی طرح بے معنی ہوجاتی ہے، جس طرح اس کائنات کی دوسری تمام چیزیں اپنے جوڑے کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔

ہماری دنیا کا دو دنیاؤں کی صورت میں ہونا بہت با معنٰی ہے۔ اس دوسری دنیا کو ماننے کے بعد انسانی وجود ایک مکمل وجود بن جاتا ہے۔ اب ہر چیز اپنی معنویت پالیتی ہے۔ اب ہر چیز اپنے خانے میں فٹ بیٹھ جاتی ہے:

Everything falls into place.

درست فریم ورک

یہ تصور ہم کو وہ فریم ورک دے دیتا ہے، جس میں زندگی اور کائنات کی ہر چیزاپنی اطمینان بخش توجیہ پاسکے۔ اس تصور سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جنت اور جہنم کیا ہے۔ جنت گویا سنجیدہ اور حق پرست لوگوں کی آرام گاہ ہے اور جہنم گویا سرکش اور باطل پرستوں کا عذاب خانہ۔

اس کے مطابق جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو عالم امتحان(testing ground) کے طورپر بنایا گیا ہے، اور اگلی دنیا کو اپنا انجام پانےکے لیے۔ انسان کو پیدائشی طورپر ابدی مخلوق کی حیثیت سے بنایا گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت عطا ہوئی ہے۔ تاہم انسان کی زندگی گویا آئس برگ کی مانند ہے، جس کا بہت چھوٹا حصہ اوپر دکھائی دیتا ہے، اور اس کا پورا بقیہ وجود سمندر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی مدتِ عمر (life span) دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کا بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں رکھا گیا ہے، اور اس کی مدتِ حیات کا زیادہ بڑا حصہ عالم آخرت میں رکھ دیا گیا ہے۔

موجودہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز اس لیے ہے تاکہ انسان اپنی شخصیت کو مکمل کرے۔ مثال کے طورپر موجودہ دنیا طرح طرح کی تلخیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان ان تجربات سے گزرتے ہوئے یہ ثبوت دے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت احساسات کے ساتھ جی سکتا ہے۔ ایسے ہی مثبت شخصیات کے لوگ جنت کی معیاری دنیا میں داخل کیے جائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ ردّ ِعمل کا شکار ہوگئے، اور منفی تجربات کے درمیان خود بھی منفی بن گئے، ایسی منفی شخصیت رکھنے والے لوگوں کوجنت کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا۔ وہ  کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیے جائیں گے، جہاں سے وہ کبھی نکل نہ سکیں گے۔

عضویاتی ارتقا کے نظریے کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک فیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ عضویاتی ارتقا کے نظریے کے حق میں مشاہداتی دلائل حاصل ہوگئے ہیں۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ نظریۂ ارتقا کو ماننے کی صورت میں حیاتیاتی شواہد کی ایک قابلِ فہم توجیہ حاصل ہوجاتی ہے۔ جب کہ علما ئےسائنس کے نزدیک، دوسرا کوئی ایسا نظریہ موجود نہیں جو معلوم حیاتیاتی شواہد کی توجیہ کرتاہو۔ گویا نظریۂ ارتقا ایک قابلِ عمل نظریہ (workable theory) ہے، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی ثابت شدہ نظریہ (proved theory)۔

اطمینان بخش توجیہ

اس سائنسی اصول کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں تمام معلوم شواہد کی تشفی بخش توجیہ مل جاتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں سب کچھ ناقابل توجیہ بنا رہتا ہے۔

عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا ادھوری معلوم ہوتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا مکمل نظر آنے لگتی ہے۔ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات ناقابلِ فہم بنی رہتی ہے کہ بہت سے سچے اور اچھے انسان دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ انہیں اپنی سچائی کا کوئی انعام نہیں ملا۔ مگر عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال پوری طرح ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا کا یہ واقعہ ناقابلِ توجیہ بنا رہتا ہے کہ یہاں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ برائی اور سرکشی کرتے ہیں، مگر یہاں وہ اپنی برائی کی سزا نہیں پاتے۔لیکن عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں ہم کو اس سوال کا اطمینان بخش جواب مل جاتا ہے۔

اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات مکمل طورپر ناقابلِ فہم رہتی ہے کہ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ انسان یہاں ایک آئیڈیل ورلڈ کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے، مگر ہر شخص اس آئیڈیل ورلڈ کو پائے بغیر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال مکمل طورپر ختم ہوجاتا ہے۔ اب انسان اس یقین کے ساتھ موجودہ دنیا میں رہ سکتا ہے کہ جس مطلوب چیز کو وہ قبل از موت دنیا میں نہ پاسکا، وہ اس کو بعد از موت دنیا میں پالے گا۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز عبث پیدا نہیں کی گئی۔ سورج چاند کا نظام ہو یا زمین کے کیڑے مکوڑے سب ایک مقصد کے تحت پیدا کیےگئے ہیں، اور وہ اپنے اس مقصد کو پورا کررہے ہیں۔ اس حالت میں اس دنیا میں صرف ایک ہی چیز ایسی ہے جو بظاہر بلا مقصد معلوم ہوتی ہے۔ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طورپر حسین تمناؤں کا ایک تصور بسا ہوا ہے، کوئی بھی عورت یا مرد اس سے خالی نہیں۔ پھر جب اس دنیا کی دوسری تمام چیزیں واضح مقصد کے تحت پیدا کی گئی ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بھی اپنی ایک حقیقی منزل رکھتی ہوں۔ جس کائنات میں ہر چیز با مقصد ہو، وہاں انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بے مقصد نہیں ہوسکتیں۔

یقینی طورپر یہ خواہشیں اور تمنائیں بھی سوچی سمجھی تخلیق ہیں۔ ان کی پیدائش کا ایک واضح مقصد ہے۔ البتہ یہ مقصد موجودہ محدود دنیا میں پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ خواہشیں اور تمنائیں لامحدودہیں، اور وہ ایک لامحدود دنیا ہی میں پوری ہوسکتی ہیں۔ اسی لامحدود دنیا کا نام آخرت ہے۔

آخرت کی اس لامحدود دنیا میں اچھے لوگوں کو ابدی جنت ملے گی، جو ہر قسم کی خوشیوں اور  راحتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ موجودہ دنیا میں برے ثابت ہوں، ان کو آخرت کی دنیا میں کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا، جہاں وہ مجبور ہوں گے کہ وہ اپنی برائیوں کی سزا ابدی طورپر بھگتتے رہیں۔

جنت کی حقیقت

جنت کیا ہے۔ جنت انسان کی تلاش کا جواب ہے۔ انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں وہ ایک انوکھے استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ وسیع کائنات کا ہر جزء اپنے آپ میں مکمل ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو اپنے آپ میں مکمل نہیں۔ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect)  کائنات ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو استثنائی طورپر ناقص وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔

کائنات میں ہر طرف یقین(certainty) ہے۔ اس کے برعکس، انسان کی دنیا میں غیریقینیت (uncertainty) عام ہے۔ بقیہ کائنات میں کہیں خوف (fear) دکھائی نہیں دیتا، مگر انسان ہمیشہ خوف اور اندیشے سے دوچار رہتا ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر طرف تسکین (satisfaction) کی حالت ہے، اور انسان کی زندگی میں بے تسکینی (dissatisfaction) کی حالت ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر چیز کا حال یہ ہے کہ جو کچھ اس کو چاہیے، وہ سب اس کو مل رہا ہے، مگر انسان اس دنیا کی واحد مخلوق ہے، جو اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جو کچھ اس نے چاہا، وہ اس کو نہیں ملا۔ بقیہ کائنات بُرائی سے پاک (evil-free) کائنات ہے۔ مگر انسان استثنائی طورپر اس مسئلے سے دوچار ہے، جس کو برائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔

جنت اسی سوال کا جواب ہے۔ جنت کا تصور بتاتا ہے کہ انسان کے لیے بھی وہ سب کچھ پوری طرح موجود ہے، جو بقیہ کائنات کو ملا ہوا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات کو اپنا مطلوب آج میں مل رہا ہے، جب کہ انسان کو اس کا مطلوب کل میں ملے گا۔ دونوں کے معاملات کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہے کہ بقیہ کائنات کے پاس کل (tomorrow) کا تصور نہیں۔ یہ صرف انسان ہے، جو استثنائی طور پر کل کے تصور میں جیتا ہے۔

فطرت کا حصہ

خدا اور آخرت کا معاملہ بظاہر غیر مشہود دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسان کی فطرت خدا اورآخرت کے معاملے کو ایک معلوم صداقت کے طورپر جان لیتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ خدا کی معرفت کے دو درجے ہیں۔ ایک عقلی اور دوسرا فطری۔ خدا اور آخرت کے وجود کو عقلی سطح پر ماننا، اس معرفت کا صرف ابتدائی درجہ ہے۔ جب کہ خدا اور آخرت کے وجود پر فطری سطح پر یقین کرنا، اس کا انتہائی درجہ۔ خدا اور آخرت کے معاملے میں عقلی دلائل کے استعمال کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر سے شک کے پردے کو ہٹا دیا جائے۔ انسان کو اس مقام تک لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے معاملے کو کم ازکم امکانی صداقت کے طورپر قبول کرلے۔

خدا اور آخرت کے معاملے میں دلیل اور منطق کے استعمال کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو اس فکری سطح پر لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے وجود کو بطور ایک نظریہ ماننے کے لیے تیار ہوجا ئے۔ جب آدمی اس حالت تک پہنچ جائے تو وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس نظریہ کو قبول کرنے کے لیے اس کی فطرت کے دروازے کھل جائیں۔ وہ اس کو ایک فطری سچائی کے طور پر پہچان کر اپنا لے۔

ہر انسان کے پاس وہ آنکھ موجود ہے، جو خدا اور آخرت کو دیکھ سکے، مگر ا س آنکھ کے اوپر کنڈیشننگ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ منطقی دلیل یہ کام کرتی ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ یا اس ذہنی رکاوٹ(mental block) کو توڑ کر اس مصنوعی پردہ کو فطرت کی آنکھ سے ہٹا دے۔ اس کے بعد انسان خدا اور آخرت کو صاف دیکھنے لگتا ہے۔ اب انسان بظاہر نہ دکھائی دینے والے خدا کے وجود پر اسی طرح کامل یقین کر لیتا ہے، جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے وجود پر کامل یقین رکھتا ہے۔ حالاںکہ اس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔

خدا اور آخرت کا معاملہ صرف اس وقت تک منطقی بحث کا موضوع رہتا ہے، جب تک کہ آدمی کے ذہن کا مصنوعی پردہ ہٹا نہ ہو۔ غور و فکر یا منطقی استدلال کے ذریعے جب یہ پردہ ہٹ جائے تو انسان اپنے خدا کو خود اپنی داخلی معرفت کے تحت پہچان لیتا ہے۔ اب خدا اس کے لیے تمام معلوم چیزوں سے زیادہ معلوم واقعہ بن جاتا ہے۔ منطقی دلیل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کو فطرت کے دروازے تک پہنچا دے۔ فطرت کا دروازہ کھلتے ہی انسان خدا کو اس طرح پالیتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔

انسان کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو ضرورت ہوتی ہے کہ سورج کے وجود کو اس کے لیے دلائل سے ثابت کیا جائے۔ لیکن جب آنکھ کی پٹی ہٹا دی جائے تو اس کے بعد سورج کو ماننے کے لیے اسے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خدا کا ہے۔ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں آخری حد تک سمایا ہوا ہے۔ اصل ضرورت صرف فطرت کا پردہ ہٹانے کی ہے۔ دلیل کے ذریعے جب فطرت کا پردہ ہٹا دیا جائے تو انسان خدا کو اس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ دیکھنے لگتا ہے، جتنا کہ ایک کھلی آنکھ والا انسان آفتاب کو۔

 

جديد سائنس

رابرٹ بائل (Robert Boyle) مشهور سائنس داں هے۔ وه 1627 ميں پيدا هوا، اور 1691 ميں لندن ميں اس كي وفات هوئي۔ اس نے سائنس كے مطالعے كو اپنا موضوع بنايا۔ مگر سائنس كےمطالعے نے اس كو مذهب سے دور نهيں كيا، بلكه اور قريب كرديا۔ آخر ميں وه پخته قسم كا پروٹسٹنٹ عيسائي بن گيا۔ اس نے شادي نهيں كي، اور اپني تمام كمائي مسيحي مذهب كي تبليغ كے ليے وقف كردي۔

رابرٹ بائل خداكےوجود كو مانتا تھا۔ اس كے خيال كے مطابق، فطرت كانظام ايك گھڑي كي مانند هے۔ خدانے اس كو پيداكيا اور اس كو ابتدائي طورپر چلا ديا۔ اب وه ثانوي قانون كے تحت عمل كررهي هے۔ جس كا سائنس كے ذريعے مطالعه كياجاسكتاهے:

In his view of divine providence, nature was a clocklike mechanism that had been made and set in motion by the Creator at the beginning and now functioned according to secondary laws, which could be studied by science (3/97).

يه بيسويں صدي سے پهلے كي سائنس تھي۔ اس وقت يه سمجھا جاتا تھا كه كائنات ميں يكسانيت (uniformity) هے۔ كائنات كے تمام اجزا يكساں قوانين كے تحت چل رهے هيں۔ مگر بيسويں صدي ميں پهنچ كر يه نظريه باقي نه ره سكا۔كائنات كبير (macrocosm) كے مطالعے ميں بہ ظاهر يه دكھائي ديا تھا كه كائنات ميں يكسانيت كي كارفرمائي هے۔ مگر كائنات صغير (microcosm) كے مطالعے نے اس مفروضه كو رد كرديا۔ شمسي نظام كي سطح پر انسان كو جو يكسانيت نظر آتي تھي، وه ايٹم كي سطح پر پهنچ كر ٹوٹ گئي۔ حقيقت يه هے كه كائنات كو خدا هي نے اپنے حكم سے بنايا هے، اور وهي اپنے حكم سے اس كو چلا رها هے۔ نه كائنات كو بنانے ميں كوئي اس كا شريك هے،اور نه كائنات كو چلانے ميں كوئي اس كا شريك۔ ايك خدا كو چھوڑ كر جو نظريه بھي كائنات كي توجيه كے ليے بنايا جاتا هے، وه بالآخر ٹوٹ جاتا هے۔ يهي واقعه يه ثابت كرنے كے ليے كافي هےكه ايك خدا كي توجيه هي صحيح توجيه هے۔ اس كے سوا هر دوسري توجيه صرف انسان كا ذهني مفروضه هے، اس كے باهر اس كا كوئي وجود نهيں۔

 

وحي والهام

قرآن کی سورہ النحل ميں هے : وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ(16:68)۔ یعنی الله نے شهد كي مكھي كو وحي كي ۔ اس سے معلوم هوتا هے كه جانوروں ميں بعض ايسي نشانياں هيں جو وحي سے مشابهت ركھتي هيں۔ ان كا مطالعه وحيِ الٰهي كے معاملے كو انسان كے ليے قابلِ فهم بناديتاهے۔

وحي كے عقيدے كا مطلب خارجي ذريعهٔ علم سے رهنمائي كا آنا هے۔ جانور كا مطالعه بتاتا هے كه ان كے درميان اس قسم كا ذريعهٔ علم واضح طورپر موجود هے۔ جانوروں ميں ايسي صفات پائي جاتي هيں، جن كي توجيه اس كے سوا كچھ اور نهيں كي جاسكتي كه يه مانا جائے كه ان كو اپنے باهر سے هدايات مل رهي هيں۔ انھيں صفات ميں سے ايك صفت جانوروں كي مهاجرت (migration) كامعامله هے۔خاص طورپر مچھليوں اور چڑيوں كي مهاجرت اپنے اندر ايسي نشانياں ركھتي هے جس كے بعد وحي والهام كے معاملے كو سمجھنا كچھ بھي مشكل نهيں رهتا۔

يهاں هم مهاجر چڑيوں (migratory birds) كا حواله ديں گے۔ بهت سي چڑياں هيں جو خوراك كي تلاش ميں يا موسم كي تبديلي كي بنا پر ايسا كرتي هيں كه خاص خاص وقتوں ميںاپنے اصل مقام سے هجرت كركے دوسرے موزوں تر مقامات پر جاتي هيں، اور پھر ايك خاص مدت كے بعد دوباره اپنے سابق مقام پر واپس آجاتي هيں۔

ان پروازوں كے بارے ميں موجوده زمانے ميں نهايت وسيع مشاهدات كيے گئے هيں۔ ان سے معلوم هوا هے كه يه پروازيں بے مقصد اڑان كي حيثيت نهيں ركھتيں۔ بلكه ايك ماهرِ طيور كے الفاظ ميں ان كي حيثيت نهايت اعلي درجے كے جغرافي بندوبست (geographical arrangement) كي هے۔ وه اتنا هي با معني هيں، جتنا كسي انسان كا سوچا سمجھا هوا سفر با معني هوتاهے۔نيز مشاهدات كے ذريعے يه بھي معلوم هوا هے كه يه پروازيں انتهائي صحيح طورپر مقرر راستوں (well-defined flyways) پر انجام پاتي هيں۔

چڑيوں كا يه سفر نهايت عجيب هے۔ انسان كے ليے صحيح طورپر ايك مقام سے دوسرے مقام پر جانا اسي وقت ممكن هوتا هے، جب كه اس نے راسته اور منزل كي پوري معلومات خارج سے حاصل كرلي هوں۔ يه ’’خارجي ذريعه‘‘ انسان كے ليے دوسروں سے سننا يا دوسروں كي تحقيق كو پڑھنا يا خود بيروني احوال كا تجربه كرنا هے۔ اگر انسان كو تاريخي طورپر جمع شده معلومات سے، آپس كے تبادله خيال سے، يا تعليم گاهوں كي تعليم سے كاٹ ديا جائے تو انسان كچھ نه كرسكے۔

مثال كے طورپر الادريسي (ابو عبد الله محمد بن محمد الادريسي ،  1100-1166ء)نے زمين كے گول هونے كا ابتدائي تصور هندي نظريه عرين (Arin) سے ليا۔ پھر الادريسي كي كتاب کے لاطيني ترجمے سے يه فكر كو لمبس تك پهنچی۔ پھر كولمبس (1451-1506)كے تجربات سے بعد والوں كے علم ميں اضافه هوا۔ يه سلسله ايك كے بعد ايك اسي طرح بڑھتا رها۔ يهاں تك كه جغرافيه كا علم ترقي كے اس درجے تك پهنچا، جو آج كے انسان كو حاصل هے۔ آج جب سمندري جهاز كا ايك كپتان وسيع سمندر ميں داخل هو كر اس ساحل سے اُس ساحل تك اپنا جهاز لے جاتاهے۔ يا هوائي جهاز كا پائلٹ ايك براعظم سے اڑ كر دوسرے براعظم ميں اترتا هے تو اس عمل كے پيچھے سيكڑوں سال كے انساني تجربات كا علم شامل هوتا هے۔

چڑياں اس طرح كا كوئي ذريعهٔ علم نهيں ركھتيں۔ وه اس قسم كے ذريعے معلومات سے مكمل طورپر كٹي هوئي هيں۔ چڑيوں كے اندر باهم تبادلهٔ خيال نهيں هوتا، جس طرح انسانوں كے اندر هوتاهے۔ اس بنا پر چڑيوں كے ليے يه ممكن نهيں كه ايك چڑيا دوسري چڑيا كے تجربات سے فائده اٹھا كر اپني معلومات كو بڑھائے۔ كوئي چڑيا اپني معلومات كو كتاب كي صورت ميں قلم بند نهيں كرتي كه دوسري چڑيا اس كو پڑھ كر اس سے رهنمائي حاصل كرے۔ اس قسم كي هر سهولت سے كامل محرومي كے باوجود يه چڑياں بالكل انسانوں كي مانند سفر كرتي هيں۔ وه اس درجهٔ صحت كے ساتھ ايك مقام سے دوسرے مقام تك جاتي هيں، جيسے كه ريڈيائي كنٹرول كے ذريعے كوئي راكٹ خلا ميں چلايا جارها هو۔

مهاجر چڑيوں كا مطالعه كرنے والے ايك محقق نے لكھاهے كه چڑيوں كي هجرت كي پروازيں متعين راستوں پر هوتي هيں۔ بعض اوقات لمبے فاصلوں پر حد درجه عمده تعين كے ساتھ:

The migration flights of birds follow specific routes, sometimes quite well defined over long distances (Encylopædia Britannica ‘‘migration’’ 12/181).

افريقه ميں چڑيوں كي مهاجرت كا جو انداز هے، اس ميں انوكھی ڈسپلن پائی جاتی هے۔ مثلاً بعض چڑياں جو ايك مخصوص حلقے ميں گھونسله بناتي هيں،جو خط استواء (equator) پر مغرب ميں سينيگال اور مشرق ميں كينيا تك پھيلا هوا هے، وه خاص وقتوں ميں شمال كي طرف هجرت كرجاتي هيں۔ تاكه وه بارش كے موسم سے بچ سكيں:

The Migratory behaviour of birds has a unique regularity in Africa. The standard-wing jar, which nests in a belt extending from Senegal in the west to Kenya in the east along the equational forest, migrates northward to avoid the wet season (Encylopædia Britannica ‘‘migration’’ 12/180)

اس مضمون کے آخر میں نقشه دیا گیا هے۔ يه نقشه چڑيوں كے بين براعظمي سفر كو بتارها هے۔ اس ميں دكھايا گيا هے كه روس اور دوسرے يورپي علاقوں كي چڑياں كس طرح سرد موسم ميں اپنے علاقے سے نكل كر افريقه اور ايشيا كے گرم علاقوں كي طرف جاتي هيں۔ اس لمبے سفر ميں انھيں تين سمندروں سے واسطه پيش آتاهے — انھيں كيسپين سمندر (Caspian Sea)اور بحر اسود (Black Sea) اور بحر متوسط (Mediterranean Sea)كو پار كرنا پڑتاهے۔ يه چڑياں ايسا نهيں كرتيں كه بے خبري كے عالم ميں بس اپنے مقام سے اڑ كر كسي طرف بھي روانه هوجائيں۔ اس مقصد كے ليے وه نهايت صحت كے ساتھ اس رخ كا تعين كرتي هيں، جو ان كے ليے موزوں ترين هے۔ وه نهايت صحت كے ساتھ عين وه راستے اختيار كرتي هيں، جدھر سے جانے ميں انھيں كم سے كم سمندر كے اوپر سے گزرنا پڑے۔ كيوں كه خشكي پر بوقت ضرورت نيچے اتر سكتي هيں، مگر سمندر ميں اترنا ان كے ليے ممكن نهيں۔

اس نقشے كو دائيں سے بائيں كي طرف ديكھیے۔ اس ميں چڑيوں كا پهلا جھنڈ وه هے،جو يورپ سے آتے هوئے وهاں پهنچتاهے، جهاں ان كي راه ميں بحر كيسپين حائل هے۔ يهاں وه مڑ جاتي هيںوه بحر كيسپين كو كنارے چھوڑتے هوئے ايك طرف قراقرم كي جانب سے اور دوسري طرف كاكيشيا كي جانب سے پرواز كركے ايشيا ميں داخل هوتي هيں، اور اپنے مطلوبه مقامات پر اتر جاتي هيں۔

يه چڑياں ٹھيك يهي معامله بحرِ اسود كے ساتھ بھي كرتي هيں۔ چنانچه ان كا جھنڈ يهاں پهنچ كر دو ٹكڑے هوجاتا هے۔ ان كا ايك حصه بحر اسود كے مغربي ساحل سے اوردوسرا حصه مشرقي ساحل سے اپنا سفر جاري ركھتاهے۔ يهاں تك كه وه ايشيائي علاقے ميں داخل هوجاتا هے۔ايك ماهرِ طيور (Ornithologist)نے لكھا هے كه يه بخوبي طورپر الگ الگ راستے غالباً چڑيوں نے اس ليے اختيار كيے هيں كه وه سمندر كے اوپر لمبي پرواز سے بچ سكيں:

These well-separated routes are probably a result of the stork’s aversion to long flights over water (Encylopædia Britannica ‘‘migration’’ 12/180)

اس كے بعد چڑيوں كے تيسرے جھنڈ كا منظر هے۔ يه چڑياں بلغاريه تك آكر تركي كي طرف مڑ جاتي هيں۔ پھر شام، لبنان اور فلسطين كے ساحلی علاقوں میں سفرکرتے هوئے وه سوئز تك پهنچتي هيں۔ يهاں سے وه مصر كي سرزمين ميں داخل هوتي هيں اور پھر آگے افريقي علاقوں ميں چلي جاتي هيں۔

چڑيوں كا چوتھا جھنڈ يونان كا راسته اختيار كرتاهے۔ جس كي خشكي لمبي نوك كي مانند بهت دور تك سمندر كے اندر چلي گئي هے۔ يه چڑياں يونان اور كريٹ كي خشكي كا سهارا ليتے هوئے سمندر ميں داخل هوتي هيں۔ يه سمندر كا وه مقام هے جو سب سے كم چوڑا هے۔ وه اپنے طويل سفر ميں سمندر كو عين اس نقطے پر عبور كرتي هيں، جهاں جغرافي طورپر اس كي چوڑائي سب سے كم هوجاتي هے۔ چڑياں اس راستے كو واضح طور پر اس ليے اختيار كرتي هيں كه انھيں كم سے كم سمندر كےاوپر پرواز كرنا پڑے۔ يعني عين وهي وجه جس كي بنا پر قديم زمانے ميں انساني قافلے بيچ سمندر ميں اپني كشتي ڈالنےكے بجائے ’’آبنائے‘‘ كے مقام پر سمندروں كو عبور كيا كرتے تھے۔

چڑيوں كا پانچواں جھنڈ وه هے، جو آگے بڑھ كر اٹلي كے راستے پر مڑ جاتا هے۔ وه اٹلي كے اوپر پرواز كرتےهوئے سسلي ميں داخل هوتاهے۔ اس طرح وه اپنے دائيں اور بائيں سمندر كو چھوڑتا هوا لمبا راسته خشكي كے اوپر اوپر طے كرتاهے،اور پھر سسلي كے ساحل سے سمندر ميں داخل هو كر افريقه ميں پهنچ جاتا هے، دوباره عين اسي مقام پر جهاں سمندر كي چوڑائي سب سے كم تھي۔

چڑيوں كا چھٹا جھنڈ اس نقشے ميں فرانس كي طرف جاتا هوا نظر آتا هے۔ اور پھر وه اسپين كي طرف مڑ كر خشكي كے اوپر اڑتا رهتا هے يهاں تك كه وه جبرالٹر كے پاس پهنچ جاتا هے۔ جهاں وسيع سمندر صرف دس ميل چوڑا ره جاتاهے۔ يه چڑياں سمندر كو عبور كرنے كے ليے اس موزوں ترين مقام كا انتخاب كرتي هيں۔ وه يهاں پهنچ كر سمندر ميں داخل هوتي هيں، اور آبنائے جبرالٹر كو پار كركے افريقه كي زمين پر اتر جاتي هيں۔

چڑيوں كے يه اسفار انتهائي حد تك حيرت انگيز هيں۔ آج كا ايك انسان جب اس قسم كا طويل سفركرتا هے تو وه بهت سے علوم سے مدد ليتاهے۔ مگر چڑيوں كے اندر نه انساني ذهن هے اور نه علوم سے مدد لينے كا انتظام۔ پھر چڑياں كيوں كر اس قسم كے پيچيده اسفار ميں كامياب هوتي هيں، ايك ماهر طيور نے اس كا جواب ديتے هوئے كها هے:

 Birds have evolved a highly efficient means for travelling swiftly over long distances with great economy of energy (Encylopædia Britannica—‘‘migration’’ 12/179).

چڑيوں نے نهايت اعلي درجے كے ارتقا يافته موثر ذريعے دريافت كرليے هيں تاكه وه لمبے فاصلوں پر كم سے كم طاقت خرچ كركے بخوبي سفر كرسكيں۔ مگر يه محض الفاظ هيں۔ حقيقت يه هے كه چڑيوں كے اندر يا ان كے حالات ميں هر گز ايسے شواهد موجود نهيں هيں جويه ثابت كريںكه چڑيوں نے كسي ارتقائي عمل كے ذريعے يه صلاحيت اپنےا ندر پيدا كي هے۔

گهرائي كے ساتھ غور كيجیے تو اس معاملے كي توجيه كے ليے دو هي ممكن مفروضے هو سكتے هيں۔ ايك يه كه ان چڑيوں كو يورپ اور ايشيا اور افريقه كے جغرافيه كا اور اس كي خشكي اور تري كا مكمل علم حاصل هو۔ مگر كوئي بھي تحقيق ايسا ثابت نهيں كرتي۔ هماري تمام معلومات كے مطابق چڑياں بذاتِ خود كسي بھي قسم كے جغرافي علم سے قطعاً نا بلد هيں۔ اس مفروضے كو ثابت كرنے كے ليے جو كچھ كها جاتا هے، وه محض بے بنياد قياس هے، جس كے حق ميں كوئي علمي شهادت موجود نهيں۔

اس كے بعد دوسرا ممكن مفروضه صرف يه هے كه كوئي ’’واقفِ جغرافيه‘‘ ان كي رهنمائي كررها هو۔ يهاں كوئي مخفي قسم كا ريموٹ كنٹرول هو، جو چڑيوں كو ٹھيك اسي طرح مسلسل رهنمائي دے رها هو، جيسے همارے غير انسان بردار راكٹ كو ريڈيائي كنٹرول كے ذريعے دور سے رهنمائي دي جاتي هے۔ يهي دوسري صورت زياده قرينِ قياس هے۔ حقيقت يه هے كه يه واقعه اس عقيدے كو پوري طرح قابلِ فهم بنا ديتا هے، جس كو آسماني مذهب ميں وحي سے تعبير كيا گيا هے۔

جانوروں كي زندگي ميں ايسے واقعات هيں جن كي توجيه اس كے بغير نهيں هوتي كه يه مانا جائے كه ان كو ايك خارجي خزانهٔ علم سے رهنمائي مل رهي هے۔ اسي كا نام مذهبي زبان ميں وحي هے۔ جانوروں كي زندگي كا مطالعه وحي كے معامله كو قابلِ فهم بنا ديتاهے، اور قرائن كے ذريعے كسي چيز كا قابلِ فهم هونا هي كافي هے كه اس كي واقعيت وصداقت پر يقين كيا جائے۔

وحي كے عقيدے كا مطلب يه هے كه خدا اپنے مخفي ذريعے سے ايك انسان پر اپني رهنمائي بھيجتا هے۔ يه رهنمائي بتاتي هے كه انسان كو كيا كرنا چاهيے اور كيا نهيں كرنا چاهيے۔ خدا اور بنده (پيغمبر) كے درميان وحي كا يه اتصال بہ ظاهر دكھائي نهيں ديتا، اس ليے كچھ لوگ كهه ديتے هيں كه هم كيوں كراسے مانيں۔

مگر دوسري مخلوقات، مثلاً مهاجر چڑيوں كے سفر كے معاملے پر غور كرنے سے ظاهر هوتا هے كه يهاں ’’وحي‘‘ كي نوعيت كي رهنمائي موجود هے۔ ان چڑيوں كا حد درجه صحت كے ساتھ سفر كرنا ايك ايسا واقعه هے، جو وحي كے معاملے كو همارے ليے قابلِ فهم بنا ديتاهے۔ كيوں كه چڑيوں كے ان اسفار كي كوئي بھي حقيقي توجيه اس كے سوا نهيں كي جاسكتي كه يه مانا جائے كه ان كو خارج سے كوئي مخفي قسم كي رهنمائي مل رهي هے۔ جب چڑيوں كے اپنے اندر اس كے معلوم اسباب موجود نهيں هيں تو اس كے سوا اور كيا كهاجاسكتا هے كه اس كو خارج سے آنے والي چيز قرار ديا جائے۔

پيغمبر كا يه دعوي كه اس كو خدا كي طرف سے مخفي رهنمائي آتي هے، بلا شبه عجيب هے۔ مگر اس قسم كي مخفي رهنمائي موجوده كائنات ميں عجيب نهيں۔ يهاں دوسرے ايسے واقعات كثرت سے موجود هيں جو اس بات كي تصديق كرتے هيں كه اس قسم كي رهنمائي كائنات ميں بطور واقعه موجود هے۔ مهاجر چڑيوں كا معامله ان بے شمار مثالوں ميں سے صرف ايك مثال هے ،جس كو نهايت مختصر طورپر يهاں بيان كياگيا هے۔

 

علم كا سفر

قرآن خدا كي كتاب كي حيثيت سے ساتويں صدي عيسوي كے نصف اول ميں اترا۔ اس وقت ساري دنيا ميں توهم پرستي كا كلچر رائج تھا۔ قرآن كے بعد علمي دريافتوں كا سلسله شروع هوا۔ يه دور بيسويں صدي عيسوي ميں اپني تكميل تك پهنچا۔ قرآن كي صداقت كا يه علمي ثبوت هے كه بعد كي علمي تحقيقات قرآن كي باتوں كي تصديق بنتي چلي گئيں۔ اس سلسلے ميں برٹش سائنسداں سرجيمس جينز كا ايك اقتباس يهاں نقل كيا جاتا هے:

The stream of knowledge is heading towards a non-mechanical reality; the universe begins to look more like a great thought than like a great machine. (The Mysterious Universe, James Jeans, p. 137)

 يه بات برٹش سائنسداںنے 1930 ميں كهي تھي۔ اس كے بعد كي تمام دريافتيں اس بات كي تصديق بنتي چلي گئيں كه حقيقت كا جو تصور قرآن ميں دياگيا هے، وهي درست تصور هے۔ اس درميان سائنسي دريافتوں كے ذريعے ملحدانه تصورات رد هوتے چلے گئے، اور موحدانه تصورات ثابت شده بنتے چلے گئے۔

مثلاً قديم ملحدين يه سمجھتے تھے كه كائنات ابدي هے، وه جيسي آج هے ،ويسي هي وه ابد سے چلي آرهي هے، اس ليے كائنات كو خالق كي كوئي ضرورت نهيں۔ مگر بعد كي سائنسي تحقيقات نے يه ثابت كيا كه كائنات كا ايك آغاز هے۔ 13 بلين سال پهلے بگ بينگ (Big Bang) كي صورت ميں كائنات كا آغاز هوا۔اسي طرح قديم ملحدين مانتے تھے كه كائنات ميں كوئي نظم نهيں،مگر موجوده زمانے ميں سائنسي تحقيقات سے يه ثابت هوا كه كائنات ميںايك ذهين ڈيزائن (intelligent design) هے۔ حقيقت يه هے كه سائنس كي تمام دريافتيں مذهبِ توحيد كي تصديق كرتي هيں، خواه براهِ راست طورپرہوں، يا بالواسطه طورپر۔

 

سائنس توحيد كي طرف

علم طبيعيات ميں ، نيوٹن كے بعد سے يه سمجھا جاتا رهاهے كه چار قسم كے قوانين يا طاقتيں هيں، جو فطرت كے مختلف مظاهر كو كنٹرول كرتي هيں:

1۔ قوتِ كشش (Gravitational Force)

  2۔برقي مقناطيسي قوت (Electromagnetic Force)

  3۔ طاقت ور نيو كلير قوت (Strong Nuclear Force)

  4۔ كمزور نيوكلير قوت (Weak Nuclear Force) ۔

كشش كا قانون، ايك واقعے كے مطابق، نيوٹن نے اس وقت معلوم كيا جب كه اس نے سيب كے درخت سے سيب كو گرتے هوئے ديكھا۔ ’’سيب اوپر كي طرف كيوں نهيں گيا، نيچے زمين پر كيوں آيا۔‘‘ اس سوال نے اس كو اس جواب تك پهنچايا كه زمين ميں، اور اسي طرح تمام دوسرے كروں ميں، جذب وكشش كي قوت كار فرماهے۔ بعد كو آئن سٹائن نے اس نظریےميں بعض فني اصلاحات كي۔ تاهم اصل نظريه اب بھي سائنس ميں ايك مسلّمه اصولِ فطرت كے طور پر مانا جاتاهے۔ برقي مقناطيسي قانون كا تجربه پهلي بار فريڈے (Michael Faraday, 1791-1867) نے 1831ميں كيا۔ اس نے دكھايا كه بجلي كي قوت اور مقناطيس كي قوت ايك دوسرے سے گهرا تعلق ركھتي هيں۔ مقناطيس اور حركت كو يكجا كيا جائے تو بجلي پيداهوجاتي هے، اور مقناطيس اور بجلي كي لهر كو يكجا كريں تو حركت وجود ميں آجاتي هے ۔

ابتدائي 50 سال تك تمام طبيعي واقعات كي توجیہ كے ليے مذكوره دو قوانين كافي سمجھے جاتے تھے۔ مگر موجوده صدي كے آغاز ميں جب ايٹم كے اندروني ڈھانچے كي بابت معلومات ميں اضافه هوا،اور يه معلوم هوا كه ايٹم سے بھي چھوٹے ذرات هيں جو ايٹم كے اندر كام كررهے هيں تو طبيعي نظريات ميں تبديلي شروع هوگئي۔ يهيں سے طاقت ور نيوكلير فورس اور كمزور نيو كلير فورس كے نظريات پيداهوئے۔ ايٹم كا اندروني مركز (نيوكليس) الكٹران سے گھرا هوا هے، جو كه پروٹان نامي ذرات سے بهت زياده چھوٹے اور هلكے هيں۔ مگر مطالعه بتاتا كه هر الكٹران وهي چارج ركھتا هے، جو بھاري پروٹان ركھتے هيں۔ البته دونوں ايك دوسرے كي ضد هيں۔ الكٹران ميں منفي برقي چارج هوتاهے، اور پروٹان ميں مثبت برقي چارج۔ الكٹران ايٹم كے بيروني سمت ميں اس طرح گردش كرتے هيں كه ان كے اور ايٹم كے مركز (نيوكليس) كے درميان بهت زياده خلا هوتا هے۔مگر منفي چارج اور مثبت چارج دونوں ميں برابر برابر هوتے هيں، اور اس بنا پر ايٹم بحيثيت مجموعي برقي اعتبار سے نيوٹرل (neutral) اور قائم (stable) رهتا هے۔

اب يه سوال اٹھتا هے كه ايٹم كا مركز بطور خود قائم (stable) كيوں كر رهتا هے۔ الكٹران اور پروٹان الگ الگ هو كر بكھر كيوں نهيں جاتے۔ قائم رهنے (stability) كي توجيه طبيعياتي طورپر يه كي گئي هے كه پروٹان اور نيوٹران كے قريب ايك نئي قسم كی طاقتور قوتِ كشش موجود هوتي هے۔ يه قوت ايك قسم كے ذرات سے نكلتي هے جن كوميسن (Mesons)کہاجاتاهے۔ ايٹم کےاندر پروٹان اور نيوٹران كے ذرات بنيادي طور پر يكساں (identical)سمجھے جاتے هيں۔ مقناطيس كے دو ٹكڑوں كو ليںاور دونوں كے يكساں رخ (ساؤتھ پول كو ساؤتھ پول سے يا نارتھ پول كو نارتھ پول سے) ملائيں تو وه ايك دوسرے كو دور پھينكيں گے۔ اس معروف طبيعي اصول كے مطابق پروٹان اور نيوٹران كوايك دوسرے سے بھاگنا چاهيے۔ مگر ايسا نهيں هوتا۔ كيونكه پروٹان اور نيوٹران هر لمحه بدلتے رهتے هيں، اوراس بدلنے كے دوران ميسن كي صورت ميں قوت خارج كرتے هيں، جوان كو جوڑتي هے۔ اسي كا نام طاقت ور نيوكلير فورس هے۔ اسي طرح سائنس دانوں نے ديكھا كه بعض ايٹم كے كچھ ذرات (نيوٹران ميسن) اچانك ٹوٹ جاتے هيں۔ يه صورتِ حال مثلاً ريڈيم ميں پيش آتي هے۔ ايٹم كے ذرات كا اس طرح اچانك ٹوٹنا طبيعيات كے مسلّمه اصولِ تعليل (causality) كے خلاف هے۔ كيوں كه پيشگي طورپر يه نهيں بتايا جاسكتاكه ايٹم كے متعدد ذرات ميں سے كون سا ذره پهلے ٹوٹے گا۔ اس كا مدار تمام تر اتفاق پر هے۔ اس مظهر كي توجيه كے ليے ايٹم ميں جو پر اسرار طاقت فرض كي گئي هے، اسي كا نام كمزور نيوكلير فورس هے۔ سائنس داں يه يقين كرتے رهے هيں كه انھيں چار طاقتوں كے تعامل (interactions) سے كائنات كے تمام واقعات ظهور ميں آتےهيں۔ مگر سائنس عين اپني فطرت كے لحاظ سے هميشه وحدت كي كھوج ميں رهتي هے۔ كائنات كا سائنسي مشاهده بتاتا هے كه پوري كائنات انتهائي هم آهنگ هو كر چل رهي هے۔ يه حيرت ناك هم آهنگي اشاره كرتي هے كه كوئي ايك قانون هے، جو فطرت كے پورے نظام ميں كار فرما هے۔ چنانچه طبيعيات مستقل طورپر ايك متحده اصول(unified theory)كي تلاش ميں هے۔ سائنس كا ’’ضمير‘‘ متواتر طور پر اس جدوجهد ميں رهتاهے كه وه قوانينِ فطرت كي تعداد كو كم كرے اور كوئي ايك ايسا اصولِ فطرت (principle of nature) دريافت كرے جو تمام واقعات كي توجيه كرنے والا هو۔

آئن اسٹائن نے مذكوره قوانين ميں سے پهلے دو قوانين كشش اور برقي مقناطيسيت كے اتحاد (unification)كي كوشش كي، اور اس ميں 25 سال سے زياده مدت تك لگا رها ،مگر وه كامياب نه هوسكا۔ كهاجاتاهے كه اپني موت سے كچھ پهلے اس نے اپنے لڑكے سے كها تھاکہ ميري تمنا تھي كه ميں اور زياده رياضي جانتا تاكه اس مسئلے كو حل كرليتا۔

 ڈاكٹر عبد السلام (1926-1996) اور دوسرے دو امريكي سائنس دانوں ،شیلڈن لی گلاشو (Sheldon Lee Glashow, b. 1932) اور وين برگ (Steven Weinberg, b. 1933) كو 1979 ميں طبيعيات كا جو مشتركه نوبل انعام ملا هے، وه ان كي اسي قسم كي ايك تحقيق پر هے۔ انھوںنے مذكوره قوانين فطرت ميں سے آخري دو قانون (طاقتور اور كمزور نيو كلير فورس) كو ايك واحد رياضياتی اسكيم ميں متحدكرديا۔ اس نظريے كا نام جي ايس ڈبليو نظريه (G-S-W Theory) ركھا گيا هے۔ اس كے ذريعے انھوں نے ثابت كيا هے كه دونوں قوانين اصلاً ايك هيں۔ اس طرح انھوںنے چار كي تعداد كو گھٹا كر تين تك پهنچا ديا هے۔

سائنس اگرچه اپنے كو ’’كياهے‘‘ كے سوال تك محدود ركھتي هے، وه ’’كيوں هے‘‘ كے سوال تك جانے كي كوشش نهيں كرتي۔ تاهم يه ايك واقعه هے كه سائنس نے جو دنيا دريافت كي هے، وه اتني پيچيده اور حيرت ناك هے كه اس كو جاننے كے بعد كوئي آدمي ’’كيوں هے‘‘ كے سوال سے دوچار هوئے بغير نهيں ره سكتا۔ ميكسويل (James Clerk Maxwell, 1831-1879) وه شخص هے، جس نے برقي مقناطيسي تعامل (electromagnetic interaction)كے قوانين كو رياضي كي مساواتوں (equations) ميں نهايت كاميابي كے ساتھ بيان كيا۔ انسان سے باهر فطرت كاجو مستقل نظام هے اس ميں كام كرنے والے ايك قانون كا انساني ذهن كي بنائي هوئي رياضياتي مساوات ميں اتني خوبي كے ساتھ ڈھل جانا اتنا عجيب تھاكه اس كو ديكھ كر بولٹزمن بے اختيار كهه اٹھا— کیا یہ خدا تھا جس نے يه نشانياں لكھ ديں جو دل میں حیرت انگیز خوشی بھر دیتا ہے :

Was it a God that wrote these signs, revealing the hidden and mysterious forces of nature around me, which fill my heart with quiet joy?

 

اختيار اور بے اختياري

مشهور سائنسداں آئن اسٹائن نے طبيعياتي دنيا كےاصول كو ايك لفظ ميں اس طرح بيان كيا هے— توانائي نه پيدا كي جاسكتي، اور نه ختم كي جاسكتي:

Energy can be neither created nor destroyed. (Julian Schwinger: Einstein's Legacy: The Unity of Space and Time, p. 117)

يه واقعه خالق كي قدرتِ كامله كا ثبوت هے۔ انسان موجوده دنيا كو صرف استعمال كرسكتا هے۔ وه اس كو بدلنے يا اس كو مٹانے پر قادر نهيں۔ اسي سے يه بات بھي معلوم هوتي هے كه موجوده دنياميں انسان كي حيثيت كيا هے۔ انسان اس دنيا ميں مالك كي حيثيت سے نهيں هے، بلكه صرف تابع كي حيثيت سے هے۔ اسي صورت ِحال كو مذهب كي اصطلاح ميں امتحان كهاجاتا هے۔ انسان اس دنيا ميں صرف اس ليے آتا هے تاكه وه محدود مدت ميں يهاں ره كر اپنے امتحان كا پرچه پورا كرے۔ اس كے بعدوه يهاں سے چلا جائے گا۔ اس سے زياده كسي اور چيز كا اس كو مطلق اختيار نهيں۔

بعض انسان دنيا كے حالات سے مايوس هو كر خود كشي كرليتے هيں۔ وه سمجھتے هيں كه اس طرح وه اپنے آپ كو ختم يا معدوم كررهے هيں، مگر ايسا هونا ممكن نهيں۔ جس طرح دنيا كي اُس توانائي كو مٹايا نهيں جاسكتا جوماده كے روپ ميں ظاهر هوئي هے۔ اسي طرح يهاں اس توانائي كو مٹانا بھي ممكن نهيں، جو انسان كي صورت ميں متشكل هوتي هے۔ انسان كے اختيار ميں خود كشي هے، مگر انسان كے اختيار ميں معدوميت نهيں۔ يه صورتِ حال علامتي طورپر بتاتي هے كه انسان كا معامله اس دنيا ميں كيا هے۔

انسان كو يه اختيار حاصل هے كه وه حقيقتِ واقعه كا انكار كردے۔ مگر حقيقتِ واقعه كو بدلنا اس كے ليے ممكن نهيں۔ انسان كو يه اختيار هے كه وه سركشي كرے۔ مگر سركشي كے انجام سےخودكو بچانا اس كے ليے ممكن نهيں۔ انسان كو اختيار هےكه وه اخلاقي پابندي كو قبول نه كرے۔ مگر اخلاق كي مطلوبيت كو كائنات سے ختم كرنا، اس كے ليے ممكن نهيں۔ انسان كو يه اختيار هے كه وه جو چاهے كرے ۔مگر اس كو يه اختيار نهيں كه اپنی چاهت كو ايك یونیورسل اصول كي حيثيت دے دے، جس كے مطابق تمام انسانوں كا فيصله كيا جائے گا— انسان اس دنيا ميں آزاد هے، مگر اس كي آزادي محدود هے، نه كه لامحدود۔

 

طبيعیات سے ما بعد الطبيعيات كي تصديق

1977 میں لندن سے ايك انسائيكلوپيڈيا چھپي هے، جس كا نام هے’’قاموس جهالت‘‘۔ اس میں ان حقیقتوںکا ذکر کیا گیا ہے،جن سے انسان ابھی تک لاعلم ہے:

The Encyclopaedia of Ignorance

Everything You Ever Wanted to Know About the Unknown

 اس ميں ساٹھ مشهور سائنسداں مختلف علمي شعبوں كا جائزه ليتے هوئے بتاتے هيں كه انسان كن چيزوں كے بارے ميں ابھي تك لا علم هے:

Compared to the pond of knowledge, our ignorance remains Atlantic. Indeed the horizon of the unknown recedes as we approach it. The usual encyclopaedia states what we know. This one contains papers on what we do not know, on matters which lie on the edge of knowledge.

 يهاں ان ميں سے دس مختلف سائنس دانوں كا بيان نقل كيا جاتا هے، جس کو سنڈے ٹائمس لندن نے شائع کیا ہے۔ انھوں نے اپنے تحقيقي شعبوں كے بارے ميں بتايا هے كه ان كے شعبے كي واحد سب سے بڑي نامعلوم حقيقت كيا هے:

1۔  كائنات اتني يكساں كيوں

آئن ركسبرگ (Ian W. Roxburg)، پروفيسر تطبيقي رياضيات، كوئن ميري كالج، لندن: كائنات تعجب خيز حد تك يكساں هے۔ هم خواه كسي طورپر بھي اس كو ديكھيں، كائنات كے اجزا ميں وهي تركيب اسي تناسب سے پائي جاتي هے۔ زمين پر جو طبيعياتي قوانين دريافت كیے گئے هيں، وه تحكمي اعدادوشمار پر مشتمل هيں۔ جيسے كسي الكٹران كي مقدار ماده كا تناسب ايك پروٹان كے مقدار ماده سے جو كه تقريباً 1840 كے مقابلے ميں ايك هوتا هے۔ يهي تناسب هر جگه اور هر وقت پايا جاتاهے۔ ايسا كيوں هے۔ كيا ايك خالق نے تحكمي طورپر انھيں اعداد كا انتخاب كرركھاهے۔ كيا كائنات كے وجود كے ليے ان اعداد ميں وهي متناسب قدر ضروري هے جو هم ديكھتے هيں۔

2۔  كياكوئي زڈ ذره هے

ڈاکٹر عبد السلام(1926-1996)،پروفيسر نظري طبيعات، امپيريل كالج، لندن: اگلے دس برسوں ميں هميں يا تو زڈ ذره (Z-particle)كا وجود تسليم كرناهے، يا يه ثابت كرنا هے كه اس كا كوئي وجود نهيں۔اگر اس كا وجود ثابت هوگيا ،جيسا كه موجوده نظريے كي پيشين گوئي هے تو اس كے بعد عالم فطرت كي چار طاقتيں جن كا هميں علم هے ان ميں سے دو طاقتوں كا ايك هونا ثابت هوجائے گا۔ (وہ چار طاقتيں يه هيں: كشش، برقي مقناطيسيت، طاقت ورنيوكلير فورس جوكه ايٹم كے نيوكليس كو آپس ميں باندھے رکھتی هے، اور كمزور نيوكلير فورس جو ريڈيائي لهروں سے متعلق هے)۔ پروفيسر عبد السلام اوردوسرے سائنس دانوں نے حال ميں كمزور نيوكلير فورس اور برقي مقناطيسيت كو ايك ثابت كرنے ميں كچھ كاميابي حاصل كي هے۔ زڈذره كي دريافت سے مضبوط تجرباتي تائيد حاصل هوگي۔

3۔  ڈي اين اے سے پهلے كيا تھا

ڈاكٹر گراهم كيرنس اسمتھ (1931-2016)، لكچرر كيمسٹري، گلاسگو يونيورسٹي: همارے ليے ضروري هے كه هم ايك نيا جنيٹك ماده دريافت كريں جو ڈي اين اے (DNA)سے بالكل مختلف هو۔ (ڈي اين اے كا دهرا مرغوله نما ڈھانچه كيمبرج ميں 1953 ميں فرانسس كريك اور جيمس واٹسن [James Dewey Watson, b. 1928] نے دريافت كيا تھا)۔ مجھے يقين نهيں كه ڈي اين اے ابتدائي زمين پر بن سكتا تھا۔ ضروري هے كه زندگي كسي اور چيز سے شروع هوئي هو اور ڈي اين اے كا ارتقا بعد میںهوا هے۔

4۔  جين كس طرح متحرك اور غير متحرك هوتے هيں

سرجان كينڈريو (1917-1997)، چيرمين يوروپين مالے كيولر بيالوجي آرگنائزيشن، هائڈلبرگ: جين كس طرح بيكٹيريا ميں متحرك اور غير متحرك هوتے هيں،ان کے بارے میں هم کو کچھ  معلوم ہے۔مگر اعلي حيوانات ميں يه واقعه كيوں کر هوتاهے، اس كي بابت هم كچھ بھي نهيں جانتے ۔(جين كے متحرك اورغير متحرك هونے هي كي وجه سے ايسا هے كه ايك جسم كے سل(cells)، جو سب كے سب ايك قسم كے جين پر مشتمل هوتےهيں، وه مختلف قسم كے عمل كر پاتے هيں اور نسوں، جلد، وغيره كے اجزائے تركيبي بن جاتے هيں)۔

5۔  همارے اندر مدافعتی نظام كيوں

جسم كا مدافعتی نظام (immune system) هم كو چھوت سے بچاتا هے۔ يهي همارے اندر الرجي كا سبب هے، اور اعضاء كي پيوند كاري كو اس قدر مشكل بنا ديتاهے۔ مگر اڈنبرا يونيورسٹي، اسکاٹ لینڈ، كے ڈاكٹر ميكلم (Dr H. Spedding Micklem)كے نزديك ’’سب سے زياده دلچسپ سوال يه نهيں هے كه يه مدافعتی نظام كيسےكام كرتاهے، بلكه يه كه خود اس كا وجود هي كيوں هے۔ بےريڑھ كے جانور اس كے بغير بھي اچھي طرح زندگی گزارتے هيں۔ مگر ريڑھ دار حيوانات ميں يه نظام ناقابلِ يقين حد تك پيچيدگي كے ساتھ شامل هے۔ پچھلے دس سالوں سے اس خيال كو مقبوليت حاصل هور هي هے كه اس نظام كي ضرورت اس ليے تھي كه خليے (Cells) كي سطح ميں چھوٹي چھوٹي تبديلياں جو سرطان كا سبب بن سكتي هيں، ان كا پته لگايا جاسكے، مگر بهت سي حاليه دريافتيں اس كي تائيد كرتي هوئي نظر نهيںآتيں۔‘‘

6۔  ارتقا كي پيمائش هم كيسے كريں

جان مينرڈ اسمتھ (1920-2004)، پروفيسر حياتيات (Biology)، سسیکس يونيورسٹي، كا خيال هے كه ارتقا كا نظريه ايك ناقابلِ حل اندروني مسئله سے دوچار هے۔ نظريه ارتقا كے تين حقيقي اجزاء هيں— تغير (جين ميں تبديلي كا واقع هونا)، انتخاب (فرق كا باقي رهنا يا مختلف اقسام كي زرخيزي(، اور نقلِ مكاني۔

يه نظريه هميں بتاتا هے كه ان ميں سے هر ايك، اكثر حالات ميں ناقابلِ پيمائش حد تك نچلي سطح پر، ارتقا كے عمل پر گهرے اثرات ڈال سكتاهے۔ اس طرح هم تين طريقوں سے واقف هيں، جن كے متعلق همارا يقين هے كه وه ارتقا كے عمل كا تعين كرتے هيں۔ پھر همارے پاس ايك رياضياتي نظريه هے جو هم كو بتاتاهے كه يه تينوں طريقے ايسي سطحوں پر اپنا اثر ڈالتے هيں، جن كي بالواسطه پيمائش كي هم اميد نهيں ركھتے۔ يه ايسا هي هے جيسے همارے پاس برقي مقناطيسيت كا ايك نظريه تو هو مگر همارے پاس نه تو برقي لهروں كو ناپنے كاكوئي ذريعه هو اور نه مقناطيسي زور كو ناپنے كا۔

7۔  نظامِ عصبي كس طرح بنتا هے

فرانسس كريك(1916-2004) ، سالك انسٹي ٹيوٹ (Salk Institute for Biological Studies)، كيلي فورنيا: حياتياتي ترقيات ميں شايد سب سے بڑا علمي چيلنج يه سوال هے كه ايك جاندار ميں عصبي نظام كي تشكيل كس طرح هوتي هے۔ بهت سال پهلےامریکن نوبل انعام یافتہ سائنٹسٹ راجر اسپري (Roger Wolcott Sperry, 1913-1994)نے تجربه كركے دكھايا تھا كه اگر ايك دريائي چھپكلي كي آنكھ اس طرح نكالي جائے كه اس كي نظر كي نس آنكھ سے دماغ تك ٹوٹ جائے۔ اس كے بعد اگر اس كي آنكھ كو دوباره الٹ كر بھي لگا ديا جائے تو نظر كي نس آنكھ كے پردے سے دوباره شروع هوكر دماغ كي طرف بڑھے گي، اور دوباره اس سے جڑ جائےگي۔ كچھ عرصے كے بعد جانور اِس آنكھ سے دوباره ديكھ سكتا تھا، مگر هميشه الٹي شكل ميں (كيونكه آنكھ الٹي لگي هوئي تھي)۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه نيا تعلق بالكل درست تھا۔ سوائے اس کے كه آنكھ كو يه پته نه تھا كه وه الٹي لگي هوئي هے۔ يه نتائج بتارهے هيں كه اعصاب كے ايك نظام كو اعصاب كے دوسرے نظام سے ٹھيك ٹھيك مربوط كرنے كے ليے بهت هي درست اور پيچيده طريقے كار فرما هوتے هيں۔ مگر يه طريقِ عمل كيا هے، اس كو هم متعين طورپر نهيں جانتے۔ (دوسرے لفظوں ميں خود يه واقعہ كه آنكھ الٹي لگي هوئي تھي، اس بات كو ظاهر كرتا هےكه رابطے كس قدر متعين هوتے هيں)۔

8۔  كوانٹم نظريه كيا كشش كے نظريے پر بھي چسپاں هوتاهے

سر هرمن بوندي (1919-2005)، چيف سائنٹسٹ، شعبهٔ انرجي: اگر هم آئن سٹائن كے مقبول عام نظريهٔ كشش كو مانيں تو كسي مقناطيسي ميدان كے مركز ميں يكايك تبديلي (مثلاً دو ستاروں ميں جو ايك دوسرے كے گرد گھوم رهے هوں) سے ايسا هونا چاهيے كه كشش كي لهريں روشني كي سي رفتار سے پيدا هوں۔ ريڈي ايشن كي دوسري تمام صورتيں ’’كوانٹم‘‘ كے مطابق هوتي هيں۔ يه بات بمشكل قابلِ فهم هے كه كشش كي لهريں مقداروں كي شكل ميں نهيں هوتيں۔ مگر ابھي تك كوئي اس بات كو ثابت نهيں كرسكا هے، حالاں كه بهت سے لوگ اس كي كوشش كرچكے هيں۔

9۔  دماغ كے مختلف حصے كس طرح رابطه قائم كرتےهيں

پروفيسر هوريس بارلو(پیدائش 1921)، كيمبرج: هم تقريباً مكمل طورپر اس بات سے بے خبر هيں كه دماغ كے مختلف حصے كيوںكر ايك دوسرے سے رابطه قائم كرتے هيں۔ مثال كے طورپر اُس وقت دماغ كے سننے والے حصے ميں اور بقيه حصوں ميں كس قسم كا ربط قائم هوتا هے، جب كه هم كسي مانوس آواز كو پهچانتے هيں۔ تم بول كر مثال ميں پيش كرسكتے هو۔ وه صوتي لهروں پر چلتي هے۔ مگر وه ايك بچے كي تتلاهٹ سے كهيں زياده با معني هوتي هے، جو خود بھي صوتي لهروں پر چلتي هے۔ دماغ كے اندر عصبي حركات صوتي لهروں كے مساوي هوتي هيں۔ مگر هم كچھ نهيں جانتے كه وه كس طرح با معني هوجاتي هيں۔

10۔  انسان كب سے زمين پر هے

ڈاكٹر ڈونالڈ جانسن(پیدائش 1943)، ميوزيم آف نيچرل هسٹري، كليولينڈ، اوهايو: يورپ افريقه اور ايشيا ميں جو فوسلز (fossils) برآمد هوئے هيں، وه انسان كي ابتداكو اور زياده پيچھے كي طرف لے جارهے هيں۔ بهر حال يه بات دن بدن نماياں هوتي جارهي هے كه ارتقا كامعامله (سابقه تصور كے خلاف) كهيں زياده پيچيده هے۔ وه مدت جس كا تعين ايك مسئله هے، وه تين ملين سے لے كر دس ملين سال پيچھے تك هے۔ انسان كے امكاني آباواجداد ميںبہ ظاهر بهت زياده فرق رها هے، اور هم كو نهيں معلوم كه ان كے درميان باهمي رشته كيا تھا (اس كي وجه جزئي طورپر ڈاكٹر جانسن كي حبش ميں دريافتيں هيں۔ نيز اس سے بھي زياده قديم فوسلز پاكستان ميں ملے  هيں)۔

THE TOP TEN SECRETS OF SCIENCE

In The Encyclopaedia of Ignorance, to be published next Thursday, some 60 well-known scientists survey different fields of research, trying to point out significant gaps in our knowledge of the world. They write at very different levels, at very different lengths. However, last week we contacted some of the authors dealing with major branches of science and asked them to name a single unsolved problem which they personally found especially important or interesting. They give their choices below, together with those of two - Professor John Maynard Smith and Dr. Francis Crick - who could not be contacted, and which have been taken directly from the book.

1: Why is the universe so uniform?   Ian Roxburg, Professor of Applied Mathematics, Queen Mary College, London: "the universe is astonishingly uniform. No matter which way we look, the universe has the same constituents in the same proportions. The laws of physics discovered on earth contain arbitrary numbers, like the ratio of the mass of an electron to the 'mass of a proton, which is roughly 1840 to one. But these turn out to be the same in all places at all times. Why? Did a creator arbitrarily choose these numbers? Or must these numbers have the particular uniform value we observe for the Universe to exist?"

2: Is there a, Z-particle? Abdul Salam, Professor of Theoretical Physics, Imperial College, London. '' In the fleet decade we need to confirm or disprove the existence of the so-called Z-particle. If it does turn out to exist as predicted by current theory, it will clinch the unification of two of the four forces we know in nature.  [The four forces are gravity, electro-magnetism, the strong nuclear force that binds the atomic nucleus together, and the weak nuclear force involved in radioactivity. Recently, Professor Salam and others have made some progress towards unifying the weak nuclear force and electromagnetism. The discovery of the Z-particle would lend strong experimental support.]

3: What preceded DNA? Dr Graham Cairns-Smith, lecturer in chemistry, University of Glasgow. "We need to discover a new genetic material as different as you like from DNA. [The double helix structure of DNA was discovered by Francis Crick and James Watson in Cambridge in 1953.]  I do not believe that DNA could have been made on the primitive earth. Life must have started with something else and DNA evolved later.’’

4: How are genes switched on and off?  Sir John Kendrew, Chairman of the European Allender Biology Organisation, Heidelberg. ‘‘ We know something about how genes are switched on and off in bacteria, but next to nothing about how it is done in higher animals? [It is by switching genes on and off that the cells of a single organism, which all contain the same set of genes, are able to do such different jobs, and become constituents of nerves, skin, etc.]

5: Why do we have an immune system? The body’s immune system defends us against infection, is responsible for allergies, and makes organ transplant so difficult. But according to Dr. H. S. Micklem of the University of Edinburgh, ‘‘The most interesting question is not how the immune system works, but why it is there at all: Invertebrates seem to get along quite well without one, but it is incredibly complicated in vertebrates. The idea that it was needed to detect small changes in the cell surface which might lead to cancer has been popular in the last ten years but there is a lot of data to suggest it is not good enough.’’

