امن عالم (Amn-e-Alam)

By
Maulana Wahiduddin Khan

 

امنِ عالم

 

مولانا وحید الدین خاں

 

فہرست

دیباچہ

امن اور اسلام    

قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم

پیغمبر اسلام کا نمونہ 

جنگ ایک ریاستی عمل      

دشمن اور جارح کا فرق      

جنگ ایک غیر مطلوب شئے  

جنگ کے بغیر فتح  

قتال برائے ختم فتنہ

امن کی طاقت    

ایک مغالطہ کی وضاحت     

اسلام میں ٹیررزم نہیں     

جہاد کا تصوراسلام میں

موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں

خلاصۂ بحث      

امن کلچر

امن کیا ہے      

کائنات کا مذہب امن ہے

قرآن ایک کتاب امن

امن اور تشدد کا فرق

صلح بہتر ہے      

فساد فی الارض نہیں

سازش کا خاتمہ    

شدت پسندی نہیں

ایک انسان کا قتل ساری دنیا کا قتل     

تشدد کی آگ کو بجھانا

اصلاح کے بعد فساد

اعراض، نہ کہ ٹکراؤ

صبر ترقی کا راز    

نزاع نہیں       

جنگ صرف دفاع کے لیے  

صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ      

پر امن نظریاتی اشاعت     

دشمن کو دوست بنانا

خود اپنے عمل کا نتیجہ

غصہ ایک کمزوری ہے      

حق پر صبر کے ساتھ جمنا    

امن کی قیمت     

صلح کی پیشکش کو قبول کرنا   

زیادہ بڑا رزق    

امن پسندی تحفظ کا ذریعہ    

انسانوں کے لیے رحمت     

جہاد پُر امن عمل کانام ہے   

ہر حال میں امن   

اللہ کا نام سلامتی  

طاقتور کون

سماجی امن کا فارمولا

خاموشی میں نجات 

دشمن سے ٹکراؤ نہیں       

نان وائلنس کا طریقہ       

اختلاف کی حد    

پُر امن طریق کار زیادہ بہتر  

لچک کا طریقہ، نہ کہ اکڑ کا طریقہ

پُر امن شہری     

انتظار بھی حل ہے 

خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم  

خاموشی کی طاقت 

تشدد مایوسی کا نتیجہ 

پازیٹیو اسٹیٹس کوازم      

تشدد کا کوئی جواز نہیں

ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ     

ضمیر بہترین جج ہے

فتح بھی شکست ہے 

شکایت کو فوراً ختم کرنا      

جنگ اور امن اسلام میں

صُلح حدیبیہ       

تشدد کا اسلامائزیشن

دہشت گردی کیا ہے

فتح مبین کا راز     

اسلام کے نام پر غیر اسلام   

اسلامی نظام      

اسلامی جہاد       

یر غمال بنانا       

اصل ذمہ دار      

کرنے کا اصل کام  

اسلامی جہاد       

جہاد لغت میں    

جہاد قرآن میں    

دشمن اور مقاتل کا فرق      

مذہبِ امن       

جہاد کیا ہے      

عُسر میں  یُسر     

اسلام میں جہاد کا تصور       

کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے      

اسلام اور دہشت گردی     

عسکری دور سے غیر عسکری دور تک   

ایک حدیث      

اسلام اکیسویں صدی میں    

جنگ اسلام میں   

ایک مطالعہ      

امن مشترک سماج میں

مذہبی اختلاف    

کلچر کا اختلاف     

مذہب اور سیاست   

نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق

قوم اور قومیت    

کفر اور کافر کا تصور  

دار الحرب کی اصطلاح      

جہاد کا تصور

ہائی جیکنگ ایک جُرم

کشمیر میں امن    

کشمیری قیادت    

فطرت کا سبق

غیر حکیمانہ طریقہ 

حقیقت پسند بنئے  

سیاسی ٹکراؤ سے احتراز      

حکمت کا تقاضا    

امن اور انصاف   

اسلامی تحریک نہیں

ممکن کی سیاست   

عالمی امکانات    

دونوں کی جیت   

حل کی طرف    

دورۂ ہند سے قبل بھیجا ہوا خط 

نشستند وگفتند و برخاستند    

خوش گوار آغاز، ناخوش گوار انجام      

کرنے کا کام      

کشمیر جنت نظیر

 

دیباچہ

زیر نظر کتاب، معروف معنوں میں کوئی کتاب نہیں ہے۔ وہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ ماہنامہ الرسالہ میں، پچھلے برسوں میں، امن اور اسلام کے موضوع پر جو مضامین چھپتے رہے ہیں اُن کو اس مجموعہ میں اکھٹاکردیا گیا ہے۔ ان مضامین کا مقصد مشترک طورپر یہ ہے کہ امن اور جنگ کی نسبت سے اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور اس موضوع پر اسلام کے صحیح تصور کو واضح کیا جائے۔

اسلام مکمل طورپر ایک پُر امن مذہب ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت عموم کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف ایک استثنا (exception)کی ۔ یہ نادر استثنا ہمیشہ دوسروں کی طرف سے اضطراری طورپر پیش آتا ہے، نہ کہ خود اپنی طرف سے یک طرفہ اقدام کی صورت میں۔

اسلام کا اصل مقصد انسان کی سوچ کو بدلنا ہے۔ انسان کے اندر توحید کی بنیاد پرایک ذہنی انقلاب لانا ہے۔ اس حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً،إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ(صحيح البخاري، حديث نمبر 52)۔ یعنی آگاہ کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے۔ اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ آگاہ کہ یہ دل ہے۔

اس حدیث میںقلب سے مراد کیا ہے۔ ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ عقل قلب کے اندر ہے (وَيُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّ الْعَقْلَ فِي الْقَلْبِ) فتح الباری، جلد1، صفحہ129۔ مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں قلب سے مراد مرکزِ تفکیر نہیں ہے بلکہ مرکزِ دورانِ خون ہے۔ اس حدیث میں قلب اور جسد کا ذکر بطو رتمثیل ہے۔ یعنی جس طرح جسمانی تندرستی کا انحصار قلب کی تندرستی پر ہے اسی طرح دینی زندگی کا قیام و بقا اس پر منحصر ہے کہ آدمی کے اندر زندہ ایمان موجود ہو۔

انسان کے اعمال کی درستگی ہمیشہ اُس کی فکر کی درستگی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لیے اسلام میں سارا زور فکر صحیح کو زندہ کرنے پر دیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں جنگ اسلام کے ایجابی نقشۂ عمل سے خارج ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر حال میں سارا زور فکر و شعور کی بیداری پر دیا جائے۔ انسانی نفسیات کے مطابق، سوچ سے عمل پیدا ہوتا ہے، مگر عمل سے سوچ نہیں پیدا ہوسکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ اسلام کے نقشۂ اصلاح کو بگاڑنے والی ہے، جنگ اسلام کے نقشۂ اصلاح کو بنانے والی نہیں۔ خواہ اسلام ہو یا غیر اسلام، کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ جنگ اور تشدد کے ذریعہ کوئی مثبت فائدہ حاصل کرسکے۔ اس لیے جنگ کو ٹالنے کی تمام کوششوں کے باوجود اگر اضطراری طورپر جنگ کی نوبت آجائے تو اہلِ اسلام کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ جلد سے جلد جنگ کا ماحول ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ امن کے ماحول میں اسلام کا اصل مثبت کام جاری ہوسکے۔

جہاد کیا ہے۔جہاد پر امن جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ آج کل کی زبان میں جہاد کو پیس فل ایکٹوزم (peaceful activism) کہاجا سکتا ہے۔ یعنی پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کسی اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔

جہاد کے لفظی معنٰی کوشش یا جدوجہد کے ہیں۔ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا کی کتاب کے ذریعہ ان کے اوپر جہاد کبیر کرو (الفرقان، 25:52)۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ( مسند احمد، حديث نمبر 23967)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس سے مقابلہ کرے ۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس آئے۔ یہ ایک مہم تھی جس میں کوئی جنگ پیش نہیں آئی۔ واپسی کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں (رَجعْنَا من الْجِهَاد الْأَصْغَر إِلَى الْجِهَاد الْأَكْبَر)۔ ديكھيے، البيهقي، الزهد الكبير، حديث نمبر 373۔

جہاد تمام تر ایک پر امن عمل کا نام ہے۔ انفرادی اعتبار سے جہاد یہ ہے کہ آدمی نفس کی ترغیبات سے اور ماحول کی ناخوشگواریوں کے باوجود خدا کے پسندیدہ راستہ کو نہ چھوڑے۔ مخالفانہ اسباب کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو حق کی روش پر قائم رکھے۔ اجتماعی اعتبار سے جہاد کو پر امن جدوجہد کہا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اسلامی مقصد کے لیے جب کوئی تحریک اٹھائی جائے تو اس کو مجاہدانہ انداز سے آگے بڑھایا جائے نہ کہ متشددانہ انداز سے۔ متشددانہ انداز میں آدمی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مجاہدانہ انداز یہ ہے کہ ترغیب کے فطری طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کیا جائے۔

مجاہدانہ اسلوب میں سب سے زیادہ اعتماد ذہنی بیداری پر کیا جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر صحت مند اسپرٹ جگائی جاتی ہے۔ تعمیری شعبوں میں مثبت استحکام پر ابھارا جاتا ہے۔ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کے اندر اعلیٰ کردار پیدا ہو۔ لوگ دوسروں کے لیے نفع بخش بنیں۔ لوگوں کے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہو۔ جہاد کا ہتھیار محبت ہے، نہ کہ نفرت اور تشدد۔

حقیقت یہ ہے کہ جہاد کو قتال کے ہم معنٰی سمجھناجہاد کی تصغیر ہے۔ قتال ایک بے حد محدود اور وقتی عمل ہے۔ اس کے برعکس جہاد ایک مسلسل اور ہمہ گیر عمل ہے۔ جہاد اسلام کا ایک عظیم ترین عمل ہے جو انسان کی زندگی میں ہردن اور ہر لمحہ جاری رہتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں موقوف نہیں ہوتا۔

آدمی کے اندر جب سچائی کی تلاش کا جذبہ اُبھرتا ہے تو وہ ایک فکری جہاد میںمشغول ہوجاتا ہے۔ پھر جب اُس کو سچائی کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اُس کی زندگی میں جہاد مزید اضافہ کے ساتھ جاری ہوجاتا ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ نفس اور شیطان اور ماحول کے مقابلہ میں جدوجہد کرتے ہوئے اپنے ایمان کو مسلسل بڑھائے۔ وہ اپنے اندر مثبت ذہنی عمل کو اس طرح جاری رکھے کہ اُس کی معرفت ہر لمحہ ترقی کرتی رہے۔ یہاں تک کہ وہ مقامِ اعلیٰ تک پہنچ جائے۔

حدیث میں آیا ہے: الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ(سنن ابن ماجه، حديث نمبر 74)۔ یعنی ایمان بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ ایمان کو نقص (erosion) سے بچانا ایک مسلسل جہاد کا طالب ہے۔ اجتماعی زندگی میں رہتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر غصہ ، حسد، انتقام، غرور، ناشکری، حرص جیسے جذبات کا حملہ ہوتا ہے۔ یہ منفی جذبات انسان کے ایمان کو ضعیف یا ناقص کردینے والے ہیں۔ اُس وقت آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اپنے داخلی احساسات سے لڑے اور اُن کو زیر کرکے ختم کرے۔ یہ ایک جہاد ہے اور اس جہاد کے بغیر کوئی شخص اپنے ایمان کو نقص یا ضیاع سے نہیں بچا سکتا۔

وحید الدین

25 مئی2004، نئی دہلی

امن اور اسلام

Islam: the religion of peace

امریکن یونیورسٹی (واشنگٹن) میںایک سہ روزہ سمپوزیم فروری 1998ء میں ہوا۔ اس کے اجلاس 6فروری میں راقم الحروف نے اسلام اور امن پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا:

It is no exaggeration to say that Islam and violence are contradictory to each other. The concept of Islamic violence is so obviously unfounded that prima facie it stands rejected. The fact that violence is not sustainable in the present world is enough to believe that violence as a principle is quite alien to the scheme of things in Islam. Islam claims to be an eternal religion and an eternal religion cannot afford a principle in its scheme which was not sustainable in the latter periods of human history. Any attempt to bracket violence with Islam amounts to making the very eternity of Islamic religion doubtful. (Al-Risala, August 1998, p. 9)

اسلامک ٹیررزم اسی طرح ایک متضاد اصطلاح ہے جس طرح پُر امن دہشت گردی (pacifistic terrorism) ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تمام تعلیمات امن کے اصول پر مبنی ہیں، خواہ براہ راست طورپر یا بالواسطہ طور پر۔

قرآن و حدیث میں امن کی تعلیم

خود لفظ اسلام میں امن کا مفہوم شامل ہے۔ اسلام کا روٹ ورڈ سِلم ہے۔ سِلم کے معنی امن کے ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام کا مطلب ہے، امن کا مذہب۔ امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں ایک عنوان ان الفاظ میں بیان کیا ہے: السَّلاَم مِنَ الإِسْلاَمِ (کتاب الایمان) یعنی سلامتی اسلام کا جزء ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ تین چیزیں ایمان کا جزء ہیں (ثَلَاثٌ مِنَ الْإِيمَان)۔ ان میں سے ایک یہ ہے: وَبَذْلُ السَّلاَمِ لِلْعَالَمِ(مسند البزار، حدیث نمبر 1396)یعنی دنیا میں امن پھیلانا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امن و سلامتی ایمان کا جزء ہے۔ اسی طرح حدیث میں ہے:الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِم (سنن النسائی، حدیث نمبر 4995)۔ یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے لوگمحفوظ رہیں، اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے جان و مال کے معاملے میں امن سے رہیں۔

قرآن میں اللہ کے جو نام (صفت) بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک السلام (59:23) ہے،یعنی امن و سلامتی۔ گویا اللہ کی ذات خود صفت امن کا مظہر ہے۔ حدیث میں آیا ہے: إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر831)۔ یعنی اللہ خود سلامتی ہے۔اسی طرح اللہ کی ہدایت کو قرآن میں  سُبُلَ السَّلَامِ  (5:16) کہا گیا ہے۔ یعنی امن کے راستے۔ اسلام کے مطابق، جنت انسان کے قیام کی معیاری جگہ ہے، اور قرآن میں جنت کو دار السلام ( 10:25) کہا گیا ہے۔ یعنی امن کا گھر۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت کا قول ایک دوسرے کے لیے سلامتی سلامتی (الواقعہ  26) ہوگا۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ اہل جنت کا اجتماعی کلچر پیس کلچر ہوگا۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی صلح کی روش اپنے نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اللہ نے مصالحانہ طریقِ عمل پر وہ کامیابی مقدر کردی ہے جو اس نے غیر مصالحانہ یا متشددانہ طریقِ عمل پر مقدر نہیں کی۔

پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر اجتماعی معاملات میں آپ کی جنرل پالیسی کو اس طرح بیان کرتی ہیں: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحيح البخاري، حديث نمبر 3560؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2327)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب پُرامن عمل(peaceful activism) دستیاب ہو تو پُر تَشدد ایکٹوزم  (violent activism) کو اختیار نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ پُر امن عمل کی حیثیت مقابلۃ ً آسان انتخاب (easier option) کی ہے اور پُر تشدد عمل کی حیثیت مقابلۃً مشکل انتخاب (harder option) کی۔

مثلاً کسی تحریک کے پہلے ہی مرحلہ میں اسٹیٹس کو  کو بدلنے کی کوشش کرنا مشکل انتخاب ہے اور اسٹیٹس کو  کو بدلے بغیر حاصل شدہ دائرہ میں اپنا عمل جاری کرنا آسان انتخاب ۔ نزاع کے موقع پر لڑجانا مشکل انتخاب ہے اور نزاع کے موقع پر صلح کرلینا آسان انتخاب۔ حریف کے مقابلہ میں متشددانہ طریقِ کار کو اپنانا مشکل انتخاب ہے اور حریف کے مقابلہ میں پر امن طریقِ کار کو اپنانا آسان انتخاب۔ جارحیت کا جواب جارحیت سے دینا مشکل انتخاب ہے اور جارحیت کا جوا ب صبر و تحمل سے دینا آسان انتخاب۔ مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں ہنگامہ آرائی کا انداز اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں خاموش تدبیر اختیار کرنا آسان انتخاب۔ اصلاح کے لیے ریڈیکل طریقہ اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور اصلاح کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کرنا آسان انتخاب۔نتیجہ کی پروا کیے بغیر پر جوش اقدام کرنا مشکل انتخاب ہے اور نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے حکیمانہ اقدام کرنا آسان انتخاب۔ حکمرانوں سے محاذ آرائی کرنا مشکل انتخاب ہے اور حکمرانوں سے اعراض کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کے دائرہ میں اپنے عمل کا آغاز کرنا آسان انتخاب۔ ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، اختیار ایسر کیا ہے اور اختیار اعسر کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثنا (exception) کی۔ اسلام کی تمام تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی عملی زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے۔

پیغمبر اسلام کا نمونہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر 610ء میں مکہ میں پہلی وحی اتری۔ اللہ نے آپ کو جس مشن پر مامور کیا وہ توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کی نسبت سے مکہ میں ایک بہت بڑا عملی مسئلہ موجود تھا۔ وہ یہ کہ کعبہ جس کو اللہ کے پیغمبر ابراہیم اور اسماعیل نے توحید کے گھر کی حیثیت سے بنایا تھا اس کو بعد کے زمانہ میں عملاً شرک کا مرکز بنا دیا گیا ۔وہاں 360 بت رکھ دئے گئے۔

اس صورت حال کا بظاہر یہ تقاضا تھا کہ قرآن میں پہلا حکم اس مفہوم کا اترے کہطَھِّر الکعبۃ من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ مگر اس مسئلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس وقت قرآن میں پہلا حکم یہ اترا کہ   وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ   ( 74:4) یعنی اپنے اخلاق اور سیرت کی تطہیر کرو۔ اگر پہلے ہی  مرحلہ میں پیغمبر اسلام کو کعبہ کی تطہیرکا حکم دیا جاتا تو اس وقت جب کہ مکہ پر مشرکین کا غلبہ تھا، یقینی طورپر یہ حکم فورًا ٹکراؤ اور جنگ کا سبب بن جاتا۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق، پیغمبر اسلام مکی دور کے تیرہ سال تک کعبہ میں پُر امن طورپر نماز پڑھتے رہے جب کہ وہاں سیکڑوں کی تعداد میں بُت رکھے ہوئے ـتھے۔ اسی طرح آپ نے اور آپ کے اصحاب نے عمرۃ الحدیبیہ (629ء) کے موقع پر کعبہ کا طواف کیا، جب کہ اس وقت کعبہ میں 360  بت بدستور موجود تھے۔

پیغمبر اسلام نے ایسا اس لیے کیا تا کہ مشرکین سے جنگ اور ٹکراؤ کو اوائڈ(avoid)کیاجا سکے اور امن کی حالت برقرار رہے۔ آپ کی پوری زندگی اسی امن پسندانہ پالیسی کی مثال تھی— مکہ سے ہجرت کے موقع پر مشرکین جنگ پر آمادہ تھے مگر آپ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ حدیبیہ ٹریٹی (628ء) کے موقع پر پورے معنوں میں جنگی حالات پیدا ہوگئے تھے۔ مگرآپ نے مشرکین کی یک طرفہ شرطوں پر راضی ہو کر ان سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ غزوہ ٔ خندق ( 627ء) کے موقع پر مشرکین کی بارہ ہزار فوج مدینہ کی سرحد پر جنگ کا چیلنج کر رہی تھی۔ مگرآپ نے لمبی خندق کھود کر اپنے اور دشمنوں کے درمیان ایک فاصل (buffer) قائم کر دیا،وغیرہ۔

اسلام توحید کا مشن ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو ایک اللہ کا پرستار بنایا جائے۔ لوگوں کے دل و دماغ کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ صرف ایک اللہ سے محبت کریں (البقرہ، 2:165) اور صرف ایک اللہ سے خوف کریں (التوبہ، 2:18)۔ صرف ایک اللہ ان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) بن جائے۔

اس قسم کا دعوتی مشن جنگ اور متشددانہ ٹکراؤ کا تحمل نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ جنگ اور تشدد کے حالات پیدا ہونے کے بعد وہ معتدل فضا ختم ہو جاتی ہے جب کہ ذہنی اصلاح اور روحانی انقلاب کی کوئی تحریک مؤثر طورپر چلائی جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ پر امن حالات ہمیشہ اسلام کے لیے موافق فضا بناتے ہیں اور پُر تشدد حالات ہمیشہ اسلام کے لیے مخالف فضا وجود میں لاتے ہیں۔

جنگ ایک ریاستی عمل

اسلام میں جنگ عوام کا کام نہیں ہے بلکہ وہ باضابطہ طورپر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ یعنی جس طرح عوام وقت آنے پر بطور خود نماز پڑھ لیـتے ہیں اسی طرح وہ بطور خود جنگ یا قتال نہیں کر سکتے۔ جنگ یا قتال کا اعلان صرف ایک قائم شدہ ریاست کر سکتی ہے۔ حکومت اگر پکارے تو عوام اس کے معاون بن کر اس کے تحت شریک ہوسکتے ہیں مگر خود سے وہ ہر گز کوئی جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔

قرآن میں ایک عمومی حکم کے طورپر یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی خوف (یا خارجی حملہ) کی صورت پیدا ہو تو عوام کو خود سے کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہیے۔ ان کو صرف یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملہ کو اولو الأمر (النساء، 4:83) یعنی حکام تک پہنچائیں اور انہیں موقع دیں کہ وہ حسبِ ضرورت اپنی جوابی کارروائی کا منصوبہ بنائیں۔

یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ (صحيح البخاري، حديث نمبر 2957)۔ یعنی حکمراں ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعہ بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قتال کا اعلان یا اس کی منصوبہ بندی مکمل طورپر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ عامۃ المسلمین اس کی ماتحتی میں رہ کر اور اس کے زیر حکم حسب ضرورت اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، اس سے آزاد ہو کر نہیں۔