6: How can we measure evolution? John Maynard Smith, Professor of Biology, University of Sussex, thinks that the theory of evolution has a built-in problem. ‘‘The essential components of the theory of evolution are mutation  (a change in a gene), selection (differential survival or fertility of different types) and migration. The theory tells us that each of these processes, at a level far too low to be measurable in most situations, can profoundly affect evolution. Thus we have three processes which we believe to determine the course of evolution, and we have a mathematical theory which, tells us that these processes can produce their effects at levels we cannot usually hope to measure directly. It is as if we had a theory of electromagnetism but no means of measuring electric current or magnetic force.’’

7: How is the nervous system built? Francis Crick, Salk Institute, California. ‘‘Perhaps the most challenging problem in the whole of developmental biology is the construction of the nervous system of an animal. Many years ago it was shown by Roger Sperry that if a newt’s eye was removed, so that the optic nerve from its eye to its brain was broken, then even if, the eye was replaced upside down, the optic nerve would regenerate from the retina, grow towards the brain and connect up again. After a period, the animal could see again with this eye, but it always saw upside down. In other words, the new connection had been made   ‘correctly ’ except that the eye did not know it had been inverted. The results show that fairly precise processes are at work to make the correct, rather intricate, connections needed between one set of nerves and another but exactly what these mechanisms are we do not yet know.’’ [In other words, the very fact that it was upside down shows how specific the links are.]

8: Does the quantum theory apply to gravity? Sir Herman Bondi, Chief Scientist, Department of Energy.   ‘‘If we follow Einstein's widely accepted theory of gravity then any rapid change in the source of a gravitational field —two stars orbiting round each other, for example-. should radiate gravitational waves at the spend of tight. All other forms of recitation are ‘quantised,’ that is to say they are not continuous but come in discrete but minute packets. It is hardly conceivable that gravitational waves are quantised too, but nobody has yet succeeded in establishing the equations, though Many have tried.’’

9: How do different parts of the brain link up? Professor Horace Barlow, Cambridge.  ‘‘We are almost totally ignorant about how different parts of the brain communicate with one another. For example, what goes on between the parts of the brain concerned with hearing and the rest when we recognise a familiar voice? You can draw an analogy with speech. It is carried by sound waves, but it is far more meaningful than the babbling of a baby which is carried by sound waves, too. In the brain nervous' impulses are the equivalent of soundwaves, but we have no idea of how they become meaningful.’’

10: How old is man?   Dr Donald C. Johnson, Museum of Natural History, Cleveland, Ohio. "Fossil discoveries in Europe Africa and Asia are pushing human origins further back in time. However, it is becoming increasingly clear that the scenario of human evolution is much more complex. The probable time is three to ten million years ago. There appears to have been a great diversity of possible human ancestors and we don’t know how were related. [This is due partly to Johanson's discoveries to Ethiopia and others, of even older fossils, made in Pakistan]

  ( Sunday Times , London, December 4, 1977, p. 13)

تبصره

كائنات اپنے پورے وجود كے ساتھ ايك ايسا واقعه هے، جس كي توجيه خالق كو مانے بغير نهيں هوسكتي۔ سائنسي مطالعه بتاتا هے كه كائنات ميں عددي تناسب هے۔ يه اس بات كا ثبوت هے كه اس كي تخليق ميں ايك رياضياتي ذهن كام كررها هے۔ انسان كي بناوٹ ميںاتني حكمتيں كارفرما هيں كه كوئي بھي طبيعياتي توجيه اس كي تشريح كے ليے كافي نهيں هوسكتي۔ ايك جاندار كي آنكھ نكال كر اس كو دوباره الٹ كر لگا دياجائے تو وه جان دار اب بھي ديكھے گا۔ مگر اس كو هر چيز الٹي دكھائي دے گي۔ جسم كے مختلف اجزا جو انتهائي صحت كے ساتھ كام كرتےهيں،وه ايك بے حد نازك تركيب كا نتيجه هوتے هيں۔ آواز سائنسي اعتبار سے كچھ لهروں كا نام هے، مگر يه لهريں انسان كے دماغ ميں داخل هو كر بامعني كلام كي صورت اختيار كرليتي هيں۔ اس قسم كے بے شمار عجائب هماري دنيا ميں پائے جاتے هيں۔ يه يقيني طورپر اس بات كا ثبوت هے كه يه دنيا كوئي اتفاقي حادثه نهيں بلكه سوچے سمجھے منصوبے كے تحت ظهور ميں آنے والا واقعه هے۔ اس كے پيچھے ايك اعلیٰ ذهن هے، جو زبردست طاقت كے ساتھ اس كو كنٹرول كررها هے۔ كائنات كے نظم اور معنويت كي اس كے سوا كوئي اور توجيه نهيں كي جاسكتي— دنيا كے بارے ميں انسان كي لاعلمي ايك بهت بڑے علم كا پته دے رهي هے۔ يه علم كه اس دنيا كا ايك خداهے جو اس كو حد درجه حكمت كے ساتھ چلا رها هے۔ ان علمی تحقیقات کو دیکھ کر یہ کہاجاسکتا ہے — علم کا دریا حیرت انگیز طور پر خدا کے اقرار کی طرف بڑھ رہا ہے۔

موجوده زمانے ميں هونے والي طبيعي تحقيقات حيرت انگيز طورپر انسان كو ’’مافوق الطبيعی ‘‘ منزل پر پهنچارهي هيں۔ هر علمي شعبے ميں يه صورت حال پيش آرهي هے كه محققين اپني تلاش وجستجو ميں جب آگے بڑھتےهيں تو بالآخر وه ايك ايسے مقام پر پهنچ جاتے هيں جهاں، ايسا معلوم هوتاهے كه طبيعي قانون كي حد ختم هوگئي اور مافوق الطبيعي قوتوں كي كارفرمائي شروع هوگئي۔

مثلاًانساني دماغ كي بناوٹ پچاس سال پهلے تك، ايك راز سمجھي جاتي تھي۔ آج سائنس دانوں كا خيال هے كه وه اس راز كے اوپر سے بهت سے پردے هٹانے ميں كامياب هوگئے هيں۔ مگر انساني دماغ كے بارے ميں معلومات ميں جو اضافه هوا هے، وه حيرت انگيز طورپر قديم مفروضات كي ترديد كررهاهے۔ پهلے يه خيال كياجاتاتھا كه انساني دماغ ميوسين دور (Miocene Period) كے بعد چوده ملين سال ميں ترقي كركے موجوده حالت تك پهنچا هے۔ مگر موجوده معلومات بتاتي هيں كه انساني دماغ اتنا زياده پيچيده هے كه مذكوره مدت اس كے ارتقا كے ليے كسي طرح كافي نهيں هوسكتي۔

انساني دماغ كے سلسلے ميں ايك سوال يه هے كه وه ’’موڈ‘‘ كو كس طرح بدلتاهے۔ اس سلسلے ميں تحقيق كرنے والوں نے دواؤں كے ذريعے مصنوعي طورپر موڈ كو بدلنے كي كوشش كي۔ يه دوائيں مختلف كيفي حالات كو گھٹا بڑھا سكتي تھيں يا ان كو بدل سكتي تھيں۔ مثلاً نيند كو كم يا زياده كرنا، جنسي جذبات كو متاثر كرنا، حافظه(memory) كي کارکردگی گھٹانا بڑھانا، وغيره۔مگر اس ميدان ميں تحقيق كرنے والے اپني تحقيق كے نتائج سے كسي قدر گھبرارهے هيں۔ كيوں كه انھيں معلوم نهيں كه وه حقيقةً كس منزل كي طرف بڑھ رهے هيں:

The researchers are slightly perturbed since they feel they don't know where they are really headed. Perhaps they are stepping into the realm of metaphysics.

شايد وه ما بعد الطبيعيات كي دنيا ميں داخل هورهے هيں۔(بحوالہ ٹائمس آف انڈيا، 28 جنوري 1978)

 

علم كى شهادت

قرآن كى سوره الانشقاق كى چند آىتىں ىه هىں:فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ  وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ  وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ  لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ  فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ (84:16:20)۔ ىعنى پس نهىں، مىں قسم كھاتا هوں شفق كى اور رات كى اور اُن چىزوں كى جن كو وه سمىٹ لىتى هے۔ اور چاند كى جب وه پورا هوجائے، كه تم كو ضر ور اىك حالت كے بعد دوسرى حالت پر پهنچنا هے، تو انھىں كىا هوگىا هے كه وه اىمان نهىں لاتے:

...you will progress from stage to stage, so what is the matter with them that they believe not. (84:19-20)

قرآن كى ىه آىتىں ساتوىں صدى عىسوى كے رُبعِ اول مىں اترىں۔ اُس وقت اِن آىتوں مىں اىك اىسا بىان دىاگىا جو ساتوىں صدى عىسوى سے لے  كر اكىسوىں صدى  كے بعد تك پھىلا هوا تھا۔ بعد كے حالات نے قرآن كى اِس پىشىن گوئى كو عىن درست ثابت كىا۔ ىه واقعه، دوسرے واقعات كى طرح، اِس بات كا ثبوت هے كه قرآن خداوند عالم الغىب كى كتاب هے، كىوں كه عالم الغىب كے سوا كوئى اور مستقبل كے بارے مىں اِس قسم كا بىان دىنے پر قادر نهىں۔علم ِانسانى كى تارىخ بتاتى هے كه كائنات كے بارے مىں انسان كا مطالعه جارى رها، ىهاں تك كه برٹش سائنس داں نىوٹن كے زمانے مىں ىه فرض كرلىا گىا كه كائنات كا بلڈنگ بلاك، مادّه (matter) هے۔ مگر انسانى علم كا سفر مزىد آگے بڑھا۔بعد كى تحقىقات نے اِس مفروضے كى تردىد كردى۔ جرمن سائنس داں آئن سٹائن كے زمانے مىں ىه مفروضه قائم كىا گىا كه كائنات كا بلڈنگ بلاك، انرجى (energy) هے۔ مگر انسانى علم كا ىه سفر مزىد آگے بڑھا۔ بعد كى تحقىقات نے بتاىا كه ىه مفروضه درست نه تھا۔ فرىڈهائل (Fred Hoyle) كے زمانے مىں ىه درىافت هوا كه كائنات كا بلڈنگ بلاك انٹىلىجنس (intelligence) هے۔ انسانى علم كا ىه سفر جارى رها، ىهاں تك كه اكىسوىں صدى مىں علمى اعتبار سے ىه درىافت هوگىا كه كائنات مىں اىك انٹىلجنٹ ڈزائن (intelligent design) موجود هے۔

 

خدا سب سے بڑی حقیقت

 سر مائيكل فرانسس اَتيا (Sir Michael Francis Atiyah) ممتازبرٹش رياضي داں ہیں۔ ان کی پیدا ئش 1929 میں ہوئی، اور وفات 2019 میں۔ وہ ایک مرتبہ ممبئي آئے تھے۔وہاں انھوں نے كهاكه خدا ايك رياضي داں هے۔ خدا كو رياضي داں قرار دينے كا نظريه نيا نهيں هے۔ تقريباً 50 سال پهلے سر جيمس جينز نے كها تھا كه كائنات ايك رياضي داں كا عمل هے۔ اس سے بھي صديوں پهلے فيثاغورث (Pythagoras)نے كها تھا كه تمام چيزيں دراصل گنتياں هيں۔ پكاسو (Pablo Picasso)كے نزديك خدا ايك آرٹسٹ هے۔ اس نے كها كه خدا في الواقع دوسرا آرٹسٹ هے۔ اس نے زرافه ايجاد كيا۔ اس نے هاتھي بنايا۔ اس نے بلي بنائي۔ آئن سٹائن نے كها تھا خدا لطيف هے، اور اگر چه وه كسي كا برا چاهنے والا نهيں، مگر وه بهت هوشيار هے:

The distinguished mathematician, Sir Michael Francis Atiyah, who was recently in Bombay said that ‘‘God was a mathematician.’’ The idea of God being a mathematician is not new. About 50  years ago, Sir James Jeans suggested that the universe was the handiwork of a mathematician. And centuries before him Pythagoras said all things are numbers. To Picasso God was an artist. ‘‘God is really another artist,’’ he said. ‘‘He invented the giraffe, the elephant and the cat.’’ Einstein has said that the Lord is subtle and, though not malicious, very clever.

جو شخص بھي كائنات كو زياده گهري نظر سے ديكھتا هے اس كو ايك چيز كا يقيني احساس هوتاهے—  يهاں كوئي اور هے جو سب سے بڑا هے او رخود اس كي اپني ذات سے بھي۔ رياضي داں كو كائنات ميں ايسي اونچي رياضي نظر آتي هے جهاں اس كو اپني رياضي بھول جاتي هے۔ وه پكار اٹھتا هے كه خدا بهت بڑا رياضي داں هے۔ ايك آرٹسٹ جب كائنات كو اپني نظر سے ديكھتا هے تو يهاں اس كو اتنا اعلي آرٹ نظر آتا هے كه اس كا اپنا آرٹ اس كي نگاه ميں هيچ هوجاتا هے۔ اور وه كهه اٹھتاهے كه خدا سب سے بڑآرٹسٹ هے۔ ايك عقل والا آدمي جب كائنات كي حكمتوں پر نظر ڈالتا هے تو وه يه ديكھ كر حيران ره جاتا هے كه يهاں كوئي اور هے جو تمام عقلوں سے زياده بڑي عقل والا هے۔

حقيقت يه هے كه خدا سب سے بڑا رياضي داں، سب سے بڑا آرٹسٹ، سب سے بڑا عاقل هے اور اسي كے ساتھ وه مزيد بهت كچھ هے۔ جو شخص كائنات ميں خدا كے نشان كو نه ديكھے وه اندھا هے اور جو شخص ديكھ كر بھي اس كو نه مانے وه مجنون هے۔

 

انکار ِخدا

تجزیاتی مطالعہ

 

لامحدود کائنات، انسانی محدودیت

پچھلے تقریباً پانچ سو سال سے کائنات کا سائنسی مطالعہ جاری ہے۔ اِس مطالعے میں بڑے بڑے دماغ شامل رہے ہیں۔ آخری حقیقت جہاں یہ سائنسی مطالعہ پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان کے لیے اُس کو اپنے احاطے میں لانا بظاہر ناممکن ہے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق، انسان کا علم بہ مشکل کائنات کے صرف پانچ فی صد حصے تک پہنچا ہے۔ اِس پانچ فی صد حصے کے معاملے میں بھی انسانی علم کی محدودیت کا یہ عالم ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ ہم جتنا دریافت کرپاتے ہیں، اُس سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ دریافت شدہ چیزیں بھی ابھی تک غیردریافت شدہ چیزوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں:

We are knowing more and more about less and less.

تخلیق (creation) کے بارے میں جاننا خالق (Creator) کے بارے میں جاننا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ابھی تک انسان خالق کی تخلیق کے بارے میں بھی صرف چند فی صد جان سکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا یہ مطالبہ کرنا کہ خالق کے بارے میں ہم کو قطعی معلومات دو، سرتاسر ایک غیرعلمی مطالبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک تخلیق کے بارے میں پورا علم حاصل نہ کرسکا تو وہ خالق کے بارے میں پورا علم کیسے حاصل کرسکتا ہے۔

تخلیق کا وجود زمان ومکان(space and time) کے اندر ہے، اور خالق کا وجود ماورائے زمان ومکان(beyond space and time)سے تعلق رکھتا ہے، پھر جو انسان اتنا محدود ہو کہ وہ زمان ومکان کے اندر کی چیزوں کا بھی احاطہ نہ کرسکے، وہ زمان ومکان کے باہر کی حقیقت کو اپنے احاطے میں کس طرح لا سکتا ہے— حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں انسان خدا کو صرف عجز کی سطح پر دریافت کرسکتا ہے، نہ کہ علم کی سطح پر۔

 

خدا كا تصور

سيكولر فكر ركھنے والے متعدد اهلِ علم نے يه بات كهي هے كه خدا كا كوئي حقيقي وجود نهيں، وه انساني ذهن كي تخليق هے — خدا، انسان كي ايك عظيم ايجاد هے(God is a great invention by man)۔ يه صرف ايك ورڈ پلے (word play) هے۔ زياده درست بات يه هے كه اِس طرح كهاجائے  — انسان، خدا كي ايك عظيم تخليق هے:

Man is a great creation by God

خدا كے وجود كے بارے ميں علمي غوروفكر سب سے پهلے فلسفے ميں شروع هوا۔ فلسفه اِس معاملے ميں كسي حتمي انجام تك نه پهنچ سكا۔ اٹالین سائنس داں گليليو اوربرٹش سائنس داں نيوٹن كے بعد غوروفكر كا سائنسي انداز شروع هوا۔ سائنس كا موضوع اگرچه خالق نهيں ہے، بلكه اس كے اپنے الفاظ ميں، نيچر(nature) ہے۔ مگر نيچر كيا هے۔ نيچر تخليق كا دوسرا نام هے۔ گويا سائنس كا موضوع هے — خالق كے حوالے كے بغير مخلوق (creation) كا مطالعه كرنا۔ سائنسي مطالعے ميں پهلے، نيوٹن كے زمانے ميں، يه مان ليا گيا تھا كه دنيا ايك ميكانكل ڈزائن (mechanical design)  هے۔ اس كے بعد ردر فورڈ (Ernest Rutherford, 1871-1937) كے زمانے ميں معلوم هوا كه دنيا ايك بامعنی ڈزائن (meaningful design)هے۔ اِس كے بعد فريڈ هائل (Fred Hoyle) كا زمانه آيا، جب كه يه دريافت هواكه دنيا ايك انٹيلجنٹ ڈزائن (intelligent design) هے۔

اِن دريافتوں كو سامنے ركھ كر غور كياجائے تو يه كهنا صحيح هوگا كه خدا كا وجود علمي طورپر دريافت هوچكا هے۔ اب سارا معامله صرف تسميه (nomenclature) كا هے، يعني يه كه اِس دريافت شده حقيقت كا نام كيا هو۔ فلسفيوں نے اِ س حقيقت كو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) كها تھا۔ سائنس اِس كو انٹيلجنٹ ڈزائن كهه رهي هے۔ اهلِ مذهب كي زبان ميں اِسي حقيقت كا نام خدا (God) هے۔ سائنس نے صرف تخليق كو دريافت كيا، ليكن تخليق كے دريافت كے ساتھ هي خالق اپنے آپ دريافت هوجاتا هے۔

 

مخالفينِ مذهب كا استدلال

’’جس طرح ايٹم كے ٹوٹنے سے مادّه كے بارے ميں انسان كے پچھلے تمام تصورات ختم هوگئے اسي طرح پچھلي صديوں ميں علم كي جوترقي هوئي هے وه بھي ايك قسم كا علمي دھماكه (knowledge explosion)هے جس كے بعد خدا اور مذهب كے متعلق تمام پرانے خيالات بھك سے اُڑ گئے هيں‘‘۔ ( هندستان ٹائمس، سنڈے ميگزين، 23 ستمبر 1961)

 يه جولين هكسلے(وفات1975) كے الفاظ هيں۔ جديد بے خدا مفكرين كے نزديك مذهب كوئي حقيقي چيز نهيںهے۔ وه انسان كي صرف اس خصوصيت كا نتيجه هے كه وه كائنات كي توجيه كرنا چاهتا هے۔ توجيه تلاش كرنے كا انساني جذبه بذاتِ خود غلط نهيں هے ۔ مگر كم تر معلومات نے همارے پرانے اجداد كو ان غلط جوابات تك پهنچا ديا، جس كو خدا يا مذهب كهاجاتا هے۔ اب جس طرح بهت سے دوسرے معاملات ميں انسان نے اپني علمي ترقي سے ماضي كي غلطيوں كي اصلاح كي هے، اسي طرح توجيه كے معاملے ميں بھي وه آج اس پوزيشن ميں هے كه اپني انتهائي غلطيوں كي اصلاح كرسكے۔

اس طريقِ فكر كے مطابق مذهب، حقيقي واقعات كي غير حقيقي توجيه هے، پهلے زمانے ميں انسان كا علم چونكه بهت محدود تھا اس ليے واقعات كي صحيح توجيه ميں اسے كاميابي نهيں هوئي، اور اس نے مذهب كے نام سے عجيب عجيب مفروضے قائم كرليے۔ مگر ارتقا كے عالم گير قانون نے آدمي كو اس اندھيرے سے نكال ديا هے، اور جديد معلومات كي روشني ميں يه ممكن هوگيا هے كه اٹكل پچو عقائد پر ايمان ركھنے كے بجائے خالص تجرباتي اور مشاهداتي ذرائع سے اشيا كي حقيقت معلوم كي جائے۔ چنانچه وه تمام چيزيں جن كو پهلے مافوق الطبيعي اسباب كا نتيجه سمجھا جاتا تھا۔ اب بالكل فطري اسباب كے تحت ان كي تشريح معلوم کرلي گئي هے۔ جديد طريق ِمطالعه نے هميں بتا ديا هے كه خدا كا وجود فرض كرنا انسان كي كوئي واقعي دريافت نهيں تھي بلكه يه محض دورِ لاعلمي كے قياسات تھے، جو علم كي روشني پھيلنے كے بعد خود بخود ختم هوگئے هيں۔ جولين هكسلے كهتا هے:

’’نيوٹن نے دكھا ديا هے كه كوئي خدا نهيں هے جو سياروں كي گردش پر حكومت كرتا هو۔ لاپلاس نے اپنے مشهور نظريے سےاس بات كي تصديق كردي هے كه فلكي نظام كو خدائي مفروضه كي كوئي ضرورت نهيں۔ ڈارون اور پاسچر نے يهي كام حياتيات كے ميدان ميں كيا هے اور موجوده صدي ميں علم النفس كي ترقي اور تاريخي معلومات كے اضافے نے خدا كو اس مفروضه مقام سے هٹا ديا هے كه وه انساني زندگي اور تاريخ كو كنٹرول كرنے والا هے‘‘۔

(Religion without Revelation, N. Y. 1958. p. 58)

طبيعاتي دنيا ميں اس انقلاب كا هيرو نيو ٹن هے، جس نے يه نظريه پيش كيا كه كائنات كچھ ناقابلِ تغير اصولوں ميں بندھي هوئي هے۔ كچھ قوانين هيں جن كے تحت تمام اجرام سماوي حركت كررهے هيں۔ بعد كو دوسرے بے شمار لوگوں نے اس تحقيق كو آگے بڑھايا۔ يهاں تك كه زمين سے لے كر آسمان تك سارے واقعات ايك اٹل نظام كے تحت ظاهر هوتےهوئے نظر آئے، جس كو قانونِ فطرت (law of nature) كا نام دياگيا۔ اس دريافت كے بعد قدرتي طورپر يه تصور ختم هوجاتا هے كه كائنات كے پيچھے كوئي فعال اور قادر خدا هے جو اس كو چلا رها هے۔زياده سے زياده گنجائش اگر هوسكتي هے تو ايسے خدا كي جس نے ابتداء ً كائنات كو حركت دي هو۔ چنانچه شروع ميں لوگ محركِ اوّل كے طورپر خدا كو مانتے رهے۔ والٹير (Voltaire, 1694-1778)نے كها كه خدا نے اس كائنات كو بالكل اسي طرح بنايا هے، جس طرح ايك گھڑي ساز گھڑي كے پرزے جمع كركے انھيں ايك خاص شكل ميں ترتيب دے ديتا هے، اور اس كے بعد گھڑي كے ساتھ اس كا كوئي تعلق باقي نهيں رهتا۔ اس كے بعد هيوم (David Hume, 1711-1776)نے اس ’’بے جان اور بے كار خدا‘‘ كو بھي يه كهه كر ختم كرديا كه هم نے گھڑياں بنتے هوئے ديكھي هيں۔ ليكن دنيائيں بنتي هوئي نهيں ديكھيں۔ اس ليے كيوں كر ايسا هوسكتا هے كه هم خدا كو مانيں۔

سائنس كي ترقي اور علم كے پھيلاؤ نے اب انسان كو وه كچھ دكھا ديا هے، جس كو پهلے اس نے ديكھا نهيں تھا۔ واقعات كي جن كڑيوں كو نه جاننے كي وجه سے هم سمجھ نهيں سكتے تھے كه يه واقعه كيوں هوا۔وه اب واقعات كي تمام كڑيوں كے سامنے آجانے كي وجه سے ايك جاني بوجھي چيز بن گيا هے۔ مثلاً پهلے آدمي يه نهيں جانتا تھا كه سورج كيسے نكلتا اور كيسے ڈوبتا هے۔اس ليے اس نے سمجھ ليا كه كوئي خدا هے، جو سورج كو نكالتا هے،اور اس كو غروب كرتاهے۔ اس طرح ايك مافوق الفطري طاقت كا خيال پيدا هوا۔ اور جس چيز كو آدمي نهيں جانتا تھا، اس كے متعلق كهه ديا كه يه اسي طاقت كا كرشمه هے۔ مگر اب جب كه هم جانتے هيں كه سورج كا نكلنا اور ڈوبنا، اس كے گرد زمين كے گھومنے كي وجه سے هوتا هے تو سورج كو نكالنے اور غروب كرنے كے ليے خدا كو ماننے كي كيا ضرورت۔اسي طرح وه تمام چيزيں جن كے متعلق پهلے سمجھا جاتا تھا كه ان كے پيچھے كوئي اَن ديكھي طاقت كام كررهي هے۔ وه سب جديد مطالعه كے بعد هماري جاني پهچاني فطري طاقتوں كے عمل اور ردّ عمل كا نتيجه نظر آيا۔ گويا واقعے كے فطري اسباب معلوم هونے كے بعد وه ضرورت آپ سے آپ ختم هوگئي، جس كے ليے پهلے لوگوں نے ايك خدا يا فوق الفطري طاقت كا وجود فرض كرليا تھا۔ ’’اگر قوس و قزح گرتي هوئي بارش پر سورج كي شعاعوں كے انعطاف (refraction) سے پيدا هوتي هے تو يه كهنا بالكل غلط هے كه وه آسمان كے اوپر خدا كا نشان هے‘‘  — هكسلے اس قسم كے واقعات پيش كرتا هوا كس قدر يقين كے ساتھ كهتا هے:

If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.

يعني واقعات اگر فطري اسباب كے تحت پیش آتے هيں تو وه مافوق الفطري اسباب كے تحت پيدا كیے هوئے نهيں هوسكتے۔

اب اس دليل كو ليجیے، جو طبيعاتي تحقيق كے حوالے سے پيش كي گئي هے۔ يعني كائنات كا مطالعه كرنے سے معلوم هوا هے كه يهاں جو واقعات هورهے هيں، وه ايك متعين قانونِ فطرت كے مطابق هورهے هيں۔ اس ليے ان كي توجيه كرنے كے ليے كسي نامعلوم خدا كا وجود فرض كرنے كي ضرورت نهيں۔ كيوں كه معلوم قوانين خود اس كي توجيه كے ليے موجود هيں۔ اس استدلال كا بهترين جواب وه هے جو ايك عيسائي عالم نے ديا۔ اس نے كها:

Nature is a fact, not an explanation.

يعني فطرت كا قانون كائنات كا ايك واقعه هے، وه كائنات كي توجيه نهيں هے۔ تمھارا يه كهنا صحيح هے كه هم نے فطرت كے قوانين معلوم كرليےهيں۔ مگر تم نے جو چيز معلوم كي هے، وه اس مسئلے كا جواب نهيں هے،جس كے جواب كے طور پر مذهب وجود ميں آيا هے۔ مذهب يه بتاتا هے كه وه اصل اسباب ومحركات كيا هيں، جو كائنات كے پيچھے كام كررهے هيں۔ جب كه تمھاري دريافت صرف اس مسئلے سے متعلق هے كه كائنات جو همارے سامنے كھڑي نظر آتي هے اس كا ظاهري ڈھانچه كيا هے۔

جديد علم جو كچھ هميں بتاتا هے وه صرف واقعات كي مزيد تفصيل هے نه كه اصل واقعے كي توجيهه۔ سائنس كا سارا علم اس سے متعلق هے كه ’’جو كچھ هے وه كياهے‘‘۔ يه بات اس كي دسترس سے باهر هے كه ’’جو كچھ هے وه كيوں هے‘‘ جب كه توجيه كا تعلق اسي دوسرے پهلو سے هے۔

اس كو ايك مثال سے سمجھیے ۔ مرغي كا بچه انڈے كے مضبوط خول كےاندر پرورش پاتا هے، اور اس كے ٹوٹنے سے باهر آتا هے۔ يه واقعه كيوں كر هوتا هے كه خول ٹوٹے اور بچه جو گوشت كے لوتھڑے سے زياده نهيں هوتا، وه باهر نكل آئے۔ پهلے كا انسان اس كا جواب يه ديتا تھا كه ’’خدا ايسا كرتا هے‘‘۔ مگر اب خوردبيني مشاهده (microscopic observation)كے بعد معلوم هوا كه جب 21 روز كي مدت پوري هونے والي هوتي هے، اس وقت ننھے بچے كي چونچ پر ايك نهايت چھوٹي سي سخت سينگ ظاهر هوتي هے۔ اس كي مدد سے وه اپنے خول كو توڑ كر باهر آجاتا هے۔ سينگ اپنا كام پورا كركے بچے كي پيدائش كے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتي هے۔

مخالفينِ مذهب كے نظريے كے مطابق يه مشاهده اس پرانے خيال كو غلط ثابت كرديتا هےكه بچے كو باهر نكالنے والا خدا هے۔ كيونكه خوردبين كي آنكھ هم كو صاف طور پر دكھا رهي هے كه ايك 21 روزه قانون هے، جس كے تحت وه صورتيں پيدا هوتي هيں، جو بچے كو خول كے باهر لاتي هيں۔ مگر يه مغالطے كے سوا اور كچھ نهيں۔ جديد مشاهدے نے جو كچھ هميں بتايا هے، وه صرف واقعے كي چند مزيد كڑياں هيں، اس نے واقعے كا اصل سبب نهيں بتايا۔ اس مشاهدے كے بعد صورتِ حال ميں جو فرق هوا هے، وه اس كے سوا اور كچھ نهيں هے كه پهلے جو سوال خول كے ٹوٹنے كے بارےميں تھا، وه ’’سينگ‘‘ كے اوپر جاكر ٹھهر گيا۔ بچہ كا اپني سينگ سے خول كو توڑنا، واقعے كي صرف ايك درمياني كڑي هے، وه واقعه كا سبب نهيں هے۔ واقعه كا سبب تو اس وقت معلوم هوگا، جب هم جان ليں كه بچے كي چونچ پر سينگ كيسے ظاهر هوئي۔ دوسرے لفظوں ميں اس آخري سبب كا پته لگاليں، جو بچے كي اس ضرورت سے واقف تھا كه اس كو خول سے باهر نكلنے كے ليے كسي سخت مددگار كي ضرورت هے، اور اس نے مادہ كو مجبور كيا كه عين وقت پر ٹھيك 21 روز بعد وه بچه كي چونچ پر ايك ايسي سينگ كي شكل ميں نمودار هو، جو اپنا كام پورا كرنے كے بعد جھڑ جائے۔ گويا پهلے يه سوال تھاكه ’’خول كيسے ٹوٹتا هے‘‘۔ اور اب سوال يه هوگيا كه ’’سينگ كيسے بنتي هے‘‘۔ ظاهر هے كه دونوں حالتوں ميں كوئي نوعي فرق نهيں۔ اس كو زياده سے زياده حقيقت كا وسيع تر مشاهده كهه سكتے هيں۔ حقيقت كي توجيه كا نام نهيں دے سكتے۔

يهاں ميں ايك امريكي عالم حياتيات   (Cecil Boyce Hamann, 1913-1984) كے الفاظ نقل كروں گا:

’’غذا هضم هونے اور اس كے بدن کا جزءبننے كے حيرت انگيز عمل كو پهلے خدا كي طرف منسوب كياجاتا تھا۔ اب جديد مشاهدے ميں وه كيميائي ردّ ِعمل كا نتيجه نظر آتا هے۔ مگر كيا اس كي وجه سے خدا كے وجود كي نفي هوگئي۔ آخر وه كون سی طاقت هے جس نے كيميائي اجزا كو پابند كيا كه وه اس قسم كا مفيد ردّ عمل ظاهر كريں۔ غذا انسان كے جسم ميں داخل هونے كے بعد ايك عجيب وغريب خود كار انتظام كے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتي هے، اس كو ديكھنے كے بعد يه بات بالكل خارج از بحث معلوم هوتي هے كه يه حيرت انگيز انتظام محض اتفاق سے وجود ميں آگيا۔ حقيقت يه هے كه اس مشاهدے كے بعد تو اور زياده ضروري هوگيا هے كه هم يه مانيں كه خدا اپنے ان عظيم قوانين كے ذريعے عمل كرتا هے جس كے تحت اس نے زندگي كو وجود ديا هے۔‘‘

(The Evidence of God in an Expanding Universe, p. 221)

يعني فطرت كائنات كي توجيه نهيں كرتي، وه خود اپنے ليے ايك توجيه كي طالب هے۔ بلا شبه سائنس نے هم كو بهت سي نئي نئي باتيں بتائي هيں۔ مگر مذهب جس سوال كا جواب هے، اس كا ان دريافتوں سے كوئي تعلق نهيں۔ اس قسم كي دريافتيں اگر موجوده مقدار كے مقابلے ميںاربوں، كھربوں گنا بڑھ جائيں ، جب بھي مذهب كي ضرورت باقي رهے گي۔ كيونكه يه دريافتيں صرف هونے والے واقعات كو بتاتي هيں، يه واقعات كيوں هورهے هيں، اور ان كا آخري سبب كيا هے۔ اس كا جواب ان دريافتوں كے اندر نهيں هے۔

يه تمام كي تمام دريافتيں صرف درمياني تشريح (explaination) هيں، جب كه مذهب كي جگه لينے كے ليے ضروري هے كه وه آخري اور كلي تشريح دريافت كرے۔ اس كي مثال ايسي هي هے كه كسي مشين كےاوپر ڈھكن لگا هوا هو تو هم صرف يه جانتے هيں كه وه چل رهي هے۔ اگر ڈھكن اتار ديا جائے تو هم ديكھيں گے كه باهركا چكر كس طرح ايك اور چكر سے چل رها هے۔ اور وه چكر كس طرح دوسرے بهت سے پرزوں سے مل كر حركت كرتاهے۔ يهاں تك كه هوسكتا هے كه هم اس كے سارے پرزوں اور اس كي پوري حركت كو ديكھ ليں۔ مگر كيا اس علم كے معني يه هيں كه هم نے مشين كےخالق اور اس كے سببِ حركت كار از بھي معلوم كرليا۔ كيا كسي مشين كي كاركردگي كو جان لينے سے يه ثابت هوجاتا هے كه وه خود بخودبن گئي هے،اور اپنے آپ چلي جارهي هے۔ اگر ايسا نهيں هے تو كائنات كي كاركردگي كي بعض جھلكياں ديكھنے سے يه كيسے ثابت هوگيا كه يه سارا كارخانه اپنے آپ قائم هو اهے، اور اپنے آپ چلا جارها هے۔ هيريز (Arthur Harris) نے يهي بات كهي تھي جب اس نے ڈارونزم پر تنقيد كرتےهوئے كها:

Natural selection may explain the survival of the fittest, but cannot explain the arrival of the fittest.

(The Revolt against Reason by A. Lunn, p. 133)

يعني انتخابِ طبيعي كے قانون كا حواله صرف زندگي كے بهتر مظاهر باقي رهنے كي توجيه كرتا هے۔ وه يه نهيں بتاتا كه يه بهتر زندگياں خود كيسے وجود ميں آئيں۔

 

كائنات بول رهي هے

كيرالا كے عيسائي مشن نے ايك كتابچه شائع كيا هے جس كا نام هے:

Nature and Science Speak about God

اخباري سائز كي اس 28 صفحے كي كتاب ميں كائنات كے متعلق سائنسي دريافتوں كے حوالے سے يه واضح كيا گيا هےكه خدا كا وجود ايك حقيقت هے اور اسے كسي طرح جھٹلايا نهيں جاسكتا— ’’بچھو،بھڑاور اسي طرح كے بهت سے دوسرے پاني اور خشكي كے جاندار هيں جو ڈنك مار كر دشمن كا مقابله كرتے هيں يا شكار كو قابو ميں لاتے هيں۔ ان كے ڈنك كي نوك پر ايك نهايت چھوٹا سوراخ هوتا هے جس كے ذريعے وه ايك قسم كا زهر اپنے دشمن كے جسم ميں داخل كرديتے هيں۔ يه سوراخ اگر ڈنك كے بالكل سرے پر هوتا تو ڈنك چبھوتے وقت سوراخ بند هوجاتا۔ اس كے علاوه خود چبھونے ميں ڈنك زياده اچھي طرح كام نه كرتا۔ يهي وجه هے كه ڈنك كي نوك كا سوراخ هميشه ذرا سا ترچھا هوتا هے۔ ٹھيك اسي طرح جيسے ڈاكٹر كي سرينج (syringe) ميں هوتا هے۔‘‘ يه ايك بهت چھوٹي سي مثال هے۔ اسي طرح جس چيز كو ديكھيے اس كے اندر ايك نهايت ذهين نقشه سازي نظر آئے گي۔ كائنات كوڑا كركٹ كا ايك بے ترتيب انبار نهيں هے، بلكه اس كے اندر زبردست مقصديت اور نظم پايا جاتا هے۔ كيا ايك شعور ي منصوبه بندي كے بغير ايسا هوسكتا هے۔

ديمك اپنے قدكے مقابلے ميں هزار گنا بڑا مكان بناتے هيں۔ اگر هم اپني جسامت كي نسبت سے اتنا بڑا مكان بنائيں تو هم كو ايك ميل سے بھي زياده اونچي تعمير كرني پڑے گي۔ ديمك لكڑي ميں ره سكتے هيں اور اسي كے اندر اپنے مكانات تراشتے هيں، ان كي زندگي كے مطالعے سے بے شمار حيرت انگيز واقعات سامنے آئے هيں۔ صرف ايك مثال ليجيے۔ ديمك لكڑي كو كھاتے هيں۔ پتھر كے بعد لكڑي تمام معلوم چيزوں ميں سب سے زياده عسير الهضم (indigestible)هے۔ مگر ديمك كے ليے يه كوئي مشكل كام نهيں۔ وه اس مقصد كے ليے مخصوص جبڑے ركھتے هيں جو آرے كا كام دينے كے ساتھ ساتھ پيسنے كا كام بھي كرتے هيں۔ تاهم لكڑي خواه كتني هي پيس ڈالي جائے، وه بهر حال لكڑي هي رهے گي، اور پيٹ ميں جاكر غذا كي ضرورت پوري كرنے كے بجائے صرف بدهضمي پيدا كرے گي۔ پھر كيا چيز هے، جو ديمك كي مدد كرتي هے۔ اس كام كے ليے ديمك كي آنتوں ميں نهايت چھوٹےچھوٹے خوردبيني كيڑے موجود هيں۔ يه كيڑے نگلي هوئي لكڑي پر مخصوص عمل كركے اس كے اندر ايسي تبديلياں پيدا كرديتے هيں كه وه هضم هو كر جزءِ بدن هوسكے۔ يه حيرت انگيز انتظام كون كرتاهے۔

مرغي كے انڈے پر غور كيجیے۔ هر ايك انڈے ميں سات ايسي مختلف خصوصيات پائي جاتي هيں، جو اتني اهم هيں كه ان ميں سے ايك بھي اگر نه هو تو انڈا، انڈا نه رهے گا — چونے كا خول،خول كے اندر مسامات جو هوا كو گزرنے كا راسته ديتے هيں، پتلي جھلي جو اَستر كي طرح چاروں طرف هوتي هے، زردي اور سفيدي جو خول كےاندر بچے كي غذا هيں، بچے كا جرثومه، تار جو جرثومے كو صحيح رُخ پر باقي ركھتے هيں۔ان ميں سے كسي ايك چيز كو انڈے سے الگ كرديجيے، اور انڈا كبھي بھي چوزے كي پرورش گاه نهيں بن سكے گا۔ كيا يه سات مختلف چيزيں محض اتفاق سے يكجا هوگئي هيں۔ ’’اتفاق‘‘ ان سات مختلف چيزوں كي موجودگي كي تشريح نهيں كرسكتا، جو ٹھيك اور بالكل صحيح حالت ميں پائي جارهي هيں۔ اس سے زياده عجيب بات يه هے كه اتفاق سے صرف يهي چيزيں كيوں اكھٹا هوئيں۔ كيوں نه درخت كي پتّي ، كوئي لكڑي، پتھر كا ايك ٹكڑا اور اس طرح كي هزاروں چيزيں جن كا موجود هونا ممكن تھا، خول كے اندر آگئيں، جن ميں سے كوئي ايك چيز بھي اگر وهاں هوتي تو وه سارے انڈے كو برباد كرديتي۔ سب سے زياده عجيب بات يه هے كه جب مرغي كا بچه اس قابل هوجاتا هے كه انڈے سے باهر نكلے، اس وقت اس كي چونچ پر ايك چھوٹي سي سخت سينگ ظاهر هوتي هے۔ اس كي مدد سے وه اپنے خول كو توڑ كر باهر آجاتا هے۔ سينگ اپنا كام پورا كركے بچے كي پيدائش كے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتي هے۔

خود اپنے وجود پر غور كيجيے۔ انسان كو جو جسم حاصل هے وه كس قدر حيرت انگيز هے۔ دماغ كو ديكھيے۔ ايك ايسا ٹيلي فون اكسچينج جو هر آن زمين كے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں سے تعلق جوڑے هوئے هو، ان سے پيغامات وصول كرتا هو، اور ان كے نام پيغام بھيجتا هو۔ اگر آپ ايك ايسے ٹيلي فون ایكسچينج (exchange)كا تصور كرسكيں تو آپ دماغ كے ناقابلِ يقين حد تك پيچيده نظام كا صرف ايك هلكا سا اندازه كرسكتے هيں۔

آپ كے دماغ(brain)كے اندر تقريباً ايك هزار ملين عصبي خانے (nerve cells) هيں۔ هر خانے سے بهت باريك تار نكل كر تمام جسم كے اندر پھيلے هوئے هيں جن كو عصبي ريشے (nerve fibres) كهتے هيں۔ ان پتلے ريشوں پر خبر وصول كرنے اور حكم بھيجنے كا ايك نظام تقريباً ستر ميل في گھنٹه كي رفتار سے دوڑتا رهتا هے۔

دل كو ديكھيے، اس كا اوسط قد چار انچ لمبا اور ڈھائي انچ چوڑا هوتا هے۔ اس كا وزن آٹھ اونس سے زياده نهيں هوتا مگر انساني جسم كا يه چھوٹا سا پمپ رات دن مسلسل چلتا رهتا هے۔ اس كي حركت دن ميں ايك لاكھ بار هوتي هے اور وه هر تيره سكنڈ ميں تقريباً ايك گيلن خون سارے جسم ميں بھيج ديتا هے۔ ايك سال ميں دل جتنا خون پمپ كرتا هے وه اتنا هوتا هے جو ايك ايسي ٹرين كو پوري طرح بھر سكے، جو 65 بڑے بڑے تيل كے ويگن ليے هوئے هو۔ دل كي اس حيرت انگيز كاركردگي كو حاصل كرنے كے ليے عجيب وغريب هنر مندي كے ساتھ اس كو موزوں ترين بنايا گيا هے۔

كائنات ميں اس طرح كي بے شمار چيزيں هيں جن كي صرف فهرست بنانے كے ليے ايك پوري لائبريري كي ضرورت هوگي، جب كه انسان كا علم كائنات كے موجود حقائق كي نسبت سے كچھ بھي نهيں هے۔ جو كچھ هم نے ديكھا هے، اس سے كهيں زياده هے ،وه چيز جس كو ديكھنا ابھي باقي هے۔

يه حيرت انگيز كاريگري، يه مكمل منصوبه بندي، يه اعلي ترين ذهانت كيا محض اتفاق (chance) سے وقوع ميں آگئي هے۔ بے شك بعض اوقات محض اتفاق سے بھي كوئي واقعه ظاهر هوجاتا هے۔ مثلاً هوا كا ايك جھونكا كبھي سرخ گلاب كے زيره (pollen) كو اڑا كر سفيد گلاب پر ڈال ديتا هے، جس كے نتيجے ميں زرد رنگ كا پھول كھلتا هے۔ مگر اس قسم كا اتفاق محض جزوي اور خفيف تبديلياں پيدا كرسكتا هے۔ وه صرف اس مخصوص رنگ كے گلاب كي توجيه كرتا هے، نه كه وه گلاب كے پورے وجود كا سبب هے۔ اتفاق هر گز اس كي توجيه نهيں كرسكتا كه ايك مخصوص قسم كا نظام اس قدر تسلسل كے ساتھ كيوں جاري هے۔ وه هم كو نهيں بتاتا كه هماري دنيا ميں باقاعدگي اور تنظيم كيوں پائي جاتي هے۔’’اتفاق‘‘ كا عمل كبھي بھي يكساں طور پر نهيں هوسكتا۔ اتفاق كے ليے ممكن نهيں هے كه جو كچھ آج هوا اسي كو كل بھي وجود ميں لائے۔ پھر كيوں تمام چيزيں هميشه يكسانيت كے ساتھ ايك هي شكل ميں ظاهر هورهي هيں۔ ان ميں نظم اور باقاعدگي كيوں پائي جاتي هے۔

كچھ دھات كے ٹكڑے هوا ميں اچھالے جائيں تو كيا يه ممكن هے كه وه ڈھلے هوئے حروف كي شكل ميں زمين پر گريں اور گرتے هي ايك بامعني عبارت كي شكل ميں كاغذ كے صفحے پر اكھٹاهوجائيں۔ اگر ايسا محض اتفاق سے نهيں هوسكتا تو يه كيوں فرض كرليا گيا هے كه اتني بڑي دنيا اتني حيرت انگيز خصوصيات كے ساتھ محض اتفاق سے وجود ميں آگئي هے۔ ايك نظريه جس كو كسي تجربه گاه ميں ثابت نهيں كيا جاسكتا اس كو علمي طور پر منوانے كي كيا دليل هے۔

دوسري توجيه جس پراتھیسٹ (atheist) انحصار كرتے هيں، وه قانونِ قدرت (nature) هے۔ ’’مرغي كے انڈوں سے بچے كيوں 21روز ميں نكلتے هيں، اور شتر مرغ كے انڈوں سے 45 روز ميں۔‘‘ اس طرح كے بے شمار سوالات هيں، جن كا جواب منکرِ خدا (atheist) كے نزديك يه هے كه ’’يه ايك قانونِ فطرت هے۔‘‘ بظاهر يه ايك توجيه هے، مگر درحقيقت يه جواب صرف ايك واقعے كو بيان كرتا هے۔ قانونِ فطرت كا لفظ بول كر هم صرف كائنات كے نظم اور اس كي كاركردگي كا اعتراف كرتے هيں۔ يه لفظ اس كي توجيه نهيں كرتا كه يه نظم اور كاركردگي كيوں قائم هے۔ يه لفظ صرف يه بتاتا هے كه چيزيں هميشه ايك متعين اصول كے تحت وجود ميں آتي هيں، اور هميشه اسي طرح وجود ميں آئيں گي۔ اس سے يه نهيں معلوم هوتا كه جو كچھ هورها هے، وه كيوں هورها هے۔ وه واقعے كا سبب نهيں بتاتا بلكه صرف واقعے كي تصوير پيش كرتاهے۔

اگر آپ كسي ڈاكٹر سے پوچھيں كه خون سرخ كيوں هوتا هے تو وه جواب دے گا كه اس كي وجه يه هے كه خون ميں نهايت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء هوتے هيں(ايك انچ كے سات هزار ويں حصے كے برابر) جن كو سرخ ذرات كهاجاتا هے۔

’’درست، مگر يه ذرات سرخ كيوں هوتے هيں؟‘‘

’’ان ذرات ميں ايك خاص ماده هوتاهے جس كا نام هيموگلوبن (haemoglobin) هے، يه ماده جب پھيپھڑے ميں آكسيجن جذب كرتا هے تو سرخ هوجاتا هے۔‘‘

’’ٹھيك هے، مگر هيموگلوبن كے حامل سرخ ذرات آخر كهاں سے آئے۔‘‘

’’وه آپ كي تِلّي (spleen)ميں بن كر تيار هوتے هيں۔‘‘

ڈاكٹر صاحب! جو كچھ آپ نے فرمايا، وه بهت عجيب هے، مگر مجھے بتائيے كه ايسا كيوں هے كه خون، سرخ ذرّات، تلّي اور دوسري هزاروں چيزيں اس طرح ايك كُل كے اندر باهم مربوط هيں، وه اس قدر صحت كے ساتھ يك جا هوكر كيسے عمل كرتي هيں كه ميں سانس ليتا هوں، ميں دوڑتا هوں، ميں بولتا هوں، ميں زنده هوں۔‘‘

’’يه قدرت كا قانون هے۔‘‘

’’وه كيا چيز هے جس كو آپ قانونِ قدرت كهتے هيں۔‘‘

’’اس سے ميري مراد طبيعي اور كيمياوي طاقتوں كا اندھا عمل هے (Blind interplay of physical and chemical forces)۔‘‘

’’مگر كيا وجه هے كه يه اندھي طاقتيں هميشه ايسي سمت ميں عمل كرتي هيں، جو انھيں ايك متعين انجام كي طرف لے جائے۔ كيسے وه اپني سرگرميوں كو اس طرح منظم كرتي هيں كه ايك چڑيا اُڑنے كے قابل هوسكے، ايك مچھلي تير سكے اور ايك انسان اپني مخصوص صلاحيتوں كے ساتھ وجود ميں آئے۔‘‘

’’ميرے دوست ، مجھ سے يه نه پوچھو، سائنس داں صرف يه بتا سكتا هے كه جو كچھ هورها هے وه كيا هے۔ اس كے پاس اس سوال كاجواب نهيں هے كه جو كچھ هورها هے وه كيوں هو رها هے۔‘‘

يه سوال وجواب موجوده سائنس كي حقيقت واضح كررها هے۔ بے شك سائنس نے هم كو بهت سي نئي باتيں بتائي هيں۔ مگر اس نے جو كچھ بتايا هے وه صرف كچھ هونے والے واقعات هيں۔ وه واقعات كيوں كر هورهے هيں اس كا جواب سائنس كے پاس نهيں هے۔ ايك مكھي كے نازك اعضا كس طرح كام كرتے هيں۔ بے شك سائنس نے اس سلسلے ميں هم كو بهت كچھ بتايا هے، مگر وه كون ذهن هے، جس نے سوچا كه مكھي كو ان نازك اعضا كي ضرورت هے، اور اس كو كمال كاريگري كے ساتھ ايسے اعضا فراهم كيا۔ كائنات كے نظم اوراس كي موزونيت(appropriateness) كي تشريح كرنے كے ليے اور يه بتانے كے ليے كه مختلف قسم كي بے شمار اندھي طاقتيں ايك مخصوص انجام كي طرف اپنا عمل كيوں كرتي هيں — هم كو ان طاقتوں كي موجودگي كے سوا كس چيز كي ضرورت هے۔ ايك بچھے هوئے بستر كي تشريح محض اس طرح نهيں هوسكتي كه آپ چادر، تكيه اور پلنگ كے نام لے ليں۔ ايك محل، نام هے لاكھوں اينٹيں اور دوسري چيزيں اپنے صحيح ترين مقام پر نصب هونے كا۔ انساني جسم كے كسي چھوٹے سے چھوٹے عضو كے وجود ميں آنے كے ليے ضروري هے كه كروروں ايٹم ايك منفرد اور مخصوص ترتيب كے ساتھ يك جا هوں۔ اندھي طاقتيں هر گز اس طرح كي مقصديت كا اظهار نهيں كرسكتيں، وه واقعات كے اندر معنويت اور هم آهنگي پيدا نهيں كرسكتيں۔

حقيقت يه هے كه فطرت كا قانون كائنات كا ايك واقعه هے، وه كائنات كي توجيه نهيں هے۔ يه ايك ايسا واقعه هے، جو خود اپنے وجود كے ليے ايك توجيه كا طالب هے۔ اس موقع پر مصنف كے الفاظ نقل كرنے كے قابل هيں۔ وه لكھتا هے— قانونِ قدرت كائنات كي تشريح نهيں كرتا۔ وه خود اس كا طالب هے كه اس كي تشريح كي جائے:

Nature does not explain, she is herself in need of an explanation.

اس کا مطلب یہ ہے کہ كسي چيز ميں معنويت كا هونا، اس بات كا صريح ثبوت هے كه اس كے پيچھے كوئي ذهن كام كررها هے۔زندگي كا جرثومه جو ايك مرد كے جسم ميں پرورش پاتا هے، وه جسم كے دوسرے خليوں (cells)كے بالكل مشابه هوتا هے، مگر اس ميں دوسرے خليوں سے بالكل مختلف خصوصيت هوتي هے، اس كے اندر يه صلاحيت هوتي هے كه عورت كے ايك خليه سے هم آهنگ هو كر مكمل طورپر ايك نيا انسان وجود ميں لاسكے۔ يه كس طرح ممكن هوتاهے كه دو خليے جن ميں سے هر ايك دو بالكل مختلف جسموں ميں پرورش پاتے هيں، وه اس قدر حيرت انگيز طورپر باهم مل كر عمل كرنے كي صلاحيت ركھتے هيں۔ كيا ايك تخليقي ذهن كي كارفرمائي تسليم كيے بغير اس كي تشريح كي جاسكتي هے۔

كائنات ميں ايك تخليقي ذهن كو ماننا محض ايك بے بنياد روايت كو ماننا نهيں هے۔ دراصل بهت سے ناگزير نتائج هم كواس عقيده تك پهنچاتےهيں، بے شمار علمي حقيقتيں هم كو مجبور كرتي هيں كه هم كائنات كے پيچھے ايك ذهن كي كارفرمائي تسليم كريں۔ ٹھيك اسي طرح جيسے ريڈيو كي آواز هم كو يه ماننے پر مجبور كرتي هے كه هم كچھ لهروں كي موجودگي تسليم كريں، حالانكه هم ان لهروں كو بالكل نهيں ديكھتے۔ گلاس ميں شكر ڈاليں تو تھوڑي دير ميں وه اس طرح گھل مل جائے گي كه آنكھوں كو دكھائي نهيں دے گي۔ مگر زبان سے چكھ كر آپ پاني ميں شكر كي موجودگي كو معلوم كرسكتے هيں۔ اسي طرح خدا آنكھوں كو نظر نهيں آتا مگر جب هم اپنے گردوپيش كي دنيا كا مطالعه كرتے هيں تو همارا وجدان (intuition)پكار اٹھتا هے كه بےشك يهاں ايك خداهے، اس كے بغير موجوده كائنات وجود ميں نهيں آسكتي تھي۔

حقيقت يه هے كه علم كے اضافے نے انسان كو خدا سے دور نهيں كيا بلكه اور اس كے قريب كيا هے۔ خدا كے وجود پر شك كرنا محض اپني جهالت كا اعلان كرنا هے۔ پاسچر كا قول كس قدر صحيح هے جس كو مصنف نے كتاب كے صفحه اول پر درج كياهے:

A smattering of science turns people away from God—Much of it brings them back to Him.

 معمولي علم آدمي كو خدا سے دور كرتاهے، زياده علم اس كو خدا سے قريب كرنے والا هے۔

 

حادثہ، توجیہ کے لیے کافی نہیں

Predictable Universe

اپنی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (God Arises) مَیں نے 1964میں لکھی تھی۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ یہ کائنات بے حد بامعنٰی کائنات ہے۔ ایسی بامعنٰی کائنات کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی۔ اس میں جو باتیں درج تھیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی— 11اگست 1999ء میں ایک سورج گرہن واقع ہوگا جو کارنوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جاسکے گا :

On August 11, 1999, there will be a Solar eclipse that will be completely visible at Cornwall". (p. 99)

میں نے یہ بات 11اگست 1999 سے 35 سال پہلے لکھی تھی۔ اس تحریر کے 35 سال بعد جب 11اگست 1999 کی تاریخ آئی تو اس پیشگی بیان کے عَین مطابق ٹھیک مقرّرہ وقت پر سورج گرہن ہوا۔ اِس کے واقع ہونے میں ایک منٹ کا بھی فرق نہیں ہُوا۔

میں نے یہ بات بطور خود نہیں لکھی تھی، بلکہ وہ علمائے فلکیات کے حسابات (calculations)  کی بنیاد پر لکھی تھی۔ علمائے فلکیات پیشگی طورپَر اتنا صحیح اندازہ کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ کائنات انتہائی محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کروروں سال گزرنے پر بھی اس میں کوئی تغیرو تبدل نہیں ہوتا۔ اِسی دریافت کی بنا پر ایک سائنس داں (سر جیمس جینز) نے اپنی کتاب ’’ مسٹیریس یُونیوَرس‘‘ میں لکھا ہے :کائنات کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ریاضیاتی دماغ   (Mathematical Mind) ہے۔

کسی چیز کے بامعنٰی ہونے کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ قابِل پیشین گوئی  (predictable) ہو۔ یہ صفت موجودہ کائنات میں مکمل طورپَر موجود ہے۔ جس کا ایک ثبوت اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔

جو لوگ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ موجودہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ (accident) کے طورپر وجود میں آئی ہے، نہ کہ کسی خالق کے ارادے کے تحت۔ یہ جملہ گریمر کے اعتبار سے درست ہے۔ مگر حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اگر یہ مانا جائے کہ موجودہ بامعنٰی کائنات ایک حادثے کے طورپر ظہور میں آئی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بے شعور حادثہ بھی ایک ایسا عامل ہے، جو بامعنٰی چیز کو وجود میں لاسکتا ہے۔ ایسی حالت میں حادثے کو لازمی طَور پَر قابلِ تکرار (repeatable) ہونا چاہیے۔ اُس کو بار بار وقوع میں آنا چاہیے۔ جس طرح بے شعور حادثے نے ایک بار ایک بامعنٰی کائنات بنائی، اسی طرح دوبارہ ایسا ہونا چاہیے کہ حادثات کے ذریعے کوئی بامعنی چیز وجود میں آجائے۔

مگر جیسا کہ معلوم ہے، دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ سائنسی اندازے کے مطابق، موجودہ کائنات کی عمر تقریباً 13.8 بلین سال ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس لمبے عرصے میں کوئی بامعنٰی کائنات استثنائی طور پر صرف ایک بار وجود میں آئی، اس کے بعد کبھی نہیں، حتیٰ کہ جُزئی طورپر بھی نہیں۔ مثلاً ایسا نہیں ہُوا کہ دوبارہ کوئی نیا شمسی نظام بن جائے، دوبارہ کسی سیّارے پَر پانی اور ہَوا اَور سبزہ جیسی چیزیں وجود میں آجائیں، دوبارہ کوئی ایسی زمین بن جائے جہاں انسان اور حیوان پیدا ہو کر چلنے پھرنے لگیں۔یہ استثناواضح طورپر ارادی تخلیق کا ثبوت ہے۔

تمام انسانی عُلوم کے مطابق، موجودہ دنیا کامل طور پر ایک استثنائی واقعہ ہے۔ وہ تاریخِ موجودات میں ایک نادر استثنا ہے۔ کائنات کا استثنا ہونا منکرینِ خدا کے مذکورہ نظریے کی یقینی تردید ہے۔ کائنات اگر صرف ایک حادثے کا ظہور ہوتی تو یقینی طورپر وہ قابلِ تکرار ہوتی، اور جب وہ قابلِ تکرار نہیں تو حادثے کی اصطلاح میں اس کی توجیہ کرنا بھی سراسر بے بنیاد ہے۔ ایسی توجیہ علمی طورپر قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ کسی انسان کے لیے خود اُس کا اپنا وجود۔ کوئی شخص اگر اپنے وجود کو مانتا ہے تو ٹھیک اسی دلیل سے اُس کو خدا کے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔ اپنے وجود کو ماننا اور خدا کے وجود کو نہ ماننا ایک فکری تضاد ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ آدمی اس فکری تضاد کا تحمل نہیں کرسکتا۔

سترہویں صدی کے مشہور فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes, 1596-1650)   نے کہاتھا:’’میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں‘‘:

‘‘I think, therefore I exist.”

یہ اصول بلا شبہ ایک محکم اصول ہے۔ اس اصول کے مطابق، خود شناسی(self realization) آدمی کو خدا شناسی (God realization) تک پہنچاتی ہے۔ اس اصول کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ ’’میرا وجود ہے، اس لیے خدا کا وجود بھی ہے‘‘:

‘‘I exist, therefore God exists.”