اس اسلامی اصول سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اس غیر حکومتی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں جس کو عام طورپر گوریلا وار(Gorilla War) کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ گوریلا وار عوام کی آزاد تنظیموں کی طرف سے لڑی جاتی ہے، نہ کہ حکومتی ادارہ کی طرف سے۔ خود حکومتی ادارہ کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ کسی ملک یا قوم کے خلاف دفاعی جنگ لڑنا چاہتی ہے تو قرآن کے مطابق، پہلے وہ اس کا باضابطہ اعلان کرے۔ اور اگر اس کے خلاف کوئی معاہدہ ہے تو اس معاہدہ کو وہ منسوخ کردے (الانفال، 8:58)۔ اسلام میں اعلان کے ساتھ جنگ ہے، بلا اعلان جنگ (undeclared war) اسلام میں نہیں۔ اس اصول کے مطابق، پراکسی وار (proxy war) اسلام میں جائز نہیں۔

اسلام کے تمام اعمال کی کچھ شرائط ہیں۔ اسی طرح اسلام میں جنگ کے لیے بھی کچھ لازمی شرائط ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جنگ خواہ کوئی باقاعدہ مسلم حکومت کرے ، اور خواہ وہ دفاعی ہو، تب بھی اس جنگ کا نشانہ جارح لوگوں تک محدود ہوگا۔ یعنی اس جنگ میںمسلمانوں کی فوج صرف مقاتلین (combatants) پر وار کر سکتی ہے، غیر مقاتلین(non-combatants)کو اپنے حملہ کا نشانہ بنانا پھر بھی جائز نہ ہوگا۔

چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کرو جنہوں نے تم سے جنگ نہیں کی۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تم حسن سلوک اور انصاف کا معاملہ کرو۔ البتہ جن لوگوں نے تم سے جنگ کی ان سے جنگ کرنے کے لیے تم آزاد ہو۔ ان کے ساتھ تمہارا معاملہ دوستی کا معاملہ نہیں (60:8-9)

اگر بالفرض کسی قوم کے ساتھ مسلم حکومت کی جنگ چھڑ جائے اور یہ جنگ اسلامی شرائط کے مطابق ہو تب بھی مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف اس قسم کی تخریبی کارروائی کریں جیسی تخریبی کارروائی مثال کے طورپر ، 11 ستمبر 2001ء کو نیو یارک اور واشنگٹن میں کی گئی۔

اسی طرح جائز اسلامی جنگ میں بھی مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ فریقِ ثانی پر خود کش بمباری کریں۔ یعنی بالقصد اپنے جسم پر بم باندھ کر فریقِ ثانی کی فوجی یا شہری آبادی پر ٹوٹ پڑیں اور جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کرکے فریقِ ثانی کو ہلاک کریں۔ اس قسم کا معاملہ ہر گز شہادت یا استشہاد نہیں۔ اسلام میں شہید ہونا ہے، اسلام میں شہید کروانا نہیں ہے۔

دشمن اور جارح کا فرق

اللہ نے اپنی حکمتِ امتحان کے تحت دنیا میںانسان کو آزادی دی ہے۔ اس آزادی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں قائم ہوتی ہیں (طٰہٰ ، 20:123)۔ حتی کہ لوگوں کے درمیان جنگ کی نوبت آجاتی ہے۔ مگر اسلام میں دشمنی اور جنگ دونوں میں واضح فرق کیا گیا ہے۔

اہل اسلام کو یہ حق نہیں کہ وہ جس کو اپنا دشمن سمجھیں اس کے خلاف وہ جنگ چھیڑ دیں۔ دشمن کے مقابلہ میں اہلِ اسلام کو صرف پُر امن دعوت کا کام کرنا ہے، نہ کہ ان سے جنگ چھیڑ دینا۔ اس سلسلہ میں قرآن میںواضح حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہےاور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا  اور کہا کہ میںفرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصلت،41:33-34)۔ گویا اسلام میں دشمن کو پُر امن کوشش کے ذریعہ اپنا دوست بنانا ہے، نہ کہ اس کو دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کرنا۔

اسلام میںجنگ کی اجازت ہے مگر یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب کہ اعراض کے باوجود فریقِ ثانی حملہ کردے اور حقیقی دفاع کی صورت پیدا ہو جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39) یعنی ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جاتی ہے اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا۔ قرآن میں دوسری جگہ جنگ کی اجازت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فریقِ ثانی ہے جس نے کہ پہلی بار جنگ کی ابتداء کی (التوبۃ، 9:13)۔

معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق، جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حملہ آور کے خلاف ہے۔ مسلمان اگر کسی کو اپنا دشمن سمجھیں تو ان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس کے خلاف حملہ کر دیں۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میںاوّل و آخر جو حق دیا گیا ہے وہ پُر امن دعوت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ متشددانہ جارحیت کے خلاف دفاعی جنگ اسلام میں جائز ہے، مگر وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہوں۔ پیغمبر اسلام کا عملی نمونہ اس کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔

جنگ ایک غیر مطلوب شئے

اسلام کے لیے جنگ کا ماحول اتنا ہی غیر مطلوب ہے جتنا کہ تجارت کے لیے نفرت و تشدد کا ماحول غیر مطلوب ہے۔ تجارت امن اور اعتدال کے ماحول میں کامیاب ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلام کے مقاصد صرف امن کے حالات اور نارمل تعلقات میں حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہأیّھا الناس لا تتمنوا لقاء العدو، و سلوا اللہ العافیۃ (صحيح البخاري، حديث نمبر 2966؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 1742؛ ابو داؤد، حديث نمبر 2631؛ مسند احمد، حديث نمبر 19114) یعنی اے لوگو، تم دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ تم اللہ سے امن مانگو۔

جنگ کرنے والے ہمیشہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور سیاسی اقتدار اسلام میں کوئی ایسی چیز ہی نہیں جس کے حصول کے لیے جنگ کی جائے۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار اہلِ اسلام کا نشانہ نہیں بلکہ وہ ایک امرِ موعود (النور،24:55) ہے۔ قرآن کے مطابق، اقتدار کا مالک اللہ ہے، وہی جس کو چاہتا ہے اسے دیتا ہے اورجس سے چاہتا ہے اس سے اس کو چھین لیتا ہے (آل عمران، 3:26)۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار اور سیاسی فتح کبھی ایک کے حصہ میںآتی ہے اور کبھی دوسرے کے حصہ میں (آل عمران، 3:140)۔

اس قرآنی حقیقت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا ملنا یا سیاسی اقتدار کا چھینا جانا دونوں فطرت کے قانون کے تحت پیش آتے ہیں، اقتدار نہ کسی گروہ کو اس کی کوشش سے ملتا ہے اور نہ کسی دوسرے گروہ کی سازش اس کو کسی سے چھین سکتی ہے۔

جنگ کے بغیر فتح

پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ (628ء ) کہاجاتاہے۔ پیغمبراسلام اس وقت مدینہ میںتھے اور مکہ اہل شرک کے قبضہ میںتھا جو اس وقت آپ سے برسرِ جنگ تھے۔ پیغمبر اسلام نے عمرہ کی عبادت کے لیے مکہ جانا چاہا کیوں کہ کعبہ مکہ میں ہے، اس بنا پر عمرہ کی عبادت مکہ ہی میںادا کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ سفر خالص عبادتی سفر تھا۔ مگر مکہ والوں نے اس کو اپنے لیے عزت (prestige) کا سوال بنا لیا۔ انہوں نے آپ کو مکہ سے باہر حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور کہا کہ آپ یہاں سے واپس جائیں۔ یہ بحث یہاں تک بڑھی کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس وقت پیغمبر اسلام کے ساـتھ چودہ سو مسلمان تھے۔ اگر یہ لوگ اس پر اصرار کرتے کہ وہ مکہ میںداخل ہو کر عمرہ کریں گے تو یقینی طورپر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی۔ مگر پیغمبر اسلام نے مشرکین کے مطالبہ کو مان لیا اور دس سال کا امن معاہدہ کرکے حدیبیہ سے مدینہ واپس آگئے۔

معاہدۂ حدیبیہ بظاہر مقابلہ کے میدان سے واپسی کا معاہدہ تھا۔ مگر جب یہ معاہدہ ہوگیا تو قرآن میںاس کو اہل اسلام کے حق میں فتح مبین (الفتح، 48:1) قرار دیا گیا۔ اُس وقت کے حالات میں اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں نے اپنے حریف سے جنگ نہ کر کے ان کے اوپر فتح حاصل کر لی۔

اس کا مطلب کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنگ سے اعراض کرکے اور امن کا معاہدہ کرکے اہل اسلام کو یہ موقع(opportunity) حاصل ہوگیا کہ وہ اپنی طاقتوں کو جنگ میں ضائع ہونے سے بچائیں اور اس کو مکمل طورپر تعمیر اور استحکام میں لگائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کے معاہدۂ امن کے بعد دو سال کے اندر اہل اسلام نے اپنے آپ کو اتنا مستحکم بنا لیا کہ وہ اس حیثیت میں ہوگئے کہ کسی باقاعدہ لڑائی کے بغیر صرف پُر امن تدبیر کے ذریعہ مکہ پر فتح حاصل کر لیں۔ ’’جنگ کے بغیر فتح‘‘ کا یہ اصول بلاشبہ اسلام کا ایک نہایت اہم اصول ہے۔ یہ اصول فطرت کے اٹل نظام پر قائم ہے۔ وہ افراد اور گروہوں کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ حکومتوں کے لیے۔ اس اصول کو ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے—ٹکراؤ سے اعراض کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔

Avoid the confrontation and avail the opportunities.

قتال برائے ختم فتنہ

قرآن میںرسول اوراصحاب رسول کو جو احکام دیے گئے، ان میں سے ایک حکم یہ تھاوَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(8:39)۔ یعنی اور ان سے سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

اس آیت کے دو حصے ہیں۔ یہاں ایک ہی بات کو پہلے منفی اور اس کے بعد مثبت انداز میں بیان کیا گیاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ کی حالت کو اس طرح ختم کردو کہ پوری طرح غیر فتنہ کی حالت قائم ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان کی پیدا کردہ مصنوعی حالت نہ رہے بلکہ خدا کی مقرر کی ہوئی فطری حالت واپس آجائے۔

اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر ہے جو قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں رائج تھا۔ قدیم زمانہ میں ہر جگہ بادشاہت کا رواج تھا۔ اس زمانہ میں زندگی کے صرف دو بڑے شعبے ـتھے—اقتدار اور زمین۔ یہ دونوں شعبے مکمل طورپر بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتے تھے۔ اس طرح پوری انسانی زندگی عملاً بادشاہ کے قبضہ میں رہتی تھی۔ حتی کہ لوگوں کا مذہب بھی وہی ہوتا تھا جو بادشاہ کا مذہب ہوتا تھا۔ اس زمانہ کی حالت کو ایک قدیم عربی مقولہ میںاس طرح بیان کیا گیا ہےالنَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ (لوگ اپنے بادشاہوں کے مذہب پر ہوتے ہیں)۔

قدیم زمانہ میں جبر کی یہ صورتِ حال خدا کی فطری اسکیم کے خلاف تھی۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میںایک قسم کی سیاسی مرکزیت (political centralization) قائم ہوگئی تھی۔ اس نظام کے اندر ہر کام صرف بادشاہ کی اجازت کے تحت ہوسکتا تھا۔ عام افراد کوئی بھی کام آزادانہ طورپر کرنے کی پوزیشن میںنہیں ہوتے تھے۔ یہ تقریباً وہی صورتِ حال تھی جس کا ایک نمونہ کمیونسٹ ڈکٹیٹر شپ کے تحت قائم شدہ سابق سوویت یونین میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اللہ کو مطلوب تھا کہ سیاسی جبر کے اس غیر فطری نظام کو ختم کردیا جائے اور زندگی کا پورا نظام اس حالتِ فطری پر قائم ہو جائے جواللہ نے امتحان کی مصلحت کے تحت انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ یعنی سیاسی اقتدار کی اجازت کے بغیر ہر آدمی آزادانہ طور پر وہ کام کر سکے جس کو وہ کرنا چاہتا ہے۔

اسلام کے دور اول میں ملوکیت کو ختم کرکے خلافت کا قیام اسی عمل کا آغاز تھا۔ یہ نظام سب سے پہلے عرب میں قائم کیا گیا۔ اس وقت کی دنیا میں دو بڑی سلطنتیں —بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر قائم تھیں۔ ان سلطنتوں کے لیے مذکورہ قسم کا اصلاحی پروگرام ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس اصلاحی تحریک کو کچلنا چاہا۔ اس کے نتیجہ میں اصحابِ رسول کا ان سلطنتوں کے ساـتھ زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اللہ کی مدد سے اس مقابلہ میں اصحابِ رسول کو کامیابی حاصل ہوئی اور اس جبری نظام کا خاتمہ ہوگیا جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین(Henry Pyrrene) نے مطلق شہنشاہیت (absolute  imperialism) کا نام دیا ہے۔

ہزاروں سال سے قائم شدہ جبری نظام کو ختم کرکے آزادی کا نظام قائم کرنا ایک انتہائی انقلابی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ اپنے پہلے ہی دور میں مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کی مدد سے ساتویں صدی عیسوی میںاس قدیم جبری نظام کے تاریخی تسلسل کو توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ تبدیلی ایک عمل(process) کے روپ میں انسانی تاریخ میں داخل ہوگئی۔ یہ عمل مختلف قسم کے فطری نشیب و فراز کے ساتھ مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔

عدم ترکیز (de-centralization) کا یہ واقعہ بیسویں صدی کے آغاز ہی میں پیش آگیا۔ اب سیاسی اقتدار محدود ہو کر صرف انتظامیہ (administration) کی حیثیت میں باقی رہا۔ اب سیاسی ادارہ کا دخل زندگی کے ایک فیصد حصہ تک محدود ہوگیا۔ اور زندگی کے بقیہ ننانوے شعبے اس طرح آزاد ہوگئے کہ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق، ان کو اپنے لیے استعمال کر سکے۔

انسانی زندگی کے نظام میںیہ عظیم تبدیلی عین اسلام کے حق میں تھی۔ اب (دوسروں کی طرح) اہل اسلام کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ سیاسی معنوں میں خواہ وہ حکمراں ہوں یا نہ ہوں، زندگی کی تعمیر و تشکیل میں وہ اپنا ہر منصوبہ کسی رکاوٹ کے بغیر چلا سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تبدیلی نے زندگی کے نظام کو بادشاہت کے دور سے نکال کر اداروں (institutions) کے دور میں پہنچا دیا۔

اب اہل اسلام کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ ہر قسم کے ادارے قائم کر کے زندگی کے تمام شعبوں پر قابض ہو سکیں۔ حتی کہ خود سیاسی ادارہ کو بھی بالواسطہ انداز میں اپنے زیر اثر کرلیں۔

مذکورہ تبدیلی کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اہل اسلام بڑے پیمانہ پر ہر قسم کے آزادانہ ادارے قائم کریں، اور اداروں کے ذریعہ— معاشرہ میں وہ نفوذ حاصل کرلیں جو پہلے صرف سیاسی اقتدار کے ذریعہ ممکن ہوا کرتا تھا۔ مثلاً تعلیمی اداروں کے ذریعہ نئی نسلوں کی تربیت، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ عمومی فکری فضا بنانا، کتابوں کے ذریعہ اپنے افکار کی اشاعت، تحقیقی اداروں کے ذریعہ اجتہاد کا عمل جاری رکھنا، مساجد اور مدارس کے ذریعہ اپنے مذہب کی حفاظت، صنعتی اداروں کے ذریعہ مالیات کا حصول، مواصلات کے ذریعہ اپنے مقاصد کی عالمی تنظیم، مختلف قسم کے این جی او(NGOs) کے ذریعہ اپنے مذہبی اور ثقافتی امور کی تنظیم، وغیرہ۔

موجودہ زمانہ میں جن قوموں نے تبدیلی کے اس راز کو سمجھ لیا ہے وہ بظاہر سیاسی اقتدار کی کرسی پر نہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کی کامیابیاں حاصل کیے ہوئے ہیں۔ کسی گروہ نے ملک کے اندر اپنا تعلیمی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے صنعتی ایمپائر۔ کسی نے اپنا اشاعتی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے مواصلاتی ایمپائر۔ کسی نے اپنا مالیاتی ایمپائر بنا لیا ہے اور کسی نے معالجاتی ایمپائر۔ اس غیر ریاستی ایمپائر کی آخری مثال کمپیوٹر ایمپائر ہے جس نے لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین اقوامی سطح پر پورے نظام زندگی کو اپنے کنٹرول میں لے سکیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی آیت ( وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ) کاایک اہم پہلو یہی زمانی تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی نے سیاسی اقتدار کو گھٹا کر اب اس کو صرف ایک قسم کا سیاسی دردِ سر (political headache) بنا دیا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے جنگ کریں۔ سیاسی اقتدار، خواہ جس کسی کے قبضہ میں ہو، وہ ہر حال میں ایسا کرسکتے ہیں کہ غیر سیاسی ادارے قائم کرکے اپنے تمام مطلوب فائدے حاصل کرلیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہلِ اسلام سیاست سے دست بردار ہو جائیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اداروں اور تنظیموں کے ذریعہ ملنے والے فوائد کو حاصل کرتے ہوئے وہ محدود دائرہ میں پُر امن سیاسی عمل کا طریقہ اپنا ئیں۔ وہ سیاسی ہنگامہ آرائی سے مکمل پر ہیز کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنا خاموش سیاسی سفر جاری رکھیں، یہاں تک کہ اللہ ان کے لیے وہ مواقع کھول دے جو انہیں سیاست کے ادارہ تک بھی پہنچا دے۔

امن کی طاقت

حدیث میں آیا ہے: إِنَّ اللهَ يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ(صحيح مسلم، حديث نمبر 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس حدیث کے مطابق، پُر امن طریقِ کار (peaceful activism) کو متشددانہ طریقِ عمل(violent activism) کے اوپر واضح فوقیت حاصل ہے۔

اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پُر اسرار بات نہیں۔ یہ ایک سادہ اور معلوم فطری حقیقت ہے۔ جنگ اور تشدد کی صورتِ حال میں یہ ہوتا ہے کہ طرفین کے درمیان نفرت اور عداوت بھڑکتی ہے۔ موجود ذرائع تباہ ہوتے ہیں۔ دونوں طرف کے بہترین افراد قتل کیے جاتے ہیں۔ پورا سماج منفی نفسیات کا جنگل بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں تعمیر واستحکام کا کوئی کام نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ و تشدد میں نقصان تو یقینی ہے مگر نقصان کے باوجود اس میں کوئی فائدہ نہیں۔

اس کے برعکس امن کا ماحول ہو تو لوگوں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ دوستی اور محبت میںاضافہ ہوتا ہے۔ موافق ماحول کے نتیجہ میں تعمیری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ موجود ذرائع کو ترقیاتی کاموں میںاستعمال کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لوگ مثبت نفسیات میں جیتے ہیں جس کی بنا پر علمی اور فکری ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔

جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ مواقع کار کو مسدود کر تی ہے۔ اس کے مقابلہ میں امن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ مواقعِ کار کو آخری حد تک کھول دیتی ہے۔ جنگ سے ہمیشہ مزید نقصان ہوتا ہے، اور امن سے ہمیشہ مزید فائدہ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر قیمت پر اور آخری حدتک جنگ اور ٹکراؤ سے اعراض کی تعلیم دیتا ہے۔ اورامن کو ہر قیمت پر قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔

ایک مغالطہ کی وضاحت

قرآن میں بعض آیتیں ایسی ہیں جن کا مفہوم یہ ہےاور ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ (2:191)۔ اس طرح کی آیتوں کو لے کر کچھ لوگ یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام جنگ اور قتال کا مذہب ہے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس طرح کی آیتیں محدود طورپر صرف ان لوگوں سے متعلق ہیں جنہوں نے اہل اسلام پر یک طرفہ حملہ کر دیا ہو، وہ اسلام کا کوئی عمومی حکم نہیں۔

اصل یہ ہے کہ قرآن بیک وقت ایک مکمل کتاب کی صورت میں نہیں آیا، بلکہ وہ 23 سال کی مدت میں وقفہ وقفہ کے ساتھ حالات کے مطابق، نازل ہوا۔ 23 سال کی اس مدت کو اگر امن اور جنگ کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو تقریباً بیس سال کی مدت امن سے متعلق ہوگی اور تقریبًا تین سال کی مدت جنگ سے متعلق۔ جنگ یا قتال کی آیتیں مذکورہ تین سال کے دوران اتریں۔ ا ن کے علاوہ بیس سال کی مدت میںجو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پُر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں۔ مثلاً معرفت، عبادت، اخلاق، عدل، وغیرہ۔

احکام کی یہ تقسیم ایک فطری تقسیم ہے۔ وہ اس قسم کی ہر کتاب میں پائی جاتی ہے۔ مثال کے طورپرہندوازم کی مقدس کتاب گیتا کو لیجیے۔ گیتا میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو حکمت اور اخلاق سے تعلق رکھتی ہیں۔اسی کے ساتھ گیتا میں یہ بھی ہے کہ کرشن جی ارجن سے کہتے ہیں کہ اے ارجن، آگے بڑھ اور یُدھ (جنگ) کر۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ گیتا کو ماننے والے بس ہر وقت جنگ کرتے رہیں۔ چنانچہ اسی گیتا سے مہاتما گاندھی نے اپنا اہنسا کا فلسفہ تشکیل دیا۔ کیوں کہ جنگ کی بات گیتا میں استثنائی طورپر حالتِ جنگ کے لیے ہے۔ عمومی زندگی کے لیے اس میں وہی پُر امن احکام بتائے گئے ہیں جو مہاتما گاندھی نے اس سے اخذ کیے۔

اسی طرح بائبل (نیا عہد نامہ) میںحضرت مسیح کی زبان سے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں (متّٰی، 10:34)۔ ان الفاظ کا یہ مطلب لینا درست نہ ہوگا کہ حضرت مسیح کا دین جنگ و قتال کا دین تھا۔ اس لیے کہ آپ کی تعلیمات میں اس طرح کے کلام کی حیثیت صرف استثنائی ہے اور کسی خاص موقع سے متعلق ہے۔ جہاں تک عمومی زندگی کا تعلق ہے، حضرت مسیح نے ہمیشہ اخلاق اور محبت جیسی پُر امن قدروں کی تعلیم دی۔

یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے۔ پیغمبر اسلام نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس کے بعد مشرک قبائل نے آپ کے خلاف جارحانہ حملے کرنے شروع کر دیے۔ آپ ہمیشہ ان حملوں کو صبر و اعراض کی تدبیروں سے ٹالـتے رہے۔ تاہم بعض مواقع پر ایسا ہوا کہ جوابی مقابلہ کے سوا کوئی اور انتخاب (option) موجود ہی نہ تھا۔ اس لیے آپ نے وقتی طورپر ان سے دفاعی جنگ کی۔ یہی وہ حالات تھے جن کے پیش آنے پر قرآن میں جنگ کے استثنائی احکام اترے۔ یہ احکام یقینی طورپر وقتی نوعیت کے تھے، نہ کہ ابدی نوعیت کے ۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر اسلام کی مستقل حیثیت کو رحمت للعالمین (21:107) سے تعبیر کیا گیا۔ یعنی سارے عالم کے لیے رحمت۔