کائنات کا قابلِ تکرار نہ ہونا واضح طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کو ایک باشعور وجودنے اپنے ارادے کے تحت بنایا ہے۔ اس طرح پوری کائنات میں زمین ایک نادر استثنا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم جو زمین پَر موجودہے وہ وسیع کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پہلا انسان چاند پر گیا، اور وہاں یہ دیکھا کہ چاند ایک خشک چٹان کے سوا اور کچھ نہیں تو اس کا یہ حال ہُوا کہ جب وہ دوبارہ زمین پر اُترا تو وہ جذباتی ہیجان کے تحت زمین کے اوپر سجدے میں گر پڑا۔ کیوں کہ اُس نے زمین جیسی کوئی موافقِ حیات (pro-life)  چیز خَلا(space) میں کہیں اور نہیں دیکھی—  خدا ایک ثابت شدہ وجود ہے، خدا کو ماننا ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا ہے، اور خدا کا انکار کرنا ایک ثابت شدہ چیز کا انکار کرنا۔

 

سائنس اور الہٰیات

پروفیسر پال ڈیویز(Paul Davies, b. 1946) مشہور امریکی رائٹر ہیں۔ وہ ایری زونا اسٹیٹ (Arizona State) یونیورسٹی میں ایک ریسرچ سنٹر بیانڈ(Beyond) کے ڈائریکٹر ہیں، اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی ایک کتاب کا نام گولڈی لاکس انِگما(Goldilocks Enigma) ہے۔ حال میں ان کا ایک مقالہ گارجین (Guardian Newspapers Limited 2007) میں چھپا ہے۔ اِس مقالے کو انگریزی اخبار ہندو(The Hindu)نے اپنے شمارہ 27 جون 2007 میں اِس عنوان کے تحت شائع کیا ہے— تخلیق پسندوں کے استدلال میں دراڑ:

Flaw in creationists' argument

مضمون نگارلکھتے ہیں کہ ’’سائنس داں دھیرے دھیرے ایک ناگوار سچائی (inconvenient truth)  تک پہنچ رہے ہیں، وہ یہ کہ کائنات ایک نہایت محکم کائنات ہے۔ سائنس داں چالیس سال سے کائنات میں کام کرنے والے قوانینِ طبیعی کی تحقیق کررہے ہیں۔ یہ تحقیق، کائنات کے پیچھے ایک شعوری وجود (conscious being)  کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ کائنات کے قوانین میں سے کسی ایک کو بھی اگر بدلا جائے تواس کا نتیجہ نہایت مہلک ہوگا۔ کائنات اتنی زیادہ منظم ہے کہ اس کے موجودہ ڈھانچے میں معمولی تبدیلی بھی اس کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔

مثال کے طورپر ساری کائنات ایٹم سے بنی ہے۔ اور ہر ایٹم نیوٹران اور پروٹان کامجموعہ ہے۔ نیوٹران کسی قدر وزنی ہوتا ہے، اور پروٹان کسی قدر ہلکا۔ یہ تناسب بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا الٹا ہو، یعنی پروٹان بھاری ہو اور نیوٹران ہلکا، تو معلوم قوانین کے مطابق، ایٹم کا وجود ہی نہ رہے گا۔ جب نیوکلیس نہ ہوگا تو ایٹم بھی نہ ہوگا، اور جب ایٹم نہ ہوگا تو کیمسٹری بھی نہیں ہوگی، اور جب کیمسٹری نہیں ہوگی تو زندگی بھی نہیں ہوگی۔

اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ سائنس ناقابلِ حل سوالات سے دوچار ہے۔ مثلاً طبیعیات کے موجودہ قوانین کہاں سے آئے، وہ اپنی موجودہ محکم حالت میں کیوں قائم ہیں، وغیرہ۔ روایتی طور پر سائنس داں یہ فرض کررہے تھے کہ یہ قوانین، کائنات کا لازمی حصہ ہیں۔ قوانینِ طبیعی کی حقیقت کی کھوج کرنا، سائنس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ سوالات سائنس دانوں کو پریشان کررہے ہیں۔

کیمبرج کے سائنس داں مارٹن ریس(Martin John Rees, b. 1942)  جو کہ ’رائل  ایسٹرونومیکل سوسائٹی‘ کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ طبیعیات کے قوانین، مطلق اور آفاقی نہیں ہیں، وہ ایک بڑے کائناتی نظام کے متفرق حصے ہیں۔ ہر حصے کے اپنے ضوابط ہیں۔ وہ اِس نظام کو متعدّد کائناتی نظام (the multiverse system)  کہتے ہیں۔ اِن تحقیقات کے مطابق، ہماری کائنات ایک ایسی کائنات ہے ،جو موافقِ حیات قوانین (bio-friendly laws) کی حامل ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات کو ہم اِس طرح پاتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہاںانسان کا قیام ناممکن ہوجاتا۔ یہ محکم قوانین جو کائنات کو نہایت منظم طورپر کنٹرول کررہے ہیں، وہ کہاں سے آئے۔

تمام مشکلات کا سبب، جدید مفکرین کے نزدیک، یہ ہے کہ مذہب اور جدیدسائنس، دونوں کائنات کا جو تصور دے رہے ہیں، وہ کائنات کے علاوہ ایک ایسی ایجنسی کا تقاضا کرتے ہیں، جو کائنات کے باہر سے کائنات کا نظم کررہی ہو۔ تاہم کائنات کی توجیہ کے لیے ایک ایسے ڈزائنر کو ماننا جو کائنات سے پہلے موجود ہو، وہ اِس مسئلے کی کوئی توجیہ نہیں۔ کیوںکہ یہ توجیہ فوراً یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ڈزائنر نے اگر کائنات کو بنایا تو خود ڈزائنر کو کس نے بنایا:

Who designed the designer

’’اگر زندگی کی کوئی آخری معنویت(ultimate meaning)ہے، جیسا کہ میں یقین رکھتا ہوں، تو یہ جواب خود نیچر کے اندر ملنا چاہیے، نہ کہ اُس سے باہر۔ کائنات ایک محکم کائنات ہوسکتی ہے، لیکن اگر ایسا ہے تو کائنات نے خود ہی اپنے آپ کو ایسا بنایا ہے‘‘۔

وضاحت

الہٰیات کے معاملے میں جدید ذہن سخت کنفیوژن کا شکار ہے۔ اِس کا ایک اندازہ پروفیسر پال ڈیویز کے مذکورہ مضمون سے ہوتا ہے۔ملحد فلاسفہ اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ اگرمذہبی عقیدے کے مطابق، خدا نے کائنات کو بنایا تو خود خدا کو کس نے بنایا۔ مگر یہ سوال مکمل طورپر ایک غیر منطقی (illogical)  سوال ہے۔ یہ منطق (logic) کی نفی ہے۔ مزید یہ کہ مذکورہ اعتراض ایک کھُلی تضاد فکری پر قائم ہے۔ یہ لوگ خود تو کائنات کو بغیر خالق کے مان رہے ہیں، مگر خالق کو ماننے کے لیے وہ ایک خالق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ کائنات کا وجود اگر بغیر خالق کے ممکن ہے تو خالق کا وجود بھی بغیر خالق کے ممکن ہونا چاہیے۔

عقلی موقف

خدا کے وجود کے معاملے میں اصل غور طلب بات یہ ہے کہ خالص عقلی نقطۂ نظر سے ہم کیا موقف اختیار کرسکتے ہیں،اور کیا نہیں۔ اِس کے سوا کوئی اور طریقہ اِس معاملے میں سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کائنات میں انتہائی معیاری حد تک نظم پایا جاتا ہے۔ نظم کا یہ معاملہ ہر آدمی کا ذاتی مشاہدہ ہے۔ مذکورہ مضمون نگار نے ایٹم کی ساخت کو لے کر اِسی معاملے کی ایک سائنسی مثال دی ہے۔ اِس لیے جہاں تک کائنات میں نظم کا سوال ہے،یہ ہر فریق کے نزدیک، ایک مسلّم حقیقت ہے۔

عقلی موقف کے اعتبار سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ نظم کا تصور ناظم کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جہاں نظم ہے، وہاں یقینا اس کا ایک ناظم موجود ہے۔ ناظم کے بغیرنظم کا تصور عقلی اعتبار سے محال ہے۔ نظم کی موجودگی ایک مجبورانہ منطق (compulsive logic) پیدا کرتی ہے، یعنی کسی بھی عذر کے بغیر ناظم کی موجودگی کا اقرار کرنا۔ کسی کے ذہن میں ناظم کی موجودگی کی توجیہ نہ ہونا، اُس کو یہ منطقی جواز نہیں دیتا کہ وہ ناظم کی موجودگی کا انکار کردے۔

ایٹم کے ڈھانچے کی مثال لے کر مضمون نگار نے جو بات کہی ہے، وہی اِس دنیا کی ہر چیز کے بارے میں درست ہے۔ اِس دنیا کا ہر جُز، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، وہ اِس قدر محکم اور متناسب ہے کہ اس کے ڈھانچے میں کوئی بھی تغیر سارے نظام عالم کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔

مثال کے طورپر ہمارے سیارۂ زمین میں جو کشش (gravity) ہے، وہ آخری حد تک ہماری ضرورتوں کے مطابق ہے۔ اگر زمین کی کشش نصف کے بقدر زیادہ ہوجائے، یا نصف کے بقدر کم ہوجائے تو دونوں حالتوں میں سیارۂ زمین پر انسانی تہذیب کا بقاناممکن ہوجائے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلا میں ہمارے دو قریبی پڑوسی ہیں— سورج اور چاند۔ اگر ایسا ہو کہ سورج وہاں ہوجہاں آج چاند ہے، اور چاند وہاں ہو جہاں آج سورج ہے، تو زمین پر انسانی زندگی تو درکنار خود زمین جل کر ختم ہوجائے گی۔

ہماری زمین پر تمام چیزیں اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں۔ لیکن درخت کا معاملہ استثنائی طورپر یہ ہے کہ اس کی جڑیں تو زمین میں نیچے کی طرف جاتی ہیں اور اس کا تنا اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ درخت میں یہ دو طرفہ خصوصیت نہ ہو تو اس کے بعد زمین کی سطح پر ہرے بھرے درختوں کا خاتمہ ہوجائے گا، وغیرہ۔

ذہین کائنات

کائنات میںاَن گنت چیزیں ہیں، اور ہر چیز مرکّب(compound) کی صورت میں ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایٹم، کائنات کا ایک ایسا واحدہ ہے، جو مفرد(single)  ہے، اور غیرمرکب حالت میں ہے۔ مگر آئن سٹائن کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیاتو معلوم ہوا کہ اٹیم بھی مرکب ہے، وہ کوئی مفرد چیز نہیں۔

دورِ جدید میں ہر چیز کا سائنسی مطالعہ کیا گیاہے۔ اِس مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چیزیں جن اشیا سے ترکیب پاکر بنتی ہیں، ان کی ترکیب کے لیے ہمیشہ بہت سے آپشن (options) موجود ہوتے ہیں، مگر سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ نیچر ہمیشہ یہ کرتی ہے کہ بہت سے آپشن میں سے اُسی ایک آپشن کو لیتی ہے، جو کائنات کی مجموعی اسکیم کے عین مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اِس دنیا کی ہر چیز بالکل پرفیکٹ نظر آتی ہے، اِس دنیا کی ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔

یہ اصول جو کائنات میں رائج ہے، اُس کو ایک لفظ میں ذہین انتخاب(intelligent selection) کہہ سکتے ہیں۔ کائنات میں بلین، ٹریلین سے بھی زیادہ چیزیں موجود ہیں، لیکن ہرچیز بلااستثنا اِسی ذہین انتخاب کی مثال ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ ایک سائنس داں ڈاکٹر فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے اِسی موضوع پر ایک کتاب تیار کر کے شائع کی ہے، اُس کا نام ہے— ذہین کائنات (The Intelligent Universe)۔ یہ کتاب ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے، اور 1983میں لندن سے چھپی ہے۔

کائنات کا یہ ظاہرہ (phenomenon) کوئی سادہ بات نہیں، وہ خدا کے وجود کا ایک حتمی ثبوت ہے۔ کائنات کی بناوٹ میں ذہانت (intelligence) کی موجودگی واضح طورپر ایک اور بات ثابت کرتی ہے۔ ذہین تخلیق (intelligent creation) واضح طورپر ذہین خالق (intelligent creator)  کا ثبوت ہے۔ منطقی طورپر یہ ناقابلِ قیاس ہے کہ یہاں ذہین عمل موجود ہو، لیکن ذہین عامل یہاں موجود نہ ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے بلاشبہ لازم اور ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ذہین عمل کو ماننے کے بعد ذہین عامل کو نہ ماننا، ایسا ہی ہے جیسے ایک پیچیدہ مشین کو ماننے کے بعد اُس کے انجینئر کو نہ ماننا۔ ڈاکٹر فریڈ ہائل نے اپنی کتاب میںدرست طورپر لکھا ہے کہ سائنس کے ابتدائی دور میں مسیحی چرچ نے سائنس دانوں کے خلاف جو متشددانہ کارروائی کی، وہ ابھی تک لوگوں کو یاد ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر وہ یہ اعلان کردیں کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین خالق کے وجود کا ثبوت مل رہا ہے تو قدیم مذہبی تشدد(religious connotation) شاید دوبارہ واپس آجائے گا۔ مگر یہ ایک بے بنیاد خوف ہے۔ ذہین خالق کے سائنسی اعتراف کے بعد جوچیز تاریخ میںواپس آئے گی، وہ سچاخدائی مذہب ہے، نہ کہ مسیحی چرچ۔

دو انتخاب(options)

کائنات میں جو غیر معمولی نظم اور تناسب پایا جاتا ہے، اس کی توجیہ کے لیے ہمارے پاس دو انتخاب (options) ہیں۔ ایک، یہ کہ کائنات اپنی ناظم آپ ہے۔ مگر سائنس کی تمام تحقیقات اِس کی تردید کرتی ہیں۔ اِس لیے کہ سائنس نے کائنات میں جس نظم کو دریافت کیا ہے، وہ مکمل طور پر ایک ذہین نظم(intelligent design) ہے۔ دوسری طرف سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ خود کائنات کے اندر سب کچھ ہے، لیکن وہی چیز اس کے اندر موجود نہیں، جس کو ذہانت (intelligence)کہاجاتا ہے۔ سائنس کی دریافت کردہ کائنات، بیک وقت کامل طورپر منظم (designed)ہے، اور اسی کے ساتھ وہ کامل طورپر غیرذہین (non-intelligent)ہے۔ ایسی حالت میں کائنات کو اپنے نظم کا خود ناظم سمجھنا، ایسا ہی ہے جیسے پتھر کے اسٹیچو کے بارے میں یہ فرض کرلیا جائے کہ اس نے اپنی بامعنیٰ ڈزائن خود تیار کی ہے۔ وہ ایک خود تخلیقی وجود (self-created being) ہے۔

اِس کے بعد ہمارے پاس کائنات کی توجیہ کے لیے صرف ایک آپشن باقی رہتا ہے، اور وہ یہ کہ ہم ایک خارجی ایجنسی(outside agency) کو کائنات کے نظم کا سبب قرار دیں۔ اِس ایک انتخاب کے سوا، کوئی دوسرا انتخاب ہمارے لیے عملی طورپر ممکن نہیں۔

 حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے میں ہمارے لیے بے خدا کائنات اور با خدا کائنات کے درمیان انتخاب نہیں ہے، بلکہ با خدا کائنات (universe with God) اور غیر موجود کائنات (no universe at all)   کے درمیان انتخاب ہے۔ یعنی ہم اگر خدا کا انکار کریں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چوںکہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کرسکتے، اِس لیے ہم مجبور ہیں کہ ہم خدا کے وجود کو تسلیم کریں۔

واحد انتخاب

عقلی اصولوں میںسے یہ ایک اصول ہے کہ جب ایسی صورتِ حال ہو کہ عملی طور پر ہمارے لیے صرف ایک ہی انتخاب ممکن ہو تو اُس وقت ہمارے لیے ایک مجبور کن صورتِ حال (compulsive situation)پیدا ہوجاتی ہے، یعنی ہم مجبور ہوتے ہیں کہ اُس ایک انتخاب کو لے لیں۔ اِس کے خلاف کرنا، صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہاں ایک سے زیادہ انتخاب موجود ہوں۔ لیکن جب ایک کے سوا کوئی دوسرا انتخاب سرے سے موجود ہی نہ ہو تو اُس وقت لازم ہوجاتا ہے کہ ہم اِسی واحد انتخاب کو قبول کرلیں۔ زیرِ بحث مسئلے میں یہ واحدانتخاب خدا کے وجود کو بطور واقعہ تسلیم کرنا ہے، کیوں کہ یہاں اقرارِخدا کے سوا کوئی اور انتخاب ہمارے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔

منطقی استدلال

کسی بات کو عقلی طورپر سمجھنے کے لیے انسان کے پاس سب سےبڑی چیز منطق (logic) ہے۔ منطق کے ذریعے کسی بات کو عقلی طورپر قابلِ فہم بنایا جاتا ہے۔ منطق کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک ہے، انتخابی منطق(optional logic)  اور دوسری ہے، مجبورانہ منطق (compulsive logic)۔ منطق کے یہ دونوں ہی طریقے یکساں طورپر قابلِ اعتماد ذریعے ہیں۔ دونوں میں سے جس ذریعے سے بھی بات ثابت ہوجائے، اس کو ثابت شدہ مانا جائے گا۔

انتخابی منطق

انتخابی منطق وہ ہے جس میں آدمی کے لیے کئی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا موقع ہو۔ اِس قسم کے معاملے میںہمارے پاس ایسے ذریعے ہوتے ہیں، جن کو اپلا ئی کرکے ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ کئی میں سے صرف ایک کا انتخاب کریں، اور بقیہ کو چھوڑ دیں۔

 مثلاً سورج کی روشنی کو لیجیے۔ آنکھ سے دیکھنے میں سورج کی روشنی صرف ایک رنگ کی دکھائی دیتی ہے، لیکن پِرزم (prism) سے دیکھنے میں سورج کی روشنی سات رنگوں میں بٹ جاتی ہے۔ اِس طرح سورج کی روشنی کے رنگ کے بارے میں ہمارے پاس دو انتخاب (options) ہوگئے۔ اب ہمارے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ دونوں میں سے جس انتخاب میں منطقی وزن زیادہ ہو، ہم اس کو لیں۔ چنانچہ اِس معاملے میں سات رنگوں کے نظریے کو مان لیاگیا۔ کیوں کہ وہ زیادہ قوی ذریعے سے ثابت ہورہا تھا۔

مجبورانہ منطق

مجبورانہ منطق کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ مجبورانہ منطق میں آدمی کے پاس صرف ایک کا انتخاب (option)  ہوتاہے۔ آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اُس ایک انتخاب کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اس میں ایک کے سوا کوئی اور انتخاب سرے سے ممکن ہی نہیں ہوتا۔ مجبورانہ منطق کے معاملے میں صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو لازمی طورپر ماننا بھی ہے، اور ماننے کے لیے اس کے پاس ایک انتخاب کے سوا کوئی دوسرا انتخاب موجود نہیں۔

مجبورانہ منطق کی ایک قریبی مثال ماں کی مثال ہے۔ ہر آدمی کسی خاتون کو اپنی ماں مانتا ہے۔ وہ مجبور ہے کہ ایک خاتون کو اپنی ماں تسلیم کرے۔ حالاں کہ اُس نے اپنے آپ کو اُس خاتون کے بطن سے پیدا ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اِس کے باوجود وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ ماں مانتا ہے۔ یہ ماننا، مجبورانہ منطق کے اصول کے تحت ہوتا ہے۔ ایسا وہ اِس لیے کرتا ہے کہ اِس معاملے میںاُس کی پوزیشن یہ ہے کہ اس کو ایک خاتون کو ہر حال میں اپنی ماں ماننا ہے۔ اِسی لیے وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ اپنی ماں تسلیم کرلیتا ہے۔ کیوں کہ اِس کیس میں اُس کے لیے کوئی دوسرا انتخاب (option) موجود نہیں۔

خدا کے وجود کو ماننے کا تعلق بھی اِسی قسم کی مجبورانہ منطق سے ہے۔ خدا کے وجود کے پہلو سے اصل قابلِ غور بات یہ ہے کہ اِس معاملے میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہی نہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو مانیں۔ کیوں کہ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں کائنات کے وجود کی، اور خود اپنے وجود کی نفی کرنی پڑے گی۔ چوں کہ ہم اپنی اور کائنات کے وجود کی نفی نہیں کرسکتے ، اِس لیے ہم خدا کے وجود کی بھی نفی نہیں کرسکتے۔

انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت

وسیع کائنات میں صرف انسان ہے، جو خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ حالاں کہ انسان کا خود اپنا وجود، خدا کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر انسان جیسی ایک ہستی یہاں موجود ہے تو خدا بھی یقینی طورپر موجود ہے۔ انسان کے اندر وہ تمام صفتیں ناقص طورپر موجود ہیں، جو خدا کے اندر کامل طورپر موجود ہیں۔ اگر ناقص ہستی کا وجود ہے تو کامل ہستی کا بھی یقینی طورپر وجود ہے۔ ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننا، ایک ایسا منطقی تضاد ہے، جس کا تحمل کوئی بھی صاحبِ عقل نہیں کرسکتا۔

ڈیکارٹ (Rene Descartes) مشہور فرنچ فلسفی ہے۔ وہ 1596 میں پیدا ہوا، اور 1650  میںاس کی وفات ہوئی۔ اس کے سامنے یہ سوال تھا کہ انسان اگر موجود ہے تو اس کی موجودگی کا عقلی ثبوت کیا ہے۔ لمبے غور وفکر کے بعد اس نے اس سوال کا جواب اِن الفاظ میں دیا— میںسوچتا ہوں ، اِس لیے میں ہوں:

I think, therefore I exist.

ڈیکارٹ کا یہ جواب منطقی اعتبار سے ایک محکم جواب ہے۔ مگر یہ منطق، جس سے انسان کا وجود ثابت ہوتا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ بڑی بات کو ثابت کررہی ہے، اور وہ ہے خدا کے وجود کا عقلی ثبوت۔ اِس منطقی اصول کی روشنی میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا — سوچ کا وجود ہے، اِس لیے خدا کا بھی وجود ہے:

Thinking exists; therefore God exists.

سوچ ایک مجرد (abstract)  چیز ہے۔ جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں، وہ اِسی لیے خدا کا انکار کرتے ہیں کہ خدا انھیں ایک مجرد تصور معلوم ہوتا ہے، اور مجرد تصور کی موجودگی ان کے لیے ناقابلِ فہم ہے، یعنی ایک ایسی چیز کو ماننا جس کا کوئی مادّی وجود نہ ہو۔ لیکن ہر انسان سوچنے والی مخلوق ہے۔ خود اپنے تجربے کی بنیاد پر ہر آدمی سوچ کے وجود کو مانتا ہے۔ حالاں کہ سوچ مکمل طورپر ایک مجرد تصور ہے، یعنی ایک ایسی چیز جس کا کوئی مادّی وجود نہیں۔

اب اگر انسان ایک قسم کے مجرد تصور کے وجود کو مانتا ہے تو اُس پر لازم آجاتا ہے کہ وہ دوسری قسم کے مجرد تصور کے وجود کو بھی تسلیم کرے۔ یہ بلاشبہ خدا کے وجود کا ایک ایسا ثبوت ہے، جس کا تجربہ ہر آدمی کرتا ہے، اور جس کی صحت کو ہر آدمی بلا اختلاف مانتا ہے۔ اگر سوچ کے وجود کا انکار کردیا جائے تو اس کے بعد یقینی طورپر انسان کے وجود کا اور خود اپنے وجود کا انکار کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی آدمی اپنے وجود کا انکار نہیں کرسکتا، اس لیے کسی بھی آدمی کے لیے منطقی طورپر یہ ممکن نہیںکہ وہ خدا کے وجود کا انکار کرے۔

خدا کا غیر مرئی (invisible)ہونا، اِس بات کے لیے کافی نہیں کہ خدا کے وجود کا انکار کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر مرئی ہونے کی بنا پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ماڈرن سائنس کے زمانے میں ایک خلافِ زمانہ استدلال (anachronistic argument) ہے۔ اس لیے کہ آئن سٹائن (وفات 1955) کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا ،اور علم کا دریا عالم صغیر (microworld) تک پہنچ گیا تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں ہر چیز غیر مرئی ہے۔ پہلے جو چیزیں مرئی (visible)سمجھی جاتی تھیں، اب وہ سب کی سب غیر مرئی(invisible) ہوگئیں۔ ایسی حالت میں عدم رُویت کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ایک غیر علمی موقف بن چکا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے حسب ذیل دو کتابوں کا مطالعہ کافی ہے:

Science and the Unseen World, by Sir Arthur Eddington

Human Knowledge, by A. W. Bertrand  Russel

خلائی مشاہدہ

موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں، اُن میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو خلائی سفر کہاجاتا ہے۔ بہت سے لوگ راکٹ کے ذریعے خَلا میں گئے، اور وہاں سے مخصوص دور بینوں کے ذریعے انھوں نے زمین کا مطالعہ کیا۔ اِن لوگوں نے اپنے خلائی مشاہدے کی بنیاد پر بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔

اُن میں سے ایک بات یہ ہے کہ ایک خلا باز نے کہا کہ خلائی سفر کے دوران انھوںنے یہ تجربہ کیا کہ وسیع خلا میں کہیں بھی زمین جیسا کوئی کُرہ موجود نہیں۔ زمین پر لائف ہے، اور اُسی کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر لائف سپورٹ سسٹم (life-support system) بھی۔ یہ دونوں چیزیں زمین پر انتہائی موزوں اور متناسب اندازمیں پائی جاتی ہیں۔ ایک خلاباز نے زمین کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا— صحیح قسم کا سامان صحیح جگہ پر:

Right type of material at the right place.

زمین کی یہ انوکھی صفت ہے کہ یہاں زندگی پائی جاتی ہے، یہاں چلتا پھرتا انسان موجود ہے، مگر اِس قسم کی زندگی کی موجودگی کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس کے لیے دوسرے اَن گنت اسباب درکار ہیں۔ اِن اسباب کے بغیر زندگی کا وجود اور بقا ممکن نہیں۔ زمین، اِس اعتبار سے وسیع کائنات میں ایک انوکھا استثنا ہے۔ یہاں استثنا ئی طورپر انسان موجود ہے اور اسی کے ساتھ یہاں اس کے وجود اور بقا کے لیے انتہائی متناسب انداز میں تمام سامانِ حیات موجود ہے۔

وسیع کائنات میں یہ بامعنیٰ استثنا بلا شبہ ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت ہے، اور جہاں ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت موجود ہو، وہاں ایک صاحبِ ارادہ اور ایک صاحبِ تخلیق ہستی کا وجود اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے۔

زمین ایک استثنا

ایک شخص اگر کائنات کا سفر کرکےپوری کائنات کا مشاہدہ کرے تو وہ پائے گا کہ وسیع کائنات پوری طرح ایک غیر ذی روح (lifeless) کائنات ہے۔ اُس میں اتھاہ خلا ہے، دہشت ناک تاریکی ہے، اُس کے اندر پتھر کی چٹانیں ہیں، آگ کے بہت بڑے بڑے گولے ہیں، اور یہ سب چیزیں دیوانہ وار مسلسل حرکت میں ہیں۔

اِس پُر ہیبت منظر سے گذر کر جب وہ سیارۂ زمین پر پہنچتا ہے تو یہاں اس کو ایک حیران کُن استثنا نظر آتا ہے۔ یہاں استثنائی طورپر پانی ہے، سبزہ ہے، حیوانات ہیں، زندگی ہے، عقل و فہم کے پیکر انسان ہیں، پھر یہاں حیرت ناک طورپر وہ موافقِ حیات چیز موجود ہے، جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہاجاتا ہے۔ یہاںایک مکمل تہذیب (civilization)  موجود ہے، جو وسیع کائنات میں کہیں بھی سرے سے موجود نہیں، یعنی بظاہر ایک انتہائی بے معنی کائنات میںایک انتہائی بامعنیٰ دنیا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وسیع کائنات میں سیارۂ زمین ایک انتہائی نادر استثنا ہے۔ یہ استثنا کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک عظیم حقیقت کا مشاہداتی ثبوت ہے، اور وہ ہے قادرِ مطلق خدا کا ثبوت — استثنا مداخلت کو ثابت کرتا ہے اور مداخلت بلا شبہ مداخلت کار کا ثبوت ہے، اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہوجائے تو اس کے بعد خدا کا وجود اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے:

Exception proves intervention and intervention proves intervenor and when the existence of intervenor is proved, the existence of God is also proved.

سَفرِنگ کا مسئلہ

خدا کے وجود پر شک کرنے کے لیے جو باتیں کہی جاتی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو پرابلم آف اِوِل(problem of evil) یا سفرنگ (suffering) کہاجاتا ہے۔ یہ اعتراض صرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے، وہ یہ کہ انسانی زندگی میں جو سفرنگ ہے، وہ تمام تر مین میڈ (man-made) ہے، مگر اس کو غلط طور پر گاڈ میڈ(God-made) سمجھ لیاگیا ہے۔ انسانی زندگی میںسفرنگ کے حوالے سے جو کچھ کہاجاتا ہے، وہ اِسی غلط انتساب کا نتیجہ ہے۔

اِس غلط فہمی کااصل سبب یہ ہے کہ لوگ جب کسی انسان کی زندگی میں سفرنگ (suffering)  کے واقعے کو دیکھتے ہیں تو وہ اُسی مبتلاانسان کے حوالے سے اُس کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں۔ چوں کہ اکثر مثالوں میں خود اُسی مبتلا انسان کے اندر اس کی توجیہ نہیں ملتی، اس لیے اس سفرنگ کو لے کر وہ یہ کہنے لگتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، یا اگر خدا ہے تو وہ ظالم اور غیر منصف خدا ہے، مگر یہ انتساب بجائے خود غلط ہے۔

 انسان کی زندگی میں جوسفرنگ پیش آتی ہے، اس کا سبب کبھی انسان خود ہوتا ہے اور کبھی اس کے والدین ہوتے ہیں اور کبھی اس کا سبب وہ سماج ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہے اور کبھی وسیع تر معنوں میں اجتماعی نظام اُس کا ذمے دار ہوتا ہے۔ اِسی کے ساتھ کبھی کوئی سفرنگ فوری سبب سے پیش آتی ہے اور کبھی اس کے اسباب پیچھے کئی پشتوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔

غلط ریفرنس میں مطالعہ

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ شبہے کا سبب، اصل صورتِ حال کا غلط ریفرنس میںمطالعہ ہے، یعنی جس ظاہرے (phenomenon)کو انسان کی نسبت سے دیکھنا چاہیے، اُس کو خدا کی نسبت سے دیکھنا۔ حالاں کہ یہ سائنسی حقائق کے سرتا سر خلاف ہے۔

مثال کے طورپر موجودہ زمانے میں ایڈز(AIDS) کا مسئلہ ایک خطرناک مسئلہ سمجھاجاتا ہے۔ مگر خود طبّی تحقیق کے مطابق، یہ انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ میڈیکل سائنس میں یہ مستقل نظریہ ہے کہ کئی بیماریاں اَجداد سے نسلی طورپر منتقل ہوتی ہیں۔ ایسی بیماریوں کو اجدادی بیماری (atavistic disease) کہاجاتا ہے۔ اِسی طرح مختلف قسم کی وبائیں پھیلتی ہیں، جس میں ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں، یا خرابیٔ صحت کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بھی خود طبی تحقیق کے مطابق، انسان کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔

دہلی میں معروف شخصیت ڈاکٹر اَرُن شوری کے صاحب زادے مفلوج ہو کر وھیل چیئر پر رہتے ہیں۔ اِس ’’سفرنگ‘‘ کا سبب بھی یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں امریکا کے ایک اسپتال میں اُن کو غلط انجکشن لگ گیا، اِس بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے مفلوج ہوگئے۔ اِسی طرح تشدد اور جنگوں کے نتیجے میں بے شمار لوگ مرجاتے ہیں یاناکارہ ہوجاتے ہیں، یہ سب بھی انسانی کارروائیوں کی بنا پر ہوتاہے، وغیرہ۔

واقعہ یہ ہے کہ انسانی سفرنگ کو نیچر سے منسوب کرنا، سرتاسر ایک غیر علمی بات ہے۔ سائنس کی تمام شاخوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نیچر مکمل طورپر خرابیوں سے پاک ہے۔ نیچر اِس حد تک محکم ہے کہ اس کی کارکردگی کے بارے میں پیشگی طورپر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر نیچر کے اندر قابل پیشین گوئی کردار نہ ہو تو سائنس کی تمام سرگرمیاں اچانک ختم ہوجائیں گی۔

تقابلی مطالعہ

پرابلم آف اِوِل کے اِس معاملے کا علمی مطالعہ کرنے کا پہلا اصول وہ ہے، جس کو تقابلی طورپر سمجھنا (it is in comparison that we understand) کہاجاتا ہے۔ تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ محدودطورپر صرف انسانی دنیا کا مسئلہ ہے، جب کہ انسان پوری کائنات کے مقابلے میں ایک بہت ہی چھوٹے جُز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (zero-defect universe) ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہر آن جاری رہتی ہیں، لیکن اُس میں کہیں بھی کوئی خرابی(evil) دکھائی نہیں دیتی۔

انسانی دنیا میں بیماریاں ہیں، انسانی دنیا میں حادثات ہیں، انسانی دنیا میں ظلم ہے، انسانی دنیا میں کرپشن ہے، انسانی دنیا میںبے انصافی ہے، انسانی دنیا میں استحصال ہے، انسانی دنیا میں لڑائیاں ہیں، انسانی دنیا میں نفرت اور دشمنی ہے، انسانی دنیامیں سرکشی ہے، انسانی دنیا میں فسادات ہیں، انسانی دنیا میں جرائم ہیں، اِس قسم کی بہت سی برائیاں انسانی دنیامیں پائی جاتی ہیں، لیکن انسان کے سوا، بقیہ کائنات اِس قسم کی برائیوں سے مکمل طورپر خالی ہے۔ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کہ بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) خود انسان کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ فطرت کا پیدا کردہ۔اگر یہ مسئلہ فطرت کا پیدا کردہ مسئلہ ہوتا تو وہ بلا شبہ پوری کائنات میں پایا جاتا۔

سائنٹفک مطالعہ

اس معاملے کا سائنٹفک مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی دنیا اور بقیہ کائنات میں ایک واضح فرق ہے، وہ یہ کہ بقیہ کائنات حتمی قسم کے قوانینِ فطرت سے کنٹرول ہورہی ہے۔ اِس کے برعکس، انسان آزاد ہے اور وہ خود اپنی آزادی سے اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ یہی فرق دراصل اُس چیز کا اصل سبب ہے، جس کو بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتا ہے۔

اِس معاملے کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی دنیا کی تمام بُرائیاں، انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہیں۔ میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ بیماریوں کا سبب نیچر میں نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی اپنی غلطیوں میں ہے۔ یہ غلطیاں کبھی مبتلا شخص کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں، کبھی باپ دادا کی وراثت اس کا سبب ہوتی ہے، کبھی اجتماعی نظام کا کرپشن بیماریوں کے اسباب پیداکرتا ہے۔ یہ بات بے حد قابلِ غور ہے کہ بیماری کو نیچر سے جوڑنا ملحد مفکرین کا نظریہ ہے، وہ کسی سائنٹفک دریافت پر مبنی نہیں۔اِسی طرح لڑائیاں، گلوبل وارمنگ، مختلف قسم کی کثافت، فضائی مسائل (ecological problems) وغیرہ، سب کے سب انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہیں۔

خدا کا تخلیقی پلان

خالق نے انسان کویہ آزادی (freedom)کیوں دی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق نے چاہا کہ وہ انسان کو ایک عظیم انعام دے۔ یہ عظیم انعام جنت ہے، جو ابدی خوشیوں کی جگہ ہے۔ جنت میں جگہ پانے کا حق دار صرف وہ شخص ہوگا، جو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے۔ جو آزاد ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ڈسپلن اور کنٹرول میں رکھے۔جہاں آزادی ہوگی، وہاں آزادی کاغلط استعمال بھی ہوگا۔ لیکن آزادی اتنی زیادہ قیمتی چیز ہے کہ کسی بھی اندیشے کی بنا پر اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خدا کے تخلیقی پلان(creation plan) کو جاننا ضروری ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی دی گئی ہے۔ ایسا خدا نے امتحان کی مصلحت کے لیے کیا ہے۔ انسانی زندگی میں سفرنگ کے جو واقعات ہوتے ہیں، وہ تمام تر اسی آزادی کے غلط استعمال کے نتیجے میں ہوتے ہیں، کبھی براہِ راست طورپر اور کبھی بالواسطہ طور پر، کبھی سفرنگ میں مبتلا شخص کے ذاتی عمل کی وجہ سے اور کبھی دوسرے انسانوں کے اعمال کی وجہ سے، کبھی کسی فوری غلطی کے نتیجے کے طورپر اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسلوں کی غلطی کی بنا پراُس کا نتیجہ بعد کی نسلوں کے سامنے آتا ہے۔

کائناتی معنویت کی توجیہ

خدا کے وجود کی بحث کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق، کائنات کی معنویت (meaningfulness)  سے ہے۔ خدا کو ماننا، نہ صرف کائنات کے وجود کی توجیہ ہے، بلکہ خدا کا عقیدہ کائنات کو کامل طورپر بامعنیٰ(meaningful) بنا دیتا ہے۔ خدا کو نہ ماننے کا مطلب یہ ہے کہ بامعنیٰ کائنات ایک بے معنیٰ انجام پر ختم ہوجائے۔ جب کہ خدا کو ماننا، یہ بتاتا ہے کہ کائنات آخر کار ایک بامعنیٰ انجام پر پہنچنے والی ہے۔

انسان کے اندر پیدائشی طورپر انصاف اور بے انصافی کاتصور پایا جاتا ہے۔ انسان پیدائشی طورپر یہ چاہتا ہے کہ جو شخص انصاف کے اصولوں کے تحت زندگی گذارے، اُس کو انعام ملے، اور جو شخص ناانصافی کا طریقہ اختیار کرے، اس کو سزا دی جائے۔ اِس فطری تقاضے کی تکمیل صرف باخدا کائنات (universe with God)  کے نظریے میں ملتی ہے، بے خدا کائنات (universe without God)  کے نظریے میں اِس فطری تقاضے کا کوئی جواب نہیں۔

ہر انسان پیدائشی طورپر اپنے اندر خواہشوں کا سمندر لیے ہوئے ہے۔ موجودہ دنیا میں اِن خواہشوں کی تکمیل (fulfillment) ممکن نہیں۔ بے خدا کائنات کے نظریے میں انسان کے لیے یہ حسرت ناک انجام مقدر ہے کہ اس کی فطری خواہشیں کبھی پوری نہ ہوں۔ لیکن باخدا کائنات کے نظریے میں یہ امکان موجود ہے کہ آدمی اپنی خواہشوں کی کامل تسکین، بعد از موت کے مرحلۂ حیات میں پالے۔

وقت کا شعور

انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ٹائم کانشش مخلوق ہے۔ وہ اپنے وقت کو حال اور مستقبل میں بانٹ کردیکھتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر آدمی کو اپنی زندگی میں صرف حال (present)   ملتا ہے۔ ہر آدمی اپنے مستقبل سے محروم ہوکر مایوسی کی حالت میں مر جاتا ہے۔ وہ اپنے حال میں بہتر مستقبل کے لیے عمل کرتا ہے، لیکن اس کی محدود عمر میں اس کا وہ بہتر مستقبل اس کو نہیں ملتا اور وہ مایوسی کے ساتھ اِس دنیا سے چلا جاتا ہے۔

ایک بار ہم نے انٹرنیٹ پر یہ تلاش کیا کہ بڑے بڑے لوگوں میں وہ کون ہیں، جو اپنی آخری عمر میں مایوسی کا شکار ہوئے اور ڈپریشن (depression) کی حالت میں مَرے۔ اِس کے جواب میں انٹرنیٹ نے جو فہرست دی، اس میں چار سو دو بڑے بڑے اشخاص کے نام موجود تھے۔ اس کا عنوان یہ ہے:

Risk Factor Depression

کائنات کے باخدا نظریے میں انسان کے اِس فطری سوال کا جواب موجود ہے، لیکن کائنات کے بے خدا نظریے میں اِس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں۔

زَوجین کا اصول

کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز جوڑاجوڑا پیدا کی گئی ہے— منفی برقی ذرّے کا جوڑا مثبت برقی ذرہ، درخت کے پھولوں میں نر اور مادہ، حیوانات میں مذکّر اور مؤنث۔ انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔ یہ ایک کائناتی قانون ہے کہ یہاں ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرتی ہے۔

اِس لحاظ سے انسانی زندگی کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہیے، یعنی موت سے پہلے کی نامکمل زندگی کے ساتھ موت کے بعد کی کامل زندگی۔ باخدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکمیلی جوڑا موجود ہے، لیکن بے خدا کائنات کے نظریے میں اُس کایہ تکمیلی جوڑا موجود نہیں۔

آئڈیل ازم کی ناکامی

تمام فلاسفہ اور مفکرین موجودہ دنیا کو ابدی (eternal) سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اِسی موجودہ عالم میں ہم کبھی نہ کبھی اپنی مطلوب دنیا بنا لیں گے۔ آئڈیل سوسائٹی، آئڈیل ریاست، آئڈیل نظام کے تصورات اِسی فکر کے تحت پیدا ہوئے۔ ایسے تمام مفکرین اِن تصورات سے اپنی آخری عمر تک مسحور رہے۔

لوگوں کے نزدیک تہذیب (civilization) اِسی انسانی خواب کی تعبیر تھی۔ موجودہ صنعتی ترقیوں کے بعد لوگوں نے یہ سمجھا کہ تہذیبی ارتقا آخر کار اُنھیں اِس منزل تک پہنچانے والا ہے، جب کہ اِسی موجودہ دنیا میں وہ اپنی جنت تعمیر کرلیں۔ لیکن یہ تصور مکمل طورپر باطل ثابت ہوا۔

دنیا کا خاتمہ

جدید سائنس کے بانی سرآئزاک نیوٹن (وفات1727) نے 1704 میں قوانینِ طبیعی کا مطالعہ کرکے بتایا تھا کہ موجودہ دنیا 2060 میں ختم ہوجائے گی (ٹائمس آف انڈیا، 18 جون 2007)۔ اب دنیا بھر کے تمام سائنس داں خالص مشاہدات کی بنیاد پر یہ بتارہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں دنیا کا خاتمہ یقینی بن چکا ہے۔ تہذیب کا مزید ارتقا اب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔

الون ٹافلر(Alvin Toffler) کی کتاب ’فیوچر شاک‘ پہلی بار 1970میں چھپی۔ اس کتاب میں الون ٹافلر نے بتایا تھا کہ دنیا انڈسٹریل ایج سے نکل کر اب سپرانڈسٹریل ایج میں داخل ہورہی ہے۔ تہذیب کا اگلا دَور مکمل آٹومیشن (complete automation) کا دور ہوگا۔ پُش بٹن کلچر (push button culture) اِس حد تک ترقی کرے گا کہ ہر کام آٹومیٹک طورپر ہونے لگے گا۔ لیکن گلوبل وارمنگ کا مسئلہ تکمیلِ تاریخ کے بجائے خاتمۂ تاریخ (end of history) کا پیغام لے کر سامنے آگیا۔

تاریخِ انسانی کا یہ ظاہرہ بلا شبہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اِس سوال کی اطمینان بخش توجیہ صرف با خدا کائنات کے نظریے میں موجود ہے۔ بے خدا کائنات کے نظریے کے تحت، اِس ظاہرے کی کوئی اطمینان بخش توجیہ کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔

اِس طرح کی مثالیں واضح طورپر ثابت کرتی ہیں کہ بے خدا کائنات کے نظریے میں ایک بہت بڑا خلا موجود ہے، وہ یہ کہ اِس نظریے کو ماننے کی صورت میںایک انتہائی بامعنیٰ کائنات ایک انتہائی بے معنیٰ انجام پر ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔

دوسری طرف، با خدا کائنات کا نظریہ اِس نقص سے مکمل طور پر خالی ہے۔ باخدا کائنات کے نظریے کو ماننے کی صورت میںیہ ہوتا ہے کہ بامعنیٰ کائنات کا انجام ایک انتہائی بامعنیٰ مستقبل پر منتہی ہوتا ہے۔ یہ واقعہ، باخدا کائنات کے نظریے کے حق میںایک ایسی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے جو عقل اور منطق کو پوری طرح مطمئن کرنے والا ہے۔

Flaw in creationists’ argument, by Paul Davies

We will never explain the cosmos by taking on faith either divinity or physical laws. True meaning is to be found within nature. Scientists are slowly waking up to an inconvenient truth - the universe looks suspiciously like a fix. The issue concerns the very laws of nature themselves. For 40 years, physicists and cosmologists have been quietly collecting examples of all to convenient "coincidences" and special features in the underlying laws of the universe that seem to be necessary in order for life, and hence conscious beings, to exist. Change any one of them and the result would be lethal. To see the problem, imagine playing God with the cosmos. Before you is a designer machine that lets you tinker with the basics of physics. Twiddle this knob and you make all electrons a bit lighter, twiddle that one and you make gravity a bit stronger, and so on.

It happens that you need to set 30-something knobs to fully describe the world about us. The point is that some of those metaphorical knobs must be tuned precisely, or the universe would be sterile. Example: neutrons are just a tad heavier than protons. If it were the other way around, atoms could not exist, because all the protons in the universe would have decayed into neutrons shortly after the big bang. No protons, then no atomic nucleuses, and no atoms. No atoms, no chemistry, no life. Like Baby Bear's porridge in the story of Goldilocks, the universe seems to be just right for life. So what's going on? Fuelling the controversy is an unanswered question lurking at the very heart of science - the origin of the laws of physics. Where do they come from? Why do they have the form that they do? Traditionally, scientists have treated the laws of physics as simply "given," elegant mathematical relationships that were somehow imprinted on the universe at its birth, and fixed thereafter. Inquiry into the origin and nature of the laws was not regarded as a proper part of science.

Illusory impression

But the embarrassment of the Goldilocks enigma has prompted a rethink. The Cambridge cosmologist Martin Rees, president of The Royal Society, suggests the laws of physics aren't absolute and universal but more akin to local bylaws, varying from place to place on a mega-cosmic scale. A God's eye view would show our universe as merely a single representative amid a vast assemblage of universes, each with this own bylaws. Mr. Rees calls this system "the multiverse," and it is an increasingly popular idea among cosmologists. Only rarely within the variegated cosmic quilt will a universe possess bio-friendly laws and spawn life. It would then be no surprise that we find ourselves in a universe apparently customized for habitation; we would hardly exist in one where life is impossible. The multiverse theory cuts the ground from beneath intelligent design, but it falls short of a complete explanation of existence. For a start there has to be a physical mechanism to make all those universes and allocate bylaws to them. This process demands its own laws, or meta-laws. Where do they come from?

The root cause of all the difficulty can be traced to the fact that both religion and science appeal to some agency outside the universe to explain its law-like order. Dumping the problem in the lap of a pre-existing designer is no explanation at all, as it merely begs the question of who designed the designer. But appealing to a host of unseen universes and a set of unexplained meta-laws is scarcely any better. This shared failing is no surprise, because the very notion of physical law has its origins in theology. The idea of absolute, universal, perfect, immutable laws comes straight out of monotheism, which was the dominant influence in Europe at the time science as we know it was being formulated by Isaac Newton and his contemporaries. Just as classical Christianity presents God as upholding the natural order from beyond the universe, so physicists envisage their laws as inhabiting an abstract transcendent realm of perfect mathematical relationships. Furthermore, Christians believe the world depends utterly on God for its existence, while the converse is not the case. Correspondingly, physicists declare that the universe is governed by eternal laws, but the laws remain impervious to events in the universe.

Outdated Theory

I think this entire line of reasoning is now outdated and simplistic. We will never fully explain the world by appealing to something outside it that must simply be accepted on faith, be it an unexplained God or an unexplained set of mathematical laws. Can we do better? I propose that the laws are more like computer software: programmes being run on the great cosmic computer. They emerge with the universe at the big bang and are inherent in it, not stamped on it from without like a maker's mark. Man-made computers are limited in their performance by finite processing speed and memory. So too, the cosmic computer is limited in power by its age and the finite speed of light. Seth Lloyd, an engineer at MIT, has calculated how many bits of information the observable universe has processed since the big bang. The answer is one followed by 122 zeros. Crucially, however, the limit was smaller in the past because the universe was younger. Just after the big bang, when the basic properties of the universe were being forged, its information capacity was so restricted that the consequences would have been profound.

Here's why. If a law is a truly exact mathematical relationship, it requires infinite information to specify it. In my opinion, however, no law can apply to a level of precision finer than all the information in the universe can express. Infinitely precise laws are an extreme idealization with no shred of real world justification. In the first split second of cosmic existence, the laws must therefore have been seriously fuzzy. Then, as the information content of the universe climbed, the laws focused and homed in on the life-encouraging form we observe today. But the flaws in the laws left enough wiggle room for the universe to engineer its own bio-friendliness. If there is an ultimate meaning to existence, as I believe is the case, the answer is to be found within nature, not beyond it. The universe might indeed be a fix, but if so, it has fixed itself.  (Paul Davies is director of Beyond, a research center at Arizona State University, and author of The Goldilocks Enigma.)

(www.thehindu.com/todays-paper/tp-opinion/Flaw-in-creationistsrsquo-

argument/article14783277.ece [retrieved 29.05.2020])

 

خدا اور سائنس

آئن اسٹائن کے بارے میں لوگوں کے درمیان کنفیوژن (confusion)پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آئن اسٹائن کا کیس منکرِخدا (atheist) کا کیس تھا۔ کچھ دوسرے لوگ اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ مگر آئن اسٹائن کے مختلف بیانات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئن اسٹائن منکرِ خدا نہیں تھا، بلکہ وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک کی کیفیت میں مبتلا تھا۔

1945 میں امریکی بحریہ کے ایک جونیر افسر گائے رینر(Guy Raner) نے خط کے ذریعے آئن اسٹائن سے سوال کیا تھا — کیا آپ ڈکشنری کے مفہوم کے اعتبار سے، منکرِ خدا ہیں، یعنی وہ آدمی جو خدا کے وجود میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ اِس کے جواب میں آئن اسٹائن نے لکھا کہ آپ مجھ کو لاادریہ کہہ سکتے ہیں، مگر میں پروفیشنل قسم کے منکرِ خدا سے اتفاق نہیں رکھتا:

In 1997, Skeptic, a hard unbelief science magazine, published for the first time a series of letters Einstein exchanged in 1945 with a junior officer in the US navy named Guy Raner on the same topic. Raner wanted to know if it was true that Einstein converted from atheism to theism when he was confronted by a Jesuit priest with the argument that a design demands a designer and since the universe is a design there must be a designer. Einstein wrote back that he had never talked to a Jesuit priest in his life but that from the viewpoint of such a person, he was and would always be an atheist. He added it was misleading to use anthropomorphical concepts in dealing with things outside the human sphere and that we had to admire in humility the beautiful harmony of the structure of this world as far as we could grasp it. But Raner persisted.''Are you from the viewpoint of the dictionary,''  he wrote back, ''an atheist, one who disbelieves in the existence of a God, or a Supreme Being.’’  To this Einstein replied: ‘‘You may call me an agnostic, but I do not share the crusading spirit of the professional atheist whose fervour is mostly due to a painful act of liberation from the fetters of religious indoctrination received in youth.’’ (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012)

عقیدۂ خدا کے بارے میں آئن اسٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً تمام سائنس دانوں کا ہے۔ خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں، یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو ،اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں۔

یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے۔ مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے۔ اِس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طورپر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کرسکتاہے۔ لیکن تخلیقات میں خالق کی جو نشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں۔

اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادّی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طورپر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں، جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں۔ مثلاً معنويت، ڈزائن، ذہانت اور بامقصد پلاننگ، وغیرہ۔ مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گویا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے۔خدا کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابلِ انطباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کررہی ہے، انکارِ خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرارِ خدا کے نظریے کی تصدیق۔اِس اصولِ استدلال کو سائنس میںویری فکیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے۔

سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصولِ مطابقت(principle of compatibility) کہا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظریہ جو بذاتِ خود قابلِ مشاہدہ نہ ہو، لیکن وہ مشاہدۂ کے ذریعے دریافت کردہ معلومات سے مطابقت رکھتا ہو، تو اِس بالواسطہ شہادت کی بنا پر اِس نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا جائے گا۔ جس نظریے کے حق میں اِس قسم کی مطابقت موجود ہو، اس کو بالواسطہ تصدیق کی بنا پر بطورِ حقیقت تسلیم کرلیا جائے گا۔ سائنس کے اِس اصولِ استدلال کو اگر عقیدۂ خدا کے معاملے میں منطبق کیا جائے تو اصولی طورپر خدا کا عقیدہ ایک ثابت شدہ عقیدہ بن جاتا ہے۔جو سائنس داں اپنے کیس کو لا ادریہ (agnosticism)کا کیس بتاتے ہیں، وہ شعوری یا غیرشعوری طورپر فرار کا طریقہ اختیار كيے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنے علم کے مطابق، خدا کا انکار نہیں کرسکتے، وہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کیس لا ادریہ (agnostic) کا کیس ہے۔

عقیدۂ خدا اور سائنس

خالص سائنسی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں۔ سائنس نے اپنے طریقِ مطالعہ کے ذریعے جس چیز کو دریافت کیا ہے، وہ ہے— الیکٹران (electron) اور نیوٹران (neutron) اور پروٹان(proton)۔ مگر اِسی کے ساتھ یہ واقعہ ہےکہ اب تک کسی سائنس داں نے الیکٹرانس اور نیوٹرانس اور پروٹانس کو نہیں دیکھا ہے، نہ آنکھ سے اور نہ خورد بین سے، پھر سائنس داں اُن کے وجود پر یقین کیوں رکھتے ہیں۔ سائنس داں کے پاس اِس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ہم اُن کو براہِ راست نہیں دیکھتے، لیکن ہم اُن کے اثرات (effects) کو دیکھ رہے ہیں:

Though we cannot see them, we can see their effects.

مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کاز اینڈ افیکٹ (cause and effect) کا مسئلہ نہیں ہے۔ اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں اعلی درجے کی ذہانت (intelligence)ہے۔ کائنات میں اعلی درجے کی ہم آہنگی (harmony) ہے۔ کائنات میں اعلی درجے کی منصوبہ بندی (planning) ہے۔ اس بات کو ٹاپ کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے۔ مثلاً جیمس جینز (James Hopwood Jeans, 1877-1946)، آرتھر ایڈنگٹن(Arthur Stanley Eddington, 1882-1944)، البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein, 1879-1955)، ڈیوڈ فوسٹر (David Foster) اور فریڈ ہائل (Fred Hoyle, 1915-2001)، وغیرہ۔ اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ، ایک سائنس داں کے الفاظ میں، کائنات کی جنس ،ذہن (mind-stuff) ہے:

Molecular biology has conclusively proved that the ‘‘matter of organic life, our very flesh, really is mind-stuff.’’

عقیدۂ خدا اور سائنس کے معاملے میںیہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ مذہب میں جس خدا کو بطورِ عقیدہ پیش کیاگیا تھا، وہ اگر چہ سائنس کا براہِ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طورپر عقیدۂ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدۂ خدا کے ثبوت کا ڈيٹا فراہم کردیا ہے۔سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل (actor) کو نہیں بتاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، قرآن کائنات کا جوماڈل دے رہاہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مسبّب (causative factor) کو بھی بتایا گیاہے۔ سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کررہی ہے تو منطقی طورپر اِس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے۔

خدا کا وجود

البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگرچہ ایک یہودی خاندان میں پیداہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہوگیا۔ اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا۔ اِس خط کا ایک جملہ یہ تھا— خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے:

The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses.

آئن اسٹائن نے جس چیز کو ’’انسانی کمزوری‘‘ بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلی خصوصیت ہے۔ اِس خصوصیت کو درست طورپر اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک توجیہ طلب حیوان (explanation-seeking animal)ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اِسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہ تلاش کرتاہے، اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی۔

خود آئن ا سٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران وہ ایک سوال کا سائنسی جواب پانے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ سوال آئن اسٹائن کے الفاظ میں، یونی فائڈ فیلڈ تھیوری (unified field theory)کی دریافت ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ سوال اتنا زیادہ اہم ہے کہ آج وہ تمام نظریاتی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اِس سوال کو عام طورپر تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything)کہاجاتا ہے۔

یہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا ریاضیاتی فارمولادریافت کرنا ہے، جو تمام کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہ کرسکے۔ تھیوری آف ایوری تھنگ کا مطلب ہے:

Theory that explains everything.

ایک سائنسی ادارہ (European Organization for Nuclear Research) کے تحت سوئزر لینڈ میں ایک پروجیکٹ قائم کیاگیا۔ اس کا نام يه تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider)۔ یہ پروجیکٹ 1998 میں قائم کیا گیا۔ اِس پروجیکٹ پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اِس میں دنیا کے ایک سو ملک اور دس ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں کا تعاون شامل تھا۔ اگر چہ یہ پروجیکٹ کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کو دریافت کیاجائے۔

تھیوری آف ایوری تھنگ، یا زیادہ درست طورپر، ایکسپلنیشن آف ایوری تھنگ کی تلاش پر تقریباً 90 سال گزر چکے ہیں، مگر اِس معاملے میں سائنس دانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مظاہرِ کائنات کی توجیہ خدا کے وجود کو مان کر حاصل ہوتی ہے۔ کوئی ریاضیاتی فارمولا کبھی اِس کا جواب نہیںبن سکتا۔ ریاضیاتی فارمولے میں اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس کو بجھانے کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کو اس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنا۔

 

خدا کو کس نے پیدا کیا

انسان جب رحمِ مادر (womb) کے خول میں ہوتا ہے، تو اس کو اُس وقت خول کے باہر کی دنیا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اِس خول کے باہر ایک پوری دنیا موجود ہوتی ہے، لیکن بچے کو اِس کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خود انسان کا بھی ہے۔ انسان کی تمام معلومات زمان و مکان (time and space) کے اندر تک محدود ہوتی ہیں۔ وہ زمان ومکان کے باہر کی حقیقتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا۔ برٹش فلسفی جان اسٹوارٹ مِل (وفات1873) جب نوجوانی کی عمر میں تھا، اُس وقت اس کے باپ جیمس مل (وفات1836) نے اُس سے کہا کہ خدا کا عقیدہ ایک غیر عقلی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ اگر یہ کہا جائے کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا تو سوال یہ ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا:

If God created man, who created God.

یہ بات جان اسٹوارٹ مل نے اپنی آٹو بائگریفی میں لکھی ۔ اِس کے بعد اِس بات کو برٹرنڈرسل (وفات 1970) اور جولین ہکسلے (وفات1975 ) جیسے فلاسفہ دہرانے لگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ جیمس مل کے تقریباً سو سال بعد 1916 میں البرٹ آئن اسٹائن (وفات1955) نے نظریۂ اضافیت (theory of relativity) پیش کیا۔ اِس نظریے کے تحت آئن اسٹائن نے دکھایا کہ اِس دنیا میں انسان کا ہر علم اضافی(relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔گویا آئن اسٹائن نے ثابت کیا کہ انسان کے پاس کوئی مطلق فریم آف ریفرنس موجود نہیں:

No absolute frame of reference exists.

جیمس مل کے زمانے میں انسان کا علم ایک سائنٹفک خول (scientific womb) کے اندر محدود تھا۔ آئن اسٹائن (Albert Einstein)نے سوسال بعد انسان کو اِس خول کی موجودگی کی خبر دی۔ ایسی حالت میں اب انسان کے لیے عقلی رویہ صرف یہ ہے کہ وہ بالاتر حقائق کے بارے میں اپنی علمی محدودیت (limitations) کا اعتراف کرے، نہ کہ وہ اُن کے بارے میں یقین کے ساتھ علمی بیانات دینے لگے۔

 

زیادہ عجیب، کمتر عجیب

كها جاتا هے كه خدا كي بنياد پر كائنات كي توجيه كرنا اصل مسئلے كا حل نهيں۔ كيوں كه پھر فوراً يه سوال پيدا هوتاهے كه اگر خدانے كائنات كو بناياتو خدا كو كس نے بنايا۔

مگر يه ايك غير منطقي سوال هے۔ اصل مسئله ’’بےسبب‘‘ خدا كو ماننا نهيں هے۔ بلكه دو ’’بے سبب‘‘ ميں سے ايك بے سبب كو ترجيح دينا هے۔ صورتِ حال يه هے كه همارے سامنے ايك پوري كائنات موجود هے۔ هم اس كو ديكھتے هيں۔ هم اس كا تجربه كررهے هيں۔ هم كائنات كے وجود كو ماننے پر مجبور هيں۔ ايك شخص خدا كو نه مانے، تب بھي عين اسي وقت وه كائنات كو مان رها هوتا هے۔

اب ايك صورت يه هے كه آدمي كائنات كو بے سبب مانے۔ مگر اس قسم كا عقيده ممكن نهيں۔ كيوں كه كائنات ميں تمام واقعات بہ ظاهر اسباب وعلل كي صورت ميں پيش آتے هيں۔ هر واقعے كے پيچھے ايك سبب كار فرما هے۔ اس طرح خود كائنات كي اپني نوعيت هي يه چاهتي هے كه اس كے وجود كا ايك آخري سبب هو۔ جب كائنات كے حال كا ايك سبب هے تو اس كے ماضي كا بھي لازمي طورپر ايك سبب هونا چاهيے۔ يعني وهي چيز جس كو علت العلل كها گيا هے۔

بے سبب كائنات كو ماننا ممكن نهيں، اس ليے لازم هے كه هم اس كا ايك سبب مانيں۔ كائنات لازمي طورپر اپنا ايك آخري سبب چاهتي هے۔ يهي منطق اس كو لازمي قرار ديتي هے كه هم خدا كو مانيں۔ اس لا ينحل مسئله كو حل كرنے كي دوسري كوئي بھي تدبير ممكن نهيں۔ جب هم بے سبب خدا كو مانتےهيں تو هم دو ممكن ترجيحات ميں سے آسان تر كو ترجيح ديتے هيں۔ بے سبب خدا كو مان كر هم اپنے آپ كو بے سبب كائنات كو ماننے كے ناممكن عقيده سے بچا ليتے هيں۔

خدا كو ماننا عجيب هے۔ مگر خدا كو نه ماننا اس سے بھي زياده عجيب هے۔ خدا كو مان كر هم صرف زياده عجيب كے مقابلے ميں كم عجيب كو اختيار كرتےهيں۔

يه صرف خدا كے وجود كا معامله نهيں ۔ خالص سائنسي نقطهٔ نظر سے، اس دنيا ميں كوئي بھي چيز نه ثابت(prove) كي جاسكتي، اور نه غير ثابت (disprove) كي جاسكتي۔ كسي بھي چيز كو ماننے كے معاملے ميں يهاں انتخاب (option) ثابت شده (proved) اور غير ثابت شده (unproved)كے درميان نهيں۔ بلكه هر انتخاب ورك ايبل (workable)اور نان ورك ايبل (non-workable) كے درميان هوتا هے۔

مثال كے طور پر اهلِ سائنس عام طورپر كشش (gravity)كے نظريے كو مانتے هيں۔ مگر يه ماننا اس ليے نهيں كه كشش ثقل كوئي ثابت شده نظريه هے۔ نيوٹن نے سيب كو درخت سے گرتے هوئے ديكھ كر يه سوال كيا تھا كه سيب نيچے كيوں آيا، اور پھر تحقيق كركے اس نے كششِ ارض كا نظريه دريافت كيا۔ مگر ايك سائنس داں نے كها كه نيوٹن كو اس پر تعجب هوا تھا كه سيب نيچے كيوں آيا۔ مجھے يه تعجب هے كه سيب اوپر كيسے گيا۔درخت كي جڑ نيچے كي طرف جاتي هے، اور اس كا تنه اوپر كي طرف۔ اگر جڑ كے نيچے جانے كا سبب يه بتايا جائے كه زمين ميں كشش هے تو تنه اور شاخوں كے اوپر جانے كي توجيه كس طرح كي جائے گي۔

يهي معامله تمام سائنسي نظريات كا هے۔ سائنس ميں جب بھي كسي نظريے (theory)كو مانا جاتا هے تو وه غيرثابت شده كے مقابلے ميں ثابت شده كو ماننا نهيں هوتا۔ بلكه نان ورك ايبل تھيري (non-workable theory)كے مقابلے ميں ورك ايبل تھيري (workable theory) كو ماننا هوتا هے۔ ٹھيك يهي اصول نظريهٔ خدا كے معاملے ميں بھي چسپاں هوتاهے۔

كشش كے معاملے ميں همارے ليے جو انتخاب هے وه كشش رکھنے والے ماده اور بےكشش ماده ميں نهيں هے۔ بلكه كشش رکھنے والے ماده اور غير موجود ماده ميں هے۔ چونكه غيرموجود مادے كا نظريه ورك ايبل نهيں هے۔ اس ليے هم نے كشش رکھنے والے مادہ كا انتخاب لے ركھا هے، خالص علمي اعتبار سے يهي معامله خدا كے عقيده كا بھي هے۔

كائنات كےاندر تخليق كي صلاحيت نهيں، وه اپنے اندر كے ايك ذرے كو نه گھٹا سكتي، اور نه بڑھا سكتي۔ اس ليے، دوسرے تمام سائنسي نظريات كي طرح، يهاں بھي همارے ليے انتخاب با خدا كائنات (universe with God) اور بے خدا كائنات(universe without God) ميں نهيں هے۔ بلكه با خدا كائنات اور غير موجود كائنات (non-existent universe) ميں هے۔ چونكه هم غير موجود كائنات كا انتخاب نهيں كرسكتے۔ اس ليے هم مجبور هيں كه باخدا كائنات كے نظريے كا انتخاب كريں۔

ــــــــــــــــــــــــ

ریاضیاتی ذہن

بظاہر سائنس خدا کے بارے میں غیر جانب دار ہے۔ مگر یہ غیر جانب داری سراسر مصنوعی ہے۔ سائنسی مطالعہ واضح طورپر یہ بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام ایسے محکم انداز میں بنا ہے کہ اس کے پیچھے ایک خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہ ممکن نہیں۔ سرجیمز جینز نے 1932 میںکہا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا ہے:

In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist said: ‘‘The universe appears to have been designed by a pure mathematician”. (Encyclopaedia Britannica [1984] 15/531)

سر جیمز جینز نے جو بات کہی تھی، دوسرے متعدد سائنس دانوں نے بھی مختلف الفاظ میں اس کا اقرار کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا ریاضیاتی اصولوں پر بننا، اور اس کا ریاضیاتی اصولوں پر حرکت کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا ذہن کام کررہا ہے، جو ریاضیاتی قوانین کا شعور رکھتا ہے۔

 

اللہ کی رؤیت

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جو حدیثِ جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے:أَنْ تَعْبُدَ الله كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

اس حدیث میں عبادت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اگرچہ براہِ راست اللہ کی رؤیت (دیدار)ممکن نہیں ، لیکن انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شِبہ رؤیت کے درجے میں اللہ کو پاسکے۔ رؤیت اور شِبہِ رؤیت کے درمیان اگرچہ ظاہر کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔

کسی آدمی کو اللہ کی شِبہِ رؤیت کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ اس کا طریقہ ہے اللہ کی تخلیق میں غور وفکر کرنا۔ اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے اگرچہ ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہے۔ لیکن اپنی صفات کے اعتبار سے وہ اپنی تخلیقات میں پوری طرح نمایاں ہے۔ تخلیق گویا خالق کی معرفت کا آئینہ ہے۔ جس نے تخلیق کو دیکھا، اس نے گویا خالق کو دیکھ لیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی نے آرٹ کو دیکھا تواس نے گویا آرٹسٹ کو دیکھ لیا۔

موجودہ زمانے میں اہلِ سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ یہ دریافت اپنے آپ میں بتاتی ہے کہ کائنات میں ذہن کی کارفرمائی ہے۔ایسا ہے تو یقینی طور پر یہاں کوئی صاحبِ ذہن موجود ہے۔ ذہن کی کارفرمائی سے ذہن کا وجود ثابت ہوتا ہے، اور ذہن کا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک صاحبِ ذہن ہستی موجود ہے۔ سائنس کی زبان میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذکورہ دریافت کے بعد خالق کا وجود پرابیبیلیٹی (probability)کے درجے میں ثابت ہوجاتا ہے۔

 

كون كنٹرول كرے

سرجولين هكسلے (Sir Julian Sorell Huxley, 1887-1975) كي ايك كتاب هے جس كا نام ’’مذهب بغير الهام‘‘ هے:

Julian Huxley: Religion Without Revelation (1957), Harper,  p. 393

 مصنّف نےاس كتاب ميں يه دكھانے كي كوشش كي هے كه مذهب (بمعني انساني طريقه) الهام خداوندي كي بنياد پر قائم كرنے كا دور ختم هوگيا۔ اب انسان خود اپنا مذهب بنا رها هے۔اس مذهب كي بنياد عقل (ريزن) پر هے، اور اس كا نام هيومنزم هے۔مصنف كے نقطهٔ نظر كا خلاصه اس كے ان الفاظ ميں هے — موجوده زمانے ميں انسان نے بڑي حد تك خارجي فطرت كي طاقتوں كو جاننے، ان كو كنٹرول كرنے اور ان كو استعمال كرنے كي بابت سيكھ ليا هے۔ اب اس كو خود اپني فطرت كي طاقتوں كو جاننے اور ان كو كنٹرول كرنے اور ان كو استعمال كرنے كي بابت سيكھنا هے:

Man has learnt in large measure to understand, control and utilize the forces of external nature: he must now learn to understand, control and  utilize the forces of his own nature .   