اسلام میں ٹیررزم نہیں

اسلام کے مطابق، ٹیررزم (دہشت گردی) کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ ٹیررزم سادہ طورپر، غیر ریاستی تشدد کا دوسرا نام ہے۔ تشدد کے ذریعہ کسی مقصد کا حصول، بوقت ضرورت، صرف باقاعدہ طورپر قائم شدہ حکومت کے لیے درست ہے۔ غیر حکومتی افراد یا جماعتوں کے لیے کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ اختیار کرنا درست نہیں۔ اگر کسی شخص یا گروہ کو کوئی شکایت ہو تو اس کے لیے جائز طورپر صرف دو صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو وہ پر امن حدود میں رہ کر اپنی شکایت کا حل تلاش کرے، یا وہ اپنے معاملہ کو عدالت اور حکومت کے سپرد کردے تاکہ وہ قانون کے مطابق، دخل دے کر اس کے معاملہ کو حل کریں۔

آج کل میڈیا میں اکثر اسلامک ٹیررزم (اسلامی دہشت گردی) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یہ بلاشبہ غلط ہے۔ اسلام کو ٹیررزم کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔ تاہم اس معاملہ میں اصل ذمہ دار میڈیا نہیں ہے بلکہ وہ مسلمان ہیں جو میڈیا کو موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کے عمل کو اس قسم کے عنوان کے ساتھ رپورٹ کرے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان مختلف مقامات پر غیر حکومتی جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ تمام جنگیں یقینی طورپر ملک و مال کے لیے یا مسلم قومی مفاد کے لیے ہیں۔ مگر جو مسلمان اس قسم کی متشددانہ تحریکیں چلا رہے ہیں وہ ان کو اسلامی جہاد کا نام دیتے ہیں۔ اب ظاہرہے کہ میڈیا کا کام تجزیہ کرنا نہیں ہے بلکہ رپورٹ کرنا ہے۔ چنانچہ میڈیا مسلمانوں کے اس قسم کے متشددانہ عمل کو اسی طرح اسلام کے ساتھ منسوب کردیتا ہے جس طرح خود مسلمان ان کو اسلام کے ساتھ منسوب کیے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسلمان جب اپنے تشدد کو اسلام کا عنوان دیں تو میڈیا بھی اپنی رپورٹنگ میں اس کو اسلام ہی کا عنوان دے گا، نہ کہ کسی اور چیز کا۔

مسلمانوں کی اس روش نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو بہت زیادہ بدنام کیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں اسلام کی تصویر خلاف واقعہ طورپر یہ بن گئی ہے کہ اسلام نفرت اور تشدد کا مذہب ہے، نہ کہ امن اور انسانیت کا مذہب۔

مثال کے طورپر ملاحظہ ہو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (1 اکتوبر 2001) میں مسٹر امولیہ گنگولی کا مضمون اسلام کی تصویر (Image of Islam)۔ اسی طرح لندن کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع شدہ مضمون جس کا عنوان یہ ہے—          ایک مذہب جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے:

A religion that sanctions violence.

اسلام کواس بدنامی سے بچانے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنی قومی لڑائیوں کو اسلام کا عنوان دینا چھوڑ دیں۔ اس معاملہ میں وہ جو کچھ کریں ان کو اپنی قوم کی طرف منسوب کریں، نہ کہ اسلام کی طرف۔ تا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ان کا اپنا قومی عمل سمجھا جائے، نہ کہ اسلامی اور دینی عمل۔

 

جہاد کا تصور اسلام میں

جہاد کا مادہ جہد ہے۔ جہد کے معنی ہیں کوشش کرنا  (to strive, to struggle)۔ اس لفظ میں مبالغہ کا مفہوم ہے یعنی کسی کا م میں اپنی ساری کوشش صرف کردینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ ’بَذَلَ جُهْدَه‘  یا  ’ بَذَلَ مَجْهُودَه‘ یعنی اس نے اپنی پوری طاقت صرف کردی۔ لسان العرب میں ہے کہوجَهَدَ الرَّجُلُ فِي كَذَا أَي جدَّ فِيهِ وَبَالَغَ (جلد3، صفحہ133) آدمی نے فلاں معاملہ میں جدو جہد کی، یعنی اس میں مبالغہ کی حد تک کوشش کر ڈالی۔

جہاد مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی کسی کام میں اپنی ساری ممکن کوشش صرف کرنا۔ لسا ن العرب میں ہے: الجِہَاد:الْمُبَالَغَةُ وَاسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِي الْحَرْبِ أَو اللِّسَانِ أَو مَا أَطاق مِنْ شَيْء(جلد3، صفحہ135) ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ ( 22:78) یعنی اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔

عربی زبان میں جہاد اصلاً صرف کوشش یا بھر پور کوشش کے معنیٰ میں ہے۔ دشمن سے جنگ بھی چوں کہ کوشش کی ایک صورت ہے اس لیے توسیعی مفہوم کے اعتبارسے دشمن کے ساتھ جنگ کو بھی جہاد کہہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اس دوسرے مفہوم کے لیے عربی میں اصل لفظ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔

دشمن سے جنگ ایک اتفاقی واقعہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا۔ لیکن جہاد ایک مسلسل عمل ہے جو مومن کی زندگی میں ہر دن اور ہر رات جاری رہتا ہے، وہ کبھی ختم نہیںہوتا۔ وہ مستقل جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ کی مرضی پر قائم رہے۔ اس قیام میں جو چیزبھی رکاوٹ ہو اس کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً نفس کی خواہش، مفاد کی طلب، رسم ورواج کا زور، مصلحتوں کے تقاضے، ذاتی انا کا مسئلہ، مال کی حرص، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عمل صالح کے لیے رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس قسم کی تمام رکاوٹوںکو زیر کرتے ہوئے اللہ کے حکم پر قائم رہنا، یہی اصل جہاد ہے، اور یہی جہاد کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اس جہاد کے بارے میں حدیث میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ مثلاً مسند امام احمد کی چند روایتیں یہ ہیں:

الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ (مسند احمد، حديث نمبر 23951)

االْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ (مسند احمد، حديث نمبر 23965)

الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، حديث نمبر 23958)

موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں کا پورا ماحول اس طرح بنایا گیا ہے کہ آدمی مسلسل طورپر آزمائش کے حالات سے گزرتا رہے۔ ان آزمائشی مواقع پر آدمی کو طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا پیش آتا ہے۔ مثلاً ایک حق اس کے سامنے آئے مگر اس کا اعتراف کرنے میں اپنا درجہ نیچا ہوتا ہوا دکھائی دے، کسی کا مال آدمی کے قبضہ میں ہو اور اس کو حقدار کی طرف واپس کرنے میں اپنا نقصان نظر آتا ہو، تواضع کی مطلوب زندگی گذارنے میں اپنے نفس پر جبر کرنا پڑے، غصہ اور انتقام کے جذبات کو برداشت کرنا اپنی نفی کے ہم معنیٰ بن گیا ہو، انصاف کی بات بولنے میں یہ اندیشہ ہو کہ لوگوں کے درمیان مقبولیت ختم ہوجائے گی، خودغرضانہ کردار کے بجائے با اصول کردار اختیار کرنے میں سہولیات سے محرومی نظر آتی ہو، وغیرہ۔

اس طرح کے مختلف مواقع پر بار بار آدمی کو اپنی خواہش کو دبانا پڑتا ہے۔ اپنی نفسیات کی قربانی دینا ضروری ہوجاتاہے۔ حتی کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنی انا کو ذبح کرنا پڑے گا۔ اس طرح کے تمام مواقع پر ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اور ہر نقصان کو جھیلتے ہوئے حق پر قائم رہنا یہی اصلی اور ابتدائی جہاد ہے۔ جو لوگ اس جہاد پر قائم رہیں وہی آخرت میں جنت کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

جہاد اصلاً پُرامن جدوجہد کا عمل ہے۔ اسی پُر امن جدو جہد کی ایک صورت وہ ہے جس کو دعوت و تبلیغ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی منکرین کی اطاعت نہ کرو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ باطل جوبات ان سے منوانا چاہتے ہیں اس کو ہر گز نہ مانو۔ بلکہ قرآن کی تعلیمات کو لے کر ان کے خلاف دعوت و تبلیغ کا عمل کرو اور اس عمل میںاپنی آخری کوشش صرف کردو۔ اس آیت میں جہاد سے مراد کوئی عسکری عمل نہیں ہے بلکہ اس سے مراد تمام تر فکری اور نظریاتی عمل ہے۔ اس عمل کو ایک لفظ میں ابطال باطل اور احقاق حق کہا جاسکتا ہے۔

جہاد بمعنیٰ قتال بھی اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے پُر امن جدوجہد ہی کا دوسرا نام ہے۔ دشمن کی طرف سے اگر فوجی اور عسکری چیلنج دیا جائے تب بھی اولاً ساری کوشش اس بات کی کی جائے گی کہ اس کا جواب پُر امن طریقہ سے دیا جائے۔ پُر امن طریقہ کو صرف اُس وقت ترک کیا جائے گا جب کہ اس کو استعمال کرنا ممکن ہی نہ ہو، جب کہ قتال کے جواب میں قتال ہی واحد ممکن انتخاب کی صورت اختیار کرلے۔

اس معاملہ میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہمارے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا: ما خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرھما (صحيح البخاري، حديث نمبر 3560؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2327؛ ابو داؤد، حديث نمبر 4785؛ سنن ابن ماجه، حديث نمبر 1984؛ مسند احمد، حديث نمبر 24549) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا توآپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کسی معاملہ میںدو امکانی انتخاب ہوتا ، ایک آسان انتخاب (easier option)اور دوسرا مشکل انتخاب(harder option) تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور جو آسان ہوتا اس کو اختیار فرما لیتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا تعلق زندگی کے صرف عام معاملات سے نہ تھا بلکہ جنگ جیسے سنگین معاملہ سے بھی تھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشکل انتخاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کی سیرت کا مطالعہ بتا تا ہے کہ آپ نے کبھی خود اپنی طرف سے جنگ کا اقدام نہیں کیا۔ اور جب آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے ہمیشہ اعراض کی کوئی تدبیر اختیار کرکے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی۔ آپ صرف اُس وقت جنگ میں شریک ہوئے جب کہ دوسرا کوئی راستہ سرے سے باقی ہی نہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف مدافعانہ جنگ ہے اور وہ بھی صرف اس وقت جب کہ اس سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہ رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے— پُرامن جدو جہد، اور پُر تشدد جدو جہد۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اور ہر معاملہ میں یہی کیا کہ پُر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پُر امن طریق کار کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسی اصول کا ایک کامیاب عملی نمونہ ہے۔ یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

1۔ پیغمبری ملنے کے بعد فوراً ہی آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ کو اختیار کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا مشن یہ تھا کہ شرک کو ختم کریں اور توحید کو قائم فرمائیں۔ مکہ میں کعبۃ اللہ اسی توحید کے مرکز کے طورپر بنایا گیا تھا مگر آپ کی بعثت کے وقت کعبہ میں 360 بت رکھ دیے گئے تھے۔ اس لحاظ سے بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں سب سے پہلے اس طرح کی کوئی آیت اترتی کہطَهِّرْ الکَعْبَۃَ مِنْ الأصْنَامِ (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) اور اس کو دوبارہ مرکز توحید بنا کر اپنے مشن کو آگے بڑھاؤ۔

مگر کام کا یہ آغاز قریش سے جنگ کرنے کے ہم معنیٰ تھا، جن کی قیادت عرب میں اسی لیے قائم تھی کہ وہ کعبہ کے متولی بنے ہوئے تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے کعبہ کی عملی تطہیر کے معاملہ سے مکمل طورپر احتراز فرمایا اور اپنے آپ کو صرف توحید کی نظری دعوت تک محدود رکھا۔ یہ گویا پُر تشدد طریق کار کے مقابلہ میں پُر امن طریقِ کار کی پہلی پیغمبرانہ مثال تھی۔

2 ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پُر امن اصول پر قائم رہتے ہوئے تیرہ سال تک مکہ میں اپنا کام کرتے رہے۔ مگر اس کے باوجود قریش آپ کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ ان کے سرداروں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ سب مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں۔ چنانچہ انہوں نے تلواروں سے مسلح ہوکر آپ کے گھر کو گھیر لیا۔

یہ گویارسول اور اصحاب رسول کے لیے جنگ کا کھلا چیلنج تھا۔ مگرآپ نے اللہ کی رہنمائی کے تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ جنگی مقابلہ سے اعراض کریں۔ چنانچہ آپ رات کے سناٹے میں مکہ سے نکلے اور خاموشی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے۔ اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت واضح طورپر پُر تشدد طریقِ کار کے مقابلہ میں پُر امن طریقِ کار کو اختیار کرنے کی ایک مثال ہے۔

3 ۔ غزوہ ٔ خندق یا غزوہ ٔاحزاب بھی اسی سنت کی ایک مثال ہے۔ اس موقع پر مختلف قبائل کے لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوکر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ واضح طورپر آپ کے مخالفین کی طرف سے ایک جنگی چیلنج تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ رات دن کی محنت سے اپنے اور مخالفین کے درمیان ایک لمبی خندق کھوددی ۔ اس وقت کے حالات میںیہ خندق گویا ایک حاجز یا ٹکر روک طریقہ (buffer) تھا۔ چنانچہ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرا رہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گویا پرُتشدد عمل کے مقابلہ میں پُر امن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔

4۔ اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں۔ ہم کسی قیمت پر آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ گویا قریش کی طرف سے آپ کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا۔ اگر آپ اپنے ارادہ کے مطابق عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش آئے گا۔ مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفر ختم کردیا اورقریش کی یک طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کرکے مدینہ واپس آگئے۔ یہ بھی واضح طورپر تشدد کے مقابلہ میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔

5 ۔ فتح مکہ کے واقعہ سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جاں نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طورپر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کا طریقہ اختیار فرمایا ۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ دس ہزار افراد کی اس فوج کو لے کر اعلان کے ساتھ نکلیں اور قریش سے جنگی تصادم کرکے مکہ پر قبضہ حاصل کریں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کامل رازداری کے ساتھ سفر کی تیاری کی اور اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ مکہ میں داخل ہوگئے۔ آپ کا یہ داخلہ اتنا اچانک تھا کہ قریش آپ کے خلاف کوئی تیاری نہ کرسکے اور مکہ کسی خونی تصادم کے بغیر فتح ہوگیا  —یہ بھی پُر تشدد طریقِ کار کے مقابلہ میں پُر امن طریق کار کو اختیار کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ ان چند مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف عام حالات میں بلکہ انتہائی ہنگامی حالات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے مقابلہ میںامن کے اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی تمام کامیابیاں اسی سنتِ امن کی عملی مثالیں ہیں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میںامن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف مجبورانہ استثنا کی۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ موجودہ زمانہ میں صورت حال کیا ہے۔ اس معاملہ میں جدید دور قدیم دور سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدیم زمانہ میں پُر تشدد طریقِ کار ایک عام رواج کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور امن کا طریقہ اختیار کرنا بے حد مشکل کام تھا۔ مگر اب صورت حال یکسر طورپر بدل گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں پُر تشدد طریقِ کار آخری حد تک غیرمطلوب اور غیر محمود بن چکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پُر امن طریقِ کار کو واحد پسندیدہ طریقِ کار کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانہ میں پُر امن طریقِ کار کو ایسی فکری اور عملی تائیدات حاصل ہوگئی ہیں جنہوں نے پُر امن طریقِ کار کو بذاتِ خود ایک انتہائی طاقتور طریقِ کار کی حیثیت دے دی ہے۔

ان جدید تائیدات میںبہت سی چیزیں شامل ہیں۔ مثلاً اظہار رائے کی آزادی کا حق، جدید کمیونی کیشن کے ذریعہ اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے امکانات، میڈیا کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا، وغیرہ۔ ان جدید تبدیلیوں نے پُر امن طریقِ کار کو بیک وقت مقبول طریق کار بھی بنا دیا ہے اور اسی کے ساتھ زیادہ مؤثر طریق کار بھی۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب پُر امن طریقِ کار عملاً دستیاب (available) ہو تو اسلامی جدوجہد میں صرف اسی کو اختیار کیا جائے گا، اور پُرتشدد جدوجہد کو ترک کردیا جائے گا۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پُر امن طریقِ کار نہ صرف مستقل طورپر دستیاب ہے، بلکہ مختلف تائیدی عوامل (supporting factors) کی بنا پر وہ بہت زیادہ مؤثر حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ کہنا  بلا مبالغہ درست ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں پُر تشدد طریق کار مشکل ہونے کے ساتھ عملاً بالکل غیرمفید ہے، اس کے مقابلے میں پُر امن طریق کار آسان ہونے کے ساـتھ انتہائی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے۔ اب پُر امن طریقِ کار کی حیثیت دو امکانی انتخابات (possible options) میں سے صرف ایک انتخاب کی نہیں ہے بلکہ وہی واحد ممکن اور نتیجہ خیز انتخاب ہے۔ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اب پرتشدد طریقِ کار عملاً متروک قرار پاچکا ہے، یعنی وہی چیز جس کو شرعی زبان میں منسوخ کہا جاتا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے عملی طورپر ایک ہی طریقِ کار کا انتخاب باقی رہ گیا ہے، اور وہ بلاشبہ پُر امن طریقِ کار ہے، إلاّیہ کہ صورتِ حال میں ایسی تبدیلی پیدا ہو جو دوبارہ حکم کو بدل دے۔

یہ صحیح ہے کہ پچھلے زمانہ میں بعض اوقات پُر تشدد طریقِ کار کو اختیار کیا گیا مگر اس کی حیثیت زمانی اسباب کی بنا پر صرف ایک مجبورانہ انتخاب کی تھی۔ اب جب کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں یہ مجبوری باقی نہیں رہی تو پُر تشدد طریقِ کار کو اختیار کرنا بھی غیر ضروری اور غیرمسنون قرار پاگیا۔ اب نئے حالات میں صرف پُر امن طریقِ کار کا انتخاب کیا جائے گا۔جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے، جہاد کے معاملہ میںامن کی حیثیت عموم کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف ایک نادر الوقوع استثنا کی ۔

موجودہ زمانہ میں اس معاملہ کی ایک سبق آموز مثال ہندستانی لیڈر مہاتما گاندھی (وفات  1948) کی زندگی میںملتی ہے۔ اسی زمانی تبدیلی کی بنا پر مہاتما گاندھی کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ہندستان میں ایک مکمل قسم کی سیاسی لڑائی لڑیں اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں۔ اور یہ سب کچھ شروع سے آخر تک عدم تشدد کا طریقہ(non-violent method) اور پُر امن عمل (peaceful activism) کے اصول کو اختیار کرکے انجام پایا۔

فقہ کا یہ ایک معلوم اصول ہے کہتتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان (ديکھيے ابن قيم الجوزيہ، اغاثة اللهفان، جلد 1، ص 330) يعني زمانہ اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس مسلّمہ فقہی اصول کا تقاضاہے کہ جب زمانی حالات بدل چکے ہوں تو شرعی احکام کا ازسر نو انطباق (re-application) تلاش کیا جائے، تاکہ شرعی حکم کو زمانی حالات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ اس فقہی اصول کا تعلق جس طرح دوسرے معاملات سے ہے اسی طرح یقینی طور پراس کا تعلق جنگ کے معاملہ سے بھی ہے۔ اس اصول کا بھی یہ تقاضا ہے کہ پُر تشدد طریقِ کار کو اب عملاً متروک قرار دیاجائے اور صرف پُر امن طریقِ کار کو شرعی جواز کا درجہ دیا جائے۔

موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں

موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد کے نام سے بہت سے ملکوں کے مسلمان مسلّح جہاد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر کوئی تحریک محض اس بناپر جہاد کی تحریک نہیں ہوسکتی کہ اس کے   َعلم برداروں نے اس کو جہاد کا نام دے دیا ہو۔ کوئی عمل صرف اس وقت اسلامی جہاد قرار پاتا ہے جب کہ وہ اسلام کی مقرر کی ہوئی شرطوں پر پورا اترے۔ جہاد کی شرطوں کی تکمیل کے بغیرجو جہاد کیا جائے وہ عملاً جہاد نہیں ہوگا بلکہ فساد ہوگا۔ جو لوگ اس کام میں مشغول ہوں وہ اپنے اس کام پر جہاد کا انعام نہیں پائیں گے بلکہ اللہ کی طرف سے وہ صرف سزا کے مستحق ہوں گے۔

جہاد بمعنیٰ قتال کی شرطیں کیا کیا ہیں، اس کو میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔یہاں صرف ایک بات کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ جہاد بمعنیٰ قتال کی حیثیت نماز روزہ جیسے انفرادی عمل کی نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق مکمل طورپر  ریاست سے ہے۔

جہاد (بمعنیٰ قتال ) کی یہ اصولی حیثیت قرآن وحدیث کی مختلف نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے خوف کی صورت پیدا ہو تو اس کو لے کر خود سے اس کے خلاف کارروائی شروع نہ کردو بلکہ اس کو اولوا الأمر (ارباب حکومت) کی طرف لوٹاؤ، تاکہ وہ معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھیں اور اس کے بارے میں صحیح اور ضروری اقدام کریں (النساء 83)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ خوف (جنگی صورت حال ) پیش آنے کی صورت میں عوام کے لیے خود سے اقدام کرنا جائز نہیں۔ وہ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ معاملہ کو حاکم کے حوالہ کردیں اور حاکم کی طرف سے جو اقدام کیا جائے اس میں اس کا ساتھ دیں۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے انما الامام جنۃ، یقاتل من ورائہ و یتقی بہ (صحيح البخاري، حديث نمبر 2957) یعنی بلاشبہ امام ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ حفاظت حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگی دفاع ہمیشہ حاکم کی قیادت میں کیا جائے گا۔ عام مسلمانوں کا فرض صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنے حاکم کی اتباع کریں اور اس کا ساتھ دے کر حکومت کے منصوبہ کو کامیاب بنائیں۔