یہی موجودہ زمانے کے اعلی تعلیم یافته ملحدین کا عام نظریه ہے۔ مگر يه لفظي تك بندی کے سوا اور كچھ نهيں۔حقيقت یہ ہے کر خارجي مادے کوکنٹرول كرناجتنا ممكن تھا، اتنا هي يه ناممكن هے كه انسان خود اپني فطرت كو كنٹرول كرے۔

ماده خود اپنے آپ كو كنٹرول نهيں كرسكتا۔ اسي طرح انسان بھي خود اپنے آپ كو كنٹرول نهيں كرسكتا۔ انسان كے ليے ماده كوكنٹرول كرنا اس ليے ممكن هوا كه انسان كواپنے دماغ كي بنا پر ماده كے اوپر بالاتري حاصل تھي۔ اسي طرح انسان كو وه هستي كنٹرول كرسكتي هے، جس كو انسان كے اوپر بالاتري حاصل هو۔ كوئي بھی ہستی اپنے برابر كو كنٹرول نهيں كرسكتی— انسان کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک برتر خدا کا عقیدہ درکار ہے۔ برتر خدائی عقیدے کے سوا کوئی چیز نہیں جو انسان کو قابو میں رکھ سکے۔

 

حکمت ِ تخلیق

12 جون 2009 کو میںنے ایک خوا ب دیکھا۔ میںنے دیکھا کہ ایک شخص مجھ سے انگریزی زبان میں کچھ کہہ رہا ہے۔ دورانِ گفتگو اُس نے کہا کہ اگر خدا ہے، اور خدا نے موجودہ دنیا کو پیدا کیا ہے تو ہماری زندگی میں اتنی زیادہ سفرنگ (suffering) کیوں:

If there is a God, and God has created the world, then why there is so much suffering in our lives?

اِس خواب کا سوال مجھے یاد ہے، لیکن اس کا جواب مجھے یاد نہیں۔ تاہم میں کہوں گا کہ دنیا کی زندگی میں ہم کو جو مصیبتیں پیش آتی ہیں، وہ مصیبتیں نہیں ہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ چیلنج ہیں۔ وہ انسانی ذہن کو جگاتی ہیں۔ وہ انسان کی عملی قوتوں کو متحرک کرتی ہیں۔ یہ مصیبتیں ہمارے لیے ایک مثبت تجربہ ہیں، وہ کوئی منفی تجربہ نہیں۔

خدا کی تخلیق کے مطابق، اِس دنیا میں ہر چیز کو پوٹنشیل (potential) کے روپ میں پیدا کیاگیا ہے۔ اِس کے ساتھ انسان کو غیر معمولی دماغ دیاگیا ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی دماغی صلاحیتوں کو استعمال کرے، اور پوٹینشیل کو ایکچول (actual) میں تبدیل کرے۔

زندگی کانظام اگر اِس طرح ہو کہ یہاں آدمی کو کوئی مسئلہ پیش نہ آئے تو اس کی زندگی میں کوئی ہلچل پیدانہیں ہوگی، اس کی زندگی میںکوئی طوفان نہیں آئے گا۔ ایسا انسان ایک جامد انسان ہوگا۔ وہ حیوان کی مانند جیے گا، اور حیوان کی مانند زندگی گزار کر مرجائے گا۔ لیکن فطرت کا یہ نقشہ نہیں۔ فطرت کا مطلوب انسان وہ ہے، جو حقیقتوں کا سامنا کرے، جو ہلچل کے واقعات کو اپنی شخصیت کی مثبت تعمیر میں استعمال کرے، جو اپنی ذات میں چھپے ہوئے امکانات کو اپنی جدوجہد سے واقعہ (actual) بنائے۔ جو ناموافق حادثات کو اپنے موافق بنانے کا کارنامہ انجام دے، جو معمولی انسان کی حیثیت سے پیدا ہو، اور جب وہ مرے تو وہ ایک غیر معمولی انسان بن چکا ہو۔

 

تاريخ كے فكري مغالطے

فلسفه قياسي علوم (speculative sciences) ميں سے ايك علم هے۔ فلسفه قديم ترين شعبهٔ علم هے۔ دنياكے بڑے بڑے دماغ فلسفيانه غور وفكر ميں مشغول رهے هيں۔ ليكن لمبي تاريخ كے باوجود فلاسفه كا گروه انسان كو كوئي مثبت چيز نه دے سكا، بلكه فلسفے نے صرف انسان كي فكري پيچيدگيوں ميںاضافه كيا۔ فارسي شاعر نے بالكل درست طور پر كها هے:

فلسفي سِرِّ حقيقت نه توانست كشود           گشت رازِ دیگرآں راز كه افشامي كرد

فلسفه نے انسان كو جو چيزيں ديں، ان كو ايك لفظ ميں فكري مغالطه كهاجاسكتاهے، يعني ايسے قياسات جو حقيقتِ واقعه پر مبني نه هوں۔ افكار كي تاريخ ان مثالوں سے بھري هوئي هے۔

تمام فلسفيوں كي مشترك غلطي يه رهي هے كه هر ايك كے ذهن ميں چيزوں كا ايك معياري ماڈل (ideal model) بسا هوا تھا، جو كبھي اور كسي دور ميں حاصل نه هوسكا۔ اس كا سبب يه تھا كه فلسفيوں كا يه ماڈل دنيا كے بارے ميں خالق كے تخليقي نقشے سے مطابقت نه ركھتا تھا۔ خالق نے موجوده دنيا كو امتحان كے ليے پيدا كيا هے، نه كه انعام كے ليے۔ اسي امتحان كے ليے انسان كو آزادي دي گئي هے۔ يه امتحاني آزادي اس راه ميں ركاوٹ هے كه اس دنيا ميں كبھي كوئي معياري نظام بن سكے۔

معياري نظام صرف اس وقت بن سكتاهے جب كه تمام لوگ بغير استثنا اپني آزادي كو بالكل صحيح صورت ميں استعمال كريں، تاهم مختلف اسباب سے ايسا هونا كبھي ممكن نهيں۔ اس ليے اس دنيا ميں معياري نظام كا بننا بھي كبھي ممكن نهيں۔ تاريخ كے تمام فلسفي اس حقيقت سے بے خبر تھے۔ يهي وجه هے كه تمام فلسفي اپنے ذهني ماڈل كے مطابق، معياري نظام كا خواب ديكھتے رهے۔ مگر فطرت كے قانون كے مطابق، ان كا يه خواب كبھي پورا نه هوسكا۔ يهاں بطور نمونه چند مثاليں درج كي جاتي هيں۔

استدلال كي بنياد

  انيسوي صدي عيسوي ميں جب سائنسي مشاهدے كا طريقه دنيا ميںرائج هوا تو فلسفيوں كے اندر ايك نيا فكر پيدا هوا جس كا يه كهنا تھا كه حقيقت وهي هے جو قابلِ مشاهده (observable) هو، جو معلوم سائنسي طريقوں كے مطابق قابلِ تصديق (verifiable)هو۔ اسي سوچ كے تحت مختلف اسكول آف تھاٹ بنے۔ مثلاً انيسويں صدي كا فرنچ فلسفي آگسٹ كامٹے (Auguste Comte)كا پازيٹيو ازم (Positivism) اور بيسويں صدي كے جرمن فلاسفر رڈولف كارنيپ (Rudolf Carnap) كالاجيكل پازيٹيوازم ، وغيره۔

اس قسم كے مفكروں اور فلسفيوں نے تقريباً سو سال تك دنيا بھر كے ذهنوں كو يه يقين دلانے كي كوشش كي كه جو چيز مشاهدے ميں نه آئے وه حقيقت بھي نهيں۔ ان نظريات كے تحت وه فلسفه پيدا هوا جس كو سائنسي الحاد(scientific atheism) كها جاتاهے۔ ان نظريات كے مطابق، خدا اور مذهب كا عقيده علمي اعتبار سے بے بنياد ثابت هوگيا۔

علمي حلقوں ميں سائنسي الحاد پر چرچا جاري تھا كه خود سائنس نے اس نظريے كو بے بنياد ثابت كرديا۔ سائنس ميں يه تبديلي اس وقت آئي جب كه سائنس دانوں نے اس حقيقت كو دريافت كيا، جس كو كوانٹم ميكنكس (quantum mechanics)كهاجاتاهے۔ اس سائنسي نظريے كا ايك نتيجه يه تھا كه ايٹمي ذرات كو امواج (waves) سمجھا جانے لگا۔ اس سائنسي دريافت ميں خاص طورپر حسبِ ذيل سائنس دانوں كے نام شامل هيں:

Erwin Schrödinger (1887-1961), Albert Einstein (1879-1955), Werner Heisenberg (1901-1976), Pascual Jordan (1902-1980), Paul Dirac (1902-1084).

اس سائنسي دريافت نے قديم نيوٹینين ميكينكس كو علمي طور پر قابلِ رد قرار دے ديا۔ اب علم كا دريا عالم كبير (macro world) سے گزر كر عالم صغير (micro world)تك پهنچ گيا، يعني دكھائي دينے والي چيزوں كے علاوه نه دكھائي دينے والي چيزيں بھي علم كا موضوع بن گئيں۔

يه ايك دور رس فكري انقلاب تھا جو بيسويں صدي كے نصف اول ميں پيش آيا۔ اس كے نتيجے ميں جو نظرياتي تبديلياں هوئيں، ان ميں سے ايك اهم تبديلي يه تھي كه استدلال كا اصول (principle of reason) بدل گيا۔ اس فكري انقلاب سے پهلے يه سمجھا جاتاتھا كه جائز استدلال (valid argument) وهي هے، جو براهِ راست استدلال (direct argument) هو، يعني مشاهده اور تجربه پر مبني استدلال۔ مگر اب استنباطي استدلال (inferential argument)بھي يكساں طورپر جائز استدلال بن گيا۔ جب جوهري ذرّات (subatomic particles) ناقابلِ مشاهده هونے كے باوجود صرف استنباطي استدلال كي بنياد پر ايك سائنسي واقعه تسليم كرليے گئے تو لازمي طور پر اس كا مطلب يه بھي تھا كه استنباطي استدلال كي بنياد پر خدا كا استدلال بھي عين اسي طرح جائز سائنسي استدلال هے۔

علمائے الٰهيات خدا كے وجود پر ايك دليل وه ديتے تھے، جس كو ڈزائن سے استدلال (argument from design) كهاجاتاهے۔ يعني جب ڈزائن هے تو ضروري هے كه اس كا ايك ڈزائنر هو۔ اس استدلال كو پهلے ثانوي استدلال (secondary rationalism)مانا جاتا هے۔ مگر اب جديد سائنسي انقلاب كے بعد يه استدلال بھي اسي طرح ابتدائي استدلال (primary rationalism) كي فهرست ميں آچكا هے، جيسا كه دوسرے معروف سائنسي استدلالات۔

ڈارونزم کا نظریہ

انھيں فكري مغالطوں ميں سے ايك مغالطه وه هے جس كو ڈارونزم(Darwinism) كهاجاتا هے۔ اس فكر كو موجوده زمانے ميں بهت زياده مقبوليت حاصل هوئي هے۔ اس نظريے كے بارے ميں بے شمار كتابيں لكھيں گئيں هيں، اور تمام يونيورسٹيوں ميں اس كو باقاعده نصاب ميں داخل كيا گيا هے۔ ليكن اس كا سائنٹفك تجزيه كيجیے تو وه ايك خوب صورت مغالطے كے سوا اور كچھ نهيں۔ ڈارونزم كے نظريے كو دوسرے لفظوں ميں عضوياتي ارتقا (organic evolution)كهاجاتا هے۔

اس كا خلاصه يه هےكه بهت پهلے زندگي ايك ساده زندگي سے شروع هوئي۔ پھر توالد وتناسل كے ذريعے وه بڑھتي رهي۔حالات كے اثر سے اس ميں مسلسل تغير هوتا رها۔ يه تغيرات مسلسل ارتقائي سفر كرتے رهے۔ اس طرح ايك ابتدائي نوع مختلف انواع (species) ميں تبديل هوتي چلي گئي۔ اس لمبے عمل كے دوران ايك مادي قانون اس كي رهنمائي كرتا رها۔ يه مادي قانون ڈارون كے الفاظ ميں نيچرل سلكشن تھا۔ اس نظريے ميں بنيادي خامي يه هے كه وه دومشابه نوع كا حواله ديتاهے، اور پھر يه دعوي كرتاهے كه لمبے حياتياتي ارتقا كے ذريعے ايك نوع دوسري نوع ميں تبديل هوگئي۔ مثلاً بكري دھيرے دھيرے زرافه بن گئي، وغيره۔

يه نظريه بكر ي اور زرافه كو تو هميں دكھاتاهے، ليكن وه درمياني انواع اس كي فهرست ميں موجود نهيںهيں، جو تبديلي كے سفر كو عملی طورپر ثابت کریں۔ نظريهٔ ارتقا كے وكيل ان درمياني كڑيوں كو مسنگ لنك (missing link) كهتے هيں۔ ليكن يه مسنگ لنك صرف ايك قياسي لنك هے۔ مشاهده اور تجربه كے اعتبار سے سرے سے ان كا كوئي وجود نهيں۔

اس نظريے كي مقبوليت كا راز صرف يه تھا كه وه سيكولر اهلِ علم كو ايك كام چلاؤ نظريه (workable theory) دكھائي ديا۔ ليكن كوئي نظريه اس طرح كے قياس سے ثابت نهيں هوتا۔ كسي نظريے كو ثابت شده نظريه بنانے كے ليے ضروري هے كه اس كي پشت پر معلوم حقائق موجود هوں جو اس كي تصديق كرتے هوں، ليكن ڈارونزم كي تائيد كے ليے ايسے حقائق موجود نهيں۔ مثال كے طور پر، ڈارونزم كے مطابق، حياتیاتي ارتقا كے ليے بهت زياده لمبي مدت دركار هے۔ سائنسي دريافت كے مطابق موجوده زمين كي عمر اس كے مقابلے ميں بهت زياده كم هے۔ ايسي حالت ميں بالفرض اگر ارتقا حيات كا ڈرامه ڈارويني نظريه كے مطابق آيا هو تو وه موجوده محدود زمين كے اوپر كبھي واقع نهيں هوسكتا۔

زمين كي محدود عمر كے بارے ميں جب سائنس كي دريافت سامنے آئي تو اس كے بعد ارتقا كے وكيلوں نے يه كهنا شروع كيا كه زندگي باهر كسي اور سياره پر پيدا هوئي، پھر وهاں سے سفر كركے زمين پر آئي۔ اس ارتقائي نظريے كو انھوںنے مفروضه طورپر پينس پرميا (Panspermia) كا نام ديا۔ اب دور بينوں اور خلائي سفروں كے ذريعے خلا ميں كچھ مفروضه سياروں كي دريافت شروع هوئي۔ مگر بے شمار كوششوں كے باوجود اب تك يه مفروضه سياره دريافت نه هوسكا۔

ہیومنزم کا نظریہ

اسي قسم كا فكري مغالطه وه هے، جس كو هيومنزم (Humanism) كهاجاتا هے۔ يعني مبني بر انسان توجيه كائنات (human-based explanation of universe) ۔ اس فلسفے كے تحت خدا كے عقيدے كو حذف كركے صرف انسان كي بنياد پر زندگي كي توجيه كي جاتي هے۔ اس نظريے كا خلاصه ان الفاظ ميں بيان كيا جاتا هے— خدا سے انسان کو سیٹ کا منتقل ہونا:

Transfer of seat from God to man.

اس نظريے كي حمايت ميں بيسويں صدي عيسوي ميں بهت سي كتابيں لكھي گئيں۔انھيں ميں سے ايك كتاب وه هے، جو انگريز فلسفي جولين هكسلے (وفات1975)نے 1941 میں تيار كركے شائع كي۔ كتاب كے موضوع كے مطابق، اس كا ٹائٹل يه تھا:

Man Stands Alone.

يه كتاب پوري كي پوري صرف دعوي اور قياس پر مبني هے۔ اس ميں كوئي حقيقي دليل موجود نهيں۔ مثلاً اس ميں يه دعوى كياگيا هے كه اب انسان كو وحي كي ضرورت نهيں، اب انسان كي رهنمائي كے ليے عقل بالكل كافي هے۔مگر اس دعوي كي تائيد ميں كتاب كےاندر كوئي حقيقي دليل موجود نهيں۔ امريكي سائنس داں كريسي ماريسن (وفات1951) نے 1944 میں خالص علمي انداز ميں اس كتاب كا جواب ديا۔ يه كتاب جولين هكسلے کے دعوى كو بالكل بے بنياد ثابت كرتي هے:

Man Does not Stand Alone.

خاتمه

هسٹري آف تھاٹ كا مطالعه بتاتا هے كه افكار كے اعتبار سے انساني تاريخ كے دو دور هيں—  قبل سائنس دور (pre-scientific era) ، اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور ميں لوگوں كو اشيا كي حقيقت معلوم نه تھي، اس ليے محض قياس آرائي كے تحت چيزوں كے بارے ميں رائے قائم كرلي گئي۔ اس ليے قبل سائنس دوركو توهماتي دور (age of superstition) كها جاتا هے۔ مذكوره اعتراض دراصل اسي قديم دور كي ايك يادگار هے۔ يه اعتراض دراصل توهماتي افكار كي كنڈيشننگ كے تحت پيداهوا، جو روايتي طورپر اب تك چلا جارها هے۔

قديم توهماتي دور ميں بهت سے ايسے خيالات رائج هوگئے، جو حقيقت كے اعتبار سے بےبنياد تھے۔ سائنسي دور آنے كے بعد ان خيالات كا خاتمه هوچكا هے۔مثلاً شمسي نظام كے بارے ميں قديم جيوسنٹرك (geocentric) تھيوري ختم هوگئي، اور اس كي جگه هيليو سنٹرك (heliocentric) تھيوري آگئي۔ اسي طرح ماڈرن كيمسٹري كے ظهور كے بعد قديم آلكيمي (alchemy) ختم هوگئي۔ اسي طرح ماڈرن اسٹرانومي (astronomy) كے ظهور كے بعد قديم اسٹرالوجي (astrology) كا خاتمه هوگيا، وغيره۔ مذكوره اعتراض بھي اسي نوعيت كا ايك اعتراض هے، اور اب يقيني طورپر اس كا خاتمه هوجانا چاهيے۔

گليليو سترھويں صدي عيسوي كا اٹيلين سائنٹسٹ تھا۔ اس نے قديم ٹالمي (ptolemy)كے نظريے سے اختلاف كرتے هوئے يه كها كه زمين شمسي نظام كا سنٹر نهيں هے، بلكه زمين ايك سياره هے، جو سورج كے گرد مسلسل گھوم رها هے۔ يه نظريه مسيحي چرچ كے عقيدے كے خلاف تھا۔ اس وقت مسيحي چرچ كو پورے يورپ ميں غلبه حاصل تھا۔ چنانچه مسيحي عدالت(inquisition) ميں گليليو كو بلايا گيا، اور سماعت كرنے كے بعد اس كو سخت سزادي گئي۔ بعد كو اس كي سزا ميں تخفيف كركے اس كو اپنے گھر ميں نظر بند (house arrest)كرديا گيا۔ گليليو اسي حال ميں 8 سال تك رها، يهاں تك كه 1642ء ميں وه اندھا هو كر مر گيا۔

جیو سینٹرک نظريه اب سائنسي تحقيقات كے نتيجے ميں غلط ثابت هوچكا هے۔ چنانچہ اس واقعے كے تقريباً 400 سال بعد مسيحي چرچ نے اپنے عقيدے پر نظر ثاني كي۔ اس كو محسوس هوا كه گليليو كا نظريه صحيح تھا، اور مسيحي چرچ كا عقيده غلط تھا۔ اس كے بعد مسيحي چرچ نے سائنٹفك كميونٹي سے معافي مانگي، اور اپني غلطي كا اعلان كرديا۔

 

خدا کا فلسفیانہ تصور

آرین مذاہب میں وحدتِ وجود (monism) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، خدا کا اپنا کوئی فارم نہیں ہے۔ وہ ایک نراکار خدا (formless God)  ہے۔ اِس تصور کے مطابق، خدا کی اپنی کوئی الگ ہستی نہیں ہے۔ دنیا میں جو چیزیں دکھائی دیتی ہیں، وہ سب کی سب اِسی بے وجود خدا کا وجودی اظہار ہیں۔ یہ تصور دراصل ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ فلاسفہ عام طورپر اِسی معنیٰ میں خدا کو مانتے رہے ہیں۔ وہ خدا کو اسپرٹ (spirit) یا آئیڈیا (idea)جیسے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ یہی فلسفیانہ تصور آرین مذاہب میںایک عقیدے کے طورپر شامل ہوگیا۔

خدا کا یہ غیر وجودی تصور محض ایک بے بنیاد قیاس (speculation) ہے۔ حقیقی معنوںمیں اس کی کوئی استدلالی بنیاد موجود نہیں۔ پہلی بات یہ کہ تخلیق کی صورت میں ہم جس کائنات کا تجربہ کرتے ہیں، وہ پورے معنوں میںایک فارم (form) ہے۔

یہ کہنا ایک غیر منطقی بات ہے کہ ایک خدا جو محض ایک اسپرٹ یا آئڈیا تھا، جس کی اپنی کوئی ہستی نہ تھی، اس نے اتنے بے شمار قسم کے فارم پیدا کردیے۔ خدا وہی ہے جس کے اندر تخلیق کی صفت پائی جاتی ہو، اور اسپرٹ یا آئڈیامیں تخلیق کی صفت سرے سے موجود نہیں۔ اِس لیے یہ نظریہ بداہۃً ہی قابلِ رد ہے:

Prima facie it stands rejected.

سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، اس کی تمام چیزیں ایٹم سے مرکب ہیں۔ اس کو لے کر کہا جاتا ہے کہ سائنس کے مطالعے سے کائنات میںوحدت (oneness) کا ثبوت ملتا ہے، یعنی تمام مادی چیزوں میں استثنا کے باوجود یکسانیت (uniformity amids exception)ہے۔مگر یہ استدلال درست نہیں۔ کائنات میں مادّی اجزا کے اعتبار سے ضرور وحدت ہے، لیکن اِن مادی اجزا کی ترکیب سے جو چیز بنی، اس کے اندر غیر معمولی ڈزائن (design) موجود ہے، اور ڈزائن صرف ایک ذہن کی تخلیق ہوتی ہے، نہ کہ کسی بے فارم اسپرٹ کی تخلیق۔

کائنات میں خدا کی گواہی

 

 

خدا كا ثبوت

اگر ايك انسان كا وجود هے تو ايك خدا كا وجود كيوں نهيں۔ اگر هوا اور پاني، درخت اور پتھر، چاند اور ستارے موجود هيں تو ان كو وجود دينے والے كا وجود مشتبه كيوں هو۔ حقيقت يه هے كه تخليق كي موجودگي تخليق کے عمل كا ثبوت هے، اور انسان كي موجودگي اس بات كا ثبوت هے كه يهاں ايك ايسا خالق موجود هے جو ديكھے اور سنے۔ جو سوچے اور واقعات كو ظهور ميں لائے۔

اس ميں شك نهيں كه خدا ظاهري آنكھوں سے دكھائي نهيں ديتا۔ مگر اس ميں بھي شك نهيں كه اس دنيا كي كوئي بھي چيز ظاهري آنكھوں سے دكھائي نهيں ديتي۔ پھر كسي چيز كو ماننے كے ليے ديكھنے كي شرط كيوں ضروري هے۔

آسمان پر ستارے جگمگاتے هيں۔ عام آدمي سمجھتا هے كه وه ستاروں كو ديكھ رها هے۔ حالاں که خالص علمي اعتبار سے يه صحيح نهيں۔ جب هم ستاروں كو ديكھتے هيں تو هم ستاروں كو براهِ راست نهيں ديكھ رهے هوتےهيں۔ بلكه ان كے ان اثرات كو ديكھ رهے هوتے هيں، جو ستاروں سے جدا هو كر كروروں سال كے بعد هماري آنكھوں تك پهنچے هيں۔

يهي تمام چيزوں كا حال هے۔ اس دنيا كي هر چيز جس كو انسان ’’ديكھ‘‘ رهاهے۔ وه صرف بالواسطه طورپر اسے ديكھ رها هے۔ براهِ راست طورپر انسان كسي چيز كو نهيں ديكھتا، اور نه اپني موجوده محدوديت كے ساتھ كبھي ديكھ سكتاهے۔پھر جب دوسري تمام چيزوں كے وجود كو بالواسطه دليل كي بنياد پر مانا جاتا هے تو خدا كے وجود كو بالواسطه دليل كي بنياد پر كيوں نه مانا جائے۔

حقيقت يه هے كه خدا اتنا هي ثابت شده هے، جتنا كه اس دنيا كي كوئي دوسري چيز۔ اس دنيا كي هر چيز بالواسطه دليل سے ثابت هوتي هے۔ اس دنياميں هر چيز اپنے اثرات كے ذريعے سے پهچاني جاتي هے۔ ٹھيك يهي نوعيت خداكے وجود كي بھي هے۔

خدا يقيناً براهِ راست هماري آنكھوں كو دكھائي نهيں ديتا۔ مگر خدا اپني نشانيوں كے ذريعے يقيناً دكھائي ديتا هے، اور بلا شبه خدا كے علمي ثبوت كے ليے يهي كافي هے۔

 

كائنات ميں خدا كي گواهي

زمين پر زندگي كےوجودكے ليے مختلف پیچیدہ حالات كي موجودگي ضروری ہے۔ یہ زمینی ظاہرہ رياضياتي طورپران مختلف پیچیدہ حالات کےاتفاقی وقوع کےتصور کو ناقابل قبول بناتاهے ، یعنی یہ ناممکن ہے کہ ایسے پیچیدہ حالات اپنے مخصوص تناسب کے ساتھ محض اتفاقاً زمين كے اوپر اكٹھا هوجائيں۔ اب اگر ايسے حالات پائے جاتے هيںتو لازماً يه ماننا هوگا كه فطرت ميں كوئي ذي شعور رهنمائي موجود هے، جوان حالات كو پيدا كرنے كا سبب هے۔

زمين اپني جسامت كے اعتبار سے كائنات ميں ايك ذرے كے برابر بھي حيثيت نهيں ركھتي، مگر اس كے باوجود هماري تمام معلوم دنياؤں ميں اهم ترين هے۔ كيونكه اس كے اوپر حيرت انگيز طور پر وه حالات مهيا هيں، جو همارے علم كے مطابق اس وسيع كائنات ميں كهيں نهيں پائے جاتے۔

سب سے پهلے زمين كي جسامت كو ليجیے۔ اگر اس كا حجم كم يا زياده هوتا تو اس پر زندگي محال هوجاتي۔ مثلاً يه كرهٔ زمين اگر چاند جتنا چھوٹاہوتا يعني اس كا قطر (diameter)موجوده قطر كي نسبت سے ¼هوتا تو اس كي كشش ثقل زمين كي موجوده كشش كا 1/6 ره جاتي۔ كشش كي اس كمي كا نتيجه يه هوجاتا كه وه پاني اور هوا كو اپنے اوپر روك نه سكتي، جيسا كه جسامت كي اسي كمي كي وجه سے چاند ميں واقع هوا هے۔ چاند پر اِس وقت نه تو پاني هے، اور نه كوئي هوائي كره۔ هوا كا غلاف نه هونے كي وجه سے وه رات كے وقت بے حد سرد هوجاتا هے، اور دن كے وقت تنور كي مانند جلنے لگتا هے۔ اسي طرح كم جسامت كي زمين كشش كي كمي كي وجه سے پاني كي اس كثير مقدار كو روك نه سكتي، جو زمين پرموسمي اعتدال كو باقي ركھنے كا ايك اهم ذريعه هے۔ زمین کی اسي خصوصیت کی بنا پر ايك سائنسداں نے اس كو عظيم توازني پهيه (great balance wheel) كا نام ديا هے۔

Man Does not Stand Alone, p. 28

اسی طرح اگر یہ ہوتا کہ هوا كا موجوده غلاف اڑ كر فضا ميں گم هوجاتا تو زمین کی حالت يه هوتی كه اس كي سطح پر درجهٔ حرارت میں اضافہ ہوتا تو انتهائي حد تك بڑھ جاتا، اور گرتا تو انتهائي حد تك گر جاتا۔ اس كے برعكس اگر زمين كا قطر، موجوده قطر كي نسبت سے دگنا هوتا تو اس كي كششِ ثقل بھي دگني بڑھ جاتي۔ كشش كے اس اضافے كا نتيجه يه هوتا كه هوا، جو اس وقت زمين كے اوپر پانچ سو ميل كي بلندي تك پائي جاتي هے، وه كھنچ كر بهت نيچے تك سمٹ جاتي۔ اس كے دباؤ ميں في مربع انچ 15تا 30 پونڈ كا اضافه هوجاتا، جس كا ردِ عمل مختلف صورتوں ميں زندگي كے ليے نهايت مهلك ثابت هوتا،اور اگر زمين سورج سے اتني بڑي هوتي، اور اس كي كثافت برقرار رهتي تو اس كي كشش ثقل ڈيڑ سوگنا بڑھ جاتي۔

 زمین کے گرد گیسوں کا ایک غلاف (Atmosphere)ہے۔اس کو عام زبان میں ہوا (air) کہا جاتا ہے۔ اس کی وسعت پانچ سو میل کی ہے۔اگر زمین پر هوا كے غلاف كي موٹائی گھٹ كر پانچ سو ميل كے بجائے صرف چارسو ميل ره جاتي۔ نتيجه يه هوتا كه هوا كا دباؤ ايك ٹن في مربع انچ تك جاپهنچتا۔ اس غير معمولي دباؤ كي وجه سے زمین میں زنده اجسام كا نشوونما ممكن نه رهتا۔ ايك پونڈ وزني جانور كا وزن ايك سو پچاس پونڈ هوجاتا۔ انسان كا جسم گھٹ كر گلهري كے برابر هوجاتا، اور اس ميں كسي قسم كي ذهني زندگي ناممكن هوجاتي۔ كيوں كه انساني ذهانت حاصل كرنے كے ليے بهت كثير مقدار ميں اعصابي ريشوں كي موجودگي ضروري هے، اور اس طرح كے پھيلےهوئے ريشوں كا نظام ايك خاص درجے كي جسامت هي ميں پايا جاسكتا هے۔

بہ ظاهر هم زمين كے اوپر هيں مگرزياده صحيح بات يه هے كه هم اس كے نيچے سر كے بل لٹكے هوئے هيں۔ زمين گويا فضا ميںمعلق ايك گيند هے، جس كے چاروں طرف انسان بستے هيں۔ كوئي شخص هندستان كي زمين پر كھڑا هو تو امريكا كے لوگ بالكل اس كے نيچے هوں گے، اور امريكا ميں كھڑا هو تو هندستان اس كے نيچےهوگا۔ پھر زمين ٹھهري هوئي نهيں هے، بلكه ايك هزار ميل في گھنٹے كي رفتار سے مسلسل گھوم رهي هے۔ ايسي حالت ميں زمين كي سطح پر همارا انجام وهي هونا چاهيے جيسے سائيكل كے پهيے پر كنكرياں ركھ كر پهيے كو تيزي سے گھماديا جائے۔ مگر ايسا نهيں هوتا۔ كيونكه ايك خاص تناسب سے زمين كي كشش اور هوا كا دباؤ هم كو ٹھهرائے هوئے هے۔ زمين كے اندر غير معمولي قوتِ كشش هے، جس كي وجه سے وه تمام چيزوں كو اپني طرف كھينچ رهي هے، اور اوپر سے هوا كا مسلسل دباؤ پڑتا هے۔ اس دو طرفه عمل نے هم كو زمين كے گولے پر چاروں طرف لٹكا ركھا هے۔ هوا كے ذريعے جو دباؤ پڑتا هے، وه جسم كے هر ايك مربع انچ پر تقريباً ساڑھے سات سير تك معلوم كيا گيا هے۔ يعني ايك اوسط آدمي كے سارے جسم پر تقريباً280 من كا دباؤ۔ آدمي اس وزن كو محسوس نهيں كرتا۔ كيونكه هوا جسم كے چاروں طرف هے۔ دباؤ هر طرف سے پڑتا هے اسي ليے آدمي كو محسوس نهيں هوتا۔ جيسا كه پاني ميں غوطه لگانے كي صورت ميں هوتا هے۔اس كے علاوه هوا جو مختلف گيسوں كے مخصوص مركب كا نام هے، اس كے بے شمار ديگر فائدے هيں، جن كا بيان كسي كتاب ميں ممكن نهيں۔

نيوٹن اپنے مشاهدے اور مطالعے سے اس نتيجه پر پهنچا تھا كه تمام اجسام ايك دوسرے كو اپني طرف كھينچتے هيں۔ مگر اجسام كيوں ايك دوسرے كو كھينچتے هيں۔ اس سوال كا اس كے پاس كوئي جواب نهيں تھا ۔ چنانچه اس نے كها كه ميں اس كي كوئي توجيه پيش نهيں كرسكتا۔

وائٹ هيڈ (Alfred North Whitehead, 1861-1947) اس كا حواله ديتے هوئے كهتا هے:’’نيوٹن نے يه كهه كر ايك عظيم فلسفيانه حقيقت كا اظهار كياهے۔ كيونكه فطرت اگر بے روح فطرت هے تو وه هم كو توجيه نهيں دے سكتي۔ ويسے هي جيسے مرده آدمي كوئي واقعه نهيں بتا سكتا۔ تمام عقلي اور منطقي توجيهات آخري طورپر ايك مقصديت كا اظهار هيں۔ جب كه مرده كائنات ميں كسي مقصديت كا تصور نهيں كياجاسكتا‘‘۔(The Age of Analysis, p. 85)

وائٹ هيڈ كےالفاظ كو آگے بڑھاتے هوئے ميں كهوں گا كه كائنات اگر كسي صاحبِ شعور كے زير انتظام نهيںهے تو اس كے اندر اتني معنويت كيوں پائي جاتي هے۔

زمين اپنے محور پر چوبيس گھنٹے ميں ايك چكر پورا كرليتي هے۔ يا يوں كهيے كه وه اپنے محور پر ايك هزار ميل في گھنٹه كي رفتار سے چل رهي هے۔ فرض كرو اس كي رفتار دو سو ميل في گھنٹه هو جائے، اور يه بالكل ممكن هے، ايسي صورت ميں همارے دن اور هماري راتيں موجوده دن اور رات كي نسبت سے دس گنا زياده لمبے هوجائيں گے۔ گرميوں كا سخت سورج هر دن تمام نباتات كو جلادے گا، اور جو بچے گا وه لمبي رات كي ٹھنڈك ميں پالے (frost)كي نذر هوجائے گا۔ سورج جو اس وقت همارے ليے زندگي كا سرچشمه هے،اس كي سطح پر باره هزار ڈگري فارن هائٹ كا ٹمپريچر هے، اور زمين سے اس كا فاصله تقريباً نوكرور تيس لاكھ ميل هے، اور يه فاصله حيرت انگيز طورپر مسلسل قائم هے۔يه واقعه همارے ليے بے حد اهميت ركھتا هے۔ كيوں كه اگر يه فاصله گھٹ جائے، مثلاً سورج نصف كے بقدر قريب آجائے تو زمين پر اتني گرمي پيداهو كه اس گرمي سے كاغذ جلنے لگے، اور اگر موجوده فاصله دگنا هوجائے تو اتني ٹھنڈك پيدا هو كه زندگي باقي نه رهے۔ يهي صورت اس وقت پيدا هوگي ،جب موجوده سورج كي جگه كوئي دوسرا غير معمولي ستاره آجائے۔ مثلاً ايك بهت بڑا ستاره هے، جس كي گرمي همارے سورج سے دس هزار گنا زياده هے۔ اگر وه سورج كي جگه هوتا تو زمين كو آگ كي بھٹي بنا ديتا۔

زمين 23درجے كا زاويه بناتي هوئي فضا ميں جھكي هوئي هے۔ يه جھكاؤ هميں همارے موسم ديتے هيں۔ اس كے نتيجے ميں زمين كا زياده سے زياده حصه آبادكاري كے قابل هوگياهے، اور مختلف قسم كي نباتات اور پيداوار حاصل هوتي هيں۔ اگر زمين اس طرح سے جھكي هوئي نه هوتي تو قطبَین (South Pole & North Pole)پر هميشه اندھيرا چھايا رهتا۔ سمندر كے بخارات شمال اور جنوب كي جانب سفر كرتے، اور زمين پر يا تو برف كے ڈھير هوتے يا صحرائي ميدان۔ اس طرح كے اور بهت سے اثرات هوتے جس كے نتيجے ميں بغير جھكي هوئي زمين پر زندگي ناممكن هوجاتي  —يه كس قدر ناقابلِ قياس بات هے كه ماده نے خود كو اپنے آپ اس قدر موزوں اور مناسب شكل ميں منظم كرليا۔

اگر سائنسدانوں كا قياس صحيح هے كه زمين سورج سے ٹوٹ كر نكلي هے تو اس كا مطلب يه هے كه ابتداء ً زمين كا درجهٔ حرارت وهي رها هوگا جو سورج كا هے، يعني باره هزار ڈگري فارن هائٹ۔ اس كے بعد وه دھيرے دھيرے ٹھنڈي هونا شروع هوئي۔ آكسيجن اور هائيڈروجن كا ملنا اس وقت تك ممكن نهيں هوسكتا جب تك زمين كا درجهٔ حرارت گھٹ كر چار هزار ڈگري پر نه آجائے۔ اسي موقع پر دونوں گيسوں كے باهم ملنے سے پاني بنا۔ اس كے بعد كروروں سال تك زمين كي سطح اور اس كي فضا ميں زبردست انقلابات هوتے رهے۔ يهاں تك كه غالباً ايك بلين سال پهلے زمين اپني موجوده شكل ميں تيار هوئي۔ زمين كي فضا ميں جو گيسيں تھيں ان كا ايك بڑا حصه خلا ميں چلا گيا، ايك حصے نے پاني كے مركب كي صورت اختيار كي، ايك حصه زمين كي تمام چيزوں ميں جذب هوگيا ،اور ايك حصه هوا كي شكل ميں هماري فضا ميں باقي ره گيا ،جس كا بيشتر جزء آكسيجن اور نائٹروجن هے۔ يه هوا اپني كثافت كے اعتبار سے زمين كا تقريباً دس لاكھواں حصه هے —  كيوں نهيں ايسا هوا كه تمام گيسيں جذب هوجاتيں، يا كيوں ايسا نهيں هوا كه موجوده نسبت سے هوا كي مقدار زياده هوتي۔ دونوں صورتوں ميں انسان زنده نهيں هوسكتا تھا، يا اگر بڑھي هوئي گيسوں كے هزاروں پونڈ في مربع انچ بوجھ كے نيچے زندگي پيدا بھي هوتي تو يه ناممكن تھا كه وه انسان كي شكل ميں نشوونما پاسكے۔

زمين كي دوهري پرت اگر صرف دس فٹ موٹي هوتي تو هماري فضا ميں آكسيجن كا وجود نه هوتا، جس كے بغير حيواني زندگي ناممكن هے۔ اسي طرح اگر سمندر كچھ فٹ اور گهرے هوتے تو وه كاربن ڈائي آكسائڈ اور آكسيجن كوجذب كرليتے اور زمين كي سطح پر كسي قسم كي نباتات کازنده رهنا ناممکن تھا۔ اگر زمين كے اوپر كي هوائي فضا موجوده كي نسبت سے لطيف هوتي تو شهاب ثاقب (meteorite)جو هر روز اوسطاً دوكرور كي تعداد ميں اوپري فضا ميں داخل هوتے هيں، اور رات كے وقت هم كو جلتے هوئے دكھائي ديتےهيں، وه زمين كے هر حصے ميں گرتے۔ يه شهابيے (meteorites)چھ سے چاليس ميل تك في سكنڈ كي رفتار سے سفر كرتے هيں۔ وه زمين كے اوپر هر آتش پذير مادے كو جلا ديتے اور سطح زمين كو چھلني كرديتے۔ شهاب ثاقب بندوق كي گولي سے نوے گنا زياده رفتار سے آدمي جيسي مخلوق كو محض اپني گرمي سے ٹكڑے كرديتي۔ مگر هوائي كره اپني نهايت موزوں دبازت (thickness)كي وجه سے هم كو اس آتشي  بوچھار (fiery onslaught)سے محفوظ ركھتا هے۔

هوائي كره ٹھيك اتني كثافت ركھتا هے كه سورج كي كيمياوي اهميت ركھنے والي شعاعيں (actinic rays) اسي موزوں مقدار سے زمين پرپهنچتي هيں، جتني نباتات كو اپني زندگي كے ليے ضرورت هے، جس سےمضر بيكٹيريا مرسكتے هيں، جس سے وٹامن تيار هوتے هيں، وغيره وغيره  —كميت كا اس طرح عين هماري ضرورتوں كے مطابق هونا كس قدر عجيب هے۔

زمين كي اوپري فضا چھ گيسوں كا مجموعه هے، جس ميں تقريباً 78 فيصدي نائٹروجن اور 21 فيصدي آكسيجن هے۔ باقي گيسيں بهت خفيف تناسب ميں پائي جاتي هيں۔ اس فضا سے زمين كي سطح پر تقريباً پندره پونڈ في مربع انچ كا دباؤ پڑتاهے، جس ميں آكسيجن كا حصه تين پونڈ في مربع انچ هے۔ موجوده آكسيجن كا بقيه حصه زمين كي تهوں ميں جذب هے،اور وه دنيا كے تمام پاني كا  8/10 حصه بناتاهے۔ آكسيجن تمام خشكي كے جانوروں كے ليے سانس لينے كا ذريعه هے، اور اس مقصد كے ليے اس كو فضا كے سوا كهيں اور سے حاصل نهيںكيا جاسكتا۔

يهاں يه سوال پيدا هوتا هے كه يه انتهائي متحرك گيسيں كس طرح آپس ميں مركب هوئيں، اور ٹھيك اس مقدار اور اس تناسب ميں فضا كے اندر باقي ره گئيں جو زندگي كے ليےضروري تھا۔ مثال كے طورپر آكسيجن اگر 21 فيصدي كے بجائے پچاس فيصدي يا اس سے زیادہ مقدار ميں فضا كا جزو هوتا تو سطح زمين كي تمام چيزوں ميں آتش پذيري (inflammability) كي صلاحيت اتني بڑھ جاتي كه ايك درخت ميں آگ پكڑتے هي سارا جنگل بھك سے اڑ جاتا۔ اسي طرح اس كا تناسب گھٹ كر دس فيصدي رهتا تو ممكن هے زندگي صديوں كے بعد اس سے هم آهنگي اختيار كرليتي۔ مگر انساني تهذيب موجوده شكل ميں ترقي نهيں كرسكتي تھي، اور اگر آزاد آكسيجن بھي بقيه آكسيجن كي طرح زمين كي چيزوں ميں جذب هوگئي هوتي تو حيواني زندگي سرے سے ناممكن هوجاتي۔

آكسيجن، هائيڈروجن، كاربن ڈائي آكسائڈ اور كاربن گيسيں الگ الگ اور مختلف شكلوں ميں مركب هوكر حيات كے اهم ترين عناصر هيں۔ يهي وه بنياديں هيں، جن پر زندگي قائم هے۔ اس كا ايك في ارب (1 in 1,000,000,000) بھي امكان نهيں هے كه وه تمام ايك وقت ميں كسي ايك سياره پر اس مخصوص تناسب كے ساتھ اكھٹا هوجائيں۔ ايك عالم طبيعيات كے الفاظ ميں— سائنس كے پاس ان حقائق كي توجيه كے ليے كوئي چيز نهيں هے، اور اس كو اتفاق كهنا رياضيات سے كشتي لڑنے كے هم معني هے:

Science has no explanation to offer for the facts, and to say it is accidental is to defy mathematics (p. 33)

هماري دنيا ميں بے شمار ايسے واقعات موجود هيں، جن كي توجيه اس كے بغير نهيں هوسكتي كه اس كي تخليق ميںايك برتر ذهانت كا دخل تسليم كياجائے۔

پاني كي اهم خصوصيات ميں سے ايك يه هے كه برف كي كثافت(density) پاني سے كم هوتي هے۔ پاني وه واحد معلوم ماده هے، جو جمنے كے بعد هلكا هوجاتا هے۔ يه چيز بقا ئے حيات كے ليے زبردست اهميت ركھتي هے۔اس كي وجه سے يه ممكن هوتا هے كه برف پاني كي سطح پر تيرتا رهتاهے، اور درياؤں، جھيلوں اور سمندروں كي تهه ميں بيٹھ نهيں جاتا۔ ورنه آهسته آهسته سارا پاني ٹھوس اور منجمد هوجائے۔ يه پاني كي سطح پر ايك ايسي حاجب تهه بن جاتا هے كه اس كے نيچے كا درجهٔ حرارت نقطهٔ انجماد سے اوپر هي اوپر رهتا هے۔ اس نادر خاصيت كي وجه سے مچھلياں اور ديگر آبي جانور زنده رهتے هيں۔ اس كے بعد جونهي موسم بهار آتا هے برف فوراً پگھل جاتا هے۔ اگر پاني ميں يه خاصيت نه هوتي تو خاص طورپر سرد ملكوں كے لوگوں كو بهت بڑي دقت كا سامنا كرنا پڑتا۔

بيسويں صدي كے آغاز ميں جب امريكا ميں انڈوتھيا (Endothia) نام كي بيماري شاه بلوط (Chestnut) كے درختوں پر حمله آور هوئي، اور تيزي سے پھيلي تو بهت سے لوگوں نے جنگل كي چھتري ميں شگاف ديكھ كر كها :’’يه شگاف اب پُر نهيں هوں گے‘‘۔ امريكي شاه بلوط كي بالادستي كو ابھي تك كسي اور قسم كے اشجار نے نهيں چھينا تھا۔ اونچے درجے كي دير پا عمارتي لكڑي اور اس طرح كے دوسرے فوائد اس كے ليے خاص تھے۔يهاں تك كه 1900 ء ميں ايشيا سے انڈوتھيا نام كي بيماري كا ورود هوا۔ اس وقت تك يه جنگلات كا بادشاه خيال كيا جاتا تھا۔ مگر اب جنگلات ميں يه درخت ناپيد هوچكا هے۔

ليكن جنگلات كے يه خالی جگہیں جلد هي دوسری قسم کے درختوں سے پُر هوگئے۔امریکن ٹیولپ ٹری (Tulip Trees) اپني نشوونما كے ليے شايد انھيں شگافوں كا انتظار كررهے تھے ۔ شگاف پيدا هونے سے پهلے تك يه درخت جنگلات كا معمولي جزء تھے ،اور بہت ہی کم بڑھتے اور پھولتے تھے۔ ليكن اب شاه بلوط كي عدم موجودگي كا كسي كو احساس تك نهيں هوتا۔ كيونكه اب دوسري قسم كے درخت پوري طرح ان كي جگه لےچكے هيں۔ يه دوسرے درخت سال بھر ميں ايك انچ محيط ميںاور چھ فٹ لمبائي ميں بڑھتے هيں۔ اتني تيزي كے ساتھ بڑھنے كے علاوه بهترين لكڑي ان سے حاصل كي جاتي هے، جو بالخصوص باريك تهوں كے كام آسكتي هے۔

اسي صدي كا واقعه هے۔ ناگ پھني كي ايك قسم آسٹريليا ميں كھيتوں كي باڑھ قائم كرنے كے ليے بوئي گئي هے ۔ آسٹريليا ميں اس ناگ پھني كا كوئي دشمن كيڑا نهيں تھا۔ چنانچه وه بهت تيزي سے بڑھنا شروع هوگئي۔ يهاں تك كه انگلينڈ كے برابر رقبه پر چھاگئي۔ وه شهروں اور ديهاتوں ميںآبادي كے اندر گھس گئي ، كھيتوں كو ويران كرديا۔ اور زراعت كو ناممكن بناديا۔ كوئي تدبير بھي اس كے خلاف كارگر ثابت نهيں هوتي تھي۔ ناگ پھني آسٹريليا كے اوپر ايك ايسي فوج كي طرح مسلط تھي، جس كا اس كے پاس كوئي توڑ نهيں تھا۔ بالآخر ماهرين حشرات الارض دنيا بھر ميں اس كا علاج تلاش كرنے كے ليے نكلے۔ يهاں تك كه ان كي رسائي ايك كيڑے تك هوئي جو صرف ناگ پھني كھا كر زنده رهتا تھا۔ اس كے سوا اس كي كوئي خوراك نهيں تھي۔ وه بهت تيزي سے اپني نسل بڑھاتا تھا اور آسٹريليا ميں اس كا كوئي دشمن نهيں تھا۔ اسي كيڑے نے آسٹريليا ميں ناگ پھني كي ناقابلِ تسخير فوج پر قابو پاليا ،اور اب وهاں سے اس مصيبت كا خاتمه هوگيا  —  قدرت كے نظام ميں يه ضبط وتوازن (checks and balances) كي عظيم تدبيريں كيا كسي شعوري منصوبے كے بغير خود بخود وجود ميں آجاتي هيں۔

كائنات ميں حيرت انگيز طورپر رياضياتي قطعيت پائي جاتي هے۔ يه جامد بے شعور ماده جو همارے سامنے هے، اس كا عمل غير منظم اور بے ترتيب نهيں بلكه وه متعين قوانين كا پابند هے۔ ’’پاني‘‘ كا لفظ خواه دنيا كے جس خطه ميں اور جس وقت بھي بولا جائے، اس كا ايك هي مطلب هوگا— ايك ايسا مركب جس ميں 11.1 في صد هائيڈروجن اور 88.9 في صد آكسيجن۔ ايك سائنسداں جب تجربه گاه ميں داخل هو كر پاني سے بھرے هوئے ايك پيالے كو گرم كرتاهے تو وه تھرماميٹر كے بغير يه بتا سكتا هے كه پاني كا نقطهٔ جوش 100 سنٹي گريڈ هے جب تك هوا كا دباؤ (atmospheric pressure)  760 ايم-ايم رهے۔ اگر هوا كا دباؤ اس سے كم هو تو اس حرارت كو لانے كے ليے كم طاقت دركار هوگي جو پاني كے سالمات كو توڑ كر بخارات كي شكل ديتي هے۔ اس طرح نقطهٔ جوش سودرجه سے كم هوجائے گا۔ اس كے برعكس اگر هوا كا دباؤ 760mm سے زياده هو تو نقطهٔ جوش بھي اسي لحاظ سے زياده هوجائے گا۔ يه تجربه اتني بار آزمايا گيا هے كه اس كو يقيني طورپر پهلے سے بتايا جاسكتا هے كه پاني كا نقطهٔ جوش كيا هے۔ اگر ماده اور توانائي كے عمل ميں يه نظم اور ضابطه نه هوتا تو سائنسي تحقيقات اور ايجادات كے ليےكوئي بنياد نه هوتي۔ كيونكه پھر اس دنياميں محض اتفاقات كي حكمراني هوتي اور علمائے طبيعيات كے ليے يه بتانا ممكن نه رهتا كه فلاں حالت ميں فلاں طريقِ عمل كے دهرانے سے فلاں نتيجه پيداهوگا۔

كيميا كے ميدان ميں نووارد طالب علم سب سے پهلے جس چيز كا مشاهده كرتا هے، وه عناصر ميں نظم اور دَوری ضابطہ (Periodic Law) هے۔ سوسال پهلے ايك روسي ماهر كيميا منڈليف (Dmitri Mendeleev, 1834-1907) نے جوهري قدر كے لحاظ سے مختلف كيميائي عناصر كو ترتيب ديا تھا جس كو دَوري نقشه (periodic chart)كها جاتا هے۔ اس وقت تك موجوده تمام عناصر دريافت نهيںهوئے تھے اس ليے اس كے نقشے ميں بهت سے عناصر كے خانے خالي تھے جو عين اندازے كے مطابق بعد كو پُر هوگئے، ان نقشوں ميں سارے عناصر جوهري نمبروں كے تحت اپنے اپنے مخصوص گروپوں ميں درج كيے جاتے هيں۔ جوهري نمبر سے مراد مثبت برقيوں (protons) كي وه تعداد هے جو ايٹم كے مركز ميں موجود هوتي هے۔ يهي تعداد ايك عنصر كے ايٹم اور دوسرے عنصر كے ايٹم ميں فرق پيدا كرديتي هے۔

 هائيڈروجن جو سب سے ساده عنصر هے، اس كے ايٹم كے مركز ميںايك پروٹون هوتا هے۔ هيليم ميں دو اور ليتھيم ميں تين۔ مختلف عناصر كي جدول تيار كرنا اسي ليے ممكن هوسكا هے كه ان ميں حيرت انگيز طورپر ايك رياضياتي اصول كار فرما هے۔ نظم وترتيب كي اس سے بهتر مثال اوركيا هو سكتي هے كه عنصر نمبر 101 كي شناخت محض اس كے 17پروٹونوں كے مطالعه سے كرلي گئي۔ قدرت كي اس حيرت انگيز تنظيم كو هم دَوري اتفاق(periodic chance)نهيں كهتے بلكه اس كو دَوري ضابطه (periodic law) كهتے هيں۔ مگر نقشه اور ضابطه جو يقيني طور پر ناظم اور منصوبه ساز كا تقاضا كرتے هيں، اس كا انكار كرديتے هيں۔ حقيقت يه هے كه جديد سائنس اگر خدا كو نه مانے تو وه خود اپني تحقيق كے ايك لازمي نتيجے كا انكار كرے گي۔

مثال کے طور پر’’11 اگست 1999ء ميں ايك سورج گرهن واقع هوا، جوانگلینڈ کے كارنوال (Cornwall)ميں مكمل طورپر ديكھا گیا‘‘ —  لیکن اس کی قياسي پيشين گوئي پہلے کردی گئی تھی۔اس لیے یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔سائنسدانوں سمیت بہت سے لوگ اس سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں پہنچے تھے۔ اسی طرح 22 جولائی 2009ء کو لگنے والا گرہن اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن تھا، جس کا دورانیہ ساڑھے پانچ گھنٹے تھا۔ اسے پاکستان، بھارت اور چین میں دیکھا گیا۔ اس قسم کا طویل سورج گرہن اس کے بعد 123 سال بعد 2132ء میں دیکھا جا سکے گا۔

 علمائے فلكيات يقين ركھتے هيں كه نظام شمسي كے موجوده گردشي نظام كے تحت متعین وقت اور تاریخ میں اس قسم کے گرہن كا پيش آنا يقيني هے۔ جب هم آسمان ميں نظر ڈالتے هيں تو هم لاتعداد ستاروں كو ايك نظام ميں منسلك ديكھ كر حيران ره جاتےهيں۔ ان گنت صديوں سے اس فضائے بسيط ميں جو عظيم گينديں معلق هيں، وه ايك هي معين راستے پر گردش كرتي چلي جارهي هيں۔ وه اپنے مداروںميں اس نظم كے ساتھ آتي اور جاتي هيں كه ان كے جائے وقوع اور ان كے درميان هونے والے واقعات كا صديوں پيشتر بالكل صحيح طورپر اندازه كيا جاسكتا هے۔ پاني كے ايك حقير قطرے سے لے كر فضائے بسيط (space)ميں پھيلے هوئے دور دراز ستاروں تك ايك بے مثال نظم وضبط پايا جاتا هے۔ ان كے عمل ميں اس درجه يكسانيت هےكه هم اس بنياد پر قوانين مرتب كرتے هيں۔

نيوٹن كا نظريهٔ كشش فلكياتي كروں كي گردش كي توجيه كرتاهے۔ اس كے نتيجے ميںبرٹش سائنٹسٹ جے سي ايڈمس  (John Couch Adams, 1819-1892) اورفرنچ سائنٹسٹ لاويرے (Urbain Jean Joseph Le Verrier, 1811-1877) كو وه بنياد ملي، جس سے وه ديكھے بغير صرف ریاضیاتی بنیادوں پر ايك ايسے سيارے كے وجود كي پيشين گوئي كرسكيں، جو اس وقت تك نامعلوم تھا۔ چنانچه ستمبر1846ء كي ايك رات كو جب برلن آبزرويٹري كي دور بين كا رخ آسمان ميں ان كے بتائے هوئے مقام كي طرف كياگيا تو في الواقع نظر آيا كه ايسا ايك سياره نظام شمسي ميں موجود هے، جس كو اب هم نيپچون (Neptune)  كے نام سے جانتے هيں۔

كس قدر ناقابلِ قياس بات هے كه كائنات ميں يه رياضياتي قطعيت خود بخود قائم هوگئي هے۔

ـــــــــــــــــــــــــــ

زمین، ایک نشانی

لیوس ٹامس (Lewis Thomas, 1913-1993) ایک امریکی سائنس داں اور فلسفی ہے۔ بائیولوجی پر اس کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس نے زمین کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں— وہ خلا میں لٹکا ہوا، اور بظاہر ایک زندہ کرہ ہے:

hanging there in space and obviously alive. (Lewis Thomas, The Fragile Species, Collier, 1993, p. 135)

  یہ زمین (planet earth) کی نہایت صحیح تصویر ہے۔ زمین ایک اتھاہ خلا (vast space)میں مسلسل گردش کررہی ہے۔ اسی کے ساتھ زمین کے جو احوال ہیں، وہ انتہائی استثنائی طور پر ایک زندہ کرہ کے احوال ہیں۔ یہ چیزیں اتنی حیرت ناک ہیں کہ اگر ان کو سوچا جائے، تو رونگٹےکھڑے ہوجائیں، اور بدن میں کپکپی طاری ہوجائے۔ زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان میں سنجیدگی سے (sincerely) غور کرے، تو یہ کائنات اس کے لیے خدا کی معرفت اورجلال و جمال کا آئینہ بن جائے۔

 

ذهين كائنات

 نظام شمسی سورج اور ان تمام غير روشن اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت (gravitational pull)میں ہیں،اور سورج کے اردگرد اپنے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہيں۔معلوم نظام شمسی ابھی تک صرف ایک ہے، جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم علمائے فلکیات کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظام شمسی کائنات میں ہوسکتے ہیں۔

کہکشاں اس مجموعے کو کہتے ہیںجس میں روشن ستارے ایک خاص نظام کے اندر گردش کررہے ہیں۔ ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) جورات کے وقت لمبی سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی(solar system) اسی میں واقع ہے۔

سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو ليے ہوئے 175 میل فی سکنڈ کی رفتار سے گردش کررہا ہے۔ یہ کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ سورج کے اس تیز رفتار سفر کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر کو پورا کرنے میں ہمارے نظام شمسی کو 20 کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ایک بلین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں، اور ہر کہکشاں کے اندر کئی بلین انتہائی بڑے بڑے ستارے موجود ہیں۔

کہکشاں کے اندر ستارے انتہائی بعید فاصلوں پر واقع ہیں۔ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارے کی روشنی جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ کی رفتار سے سفر کررہی ہو، زمین تک اس کے پہنچنے میں 4 سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔

اجرامِ سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کے نزدیک وہ اجرام سماوی کی باہمی کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ’’اجرام سماوی کی باہمی کشش‘‘ کے لفظ کی معنویت كوآدمی سمجھ لیتا ہے۔ مگر ’’خدا‘‘ کے لفظ کی معنویت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔

 

معنی خیز استثنا

کائنات میں بے شمار الگ الگ چیزیں پائی جاتی ہیں، لیکن کائنات کا ایک عجیب ظاہرہ یہ ہے کہ اس میں عمومی طور پر یکسانیت(uniformity) نہیںہے، بلکہ اُس کے ہر حصے میںاستثناءات (exceptions) پائے جاتے ہیں۔ کائنات کی یہ استثنائی مثالیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ استثنا (exception) ذہین مداخلت (intelligent intervention) کا ثبوت ہے، اور ذہنی مداخلت ایک ذہین خالق (Intelligent  Creator) کا ثبوت ہے۔

مثلاً وسیع کائنات میں شمسی نظام (solar system) ایک استثنا ہے۔ شمسی نظام میں سیارۂ ارض (planet earth) ایک استثنا ہے۔ زمین کا انتہائی متناسب سائز ایک استثنا ہے۔ زمین کی اپنے محور (axis) پر گردش ایک استثنا ہے۔ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم(life support system) ایک استثنا ہے۔ زمین پر زندگی ایک استثنا ہے۔ زمین پر انسان ایک استثنا ہے، وغیرہ۔

اِس قسم کے مختلف استثنا جو ہماری دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سادہ طورپر صرف استثنا نہیںہیں، بلکہ وہ انتہائی حد تک بامعنی استثنا (meaningful exception) ہیں۔ وسیع کائنات میں اِس قسم کے بامعنٰی استثناءات یقینی طور پر اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اُس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اِس کائنات کو بنایا ہے۔ اُس نے جہاں چاہا، چیزوں میںیکسانیت (uniformity) کا طریقہ اختیار کیا، اور جہاں چاہا، کسی چیز کو دوسری چیزوں سے ممیّز اور مستثنیٰ بنادیا۔

مثلاً زندہ اجسام کے ڈھانچے میں باہم یکسانیت (uniformity) پائی جاتی ہے، لیکن اِسی کے ساتھ ہر ایک کا جنیٹک کوڈ (genetic code) ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں، لیکن ہر ایک کے انگوٹھے کا نشان (thumb impression)  ایک دوسرے سے الگ ہے۔ یکسانیت کے درمیان یہ استثنا یقینی طور پر ایک ذہین تخلیق (intelligent creation) کا ثبوت ہے، نہ کہ اندھے اتفاقات کا نتیجہ۔

 

کائناتی نشانیاں

ایس ٹی کا لرج(1772-1834)ایک مشہور انگریزی تنقيد نگار، فلاسفر اور شاعر ہے۔ اس کی ایک نظم کا عنوان ہے:

The Rhyme of the Ancient Mariner

اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح اپنے کسی گناہ کے سبب سمندر میںپھنس گیا ہے۔ اس کے پاس پینے کے ليے میٹھا پانی نہیں ہے۔ کشتی کے چاروں طرف سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ مگر کھاری ہونے کی وجہ سے وہ ان کو پی نہیں سکتا۔ وہ پیاس سے بے تاب ہو کر کہتا ہے — ہر طرف پانی ہی پانی، مگر ایک قطرہ نہیں جس کو پیا جاسکے:

Water, water everywhere / Nor any drop to drink.