فقہ میں یہ مسئلہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جس میں غالباً کسی قابلِ ذکر عالم کا اختلاف نہیں۔ چنانچہ فقہاء کے متفقہ مسلک کے مطابق، جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت ہی کرسکتی ہے، غیر حکومتی عوام کو اس قسم کا اعلان کرنے کا حق نہیں۔ اسی لیے فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہالرحیل للإمام (جنگ کا اعلان کرنا صرف حاکم وقت کا کام ہے)۔

اصل یہ ہے کہ جنگ ایک انتہائی منظم عمل کا نام ہے۔ اس قسم کا منظم عمل صرف با اختیار حکومت ہی کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی اقدام صرف حکومت کے لیے جائز ہے، عوام کے لیے جنگی اقدام کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔

موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر مسلمان جہاد کے نام پر حکومتوں سے پُر تشدد ٹکراؤ چھیڑے ہوئے ہیں۔ مگر تقریباً بلا استثنا ان میں سے ہر ایک کی حیثیت فسادکی ہے، نہ کہ اسلامی جہاد کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اُن میںسے کوئی بھی ’’جہاد‘‘ کسی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔

آج کل کی زبان میں ان میں سے ہر ایک جہاد غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کی طرف سے شروع کیا گیا اور انہی کی طرف سے ان کو چلایا جارہا ہے۔ اگر ان میں سے کسی جہادی سرگرمی کو بالفرض کسی مسلم حکومت کا تعاون حاصل ہے تو یہ تعاون بلا اعلان صرف خفیہ انداز میںکیا جارہا ہے، اور شریعت کے مطابق کسی مسلم حکومت کو بھی جہاد کاحق صرف اس وقت ہے جب کہ وہ باقاعدہ طورپر اس کا اعلان کرے (الأنفال، 8:58) ۔ اعلان کے بغیر کسی مسلم حکومت کے لیے بھی قتال کرناجائزنہیں۔

موجودہ زمانہ میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی طرف سے جہاد کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، آج کل کی زبان میں وہ دو قسم کی ہیں۔ یا تو اس کی حیثیت گوریلا وار  (gorilla war) کی ہے ، یا پراکسی وار(proxy war) کی۔ اور یہ دونوں ہی قسم کی جنگیں یقینی طورپر اسلام میں ناجائز ہیں۔ گوریلا وار اس لیے ناجائز ہے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے چلائی جاتی ہے، نہ کہ کسی قائم شدہ حکومت کی طرف سے۔ اور پراکسی وار اس لیے ناجائز ہے کہ کوئی حکومت اس کو بلا اعلان جاری کرواتی ہے، اور اعلان کے بغیر جنگ اسلام میں جائز نہیں۔

خلاصۂ بحث

اسلامی جہاد ایک مثبت اور مسلسل عمل ہے۔ وہ مومن کی پوری زندگی میں برابر جاری رہتا ہے۔  اس مجاہدانہ عمل کے تین بڑے شعبے ہیں:

1۔  جہاد نفس: یعنی اپنے منفی جذبات اور اپنے اندر کی نامطلوب خواہشات پر کنٹرول کرنا اور ہر حال میں اللہ کی پسندیدہ زندگی پر جمے رہنا۔

2۔   جہاد دعوت: یعنی اللہ کے پیغام کو تمام بندوں تک پہنچانا اور اس کے لیے یک طرفہ ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ بھر پور کوشش کرنا۔ یہ ایک عظیم کام ہے، اس لیے اس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے۔

3۔  جہاد اعداء: یعنی دین حق کے مخالفوں کا سامنا کرنا اور دین کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رکھنا۔ یہ جہاد پہلے بھی اصلاً ایک پر امن عمل تھا۔ اور اب بھی وہ اصلاً ایک پر امن عمل ہے۔ اس اعتبار سے جہاد ایک پر امن جدوجہد ہے، نہ کہ حقیقۃ ً کوئی مسلّح کارروائی۔

 

امن کلچر

امن کیا ہے

اہل علم امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ فنی اعتبار سے یہ تعریف بالکل درست ہے۔ کسی سماج میںجب تشدد اورجنگ نہ ہو تو اس کے بعد وہاں جو صورت حال پیدا ہوگی اسی کا نام امن ہے۔ جب بھی انسانوں کے درمیان جنگ اور تشدد کی حالت نہ ہو تو اُس کے بعد امن کی حالت اپنے آپ قائم ہوجائے گی۔

تاہم کسی سماج میںامن کی حالت قائم ہونا سادہ طورپر صرف یہ نہیں ہے کہ وہاں جنگ اور تشدد کا خاتمہ ہوگیا۔ جنگ اور تشدد کا ختم ہونا اس معاملہ کا سلبی پہلو ہے۔ اس کا ایجابی پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی سماج کے اندر حقیقی معنوں میں امن کی حالت قائم ہوجائے تو اُس کے بعد لازماً ایسا ہوگا کہ لوگوں کے اندر مثبت سرگرمیاں جاری ہوجائیں گی۔ ہر آدمی یکسوئی کے ساتھ اپنی زندگی کی تعمیر میں لگ جائے گا۔

کسی سماج کے اندر امن کا قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے دریا کے سامنے سے بَند کو ہٹا دیں۔ انسانی زندگی، بہتے دریا کی مانند، خود اپنے زورپر رواں دواں ہونا چاہتی ہے۔ وہ صرف اُس وقت رُکتی ہے جب کہ اُس کے سامنے کوئی مصنوعی رکاوٹ کھڑی کردی جائے۔ رُکاوٹ نہ ہوتو خود فطرت کے زور پر زندگی کی تمام سرگرمیاں جاری ہوجائیں گی۔

جنگ و تشدد کی حیثیت زندگی کے عمل میںرُکاوٹ کی مانند ہے۔ اور امن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے یہ ہے کہ زندگی کی دوڑ کے تمام راستے آخری حد تک کھول دیے گئے ہوں۔

امن (peace)کا مطالعہ عام طور پرجنگ کے حوالہ سے کیا جاتا ہے۔ مگر یہ امن کا بہت محدود مفہوم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ امن اپنے آپ میں ایک مکمل آئیڈیا لوجی ہے۔ امن شاہ کلید (master key)   ہے جس سے ہر کامیابی کا دروازہ کھلتا ہے۔ امن ہر کام کی کامیابی کے لیے موافق ماحول بناتا ہے۔ امن کے ساتھ ہر کام کیا جاسکتا ہے۔ اور امن کے بغیر کسی بھی کام کو کرنا ممکن نہیں۔ یہ بات چھوٹے معاملات کے لیے بھی درست ہے اور بڑے معاملات کے لیے بھی۔

کائنات کا مذہب امن ہے

قرآن کی سورہ یٰس میں ارشاد ہوا ہے: لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ  (  36:40) ۔ یعنی نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔ اور سب ایک ایک مدار (orbit) میں تیر رہے ہیں۔

قرآن کی اس آیت میںایک فلکیاتی واقعہ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ دنیا کا نظام کس اصول پر قائم ہے۔و ہ امن کا اصول ہے۔ کائنات کے اندر ان گنت چیزیں ہیں۔ یہاں کی ہر چیز مسلسل حرکت میں ہے۔ مگر کسی چیز کا دوسری چیز سے ٹکراؤ نہیںہوتا۔ کائنات کا ہر جزء اپنے اپنے دائرہ میںاپنا عمل انجام دیتاہے۔ یہاں کا کوئی جزء کسی دوسرے جزء کے دائرہ کار میںداخل نہیں ہوتا۔ اس لیے ایک کا دوسرے سے ٹکراؤ بھی نہیں ہوتا۔

یہی امن کلچر انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو بھی یہی کرنا ہے کہ وہ کائنات کے اس ہمہ گیر اُصول کو اپنی زندگی میںاپنا لے، وہ بھی ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر امن کے راستہ پر چلنے لگے۔

کائنات کا کلچر امن کلچر ہے۔ اسی امن کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات اربوں سال سے چل رہی ہے مگر اس میںکوئی ٹکراؤ پیش نہیں آیا جواُس کے نظام میںخلل ڈال دے۔ کائنات میںاگر تشدد کلچر کا رواج ہوتا تواب تک کائنات آپس میںٹکراکر تباہ ہوچکی ہوتی۔ وہ ہمارے لیے قابل رہائش دنیا کے طورپر موجود ہی نہ ہوتی۔

جس خالق نے کائنات کو پیدا کیاہے اُسی نے انسان کو بھی پیدا کیاہے۔ خالق کو مطلوب ہے کہ اُس نے وسیع تر کائنات میں جو امن کلچر قائم کر رکھا ہے، انسان بھی اُسی امن کلچر کو اپنائے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ یہ امن کلچر بقیہ کائنات میں فطرت کے زور پر قائم ہے۔ انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس امن کلچر کو خود اپنے ارادہ اور اپنے فیصلہ کے تحت اپنی زندگی میں اختیار کرے۔

قرآن ایک کتاب امن

قرآن بلاشبہ امن کی ایک کتاب ہے، وہ جنگ اور تشدد کی کتاب نہیں۔ قرآن کے تمام بیانات براہ راست یا بالواسطہ طورپر امن سے متعلق ہیں۔ قرآن کا پہلا جملہ’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ ہے جس کے معنٰی یہ ہیں کہ اللہ نہایت مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس خدا نے یہ کتاب بھیجی ہے اُس کی سب سے بڑی صفت رحمت ہے۔ اور یہ کتاب خدا کی اسی صفتِ رحمت کااظہار ہے۔

قرآن کی  تمام آیتیں براہ راست یا بالواسطہ طورپر امن کی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ قرآن کی کُل آیتوں کی تعداد 6666ہے۔ ان میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو قتال (جنگ) کے حکم کو بیان کرتی ہیں۔یعنی ایک فیصد سے بھی کم آیتیں۔ زیادہ متعین طورپر کُل آیتوں کے مقابلہ میں صرف اعشاریہ چھ فیصد (0.6 per cent)۔

جو لوگ قرآن کوخداکی کتاب مانتے ہیں وہ قرآن کے حقیقی مومن صرف اُس وقت قرار پائیں گے جب کہ وہ قرآن کی اس تعلیم کی پیروی کرتے ہوئے مکمل طورپر امن پسندبن جائیں۔ وہ کسی حال میں بھی تشدد کا رویہ اختیار نہ کریں۔

یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اسلام اور مسلمان کے درمیان فرق کریں۔ وہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیم کا نام نہ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کے معیار سے جانچا جائے گا، نہ یہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے سمجھا جانے لگے۔ اسلام ایک نظریہ ہے۔ مسلمان اُسی وقت مسلمان ہیں جب کہ وہ اسلامی تعلیمات کی پیروی کریں۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات کوچھوڑ دیں اُن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو اسلام کاچیمپین بتاتے ہوں۔

امن اور تشدد کا فرق

امن ایک منصوبہ بند عمل ہے، اور تشدد صرف بھڑک کر جارحانہ کارروائی کرنے کا نام ہے۔ امن پسند آدمی پہلے سوچتا ہے اوراس کے بعد وہ عمل کرتا ہے۔ تشدد پسند آدمی پہلے کر ڈالتاہے، اس کے بعد وہ سوچتا ہے۔ پُرامن عمل میں پہلے بھی اُمید ہے اور آخر میں بھی اُمید۔ اور پُر تشدد عمل میں پہلے فرضی اُمید ہے اور آخر میں صرف مایوسی۔