جو حال کالرج کے خیالی ملاح کا ہوا، وہی حال امکانی طورپر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے، جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔

اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے، مگر مخصوص قانونِ قدرت کے تحت اس کے نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے ،اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا ہے۔ یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صور ت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے، اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے، جس کی انسان کو سخت ترین ضرورت ہے۔

بارش کا عمل ازالۂ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعے پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری ہو کہ وہ خداکے کرشموں کے احساس سے رقص کرنے لگے۔

 

کویزار

ايك ارب سورج سے بھي زياده روشن

فلکیات (astronomy) میں اجرامِ فلکی (مثلاً، چاند، سیارے، ستارے، نیبولا، گلیکسی، وغیرہ)، اور زمینی کرۂ ہواکے باہر روُنما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔برسات كے موسم ميں جب فضا بالكل صاف هوتي هے، آسمان پر لمبے روشنی كے بادل دكھائي ديتےهيں۔ يه هماري كهكشاں (Galaxy) هے، جس کا نام ملکی وے (Milky Way) ہے۔ اس كے اندر همارا سولر سسٹم واقع هے۔ روشنی كے بادل حقيقت میں بادل نهيں هيں، بلكه بے شمار ستاروں كے مجموعے هيں، جو دورهونے كي وجه سے ملے ملے دكھائي ديتے هيں۔ اگر آپ دور بين (telescope) سے ديكھيں تو بادل كے بجائے آپ كو الگ الگ ستارے دكھائي ديں گے۔ زمين سے باره لاكھ گنا بڑا سورج بظاهر بهت بڑا نظر آتاهے۔ مگر كهكشاں كے اكثر ستارے اس سے بھي زياده بڑے هيں۔ اس طرح كے بےشمار كهكشاني مجموعے كائنات كي وسعتوں ميں پھيلے هوئے هيں۔مثلاً فلكيات كي حيران كُن دريافتوں ميں سے ايك وه هے، جس كو كویزار(Quasar)كها جاتا هے:

Quasar, an astrmonomical object of very high luminosity found in the centres of some galaxies and powered by gas spiraling at high velocity into an extremely large black hole. The brightest quasars can outshine all of the stars in the galaxies in which they reside, which makes them visible even at distances of billions of light-years. Quasars are among the most distant and luminous objects known.

 (www.britannica.com/science/quasar [accessed on 02.04.2020])

كویزار زمین سے دور دراز فاصلے پر واقع ایک آسمانی جِرم (object) ہے، جس سے ریڈیائی لہریں کثیر مِقدار میں نکلتی ہیں۔ كائنات كے انتهائي بعيد كناروں پر واقع يه شبہ ستارے بے حد روشن هيں۔ ايك پوري كهكشاں جس ميں سورج يا اس سے بڑے بڑے ايك ارب ستارےهوں، جتني انرجي (روشني اور حرارت) خارج كرتي هے، اتني زياده انرجي (energy)تنها ايك كویزار خارج كرتاهے۔

 اس قسم كے ستارے وسيع خلا (space) ميں سيكڑوں كي تعداد ميں معلوم كیے گئے هيں۔ مزيد عجيب بات يه پائي گئي هے كه يه ستارے اكثر جوڑے جوڑے هيں، جو ايك دوسرے كے گرد گھومتےرهتے هيں۔ كائنات ميں انرجي پيدا هونے كا سب سے طاقت ور عمل جو اب تك سائنس دانوں نے دريافت كيا هے، وه تھرمونيوكلير ري ايكشن (Thermonuclear Reaction) هے۔ مگر كویزار سے خارج هونے والي بے پناه طاقت كي توجيه كے ليے وه ناكافي هے۔ قياس هے كه كویزار ميں انرجي پيدا هونے كا طريقه مكمل طورپر كوئي دوسرا طريقه هے، جو ديگر ستاروں ميں نهيں پايا جاتا۔

A quasar  (also known as a quasi-stellar object  [QSO])  is an extremely luminous active galactic nucleus  (AGN), in which a supermassive black hole with mass ranging from millions to billions of times the mass of the Sun is surrounded by a gaseous accretion disk. As gas in the disk falls towards the black hole, energy is released in the form of electromagnetic radiation, which can be observed across the electromagnetic spectrum. The power radiated by quasars is enormous: the most powerful quasars have luminosities thousands of times greater than a galaxy such as the Milky Way.

(www.en.wikipedia.org/wiki/Quasar [accessed on 02.04.2020])

نعمتوں سے بھري هوئي يه زمين الله كے جمال كي مظهر (manifestation of beauty) ہے، اور خلا (space) كے دهشت ناك ستارے الله كے جلال كا مظهر (manifestation of majesty)هيں۔ لائف سپورٹ سسٹم والی یہ زمين اگر جنتي زندگي كي علامت هے تو ستاروں (stars) كي شكل ميں دهكتے هوئے شعلے جهنم كي ياد دلاتےهيں۔ آدمي اگر زمين وآسمان كي ان نشانيوں (signs)پر غور كرے تو اس كا سينه خدا كي ياد سے بھر جائے گا۔اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (3:190)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ 

 

عقيدهٔ خدا اور سائنس

سائنس اپني حقيقت كے اعتبار سے عين اسي علم فطرت كا ظهور هے، جس كي خبر پيشگي طورپر قرآن ميں ان الفاظ ميں دي گئي هے— سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ يعني هم لوگوں كو اپني نشانياں دكھائيں گے آفاق ميں اورانفس ميں۔ يهاں تك كه ان پر ظاهر هوجائے گا كه يه حق هے۔

سائنس كي جديدتحقيقات كي روشني ميں كائنات كي جو نئي تصوير بني هے، وه عين وهي هے، جو قرآن ميں پيشگي طورپر بتا دي گئي تھي۔ اس اعتبار سے جديد سائنسي دريافتيں گويا كتابِ الٰهي كے اشارات كي تفصيل هيں، اور اسي كے ساتھ اس كي دليل بھي۔ يهاں مختصر طورپر ان كا ذكر كياجاتاهے۔

جديد دريافت كے مطابق، كائنات كي ابتدا تقريباً13.8 بلين سال پهلے هوئي۔ اس كے بعد مختلف تدريجي انقلابات سے گزرتےهوئے وه اپني موجوده حالت تك پهنچي۔ اس پورے سفر كي روداد اس موضوع كي كتابوں ميں پڑھ كر معلوم كي جاسكتي هے۔ اس كے علاوه اس كو محسوس طور پر كسي سائنسي پلينٹيريم (Planetarium) ميں ديكھا جاسكتاهے۔ ميں نے يه پورا منظر واشنگٹن كے نيشنل پلينٹيريم ميں ديكھا هے۔

سائنسي مطالعه بتاتا هے كه13.8 بلين سال پهلے خلا ميں ايك سپر ايٹم ظاهر هوا۔ يه ان تمام ذرات (particles) كا مجموعه تھا ،جو موجوده كائنات ميں پائے جاتے هيں۔ گويا موجوده پوري كائنات ايك بهت بڑے فٹ بال جيسے گولے كي صورت ميں شدت كے ساتھ باهمي طورپر چمٹي هوئي تھي۔ اس گولے كے تمام ذرات بے حد طاقت ور كشش كے ساتھ ايك دوسرے سے داخلي طورپر جڑے هوئے تھے۔ معلوم طبيعياتي قانون كے مطابق، يه ناممكن تھاكه وه ايك دوسرے سے جدا هو كر بيروني سمت ميں سفر كريں۔

اس وقت اس سُپر ايٹم كے اندر نهايت طاقتور دھماكه هوا۔ اس دھماكه كے فوراً بعد سپر ايٹم كے ذرات بكھر كر تيزي سے بيروني سمت ميں سفر كرنے لگے۔ اس كے بعد يه ذرات وسيع خلا ميں مختلف مجموعوں كي صورت ميں اكٹھا هوگئے۔ انھيں مجموعوں سے خلاميں پائي جانے والي وه دنيائيں بنيں، جن كو ستاره، سياره، كهكشاں، شمسي نظام، زمين اور چاند جيسے الفاظ ميں بيان كيا جاتا هے۔

سپر ايٹم كا يه دھماكه بيك وقت دو چيزيں ثابت كرتا هے۔ايك يه كه يهاں كائنات سے الگ ايك طاقتور هستي پهلے سے موجود تھي، جس نے اپني ارادي مداخلت كے ذريعے يه غير معمولي واقعه كيا كه سپر ايٹم كے ذرات داخلي رخ پر سفر كے بجائے بيروني رُخ پر سفر كرنے لگے۔

اس واقعے كا دوسرا عظيم پهلو يه هے كه دھماكه (explosion)هميشه تخريبي نتائج كا سبب بنتا هے۔ پٹاخه سے لے كر بم تك هر دھماكه بلا استثنا يهي خاصيت ركھتا هے۔ مگر سُپر ايٹم كا دھماكه استثنائي طورپر غير تخريبي تھا۔ اس نے مكمل طورپر صرف صحت مند اور تعميري نتائج پيدا كیے۔ يه استثنائي واقعه اس بات كا ثبوت هے كه اس كائنات كا خالق لامحدود قدرت كا مالك هے۔ وه يه استثنائي اختيار ركھتا هے كه واقعے كے ساتھ نتائج پر مكمل كنٹرول كرسكے۔

مطالعه بتاتاهے كه هماري كائنات ايك پھيلتي هوئي كائنات (expanding universe) هے۔ وه غباره كي مانند مسلسل طورپر بيروني سمت ميں پھيل رهي هے۔اس سے ثابت هوتاهے كه كائنات كا ايك متعين آغاز هے۔ اگر كائنات ابدي هوتي تو وه اپني اس پھيلتي هوئي نوعيت كي بنا پر اب تك ختم هوچكي هوتي۔ يه ثابت هوناكه كائنات كا ايك آغاز هے، يه بھي ثابت كرديتا هے كه اس كا كوئي آغاز كرنے والا هے۔ ايك غير موجوده چيز كا آغاز اسي وقت ممكن هے، جب كه اس سے پهلے كوئي موجود هو، جو اپنے ارادے سے اُس كا آغاز كرسكے۔

كائنات ميں ايسے بے شمار شواهد هيں جو يه ثابت كرتےهيں كه كائنات كا منصوبه ساز اوراس كا ناظم صرف ايك هے۔ اگر ايك سے زياده ناظم هوتے تو يقيني طورپركائنات ميں فساد برپا هوجاتا۔

مثال كے طورپر زمين اور سورج كا فاصله تقريباً 9كرور 30 لاكھ ميل هے۔ يه فاصله مسلسل طورپر اپني حالت پر برقرار رهتا هے۔ اگر اس فاصله ميں تبديلي آجائے تو اس كے مهلك نتائج پيدا هوں گے۔ مثلاً اگر يه فاصله بڑھ كر 20 كرور ميل دور هوجائے تو زمين پر اتني ٹھنڈك پيدا هو كه پاني، حياتيات، حيوانات اور انسان سب منجمد هوجائيں۔ اسي طرح يه فاصله اگر كم هو كر 5 كرور ميل هوجائے تو زمين پر اتني گرمي پيداهو كه تمام چيزيں بشمول انسان جل كر ختم هوجائيں۔

اس سے ثابت هوتاهے كه سورج اور زمين دونوں كا خدا ايك هے۔ اگر دونوں كے خدا الگ الگ هوتے تو دونوں الگ الگ اپني مرضي چلاتے اور پھر يقيني طورپر يه فاصله گھٹتا يا بڑھتا رهتا اوراس بے قاعدگي كي بنا پر زمين پر انساني تهذيب كا وجود ناممكن هوجاتا۔

نامعلوم حد تك وسيع كائنات ميںهمارا زميني سياره ايك نادر استثنا هے۔ يهاں پاني اور هوا اور نباتات جيسي ان گنت چيزيں پائي جاتي هيں جو انساني زندگي كے ليے لازمي طور پر ضروري هيں۔ جب كه وسيع خلا ميں معلوم طورپر كوئي بھي ايسي دنيا موجود نهيں جهاں بقائے حيات كا يه سامان پايا جاتاهو۔ يه استثنا بتاتا هے كه يه دنيا محض بے شعور ماده كے ذريعه نهيں بني۔ بلكه وه ايك باشعور هستي كا تخليقي كرشمه هے۔ اگر وه محض مادي قوانين كے بے شعور تعامل كا نتيجه هوتي تو كائنات ميں بهت سي ايسي زمينيں هوتيں ،نه كه صرف ايك ایسی زمين۔

هماري دنيا كي هر چيز انتهائي حد تك با معني هے۔ چيزوں كي معنويت يه ثابت كرتي هے كه يه دنيا ايك باشعور تخليق كا نتيجه هے۔ كوئي دوسرا نظريه اس حكمت اور معنويت كي توجيه نهيں كرسكتا۔

مثلاً زمين كے حجم (size) كو ليجیے۔ زمين كا موجوده حجم تقريباً 25 هزار ميل كي گولائي ميں هے۔ يه حجم بے حد با معني هے۔ چنانچه يه حجم اگر 50 هزار ميل هوتا تو زمين كي كشش اتني زياده بڑھ جاتي كه وه انساني جسم كي بڑھوتري كو روك ديتي۔ اس كے بعد زمين پر صرف بالشتيے قسم كے انسان (dwarf) دكھائي ديتے۔ اس كے برعكس اگر زمين كا حجم گھٹ كر 12 هزار ميل هوتا تو اس كي قوتِ كشش اتني كم هوجاتي كه وه انساني بڑھوتري كو روك نه سكتي۔ انسان كا قد تاڑ (palm)كي طرح لمبا هوجاتا۔ اس كے سوا اور بےشمار قسم كے غير موافق حالات پيدا هوتے جوانسان كي تمام تمدني ترقيوں كو ناممكن بنا ديتے۔

مذكوره پهلوؤں پر غور كيجیے تو معلوم هوتا هے كه سائنسي اعتبار سے، يه مانے بغير چاره نهيں كه اس دنيا كا ايك خالق هے، اور وه يقيني طورپر صرف ايك هے۔ حقيقت يه هے كه اس معاملے ميں همارے ليے جوانتخاب هے، وه با خدا كائنات (universe with God) اور بے خدا كائنات (universe without God) ميں نهيں هے۔ بلكه همارے ليے حقيقي انتخاب باخدا كائنات (universe with God) اور غير موجود كائنات (no universe at all) ميں هے۔ يعني اگر هم خدا كے وجود كا انكار كريں تو هم كو كائنات كے وجود كابھي انكار كرنا پڑے گا۔ چوں كه هم كائنات كے وجودكا انكار نهيں كرسكتے اس ليے هم خدا كے وجود كا بھي انكار نهيں كرسكتے۔ اس معاملے ميں همارے ليے دوسرا ممكن انتخاب موجود نهيں۔

ـــــــــــــــــــــــــ

دریافت کی اہمیت

انسان کے ليے سب سے زیادہ اہم چیزدریافت ہے۔ دریافت ہی سے دنیا کی ترقیاں بھی ملتی ہیں، اور دریافت ہی سے آخرت کی ترقیاں بھی۔قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے، جو غیب پر ایمان لائے (البقرۃ، 2:3)۔ غیب پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں نامعلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانے میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔

دنیوی ترقی کے رازوں کو خدا نے زمین وآسمان کے اندر چھپا دیا ہے۔ ان رازوں کو قوانین ِفطرت (laws of nature)  کہا جاتا ہے۔ سائنس میں انھیں رازوں (یا قوانین  فطرت) کو دریافت کیا جاتا ہے۔ جوقوم ان رازوں کو دریافت کرے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ جيسا کہ موجودہ زمانے میں ہم مغربی اقوام کو یا ایشیا میں جاپان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں (developed countries) کو تمام ترقیاں انھیں دریافتوں کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہیں۔

اسی طرح عالم آخرت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظروں سے پوشیدہ کردیا ہے۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جوچیز غیب میں ہے اس کو شہود میں لانا ہے۔ اسی دریافت یا اکتشاف کا نام ایمان ہے۔ جو شخص اس ایمان میں جتنا زیادہ آگے ہوگا، وہ آخرت میں اتنا ہی زیادہ ترقی اور کامیابی حاصل کرے گا۔

 

كائناتي وحدت

كائنات كا مطالعه بتاتا هے كه پوري كائنات ايك مركز كے گرد گھوم رهي هے۔ ايٹم كا ايك نيوكليس (nucleus) هے، اور ايٹم كا ايك پورا ڈھانچه اس نيوكليس كے گرد گھومتا هے۔ شمسي نظام كا مركز سورج هے اوراس كے تمام سيارے اور سيارچے مسلسل اس كے گرد گھوم رهے هيں۔ اسي طرح كهكشاں كا ايك مركز هے اور كهكشاں كے اربوں ستارے اس مركز كے گرد حركت كرتے هيں۔ يهاں تك كه پوري كائنات كا ايك مركز هے، اور پوري پھيلي هوئي كائنات اپني ذيلي حركتوں كے ساتھ اس آخري مركز كے گرد حركت كررهي هے۔سائنس دانوں كا اندازه هے كه يه كائناتي مركز ايك روز اپنے گرد كي تمام چيزوں كو كھينچنا شروع كرے گا، اور پھر يه ناقابلِ قياس حد تك پھيلي هوئي عظيم كائنات اپنے مركز كي طرف سمٹنا شروع هوگي، اور بالآخر وه وقت آئے گا كه سارے كائناتي اجسام اس طرح سمٹ كر ايك مركزي گولے كي صورت اختيار كرليں گے، جيسے بكھري هوئي كيلوں كے درميان مقناطيس لايا جائے، اور سب كيليں سمٹ سمٹ كر اس سے جڑ جائيں — كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ(21:104)۔

اس طرح كائنات گويا دينِ توحيد كا عملي مظاهره بن گئي هے۔ وه عمل كي زبان ميں بتارهي هے كه انسان كي زندگي كو كيسا هونا چاهيے۔ انسان كي زندگي كو ايسا هونا چاهيے كه اس كي تمام سرگرميوں كا صرف ايك مركز هو، اور وه ايك خدا هو۔ آدمي كے جذبات، اس كي سوچ، اس كي سرگرمياں، اس كا سب كچھ خدا كے گرد گھومنے لگيں۔

آدمي اگر اپني زندگي كا مركزومحور اپني ذات كو بنائے تو كائنات بزبانِ حال اس كو رد كررهي هے۔ اسي طرح اگر وه اپني ذات كے باهر كسي كو اپني توجهات كا مركز ومحور بنائے تو موجوده كائنات كے ڈھانچے ميں وه قابلِ رد قرار پارها هے۔ كائنات كا موجوده ڈھانچه ايك هستي كے سوا كسي دوسرے كي مركزيت كو قبول كرنے سے انكار كرتاهے۔كائنات زبان ِحال سے كهه رهي هے  — ’’ايك‘‘ كو اپنا مركز ِتوجه بناؤ، نه كه ايك كے سوا ’’كئي‘‘ كو۔

 

خدا كي عظمت

خدا كي معرفت ايمان اور اسلام كي اساس (basis) هے۔ جتني اعليٰ معرفت، اتنا هي اعليٰ ايمان۔ اس معرفت كي تكميل اُس وقت هوتي هے، جب كه آپ خداكو اس كے كمالِ عظمت كے ساتھ دريافت كريں۔ ايك بنده جب خدا كو اس كي عظمتوں كےساتھ دريافت كرتاهے تو اس كا وهي حال هوتا هے جس كو قرآن ميںاِن الفاظ ميں بيان كيا گياهے: الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ(8:2)۔ يعني خدا كي ياد سے ان كے دل دهل اٹھتےهيں۔ جديد فلكياتي سائنس (modern astronomy) كا اِس معاملے ميں ايك مثبت كنٹربيوشن (contribution) يه هے كه اس نے خالق كي ناقابلِ قياس عظمت كا ادراك كرنے كے ليے ايك فريم ورك (framework)دے ديا هے۔ اِس فريم ورك كي مدد سے انسان خداوندِ ذوالجلال كي ناقابلِ بيان عظمت كا ايك تصور اپنے ذهن ميں لا سكتا هے۔

جديد سائنس كئي سوسال سے فلكيات كا مطالعه كررهي هے۔ اس کا آغاز 1508ء ميں دور بين (telescope) كي ايجادکے بعد هوا۔ 1609 ميں پهلي بار اٹلي كے سائنس داں گليليو گلیلی نے خلا كا دوربيني(telescopic) مشاهده كيا۔ يه فلكياتي مشاهده برابر بڑھتا رها۔ پہلے دور بيني رصدگاه كسي پهاڑ پربنائی جاتي تھي۔ اب خلائي سائنس كا زمانه آگيا هے۔ اب انسان نے خلائي رصدگاه(space observatory) بنالي هے۔ اس كے ذريعے كائنات كا مشاهده اتني زياده دور تك كرنا ممكن هوگيا هے، جس كي دوري كو صرف سالِ نور (light years) كي اصطلاح ميں بيان كيا جاسكتا هے۔ اس طرح خدا كي عظمت كو تصور ميں لانے كے ليے ايك نيا وسيع تر دائره انسان كے علم ميں آگيا هے۔

اس سلسلے ميں ايك تازه ترين فلكياتی دريافت (discovery) سامنے آئي هے۔ اِس ميں بتايا گياهے كه خلا ميں نصب الكٹرانك دور بينوں كے ذريعے ايك بهت بڑا بليك هول دريافت هوا هے۔ يه بليك هول پورے نظام شمسي (solar system) كو نگل سكتا هے۔ نظام شمسي كادائره كتنا زياده بڑا هے، اس كا اندازه اس بات سے كيا جاسكتا هےكه اِس نظام كا بعيد ترين سياره پلوٹو (Pluto) هے، جو سورج كے گرد بيضوي دائره ميں چكر لگا رها هے۔ يه دائره ساڑھے سات بلين ميل پر مشتمل هے۔

مذكوره بليك هول اب تك كے دريافت كرده تمام بليك هول سے زياده بڑا هے۔ اس كا حجم 6 بلين سورج سے بھي زياده هے۔اِس بليك هول كا نام M87 ركھا گيا هے۔ يه بليك هول هماري كهكشاں (Milky Way) سے 50 ملين سال نور كي دوري پر واقع هے۔

The black hole can eat the solar system

Astronomers have discovered what they say is the biggest ever black hole that weighs the same as 6.8 billion Suns and could swallow our entire solar system. According to the scientists, the black hole, identified as M87, is as large as the orbit of Neptune and is by far the largest and most distant galaxy in the nearby universe. As a point of comparison, the black hole at the centre of the Milky Way is 1,000 times smaller than this one which has been observed some 50 million light years away. (The Times of India, New Delhi, Tuesday, January 18, 2011, p. 19)

يه واقعه اور اِس طرح كے دوسرے واقعات معرفتِ الٰهي كے ليے عظيم خزانے كي حيثيت ركھتےهيں۔ يه واقعات خدا كي قدرت كو ناقابلِ قياس حد تك عظيم بناديتے هيں۔ جو آدمي اِن واقعات پر سوچے گا، اس كا دل خدا كي عظمت كے تصور سے دهل اٹھے گا، اس كے بدن كے رونگٹے كھڑے هوجائيں گے۔ يه واقعات ايك انسان كو اپنے بارے ميں انتهائي عجز اور خدا كے بارے ميں انتهائي قدرت كي ياد دلاتےهيں۔ ان واقعات پر غور كرنا بلا شبه اعليٰ معرفت كے حصول كا كائناتي خزانه هے۔

معرفت يه هے كه آدمي ايك طرف اپني محدوديت (limitation)كو جانے اور دوسري طرف وه خدا كي لامحدوديت كو دريافت كرے۔ اِس دريافت كے نتيجے ميں جو كيفيت آدمي كے اندر پيدا هوتي هے، اُسي كا نام معرفت هے۔ يه معرفت جس كو حاصل هوجائے، اس كے ليے گويا دنيا اور آخرت كي تمام سعادتوں كے دروازے كھل گئے۔ يهي وه خوش قسمت انسان هے، جس كے بارےميں آخرت ميں كها جائے گا  —تم جنت كے دروازوں ميں سے جس دروازے سے چاهو، جنت ميں داخل هوجاؤ۔ آج كے بعد تمھارے ليے نه كوئي خوف هے، اور نه كوئي حزن۔

 

عقيدهٔ خدا

كائنات كا ايك خدا هے، جو اس كا خالق اور مالك هے۔ اس خدا كے وجود كي سب سے بڑي دليل خود وه كائنات هے، جو همارے سامنے پھيلي هوئي هے۔ كائنات اپنے پورے وجود كے ساتھ پكار رهي هے كه ايك عظيم خدا هے، جس نے اس كو بنايا ،اور اپني بے پناه طاقت سے اس کو چلا رها هے۔ هم مجبور هيں كه هم كائنات كو مانيں، اور اسي ليے هم مجبور هيں كه هم خدا كو مانيں۔ كيوں كه كائنات كو ماننا اس وقت تك بے معني هے، جب تك اس كے خالق ومالك كو نه مانا جائے۔ كائنات اتني حيرت انگيز هے كه وه كسي بنانے والے كے بغير بن نهيں سكتي ،اور اس كا نظام اتنا عجيب هے كه وه كسي چلانے والے كے بغير چل نهيں سكتا۔ حقيقت يه هے كه خدا كو ماننے پر آدمي اس طرح مجبور هے، جس طرح اپنے آپ كو يا كائنات كو ماننے پر۔

آپ سائيكل كے پهيے پر ايك كنكري ركھيں، اور اس كے بعد پيڈل چلا كر پهيے كو تيزي سے گھمائيں تو كنكري دور جاكر گرے گي۔ حالاں كه سائيكل كے پهيے كي رفتار مشكل سے 25 ميل في گھنٹه هے۔ هماري يه زمين جس پر هم رهتے هيں، وه بھي ايك بهت بڑے پهيے كي مانند هے۔ زمين اپنے محور پر مسلسل ايك هزار ميل في گھنٹے كي رفتار سے دوڑ رهي هے۔ يه رفتار سواري كے عام هوائي جهازوں سے زياده هے۔ هم اس تيز رفتار زمين پر چلتے پھرتے هيں۔ گھر اور شهر بناتے هيں۔ مگر همارا وه حال نهيں هوتا، جو گھومتے هوئے پهيے پر ركھي هوئي كنكري كا هوتا هے۔ كيسا عجيب هے يه معجزه۔

سائنسی تحقیق بتاتی هے كه زمين پر همارے قائم رهنے كي وجه يه هے كه نيچے سے زمين بهت بڑي طاقت كے ساتھ كھينچ رهي هے، جس کو قوت کشش کہا جاتا ہے،اور اوپر سے هوا كا بھاري دباؤ هم كو زمين كي سطح پر روكے رهتا هے۔ يه دو طرفه عمل هم كو زمين پر تھامے هوئے هے، اور يهي وجه هے كه هم پهيے كي كنكري كي طرح فضا ميں اڑ نهيں جاتے۔ مگر يه جواب صرف يه بتاتا هے كه همارے آس پاس ايك اور اس سے بھي زياده بڑا معجزه موجود هے۔ زمين ميں اتنے بڑے پيمانے پر كھينچنے كي قوت هونا، اور اس كے چاروں طرف هوا كا پانچ سو ميل موٹا غلاف مسلسل لپٹا رهنا صرف معاملے كي حيرت ناكي كو بڑھاتا هے، وه كسي بھي درجے ميں اس كو كم نهيں كرتا۔

حقيقت يه هے كه اس دنيا كي هر چيز معجزه هے۔ آدمي مٹي كے اندر ايك چھوٹا سا دانه ڈالتا هے۔ اس كے بعد حيرت انگيز طورپر وه ديكھتا هے كه مٹي كے اندر سے ايك هري اور سفيد مولي نكلي چلي آرهي هے۔ وه دوسرا دانه ڈالتا هے تو وه ديكھتا هے كه اس كے اندر سے ميٹھا گاجر نكلا چلا آرها هے۔ اسي طرح بے شمار دوسري چيزيں۔ كسي دانے كو مٹي ميں ڈالنے سے امرود نكل رها هے۔ كسي دانے كو ڈالنے سے آم۔ كسي دانے سے شيشم كا درخت نكلا چلا آرها هے، اور كسي دانے سے چنار كادرخت۔ پھر ان ميں سے هر ايك كي صورت الگ، هر ايك كا مزه الگ، هر ايك كے فائدے الگ، هر ايك كي خاصيتيں الگ۔ ايك هي مٹي هے، اور ناقابلِ لحاظ چھوٹے چھوٹے بيج هيں، اور ان سے اتني مختلف چيزيں اتني مختلف صفتوں كو ليے هوئے نكل رهي هے، جن كي گنتي نهيں كي جاسكتي۔

حيرت ناك معجزوں كي ايك پوري كائنات همارے چاروں طرف پھيلي هوئي دكھائي ديتي هے۔ ايك ايسي دنيا جهاں سارے انسان مل كر ايك ذرے كي بھي تخليق نهيں كرسكتے وهاں هر لمحه بےشمار طرح طرح كي چيزيں پيداهوتي چلي جارهي هيں۔ حقيقت يه هے كه يه سب اتنے بڑے معجزے هيں كه ان كے كمالات كو انساني زبان ميں بيان نهيں كيا جاسكتا۔ ان كو بتانے كے ليے هماري لغت كے تمام الفاظ بھي ناكافي هيں۔ همارے الفاظ ان معجزوں كے اتھاه كمالات كو صرف محدود كرتے هيں۔ وه كچھ بھي ان كا اظهار نهيں كرتے۔ كيا يه معجزه ايك خدا كے بغير خود بخود وجود ميں آسكتا هے۔

دنيا كي هر چيز ايٹم سے بني هے۔ هر چيز اپنے آخري تجزيے ميں ايٹموں كا مجموعه هے۔ مگر كيسا عجيب معجزه هے كه كهيں ايٹموں كي ايك مقدار جمع هوتي هے تو سورج جيسا روشن كره بن جاتاهے۔ دوسري جگه يهي ايٹم جمع هوتے هيں تو وه بهتے هوئے پاني كي صورت ميں رواں هوجاتےهيں۔ تيسري جگه ايٹموں كا يهي مجموعه لطيف هواؤں كي صورت اختيار كرليتاهے۔ كسي اور جگه يهي ايٹم زرخيز زمين كي صورت ميں ڈھل جاتے هيں۔اسي طرح دنيا ميں ان گنت چيزيں هيں۔ سب كي تركيب ايٹم سے هوئي هے۔ مگر سب كي نوعيت اور خاصيت جدا جدا هے۔ اس قسم كي ايك معجزاتي كائنات اپني بے شمار سرگرميوں كے ساتھ انسان كي خدمت ميں لگي هوئي هے۔ انسان كو اپني زندگي كے ليے جو كچھ دركار هے وه بهت بڑے پيمانے پر دنيا ميں جمع كرديا گيا هے، اور هر روز جمع كيا جارها هے۔ دنيا كو اپنے ليے قابلِ استعمال بنانے كي خاطر انسان كو خودجو كچھ كرنا هے، وه بهت تھوڑا هے۔ كائناتي انتظام كے تحت بے حساب مقدار ميں قيمتي رزق پيدا كيا جاتا هے۔ هم اس ميں صرف اتنا كرتے هيں كه اپنا هاتھ اور منھ چلا كر اس كو اپنے پيٹ ميں ڈال ليتے هيں۔ اس كے بعد همارے ارادے كے بغير خود كار فطري نظام كے تحت غذا همارےاندر تحليل هوتي هے، اور گوشت اور خون اور هڈي اور ناخن اور بال اور دوسري بهت سي چيزوں كي صورت اختيار كركے همارے جسم كا جزء بن جاتي هے۔

 زمين وآسمان كي بے شمار گردشوں كے بعد وه حيرت انگيز چيز پيدا هوتي هے، جس كو تيل كهتےهيں۔ انسان صرف يه كرتا هے كه اس كو نكال كر اپني مشينوں ميں بھر ليتاهے، اور پھر يه سيال ايندھن انساني تهذيب كے پورے نظام كو حيرت انگيز طور پر رواں دواں كرديتاهے۔ اسي طرح كائنات كے نظام كے تحت وه ساري چيزيں بے شمار تعداد اور مقدار ميں پيدا كي گئي هيں، جن پر انسان صرف معمولي عمل كرتاهے، اور اس كے بعد وه كپڑا، مكان، فرنيچر، آلات، مشينوں، سواريوں اور بےشمار تمدني ساز وسامان كي صورت ميں ڈھل جاتي هيں۔ كيا يه واقعات اس بات كے ثبوت كے ليے كافي نهيں كه اس كا ايك بنانے والا اور چلانے والا هے۔

اب ايك اور پهلو سے ديكھیے۔ قدرت اپنے طويل اور ناقابلِ بيان عمل كے ذريعے هر قسم كي چيزيں تيار كركے هم كو دے رهي هے۔ انسان ان كواپنے حق ميں كار آمد بنانے كے ليے بے حد تھوڑا حصه ادا كرتا هے۔وه لوهے كو مشين كي صورت ميں ڈھالتا هے، اور تيل كو صاف كركے اس كو اپني گاڑي كي ٹنكي ميں بھرتاهے۔ مگر اس قسم كے معمولي عمل كا يه نتيجه هے كه خشكي اور تري فساد سے بھرگئے هيں۔ قدرت نے هم كو ايك انتهائي حسين اور خالص دنياعطا کي تھي۔ مگر همارے عمل نے هم كو دھواں، شور، غلاظت، توڑپھوڑ، لڑائي جھگڑا اور طرح طرح كے ناقابلِ حل مسائل سے گھير ليا هے۔ هم اپنے كارخانوں يا تمدّني سرگرميوں كي صورت ميں جو تھوڑا سا عمل كرتے هيں، وهي عمل كائنات ميں بےحساب گنا زياده بڑے پيمانے پر رات دن هورها هے، مگر يهاں كسي قسم كا كوئي مسئله پيدا نهيں هوتا۔

 زمين مسلسل دو قسم كي دوڑ ميں لگي هوئي هے۔ ايك، اپنے محور (axis)پراور دوسري، سورج كے گرد اپنے مدار (orbit)پر، مگر وه كوئي شور برپا نهيں كرتي۔ درخت ايك عظيم الشان كارخانه كي صورت ميں كام كرتے هيں مگر وه دھواں نهيں بكھيرتے۔ سمندروں ميں بے شمار جانور هر روز مرتے هيں مگر وه پاني كو خراب نهيں كرتے۔ كائنات كا نظام كھرب ها كھرب سال سے چل رها هے۔ مگر اس كا منصوبه اتنا كامل هے كه اس كو كبھي اپنے منصوبه پر نظر ثاني كي ضرورت پيش نهيں آتي۔ بے شمار ستارے اور سيارے خلا ميں هر وقت دوڑ رهے هيں۔ مگر ان كي رفتار ميں كبھي فرق نهيں آتا، وه كبھي آگے پيچھے نهيں هوتے۔ يه تمام معجزوں سے بڑا معجزه اور تمام كرشموں سے بڑا كرشمه هے، جو هر لمحه هماري دنيا ميں پيش كيا جارها هے۔ كيا اس كے بعد كوئي اور ثبوت چاهيے كه آدمي اس كائنات كے پيچھے ايك عظيم خدائي طاقت كو تسليم كرے۔

پھر زندگي كو ديكھیے۔ فطرت كا كيسا انوكھا واقعه هے كه چند مادي چيزيں خود بخود ايك جسم ميں يك جا هوتي هيں، اور پھر ايك ايسي شخصيت وجود ميں آجاتي هے، جو مچھلي بن كر پاني ميں تيرتي هے، جو چڑيا بن كر هوا ميں اڑتي هے۔ طرح طرح كے جانوروں كي صورت ميں زمين پر چلتي پھرتي هے، انھيں ميں وه جان دار بھي هے، جس كو انسان كها جاتا هے۔ پراسرار اسباب كے تحت ايك موزوں جسم بنتا هے، اور اس كے اندر هڈياں ايك انتهائي با معني ڈھانچے كي صورت اختيار كرليتي هيں۔ پھر اس كے اوپر گوشت چڑھايا جاتا هے۔اس كے اوپر كھال كي تهيں اوڑھائي جاتي هيں، بال اور ناخن پيدا كیے جاتے هيں۔ پھر سارے جسم ميں خون كي نهريں جاري كي جاتي هيں۔ اس طرح ايك خود كار عمل كے ذريعے ايك عجيب وغريب انسان بنتا هے، جو چلتا هے، جو پكڑتا هے، جو ديكھتا هے، جو سنتا هے، جو سونگھتا هے، جو چكھتا هے، جو سوچتا هے، جو ياد ركھتا هے، جو معلومات جمع كركے ان كو مرتب كرتا هے، جو لكھتااور بولتا هے۔ مرده مادّے سے اس قسم كے ايك حيرت ناك وجود كا بن جانا ايك ايساانوكھا واقعه هے كه معجزے كا لفظ بھي اس كے اعجاز (miracle)كو بتانے كے ليے كافي نهيں۔

 اگر كوئي شخص كهے كه ميں نے مٹي كو بولتے هوئے سنا اور پتھر كو چلتے هوئے ديكھا تو لوگ حيران هو كر اس كي تفصيل دريافت كريں گے۔ مگر يه انسان جو چلتا پھرتاهے، جو بولتا اور ديكھتا هے آخر مٹي پتھر هي تو هے۔ اس كے اجزا وهي هيں، جو ’’مٹي اور پـتھر‘‘ كے هوتے هيں۔ مٹي اور پتھر كے بولنے اور ديكھنے كي خبر كو هم جس طرح عجيب سمجھيں گے، اسي طرح بلكه اس سے زياده تعجب هم كو اس مخلوق پر هونا چاهيے جس كو انسان كهاجاتاهے۔ بے جان مادّے ميں اس قسم كي زندگي اور شعور پيدا هوجانا كيا اس بات كا ثبوت نهيں كه يهاں ايك برتر هستي هے، جس نے اپني خصوصي قدرت سے يه عجيب وغريب معجزه رونما كيا هے۔

انسان اگر اپنے اوپر غور كرے تو به آساني وه خدا كي حقيقت كو سمجھ سكتاهے۔ هم ديكھتے هيں كه انسان كي صورت ميں ايك ’’ميں‘‘ زمين پر موجود هے۔ اس كي اپني ايك مستقل هستي هے۔ وه دوسري چيزوں سے الگ اپنا ايك وجود ركھتا هے۔ يه ’’ميں‘‘ بلا اشتباه يقين ركھتا هے كه وه هے۔ وه سوچتا هے اور رائے قائم كرتاهے۔ وه اراده كرتاهے، اور اس كو بالفعل نافذ كرتاهے۔ وه اپنے فيصله كے تحت كهيں ايك رويه اور كهيں دوسرا رويه اختيار كرتاهے۔ يهي شخصيت اور قوت جس كا ايك آدمي اپني ’’ميں‘‘ كي سطح پر هر وقت تجربه كررها هے يهي ’’ميں‘‘ اگر خدا كي صور ت ميں زياده بڑےپيمانه پر موجود هو تو اس ميں تعجب كي كيا بات هے۔ حقيقت يه هے كه خدا كو ماننا ايسا هي هے جيسے اپنے آپ كو ماننا۔ اسي ليے قرآن ميں كها گيا هے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ۔ وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ(75:14-15)۔ آدمي اپنے واسطے آپ دليل هے، چاهے وه كتني هي معذرت كرے ۔

لوگ خدا پر اور خدا كے پيغام پر يقين كرنے كے ليے معجزاتي دليل مانگتے هيں۔ آخر لوگوں كو اس كے سوا اور كون سا معجزه دركار هے، جو ناقابلِ قياس حد تك بڑے پيمانے پر ساري كائنات ميں جاري هے۔ اگر اتنا بڑا معجزه آدمي كو جھكانے كے ليے كافي نه هو تو دوسرا كوئي معجزه ديكھ كر وه كيسے ماننے كے ليے تيار هوجائيں گے۔ حقيقت يه هے كه خدا كو ماننے اور اس كے آگے اپنے آپ كو سرینڈر کرنے كے ليے جس چيز كي ضرورت هے، وه هر وقت هر آدمي كے سامنے موجود هے۔ اس كے باوجود آدمي اگر خدا كو اور اس كے جلال وكمال كو نه مانے تو يه اس كا اپنا قصور هے ،نه كه كائنات كا۔

 

خدا اور انسان

خدا كے وجود كا سب سے بڑا ثبوت انسان كا خود اپنا وجود هے۔ خدا جيسي هستي كو ماننا جتنامستبعد هے، اتنا هي مستبعد يه بھي هے كه انسان جيسي هستي كو مانا جائے۔ اگر هم ايك انسان كو مانتے هيں تو ايك خدا كو ماننے ميں بھي همارے ليےكوئي ركاوٹ نهيں هونا چاهيے۔

قرآن ميں بتاياگيا هے كه خدانے انسان كے اندر اپني روح پھونكي (الحجر،15:29)۔ اس كا مطلب يه هے كه انسان خدا كي صفات كا ايك بشري نمونه هے۔ وجود، زندگي،علم، قدرت، اراده، اختيار اور دوسري صفاتِ كمال جن كا حقيقي مظهر صرف خدا كي ذات هے۔ ان كا ايك عكس (نه كه حصه) انسان كو دیا گیا هے۔ انسان كسي بھي اعتبار سے خدا كا جزء نهيں، مگر وه اپني ذات ميں اس خدا كي محسوس دليل هے، جس خدا كو غيبي طورپر ماننے كا انسان سے مطالبه كيا گيا هے۔

انسان كے اندر وه ساري خصوصيات شهود (seen)كے درجے ميں موجودهيں، جن خصوصيات كے ساتھ ايك خدا كو غيب (unseen)كے درجے ميں ماننے كا مطالبه كياگياهے۔

انسان كا ايك مستقل وجود هے۔ وه ديكھنے اور سننے اور بولنے كي صلاحيت ركھتا هے۔ وه سوچتا هے، اور منصوبه بناتا هے۔ وه اپنے ذاتي ارادے كے تحت حركت كرتا هے۔ وه ماده كو تمدن ميں تبديلي كرتاهے۔ وه ريموٹ كنٹرول سسٹم كے ذريعے خلائي مشين كو چلاتاهے۔ وه اپني ذات كا شعور ركھتا هے۔ وه جانتا هے كه ’’ميں هوں‘‘ — انھيں صفات كي كامل هستي كا نام خدا هے۔

انسان اور خدا ميں جو فرق هے، وه يه هے كه انسان كا وجود غير حقيقي هے، اور خدا كا وجود حقيقي۔ يه مخلوق هے اور وه خالق۔ يه محدود هے اور وه لامحدود۔ يه بے اختيار هے اور وه بااختيار۔ يه فاني هے اور وه غير فاني۔ انسان كے پاس جو كچھ هے وه عطيه هے جب كه خداكے پاس جو كچھ هے وه اس كا ذاتي هے، وه كسي دوسرے كا ديا هوا نهيں۔

انسان كو ماننا بلا تشبيه ’’چھوٹے خدا‘‘ كو ماننا هے۔ پھر كيا وجه هے وه ’’بڑے خدا‘‘ كو نه مانے۔ هر شخص جو خدا كو نهيں مانتا، وه يقيناً اپنا اقرار كرتا هے۔ وه انساني وجود كو تسليم كرتاهے۔ جو شخص انسان كو مان رها هو، اس كے ليے خدا كو نه ماننے كي كوئي دليل نهيں۔ انسان كے وجودكا اقرار كركے وه خدا كے وجود كا بھي اقرار كرچكا هے، خواه وه اپني زبان سے اس كا اظهار كرے يا نه كرے۔

حقيقت يه هے كه خدا كا انكار خود اپنا انكار هے، اور كون هے جو خود اپنا انكار كرسكے۔

 

ناقابلِ توجيهہ

انساني دماغ اتنا زياده پيچيده هے كه بے شمار تحقيقات كے باوجود آج بھي هم اس كے بارے ميں بهت كم جانتے هيں۔ايك محقق كے الفاظ ميں، دماغ كے بارےميں همارا علم جتنا بڑھتا هے اتنا هي زياده پته چلتا هے كه هم كتنا كم جانـتے هيں ،اورابھي كتنا زياده جاننا باقي هے:

The more we know the more we realize how little we know and how much more we need to know.

تحقيقات بتاتي هيں كه آئن سٹائن جيسے عبقري انسان جنھوں نے بہ ظاهر اپني ذهني صلاحيت كو آخري حد تك استعمال كيا، انھوںنے بھي حقيقةً اپنے دماغ (brain)كا بهت چھوٹا سا حصه استعمال كيا۔ ان كے دماغ كا بيشتر حصه غير استعمال شده رها، يهاں تك كه ان كي موت آگئي۔ اس كي وجه سے يه سوال پيدا هوتاهے كه فطرت نے كيوں اور كيسے ارتقائي عمل كے ذريعے اس معجزاتي چيز كو پيداكيا جس كو دماغ كهاجاتاهے:

Why and how then has nature produced through the evolutionary process this marvellous thing called the human brain.

كهاجاتا هے كه ضرورت اور استعمال سے چيزيں ترقي كرتي هيں۔ مگر جو دماغ سرے سے استعمال هي نهيں هوا وه كيسے وجود ميں آيا۔ ڈارونزم كا كهنا هے كه جسماني اعضا اور دماغ پهلے سے پيدا شده موجود نهيں تھے۔ وه حالات كے مقابلے ميں زنده رهنے كي كوشش كے دوران وجود ميں آئے هيں:

The human organism, including the brain, has developed in response to the challenges it has faced in it effort to survive.

مگر سوال يه هے كه دماغ كے جو حصے سرے سے كبھي استعمال هي نهيں هوئے وه آخر كيسے وجود ميں آكر ترقي كرنے لگے۔ جب ’’استعمال‘‘ چيزوں كا خالق هے تو ’’عدم استعمال‘‘ نے كس طرح چيزوں كو پيدا كرليا۔ حقيقت يه هے كه غير استعمال شده دماغ كا هر انسان كے ساتھ پيدا هونا اور مسلسل موجود رهنا ظاهر كرتاهے كه وه خارج سے انسان كو ديے جارهے هيں نه كه انساني كوشش سےاس كو حاصل هورهے هيں۔ غير استعمالي دماغ كي موجودگي ڈارون كے اس نظريے كي نفي كررهي هے كه فطرت ميں بقائے اصلح (survival of the fittest) اور انتخابي طريقِ عمل (selection process)پايا جاتا هے۔

ـــــــــــــــــــــــ

انسانی دماغ

موجودہ زمانے کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain)  میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کرسکا۔

حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے ليے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی ليے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔

 

يه محكم نظام

خلا ميں بے شمار ستارے هر وقت گردش كرتے رهتے هيں۔ مگر ان میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔اگر خلا كا ايك كره دوسرے كرے سے ٹكرا جائے تو زبردست تباهي برپا هو۔ ہمارا سولر سسٹم ملکی وے کا حصہ ہے۔ اس میں سورج کے محل وقوع کا زمین پر زندگی کے بقا میں بہت اہم کردار ہے۔ سورج اس علاقے سے دور ہے، جہاں خطرناک سپرنووا کی کثرت پائی جاتی ہے۔اس دوری کی وجہ سے زمین سپرنووا کے خطرناک اثرات سے محفوظ ہے۔ سورج کہکشاں کےایک کنارے پر واقع ہے۔ اگروہ ملکی وے کے مرکز  میںواقع ہوتا تو وہاں پر کثیر تعداد میں موجود اجسام زمین سے ٹکرا سکتے تھے۔ اسی طرح کہکشاں کے مرکز سے آنے والی الکٹرومیگنٹک لہریں کچھ جانداروں کے لیےنقصان دہ بھی ہو سکتی تھیں۔

چاند انتهائي چھوٹا هے۔ اس كي حقيقت عظيم خلا ميں ايك ذره كے برابر بھي نهيں۔ پھر وه هماري زمين سے سب سے قريب هے۔ اس كے باوجود وه زمين سے نهيں ٹكراتا۔ جب كه انسان کے بنائے ہوئے مصنوعي سيارے برابر اپني عمر ختم كركے زمين پر گرتے رهتے هيں۔چاند كا وزن اندازے کے مطابق،73.5 ملین میٹرک ٹن هے۔ اس كا قطر 3500 كيلوميٹر هے ،اور زمين سے اس كا فاصله 3 لاكھ 84 هزار كيلو ميٹر هے۔ زمين سورج كے گرد گھومتي هے اور چاند زمين كے گرد۔ يه سلسله اربوں سال سے جاري هے۔ مگران كا نظام اتنا محكم هے كه وه نهايت صحت كے ساتھ اپنے مدار (orbit)پر باقي هے۔ چاند كو زمين كي مقناطيسي قوت (magnatic force) اپني طرف كھينچتي هے۔ مگر خود چاند كي حركت كي قوت اس كو مسلسل زمين سے دور هٹاتي هے۔ كشش اور حركت كي ان قوتوں كے باهمي عمل كے نتيجے ميں چاند كا راسته ايك لمبے بيضاوي مدار كي شكل اختيار كرليتاهے۔ تمام آسماني اجسام اسي طرح بيضاوي مدار ميں گھومتے رهتےهيں۔اگر چاند اپنے مدار كو چھوڑ كر زمين پر گرنے لگے تو اس وقت اس كي رفتار گياره كيلو ميٹر في سكنڈ سے زياده هوگي۔ اس تيز رفتاري سے جب وه هماري زمين سے ٹكرائے گا تو يه اس سے بھي زياده بڑا حادثه هوگا ،جو دنيا كے تمام بموں كے يكبارگي پھٹ جانے سے هوسكتا هے۔

 

كائنات كي نشانياں

’’پتھر اور لكڑي كو كوٹ پيس كر ملا دو تو وه پٹرول بن جائے گا۔‘‘ اس قسم كي بات بہ ظاهر بالكل مضحكه خيز معلوم هوتي هے۔ يقيناً انسان اس طرح كا كوئي واقعه ظهور ميں لانے پر قادر نهيں۔ مگر اسي قسم كےاس سے زياده عجيب واقعات اس دنيا ميں هر دن ظهور ميں آرهےهيں۔ قدرت كي كيمسٹري هر دن ايسے بے شمار واقعات ظهور ميں لاتي هے، جو انسان كے ليے صرف ايك ناقابلِ فهم عجوبے كي حيثيت ركھتے هيں۔

آكسيجن اور هائڈروجن دو گيسيں هيں۔ قدرت ان كو ايك خاص تناسب سے ملاتي هے تو ان كا مجموعه پاني جيسے سفيد سيال كي صورت اختيار كرليتاهے۔ كاربن كے ساتھ كچھ نمكيات اور معدنيات جمع هوتي هيں تو زندگي وجود ميں آجاتي هے۔مقناطيسي فيلڈ اور حركت كو يكجا كيا جاتا هے تو بجلي جيسي حيرت ناك طاقت پيدا هوتي هے۔ اسي طرح مقناطيسي فيلڈ اور بجلي كو اكٹھا كيا جاتا هے تو انتهائي تيز حركت وجود ميں آجاتي هے۔ ايك بيج كو مٹي ميں ملا ديا جاتا هے تو اس سے لكڑي اور پتي اور پھول اور پھل كا ايك مجموعه نكل كر كھڑا هوجاتا هے،وغيره وغيره۔

اس قسم كے بے شمار كرشمے كائنات ميں هر لمحه ظاهر هورهے هيں۔ انسان ان كو ديكھ كر حيران ره جاتا هے۔ وه ديكھتا هے كه نه خود ان چيزوں ميں اپنے آپ كو ظهور ميں لانے كي طاقت هے، اور نه انسان اس پر قادر هے كه وه بطور خود كسي واقعے كو پيدا كرسكے۔ ’’پھر يه سب كيسے هورها هے۔‘‘ اس سوال كے جواب ميں کوئی انسان كهه دیتا هے كه يه سب خدا كا انش (جزء)هے۔ یعنی يه خود خدا هے، جو اَن گنت صورتوں ميں اپنے آپ كو ظاهر كر رها هے۔قرآن اس قسم كے جواب كو غیر صحیح قرار ديتا هے۔ قرآن كے نزديك يه چيزيں خدا كا اَنش  نهيں، بلكه خدا كا حكم هيں۔ یعنی خدا نے اپني قدرت سے ان كو پيدا كيا هے، نه كه خود خدا ان كي صورت ميں ظاهر هوا هے۔

’’ستارے‘‘ قديم زمانے سے شعرا كے حسين تخيلات كا مركز رهے هيں۔ ’’چاند‘‘ كو انسان ديوتا كے روپ ميں ديكھتا رها هے۔ مگر حقيقت اس كے برعكس هے۔ ستارے هيبت ناك آگ كے شعلے هيں،اور چاند اور دوسرے سيارے محض خشك چٹانيںہیں، جن پر پاني كا ايك قطره يا درخت كا ايك پته بھي نهيں۔ كائنات انتهائي وسيع هونے كے باوجود انسان جيسي مخلوق كے ليے انتهائي طورپر غير موافق هے۔ ساري معلوم كائنات ميں صرف زمين هي ايك ايسا سیارہ هے، جهاں انسان زنده رهتاهے، اور تمدن كي تعمير كرتا هے۔ بے حد وسيع كائنات ميں زمين كا استثنا واضح طور پر ايك ذي شعور هستي كے وجود كا ثبوت هے، جس نے بالاراده زمين پر استثنائي حالات پيدا كیے۔

سائنس داں تقريباً نصف صدي سےاس كوشش ميں لگے هوئے هيں كه خلا ميں زمين سے ملتے جلتے دوسرے سیارے دريافت كريں تاكه يه ثابت هوسكے کہ هماري زمين كا ئناتي استثنا نهيں هے، بلكه اس طرح كے حالات كم يا زياده دوسرےسیاروں پر بھي پائے جاتے هيں۔ بالفاظِ ديگر، زمين كا خالق قانونِ ارتقا هے ،نه كه كوئي خدا۔ مگر يه تلاش كھرب هاكھرب ڈالر خرچ كرنے كے باوجود ابھي تك ناكامي كے سوا كسي اور مقام تك نه پهنچ سكي۔

ــــــــــــــــــــــــ

جواہر لال نہرو کا بیان

پنڈت جواہر لال نہرو (1889-1964) انڈیا کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ زندگی ایک نہایت پیچیدہ نظام ہے۔ ہم منصوبے بناتے ہیں، اور عمل کے نقشے مقرر کرتے ہیں۔ مگر کم ہی ایسا ہوتاہے کہ نتیجہ ہمارے سوچے ہوئے نقشہ کے مطابق نکلتا ہو۔ اکثر نامعلوم اسباب (unknown factors) ہمارے مفروضات پر بھاری ثابت ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مخفی طاقتیں ہیں، جو انسان کی تقدیر بناتی ہیں۔

ایک انسان جو خدا میں یقین نہ رکھتا ہو، وہ اتنا ہی کہہ سکتا تھا۔ مگر مذہب اس پر یہ اضافہ کرتا ہے کہ بلاشبہ ایسی ایک مخفی طاقت ہے، جو انسان کی تقدیر بناتی ہے، اور یہ مخفی طاقت خدا ہے۔

 

انسان کی بے اختیاری

برٹش سائنس داں سر جیمز جینز نے اپنی کتاب پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں انسان اور کائنات کے تعلق کے بارےمیں لکھا ہے— ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے ليے بنائی نہیںگئی تھی:

It appears that man has strayed in a world which was not made for him.

مگر زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا، اور نہ وہ اس دنیا کو کنٹرول کرنے والا ہے:

It appears that man has strayed in a world which was not made by him, and nor is he its controller.

اس دنیا میں انسان کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے پاتا ہے۔ لیکن یہ وجود ایک عطیہ ہے، اس نے خود اپنے آپ کو وجود نہیں بخشا۔ انسان کو صحت مند جسم چاہیے۔ صحت مند جسم ہوتو وہ بھرپور زندگی گزارتا ہے، لیکن صحت مند جسم اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو ان تمام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم ہوتو انسان کامیاب زندگی گزارےگا، لیکن اس سسٹم کو قائم کرنا اس کے اپنے بس میں نہیں۔

انسان کو موافق موسم درکار ہے۔ موافق موسم ہوتو انسان امن و عافیت کے ساتھ زندگی گزارے گا، لیکن موافق موسم کو قائم کرنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن ہر انسان جو پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ ایک مقرر وقت پر مر جاتا ہے۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ اپنے آپ پر موت کو وارد ہونے سے روک دے۔ انسان مکمل طور پر ایک ضرورت مند ہستی ہے، لیکن اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے ليے وہ مکمل طور پر ایک خارجی طاقت کا محتاج ہے۔

انسانی زندگی کا یہ پہلو بے حد قابلِ غور ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے کامل معنوں میں ایک صاحبِ احتیاج مخلوق ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت کو خود پورا کرنے پر قادر نہیں۔ انسان کی زندگی کے یہ دو متضاد پہلو (two contradictory aspects) انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے اس معاملے کی حقیقت کو دریافت کرے، اور اس دریافت کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کا نقشہ بنائے۔

انسان کا تجربہ اس کو بتاتا ہے کہ اس دنیا میں وہ صرف ایک پانے والا (taker) ہے، اور دوسری طرف کوئی ہے جو صرف دینے والا (giver) ہے۔ یہ نسبت انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی حقیقت کے بارے میں سوچے، وہ اپنی زندگی کو حقیقتِ واقعہ کے مطابق بنائے۔ وہ اپنے آپ کو اس مقام پر رکھے جہاں وہ حقیقۃً ہے، اور دوسری ہستی کے ليے اس مقام کا اعتراف کرے جس کا وہ حق دار ہے۔

مختصر الفاظ میں یہ کہ انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ اپنے معاملے پر غور کرے گا تو وہ پائے گا کہ وہ خود اس دنیا میں عبد کے مقام پر ہے، اور دوسری ہستی معبود کے مقام پر۔ یہی دریافت انسان کی کامیابی کا اصل راز ہے۔ جو انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے اس حقیقت کو دریافت کرلے، وہی انسان، انسان ہے۔ اس کے ليے تمام ابدی کامیابیاں مقدر ہیں۔ اس کے برعکس، جو شخص اس حقیقت کی دریافت میں ناکام رہے، وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے۔ اس کے ليے اس دنیا میں ابدی خسران (eternal loss) کے سوا اور کچھ نہیں۔

جو شخص اس حقیقت کو دریافت کرلے، وہ فطری طور پر وہ رسپانس (response) دے گا، جس کا ذکر قرآن کی پہلی سورت میں ان الفاظ میںا ٓیاہے:الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(1:2)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بر تر ہستی کا شکر جو سارے عالم کا رب ہے، جو انسان کی تمام کمیوں کی تلافی کرنے والا ہے۔ یہ اعتراف انسان کے اندر وہ انقلاب پیدا کرے گا،جب کہ اس کے اندر اپنے رب کے ليے حبّ ِشدید اور خشیتِ شدید پیدا ہوجائے۔ یہی وہ فرد ہے ،جس کو قرآن میںمومن کہا گیا ہے۔

 

انسان کے لیے سبق

قرآن میں ایک بات ان الفاظ میں آئی ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے ، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پرغور کرکے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعے سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کرسکتا ہے۔

 مثلاً انسان جب اس کائنات کو دیکھتاہے ، تو اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پوری کائنات نہايت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔مثلاً سورج ہمیشہ ٹھیک اپنےوقت پر نکلتا ہے، اور ٹھیک متعین وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چل رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کے انتظام میں ہمیشہ نقائص موجود رہتے ہیں۔ انسان اگر اس معاملے کا مطالعہ تقابلی انداز میں کرے، تو وہ خود اپنے مطالعے کے ذریعے خدائے برتر کے وجود کو دریافت کرلے گا۔ یہ دریافت اس کو یہ کہنے پر مجبور کردے گی:أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10) ۔ یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے۔

اگر آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ قرآن و حدیث کی باتوں کو اپنے الفاظ میں ڈھال سکے تو اس کی دریافت اس کے لیے رِی ڈسکوری (rediscovery) بن جاتی ہے۔ وہ مذکورہ باتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں دریافت کرنے لگتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آیاہے:وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا   (14:34)۔ یعنی اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا ۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم گن نہیں سکتے۔ اگر آپ کے پاس اپنے مطالعے کے مطابق، یہ لفظ موجود ہو کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جو ہیومن فرینڈلی دنیا ہے۔ اس کا احساسِ شکر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

 

حفاظتي ڈھال

قرآن ( 21:32) ميں فرمايا گياهے —  اور هم نےآسمان كو ايك محفوظ چھت بنايا (وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا)۔ اس سے معلوم هوتاهے كه آسمان(بالائي فضا) كو الله تعالي نے اپني رحمت وقدرت سے اس طرح بنايا هے كه وه انسان كے ليے ضرر رساں چيزوں سے حفاظت كا ذريعه بن جائے۔ اس نظام خداوندي كے بے شمار پهلو هيں۔ تاهم اس كا ايك جزء غالباً وه فضائي گيس هے، جس كو اوزون (ozone) كهاجاتاهے۔

سورج هماري زمين سے نوكرور تيس لاكھ ميل دور هے۔ وه اتنا بڑا هے كه اگر اس كے مادے کو تقسيم كياجائے تواس سے هماري زمين جيسے باره لاكھ كُرے بن جائيں گے۔ يه سورج همارے ليے روشني اور حرارت كا ذريعه هے۔ اس سلسلے ميں اس كا موجوده فاصله بے حداهم هے، اگر زمين سے سورج كا فاصله موجوده فاصلے سے كم هوتا هے تو اس سے آنے والي روشني اور حرارت اتني شديد هوتي كه زمين پر كسي ذي حيات كے ليے زنده رهنا هي ناممكن هوجائے۔

سورج كي جو شعاعيں (rays)زمين پر آتي هيں ان ميں بعض نهايت مضر اجزا هوتے هيں۔ مثلاً ان آفتابي شعاعوں (sun rays) كا ايك جزء وه هے، جس كو الٹراوائلٹ شعاعيں (ultraviolet rays) كهاجاتاهے۔ يه شعاعيں ذي حيات مخلوق كے ليے سخت مضر هيں۔ ان سے طرح طرح كي بيمارياں پيداهوتي هيں، اور ان كي زيادتي انسان اورحيوان كوهلاك كرنے كا باعث بن جاتي هے۔

الٹراوائلٹ شعاعيں مسلسل سورج سے نكل كر زمين كي طرف آرهي هيں۔ اس كے باوجود انسان اورحيوان كيوں زمين پر زنده هيں، اس كي وجه يه هے كه زمين كے اوپر كئي سو ميل كي جو فضا (atmosphere) هے۔ اس كي مختلف تهوں ميں سے ايك ته وه هے، جو اوزون گيس پر مشتمل هے۔

يه اوزون ايك قسم كي آكسيجن گيس هے۔اس كے مخصوص ماليكولر ڈھانچے كي وجه سے اس ميں يه صفت پيدا هوگئي هے كه وه اوپر سے آنے والي الٹراوائلٹ شعاعوں كو جذب كرلے اور ان كو زمين كي سطح تك پهنچنے نه دے۔ سائنسي تحقيق كے مطابق، يهي اوزون گيس كي ته هے جو انسان كو الٹراوائلٹ شعاعوں كے مضر اثرات سے بچائے هوئے هے۔

قرآن كا بيان هے كه الله تعالي نے زمين كےاوپر بالائي فضا ميں ايك محفوظ چھت قائم كي۔ بالائي فضا (atmosphere) كے بارے ميں موجوده زمانے ميں جو سائنسي تحقيقات هوئي هيں، وه قرآن كے اس بيان كے حق ميں ايك علمي تائيد كي حيثيت ركھتي هيں۔ يه تحقيقات بتاتي هيں كه فضا كے اوپر اوزون گيس كي ايك موٹي تهه هے، جو كرهٔ ارض كے چاروں طرف پھيلي هوئي هے۔ يه فضائي چھتري انسان كے ليے ايك حفاظتي ڈھال كا كام كررهي هے۔ اس حفاظتي ڈھال كے بغير انسان كے ليے يه ممكن هي نه هوتا كه وه زمين كے اوپر آباد هو اور يهاں تمدن كي تعميركرے۔

تحقيقات سے معلوم هوا هے كه بالائي فضا ميں 20 كيلوميٹر اور 50 كيلوميٹر كي بلندي كے درميان موجود گيسوں ميں قدرتي طورپر ايك رد عمل هوتا هے۔ اس كے نتيجے ميں بننے والے نئے قسم كے ماليكيول سے ايك گيس تيار هوتي هے، جس كو اوزون كهاجاتا هے۔ يه اوزون زمين كے چاروں طرف فضا ميں پھيلي هوئي هے۔ وه الٹراوائلٹ شعاعوں كو جذب كر ليتي هے، اور اس طرح وه زمين كے اوپر زندگي كے ليے ايك اهم حفاظتي ڈھال كا كام كرتی هے:

In the region between about 20 and 50 kilometers the. monatomic oxygen reacts with 02 to form ozone  (03). The resulting worldwide layer of ozone, although its relative concentration is less than 1/10,000, is sufficient to absorb ultraviolet radiation and thereby serve as a vital protective shield for life on earth. (2/322-23)

موجوده زمانے ميں صنعتي تمدن نے انسان كے ليے نئے مسائل پيدا كيے هيں۔ ان ميں ايك خطرناك مسئله يه هے كه جديد صنعتوں كے پيدا كرده بعض گيسوں كي وجه سے اوزون كي تهه كو شديد نقصان پهنچ رهاهے۔ اب يه خطره پيدا هوگياهے كه فضا كي اوزون ميں رخنه پڑنے سے، كم از كم جزئي طورپر، الٹراوائلٹ شعاعوں كو زمين تك پهنچنے كا راسته مل جائے اور پھر انسان كے ليے طرح طرح كے ناقابلِ حل مسائل پيدا هوجائيں۔

موجوده زمانے ميں اس پر باقاعده ريسرچ كي جاري هے ،اور اس سلسلے ميں كافي لٹريچر شائع كيا گيا هے۔ ٹائم ميگزين (17 فروري 1992)نے اس مسئلے كو اپني كور اسٹوري بنايا هے۔ اس كا عنوان هے— ختم هوتي هوئي اوزون، خطره قريب آرهاهے:

Vanishing Ozone: the Danger Comes Closer.

زندگي كے ليے يه ضروري گيس جس كي بربادي كا مسئله پيدا هوگيا هے، وه آكسيجن كي ايك قسم هے جس كے ماليكول ميں تين ايٹم هوتے هيں ،جب كه عام آكسيجن كے ماليكيول ميںدو ايٹم هوتے هيں۔ ڈھانچے ميں اس ساده تبديلي نے اوزون ميں يه صلاحيت پيدا كردي هے كه وه الٹراوائلٹ شعاعوں كو جذب كرسكے:

The vital gas being destroyed is a form of oxygen in which the molecules have three instead of the normal two. The simple structure enables ozone to obsorb ultraviolet radiation. (p. 41)

سائنسي نقطهٔ نظر سے ماليكول كے ايٹمي ڈھانچے ميں يه تبديلي هي وه سبب هے، جس كي بناپر اوزون اس صفت كي حامل گيس بن گئي هے كه وه سورج سے آنے والي مضر گيس كو اپنے اندر جذب كرلے اور اس كو زمين كي سطح تك پهنچنے نه دے۔ چنانچه كها جاتا هے كه بالائي فضا ميں اوزون كي يه گيسي چادر هم كو مسلسل طورپر الٹراوائلٹ شعاعوں كے مهلك اثرات سے بچائےهوئے هے۔

مگر كوئي عقلي يا سائنسي دليل يه ثابت كرنے كے ليے موجود نهيں كه ايٹم كي تعداد ميں تبديلي بذاتِ خود اپنے اندر اس قسم كي انوكھي اور مفيد صلاحيت ركھتي هے۔ حقيقت يه هے كه انسان كو اس آسماني آگ سے بچانے والا خدا هے۔ ظاهري طورپر مذكوره تبديلي اس ليے پيدا كي گئي تاكه آدمي اس كو ديكھ كر ٹھٹكے۔ وه اس ظاهري واقعے كو ديكھ كر اندروني حقيقت تك پهنچ سكے۔

ايك طرف فطرت كے نظام ميںاوزون گيس كا هونا، دوسري طرف جديد صنعتي نظام كے تحت اوزون گيس كي تباهي، يه دونوں واقعات بے حد سبق آموز هيں، اوران ميں سوچنے والوں كے ليے عظيم نشاني پائي جاتي هے۔ بالائي فضا ميں اوزون گيس كي موٹي تهہ كا پايا جانا ظاهر كرتا هے كه جس هستي نےدنياكا نظام بنايا، اس كو پيشگي طورپر يه معلوم تھاكه زمين پر بسنے والے انسانوں كي كيا ضرورتيں هوں گي۔ اس نے تجربے سے پهلے يه جانا كه سورج كي شعاعوں ميں افاديت كے ساتھ نقصان كے پهلو بھي موجود هيں۔ اس نے افاديت كے پهلو كو مستحكم كيا اور نقصان والے پهلو سے بچاؤ كا انتظام كرديا تاكه انسان جب زمين پر بسے تووه سورج كي نقصان ده شعاعوں سے محفوظ رهے، سورج كي صرف مفيد شعاعيں انسانوں تك پهنچ سكيں۔

اب دوسرے رخ كو ديكھیے، جو بيسويں صدي كے نصف آخر ميں همارے سامنے آيا هے۔ انسان نے ساٹھ سال پهلے وه چيز دريافت كي جس كو ايركنڈيشننگ كها جاتا هے۔ اس دريافت نے انسان كو غير معمولي طورپر راحت كا سامان ديا۔ ايركنڈيشنڈ مكان اور دفاتر اور مختلف بلڈنگيں ماڈرن زندگي كا لازمي حصه هيں۔ جب يه صنعت دريافت هوئي تو وه خير هي خير نظر آتي تھي، مگر جديد تحقيقات نے بتايا كه اس خير ميں شر بھي چھپا هوا هے۔

موجوده ايركنڈيشننگ كا سسٹم سي ايف سي پر مبني سسٹم (CFC-based system)هے۔ سي ايف سي ٹكنالوجي آج انسان كے ليے زبردست خطره بن گئي هے۔ سي ايف سي سے مراد كلوروفلوركاربن (chlorofluorocarbons) هے۔ يه ايك كيمیكل هے جواير كنڈيشننگ كے سامانوں كي تياري ميں استعمال كيا جاتا هے۔ اس كيميكل كو تيار كرنے كے ليے جو كارخانے بنائے گئے هيں، وه اس كي تياري كے دوران ايك ضمني پيداوار (by-product) تيار كرتےهيں، جس كو سي آئي او يا كلورين مونوآكسائڈ (chlorine monoxide) كهاجاتا هے۔ يهي سي آئي او كا ماده هے، جو دراصل اوزون كي ته كو نقصان پهنچا رها هے۔ حتي كه اس نے بالائي فضا ميں ايك بڑا سوراخ پيدا كرديا هے، جس سے سورج كي مذكوره مضر شعاعيں زمين پر آنا شروع هوگئي هيں۔

اب امريكا وغيره ميں بهت بڑے پيمانے پر ريسرچ هورهي هے۔ تاكه كوئي ايسا متبادل ماده دريافت كيا جائے جس كے ذريعے مذكوره مضر كيميكل پيدا كيے بغير اير كنڈيشننگ كے سامان بنائے جاسكيں۔ اب يهاں دونمونے هيں۔ ايك، فطرت (نيچر) كا نمونہ۔ دوسرا، انساني صنعت كا نمونہ۔ فطرت كا نمونه بتاتا هےكه اس ميں پيشگي طورپر يه انتظام موجود تھا كه سورج كي مضر شعاعيں زمين كي سطح تك نه پهنچيں۔ تاكه انسان محفوظ طورپر زمين پر آباد هوسكے۔ دوسري طرف صنعتي دوركے صنعت كاروں كو پيشگي طورپر يه معلوم نه هوسكا كه ایر كنڈيشننگ كي صنعت فطرت كے قيمتي توازن كو توڑ دے گي، اور انسان كے ليے سخت ناموافق صورتِ حال پيداهوجائے گي۔

يه صورتِ حال اس بات كا ثبوت هے كه كائنات كي تخليق اوراس كي منصوبه بندي كے پيچھے ايك بالا تر خدائي ذهن كي كارفرمائي هے۔ اگر يهاں ايسے ذهن كي كارفرمائي نه هوتي تو فطرت كے نظام ميں بھي بار بار اسي قسم كے خلا اور نقائص ظاهر هوتے جو انساني صنعت ميں ظاهر هورهے هيں۔

يهي وه حقيقت هے جس كي طرف قرآن ميں اس طرح اشاره كيا گياهے: بڑا بابركت هے وه جس كے هاتھ ميں بادشاهي هے اور وه هر چيز پر قادر هے۔ جس نے موت اور زندگي كو پيدا كيا تاكه تم كو جانچے كه تم ميں سے كون اچھا كام كرتاهے۔ اوروه زبردست هے، بخشنے والا هے۔ جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے۔ تم رحمن كے بنانے ميں كوئي خلل نهيں ديكھو گے۔ پھر نگاه ناكام تھك كر تمھاري طرف واپس آجائے گي ( 67:1-4)۔

خلاصهٔ كلام

الله تعالي نے سورج پيدا كيا، سورج كي پيدائش زمين پر انسان كي آبادي سے بهت پهلے هوئي۔ مگر الله تعالي كو پيشگي طورپر يه معلوم تھا كه سورج كي شعاعوں كا ايك جزء (الٹراوائلٹ) انسان كے ليے مضر هوگا۔ چنانچه الله تعالي نے پيشگي طورپر بالائي فضا ميں ايك محكم حفاظتي انتظام كرديا، جو انسان كو اس مضر شعاع سے بچاتا رهے۔

دوسري طرف انساني انجينئروں اور سائنس دانوں نے زمين پر ايك انڈسٹري قائم كي۔ اس انڈسٹري سے ايك ايسي گيس نكلنے والي تھي، جو فضاميں بلند هو كر اس حفاظتي انتظام ميں رخنه پيدا كردے، جو انسان كوسورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے كے ليے كيا گيا هے۔ مگر انساني ماهرين كو اس كا علم صرف اس وقت هوا، جب كه ان كي انڈسٹري كے يه مضر نتائج عملاً ظهور ميں آگئے، اور انسان ان كا شكار هونے لگا۔

يه تقابلي مثال بتاتي هے كه كائنات كي تخليق نه صرف يه كه ذهن كے بغير نهيں هوسكتي، بلكه انسان جيسي ذهانت بھي اس عملِ تخليق كے ليے ناكافي هے۔ اس كے ليے مافوق ذهانت (سُپَر ذهانت) دركار هے۔ اس قسم كے اعلي ذهن كے بغير موجوده با معني كائنات كبھي وجود ميں نهيں آسكتي۔

ـــــــــــــــــــــــــ

میں خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں

ایک سائنس داں، پروفیسر کارل ٹرال (1899-1975) نے کہا— میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنٹسٹ اور جغرافیہ داں یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گزار ہوگیا ہوں:

‘‘The fruit of my life as scientist and geographer is to have become more and more deeply grateful to our Creator.”

Prof. Carl Troll was president of the International Geographical Union from 1960 to 1964

سائنس داں جب قدرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر قدرت کی عظمت کا بے پناہ احساس ابھرتا ہے۔ اس کا اندرونی وجود اُس ہستی کے آگے جھک جاتا ہے، جس نے اتنی با معنی کائنات بنائی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں خدا کے انکار کا ذہن سائنس دانوں نے نہیں بنایا۔ یہ دراصل کچھ منکر خدا فلاسفہ تھے، جنھوں نے سائنسی دریافتوں کو غلط رخ دے کر اس سے خود ساختہ طورپر انکارِ خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ سائنسی دریافتیں زیادہ درست طورپر اقرارِ خدا کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔

 

کائنات ایک آئینہ

كائنات ايك آئينه هے جس ميں اس كے خالق كا چهره نظر آتا هے۔ اس اعتبار سے كائنات كي هر چيز ايك نشاني هے۔ هر چيز ايك حقيقت كاجلوه دكھارهي هے۔ اگر آدمي كے اندر ديكھنے كي صلاحيت هو تو وه هر چيز ميں ايك معنويت ديكھے گا۔ موجوده دنيا اپني پوري وسعتوں كے ساتھ اس كے ليے معرفتِ الٰهي كا عظيم خزانه بن جائے گي۔

رياضياتي دنيا

كائنات بہ ظاهر ايك رياضياتي كائنات هے۔ كائنات رياضي كے اصولوں كي حد تك منظم هے۔ يه موجوده كائنات كا ايك ايسا پهلو هے جو اس كے هر حصے ميں نماياں طورپر نظر آتا هے۔

شهد كي مكھي حد درجه صحت كے ساتھ مسدس اشكال (hexagonal) كے چھتے بناتي هے۔ ايٹم كے ذرات كي كميت انتهائي يكساں طورپر متعين هوتي هے۔ زمين كي دو طرفه گردش اتني صحت كے ساتھ هوتي هے كه هزاروں سال پهلےاور هزاروں سال آگے تك كے كلنڈر بنائے جاسكتےهيں۔ يهي كائنات كے تمام اجزا كا حال هے۔ كائنات كا هر جزء اتنے محكم اصولوں كے مطابق عمل كرتاهے كه نهايت صحت كے ساتھ اس كے مستقبل كي پيشين گوئي كي جاسكتي هے۔

كائنات كا يه پهلو سائنس دانوں كو بے حد متاثر كرتاهے۔ حتي كه انھيں يقين هوگيا هے كه پوري كائنات ايك رياضياتي ماڈل هے، كسي چيز كو جب تك وه رياضياتي طورپر نه سمجھ ليں، وه گمان كرتے هيں كه ابھي انھوں نے اس كو سمجھا نهيں۔

سائنس داں عالم فطرت كي تحقيق كرتے هيں۔ اگر چه سائنس كے درجنوں شعبے هيں، اور مختلف سائنس داں اپنے شعبوں ميں الگ الگ تحقيق اور مطالعه كا كام كرتے هيں۔ تاهم ان كے كام كا اگر ايك مشترك عنوان دینا هو تو وه يه هوگا  — كائنات ميں رياضياتي نظام كي تلاش:

Searching for mathematical order in the universe.

تمام سائنس دانوں كا يه مشترك عقيده هے كه كائنات ميں رياضياتي قطعيت كي حد تك نظم اور ترتيب هے۔ ايك سائنس داں اپني تحقيق پر اس وقت بالكل مطمئن هوجاتاهے، جب كه وه اپني تحقيق كو رياضياتي سانچے ميں ڈھال لے۔ رياضياتي تصديق سائنس داں كے نزديك اس كے نظريے كي صداقت كا آخري ثبوت هے۔

سائنس دانوں كي جماعت كائنات كے مطالعے ميں رياضي كو اسي طرح استعمال كرتي هے، جس طرح سناروں كي جماعت اصلی اور نقلی سونے كے لیے كسوٹي (touchstone)كو استعمال کرتی ہے۔ سنار كسوٹي (touchstone)كي تصديق كے بعد سونے كا سونا هو نا مان ليتاهے۔ اسي طرح سائنس داں رياضي كي تصديق كے بعد نظريے كا صحيح نظريه هونا تسليم كرليتاهے۔

رياضياتي اور كائناتي نظام كے درميان يه مطابقت كيوں هے۔ بعض سائنس دانوں نے يه سوال اٹھايا هے۔ ان كے ايك طبقے نے اس كا براهِ راست جواب ديئے بغير اس كو مزيد ايك سوال پر ختم كرديا هے  —كيا كائنات ايك رياضياتي ذهن كي تخليق هے:

Was the universe created by mathematical mind?

كچھ سائنس دانوں نے اس كا مثبت جواب ديا هے۔ سرجيمز جينز فلكي طبيعيات كا ايك مشهور عالم هے۔ اس نے 1932 ميں كها كه بہ ظاهر ايسا معلوم هوتا هے كه كائنات كا نقشه ايك خالص رياضي داں نے تيار كيا تھا:

In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist: ‘‘the universe appears to have been designed by a pure mathematician.” (Encylopaedia Britannica (1984) V. 15, p. 531)

كائنات اورانسان

موجوده اندازے كے مطابق كائنات ميں كم ازكم دس ارب كهكشائيں (galaxies)هيں۔ هر كهكشاں ميں تقريباً ايك كھرب ستارے هيں۔ ان ميں سے اكثر ستارے همارے سورج سے بهت زياده گرم اور بهت زياده بڑے هيں جب كه همارا سورج اتنا بڑا هے كه اس سے زمين جيسے باره لاكھ کرے بنائے جاسكتے هيں ۔ يه اَن گنت متحرك ستارے ايك دوسرے سے اتنے زياده دوري پر هيں جيسے بحر الكاهل ميں بكھرے هوئے چند سمندري جهاز۔ اس ناقابلِ قياس حد تك بڑي دنيا ميں زمين كا چھوٹا سا كره (planet) ايك انتهائي نادر استثنا هے، جهاں پاني اور هوا اور دوسري چيزيں هيں جو انسان جيسي مخلوق كے ليے زندگي كا سامان بن سكيں — يه دنيا اپني ساري عظمتوں اور حكمتوں كے باوجود انسان كے بغير بالكل بے معني هے۔ مگر خود انسان كي زندگي اتني زياده بے معني معلوم هوتي هے كه ساري كائنات ميں بہ ظاهر اس سے زياده بے معني كوئي چيز نهيں۔

انسان اگر نه هو تو يهاں كوئي آنكھ نه هوگي جو دنيا كي رنگينيوں كو ديكھے، اور كوئي كان نه هوگا جو اس كے نغموں كو سنے، اور كوئي دماغ نه هوگا جو اس كي حكمت اور معنويت كو پائے۔ يه دنيا ايك عظيم ترين آرٹ هے، مگر انسان كے بغير وه ايك ايسا آرٹ هے، جس كا كوئي جاننے والا نهيں۔ جس كي كوئي داد دينے والا نهيں۔انسان بہ اعتبار حقيقت انتهائي بامعني هے۔ مگر انسان كائنات كے موجود ہ نظام ميں اپني معنويت كو نهيں پاتا۔ يهاں انسان كي تمنائيں پوري نهيں هوتيں۔ موجوده دنيا اپني تكميل كے ليے ايك اور دنيا كي طالب هے۔ موجوده دنيا اپني ساري معنويت كے باوجود بے معني هے، اگر اس كے ساتھ آخرت كو نه مانا جائے۔

توازنِ فطرت

قطب جنوبي (انٹاركٹكا) كے بارے ميں روسي جغرافيه سوسائٹي نے تحقيقات كي هيں۔ انھوںنے اندازه لگايا هے كه قطب جنوبي كے اوپر جو برف جمي هوئي هے، وه دنيا بھر كے تازه پاني كا 85 في صد حصه هے۔ اس كي مقدار ڈھائي كرور مكعب ميٹر (cubic metre)هے۔ قطب جنوبي كي برف اس وقت صرف ڈيڑھ كرور مربع ميٹر (square meter)كے علاقے ميں پھيلي هوئي هے۔

اگر اس برف كو دنيا كے تمام خشك حصے پر پھيلا ديا جائے تو موجوده خشك زمين پر 50 ميٹر برف جم جائے گي، اور اگر يه برف اچانك پگھل جائے تو دنيا كے سمندروں كي سطح 60 سے 70 ميٹر تك بلند هوجائے گي، اور زمين كا دس في صد حصه زيرِ آب هوجائے گا۔ اس كا نتيجه يه هوگا كه دنيا بھر كے تمام ساحلي شهر پاني كے نيچے ڈوب جائيں گے۔ حتي كه بهت سے ملك پوری طرح  پاني كے نيچے چلے جائيں گے۔ قطب جنوبي كي تمام برف پگھلنے كي صورت ميں سمندر كي اوسط حرارت دو ڈگري كم هوجائے گي۔ اس كي وجه سے زمين پر موسمي تباهي آجائے گي۔ كيوں كه سمندر ميں ايك ڈگري كے هزارويں حصے كي كمي بيشي فضا ميں پوري ايك ڈگري كي حرارت كا فرق پيدا كرتي هے۔

يه ايك چھوٹي سي مثال هے، جس سے اندازه هوتاهے كه زمين پر جو نظام هے، وه كس قدر متوازن نظام هے۔ يهاں بيك وقت مختلف تقاضوں كے درميان اس طرح توازن قائم ركھا گيا هے كه هر چيز صرف اپنا فائده دے، وه اپنے نقصان سے انسان كو بچائے ركھے۔

فطرت کا توازن زمين كے هر معاملے ميں نماياں هے۔ يه واضح طورپر بتاتاهے كه اس دنيا كے پيچھے ايك ذهن كارفرما هے۔ اگر يهاں ذهن كي كارفرمائي نه هو تو موجوده توازن كسي حال ميں برقرار نهيںره سكتا۔

زمين كا مطالعه كرتےهوئے واضح طورپر ايسا معلوم هوتاهے گويا جس هستي نے زمين كے موجوده حالات كو ايك خاص ڈھنگ پر بنايا هے اس كو معلوم تھا كه يهاں جاندار چيزيں (انسان، حيوان، نباتات) هيں۔ چنانچه يهاں كي هر چيز جاندار اشيا كي ضرورت كے عين مطابق بنائي گئي هے۔ اگر يه واقعه آدمي كو خدا كا يقين نه دلائے تو آخر وه كيا چيز هوگي جو آدمي كو اس كا يقين دلائے گي۔

نيم كا معجزه

دوسري انٹرنيشنل نيم كانفرنس دسمبر 1983 ميں مغربي جرمني ميں هوئي۔ آج كل نيم كا درخت نباتاتي علما كي خصوصي توجه كا مركز بنا هوا هے۔ اس كي وجه يه هے كه نيم مضر كيڑوں كو بھگانے والا ايك قيمتي قدرتي ذريعه (natural repellent) هے۔ انسان نے كيميائي طورپر جتني كيڑا مار دوائيں بنائي هيں وه سب كيڑے پر اثر انداز هونے كے ساتھ فضا كو بھي خراب كرتي هيں، اوراس طرح انسان كے ليے مضر بنتي هيں۔ مگر نيم كے اندر يه انوكھي صفت هے كه وه كسي فضائي نقصان (environmental damage)كے بغير انسان كو اور نباتات كو مضر كيڑوں سے بچاتي هے۔

مذكوره كانفرنس ميں 21 ملكوں كے ايك سو سے زياده سائنس داں جمع هوئے۔ هر ايك نے اپنے دائرے ميں نيم كے تجربات بتائے۔ هالينڈ سے آنے والے ايك عالم ايل ايم اسچون هيون (Dr. L.M. Schoonhoven)نے اپنے مقالے ميں بتايا كه نيم كے اندر ايك انوكھا دفاعي نظام (unique defence system) هے۔ يه نظام ايك بے حد نادر قسم كا كيڑا كنٹرول (insect control)کاذريعه هے۔ انھوںنے بتاياكه ٹوگو (Togo) ميں يه تجربه كيا گيا كه كھيت كي مٹي ميں نيم كي پتي ملا دي گئي۔ اس كا نتيجه يه هوا كه نباتاتي كيڑوں (plant parasites) كي تعداد بهت گھٹ گئي، اور ايسے كھيت جن ميں يه عمل كياگيا تھا، فصل كي پيداوار ميں نماياں اضافه (spectacular increase) هوا۔هندستان كےنمائندے نے اپنے مقالے ميں بتايا كه نيشنل كيميكل ليبارٹري (پونا) نے نيم كا ايك كمپاؤنڈ تيار كياهے، جس كا نام نيمرچ (Neemrich)هے۔ مكّا، آلو اور بعض دوسري فصلوں ميں نيمرچ كے تجربے كيے گئے جس كے نتيجے ميں ان كي پيداوار ميں قابلِ لحاظ اضافه هوا۔

موجوده زمانے ميں دنيا كے تمام ملكوں ميں كيڑا مار دواؤں (pesticides) كا استعمال عام هے۔ ان دواؤں كے استعمال سے يقيناً زرعي پيداوار ميںاضافه هواهے۔ مگر ابھي تك انسان يه دريافت نه كرسكا كه ان دواؤں كے استعمال سے فضا پر جو مضر اثرات هوتے هيں، ان سے كس طرح بچا جائے۔ يه كيڑا مار دوائيں اگر ايك طرف كيڑے كو مارتي هيں تو اسي كے ساتھ وه انسان كو بھي نقصان پهنچاتي هيں۔

اگر آپ لكڑي اور پتي كو آگ ميں ڈاليں تو دونوں جل جائيں گي۔ كيوں كه اصل كےاعتبار سے دونوں ايك هيں۔ اسي طرح انسان اور كيڑے دونوں زنده انواع هيں۔ جو چيز ايك كے ليے نقصان ده هے وهي دوسرے كے ليے نقصان كا باعث بھي هوتي هے۔

انسان كو مضر بيكٹيريا سے بچانے كے ليے اينٹي بايوٹك دوائيں كھلائي جاتي هيں۔ يه دوائيں بيكٹيريا كي طرح انسان كے جسم كے ليے بھي نقصان ده ثابت هوتي هيں۔ مكھي، مچھر، ديمك اور دوسرے كيڑوں كو ختم كرنے كے ليے ڈي ڈي ٹي چھڑكا جاتا هے۔ اس سے مذكوره كيڑے بھاگتے هيںيا مر جاتے هيں۔ مگر اسي كے ساتھ فضا ميں ڈي ڈي ٹي كے اجزا شامل هوجاتے هيں۔ انسان سانس كے ذريعے ان كو اپنے اندر داخل كرليتاهے، اور پھر طرح طرح كے امراض كا شكار هوتاهے۔ پھل اور زرعي پيداوار ميں مضر كيڑے لگتے هيں، جن سے پيداوار بهت كم هوجاتي هے۔ اس كے ليے كيڑا مار دوائيں بنائي گئي هيں۔ ان دواؤں كے استعمال سے باغوں اور كھيتوں كي پيداوار ميں قابلِ لحاظ اضافه هوا هے، مگر يهاں بھي وهي صورت هےكه ايك طرف ان كيڑا مار دواؤں سے فضا خراب هوتي هے، دوسري طرف خود پيداوار ميں مضر كيميائي مادے شامل هوجاتے هيں، اور كھانے كے ساتھ انسان كے اندر داخل هو كر نقصان كا سبب بنتے هيں۔

هندستان ميں هر سال تقريباً چاليس هزار پونڈ كيميكل دوائيں زرعي كھيتوں ميں چھڑكي جاتي هيں۔ اس كے نتيجے ميں عوام كي صحت كا معيار برابر گر رها هے۔ ورلڈ هيلتھ آرگنائزيشن كي رپورٹ (1983) ميں بتايا گيا هے كه تيسري دنيا كے ملكوں ميں زرعي كيڑوں كو مارنے كے ليےجو كيميائي دوائيں استعمال هوتي هيں ،ان كے زهريلے اثرات سے هر سال تقريباً پچاس هزار آدمي بيمار پڑتےهيں، اور ان ميں سے تقريباً پانچ هزار آدمي مر جاتےهيں۔ انساني سائنس ابھي اس سائنس تك بھي نهيں پهنچي، جس كامظاهره قدرت كے اس معجزه كي سطح پر هورها هے، جس كو نيم كا درخت كهتے هيں۔ اس كے باوجود بهت سے لوگ يه فرض كيےهوئے هيں كه اس دنيا كا كوئي خالق ومالك نهيں۔ اس دنيا كو چلانے والا كوئي ذهن نهيں۔

’’ڈي ڈي ٹي‘‘ كا ايك پيكٹ هو تو اس كو ديكھ كر كوئي شخص يه نهيں كهے گا كه يه پيكٹ اپنے آپ بن گيا هے۔ هر آدمي اس كو ذهن كي تخليق قرار دے گا۔ مگر ڈي ڈي ٹي كي نوعيت كي اس سے زياده اعلي پيداوار كو ديكھ كر آدمي يه كهه ديتاهے كه وه اپنے آپ وجود ميں آگئي هے۔ نيم كا درخت بلا شبه ڈي ڈي ٹي سے بهت زياده اعلي پيداوار هے۔ اس كي بناوٹ ميں يقيني طورپر غير معمولي ذهانت پائي جاتي هے۔ پھر كيسے عجيب هيں، وه لوگ جو ڈي ڈي ٹي كے بارے ميں يه مانتے هيں كه وه ذهانت كي پيداوار هے۔ مگر يهي بات وه نيم جيسي چيزوں كے بارے ميں نهيں مانتے۔

تخليق ميں ذهانت

میں نےشہد کے بارے میں انگریزی کا ایک مضمون پڑھا۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھاکہ تقریباً 550 شہد کی مکھیاں مسلسل مشغول رہ کر بیس لاکھ سے زیادہ پھولوں کا رس چوستی ہیں، تب ایک پاؤنڈ شہد تیار ہوتا ہے:

Some 550 busy bees have to dip their snouts into as many as 2.5 million flowers to make just one pound of honey.

شہد کی مکھی کے اندر بے شمار نشانیاں (signs)ہیں۔ مذکورہ واقعہ ان میں سے صرف ایک ہے۔ آدمی اگر اس پر غور کرے تو وہ خالق کے کمالات کے احساس سے سرشار ہو جائے۔شہد کی مکھی کیا کرتی ہے۔ شهد كي مكھي پھولوں كا رس چوس كر شهد تيار كرتي هے۔ مگر شهد كي مكھي كا صرف اتنا هي كام نهيں۔ اسي كے ساتھ وه اور بھي كئي اهم كام انجام ديتي هے۔ انھيں ميں سے ايك كام زرخيزي هے۔ يعني نر اور ماده كے زيرے (pollen grains) كوايك دوسرےپر پهنچانا تاكه وه زرخيز هوسكيں۔ يه كام اتنا اهم هے كه شهد كي مكھي كے ايك ماهر نے لكھاهے كه پھولوں كا رس وه معاوضه هے، جو پودا شهد كي مكھيوں كو زرخيز بنانے كے عمل كے ليے ادا كرتاهے:

Nectar is the fee paid by the plant for the fertilizing service of the insect (bees).

امريكا كے مشرقي حصے ميں پھولوں كے رس (nectar) كا نوے في صد حصه بے كار چلا جاتا هے۔ كيوں كه اس علاقے ميں شهد كي مكھياں بهت كم پائي جاتي هيں، اور اسي نسبت سے زرخيزي كا عمل بھي نسبتاً كم انجام پاتا هے۔معلوم كيا گيا هے كه شهد كي مكھي جب كسي باغ يا كياري ميں پھولوں كا رس چوس رهي هو تو وه بيك وقت هر قسم كے درختوں كے پھولوں كا رس نهيں چوستي۔ بلكه وه يه كرتي هے كه جس پھول كارس ايك بار ليا هے، اسي كا رس بار بار ليتي هے۔ وه ايك وقت ميں ايك هي نسل كے پھولوں كے درميان اڑ كر ايك كے بعد ايك كا رس ليتي رهتي هے۔

شهد كي مكھي كا يه طريقه زراعت اور باغباني كے ليے بے حد اهم هے۔ اس كي وجه سے وه ايك مخصوص پھول كے زيرے كو اسي مخصوص درخت كے پھولوں تك پهنچاتي رهتي هے۔ پھول چوسنے كے دوران پھول كا زيره اس كے جسم سے چپك جاتاهے۔ جب وه دوسرے پھول پر جاكر بيٹھتي هے تو اس كا زيره اس پھول پر گر جاتا هے، اس طرح نر اور ماده كے درميان زرخيزي كا عمل انجام پاتا هے۔ اور ان ميں تزويج كا عمل جاري رهتاهے۔ اگر ايسا نه هو تو تقريباً ايك لاكھ قسم كے پودے زمين سے بالكل ختم هوجائيں۔ يه واضح طورپر تخليق كے نظام ميں ذهانت هونے كا ثبوت هے۔ اس قسم كا بامعني واقعه لازمي طورپر ثابت كرتاهے كه اس دنيا كا ايك خالق هے۔ اگر خالق نه هو تو تخليق كے نظام ميں اس قسم كي معنويت ممكن نهيں۔

ذره بھي غائب نهيں

هوابازي كے قانون كے مطابق باره هزار پاؤنڈ سے زياده وزني هوائي جهازوں كے ليے ضروري هے كه وه اپنے ساتھ بليك باكس ركھيں۔ بليك باكس دو چھوٹے چھوٹے خاص قسم كے ٹيپ ريكارڈ هيں۔ جس ميں سے ايك كو فلائٹ ريكارڈر اور دوسرے كو وائس ريكارڈر كها جاتا هے۔ ان ميں سے هر ايك اوسطاً 20انچ لمبا اور 6انچ چوڑا هوتاهے۔ اس كا وزن كم وبيش 25پاؤنڈ هوتا هے۔ يه دونوں ريكارڈ هوائي جهاز كي دم ميں ركھ ديئے جاتےهيں تاكه حادثے كے وقت محفوظ ره سكيں۔ وه مخصوص نظام كے تحت پائلٹ كي آواز، جهاز كي رفتار اور دوسري ضروري معلومات ريكارڈ كرتے رهتے هيں۔ ان كا ٹيپ آٹوميٹك طور پر هر آدھ گھنٹے ميں مٹ جاتا هے تاكه جهاز كے آخري لمحات كا حال ان سے معلوم هوسكے۔

23 جون 1985 كو ايك سخت هوائي حادثه هوا۔ اير انڈيا كا ايك بڑا جهاز (بوئنگ 747) كناڈا سے لندن هوتاهوا هندستان آرها تھا۔ زميني كنٹرول جهاز كي لمحه لمحه رپورٹ لے رها تھا۔ اچانك اس كي كمپيوٹر اسكرين پر جهاز كي تصوير غائب هوگئي۔ جهاز سے پيغامات آنا بالكل بند هوگئے۔ جهاز ايك حادثے كا شكار هو كر اچانك اٹلانٹك سمندر ميں گر پڑا تھا۔ جهاز پر 329 مسافر تھے جو سب كے سب هلاك هوگئے۔ ان ميں سے كوئي بھي زنده نه بچا، جو حادثے كي تفصيلات دنيا والوں كو بتا سكے۔

اب حادثے كي بابت معلوم كرنے كا ذريعه صرف وه بليك باكس تھا، جو اٹلانٹك سمندر ميں ته نشیں هو كر ره گيا تھا۔ اٹلانٹك سمندر دنيا كا دوسرا سب سے بڑا سمندر هے۔ اس كا رقبه چھوٹے چھوٹے ذيلي سمندروں كو ملا كر چار كرور گياره لاكھ مربع ميل هے۔ اس ناپيدا كنار سمندر ميں بليك باكس كي حيثيت صرف ايك چھوٹے سے ذره كي تھي، جو سمندر كے نيچے دو ميل كي گهرائي ميں پڑا هوا تھا۔ بہ ظاهر اس ذرے كو سمندر سے نكالنا ناممكن تھا۔ مگر يه ناممكن ممكن هوگيا، اور 10 جولائي 1985 كو وائس ريكارڈر اور 11 جولائي 1985 كو فلائٹ ريكارڈ ر گهرے سمندر كي ته سے نكال ليا گيا۔

يه غیر معمولی کرشمہ كيسے پيش آيا۔ وه ریموٹ سے كنٹرول كيے جانے والے مشيني انسان (remote-controlled robot) كے ذريعے پيش آيا۔ بليك باكس ميں ايسي مشينيں هوتي هيں، جن كے ذريعه وه ريڈيائي سگنل بھيجتا رهتا هے۔ يه سگنل اس سے هر سكنڈ ميں نكلتے هيں، اور تيس دن تك جاري رهتے هيں۔ فرانس اور امريكا اور برطانيه كي جديد سامان سے مسلح كشتيوں نے سگنل كے ذريعے ان كے جائے وقوع كا ٹھيك ٹھيك پته لگا ليا۔ اس كے بعد مخصوص كيمره كے ذريعے اس كي تصويريں لي گئيں۔ پھر مشيني انسان (robot) سمندر كي تهه ميں بھيجے گئے۔ جو انسان كي مانند بازو اور هاتھ اور انگلياں ركھتے هيں۔ يه روبوٹ ريڈيائي لهروں سے كنٹرول هوتےهيں۔ انسان سمندر كے اوپر مشيني اسكرين پر سارا منظر ديكھتا هے، اور ريڈيائي لهروں كے ذريعے روبوٹ كي رهنمائي كرتاهے، تاكه وه متعين مقام پر پهنچ كر بليك باكس كو اپنے هاتھوں سے پكڑ لے، اور پھر اوپر لاكر انسان كے حوالے كردے۔

 يه طريقه تھا جس كو استعمال كركے سمندر کی گہرائی سے ايك چھوٹے سے ذرے كو نكال ليا گيا، اور اس نے جهاز كے حادثے كي ساري كهاني انسان كو بتادي۔جب ميں نے اخبارات ميں ان تفصيلات كو پڑھا تو مجھے ايسا محسوس هوا، جيسے اِس واقعے كي صورت ميں اُس عظيم تر واقعه كا اظهار (demonstration) دياجارها هے، جو قرآن ميں ان لفظوں ميں بيان هوا هے:وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِين (10:61)۔ يعني تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔

 

زمين: الله كي عجيب وغريب نعمت

روس نے 1977اپنا اسپیس اسٹیشن (Salyut 6)  میں خلا میں بھیجا تھا۔ پروگرام کے مطابق، 25 فروری 1979کو دو خلا باز ولاديمير لياخوف (Vladimir Afanasyevich Lyakhov, 1941-2018) اور وليري ريو مين (Valery Victorovich Ryumin, b. 1939) کو وہاں بھيجا گیا۔ ان كو 175 دن تك خلا ميں رهنا تھا۔ آخري ايام ميں جب كه وه اپنے خلائي سفركي مدت پوري كركے اپنے وطن واپس آنے والے تھے، زميني اسٹيشن سے بات كرنے والے نے ان سے پوچھا: آج كل آپ لوگوں كے احساسات كيا هيں۔ ايك خلا باز نے خبر رساں ايجنسي اے پي كے  مطابق، فوراً كها کہ هم آج كل كيا خواب ديكھ رهے هيں۔ هاں، وه يه هے كه هم بس يه چاهتے هيں كه جلد سے جلد وه وقت آئے جب كه هم زمين پر دوباره اپنا قدم ركھيں:

What are we dreaming about? Well, we want very much just to put our feet on the ground again. (The Indian Express, August 16, 1979)

 يه دونوں روسي خلا باز (cosmonauts)  تقريباً چھ ماه تک خلا ميں چكر لگانے كے بعد زمين پر واپس آئے۔ تقريباً نصف سال تك بے وزني كي حالت ميں رهنے كے بعد وه دونوں مدهوش اور سراسيمه سے دكھائي ديتے تھے۔ ان كا كهنا هے كه ان كي نيند غائب هوگئي تھی۔ خلا ميں خوف ودهشت كي وجه سے وه بهت كم سو سكے تھے۔

زمين كو الله تعالي نے جس طرح بناياهے، اور اس پر همارے ليے جو موافق حالات جمع كيے هيں وه همارے ليے بهت بڑي نعمت هيں۔ ساري معلوم كائنات ميں انسان جيسي مخلوق كے ليے كوئي بھي دوسرا ٹھكانا نهيں۔ الله كي اس عظيم نعمت كا اندازه اس وقت هوتاهے ،جب كه آدمي زمين سے محروم كرديا گيا هو، ٹھيك ويسےهي جيسے فاقه گزرنے كے بعد آدمي صحيح طورپر جانتا هے كه كھانا آدمي كے ليے كيسي قيمتي چيز هے۔

 

سائنس کی گواہی

انٹرنیٹ موجودہ زمانے میں معلومات کا عالمی خزانہ ہے۔ انٹرنیٹ کو الکٹرانک انسائکلوپیڈیا کہاجاسکتا ہے۔ اگرآپ انٹرنیٹ پر جائیں اور حسبِ ذیل الفاظ ٹائپ کریں — تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر(Thought-Controlled Wheel Chair) تو اسکرین پر معلومات کا ایک صفحہ کھل جائے گا۔ وہ بتائے گا کہ کسی خارجی آلہ کے بغیر دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

وھیل چیئر پر بیٹھا ہوا ایک شخص اپنے ہاتھ کو استعمال کیے بغیر محض اپنے دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو اپنی مرضی کے مطابق، جس طرح چاہے چلا سکتا ہے۔ جاپان کی موٹر کمپنی (Toyota Motors) نے یکم جولائی 2009 کو لوگوں کے سامنے اِس ٹکنالوجی کا مظاہرہ کیا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح خدا اپنی مرضی کے تحت پوری کائنات کو کنٹرول کررہا ہے۔ تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر کا کامیاب مظاہرہ تھاٹ کنٹرولڈ کائنات (thought-controlled universe) کا ایک عملی ثبوت ہے۔

مذکورہ سائنسی دریافت اِس حقیقت کو قابلِ فہم بنادیتی ہے کہ ایک برتر خدائی ذہن (divine mind) ساری کائنات کو مکمل طورپر اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہے۔

Thought-Controlled Wheel Chair

Japan’s Toyota Motor said yesterday it had invented a way to allow a person to steer an electric wheelchair through simple thought, using a helmet-like device that measures their brain waves. They said that they have developed a way of steering a wheelchair by just detecting brain waves, without the person having to move a muscle or shout a command. Toyota’s system, developed in collaboration with researchers in Japan, is among the fastest in the world in analyzing brain waves, it said in a release on Monday. (The Times of India, New Delhi, July 1, 2009)

 

مشيني ذهانت

کمپیوٹر (computer )ایک ایسی الیکٹرانک مشین ہے، جس کا کام انفارمیشن اور ڈیٹا کو ان پٹ (input)ڈیوائسز سے حاصل کرنا ، اور ہماری دی ہوئی ہدایات کے مطابق ،اس کا تجزیہ کرنا، اور پروسیس کرکے آؤٹ پٹ (output)کے ذریعے رزلٹ ظاہر کر نا ہے۔

اس كو انتهائي طويل اور پيچيده حسابات كے حل كرنے ميں استعمال كيا جاتاهے۔ هزاروں رياضي داں مل كر جس حساب كو كئي دن ميں حل كريں گے ،اس كو ايك كمپيوٹر حددرجه صحت كے ساتھ ايك سكنڈ سے بھي كم عرصے ميں حل كرديتا هے۔ كمپيوٹر كے يه كارنامے ديكھ كر بهت سے لوگوں نے سمجھاكه اب سائنس اپني ترقي كے اس مقام پر پهنچ چكي هے كه وه ’’مشيني دماغ‘‘ كو تيار كرسكے۔

اس كا مطلب صرف يهي نهيں تھا كه ايك چيز جو ابھي تك صرف قدرت كے كارخانے ميں بنتي تھي، وه انساني كارخانوں ميں تيار هونے لگےگي۔ اس كا ايك فلسفيانه پهلو بھي تھا۔ اس سے يه ثابت هوتا تھا كه كائنات كے نظام كے ليے كسي شعوري وجود كو ماننے كي ضرورت نهيں۔ ايك مشيني دماغ جس طرح نهايت صحت كے ساتھ مختلف واقعات كو رونما كرسكتا هے۔ اسي طرح كائنات كا مشيني كارخانه بھي، اپنے مشيني نظام كے تحت خود بخود چلا جارها هے، اس سے ماورا كوئي شعوري هستي نهيں ،جو اس كو چلانے والي هو۔ تاهم گهرے مطالعے اور تجربے نے اس خوش فهمي كو بے بنياد ثابت كرديا هے۔ ايك ماهر نے لكھاهے:

The question of artificial intelligence remains mainly unresolved. It is easy for instance, to design a computer which will learn as it goes along and thus come closer and closer to the brain. Nevertheless the lead must come from biological, and not mechanical, intelligence. Thus all these instruments radio-telescope, accelerators, Spectrometers, computers are merely adjuncts to the human brain.

مصنوعي ذهانت (artificial intelligence)كا مسئله بنيادي طورپر ابھي تك غير حل شده هے۔ مثال كے طورپر يه آسان هے كه ايك ايسا كمپيوٹر بنايا جائے جو قريب قريب وهي كچھ كرنا سيكھ لے جو انسان كا دماغ كرتاهے۔ تاهم اس كمپيوٹر كو بنیادی رهنمائي دينا پھر بھي حياتياتي ذهانت كا كام رهےگا ،نه كه كسي مشيني ذهانت كا۔ اس طرح كمپيوٹر كي قسم كے تمام اوزار محض انساني دماغ كے لاحقے هيں (ٹائمس آف انڈيا 27 فروري 1980)

مشيني ذهانت (machine intelligence) كے بارے ميں اس تجربے نے ان لوگوں كو سخت مايوس كيا هے، جو يه اميد قائم كيے هوئے تھے كه انسان كو بھي اسي طرح ايك خود كار قسم كا مشيني حيوان ثابت كيا جاسكتا هے، اور پھرخدا كو ماننے كي كوئي ضرورت باقي نه رهے گي۔ مگر مشيني انسان كا اپني كاركردگي كے ليے زنده انسان كا محتاج هونا ثابت كرتاهے كه انسان كي هستي كي توجيه ايك بالاتر هستي كو مانے بغير ممكن نهيں۔ زنده انسان كے بغير مشيني انسان كا كوئي وجود نهيں، اسي طرح خدا كو تسليم كيے بغير انسان كا كوئي تصور نهيں كيا جاسكتا۔ مشيني ارتقااپنے آپ تخليقي ارتقا كي ترديد كررها هے۔

ایک مثال

18-22 اپریل 1986 کو میں نے بھوپال کا سفر کیا ۔ يه سفر تامل ناڈو اكسپريس كے ذريعے هوا اور واپسي كا سفر بذريعه هوائي جهاز طے هوا۔19 اپریل کی صبح کو سو کر اٹھا، تو ہماری ٹرین مدھیہ پردیش کے میدانو ں میں دوڑ رہی تھی۔ جگہ جگہ درخت اور سبزہ کا منظر تھا۔ صبح کا سورج بلند ہوکر پوری طرح فضا کو روشن کر رہا تھا۔ اس قسم کی ایک دنیا کا وجود میں آنا تمام عجائبات میں سب سے بڑا عجوبہ ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پانی اور سبزہ ہو، جہاں سورج ایک خاص تناسب سے روشنی اور حرارت پہنچائے، جہاں بے شمار اسباب جمع ہوں، جس نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ ایک ٹرین تیار ہو، اور زمين کی سطح پر تیز رفتاری کے ساتھ دوڑے۔

بنانے والے نے اس دنیا کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے۔ یہاں واقعہ دکھائی دیتا ہے، مگر صاحبِ واقعہ نظر نہیں آتا۔ یہاں تخلیق (creation)کا منظر ہر طرف پھیلا ہوا ہے، مگر ان کے درمیان خالق (Creator)بظاہر کہیں موجود نہیں۔ اس صورتِ حال نے بہت سے لوگوں کو خد اکا منکر بنا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کو دیکھتے نہیں، تو ہم کیسے اسے مانیں، مگر خدا کے انکار کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں۔

هم جس ٹرين پر سفر كررهے هيں وه ايك بهت بڑي ٹرين هے۔ وه 110كيلوميٹر في گھنٹه كي رفتار سے مسلسل دوڑ رهي هے۔ هم اس كے اندر بيٹھے هوئے منزل كي طرف چلے جارهے هيں۔ بہ ظاهر هم ريل كے ڈرائيور كو نهيں ديكھتے۔ اس كا نام بھي هم كو نهيں معلوم۔ مگر هميں يقين هے كه گاڑي كا ايك ڈرائيور هے، اور وهي اس كو چلا رها هے۔

هم كو يه يقين كيوں هے۔ منكرِ خدا كهيں گے، اس ليے كه اگرچه هم ڈرائيور كو نهيں ديكھتے، مگر هم اس كو ديكھ سكتے هيں۔ همارے ليے يه ممكن هے كه كسي بھي اسٹيشن پر اتر كر انجن كے پاس جائيں، اور وهاں اس كو ديكھيں۔ ليكن يه محض ايك مغالطه هے۔ اگر هم اسٹيشن پر اتر كر انجن كے پاس جائيں، اور گاڑي كے ڈرائيور كو ديكھيں تو هم كيا چيز ديكھيں گے۔ هم صرف هاتھ پاؤں والے ايك جسم كو ديكھيں گے۔مگر كيا يهي دكھائي دينے والا جسم هے جو گاڑي كو چلا رها هے۔ يقيناً نهيں۔ انجن كو چلانے والا دراصل ذهن هے، نه كه ظاهري جسم۔ چنانچه موت كے بعد ڈرائيور كا جسم پوري طرح موجود رهتاهے، مگر وه گاڑي كو چلا نهيں پاتا۔ حقيقت يه هے كه يهاں بھي وهي صورت حال هے — هم گاڑي كا ايك ڈرائيور مان رهے هيں، بغير اس كے كه هم نے ڈرائيور كو واقعي طورپر ديكھا هو۔

موجوده زمانے كے منكرينِ خدا كهتے هيں كه يه دنيا محض اتفاق سے بن گئي هے۔ اس كا كوئي موجد اور خالق نهيں۔ مگر موجوده كائنات جيسي با معني كائنات كا محض اتفاق سے ظهور ميں آنا ممكن نهيں۔ يه ايسا هي هے جيسے كسي كباڑ خانے ميں دھماكه هونے سے ايك اكسپريس ٹرين برآمد هوجائے يا اچانك ايك هوائي جهاز بن كر هوا ميں اڑنے لگے۔

 

كائناتي مشين

1965 كي جنگ ميں پاكستان كے پاس زياده بهتر هتھيار تھے۔هندستان كے وجينيت ٹينك كے مقابلے ميں پاكستان كا برطاني پيٹن ٹينك زياده اعليٰ تھا۔ هندستان كے فائٹر طیارے نیٹ (Gnat) كے مقابلے ميں پاكستان کے فائٹر طیارے سیبر جیٹ (Sabrejet) زياده طاقت كے ساتھ مار كرنے كي صلاحيت ركھتے تھے۔ پھر بھي هندستان كو جيت هوئي۔اس كي وجه كيا تھي۔ اس كي وجه يه تھي كه هندستان كے هتھيار اس كے اپنے بنائے هوئے تھے۔ وه ان كو استعمال كرنے كي مكمل مهارت ركھتا تھا جب كه پاكستان كے هتھيار بيروني ملكوں كے بنے هوئے تھے۔ چنانچه پاكستاني سپاهي ان كو مهارت كے ساتھ استعمال نه كرسكے ۔ ايك جنگي تبصره نگار نے اس كا تجزيه كرتےهوئے لكھاهے:

Even the most sophisticated technology of warfare is handled ultimately by men engaged in the profession of soldiering. Its use in combat depends therefore greatly on their skill, training, morale and ingenuity. The doctrine of the supremacy of the man behind the gun thus remains valid even in this age of push-button wars.

جنگ كي انتهائي پيچيده مشينري بھي آخر كار متعلقه فوجي آدميوں هي كے ذريعے چلائي جاتي هے۔ اس ليے جنگ ميںان كا استعمال بهت بڑي حد تك ان كي مهارت، تربيت، جرأت اور تدبير پر منحصر هوتاهے۔ قديم اصول كے مطابق بندوق كا استعمال كرنے والے آدمي كي اهميت آج بھي بدستور باقي هے، حتي كه اس بٹن دبانے والے دور ميں بھي (ٹائمس آف انڈيا، 2 فروري 1984ء)۔

مذكوره قسم كے واقعات كائنات كي مشيني تعبير كي ترديد هيں۔  هماري مشينوں كو چلانے كے ليے هميشه ايك ’’ انسان‘‘ دركار هوتاهے۔ پھر كيوں كر كهاجاسكتاهے كه كائنات كي عظيم مشين كسي چلانے والے كے بغير چل رهي هے۔ اس قياس كے ليے كوئي نظير موجود نهيں۔كائنات ايك سائنس دان كے الفاظ ميں بالفرض ايك ’’گريٹ مشين‘‘ هو، تب بھي اس كو چلانے كے ليے ايك ’’گريٹ مائنڈ‘‘ چاهيے۔ انسان مجبور هے كه خدا كو مانے، خواه مذهبي زبان ميں خالق ومالك كي حيثيت سے يا سائنسي الفاظ ميں مشين كو چلانے والے انجينئر كي حيثيت سے۔

 

مشيني تعبير

جولائي 1983 ميں امريكي بحريه نے فوجي مشقیں كي تھيں۔ يه فوجي مشقيں سان فرانسسكو كے ساحل پر هوئيں۔ يه پورا عمل كمپیوٹروں كے ذريعے هو رها تھا۔ اس دوران ميں بحريه كے توپ خانه كو فائر كرنا تھا۔ فائرنگ كے دوران كمپیوٹر ميں كچھ خرابي پيداهوگئي۔ اس كا نتيجه يه هوا كه کمپیوٹر مخالف جانب گولے برسانے لگا۔ يعني جس طرف فائرنگ مطلوب تھي اس كے بالكل الٹي طرف۔

ابتدائي پروگرام كے مطابق اس مشقي گوله باري ميں امريكي بحريه كے توپ خانے كے گولے دور سمندر ميں جاكر گرتے مگر توپوں كا رخ الٹا هوجانے كا نتيجه يه هوا كه اس كے گولے ايك مال بردار جهاز كے پاس جاكر گرنے لگے۔كمپيوٹر ميں اس طرح کی غلطیاں پيش آتی رہتی هے۔ كمپيوٹر كے عمل ميں ايسي غلطياں كيوں هوتي هيں۔ اس كي وجه صرف ايك هے۔ كمپیوٹر صرف ايك مادي مشين هے۔ اس كے پاس عقل نهيں هے۔ اس سے قياس كياجاسكتا هے كه كائنات اگر ايك مادي مشين هوتي جيسا كه جديد ملحدين كا دعوي هے۔ تو وه كبھي اس طرح انتهائي درست طورپر نه چل سكتي جيسا كه وه چل رهي هے۔ ايسي حالت ميں زمين اور اس كي آبادياں اسي طرح برباد هوچكي هوتيں جس طرح زلزلے كے بعد زلزله كا مقام برباد هوجاتاهے۔ كائناتي حادثات كے نتيجے ميں كائنات بھي تباه هوچكي هوتي اور وه انسان بھي جو كائنات كي مادي تعبير كرنے كي كوشش كررها هے۔

’’كائنات كا كوئي خدا نهيں ، وه صرف ايك مادي مشين هے‘‘ يه جمله گرامر كے لحاظ سے بہ ظاهر درست هے مگر حقيقت كے اعتبار سے وه درست نهيں۔ اس كي سب سے بڑي وجه يه هے كه اس كے اندر داخلي تضاد پايا جاتاهے۔يه جمله اس وقت صحيح هوتاهے، جب كه ايسي كوئي مادي مشين هوتي، جو كسي بنانے والے كے بغير بن جائے، اور كسي چلانے والے كے بغير چلنے لگے۔ هم جن مشينوں سے واقف هيں، ان كو ’’انسان‘ بناتااور چلاتا هے۔ اس كے باوجود يه حال هے كه يه مشينيں نقص سے خالي نهيں۔ پھر كيسے ممكن هے كه كائنات جيسا بے عيب كارخانه اپنے آپ وجود ميں آجائے، اور اپنے آپ نهايت درست طورپر مسلسل چلتا رهے۔

 

بے خطا نظام

3 جون 1988 كو هونے والے واقعات ميں سب سے اهم اخباري واقعه وه حادثه تھا جو ايران كي هوائي كمپني كے ساتھ پيش آيا۔ ايران اير (Iran Air) كا ايك مسافر بردار جهاز (Airbus A-300) تهران سے اڑا۔ وه دبئي جانے كے ليے خليج فارس كے اوپر سے گزر رها تھا كه امريكا كے جنگي جهاز (USS Vincennes) نے اس كو مار كر گراديا۔ عمله سميت اس كے 290 مسافر هلاك هوگئے، جن ميں مرد، عورتيں اور بچے سب شامل تھے۔

يه بلا شبه ايك وحشيانه واقعه تھا۔ اتنا سنگين وحشيانه واقعه كيوں پيش آيا۔ اس كا جواب امريكي بحريه كے افسروں نے يه ديا هے كه يه كمپيوٹر كي غلطي (computer error)تھي۔ ان كے كمپيوٹر نے مسافر بردار جهاز كو جنگي جهاز بتايا، اس ليے انھوں نے اس پر وار كيا۔

امريكي بحريه كے مذكوره جهاز پر جديد ترين قسم كے راڈار لگے هوئے هيں۔ اس راڈار كے ساتھ كمپيوٹر كا انتهائي جديد نظام نصب كيا گياهے جو مصنوعي ذهانت (artificial intelligence) سے مسلح هے۔ يه سسٹم يه صلاحيت ركھتا هے كه وه فضا ميں اڑنے والے جهاز كا معائنه كركے راڈار اسكرين پر لفظوں ميں لكھ دے كه وه كس قسم كا جهاز هے، دوست يا دشمن۔

3 جون كو جب مذكوره جهاز فضا كي بلندي ميں اڑ رها تھا تو كمپيوٹر نے اس كا معائنه كركے راڈار اسكرين پر جهاز كا اصل نام (اير بس اے 300) لكھنے كے بجائے جٹ فائٹر (F-14 jet fighter) لكھ ديا۔ اس كا مطلب يه تھا كه وه دوست جهاز نهيں هے، بلكه دشمن كا جنگي جهاز هے۔ اس كے فوراً بعد جهاز كے افسر (Captain Will Rogers III)نے بٹن دبايا، اور دو ميزائل نے اڑ كر جهاز كو اس كے تمام مسافروں سميت قبرستان ميں پهنچا ديا(هندستان ٹائمس، 13 جولائي 1988، صفحه 12)۔

جديد ملحدين كا يه كهنا هے كه كائنات ايك مشين هے۔ اگر كائنات صرف ايك مشين هے تو يهاں مذكوره قسم كي مشيني غلطياں كيوں نهيں هوتيں۔ كياوجه هے كه اتني بڑي كائنات بالكل بے خطا انداز ميں مسلسل چلي جارهي هے۔

 

ريموٹ كنٹرول

موجوده زمانے نے انساني ڈکشنری ميں جن نئے الفاظ كا اضافه كيا هے، ان ميں سے ايك ريموٹ كنٹرول (remote control)هے۔ يعني دور سے كسي ظاهري واسطے كے بغير كنٹرول كرنا:

Remote control is a system of controlling a machine or a vehicle from a distance by using radio or electronic signals.

موجوده زمانے ميں بهت سي ايسي صورتيں پيدا هوگئي هيں ،جن ميں سگنل يا پيغام تاروں پر نهيں بھيجا جاسكتا۔ مثلاً حركت كرنے والي سوارياں جيسے هوائي جهاز يا خلائي جهاز، وغيره۔ ان حالات ميں مشين كو حسبِ منشا چلانے كے ليے ريموٹ كنٹرول يا ريڈيو كنٹرول كا طريقه اختيار كيا جاتاهے۔ ايسے حالات ميں كوڈ كي صورت ميں سگنل بھيجے جاتے هيں۔ متعلقه مشين ميں ايك رسيور هوتا هے جو مطلوبه فريكوئنسي پر اس كو وصول كرنے كے ليے هر آن متحرك رهتا هے۔ موجوده زمانے ميں يه طريقه بهت سے كاموں ميں كثرت سے استعمال هونے لگا هے۔

ريموٹ كنٹرول كا طريقه اب اس حد تك ترقي كر چكا هے كه خلا ميں اپنے مدار پر گھومنے والي مشينوں كو زمين سے نهايت صحت كے ساتھ هدايات بھيجي جاتي هيں، اور ان كي نگراني كي جاتي هے۔ اگر ان كے اندر كوئي خرابي پيدا هوجائے تو كسي مادي واسطے كے بغير محض ريڈيائي لهروں كے ذريعے ان كو زمين هي سے درست كرديا جاتا هے۔ حتي كه اس ايجاد نے تخريب كاروں كو بھي جديد مواقع فراهم كرديے هيں۔ چنانچه 25 مئي 1985 كو امير كويت كي موٹر كار كے پاس جو بم پھٹا، وه ریموٹ سے كنٹرول كيا جانے والا ايك بم (remote-controlled bomb) تھا۔

ريموٹ كنٹرول كا يه نظام ايك معنوي حقيقت كا مادي مظاهره هے۔ يه ايك عملي مثال كي صورت ميں بتارها هے كه خدا كس طرح پھيلي هوئي كائنات كو بلا واسطه كنٹرول كرتاهے، اور كس طرح اس كو اپني منشا كے مطابق چلا رها هے۔ ريموٹ كنٹرول ريڈيو اگرچه ايك انساني واقعه هے۔ مگر اس نے عظيم تر خدائي واقعے كو همارے ليے قابلِ فهم بنا ديا هے۔

خدا انسانی فطرت کی آواز

 

 

برتر ہستی کا تصور

ایک تحقیقاتی مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ہم پیدائشی طور پر خدا میں عقیدہ رکھنے والی مخلوق ہیں (we are born believers)۔ انسان کی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایک برتر ہستی کا تصور اس کے اندر فطری طور پر موجودہے۔ یہ تصور اتنا قوی ہے کہ کوئی بھی تربیت اس کو ختم نہیں کرسکتی۔ اس حقیقت کو نفسیات کے ایک عالم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

Belief in God is hardwired in our brain

یہ تحقیق ٹائمس آن لائن میں چھپی ہے، جس کو نئی دہلی کے اخبار ٹائمس آف انڈیا، نے اپنے شمارہ 8 ستمبر 2009 میں نقل کیا ہے۔مگر ماہرین کی رپورٹ میں غلط طور پر انسان کی اس خصوصیت کو نظریۂ ارتقا سے وابستہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انسانی ذہن کی خدا پر عقیدے کی پروگرامنگ بذریعہ ارتقا ہوئی ہے، تاکہ اپنے اس عقیدے کی بنا پر انسان جہد للبقا کے عمل میں زیادہ بہتر مواقع پاسکے:

Human beings are programmed by evolution to believe in God, because it gives them a better chance of survival.

یہ سرتاسر ایک غیر منطقی بات ہے۔ تحقیق سے جو بات ثابت ہوئی ہے وہ یہ کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر فوق الطبیعی عقیدہ (supernatural belief)موجود ہوتا ہے۔ کوئی مرد یا عورت اس سے خالی نہیں۔ مگر یہ بات سر تاسر غیر ثابت شدہ ہے کہ یہ عقیدہ کسی مفروضہ ارتقا (evolution) کے ذریعے انسان کے اندر خود بخود پیدا ہوا ہے۔

موجودہ زمانے میں مختلف شعبوں میں علمی تحقیقات کی گئی ہيں۔ ہر شعبے کے تحقیقاتی نتائج اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ انسان پیدائشی طور پر ایک بر تر ہستی کا عقیدہ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ذہن ہر انسان کو کسی نہ کسی پہلو سے مذہبی بنا دیتا ہے۔ حتی کہ جو لوگ بظاہر ملحد (atheist) سمجھے جاتے ہیں، ان کے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں بھی یہ تصور موجود ہوتا ہے۔

 

فطرت كي آواز

خدا انساني فطرت كي آواز هے۔ عام حالات ميں يه آواز چھپي رهتي هے۔ مگر جب زندگي ميں كوئي نازك لمحه آتاهے تو يه آواز جاگ اٹھتي هے۔تاريخ ميں بے شمار مثاليں هيں جن سے ظاهر هوتا هے كه كوئي بھي انسان اس فطرت سے خالي نهيں۔اس قسم کی چند مثالیں ذیل میں دی جارہی ہیں۔

فلم ایکٹرس

جینا لولوبرائیگیڈا (Gina Lollobrigida, b. 1927) ایک اٹالین فلم ایکٹرس ہے۔ جنوری 1975ء میں وہ ہندستان آئی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری رپورٹر سے اس کا سوال وجواب یہ تھا:

To a question whether she believed in God, Gina said: I believe in God, I believe in God, more when I am on an aeroplane. (The Times of India, 3 January 1975)

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ خدا کو مانتی ہے،جینا نے کہا: میں خدا کو مانتی ہوں، میں خدا کو مانتی ہوں، اس وقت اور بھی زیادہ جب میں ہوائی جہاز میں ہوتی ہوں۔

آدمی جب ہوائی جہاز میں اڑ رہاہو تو اس وقت وہ مکمل طورپر ایسے خارجی اسباب کے رحم وکرم پر ہوتا ہے جن کے توازن میں معمولی فرق بھی اس کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ انسان کی یہی بے چارگی سمندری سفروں میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے، تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرتیں دکھائے۔ در حقیقت اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ اور جب سمندر میںان لوگوں کو موجیں بدلیوں کی طرح گھیر لیتی ہیںتو یہ اللہ کو پکارتے ہیں، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے۔ پھر جب وہ بچا کر انھیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اعتدال پر رہتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار وہی کرتا ہے جو بد عہد اور ناشکرا ہے۔‘‘ (31:31-32)

کوئی شخص خواہ کتنا ہی سرکش اور منکر کیوں نہ ہو، جب مشکل حالات پڑتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا ہے۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا انسانی فطرت کی آواز ہے۔

—  روس میں اشتراکی انقلاب اکتوبر 1917ء میں آیا، اورتقریباً 74 سالوں کے بعد 1991 میں وہ ٹوٹ گیا۔اس درمیان اشتراکی حکومت نےمیڈیا، اور اسکول کو اينٹی مذہب پروپیگنڈے سے فلڈ (flood)کردیا۔ اشتراکی نظریے کے مطابق مذہب، سرمایہ داری نظام کا ضمیمہ (appendix) تھا۔ سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بعد قدرتی طورپر اس کے ضمیمے کو بھی ختم ہوجانا چاہیے۔ روسی حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے مذہب کو روس سے ختم کردیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ مذہب اب بھی وہاں زندہ ہے۔ حتی کہ روس کی جدید نسل میں دوبارہ مذہب پروان چڑھ رہا ہے۔ ذیل میں اس سلسلے کے چند واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔

جوزف اسٹالن

— اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (1879-1964ء)کا ہے۔ اسٹالن خدا کا منکرتھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل ( 1874-1965) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست 1942ء میں ماسکو کا سفر کیا تاکہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکنڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ چرچل نے اس سلسلے میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا، جس کا خفیہ نام ٹارچ(Torch)رکھاگیا تھا۔ اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبے میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبے کی تشریح کے ایک خاص مرحلے پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں۔ اس کی زبان سے نکلا  —خدا اس منصوبے کو کامیاب کرے:

‘‘May God prosper this undertaking’’

(Winston S. Churchill, The Second World War, (Abridgement) Cassell & Company, London, 1965, p. 603)

—اسٹالن کی بیٹی

 سویتلانا (Svetlana Alliluyeva) روسی ڈکٹیٹر اسٹالن کی بیٹی تھی۔ اس کی پیدائش  1926 کوہوئی، اشتراکی دنیا سے مایوس ہو کر 1966میں وہ ہندستان آئی تھی۔ پھر وہ یورپ چلی گئی، اور 2011 میں اس کی وفات ہوئی۔

اس نے عیسائیت کو اختیار کرلیا تھا۔ اپنے سچائی کے تلاش کا واقعہ لکھتے ہوئےوہ اپنی کتاب ’’صرف ایک سال‘‘  ( Only One Year) میں لکھتی ہے کہ میں ماسکو میں غیر مطمئن تھی ،اور اپنے قلب کی تسکین کے لیے کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ چیز مجھے بائبل کے ان جملوں میں مل گئی — اے خداوند! تو میری روشنی اور نجات دہندہ ہے۔ مجھے تو کسی سے بھی نہیں ڈرنا چا ہیے۔ خداوند میری زندگی کے ليے محفوظ پناہ گا ہ ہے۔ پس میں کسی بھی شخص سے خوف نہیں کھا ؤ ں گا۔ ہو سکتا ہے کہ شریر لوگ مجھ پر چڑھائی کریں۔ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ پر حملہ کریں گے ، اور مجھے نیست و نابود کر دیں گے،لیکن وہ ٹھو کر کھا ئیں گے اور گریں گے۔ اگر چاہے پو را لشکر بھی مجھ کو گھیر لے، میں نہیں ڈروں گا، اگر جنگ میں بھی لوگ مجھ پر حملہ کریں میں نہیں ڈروں گا:

The Lord is my light and my salvation, whom shall I fear? The Lord is the stronghold of my life- of whom shall I be afraid? When the wicked advance against me,  to devour me, it is my enemies and my foes,  who will stumble and fall. Though an army besiege me,    my heart will not fear ; though war break out against me,  even then I will be confident. (Psalm, 27:1-3)

—  ایک روسی پائلٹ

اس سلسلے میں ایک اور دلچسپ واقعہ وہ ہے، جو1973 میں ہندستان میں پیش آیا۔ ایک روسی جہاز (Ilyushin Jet)ہندستان میں مغربی بنگال کی فضا میں پرواز کررہا تھا کہ اس کا انجن خراب ہوگیا۔ ہوا باز کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں، اورجہاز زمین پر گرپڑا۔ ہوا باز سمیت سارے مسافر جل کر ختم ہوگئے۔

چونکہ یہ حادثہ ہندستان کی سرزمین پر ہوا تھا، اس لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ہندستان کو اس کی تفتیش کرنی تھی۔ ہوائی جہازوں کا قاعدہ ہے کہ اس میں آواز ريکارڈ کرنے والی ایک خود کار مشین رکھی جاتی ہے، جس کو عام طورپر بليك باكس (Black Box) کہتے ہیں۔ یہ بلیک باکس ہواباز اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کو ریکارڈ کرتا رہتاہے۔ اس کو ہوائی جہاز کی دُم میں رکھا جاتا ہے تاکہ ہوائی جہاز کے جلنے کے بعد بھی وہ بچ سکے۔

ہندستانی افسروں نے ہوائی جہاز کے ملبے سے اس بلیک باکس کو حاصل کیا۔ جب اس بکس کا ٹیپ بجایا گیا تاکہ اس سے تفتیش میں مدد لی جاسکے تو معلوم ہوا کہ بالکل آخری لمحات میں روسی پائلٹ کی زبان سے جو لفظ نکلا، وہ یہ تھا—  پیٹر ہم کو بچا (Peter save us)۔ 

واضح ہو کہ پیٹر یا پطرس حضرت عیسیٰؑ کے بارہ حواریوں میں سے ایک تھے، اور عیسائیوں کے یہاں بڑے بزرگ مانے جاتے ہیں۔

میخائل گوربا چیف

—کمیونسٹ حکومت کے آخری زمانے میں1990 میں راقم الحروف نے سوویت یونین (روس) کا سفر کیا تھا۔ اُس وقت میخائل گوربا چیف (Mikhail Gorbachev) وہاں کے صدر تھے۔ اُس زمانے میں وہاںآزادی کا دور شروع ہوچکا تھا۔ میںنے دیکھا کہ وہاں کے چرچ اور مسجدیں جو پہلے ویران رہا کرتی تھیں، اب وہاں مذہبی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ میںنے اپنے گائڈ سے کہا کہ ہم نے پہلے سنا تھا کہ روس میں مذہب مر چکا ہے، مگر یہاں تو وہ زندہ حالت میں دکھائی دیتا ہے۔ گائڈ نے جواب دیا کہ مذہب یہاں ہمیشہ زندہ تھا۔ جو فرق ہوا ہے، وہ صرف یہ کہ پہلے یہاں مذہب اَنڈر گراؤنڈ (underground)تھا، اور اب وہ سامنے آگیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا اور مذہب کا تصور انسان کی فطرت میں آخری حدتک پیوست ہے۔ کوئی شخص اگر اپنی زبان سے خدا کا انکار کرے، تب بھی خدا کا شعور اس کے دل کے اندر پوری طرح موجود رہتا ہے۔ سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گوربا چیف پہلے ایک ملحد کمیونسٹ تھے، مگر اب ان کی دبی ہوئی فطرت جاگ اٹھی ہے۔ انھوںنے خود اِس کا اعتراف کیا ہے۔برٹش نیوز پیپر ڈیلی ٹیلی گراف (The Daily Telegraph) کی ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (20 مارچ2008) میں چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ گوربا چیف اٹلی کے ایک چرچ میں پہنچے، اور وہاں انھوںنے اپنے عقیدے کے مطابق، خدا کی عبادت کی:

Gorbachev, who had earlier publicly pronounced himself as an atheist, acknowledged his Christian faith while paying a surprise visit to pray at the tomb of St Francis of Assisi in Italy (p. 22).

خدا کا شعور انسان کی فطرت میںاِس طرح شامل ہے کہ وہ کسی بھی حال میں اُس سے جدا نہیں ہوتا۔ اِس معاملے میں منکرین اور ملحدین کا بھی کوئی استثنا نہیں۔سوویت یونین کے زوال کے بعدکے روس میں اس قسم کے شواہد کثرت سے ملے ہیں۔

رچرڈ نکسن

 — مسٹر رچرڈ نکسن (1913-1994)امریکا کے 37 ویں صدر تھے۔ وہ 1969 میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے اور1974 میں ان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ صدارت سے اُن کی رخصت کا سبب واٹرگیٹ اسکینڈل بنا۔ ان کے زمانۂ صدارت کے آخری دنوں پر ایک کتاب لکھی گئی ہے— آخری ایام:

The Final Days by Bob Woodward and Carl Bernstein, Simon and Schuster, 1976, 476 pages

 کتاب کے مطابق، اسکینڈل کے انکشاف سے صدر نکسن بہت پریشان ہوگئے تھے۔جب صدارت کا خاتمہ قریب آگیا تو نکسن نے اپنے سکریٹری آف اسٹیٹ ہنری کسنجر (پیدائش 1923) سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ خدا کے آگے جھکیں، اور دونوں مل کر دعا کریں۔ ’’نہ تم زیادہ پکے یہودی ہو، نہ میں زیادہ پکا عیسائی۔ مگر اس وقت ہم کو ضرورت ہے کہ ہم دعا کریں۔‘‘ نکسن نے کہا اور عیسائی طریقِ عبادت کے مطابق جھک کر دعا کرنے لگے :

As the end neared, Nixon asked secretary of state Henry Kissinger to kneel and pray with him, saying: ‘‘You are not a very orthodox Jew and I am not an Orthodox Quacker, but we need to pray.” (Daily American [Rome] March 27, 1976)

—برٹرينڈ رسل

برٹرينڈ رسل(1872-1970) ايك انگريز مفكر هے۔ وه موجوده زمانے كا بهت بڑا ملحد سمجھا جاتا هے۔ مگر اس كي سوانح عمري بتاتي هے كه انسان بہ ظاهر خواه كتنا هي بڑا ملحد هو جائے وه اپنے آپ كو خدائي فطرت سے آزاد نهيں كرسكتا۔برٹرينڈرسل1952 ميں يونان گيا۔ اس سفر كا تذكره كرتے هوئے وه اپني سوانح عمري ميں لكھتاهے كه يه يونان كا ميرا پهلا سفر تھا، اور جو كچھ ميںنے ديكھا وه ميرے ليے بےحد دلچسپي كا باعث تھا۔ ايك پهلو سے تو مجھے خود تعجب هوا۔ وه عظيم اور ٹھوس كاميابياں جن كو ديكھ كر هر شخص متاثر هوتاهے۔ ميں بھي متاثر هوا۔ پھر ميں نے اپنے آپ كو ايك چھوٹے سے چرچ ميں پايا۔ يه اس وقت كي يادگار تھا جب كه يونان بازنطيني سلطنت كا حصه تھا۔ مجھے سخت حيراني هوئي جب ميںنے ديكھا كه اس سے ميں نے اپنے آپ كواس سے زياده مانوس پايا جتنا كه ميں يونان كي قبل مسيح دور كي يادگاروں سے متاثر هوا تھا۔ ميںنے اس وقت محسوس كيا كه مسيحي نقطهٔ نظر ميرے اوپر اس سے زياده غالب هے، جتنا كه ميں نے سمجھا تھا۔ يه غلبه ميرےعقائد پر نهيں تھا بلكه ميرے احساسات پر تھا:

To my astonishiment, I felt more at home in this little church than I did in the Parthenon or in any of the other Greek buildings of Pagan times. I realised then that the Christian outlook had a firmer hold upon me than I had imagined. The hold was not upon my belief, but upon my feelings. (p. 561)

يه الفاظ اس شخص كے هيں جس كي ملحدانه كتابوں ميں سے ايك كتاب وه هے، جس كا نام هے: ميں عيسائي كيوں نهيں(Why I Am Not A Christian?)۔حقيقت يه هے كه برٹرينڈرسل كے يه الفاظ اس كي فطرت كي پكار هيں۔ هر انسان كي فطرت ميں خدا اور مذهب كا شعور ابدي طور پر پيوست هے، وه چاهے بھي تو اس كو اپنے اندر سے نكال نهيں سكتا۔ يهي وجه هے كه بڑے بڑے ملحد اور منكر بھي اندر سے اپنے الحاد وانكار پر غير مطمئن رهتے هيں، وه خاص لمحات ميں بے تابانه طورپر اسي چيز كي طرف دوڑ پڑتے هيں جس كا بہ ظاهر وه اپني زبان سے انكار كررهے تھے۔

 

خدا كي نشانياں

ميكسويل (James Clerk Maxwell, 1831-1879)وه شخص هے، جس نے فطرت ميں برقي مقناطيسي تعامل كے قوانين كو انتهائي كاميابي كے ساتھ رياضياتي مساوات ميں بيان كيا۔ كها جاتاهے كه جب عظيم جرمن سائنسداں بولٹزمين نے اس كو ديكھا تو اس نے تعجب كے ساتھ كها كه كون وه خدا هے جس نے يه نشانياں لكھ ديں:

Maxwell put the laws of electromagnetic interactions into equations so marvellous that when the great German physicist, Boltzmann, saw them he exclaimed, ‘Who was the God who wrote these signs?’

كائنات كا مطالعه كرنے والے كے ليے سب سے زياده عجيب بات يه هے كه هر مطالعه بالآخر ايك ايسي چيز پر ختم هوتاهے جو انتهائي پر اسرار طورپر حكيمانه هوتي هے۔ كائنات اپنے آخري مطالعے ميں ايك حد درجه منظم واقعه هے، نه كه كوئي بے ترتيب انبار۔ يه حقيقت هر واقف كار كو يه ماننے پر مجبور كرتي هے كه كائناتي واقعات كے پيچھے كوئي بر تر ذهن كام كررها هے۔

آئن اسٹائن ايك خالص سائنسي مزاج كا آدمي تھا۔ تاهم اس نے اقرار كياهے كه ميں طبيعيات داں سے زياده ايك فلسفي هوں۔ كيونكه ميرا يقين هےكه همارے باهر بھي ايك حقيقت هے:

I am more a philosopher than a physicist, for I believe there is a reality outside of us. — The World as I See It.

آئن اسٹائن اپنے اس ذهن كي وجه سے كهتا هے كه اس معني ميں ميں بھي ايك پكا مذهبي آدمي هوں:

In this sense, I belong to the ranks of devoutly religious men.

كائنات خدا كي نشاني هے۔ وه مخلوق كے روپ ميں خالق كي تصوير دكھاتي هے۔ جو شخص كھلے ذهن كے ساتھ كائنات كو ديكھے گا، وه اس كےاندر اس كے خدا كو پالے گا۔ البته جن كے ذهن ميں ٹيڑھ هو ،وه روشني كے درميان بھي اندھيرے ميں رهيں گے، وه خدا كے قريب كھڑے هوكر بھي خدا كو نه پائيں گے۔

 

حقيقت كي تلاش

گليليوگلیلی (1564-1642) اپني ساده دوربين سے چاند كا صرف سامنے كا رخ ديكھ سكتا تھا۔ آج كا انسان خلائي جهاز ميں لگے هوئے دور بيني كيمروں كي مدد سے چاند كا پچھلا رخ بھي پوري طرح ديكھ رهاهے۔ يه ايك ساده سي مثال هے جس سے ظاهر هوتا هے كه كل اور آج ميں علمي اعتبار سے كتنا زياده فرق هوچكا هے۔

مگر ان جديد معلومات تك پهنچنے كي قيمت بهت مهنگي هے۔ 10 اكتوبر 1980 كو نيوميكسيكو ميں دنيا كي سب سے بڑي دور بين نصب كي گئي۔ اس كي قيمت 78 ملين ڈالر تھي۔امريكا كا ايك خلائي جهاز، وائيجر1(Voyager 1) جو نومبر 1980 ميں زحل کے پاس پهنچا اس كي لاگت 340 ملين ڈالر تھي۔ يورپ ميں پارٹيكل فزكس كي بين اقوامي ليبوريٹري (CERN)  1981ميں مكمل هوئي هے، اس كا مقصد اينٹي ميٹر كو توڑ كر ميٹر ميں تبديل كرنا هے، اس ليبوريٹري كي لاگت 120 ملين ڈالر هے۔ يه اداره ايك اور زياده بڑي تحقيقي مشين تيار كرنےكا منصوبه بنا رها هے، جس كي لاگت 550 ملين ڈالر هوگي۔ پروٹان كي تحقيق كے لیے امريكا ميں ايك مشين بنائي گئي هے، جس كي لاگت 275 ملين ڈالر هے، وغيره۔

ذراتي طبيعيات(particle physics) ميں لوگوں كي بڑھتي هوئي دل چسپي كا اندازه اس سے كيا جاسكتا هے كه 1927 ميں هونے والي فزكس كانفرنس ميں 32 سائنس داں شريك هوئے تھے، جب كه 1980 ميں هونے والي فزكس كانفرنس ميں شريك هونے والے سائنس دانوں كي تعداد 800 تھي۔ امريكن فزيكل سوسائٹي (APS) 1899 میں قائم کی گئی۔ اس كے ممبروں كي تعداد 1920 ميں 1300 تھي، 1980 ميں اس سوسائٹي كے ممبروں كي تعداد 30,000تھی، اور 2020 میں اس کے ممبران کی تعداد  50,000 ہے۔

ان جديد تحقيقاتي كوششوں كا تعلق فلکیات (astronomy) اور پارٹکل فزکس وغیرہ سے هے۔ ان علوم ميں تحقيقات كے نتائج دير ميں نكلتے هيں۔ تقريباً 50 سال بعد يا اس سے بھي زياده ۔ بظاهر ايك بے فائده مد ميں اتني كثير رقم خرچ كرنے كي وجه سے بهت سے لوگ ايسے منصوبوں پر اعتراض كررهے هيں۔ اس كا جواب ديتے هوئے نوبل انعام یافتہ پروفيسر راجر پنروز (Roger Penrose, b. 1931)  نے كها هے:

Do economists not share with us the thrill that accompanies each new piece of understanding? Do they not care to know where we have come from, how we are constituted, or why we are here? Do they not have a drive to understand, quite independent of economic gain? Do they not appreciate the beauty in ideas? — A civilisation that stopped inquiring about the universe might stop inquiring about other things as well. A lot else might then die besides particle physics. (SUNDAY Weekly [Calcutta] Nov 30, 1980)

كيا اقتصاديات كے ماهرين اس وجد انگيز مسرت ميں همارے ساتھ شريك نهيں هيں، جو علم كے هر نئے اضافے سے حاصل هوتي هے۔ كيا ان كو يه جاننے كا شوق نهيں هے كه هم كهاں سے آئے هيں، هماري پيدائش كيسے هوئي هے يا يه كه اس زمين پر هم كيوں هيں۔ كيا اقتصادي فائده سے هٹ كر ان باتوں كو جاننے كا جذبه ان كے اندر پيدا نهيں هوتا۔ كيا وه نظريات ميں حسن كي قيمت كو نهيں سمجھتے۔ كوئي تهذيب جو كائنات كے بارے ميں تحقيق سے رك جائے، وه دوسري چيزوں كے بارے ميں تحقيق كو بھي روك دے گي۔ اس كے بعد پارٹيكل فزكس كے علاوه دوسري بهت سي چيزيں بھي موت كا شكار هو كر ره جائيں گی۔

اس اقتباس سے اندازه هوتاهے كه زندگي كي حقيقت جاننے كا مسئله كس قدر ضروري هے۔ وه انسان جو خدا كي بنياد پر كائنات كي تشريح نهيں كرنا چاهتا وه بھي انتهائي بے تاب هے كه وه كوئي ايسي چيز پالے جس كي بنياد پر وه اپني اور كائنات كي تشريح كرسكے۔ حقيقت يه هے كه نظر آنے والي كائنات اور اس كے اندر انسان جيسي ايك مخلوق كا موجود هونا اس قدر حيران كن هے كه انسان اس كي ماهيت كے بارے ميں سوچے بغير نهيں ره سكتا۔ كوئي بھي دوسري چيز اس كو اس سوال سے بے نياز كرنے والي ثابت نهيں هوسكتي۔ حتي كه بڑي بڑي مادي ترقياں بھي۔

انسان ديكھتا هے كه وه ايك لامحدود كائنات ميں هے۔ اس كائنات ميں تقريباً ايك كھرب كهكشائيں هيں۔ هر كهكشاں ميں لگ بھگ ايك كھرب بهت بڑے بڑے ستارے هيں، اور هر ستاره دوسرے ستارے سے اتنا زياده فاصله پر هے، جيسے بحر الكاهل (Pacific Ocean) كے لق ودق سمندر ميں چندكشتياں ايك دوسرے سے دور دور تير رهي هوں۔ عظيم كائنات ميں پھيلے هوئے ستاروں كي يه تعداد اتني زياده هے كه اگر هر ستاره كا كوئي يك لفظي نام ركھا جائے ،اور كوئي ان ناموں كو بولنا شروع كرے تو صرف تمام ناموں كو دهرانے كے ليے 300 كھرب (30 ٹریلین )سال كي مدت دركار هوگي (پلين ٹرتھ، جنوري، 1981)۔

اس ناقابلِ قياس حد تك عظيم كائنات ميں انسان سب سے زياده حقير مخلوق هے۔ وه كائناتي نقشے ميں ان چھوٹے جزيروں سے بھي كم هے، جو بهت چھوٹے هونے كي وجه سے عام طورپر دنيا كے نقشوں ميں دكھائي نهيں ديتے۔ يه انسان اپنے تمام چھوٹے پن كے باوجود كائنات كے فاصلوں كو ناپ رها هے۔ وه طبيعياتي ذروں سے لے كر كهكشائی نظاموں تك كي تحقيق كررهاهے۔ وه ايك ايسا ذهن ركھتا هے، جو ماضي اور مستقبل كا تصور كرسكے۔ يه سب كيوں هورها هے اور كيسے هورهاهے، اور بالآخر اس عجيب وغريب ڈرامے كا كيا انجام هونے والا هے۔ يه سوالات هر سوچنے والےانسان كے اوپر منڈلا رهے هيں۔ وه ان كي حقيقت تك پهنچنا چاهتا هے۔ مگر انسان كي بدقسمتي يه هے كه وه ان سوالات كا جواب دور بيني مشاهدات اور ليبوريٹري كے تجربات ميں ڈھونڈ رهاهے۔ حالاں كه ان سوالات كا جواب پيغمبر كے الهام كے سوا كهيں اور موجود نهيں۔

جس كائنات ميں اتني زياده دنيائيں هوں كه صرف ان كا نام لينے كے ليے تين سو كھرب (30 Trillion) سال سے زياده مدت دركارهو۔ اس كي حقيقت كو وه انسان كيوں كر دريافت كرسكتا هے، جو پچاس سال يا سو سال زندگي گزار كر مر جاتا هے۔ حقيقت يه هے كه خالق هي اس راز كو كھول سكتا هے، اور اسي نے پيغمبر كے ذريعے اس كو كھولا هے۔

 

مذهب كي طرف واپسي

امريكا كے ٹائم ميگزين (8 اپريل 1966) كي كور اسٹوري (خصوصي مضمون) كا عنوان تھا ’’كيا خدا مرچكا هے‘‘ يه نصف صدی پهلے كي بات تھي۔ اب خود مغربي دنياميں ايسي كتابيں اور مضامين مسلسل شائع هورهے هيں جن كا عنوان اس كے بالكل برعكس هوتاهے۔ مثال كے طورپر ماهنامه اسپان (دسمبر 1984) ميں ايك مفصل رپورٹ شائع هوئي هے۔ اس كي سرخي كے الفاظ يه هيں ’’مذهب كي طرف واپسي‘‘۔

يه رپورٹ اس مضمون كے آخر میں نقل كي جارهي هے۔ اس كا خلاصه يهاں درج کیا جاتا هے۔ اس كے مطابق امريكا اور دوسرے مغربي ملكوں ميں مختصر وقفے كے بعد مذهب از سرِ نو زنده هورها هے۔ كالجوں ميں دينيات كي كلاس جو پهلے خالي رهتي تھي، اب بھري رهتي هے۔ چرچ اور سينگاگ (يهودي عبادت خانه) ميں جانے والوں كي تعداد كئي گناه بڑھ گئي هے۔ مذهبي لٹريچر پڑھنے والوں كي تعداد ميں غير معمولي اضافه هواهے۔ مذهب كے نام پر كانفرنسيں كثرت سے منعقد كي جارهي هيں۔ ايك پروفيسر كے الفاظ ميں، يهاں مذهب ميں دلچسپي كا حيرت ناك احيا هواهے۔

ايك مغربي دانشور جس نے 1965 ميں ’’سيكولر شهر‘‘ نامي كتاب ميں بتايا تھا كه لوگوں نے مقدس چيزوں ميںاپني دلچسپي كھو دي هے، اب وه اپني دوسري كتاب ’’سيكولر دنياميں مذهب‘‘ ميں دكھارها هے كه مذهب ميں لوگوں كي دلچسپي از سرِ نو بحال هوگئي هے۔ دانشور طبقه جو عرصے سے شك كي بنا پر مذهب كو نظر انداز كيے هوئے تھا، وه مذهب كي طرف دوباره ديكھنے لگاهے۔

ڈينيل بل نے لكھا هے كه 18 ويں صدي كے آخر سے لےكر 19 ويں صدي كے نصف تك تقريباً هر ترقي پسند مفكر يه خيال كرتا تھا كه مذهب 20 ويں صدي ميں ختم هوجائے گا۔ يه عقيده عقل كي طاقت كي بنياد پر قائم كيا گيا تھا۔ نظريه يه تھا كه انسان اپنے دماغ سےاپنے مسائل كو حل كرلے گا، اور اس كے بعد مذهب اپنے آپ ختم هوجائے گا۔ مگر ايسا نه هوسكا۔ هم نے ٹكنالوجي كے ذريعے غير معمولي طاقت فطرت كے اوپر حاصل كرلي۔ اس كے باوجود 20 ويں صدي غالباً انساني تاريخ كي سب سے بھيانك صدي هے۔

چونكه انسان كے سيكولر خدا ناكام هوگئے هيں، وه روايتي خدا كي طرف زياده سے زياده ديكھنے لگا هے۔ ايك پروفيسر كے الفاظ ميں روايت دوباره مثبت قوت كے ساتھ ايجنڈا پر آگئي هے۔ مذهب كي طرف يه واپسي حقيقةً فطرت كي طرف واپسي هے۔ يعني اس خدا كي طرف واپسي جس كا احساس اس كي فطرت ميں پيوست هے، نه كه اس خدا كي طرف جس كي نمائندگي وه اپنے موروثي مذهب ميں پارها هے۔

هارورڈ لاء اسكول كے پروفيسر آلن ڈرشووٹز (Alan Dershowitz, b. 1945) نے كها كه يه بڑي عجيب چيز هے كه ميري نسل مذهب كي طرف واپس آئے۔ هم وه نسل هيں جس كو هر قسم كي آزادي اورهر طرح كي چھوٹ حاصل تھي۔ مگر هميں يه تجربه هوا كه اس آزادي كي كوئي جڑ نهيں۔ يهي بے جڑ هونے كا احساس هے، جو اكثر دانشوروں كو دوباره مذهب كي طرف لايا هے۔ ايك دوسرے پروفيسر مسٹر كولس نے كها كه ميں يه نهيں كهه سكتا كه ميں خدا ميں عقيده ركھتاهوں۔ ميں روحانيت كي تلاش ميں هو ں نه كه كسي خاص مذهب كو ماننے والا۔ميري زندگي ميں ايسے لمحات آتے هيں جب كه ميں ٹھهر جاتا هوں اور خدا كو پكارنے لگتا هوں۔ ليكن اگر آپ مجھ سے پوچھيں كه وه خدا كون هے، اور اس كي صورت كيا هے تو ميں تردد ميں پڑ جاؤں گا۔ ميں صرف يه كهه سكتاهوں كه ميں انتشار ذهني كا شكار هوں۔ اگر چه ميں نهيں چاهتا كه ذهني انتشار ميري زندگي پر پوري طرح چھاجائے۔

تبصره

يه صورتِ حال جو غير مسلم اقوام ميں پيدا هوئي هے، يهي خود مسلمانوں ميں بھي پيدا هوئي هے۔ موجوده زمانے ميں مسلمانوں كے اندر بھي دين كي طرف از سر نو رجوع پيداهوا هے۔ مگر اس رجوع كا تعلق كسي ’’عهد ساز مفكر‘‘يا كسي ’’خدا رسيده بزرگ‘‘ سے نهيں هے۔ يه تمام تر ايك زماني مظهر هے۔ يهي وجه هے كه وه هر قوم ميں يكساں طورپر پيداهوا هے۔ مسلمان، هندو، سكھ، عيسائي، يهودي، بدھسٹ، وغيره سب كے يهاں اس كو ديكھا جا سكتا هے۔اس ميں ايك مذهب اور دوسرے مذهب كا كوئي فرق نهيں۔

اس نئي صورتِ حال كي وجه مغربي انسان كي وه مايوسي هے، جو اس كو موجوده صدي ميں پيش آرهي هے۔ بيسويں صدي عقليت اور سائنس كي صدي تھي۔ جديد انسان كو يقين هوگيا تھا كه وه اپني عقل اور اپني سائنس سے وه سب كچھ حاصل كرلے گا، جس كي اميد پهلے صرف مذهب سے كي جاتي تھي۔ مگر اس كي اميديں پوري نهيں هوئيں۔ انسان كي عقليت نے اس كو صرف بے يقيني تك پهنچايا، اور اس كي سائنس ايٹمي جنگ كا سياه بادل بن كر اس كے سرپر منڈلانے لگي۔ چوں كه لوگوں كے سيكولر خدا ناكام هوگئے۔ اس لیے لوگوں نے روايتي خدا كي طرف زياده توجه كے ساتھ ديكھنا شروع كرديا۔

اس طرح موجوده صورتِ حال نے همارے ليے ايك نيا امكان كھولا هے۔ اس نے خدا كے محفوظ دين (اسلام) كي تبليغ واشاعت كا ايك نيا موافق ميدان پيدا كرديا هے۔ آج كا انسان خدا اور مذهب كي تلاش ميں نكلا هے۔ مگر يه تمام تر فطرت كے زور پر هے۔ موجوده مذاهب تحريف هوجانے كي بنا پر اس كي تلاش كا حقيقي جواب نهيں هيں۔ يهاں ضرورت هے كه اس كو بتايا جائے كه جس مذهب كي تمهيں تلاش هے، وه محمد صلي الله عليه وسلم كے لائےهوئے دين ميں موجود هے۔ اسلام اسي مذهب كا غير محرف ايڈيشن هے جس كو تم محرف مذاهب ميں ناكام طورپر تلاش كررهے هو۔

دنيا كے موجوده حالات ديكھیے، تو ايسا معلوم هوتا هے كه خدا نے لوگوں كو لاكر اپني رحمت كے دروازے پر كھڑا كرديا هے۔ وه لوگوں كو مجبور كركے انھيں دينِ حق ميں داخل كرنا چاهتا هے۔ حقيقت يه هے كه آسمان سے لوگوں كي هدايت اتر چكي هے۔ اب يه همارا كام هے كه حق كو طالبانِ حق تك پهنچا ديں۔

A RETURN TO RELIGION

‘‘There's no doubt about it’’, says Harvey R. Cox, Professor of Divinity at the Harvard Divinity School, ‘‘There’s a tremendous resurgence of religious interest here.‘‘It is not uncommon to see students wearing crosses or yarmulkes on campuses across the United States, and few hide the fact that they go to church or synagogue. Not just students, but the academic community in general, long a haven for skeptics, is now giving religion a second look. Cox’s bestselling 1965 book, The Secular City, suggested that people had lost interest in the sacred. His new book, Religion In The Secular City, describes the current revival in religious concern. A century that has seen the Gulag, the Holocaust, Hiroshima and the spread of nuclear arms has caused some who used to champion rationalism and science to humble themselves. Since their secular gods have failed, they are beginning to view more traditional gods with a new curiosity.   "There is a reaction against extreme individualism and self, a preoccupation with and a search for roots with a capital R, which takes people back to religion,’’ says Robert N. Bellah, Ford Professor of Sociology and Comparative Studies at the University of California at Berkeley.  ‘‘Tradition is back on the agenda with a positive force.’’ It would have been hard to imagine a similar revival 20 years ago. On April 8, 1966, Time magazine asked on its cover: ‘‘Is God Dead?” Among intellectuals today, God is not pronounced dead easily. Science and religion are not viewed as necessarily incompatible, and logical attempts to disprove God’s existence are viewed as somewhat arcane, All of this would have surprised our intellectual predecessors. At the end of the 18th and to the middle of the 19th century, almost every enlightened thinker expected religion to disappear in the 20th century,’’ Daniel Bell said in a seminal lecture, ‘‘The Return of the Sacred,’’  at the London School of Economics in 1977.  ‘‘The belief was based on the power of reason.’’  The theory was that man could use his mind to  overcome his problems, and religion would wither away. But that has hardly been the case.  ‘‘We’ve gained enormous power over nature via technology,’’ Bell said in an interview. ‘‘And yet, the 20th century is probably the most dreadful period in human history.’’  For intellectuals, according to Bell, there have always been secular alternatives to religious faith: rationalism and the belief in science; aestheticism and  the belief in art; existentialism as expressed in the works of Kierkegaard and the early Sartre, and politics-the cults of Stalin, Lenin and Mao. Yet, one by one; those alternatives, according to Bell, have exhausted their power to move individuals. ‘‘It’s ironic that my generation should be the one coming - back to religion,’’ says Alan Dershowitz, 45, professor of law at Harvard Law School.  ‘‘We were the generation that had all the freedom and all the choice.’’ And yet, it is the rootlessness of much of that freedom that has brought so many intellectuals back to religion. ‘‘I can’t say to you I believe in God.’’  says Coles, who might be described as a spiritual wanderer rather than as a believer in any particular faith. ‘‘There are moments when I do stop and pray to God. But if you ask me who that God is or what kind of image He has. my mind boggles. I’m confused, perplexed, confounded. But I refuse to let that confusion be the dominant force in my life.’’ (Span, Dec 1984, p. 26)

www.issuu.com/spanmagazine/docs/1984-12-cr/54 [accessed 01.04.2020]

ــــــــــــــــــــ

ذہین وجود کی تلاش

موجودہ زمانے کے سائنس دانوں جن چیزوں کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں، ان میں سے ایک ایلین تہذیب(alien civilization)ہے۔ زمین پر انسانی تہذیب کے علاوہ کیا خلا میں کوئی اور تہذیب ہے، جو ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ پچھلے 25 برسوں کے سائنسی مطالعے نے کافی حد تک یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ کائنات میں ہمارے علاوہ دوسری ’’ٹکنکل سولائزیشن‘‘ بھی ہوسکتی ہے۔اس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دانوں کو کائنات میں ماورائی ذہانت (extraterrestrial intelligence) کے آثار ملے ہیں۔ ان آثار کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ خدا کے وجود پر لوگوں کا یقین بڑھتا، مگر غیر خدا پرستانہ ذہن کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ ماورائی ذہانت کو انسانی ذہانت سمجھ رہے ہیں۔ جو حقیقۃً خدا کا وجود ثابت کررہی ہے، اس کو اس معنی میںلے رہے ہیں کہ کائنات میں کسی سیارہ پر انسانی تہذیب جیسی کوئی اور تہذیب موجود ہے۔ حالاں کہ کائنات میں ’’ذہانت‘‘ کے آثار کا ملنا، اور ذہانت کا نظر نہ آنا، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر انسانی اور غیر مرئی (invisible)ہے، نہ کہ انسان کی طرح دکھائی دینے والی۔

 

معبود كي طلب

 اندرن نكولائيف(Andriyan Grigoryevich Nikolayev) روس کا خلائی مسافر ہے۔ اس کی پیدائش1929 میں ہوئی، اور وفات 2004 میں۔1962 میں اس نے پہلی مرتبہ خلا میں پرواز کیا۔ اس خلائي پرواز سےواپسی کے بعد 21 اگست 1962كو ماسكو میں اس نے ايك پريس كانفرنس میں حصہ لیا۔ اس کانفرنس ميں اس نےاپنا خلائی تجربہ بیان کرتے ہوئے كها:

جب ميں زمين پر اترا تو ميرا جي چاهتا تھا كه ميں زمين كو چوم لوں۔

انسان جيسي ايك مخلوق كے ليے زمين پر جو بے حساب موافق سامان جمع هيں، وه معلوم كائنات ميں كهيں بھي نهيں۔ روسي خلا باز جب زمين سے دور خلا ميں گيا تو اس نے پايا كه وسيع خلا ميں انسان كے ليے صرف حيراني اور سرگشتگي هے۔ وهاںانسان كے سكون اور حاجت براري كا كوئي سامان نهيں۔ اس تجربے كے بعد جب وه زمين پر اترا تو اس كو زمين كي قيمت كا احساس هوا، ٹھيك ويسے هي جيسے شديد پياس كے بعد آدمي كو پاني كي اهميت كا احساس هوتاهے۔ زمين اپنے تمام موافق امكانات كے ساتھ اس كو اتني محبوب معلوم هوئي كه اس كا جي چاها كه اس سے لپٹ جائے اور اپنے جذباتِ محبت كو اس كے ليے نثار كردے۔

يهي وه چيز هے جس كو شريعت ميں الٰہ بنانا كهاگيا هے۔ آدمي خالق كونهيں ديكھتا، اس ليے وه مخلوق كو اپنا الٰہ بنا ليتاهے۔ مومن وه هے جو ظاهر سے گزر كر باطن تك پهنچ جائے، جو اس حقيقت كو جان لے كه يه جو كچھ نظر آرها هے يه كسي كا دياهوا هے۔ زمين ميں جو كچھ هے وه سب كسي برتر هستي كا پيدا كيا هوا هے۔ وه مخلوق كو ديكھ كر اس كے خالق كو پالے اور خالق كو اپنا سب كچھ بنا لے۔ وه اپنے تمام بهترين جذبات كو خداكے ليے نثار كردے۔

روسي خلاباز پر جو كيفيت زمين كو پاكر گزري وهي كيفيت مزيد اضافه كے ساتھ آدمي پر خدا كو پاكر گزرنا چاهيے۔ مومن وه هے جو سورج كو ديكھے تو اس كي روشني ميں خدا كے نور كو پالے۔ وه آسمان كي وسعتوں ميں خدا كي لامحدوديت كا مشاهده كرنے لگے۔ وه پھول كي خوشبو ميں خدا كي مهك كو پائے، اور پاني كي رواني ميں خدا كي بخشش كو ديكھے۔ مومن اور غير مومن كا فرق يه هے كه غير مومن كي نگاه مخلوقات ميں اٹك كر ره جاتي هے، اور مومن مخلوقات سے گزر كر خالق (Creator) تك پهنچ جاتا هے۔ غيرمومن مخلوقات كے حسن كو خود مخلوقات كا حسن سمجھ كر انھيں ميں محو هو جاتا هے۔ مومن مخلوقات كے حسن ميں خالق كے عجائبات (wonders) ديكھتا هے،اور اپنے آپ كو خالق كے آگے ڈال ديتا هے۔ غيرمومن كا سجده چيزوں كے ليے هوتا هے، اور مومن كا سجده چيزوں كے خالق كے ليے۔

خدا كي موجودگي كا تجربه

اپالو 15 ميں امريكا كے جو تين خلا باز چاند پر گئے تھے، ان ميں سے ايك كرنل جيمز اِروِن (James Irwin, 1930-1991) تھے۔ انھوںنے ايك انٹرويو ميں كها كه اگست 1972 كا وه لمحه ميرے ليے بڑا عجيب تھا، جب ميںنے چاند كي سطح پر قدم ركھا۔ ميں نے وهاں خدا كي موجودگي (God’s presence) كو محسوس كيا۔ انھوں نے كها كه ميري روح پر اس وقت وجداني كيفيت طاري تھي، اور مجھے ايسا محسوس هوا جيسے خدا بهت قريب هو۔ خدا كي عظمت مجھے اپني آنكھوں سے نظر آرهي تھي۔ چاند كا سفر ميرے ليے صرف ايك سائنسي سفر نهيں تھا، بلكه اس سے مجھے روحاني زندگي نصيب هوئي (ٹريبون 27 اكتوبر 1972)۔

كرنل جيمز ارون كا يه تجربه كوئي انوكھا تجربه نهيں۔ حقيقت يه هے كه خدا نے جو كچھ پيدا كيا هے،وه اتنا حيرتناك هے كه اس كو ديكھ كر آدمي خالق كي صناعيوں (wonders)ميں ڈوب جائے۔ تخليق كے كمال ميں هر آن خالق كا چهره جھلك رها هے۔ مگر همارے گردوپيش جو دنيا هے، اس كو هم بچپن سے ديكھتے ديكھتے عادي هوجاتے هيں۔ اس سے هم اتنا مانوس هوجاتے هيں كه اس كے انوكھے پن كا هم كواحساس نهيں هوتا۔ هوا اور پاني اور درخت اور چڑيا غرض جو كچھ بھي هماري دنيا ميں هے، سب كا سب حد درجه عجيب هے، هر چيز اپنے خالق كا آئينه هے۔ مگر عادي هونے كي وجه سے هم اس كے عجوبه پن كو محسوس نهيں كر پاتے۔ مگر ايك شخص جب اچانك چاند كے اوپر اترا، اور پهلي بار وهاں كے تخليقي منظر كو ديكھا تو وه اس كے خالق كو محسوس كيے بغير نه ره سكا۔ اس نے تخليق كے كارنامے ميںاس كے خالق كو موجود پايا۔

 هماري موجوده دنيا جس ميں هم رهتے هيں، يهاں بھي ’’خدا كي موجودگي‘‘ كا تجربه اسي طرح هوسكتا هے، جس طرح چاند پر پهنچ كر كرنل اِروِن كو هوا۔ مگر لوگ موجوده دنيا كو اس استعجابي نگاه سے نهيں ديكھ پاتے، جس طرح چاند كا ايك نيامسافر چاند كو ديكھتا هے۔اگر هم اپني دنيا كو اس نظر سے ديكھنے لگيں تو هر وقت هم كو اپنے پاس ’’خدا كي موجودگي‘‘ كا تجربه هو۔ هم اس طرح رهنے لگيں جيسے كه هم خدا كے پڑوس ميں ره رهے هيں، اور هر وقت وه هماري نظروں كے سامنے هے۔

اگر هم ايك اعلي درجے كي مشين كو پهلي بار ديكھيں تو في الفور هم اس كے ماهر انجينئر كي موجودگي كو وهاں محسوس كرنے لگتے هيں۔ اسي طرح اگر هم دنيا كو اور اس كي چيزوں كو گهرائي كے ساتھ ديكھ سكيں تو اسي وقت هم وهاں خدا كي موجودگي كو پاليں گے۔ کائنات کی ہر تخلیق خالق کے وجود کی گواہی دیتی ہے۔

موجوده دنياميں انسان كي سب سے بڑي يافت يه هے كه وه خدا كو ديكھنے لگے، وه اپنے پاس خدا كي موجودگي كو محسوس كرلے۔ اگر آدمي كا احساس زنده هو تو سورج كي سنهري كرنوں ميں اس كو خدا كا نور جگمگاتاهوا دكھائي دے گا، هرے بھرے درختوں كے حسين منظر ميں وه خدا كا روپ جھلكتا هوا پائے  گا۔ هواؤں كے لطيف جھونكے ميں اس كو لَمسِ رباني(divine touch) كا تجربه هوگا۔ اپني هتھيلي اور اپني پيشاني كو زمين پرركھتے هوئے اس كو ايسا محسوس هوگا گويا اس نے اپنا وجود اپنے رب كے قدموں ميں ڈال ديا هے۔ خدا اپني قدرت اور رحمت كے ساتھ هر جگه موجود هے، بشرطيكه ديكھنے والي نگاه آدمي كو حاصل هوجائے۔

 

انكار سے اقرار تك

پروفيسر چندروكرما سنگھي ( Chandra Wickramasinghe, b 1939) سري لنكا كے ايك سائنس داں هيں۔وہ يونيورسٹي كالج، كارڈيف (برطانيه) ميں رياضيات اور فلكيات كے استاد رہے۔ اپنے فن ميں انھوں نے عالمي شهرت حاصل كي هے۔ وه پروفيسر سرفريڈ هائل كے ساتھ 1962 سے ايك تحقيق ميں لگے هوئے تھے۔ تحقيق كا موضوع يه تھا كه زمين پر زندگي كا آغاز كس طرح هوا۔ دونوں پروفيسروں نے اپني تحقيق كے نتائج ايك كتاب كي صورت ميں شائع كيے هيں جس كا نام هے ’’ارتقاء خلا سے‘‘:

Evolution from Space, Simon and Schuster, 1981,  176 pages

پروفيسر وكرما سنگھي نے تحقيق كا آغاز اس ذهن كے ساتھ كيا تھا كه خالق كا تصور سائنس سے غيرمطابق هے۔ وه لكھتے هيں: اپني تحقيق كے آخري نتائج سے مجھے بڑا دھكا لگا۔ سائنسي تعليم كے دوران شروع سے مجھے يقين دلايا گيا تھا كه سائنس كسي بھي قسم كي ارادي تخليق كے نظريے سے هم آهنگ نهيں هوسكتي۔ اس نظريے كو بے حددكھ كے ساتھ چھوڑنا پڑے گا۔ ميرا ذهن مجھ كو جس طرف لے جارها هے، وه ميرے ليے سخت غير اطمينان بخش هے۔ مگر اس سے نكلنے كاكوئي منطقي راسته موجود نهيں۔

دونوں سائنس دانوں نے الگ الگ اس كا حساب لگايا كه اتفاقي طورپر زندگي شروع هونے كا رياضياتي امكان كتنا هے۔ دونوں كي آزادانه تحقيق اس مشتركه نتيجے پر پهنچي كه اتفاقي پيدائش كارياضياتي طورپر كوئي امكان نهيں۔ انھوں نے حساب لگا كر بتايا كه اتفاقي پيدائش كا امكان اگر ’’ايك‘‘ مانا جائے تو اس كے مخالف امكانات اتنے زياده هيں كه ان كو شمار كرنے كے ليے ايك كے دائيں طرف چاليس هزار صفر لگانے هوں گے۔ ’’يه تعداد موجوده حجم اور عمر (15 بلين سال)كي كائنات ميں اتني ناقابلِ قياس حد تك زياده هے كه مجھے صد في صد يقين هےكه زندگي هماري زمين پر اپنے آپ اچانك شروع نهيں هوسكتي۔‘‘

كيميائي اتفاق سے اچانك زندگي كا شرو ع هونا اس قدرزياده بعيد بات هے كه وه بالكل لغو معلوم هوتا هے۔ يه سوچنابالكل معقول هے كه طبيعيات كے وه اوصاف جن پر زندگي كا انحصار هے، وه هر اعتبار سے ارادي هيں۔ وكرما سنگھي لكھتے هيں ’’سرفريڈ هائل مجھ سے زياده بر تر خالق كي طرف مائل تھے۔ ميں اكثر اس كے خلاف ان سے بحث كرتا تھا۔ مگر ميں نے پايا كه ميں استدلال كي تمام بنياديں كھورها هوں۔ اس وقت ميں كوئي بھي عقلي دليل نهيں پاتا، جس سے ميں خدا كے نظريے كو باطل ثابت كرسكوں۔ اگر ميں كوئي دليل پاتا، خواه وه كتني هي معمولي كيوں نه هو تو ميں اس كتاب كے لكھنے ميں فريڈ كا شريكِ كار نه هوتا۔ اب هم محسوس كرتے هيں كه زندگي كے بارے ميں واحد منطقي جواب يهي هے كه وه تخليق هے، نه كه كوئي الل ٹپ قسم كا الٹ پھير۔ ميں اب بھي اس اميد پر هوں كه كسي دن ميں دوباره خالص مشيني توجيه پيش كرسكوں۔هم بحيثيت سائنس داں كے اس اميد ميں تھے كه هم كوئي راسته پاليں گے۔ مگر موجوده تحقيقي نتائج كے مطابق اس كي كوئي صورت نهيں۔ منطق اب بھي مايوسانه طورپر اس كے خلاف هے۔

ميں ايك بدھسٹ هوں۔ اگر چه كوئي پر جوش نهيں۔ اس اعتبار سے يه ميرے ليے كوئي مسئله نه تھا۔ كيونكه بدھزم ايك بے خدا مذهب هے، جو اس بات كا دعوي نهيں كرتا كه وه تخليق كے بارے ميں كچھ جانتا هے۔ بدھزم كے نظام ميں خالق كا كوئي وجود نهيں۔ مگر اب ميں پاتا هوں كه ميں منطق كے ذريعے اسي مقام پر پهنچا دياگيا هوں۔ اس كے سوا كوئي طريقه نهيں جس سے هم يه سمجھ سكيں كه مخصوص كيميائي مادوں ميں وه حد درجه درست نظام كيوں كر پايا جاتا هے، جس سے كائناتي سطح پر تخليقات كا ظهور هو۔‘‘

تبصره

پچھلي صديوں ميں يه سمجھ ليا گيا تھاكه خدا كا وجود محض ايك ذاتي عقيدے كي چيز هے۔ اس كا علمي طرزِ فكر سے كوئي تعلق نهيں۔ مگر دوسري جنگ عظيم كے بعد مسلسل ايسے شواهد مل رهے هيں كه انسان يه ماننے پر مجبور هورها هے كه خدا كا وجود ايك علمي وعقلي نظريه هے نه كه محض ايك بے دليل عقيده۔

مگر سائنسي مطالعه آدمي كو صرف اس مجرد حقيقت تك پهنچا رها هے كه خدا كا وجود هے۔ اس كے آگے يه سوال هے كه خدا جب هے تو اس كا انسان سے كيا تعلق هے۔ مگر سائنس اس كے بارے ميں هميں كوئي معلومات نهيں ديتي اور نه دے سكتي۔ يه دراصل وه مقام هے جهاں سے مذهب كي سرحد شروع هوجاتي هے۔ اصولي طورپر تمام مذاهب اس سوال كا جواب هيں۔ مگر مذاهب كي موجوده صورت بتاتي هے كه اسلام كے سوا كوئي مذهب اپني اصلي حالت ميں محفوظ نهيں۔ كوئي مذهب اس ليے باطل قرار پاتا هے كه اس ميں سرے سے خدا كا تصور هي موجود نهيں۔ كسي كا حال يه هے كه وه كئي خداؤں كا مدعي هے۔ حالاں كه تمام علوم يه ثابت كررے هيں كه خدا اگر هوسكتا هے تو ايك هوسكتا هے۔ كئي خدا كا هونا ممكن نهيں۔ كسي مذهب كے نظام ميں ايسے نظريات جگه پاگئے هيں، جن كو انساني ضمير كبھي قبول نهيںكرسكتا۔ مثلاً انسانوں كے درميان رنگ اور نسل كي بنيادپر فرق۔ اسي طرح دوسري باتيں۔

علمي حقائق انسان كو خدا تك پهنچا رهے هيں اور خدا كو ماننے كے بعد اسلام كو ماننے كے سوا كوئي چاره نهيں۔ جب علمي مطالعه يه بتا رها هو كه اس دنيا كا ايك خدا هے تو بے خدا مذاهب اپنے آپ باطل ثابت هوجاتے هيں۔ جب كائناتي تحقيق يه بتائے كه اس كا پورا نظام ايك وحدت كے تحت چل رها هے تو ايسے مذاهب بے معني هوجاتے هيںجو كائنات كے كئي خدا مانتے هوں۔ ايسي حالت ميں آدمي مجبور هے كه وه اسلام كو اپنا مذهب بنائے جو نه صرف خدا كے صحيح تصور پر مبني هے بلكه واضح طور پر يه بھي بتاتا هے كه خدا اورانسان كے درميان كس قسم كا تعلق هونا چاهيے۔

CONVERSION TO GOD

There wasn’t much to agree on when two of Britain’s most eminent scientists began researching into the origin of life. But on one point they were both quite clear — that the notion of ‘Creator' is inconsistent with science. Today, Professor Sir Fred Hoyle, an agnostic of Christian background and Professor Chandra Wickramasinghe, an atheist Buddhist are changed men. They believe. What convinced both men were calculations they each did independently into the mathematical chances of life starting spontaneously. Each found that the odds against the spark of life igniting accidentally on Earth were staggering - in mathematical jargon ‘10 to the power of 40,000.’ If you write down the figure ‘l' and add 40,000 noughts after it, you have the figure. ‘‘That number is such an imponderable in the universe that I am 100 per cent certain that life could not have started spontaneously on Earth,” says Wickramasinghe' who has worked with Hoyle since 1962.  ‘‘It is quite a shock,’’ says Wickramasinghe, Sri Lankan born Professor of Applied Mathematics and Astronomy at University College, Cardiff. ‘‘From my earliest training as a scientist, I was very strongly brainwashed to believe that science cannot be consistent with any kind of deliberate creation. That notion has had to be very painfully shed. I am quite uncomfortable in the situation, the state of mind I now find myself in. But there is no logical way out of it.’’ They did calculations based on the size and age of the universe (15 billion years) and found that the odds against life beginning spontaneously anywhere in space were ‘10 to the power of 30.’  And as they say in their book, Evolution From Space: ‘‘Once we see that the probability of life originating at random is so utterly miniscule as to make it absurd, it becomes sensible to think that the favourite properties of physics on which life depends are in every respect deliberate. Wickramasinghe says: Fred was tending much more than I towards the higher intelligent Creator. I used to argue against it, but I found myself losing every argument. At the moment I can’t find any rational argument to knock down the view which argues for conversion to  God. If I could have found an argument even a filmsy one — I wouldn’t have been party to what we wrote in the book. We used to have open minds; now we realise that the only logical answer to life is creation, and not accidental random shuffling. I still have a hope that one day I may go back to favour a purely mechanistic explanation — I say  'hope', because I still cannot come to terms with my conversion. My being a Buddhist — albeit not an ardent one—was never a problem, because it is an atheistic religion which dosen’t profess to know anything about creation and doesn't have a creator built into it.'  But I now find myself driven to this position by logic. There is no other way in which we can understand the precise ordering of the chemicals of the except to invoke the creations on a cosmic scale. ‘‘The two also believe that cellular life had already evolved to a high degree before the Earth was born, about three and-a-half billion years ago. ‘‘We received life with the fundamental biochemical problems already solved.’’ says Wickramasinghe: We were hoping as scientists, that there would be a way round our conclusion—but there isn’t. Logic is still hopelessly against that. )The Hindustan Times, September 6, 1981)

 

فطرت كي پكار

مسٹر ياكوف زلڈووچ (Yakov Zeldovich)  روس کے مشہور سائنس داں ہیں۔ ان کی پیدائش 1914 میں ہوئی، اور وفات 1987 میں ۔ وہ روس كي اكيڈمي آف سائنسز كے ممبر رہ چکے ہیں۔ سوویت یونین کے زمانے میں ماسكو سےشائع ہونے والے انگريزي ماه نامه اسپٹنك (Sputnik) شماره اگست 1987 ميںان کا ايك مضمون چھپا تھا، جس كا عنوان هے:

Truth, Progress and the Human Soul

اس مضمون میں مسٹر زلڈووچ نے اپنے بارے ميں اقرار كيا هے كه وه ايك اتھیسٹ هيں، وه خدا اور مذهب كو نهيں مانتے۔ مگر اسي كے ساتھ وه كهتے هيں كه انساني معاشروں ميں مذهب كي موجودگي ايك ثابت شده تاريخي حقيقت هے۔ نيز يه كه روحاني تقاضے انسان كے شعور ميں گهرائي كے ساتھ پيوست هيں:

Spiritual needs are deeply embedded in human consciousness.

انساني فطرت كي يه نوعيت اتني واضح اور اتني قطعي هے كه تمام سنجيده لوگوں نےاس كا اقرار كيا هے۔ قديم ترين زمانے سے لے كر آج تك تمام انسان اس احساس كو لے كر پيدا هوتےرهے هيں۔ ملحد معاشروں ميں پيدا هونے والے بچے بھي اپنے آپ كو اس احساس سے خالي نه كرسكے۔ انساني فطرت كا يه تقاضا ايك ايسي ماني هوئي حقيقت هے جس كا انكار نهيں كيا جاسكتا۔

اس حقيقت كو مان لينے كے بعد صرف يه سوال باقي رهتاهے كه اس تقاضے كا جواب كيا هے۔مذكوره سائنس داں كا كهنا هے كه اس كا جواب نيچرل سائنس هے۔ مگر يه جواب اپني ترديد آپ هے۔ اس ليے كه نيچرل سائنس ايك مادي چيز هے، اور انساني فطرت كا تقاضا ايك روحاني چيز۔ پھر ايك مادي چيز ايك روحاني سوال كا جواب كس طرح بن سكتي هے۔ حقيقت يه هے كه اس سوال كا جواب صرف خداوند تعالي هے۔ مخلوق اپنے خالق كي تلاش ميں هے، اور خالق كو پانے كے بعد هي مخلوق كو سكون حاصل هوسكتاهے:اَلا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ القُلُوبُ(13:28)۔

 

ڈارون کا اعتراف

چارلس ڈارون (1809-1882) نے يه نظريه پيش كيا كه انسان دوسرے حيوانات هي كي ترقي يافته نسل هے۔ يه ايك بے حد عجيب نظريه تھا۔ كيونكه انسان انتهائي غير معمولي حد تك دوسرے جانوروں سے مختلف هے۔ پھر كيسے يه ممكن هوا كه اميبا كا دماغ ترقي كرتے كرتے انسان كا دماغ بن جائے۔ يه نظريه اتنا بعيد از قياس تھا كه ڈارون خود اپنے اس نظريے كے بارےميں حيراني ميں مبتلا هوگيا۔ اس نے اپني ڈائری (Darwin's Diary, April 1881)  ميں لكھاهے:

Can the mind of man, which has, as I fully believe, been developed from a mind as low as that possessed by the lowest animal, be trusted when it draws such a grand conclusion?...I cannot pretend to throw the least light on such abstruse problems.

(www.pbs.org/wgbh/evolution/darwin/diary/1881.html. accessed on 01.04.2020)

انسان كا دماغ جس كے متعلق ميرا كامل عقيده هے كه وه اس معمولي دماغ سے ترقي كركے بناهے جو انتهائي ادنیٰ حيوانات كو حاصل هوتا هے۔ كيا ايسے دماغ پر اس وقت بھروسه كيا جاسكتا هے، جب كه وه اتنے بڑے بڑے نتائج كررها هو۔ ميں يه دكھانے كي جھوٹي كوشش نهيں كروں گا كه ميں اس قسم كے مشكل مسائل پر كچھ بھي روشني ڈال سكتا هوں۔

حقيقت يه هے كه زندگي اور كائنات كي تشريح كا مسئله ناقابلِ قياس حد تك بڑا مسئله هے۔ كوئي انسان اپني محدود عمر اور محدود صلاحيت كے ساتھ اس كي تشريح كا اهل نهيں هوسكتا۔ يهي وجه هے كه جو شخص بھي اس كي تشريح كرنے بيٹھتا هے وه هميشه احساسِ عجز كا شكار رهتاهے۔ خواه اپني زبان سے وه اس كا اقرار كرے يا نه كرے۔يه واقعه اس بات كا ثبوت هے كه زندگي اور كائنات كي حقيقت بتانے كے ليے انساني دماغ سے برتر ايك دماغ دركار هے۔ يه كام صرف خدا كرسكتا هے، اور خدا نے پيغمبروں كے واسطے سے اس كو انجام ديا هے۔ يه ايك قرينه هے جو پيغمبرانه هدايت كي ضرورت اور واقعيت كو ثابت كرتاهے۔

 

برتر ہستی کی تلاش

 ڈاكٹر جے۔وي۔نارليكر (Jayant Vishnu Narlikar) انڈیا کے عالمی شہرت یافتہ ماہر فلکی طبیعیات(astrophysicist) ہیں۔ ان کی پیدا ئش 1938 میں ہوئی۔ ان سے ايك انٹرويو ميں كهاگيا كه ’’مذهبي توهمات‘‘ كي پرستش ميں سائنس داں دوسرے لوگوں سے پيچھے نهيں هيں۔ حتي كه كتنے سائنس داں ديوتاؤں تك ميں عقيده ركھتے هيں۔ اس كے جواب ميں ڈاكٹر نارليكر نے کہا:’’مجھے يه بات بے حد ناپسند هے۔ عملاً ميں ديكھتاهوں كه بهت سے سائنس داں ، جب اپني تجربه گاه ميں كام كررهے هوتے هيں تو وه سائنٹفك نقطهٔ نظر كو اپناتے هيں۔ مگر جب وه اپنے گھر جاتےهيں تو وه سائنٹفك طريقے كا بالكل استعمال نهيں كرتے۔ مثال كے طورپر، مغرب كے اعلي تعليم يافته لوگوں ميں جيوتش پر عقيده پھيل رها هے۔ يه ايك نفسياتي مسئله هے۔ انسان كي اس خواهش نے اس كو جنم ديا هے كه وه آسان اور فوري تسكين كو پالے۔ يه حقيقةً ايك ذهني سهارا هے‘‘۔(ٹائمس آف انڈيا 30 اپريل 1979)

كوئي شخص خواه جاهل هو يا عالم، كامياب هو يا ناكام، زندگي ميںاس كو بار بار ايسے مرحلے پيش آتے هيں، جهاں وه اپنے عجز (helplessness) كا تجربه كرتاهے۔ وه محسوس كرتا هے كه وه بے بس وجود هے۔ يه چيز اس كو اپنے سے برتر هستي كي تلاش كي طرف لے جاتي هے ،جو اس كي كميوں كا بدل بن سكے۔ مغرب كے اعلي تعليم يافته لوگ جن كے ليے مادي مواقع كے تمام دروازے كھلے هوتے هيں، وه جب اپني ’’ذهني تسكين‘‘ كے ليے ما بعد الطبيعيات عقائد كا سهارا ليتے هيں تو باعتبارِ حقيقت يه فرضي نهيںهوتا۔ يه دراصل اپني فطرت كي خاموش پكار كا جواب هوتاهے۔ اگر چه اپني تلاش كا صحيح جواب نه پانے كي وجه سے وه ’’جيوتش‘‘ جيسي توهماتي چيزوں ميںاٹك جاتے هيں —  خدا كا وجود نه صرف يقيني هے ،بلكه وه انسان كے ليے اتنا ضروري هے كه اس كے بغير وه ايك لمحه بھي نهيں ره سكتا۔

 

خلائي تهذيب

بيسويں صدي كے نصف سے مغربي دنيا ايك انوكھي تحقيق ميں مشغول هے۔ خلا ميں زنده مخلوقات كي آواز كو سننا(Listening for life in space)۔ بہ ظاهر اس تلاش كا محرك جديدعلما كاوه مفروضه هے، جس كو ارتقاكهاجاتا هے۔ مغربي علما نے زندگي كي جو ارتقائي توجيه كي هے، اس كے مطابق لازم آتا هے كه وسيع خلا ميں دوسرے مقامات پر بھي اسي طرح زندگي كي انواع موجود هوں، جس طرح وه هماري زمين پر پائي جاتي هيں۔خلا ميں سفر كا ايك خاص مقصد ان زندگيوں سے ملاقات هے۔ اس مفروضے پر ان كو اتنا يقين هے كه اس كا ايك خاص نام بھي دے ديا گيا هے، يعني بالائے خلا زندگي (extraterrestrial life)۔

اس كے علاوه امريكا ميںاور دوسرے ترقي يافته ملكوں ميں خاص طرح كے بهت بڑے بڑے اينٹينا (antenna) لگائے گئے هيں، جن كو عام زبان ميں ريڈيائي كان (radio ears) كهتے هيں۔ ان مشينوں سے بالائے خلا ميں سگنل بھيجے جاتے هيں، اور حساس قسم كے آلات هر وقت تيار رهتے هيں كه اوپر سے آنے والے متوقع سگنل كو سن سكيں۔ان كوششوں پر ٹائم ميگزين( 21 مارچ 1983)  میں ان الفاظ میں تبصره كيا گیا هے— اگر تم واقعةً وهاں هو تو اپنے دوستوں سے بولو:

If you are really there, please call your friends.

زمين پر زندگي اور شعور كا وجود ساري معلوم كائنات ميں ايك انتهائي نادر اور استثنائی واقعه هے۔ چونكه يه شعور اپنا خالق آپ نهيں، اس ليے اس كا وجود لازمي طورپر تقاضا كرتا هے كه يهاں زندگي اور شعور كا ايك اور خزانه زياده بڑي سطح پر موجود هو، جو زمين كي زندگي اور شعور كا سرچشمه هو۔ حقيقت يه هےكه زنده انسان كي موجودگي زنده خدا كي موجودگي كا ثبوت هے۔ جديد انسان اس امكان كو بالواسطه انداز ميں تسليم كرتا هے۔ البته وه اس وجود كو خلائي زندگي قرار دے كر يه ظاهر كرنا چاهتا هے كه يه وجود هماري هي طرح كا ايك وجود هے، نه كه هم سے برتر كوئي وجود ۔ وه محض ايك تهذيب هے ،نه كه كوئي خالق اور مالك خدا۔

 

ایلین کی تلاش

اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) موجودہ زمانے کا ایک ممتاز برٹش سائنس داں ہے۔ کائنات کے طویل مطالعے کے بعد اس نے کہا کہ میرا ریاضیاتی ذہن یہ بتاتا ہے کہ زمین کے ماورا بھی انسان کے مانند کوئی ذہین وجود ہونا چاہیے۔ اِس وجود کو اس نے اجنبی زندگی (Alien life) کا نام دیا ہے۔ اِس معاملے میں اسٹفن ہاکنگ کی سادہ منطق یہ ہے کہ ہماری کائنات میں تقریباً ایک سو بلین کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں کئی سو ملین ستارے ہیں۔ اتنی بڑی کائنات میں یہ بات ناقابلِ قیاس ہے کہ صرف زمین وہ واحد سیارہ ہو، جہاں زندگی کا ارتقا ہوا ہے ۔ میرے ریاضیاتی ذہن کے مطابق، ستاروں کی یہ عظیم تعداد ہی اِس نظریے کو پوری طرح معقول ماننے کے لیے کافی ہے:

Hawking has suggested that extraterrestrials are almost certain to exist. Hawking’s logic on aliens is, for him, unusually simple. The universe has 100 billion galaxies, each containing hundreds of millions of stars. In such a big place, Earth is unlikely to be the only planet where life has evolved. ‘‘To my mathematical brain, the numbers alone make thinking about aliens perfectly rational.”  

       (The Times of India, New Delhi, April 26, 2010, p. 17)

سیارۂ زمین پر ذہین وجود کا ہونا، اولاً جس چیز کو ثابت کرتا ہے، وہ استثنا (exception) ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اِس استثنا کی توجیہ کیا ہے۔ اسٹفن ہاکنگ نے ارتقا (evolution) کے مفروضہ نظریے کو توجیہ کی بنیاد قرار دیا ہے۔ مگر زیادہ معقول بات یہ ہے کہ اِس استثنا کی توجیہ، مداخلت (intervention) کی بنیاد پر کی جائے۔ کیوں کہ مداخلت اپنے آپ میں ثابت ہے، اور جب مداخلت کو مان لیا جائے تو خالق کا وجود اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے۔موجودہ زمانے میں بہت سی نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ نئی حقیقتیں خالق کے وجود کو ثابت کررہی تھیں، لیکن ارتقائی مفروضے کے تحت ان کو ارتقائی عمل کا نتیجہ قرار دے دیاگیا۔ مگر یہ محض ایک قیاس ہے، اور ایک قیاس سے دوسرے قیاس کو ثابت کرنا، بلا شبہ ایک غیر منطقی استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

بامعني كائنات

اندازه كيا گيا هے كه هماري قريبي كهكشاں ايك لاكھ سال نور (light years)كي وسعت ميں پھيلي هوئي هے۔ اس كهكشاں كے اندر تين لاكھ ملين ستارے پائے جاتے هيں۔ همارا شمسي نظام اس كے مركز سے 27 هزار سال نور كے فاصلے پر واقع هے۔ كهكشاں كے اكثر ستارے ممكن طور پر كسي نه كسي قسم كے سياروں  (planets)كا سلسله ركھتے هيں۔ مگر ان ميں سے اكثر سيارے زندگي كے ليے غير موزوں هيں۔ اس كي وجه يه هے كه وه اپنے ستارے سے يا تو بهت زياده قريب هيں يا بهت زياده دور هيں۔ تاهم چوں كه ستاروں كي تعداد بهت زياده هے، خالص حسابي اعتبار سے يه امكان هے كه بهت سے سورج جيسے ستارے هوں، اور اسي طرح بهت سے زمين جيسے سيارے:

It is estimated that our Milky Way galaxy, which is 100,000 light years across, is composed of over 300,000 million stars. Our solar system is situated 27,000 light years away from the centre. Most of the stars are likely to have planets of some sort. But most of these planets will be unsuitable for life, because they are either too near or too far from their parent star. Yet because the number of stars is so great, there must, by sheer statistical probability, be many sun-like stars and earth-like planets.  (The Hindustan Times, July 31, 1986, p. 9)

تاهم بے شمار سياروںميں صرف زمین واحد سيارہ ہے، جہاںلائف سپورٹ سسٹم (life support  system)پایا جاتا هے۔ لائف سپورٹ سسٹم کیا ہے۔ وہ فطری اسٹرکچر اور نظام، جس کے ذریعے زندگی کے لیے لازمی چیزیں مہیا کی جاتی ہیں۔ مثلاً آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، کھانا، پانی، ناکارہ اشیا کی نکاسی، ٹمپریچر اور دباؤ کو مینج کرنا، وغیرہ:

The natural structures and systems  that provides all  of the elements essential for maintaining physical well being, as for example, oxygen, carbon dioxide, food, water, disposal of body wastes, and control of temperature and pressure, etc. 

اسی فطری نظام کی وجہ سے زمین انسانوں جیسی زندہ مخلوق کے لیے قابلِ رہائش ہے۔ اس قسم كا كوئي اور سياراتي نظام ابھي تك ساري كائنات ميں معلوم نه كيا جاسكا۔ موجوده زمانے ميں سائنس كا ايك مستقل شعبه وجود ميں آيا هے، جس كو ايس اي ٹي آئي(SETI) كهاجاتا هے۔ اس كا مطلب هے — بالائے خلا ذهانت كي تلاش:

Search for Extra-Terrestrial Intelligence

زندگي كے ارتقائي نظريے كے تحت سائنس دانوں كا گمان هے كه كائنات كے دوسرے مقامات پر بھي انسان جيسي ذهين مخلوق هوني چاهيے۔ كيوں كه ارتقائي عمل عموم چاهتا هے، ارتقائي عمل ميں استثناكے ليے كوئي جگه نهيں۔اس فرضي قياس پر جديد انسان كو اتنا زياده يقين هے كه ايك امریکن سائنسي مصنف اسحاق اسيمو (Isaac Asimov, 1920-1992) نے حساب لگا كر اعلان كيا هے كه هماري كهكشاں ميں چار سو ملين سيارے ايسےهيں، جن ميں پودے اور جانور پائے جاتے هيں يا پائے جاسكتے هيں۔ مگر يه سب كا سب محض حسابي قياس هے۔

سورج ايك اوسط درجے كا ستاره هے۔ اس كا قطر(diameter) آٹھ لاكھ 65 هزار ميل هے۔ وه هماري زمين سے تقريباً باره لاكھ گُنا بڑا هے۔ سورج كي سطح پر جو حرارت هے اس كا اندازه باره هزار ڈگري فارن هائٹ ٹمپريچر كيا گيا هے۔ زمين سے سورج كا فاصله تقريباً نو كرور 30 لاكھ ميل هے۔ يه فاصله حيرت انگيز طورپر مسلسل قائم هے۔ يه واقعه همارے ليے بے حد اهميت ركھتا هے۔ كيوں كه اگر يه فاصله گھٹ يا بڑھ جائے تو زمين پر انسان جيسي مخلوق كي آبادكاري ناممكن هوجائے۔مثلاً اگر ايسا هو كه سورج نصف كے بقدر هم سے قريب هوجائے تو زمين پر اتني گرمي پيدا هو كه اس كي شدت سے كاغذ جلنے لگے۔ اس کے برعکس، اگر زمين اور سورج كا موجوده فاصله دگنا سے زياده هوجائے تو اتني ٹھنڈك پيدا هو كه زمين پر زندگي جيسي چيز باقي نه رهے۔ يهي صورت اس وقت پيدا هوگي، جب كه موجوده سورج كي جگه كوئي دوسرا غير معمولي ستاره آجائے۔ مثلاً ايك ستاره هے، جس كي گرمي همارے سورج سے اسي هزار گنا زياده هے، اگر وه سورج كي جگه هوتا تو پوري زمين كو آگ كي بھٹي بنا ديتا۔

 

ماورائے انسان ذهانت

آج كل سائنسي حلقوںميں بالائے خلا ذهانت (extraterrestrial intelligence) كا بهت چرچا هے۔ مختلف شعبوں ميں ايسے شواهد سامنے آرهے هيں جو اس بات كي تصديق كرتے هيں كه زمين كے علاوه خلا كے دوسرے حصوںميں بھي ذهين هستياں، اغلباً انسان سے بھي زياده ذهين موجود هيں۔ حتي كه بهت سے سائنس داں اس سنهري صبح كے منتظر هيں جب كه وه خلائي ريڈيو كا پيغام (extraterrestrial radio message) وصول كرسكيں گے۔

بالائے خلا ذهانت سے سائنس دانوں كي مراد يه هوتي هے كه زمين كے علاوه كائنات كے دوسرے مقامات پر بھي هماري جيسي مخلوقات پائي جاتي هيں۔ دوامريكي فلكيات دانوں نے دعوي كيا هے كه هماري كهكشاں ميں10 بلين ستارے ايسے هيں، جو نظام شمسي كي مانند سياراتي نظام ركھتے هيں۔ ان نظامات ميں زندگي كا وجود اسي طرح ممكن هے جس طرح موجوده زمين پر۔ اگر چه عملاً ابھي تك ايسا كوئي كره دريافت نهيں هوا جهاں زمين جيسي زندگياں پائي جاتي هوں۔

Hypothetical extraterrestrial life that is capable of thinking, purposeful activity... more than 3,000 extrasolar planets have been detected... These efforts suggest that there could be many worlds on which life, and occasionally intelligent life, might arise. Searches for radio signals or optical flashes from other star systems that would indicate the presence of extraterrestrial intelligence have so far proved fruitless. (www.britannica.com/

science/extraterrestrial-intelligence#ref283898 [on 4th Apr 2020])

سائنسي دريافتوں كا قافله بهت تيز رفتاري سے آگے بڑھ رهاهے۔ سائنس ماورائے انسان ’’ذهانت‘‘ تك پهنچ چكي هے۔ اگر كسي دن وه دريافت كرے كه يه ماورائے انسان ذهانت اپني نوعيت كے اعتبار سے اتني زياده ممتاز هے كه اس کوانسان جيسي ذهين هستي كهنے كے بجائے خدا كهنا زياده صحيح هوگا تو اس ميں تعجب كي كوئي بات نهيں۔

جس زندگي كي هميں تلاش هے

 

سب سے بڑا المیہ

انسانی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ (tragedy) یہ ہے کہ انسان معرفتِ اعلیٰ کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے  انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چنانچہ قدیم زمانے میں معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔

موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے:سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی ردّ ِعمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔

قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے محروم ہو گیا۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی محرومی تھی۔ اللہ کی معرفتِ اعلی کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ معرفت اعلی تک پہنچ سکے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے مکمل طور پر بچائے۔ وہ ہر حال میں مثبت سوچ میں جینے والا بنے۔ جو لوگ اس شرط کو پورا کریں وہ یقیناً معرفتِ اعلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ بیشتر انسان کسی نہ کسی بات کو لے کر منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ وہ مثبت سوچ (positive thinking) پر قائم نہ رہ سکے۔ اس بنا پر وہ معرفت کا وعایہ (container) نہیں بنے۔ معرفت اعلی سے محرومی کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔

 

جس زندگي كي هميں تلاش هے

مشہور جرمن مفکر فريڈرش انگلس (Friedrich Engels, 1829-1895) نے كها هے — ’’آدمي كو سب سے پهلے تن ڈھانكنے كو كپڑا اور پيٹ بھرنے كو روٹي چاهیے، اس كے بعد هي وه فلسفه وسياست كے مسائل پر غور كرسكتاهے۔‘‘ مگر حقيقت يه هے كه انسان سب سے پهلے جس سوال كا جواب معلوم كرنا چاهتاهے ،وه يه سوال هے كه ’’ميں كيا هوں؟ يه كائنات كيا هے، ميري زندگي كيسے شروع هوئي اور كهاں جاكر ختم هوگي؟‘‘ يه انساني فطرت كے بنيادي سوالات هيں۔

 آدمي ايك ايسي دنياميں آنكھ كھولتاهے جهاں سب كچھ هے مگر يهي ايك چيز نهيں۔ سورج اس كو روشني اور حرارت پهنچاتاهے، مگر وه نهيں جانتا كه وه كياهے ،اور كيوں انسان كي خدمت ميں لگا هواهے۔ هوا اس كو زندگي بخشتي هے، مگر انسان كے بس ميں نهيں هے كه وه اس كو پكڑ كر پوچھ سكے كه تم كون هو، اور كيوں ايسا كررهي هو؟ وه اپنے وجود كو ديكھتا هے، اور نهيں جانتا كه ميں كيا هوں، اور كس ليے اس دنيا ميں آگيا هوں؟  ان سوالات كاجواب متعين كرنے سے انسان كا ذهن قاصر هے۔ مگر انسان بهر حال ان كو معلوم كرنا چاهتا هے۔ يه سوالات خواه لفظوں كي شكل ميں متعين هو كر هر شخص كي زبان پر نه آئيں مگر وه انسان كي روح كو بے چين ركھتے هيں، اور كبھي كبھي اس شدّت سے ابھرتے هيں كه آدمي كو پاگل بنا ديتے هيں۔

انگلس كو دنيا ايك ملحد انسان كي حيثيت سے جانتي هے۔ مگر اس كا الحاد اس كے غلط ماحول كا ردّ عمل تھا جو بهت بعد كو اس كي زندگي ميںظاهر هوا۔ اس كي ابتدائي زندگي مذهبي ماحول ميں گزري، جب وه بڑاهوا اور نظر ميں گهرائي پيداهوئي تو رسمي مذهب سے بے اطميناني پيدا هوگئي۔ اپنے اس دور كا حال وه ايك دوست كے نام اپنے خط ميں اس طرح لكھتاهے:

’’ميں هر روز دعا كرتاهوں اور تمام دن يهي دعا كرتا رها هوں كه مجھ پر حقيقت آشكارا هوجائے۔ جب سے ميرے دل ميں شكوك پيداهوئے هيں يهي دعا كرنا ميرا مشغله هے، ميں تمھارے عقيدے كو قبول نهيں كرسكتا۔ ميں يه سطريں لكھ رها هوں اور ميرادل آنسوؤں سے امڈا چلا آرهاهے۔ ميري آنكھيں رورهي هيں ليكن مجھے يه احساس هو رها هے كه ميں راندهٔ درگاه نهيں هوں۔ مجھے اميدهے كه ميں خدا تك پهنچ جاؤں گا جس كے ديدار كا ميں دل وجان سے متمني هوں اور مجھے اپني جان كي قسم! يه ميري جستجو اورعشق كياهے يه روح القدس كي جھلك هے۔ ‘‘

At the age of nineteen, Engels wrote as follows: "I pray every day; almost all day long I pray that the truth may be given to me. I have done this since doubts assailed me, but still I cannot return to our faith... I write these lines with tears in eyes, it is hard for me to control my emotion, but nevertheless I feel that I will not be lost, that I will find God, toward whom I aspire with all my heart." ( David Riazanov: Essays on the History of Marxism, p. 36, copied from "Max Eastman: Marx, Lenin and the Science of Revolution," p. 148, accessed from Google Book, 07.04.2020)

يه وهي حقيقت كي تلاش كا فطري جذبه هے جو نوجوان انگلس ميںاُبھرا تھا۔ مگر اس كو تسكين نه مل سكي، اور مروجه مسيحي مذهب سے غير مطمئن هو كر وه معاشي اور سياسي فلسفوں ميں گم هوگيا۔

اس طلب كي حقيقت يه هے كه انسان كي فطرت ميں ايك خالق اور مالك كا شعور پيدائشي طور پر پيوست هے۔ وه اس كے لاشعور كا ايك لازمي جزء هے۔ ’’خدا ميرا خالق هے اور ميں اس كا بنده هوں۔‘‘ يه ايك خاموش عهد هے، جو هر شخص اوّل روز سے اپنے ساتھ لے كر اس دنياميں آتاهے۔ ايك پيدا كرنے والے آقا ومحسن كا تصور غير محسوس طورپر اس كي رگوں ميں دوڑتا رهتاهے۔ اس كے بغير وه اپنے اندر عظيم خلا محسوس كرتاهے۔ اس كي روح اندر سے زور كرتي هے كه جس آقا كو اس نے نهيں ديكھا اسے پالے۔ اس سے لپٹ جائے اور اپنا سب كچھ اس كے حوالے كردے۔

خدا كي معرفت ملنا گويا اس جذبے كے صحيح مرجع كو پالينا هے، اور جو لوگ خدا كو نهيں پاتے ان كے جذبات كسي دوسري مصنوعي چيز كي طرف مائل هوجاتے هيں۔ هرشخص اپنے اندر يه خواهش ركھنے پر مجبور هے كه كوئي هو، جس كے آگے وه اپنے بهترين جذبات كو نذر كردے۔

15 اگست 1947 كو جب هندستان كي سركاري عمارتوں سے برٹش ایمپائر کا يونين جيك اتار كر ملك كا قومي جھنڈا لهرايا گيا تو يه منظر ديكھ كر ان قوم پرستوں كي آنكھوں ميں آنسو آگئے، جو اپنے ملك كو آزاد ديكھنے كے ليے تڑپ رهے تھے۔ يه آنسو دراصل ’’آزادي كي ديوي‘‘ كے ساتھ ان كے تعلق كا اظهار تھا۔ يه اپنے معبود كو پالينے كي خوشي تھي، جس كے ليے انھوں نے اپني عمر كا بهترين حصه صرف كرديا تھا۔اسي طرح ايك ليڈر جب ’’قوم كے باپ‘‘ كي قبر پر جا كر پھول چڑھاتا هے، اور اس كے آگے سر جھكا كر كھڑاهو جاتا هے تو وه ٹھيك اسي عمل كو دهراتاهے، جو ايك مذهبي آدمي اپنے معبود كے ليے ركوع اور سجدے كے نام سے كرتاهے۔ ايك كميونسٹ جب لينن كے مجسمے كے پاس سے گزرتے هوئے اپني هيٹ اتارتا هے، اور اس كے قدموں كي رفتار سست پڑ جاتي هے تو اس وقت وه اپنے معبود كي خدمت ميں اپنے عقيدت كے جذبات نذر كررها هوتاهے۔ اسي طرح هر شخص مجبور هے كه كسي نه كسي چيز كواپنا معبود بنائے اور اپنے جذبات كي قرباني اس كے آگے پيش كرے۔

يه جذبه چونكه ايك فطري جذبه هے۔ اس ليے ابتداء ً وه هميشه فطري شكل ميں ابھرتا هے ۔اس كا پهلا رخ اپنے اصلي معبود كي طرف هوتا هے ۔مگر حالات اور ماحول كي خرابياں اس كو غلط سمت ميں موڑ ديتي هيں، اور كچھ دنوں كے بعد جب آدمي ايك مخصوص زندگي سے مانوس هوجاتاهے تو اس ميں اس كو لذّت ملنے لگتي هے۔ برٹرينڈ رسل اپنے بچپن ميں ايك كٹّر مذهبي آدمي تھا۔ وه باقاعده عبادت كرتاتھا۔ اسي زمانے ميں ايك روز اس كے دادا جان نے پوچھا۔ ’’تمھاري پسنديده دعا كون سي هے؟‘‘ چھوٹے رسل نےجواب ديا۔’’ميں زندگي سے تنگ آگيا هوں، اور اپنے گناهوں كے بوجھ سے دبا هوتا هوں۔‘‘اس زمانے ميں خدا برٹرينڈ رسل كا معبود تھا۔ ليكن جب رسل تيره برس كي عمر كو پهنچا تو اس كي عبادت چھوٹ گئي، اور مذهبي روايات اور پراني قدروں سے باغيانه ماحول كےاندر رهنے كي وجه سے خود اس كے اندر بھي ان چيزوں سے بغاوت كے رجحانات ابھرنے لگے۔ اور بالآخر برٹرينڈ رسل ايك ملحد انسان بن گيا۔ جس كي محبوب ترين چيزيں رياضي اور فلسفه تھے۔ 1959ء كا واقعه هے۔ بي بي سي لندن پر ايك بات چيت پروگرام ميں فري مين نے رسل سے پوچھا: ’’كيا آپ نے مجموعي طورپر رياضي اور فلسفے كے شوق كو مذهبي جذبات كا نعم البدل پايا هے۔‘‘ رسل نے جواب ديا: ’’جي هاں، يقيناً ميں چاليس برس كي عمر تك اس اطمينان سے هم كنار هوگيا تھا، جس كے متعلق افلاطون نےكها هے كه آپ رياضي سے حاصل كرسكتے هيں۔ يه ايك ابدي دنيا تھي۔ وقت كي قيد سے آزاد دنيا۔ مجھے يهاں مذهب سے ملتا جلتا ايك سكون نصيب هوگيا۔‘‘

برطانيه كے اس عظيم مفكر نے خداكو اپنا معبود بنانے سے انكار كرديا۔ مگر معبود كي ضرورت سے پھر بھي وه بے نياز نه ره سكا، اور جس مقام پر پهلے اس نے خدا كوبٹھا ركھا تھا۔ وهاں رياضي اور فلسفے كو بٹھانا پڑا — يهي نهيں بلكه رياضي اور فلسفے كے ليے وه صفات بھي تسليم كرني پڑيں، جو صرف خدا هي كي صفت هوسكتي هے— ابديت اور وقت كي قيد سے آزادي ؛ كيونكه اس كے بغير اسے مذهب سے ملتاجلتا وه سكون نهيں مل سكتا تھا، جو دراصل اس كي فطرت تلاش كررهي تھي۔

ايسے لوگ جو خدا كو نهيں مانتے اور پرستش كو بے معني چيز سمجھتے هيں، وه اپنے خود ساخته بتوں كے آگے جھك كر اپنے اندروني جذبهٔ عبوديت كو تسكين ديتے هيں۔ يه حقيقت هے كه ’’الٰه‘‘ انسان كي ايك فطري ضرورت هے ،اور يهي اس كا ثبوت هے كه وه حقيقي هے۔ انسان اگر خدا كے سامنے نه جھكے تو اس كو دوسرے اِلہٰوں (معبودوں) كے سامنے جھكنا پڑے گا۔ كيونكه الٰه كے بغير اس كي فطرت اپنے خلا كو پُر نهيں كرسكتي۔

مگر بات صرف اتني نهيں هے۔ اس سے آگے بڑھ كر ميں كهتا هوں كه جو لوگ خدا كے سوا كسي اور كو اپنا معبود بناتے هيں ،وه ٹھيك اسي طرح حقيقي سكون سے محروم رهتے هيں جيسے كوئي بچے سے محروم  ماں پلاسٹك كي گڑيا خريد كر بغل ميں دبا لے اور اس سے تسكين حاصل كرنا چاهے۔ ايك ملحد انسان خواه وه كتنا هي كامياب كيوں نه هو۔ اس كي زندگي ميںايسے لمحات آتے هيں جب وه سوچنے پر مجبور هوتاهے كه حقيقت اس كے سوا كچھ اور هے، جو ميں نے پائي هے۔

آزادي سے باره سال پهلے 1935ء ميں جب پنڈت جواهر لال نهرو نے جيل خانے ميں اپني آپ بيتي مكمّل كي تو اس كے آخر ميں انھوں نے لكھا:’’ميں محسوس كرتاهوں كه ميري زندگي كا ايك باب ختم هوگيا اور اب اس كا دوسرا باب شروع هوگا۔ اس ميں كيا هوگا، اس كے متعلق ميں كوئي قياس نهيں كرسكتا۔ كتابِ زندگي كے اگلے ورق نامعلوم هيں۔‘‘

(Nehru, An Autobiography, London, p. 597)

نهرو كي زندگي كے اگلے اوراق كھلے تو معلوم هوا كه وه دنيا كے تيسرے سب سے بڑے ملك كے وزير اعظم هيں،اور دنياكي آبادي كے چھٹے حصے پر بلا شركت حكومت كررهے هيں، مگر اس يافت نے نهرو كو مطمئن نهيں كيا، اور اپنے انتهائي عروج كے زمانے ميں بھي وه محسوس كرتے رهے كه كتابِ زندگي كے مزيد كچھ اوراق هيں، جو ابھي تك بند هيں، اور وهي سوال آخر عمر ميں بھي ان كے ذهن ميں گھومتا رها،جس كو لے كر هر انسان پهلے روز پيدا هوتا هے۔ جنوري 1964 كے پهلے هفتے ميں مستشرقين كي بين الاقوامي كانفرنس نئي دهلي ميں هوئي، جس ميں هندستان اور دوسرے ملكوں كے باره سوڈ يليگيٹ شريك هوئے۔ پنڈت نهرو نے اس موقع پر تقرير كرتے هوئے كها: ’’ميں ايك سياستدان هوں، اور مجھے سوچنے كے ليے وقت كم ملتا هے۔ پھر بھي بعض اوقات ميں يه سوچنے پر مجبور هوجاتا هوں كه آخر يه دنيا كيا هے، كس ليے هے، هم كيا هيں اور كياكررهے هيں۔ ميرا يقين هے كه كچھ طاقتيں هيں جو هماري تقدير كو بناتي هيں۔‘‘

(National Herald, 6 January, 1964)

يه ايك عدم اطمينان هے، جو ان تمام لوگوں كے روحوں پر گهرے كهر كي طرح چھايا رهتا هے، جنھوںنے خداكو اپنا الٰه اور معبود بنانے سے انكاركيا۔ دنيا كي مصروفيتوں اور وقتي دلچسپيوں ميں عارضي طورپر كبھي ايسا محسوس هوتا هے كه وه اطمينان سے هم كنار هيں مگر جهاں يه مصنوعي ماحول ختم هوا، حقيقت اندر سے زور كرنا شروع كرديتي هے،اور انھيں ياددلاتی هے كه وه سچے اطمينان سے محروم هيں۔

ميك گل يونيورسٹي كے پروفيسر مائيكل بريچر (Michael Brecher, b. 1925) نے پنڈت جواهر لال نهرو كي سياسي سوانح حيات لكھي هے ۔ اس سلسلے ميں مصنف نے پنڈت نهرو سے ملاقات بھي كي تھي۔ نئي دهلي كي ايك ملاقات ميں 13 جون 1956ء كو انھوں نے پنڈت نهرو سے سوال كيا: ’’آپ مختصر طورپر مجھے بتائيے كه آپ كے نزديك اچھے سماج كے ليے كيا چيزيں ضروري هيں اور آپ كا بنيادي فلسفهٔ زندگي كيا هے۔‘‘

جواہر لال نہرو نے جواب ديا:’’ميں كچھ معياروں كا قائل هوں، آپ ان كو اخلاقي معيار (moral standards) كهه ليجیے۔ يه معيار هر فرد اور سماجي گر وه كے لیے ضروري هيں۔ اگر وه باقي نه رهيں تو تم مادي ترقي كے باوجود آپ كسي مفيد نتيجے تك نهيں پهنچ سكتے ۔ان معياروں كو كيسے قائم ركھا جائے، يه مجھے نهيں معلوم۔ ايك تو مذهبي نقطهٔ نظر هے ۔ليكن يه اپنے تمام رسوم اور طريقوں كے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا هے — ميں اخلاقي اور روحاني قدروں كو مذهب سے الگ كركے بهت اهميت ديتاهوں، ليكن ميں نهيں جانتا كه ان كو ماڈرن زندگي ميں كس طرح قائم ركھا جاسكتا هے۔ يه ايك مسئله هے۔‘‘

  (Nehru: A Political Biography, London 1959, pp. 607-08.)

يه سوال وجواب جديد انسان كے اس دوسرے خلا كو بتاتا هے، جس ميں آج وه شدّت سے گرفتار هے۔ افراد كو ديانت واخلاق كے ايك خاص معيار پر باقي ركھناهرسماجي گروه كي ايك ناگزير ضرورت هے۔ اس كے بغير تمدن كا نظام صحيح طورپر برقرار نهيں ره سكتا۔ مگر خدا كو چھوڑنے كے بعد انسان كو نهيں معلوم كه وه اس ضرورت كو كيسے پورا كرے۔ سينكڑوں سال كے تجربے كے بعدوه ابھي بدستور تلاش كي منزل ميں هے۔

يه علامتيں اس بات كا ثبوت هيں كه بے خدا تهذيب نے انسانيت كي گاڑي كو دلدل ميں لا كر ڈال دياهے۔ اس كو اس پٹري سے محروم كرديا هے، جس كے اوپر چل كر وه اپنا سفر بحسن وخوبي طے كرسكتي هے۔ زندگي كي كشتي بے لنگر اور بغير بادبان هوگئي هے ۔اس كا واحد حل يه هے كه انسان خدا كي طرف پلٹے۔ وه زندگي كے ليے مذهب كي اهميت كو تسليم كرے۔ يهي وه تنها بنياد هے، جس پر زندگي كي بهتر تعمير ممكن هے، اس كے سوا كسي بھي دوسري بنياد پر زندگي كي تعمير نهيں كي جاسكتي۔

 

توحيد كا تصور اسلام ميں

كائنات كا ايك خالق هے۔ اس نے اپنے منصوبے كے مطابق اس كو بنايا هے، اور وهي اس كو چلا رها هے۔ جس طرح ساري كائنات خدا كي اطاعت كررهي هے، اسي طرح انسان كے ليے بھي صحيح رويه صرف يه هے كه وه اپنے خالق كا فرماں بردار بن كر زندگي گزارے۔تمام انبيا يهي بتانے كے ليے آئے اور كائنات اپنے پورے وجود كے ساتھ هر لمحہ آدمي كو يهي سبق دے رهي هے— يهی اسلامي توحيد ہے۔

قرآن میں ہے: أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ( 14:10)۔یعنی کيا تمھيں شك هے الله كے بارے ميں جس نے زمين وآسمان كو پھاڑا ۔ قرآن كا يه بیان بہ ظاهر ايك سوال هے مگر حقيقةً وه سوال كا جواب هے۔ اس آيت ميں فاطر (پھاڑنے والا) كا لفظ وجودِ خداوندي كے حق ميں ايك قطعي دليل هے، جس كو قرآن میںدوسرے مقام پراس طرح بيان كيا گياهے:(ترجمہ)كياانكار كرنے والوں نے نهيں ديكھا كه زمين وآسمان باهم ملےهوئے تھے۔ پھر هم نے ان كو جدا كرديا ۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے (21:30)۔

اندازہ كياگياهے كه كائنات كا موجوده دائره (Radius)  2019 کی تحقیق کے مطابق 46.5 بلین نوری سال (46.5 billion light years) هے، اور یہ کہ كائنات ايك حالت پر ٹھهري هوئي نهيں هے۔ بلكه يكساں رفتار سے اپنے چاروں طرف مسلسل پھيل رهي هے۔اس كا مطلب يه هے كه ماضي ميں كسي وقت كائنات سمٹي هوئي حالت ميں تھي۔ فلكيات دانوں كے خيال كے مطابق،ابتدا میںپوري كائنات ايك بڑے ايٹم (super atom) كي صورت ميں تھي۔ اس كے تمام اجزا بے حد قوت كے ساتھ اندر كي طرف كھنچے هوئے تھے۔ تقريباً 13.8 بلین سال پهلے اس ابتدائي ماده ميں ايك دھماكه يا اخراجِ طاقت (energy release) كا واقعه هوا ،جس كے نتيجے ميں سپر ايٹم كے اجزا اپنے مركز سے ٹوٹ كر اپنے چاروں طرف پھيلنے لگے تاكه موجوده كائنات كو وجود دے سكيں۔ سپرايٹم كے اندر اس وقت جو اسباب كام كررهے تھے ،وه تمام تر صرف اندر كي طرف كھنچنے اور سمٹنے كے تھے۔ اپنے ذاتي قانون كے برخلاف اس كے اجزا كا باهر كي طرف سفر شروع كرنا لازماً كسي خارجي طاقت كي مداخلت هي سے هوسكتا تھا۔ يه واقعه هم كو مجبور كرتاهے كه هم كائنات كے ماسوا ايك آزاد طاقت ور ترین هستي كا وجود تسليم كريں،اور یہ کہ اس نے اپنے شعوري عمل سے ابتدائي ماده كے اندر يه غير معمولي حركت پيدا كي۔

قرآن میں ایک مقام پر کائنا ت کے نظم کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: زمين وآسمان ميں اگر ايك خدا كے سوا كوئي اور خدا هوتا تو ضرور ان ميں بگاڑ پيداهوجاتا (21:22) ۔قرآن كے يه الفاظ اُس كائناتي واقعے كي طرف اشاره كررهے هيں، جو اِس بات كا ثبوت فراهم كرتاهے كه يه مافوق طاقت صرف ايك هے، كئي نهيں۔ تمام طبيعي علوم حيرت انگيز طور پر اس كي تصديق كرتے هيں كه پوري كائنات ايك هي قانون كے تحت چل رهي هے۔ جو قوانين زمين پر كام كررهے هيں، وهي نهايت صحت كے ساتھ اجرامِ سماوي ميں بھي كارفرما هيں۔ يهي يقين تھا جس نے انسان كو آماده كيا كه وه كھربوں ڈالر خرچ كركے خلائي مشينيں بنائے، اور ان كو چاند اور مريخ پر عين اپنے اندازے كے مطابق اتار سكے۔

اگر ساري كائنات ايك قانون كے تحت مكمل صحت كے ساتھ عمل نه كررهي هو تو زمين پر لگي هوئي هماري دور بينيں وسيع كائنات ميں آٹھ هزار ملين سالِ نور تك نه ’’ديكھ‘‘ سكيں۔ همارے طبيعي علوم اچانك اپني تمام اهميت كھوديں۔ كائنات كا اس قدر درست طورپر وحداني حالت ميں هونا بتاتا هے كه وه صرف ايك خدا كے كنٹرول ميں هے۔ اگر وه كئي خداؤں كے كنٹرول ميں هوتي تو يقيناً اس ميں انتشار برپا هوجاتا۔ مختلف خداؤں كي كش مكش ميں وه درهم برهم هو كر ره جاتي۔ زمين پر ايك قانون كي حكمراني هوتي اور سياروں پر دوسرے قانون كي۔قرآن میں ایک مقام پر کائنات کے مینجمنٹ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:(ترجمہ)الله نے پيدا كي هر چيز اور پھر هر ايك كا ايك اندازه مقرر كرديا (25:2)۔ طبيعياتي مشاهده بتاتا هے كه كائنات كي هرچيز كا ايك قانون هے، اور وه انتهائي لزوم كے ساتھ اس پر قائم هے۔

 انسائیکلوپیڈیا آف اگنورنسمیں ڈاکٹر آئن رکسبرگ (پروفيسر تطبيقي رياضيات، كوئن ميري كالج لندن) لکھتے ہیں:’’كائنات تعجب خيز حد تك يكساں (uniform) هے۔ هم خواه كسي طورپر بھي اس كو ديكھيں، كائنات كے اجزا ميں وهي تركيب اسي تناسب سے پائي جاتي هے۔ زمين پر جو طبيعياتي قوانين دريافت كيے گئے هيں، وه تحكمي اعداد (arbitrary numbers) پر مشتمل هيں۔ جيسے الكٹران كي مقدارِ ماده كا تناسب ايك پروٹان كے مقدارِ ماده (mass) سے، جو كه تقريباً 1840 كے مقابلے ميں ايك هوتاهے۔ يهي تناسب هر جگه اور هر وقت پايا جاتاهے۔ ايسا كيوں هے۔ كيا ايك خالق نے تحكمي طورپر(arbitrarily) انھيں اعداد كا انتخاب كرركھاهے۔ کیا کائنات کے وجود کے لیے ان اعداد میں وہی تناسب ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں ؟‘‘ (سنڈے ٹائمس، لندن، 4 دسمبر 1977)

يه واقعه صاف طورپر بتاتاهے كه كائنات هر آن ايك زبردست هستي كے كنٹرول ميں هے۔ جو خدا كائنات كا خالق هے، وهي اس كا حكمراں بھي هے۔اس سلسلے ميں يه بات كوئي اهميت نهيں ركھتي  — ’’خدا اگر هے تو هم كو نظر كيوں نهيں آتا۔‘‘ هم ايك ايسي دنيا ميں هيں جهاں همارے ليے اس كے سوا چاره نهيں كه چيزوں كو ديكھے بغير مانيں۔ يه صرف خدا كے عقيدے كا سوال نهيں هے۔ هم جس كائنات ميں هيں اور جس كو هم بهر حال مانتے هيں، اس ميں بے شمار چيزيں هيں، جن كو هم نهيں ديكھتے، اور نهيں ديكھ سكتے۔ مگر اس كے باوجود هم ان كو ماننے پر مجبور هيں۔ خدا كے سوا موجوده كائنات كو بھي هم ايمان بالغيب كا طريقه اختيار كيے بغير نهيں سمجھ سكتے۔ مثال كے طورپر ايٹم ميں كئي قسم كے ذرات (particles)  تسليم كيے گئے هيں۔ ان ميں سے ايك نيوٹرينو (neutrino) هے۔ كهاجاتا هے كه اس ذرے ميں كوئي برقي چارج نهيں هوتا۔ حتي كه اس ميں كوئي ماده (mass) بھي نهيں هوتا۔ گويا وه ايك لا شئے وجود هے۔ ايك سائنس داں كے الفاظ ميں— نيوٹرينو لاشئے كا ايك چھوٹا سا پلندہ هے:

Neutrino is a tiny bundle of nothing.

 اس لا شئے كا وجود كيوں تسليم كيا جاتا هے۔ اس كي وجه يه هے كه ايٹم(atom) ميں بعض ايسے خواص ظاهر هوتےهيں، جن كي توجيه اس كے بغير نهيں بنتي كه ايٹم كے ڈھانچے ميں ايك غير ذره (non-particle) كا وجود تسليم كيا جائے۔ اس مفروضه نيوٹرينو كے عجيب وغريب اوصاف ميں سے ايك يه بھي هے كه وه كسی بھي مادي جسم سے بغير روك ٹوك گزر سكتا هے۔ حتي كه وه اپنے سفر ميں پورے كرهٔ ارض كو اس كے اندر سے پار كرسكتا هے۔ نيوٹرينو كي اس خصوصيت كو انساني استعمال ميں لانے كے ليے امريكا ميں تجربات هو رهے هيں۔ سائنس دانوں كا خيال هے كه اگر نيوٹرينوكي اس خصوصيت كو قابل استعمال بنايا جاسكا تو پيغام رساني كي دنيا ميں انقلاب آجائے گا— كائنات ميں كسي چيز كو ’’ديكھنا‘‘ خالص علمي طورپر اس قدر ناممكن هے كه سائنسي فلاسفي كے درميان خود اس امر ميں اختلاف پيدا هوگيا هے كه وه كائنات كو ايك خارجي (objective) واقعه قرار ديں يا محض ايك ذهني يا داخلي(subjective) طورپر محسوس كي جانے والي چيز۔

خدا كو مانناكبھي انسان كے ليے اتنا مشكل نهيں رها هے، جتنا خدا كا صحيح تصور قائم كرنا۔ تمام معلوم زمانوں سے انسان خدا كو مانتا رها هے، اور آج بھي كرهٔ ارض كي آبادي كي بهت بڑي اكثريت خدا كے وجود كا اقرار كرتي هے۔ مگر اصل كمي هميشه يه رهي هے كه خدا كو ماننے كے باوجود لوگ اس كے ساتھ ايسے عقيدے جمع كرليتے هيں، جس سے ماننا اور نه ماننا دونوں يكساں هوجاتاهے۔ كسي نے خدا كو مانتے هوئے اس كي ايسي تعبير كي كه خدا كا كوئي عليحده اور مستقل وجود هي مشتبه هوگيا۔ كسي نے خدا كو مانا مگر اسي كے ساتھ اس كے ايسے شركا يا مقربينِ بارگاه فرض كرليے جس كے بعد خدا كي خدائي بے معني هو كر ره گئي۔

خدا كے معاملے ميں انسان كے بے راه هونے كي وجه هميشه صرف ايك رهي هے۔ كائنات كے معلوم واقعات پر خدا كو قياس كرنا — انسان كے يهاں بيٹے بيٹياں هوتي هيں، اس ليے فرض كرلياگيا كه خدا كے لیے بھي بيٹے بيٹياں هوںگي۔ اور اس طرح ايك مقدس خدائي خاندان تيار هوگيا۔ دنيا كے بادشاهوں كے يهاں كچھ مصاحبین اور درباری لوگ هوتے هيں۔ اس ليے فرض كرليا گيا كه خدا كے يهاں بھي كچھ مقرب هيں، جن كو اس نے اختيار دے ركھا هے، اور جن كي باتوں كو وه سنتا هے۔ دنيا ميں بهت سي طاقتيں كام كرتي هوئي نظر آئيں۔ مثلاً سورج، ستارے، دريا وغيره۔ فرض كرليا گيا كه يه سب خدائي ميں شريك هستياں هيں، اور بڑے خدا كے ساتھ مل كر خدائي كو چلا رهي هيں۔ اس طرح خدا كا معامله ايك قسم كا ’’مشترك كاروبار‘‘ كا معامله بن گيا، وغيره۔

مظاهر پرستي كي يهي قسم تھي، جس نے فلسفيانه ذهنوں ميں پهنچ كر وحدتِ وجود كي صورت اختيار كي۔ لوگوں نے ديكھا كه ايك كائنات هے ،جو انسان سے لے كر ستاروں تك بے شمار چيزوں سے بھري هوئي هے۔ وه اس تنوع ميں وحدت تلاش كرنا چاهتے تھے۔ انھوں نے كها كه ايك مطلق خدا هے، جو اپنے آپ كو مختلف شكلوں ميں ظاهر كررها هے۔ اس طرح خدا كا تصور ايك ايسے مجرد خيال كي صورت ميں ڈھل گيا، جس كي اپني عليحده كوئي هستي نه هو۔ هر چيز اسي سے نكلتي هو، اور ختم هو كر دوباره اسي ميں مل جاتي هو۔ اسي تصور نے ’’انساني خداؤں‘‘ كا عقيده پيدا كيا۔ يه فرض كرليا گيا كه كچھ لوگ اپني رياضتوں سے اپني دنيوي حيثيت كي اس طرح نفي كرليتے هيں كه وه جيتے جي خدا سے مل جاتےهيں، اور اس طرح اپني زندگي هي ميں اس خدا كا جزء بن جاتے هيں جس كا جزء دوسرے لوگ مرنےكے بعد، ان كے عقيدے كے مطابق، بننے والے هيں۔

اسلام نے خدا كے تصور سے اِن تمام مفروضہ قیاس آرائیوں كو جدا كيا۔ اس نے بتايا كه اس طرح كا هر اضافه دراصل خدا كے عقيدے كي نفي هے۔ خدا وهي خدا هے جو هر لحاظ سے يكتائي كي صفت ركھتاهے۔ جو اپني ذات وصفات ميں اشتراك كي تمام قسموں سے پوري طرح پاك هو۔ قرآن میں اس حقیقت کواس طرح بیان کیا گیا ہے:(ترجمہ) كهه دو كه الله ايك هے۔ الله بے احتياج هے۔ اس كی اولاد نهيں۔ نه وه كسي كي اولاد هے۔ اور نهيں هے اس كے برابر كوئي (112:1-4) ۔

توحيد كي عملي اهميت

اسلام ميں توحيد كا عقيده هيگل (Georg Wilhelm Friedrich Hegel, 1770-1831)كے فلسفے كي طرح محض ايك مجرد تصور (abstract idea) كي حيثيت نهيں ركھتا۔ انسان كي زندگي سے اس كا نهايت گهرا عملي تعلق هے۔ اسلام كے نزديك وهي شخص موحد هے، جو وحدتِ فكر كے ساتھ وحدتِ كردار كا بھي حامل بن جائے۔ اسلامي توحيد كا مطلب يه هے كه جس طرح كائنات كا خالق  (Creator) ايك هے، اسي طرح اس كا مالك بھي ايك هے۔ وهی ایک ہستی ہے، جس كے آگے انسان جواب ده هے، اور اپنے عمل كے مطابق، جس كے يهاں انسان سزا يا جزا پانے والا هے۔ اس طرح آخرت كا عقيده بھي، بالواسطه طورپر، عقيدهٔ توحيد هي كا ايك جزء بن جاتا هے۔

خداكے تخليقي ظهور كو مانے بغير جس طرح خدا كا عقيده بے معني هے، اسي طرح خدا كے محاسب اور مجازي هونے كي حيثيت كو جب تك تسليم نه كيا جائے، خدا كي يكتائي كا عقيده مكمل نهيں هوتا۔ موجوده كائنات اپني اتھاه حكمتوں كے ساتھ خدائے وحده لا شريك كي قدرت كامله كا ايك ظهور هے۔ آخرت كا عالم اسي ظهورِ خداوندي كي تكميل هے۔ موجوده دنيا وحدتِ الٰهي كا غيبي ظهور هے، آخرت كي دنيا وحدتِ الٰهي كا مشاهداتي ظهور۔ موجوده عالم ميں توحيد ايك غوروفكر كا موضوع نظر آتي هے۔ آخرت كي دنيا وه دنيا هوگي، جهاں توحيد ايك ايسا قائم شده واقعه بن جائے گا۔ا س دن توحید اسی طرح مسلمہ حقیقت ہوگی، جس طرح آج سورج ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اگر كوئي شخص خدا كوايك مانے مگر خدا كي يكتائي كے اس ظهور كو تسليم نه كرے، جو آخرت كي صورت ميں سامنے آنے والا هے تو اس كا عقيدهٔ توحيد ناقص هے۔ وه ايك فلسفي موحد هوسكتاهے، مگر اس كواسلامي موحد كهنا كسي طرح درست نه هوگا۔

’’خدا ايك هے‘‘ يه صرف ايك گنتي كا معامله نهيںهے۔ بلكه تمام معلوم اور نا معلوم حقائق كي تشريح كا معامله هے۔ مادي دنيا هو يا روحاني دنيا، حال كا معامله هو يا مستقبل كا معامله، دنيا كے مسائل هوں يا آخرت كے مسائل، تمام چيزيں اس وقت تك ناقابلِ فهم هيں جب تك ان كو ايك فكري وحدت كي حيثيت نه دے دي جائے، جب تك وحدتِ خداوندي كے ساتھ ان كي نسبت كو معلوم نه كرليا جائے۔ خدا كي يكتائي كي دريافت تمام حقائق كي مركزي وحدت كي دريافت هے۔ وهي توحيد توحيد هے، جو همارے اوپر حقائق كي ابدي معنويت كو واضح كردے۔ جو نظريه حقائق كي معنويت كو بحيثيت ايك كل كے واضح نه كرے، وه خواه اور جو كچھ هو مگر اسلامي نقطهٔ نظر سے اس كو توحيد نهيں كهاجاسكتا۔

 خدا كي وحدت كو پانا اسي وقت مكمل هوتا هے، جب كه وه اسي كے ساتھ انسان اور كائنات كي وحدت كو پانے كے هم معني بن جائے۔ وه ايك ايسے فكر كا درجه حاصل كرلے جهاں تمام تضادات ختم هوجائيں، اور صرف وحدت هي آخري حقيقت كے طورپر باقي ره جائے۔ ڈارون نے خالق كا وجود تسليم كيا هے۔ مگر وه يه دريافت نه كرسكا كه خالق هے تو اس كے اور انسان كے درميان نسبت كيا هے۔ نتيجه يه هوا كه ڈارون كےنظريے كے بطن سے تاريخ كا سب سے زياده شديدالحاد برآمد هوا۔ توحيد كے عقيدے كا معامله بھي ايسا هي هے۔ ضروري هے كه توحيد كامطالعه اس طرح كيا جائے كه وه هم كو توحيد اور انسان كے درميان نسبت كي دريافت تك پهنچا سكے۔ اس كے بغير نه صرف يه كه يه مطالعه ادھورا رهے گا، بلكه يه بھي انديشه هے كه وه سچائي كے مسافر كو الٹي سمت ميں كسي دوسرےمقام پر پهنچانے والا بن جائے۔

توحيد كا عقيده اور انسان

انسان كائنات كا صرف ايك حقير حصه هے۔ كائنات جس طرح مكمل طورپر اپنے خالق اور مالك كے تابع هے، وهي انسان سے بھي مطلوب هے۔ انسان كے ليے درست طرز ِعمل صرف يه هے كه وه اِس حقيقتِ واقعه كو تسليم كرے، اور خدا كي اطاعت كو قبول كركے بقيه كائنات كا هم سفر بن جائے۔ خدا جس طرح ساري كائنات كو سنبھالے هوئے هے، اسي طرح انسان كے معاملات بھي اسي وقت سدھر سكتےهيں، جب كه وه اپنے آپ كو خدائي كنٹرول ميں دے چكا هو۔ كائنات كي صحت كاركردگي كا سبب يه هے كه اس نے اپنے آپ كو خدائي اخلاقيات كے رنگ ميں رنگ ليا هے۔ انساني زندگي كي درستگي كا راز بھي يهي هے كه وه خدائي اخلاقيات ميں اپنے آپ كو رنگنے كي كوشش كرے۔

توحيد تمام بھلائيوں كا سرچشمه هے، اور هر قسم كي خرابيوں كي جڑ يه هے كه توحيد دنيا ميں قائم نه هو۔ توحيد كيا هے۔ اس حقيقتِ واقعه كا تحقق كه اس كائنات كا پيدا كرنے والا، اس كو سنبھالنے والا اور هر قسم كي قوتوں كاواحد مالك صرف ايك الله هے۔ اس كے سوا كسي كو اس كائنات ميں كسي قسم كا كوئي اختيار حاصل نهيں۔ ذرے (atoms)سے لے كر كهكشاني نظاموں تك سارا عالم اس حقيقتِ توحيد كي براهِ راست گرفت ميں هے۔ وه مكمل طورپر ايك مالك الملك كے زيرِ انتظام هے۔ يهي وجه هے كه پورا عالم اپني تمام وسعتوں كے ساتھ ٹھيك ويسا هي هے، جيسا كه في الواقع اس كو هونا چاهيے۔ اس كي كارگزاري ميں آج تك كسي ادني نقص كا مشاهده نه كياجاسكا۔ وه اتني كامل صحت كے ساتھ چل رها هے كه كھرب ها كھرب سال كے اندر بھي اس كي رفتار ميں ايك سكنڈ كا فرق نهيں پڑتا۔

موجوده زمانے ميں خدا كے وجود كے خلاف جو دليليںپيش كي گئي هيں، ان ميں سب سے اهم وه هے جس كو نقص كا مسئله (problem of evil)كها جاتا هے۔ يه کہا جاتا هے كه كائنات ميں  نقائص هيں۔ ان نقائص كي موجودگي ميں يقين نهيں كيا جاسكتا كه اس كوكسي حكمت والے خدا نے بنايا هے۔ اس سلسلے ميں ايك شخص نے يه مثال دي هے كه زمين كي قوتِ كشش (force of Gravity) اس سے بهت زياده هے جتنا كه اس كو هونا چاهيے۔ چنانچه چند ميٹر كي بلندي سے گرنے ميں آدمي كا پاؤں ٹوٹ جاتا هے۔ اگر قوتِ كشش كم هوتي تو ايسا نه هوتا۔

مگر اس قسم كي بات صرف كمتر غور وفكر كا نتيجه هے۔ كهنے والا يه بھول گيا كه گرنا تو ايك حادثه هے، جو معمول كے خلاف كبھي پيش آتا هے۔ ليكن اگر زمين كي قوتِ كشش كم هوتي تو اس پر معمول كي زندگي هي درهم برهم هوجاتي — انسان مضبوطي كے ساتھ زمين پر قائم نه ره سكتا، هماري ريليں پٹريوں پر نه دوڑ سكتيں، همارے مكانات اور كارخانے اكھڑ جاتے، پاني زمين پر نه ٹھير سكتا، وغيره۔ حقيقت يه هے كه وه چيز جس كو بعض لوگوں نے نظام فطرت كا نقص سمجھاهے، وه نظامِ فطرت ميںاعتدال وتوازن كا ثبوت هے۔ قرآن كے يه الفاظ نا قابلِ چيلنج حد تك صحيح هيں:(ترجمہ)الله نے بنائے سات آسمان اوپر تلے۔ تم الله كے اس بنانے ميں كوئي فر ق نه ديكھو۔ تم پھر نگاه ڈال كر ديكھ لو۔ كيا تم كو كوئي خلل دكھائي ديتاهے۔ بار بار نگاه ڈال كر ديكھو۔ تمھاري نگاه عاجز هو كر اور تھكي هوئي تمھاري طرف لوٹ آئے گي (67:3-4) ۔

کائنات كا اس طرح بے عيب اور خالي از نقص هونا اس ليے هے كه وه براهِ راست خدا كے كنٹرول ميں هے۔ وه خدا كي صفات كا مادي ظهور هے۔ مگر انساني دنيا كا معامله اس سے مختلف هے۔ اينٹن چيخوف (Anton Pavlovich Chekhov, 1860-1904)نے صحيح كها هے كه ’’يه دنيا بے حد حسين هے۔ اس ميں صرف ايك هي چيز هے جو حسين نهيں، اور وه انسان هے۔‘‘ انسان ساري معلوم كائنات ميں واحد مخلوق هے، جواپنے جیسےانسانوں كے ساتھ عداوت كرتا هے (سوره البقره ، 2:36) ۔وه زمين پر اصلاح كے بجائے فساد برپا كرتا هے (سوره الاعراف، 7:56)۔ وه ايسي كارروائياں كرتا هے، جس كے نتيجے ميں كھيتياں اور نسليں برباد هوں (سوره البقره، 2:205)، وغیرہ۔

دو دنياؤں ميں يه فرق كيوں هے۔ اس كي وجه يه هے كه بقيه كائنات براهِ راست الله كے حكم كے تحت چل رهي هے۔ وه ويسي هي رهنے كے ليے مجبور هے جيسي كه خدا چاهتاهے كه وه رهے۔ مگر انسان كو الله كي طرف سے آزادي ملي هوئي هے۔ وه اپنے ارادے كے تحت صحيح يا غلط راستے پر چلنے كا اختيار ركھتاهے۔ انساني دنيا ميں بگاڑ كي وجه تمام تر يهي هے۔ بقيه دنيا خدا كي مرضي كي پابند هے، اس ليے وه مكمل طورپر درست هے۔ اس كے برعكس، انسان اپني خواهشوں كي پيروي كرتاهے۔ اس ليے اس كے سارے معاملات ميں فساد اور بگاڑ برپا رهتا هے۔ هر برائي جو زمين پر پائي جاتي هے، وه انساني آزادي كا غلط استعمال هے۔ انسان نے فرشتوں كے اس انديشے كو ساري تاريخ ميں درست ثابت كيا هے، جو انھوں نے اس كي پيدائش كے وقت خدا كے سامنے ظاهر كيا تھا:’’كيا تو ايسے لوگوں كو زمين ميں اختيار دے رها هے جو وهاں فساد كرے اور خون بهائے (سوره البقره، 2:30)۔

يه آزادي جو انسان كو حاصل هے، يه مطلق آزادي نهيں۔ يه صرف وقتي آزادي هے، اور خاص منصوبے كے تحت دي گئي هے۔يه دراصل امتحان كي آزادي هے (سوره الملك، 67:2)۔ كائنات كا مالك يه ديكھنا چاهتاهے كه ان ميں سے كون هے، جو آزادي پاكر بھي آزادي كا غلط استعمال نهيں كرتا۔ تاكه وه ايسے لوگوں كو اپنے انعامات سے نوازے(سوره الانفال،8:37)۔ دنيا كا موجوده نظام صرف اس وقت تك هے ،جب تك جانچ كا يه عمل پورا نهيں هوجاتا۔ اس مدت كے پورا هونے كے بعد زمين كا مالك زمين كا انتظام بھي براهِ راست اپنے هاتھ ميں لے لے گا، جس طرح وه بقيه كائنات كا انتظام اپنےهاتھ ميں ليے هوئے هے (سوره مريم، 19:40)۔ اس وقت اچھے اور برے ايك دوسرے سے الگ كردیے جائيں گے (سوره آل عمران، 3:197)۔ اچھے لوگوں كو ابدي طور پر جنتي زندگي حاصل هوگي، اور برے لوگ ابدي طورپر کائناتی کوڑا خانے ميں دھكيل دیے جائيں گے۔

دوسرے لفظوں ميں يه كه موجوده دنياوه مقام هے جهاں آنے والي خدائي دنياكے شهري چنے جارهے هيں۔ جو لوگ آزاد هونے كے بعد بھي اپنے آپ كو الله كا حكم بردار بنائيں گے، جو مجبور نه هوتے هوئے بھي الله كي مرضي كو اپنے اوپر طاري كريں گے، وهي الله كے نزديك اس قابل ٹھيريں گے كه وه الله كي دنيا كے شهري بن سكيں۔ آج امتحان كے وقفے ميں هر طرح كے لوگ زمين پر بسے هوئے هيں۔ مگر امتحان كي مدت ختم هونے كے بعد صرف صالح لوگ خدا كي اس ابدي دنيا كے وارث قرار پائيں گے (سوره الانبياء، 21:105)، اور بقيه لوگوں كو اس سے بے دخل كركے دور پھينك ديا جائے گا۔