امن پسند آدمی سچائی پر کھڑا ہوتا ہے اور پُر تشدد آدمی جھوٹ پر۔ امن کا راستہ شروع سے آخر تک ایک کھُلا ہوا راستہ ہے، اور تشدد کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا راستہ۔ امن میں تعمیر ہی تعمیر ہے اور تشدد میں تخریب ہی تخریب۔ امن پسند انسان دوسروں کی محبت میںجیتا ہے اورتشدد پسند انسان دوسروں کی نفرت میں۔ امن پسندی کا خاتمہ کامیابی پر ہوتا ہے اور تشدد پسندی کا خاتمہ شرمندگی پر۔

امن پسندی میںکوئی کام بگڑتا نہیں اور ہر کام بن جاتا ہے۔ تشدد پسندی میںکوئی کام بنتا نہیں اورہر کام بگڑ جاتا ہے۔ امن کا طریقہ انسانیت کاطریقہ ہے اور تشدد کا طریقہ حیوانیت کاطریقہ۔ امن کا عمل قانون کے دائرہ میںہوتا ہے اور تشدد کاعمل لاقانونیت کے دائرہ میں۔

امن پسند آدمی مسائل کو نظر اندازکرکے مواقع کو استعمال کرتا ہے اور تشدد پسند آدمی مواقع کو غیراستعمال شدہ حالت میں چھوڑ کر مسائل کے خلاف بے فائدہ لڑائی لڑتا رہتا ہے۔ امن کا عمل پیارو محبت کا باغ اُگاتا ہے اور تشدد کا عمل نفرت اور دشمنی کا جنگل اُگاتا ہے۔ امن کلچر فرشتوں کا کلچر ہے اور تشدد کلچر شیطانوںکا کلچر۔

امن میں خدا کے حقوق بھی ادا ہوتے ہیں اورانسان کے حقوق بھی۔ اورتشددمیں انسان کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اور خدا کے حقوق کی بھی خلاف ورزی۔ امن اگر جنت ہے تو تشدد اُس کے مقابلہ میں دوزخ۔

امن اور جنگ دونوں یکساں نہیں۔ امن کسی انسان کے لیے ایک سچا انتخاب (choice) ہے۔ اور جنگ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی سچے انتخاب کو نہ پاسکا، وہ انتخاب کے ٹیسٹ میں ناکام ہوگیا۔

دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اگر چہ عملاً موجود ہیں مگر وہ امتحان کے لیے ہیں، وہ مطلوب چیز کے طورپر نہیں۔مثلاً شراب دنیا میں موجود ہے۔ مگر شراب اس لیے نہیں ہے کہ کوئی آدمی اُس کو استعمال کرے۔ بلکہ شراب اس لیے ہے کہ آدمی اُس سے بچ کر یہ ثابت کرے کہ وہ اچھے اور بُرے کی تمیز رکھتا تھا، وہ ایک محتاط انسان تھا۔ یہی معاملہ جنگ کا بھی ہے۔ جنگ کا طریقہ اگر چہ بظاہر قابل استعمال ہے مگر کسی انسان کے لیے اعلیٰ روش یہی ہے کہ وہ جنگ کے طریقہ کو استعمال نہ کرے۔

قدیم زمانہ میں جوحالات تھے اُن میں دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ مگر یہ اجازت قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت تھی ۔ اب نئے حالات میں یہ ضرورت باقی نہیں رہی، اس لیے اب جنگ کی بھی ضرورت نہیں۔

صلح بہتر ہے

قرآن کی سورہ النساء میں فطرت کے ایک قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےوَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128) یعنی صلح بہتر ہے۔ صلح کا مطلب مصالحت (reconciliation) ہے۔ صلح کا عمل ہمیشہ دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے۔ جب دو فریقوں کے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہوجائے تو ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں متشددانہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرلیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فوراً سمجھوتہ کرکے نزاعی حالت کو ختم کردیا جائے۔

تاہم بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ یہ مصالحت دونوں فریقوں کی یکساں خواہش کے مطابق ہو۔ بیشتر حالات میں یہ مصالحت یک طرفہ بنیاد پر ہوتی ہے، یعنی ایک فریق اپنی خواہش کو پیچھے رکھ کر دوسرے فریق کی خواہش پر معاملہ ختم کر نے کے لیے راضی ہوجائے۔

اس قسم کی یک طرفہ مصالحت کو بہتر کیوں کہاگیا ۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ نزاع کی حالت تعمیری عمل کو روک دیتی ہے۔ مصالحت پر راضی ہونے کا فائدہ آدمی کو یہ ملتا ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی طاقت کا کوئی حصہ غیر ضروری ٹکراؤ میںضائع کیے بغیر اپنی تعمیری جدوجہد کو جاری رکھے۔ غیر مصالحانہ طریقہ ہر حال میں نقصان کا طریقہ ہے۔ اور مصالحانہ طریقہ ہر حال میںفائدہ کا طریقہ۔

انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی فرد یا گروہ نے جب بھی کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو اُس نے یہ کامیابی مصالحانہ طریقہ اختیار کرنے کے بعد حاصل کی ہے۔ ٹکراؤ اورلڑائی کاطریقہ اختیار کرکے اس دنیا میں حقیقی کامیابی کبھی کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔ صلح کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ صلح میں آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ حاصل شدہ مواقع کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کرے جب کہ ٹکراؤ کے طریقہ میں یہ ہوتا ہے کہ ساری طاقت دوسروں کی تخریب میں ضائع ہوجاتی ہے۔ تعمیر کا کوئی کام سِرے سے انجام نہیں پاتا۔ حالانکہ ترقی کاراز اپنی تعمیر و استحکام میں ہے، نہ کہ مفروضہ دشمن کوبرباد کرنے میں۔

فساد فی الارض نہیں

قرآن کی سورہ البقرۃ میں ایک کردار کو ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہےوَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ(2:11)۔ یعنی جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میںفساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔

قرآن کی اس آیت میںجس کردار کا ذکر ہے اُس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بظاہر ایک اصلاحی مقصد کے لیے سرگرم ہوں، مگر اُن کا طریقہ درست نہ ہو۔ اُن کا طریقہ ایساہو جوعملاً فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں فساد سے مراد یہ ہے کہ اُن کے طریقہ کے نتیجے میںلوگوں میںباہمی ٹکراؤ پیدا ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس کمزور ہوجائے۔ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوں۔ اس قسم کی تمام چیزیں فساد فی الأرض کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ اس سے سماجی امن ختم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑائی اور ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے۔

قرآن کی اس تعلیم سے معلوم ہوا کہ کسی عمل کے درست ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ بظاہر وہ ایک اچھے مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ لازمی طورپر یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کے نام پر کی جانے والی سرگرمیاں کس قسم کا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر وہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تناؤ اورلڑائی جیسی چیزیں پیدا کریں تو بظاہر اصلاح کا نام لینے کے باوجود اُن کی سرگرمیاں مفسدانہ سرگرمیاں ہی کہی جائیں گی۔ ایسے لوگ انسانیت کے مجرم قرار پائیں گے ،نہ کہ انسانیت کے مصلح اور خادم۔ 

کوئی بھی اصلاحی کام صرف اُس وقت اصلاحی کام ہے جب کہ وہ امن او ر انسانیت کے دائرہ میںکیا جائے۔ اصلاح کے نام پر کیا جانے والا ہر وہ کام غلط ہے جو سماجی امن کو درہم برہم کرے۔ جس کے نتیجہ میں جان اورمال کی تباہی ظہورمیں آئے۔ اصلاح کو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے بھی اصلاح ہونا چاہیے۔ جو اصلاح اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد ہو وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی فساد ہے، خواہ اُس کو کتنا ہی زیادہ خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔

سازش کا خاتمہ

قرآن کی سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا ہےاگر تم صبر کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو اُن کی کوئی سازش تم کو ہر گز نقصان نہ پہنچائے گی۔ (3:120)۔ قرآن کی اس آیت میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں کسی فرد یا گروہ کے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اُس کے کچھ دشمن ہوں جو اُس کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اُس فرد یا گروہ کے اندر وہ صبر اور وہ محتاط روش موجود نہیں جوہر سازش کو یقینی طورپر ناکام بناسکتی ہے۔

موجودہ دنیا میں سازش کی حیثیت اگر بارش کی ہے تو صبر وتقویٰ کی حیثیت پختہ چھت کی۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ بارش صرف اُن لوگوں کے لیے مسئلہ ہے جنہوں نے اپنے لیے پختہ چھت نہ بنائی ہو۔ جن کے پاس پختہ چھت ہو، اُن کے لیے بارش کا مسئلہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام مسابقت (competition) کے اصول پر بنا ہے، اس لیے یہاں فطری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان رقابت قائم ہوجاتی ہے جو بڑھ کر سازش تک پہنچ جاتی ہے۔ جب بھی کسی کے خلاف ایسی صورت حال پیدا ہو تو اُس کو دشمن کی سازش کے بجائے فطرت کے ایک قانون کا اظہار سمجھنا چاہیے۔ سازش کو دشمن کی کارروائی سمجھنا آدمی کو تشدد کی طرف لے جاتا ہے۔ اور سازش کو فطرت کے قانون کا نتیجہ سمجھنا آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کرتاہے کہ وہ حسن تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کی زد سے بچائے، ٹھیک اُسی طرح جیسے ایک شخص بارش کے مقابلہ میں احتجاج نہیں کرتا بلکہ اس سے بچنے کے لیے گھر اور چھت کا انتظام کرتاہے۔

شدت پسندی نہیں

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے:لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ(4:171) یعنی تم اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ؛ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ (سنن النسائي حديث نمبر 3057؛ سنن ابن ماجه، حديث نمبر 3029؛ مسند احمد، حديث نمبر 1851) یعنی تم لوگ دین میں غلو سے بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔

غلو کا مطلب شدت یا انتہا پسندی (extremism) ہے۔ غلو ہر معاملہ میں غلط ہے۔ غلو دین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ غلو کا یہی مزاج بڑھ کر تشدد اور لڑائی تک پہنچ جاتا ہے۔ جو لوگ غلو کی نفسیات کا شکار ہوں وہ اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر اعتدال کی روش پرقانع نہیں ہوتے۔ وہ امن اور اعتدال کی روش کو معیار سے کم سمجھتے ہیں اس لیے وہ نہایت آسانی کے ساتھ تشدد کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ وہ مقصد کے حصول کے نام پر لڑائی شروع کردیتے ہیں۔

غلو کی ضد اعتدال ہے۔ جب لوگوں کے اندر اعتدال کی نفسیات ہو تو وہ ہمیشہ امن کے انداز میں سوچیں گے، وہ اپنی جدوجہد کوپر امن جدو جہد کے طورپر چلائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتدال اور امن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں اعتدال ہوگا وہاں امن ہوگا۔ جہاں امن ہوگا وہاں اعتدال پایا جائے گا۔

اس کے برعکس غلو کی نفسیات ہمیشہ آدمی کو انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہے، اور انتہاپسندی نہایت آسانی کے ساتھ تشدد اور ٹکراؤ میںتبدیل ہوجاتی ہے۔ غلو اور تشدد دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں غلو کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ غلو پسندی کا دوسرا نام تشدد پسندی ہے۔ اور غلو نہ کرنے کا دوسرا نام اعتدال پسندی ۔

ایک انسان کا قتل ساری دنیا کا قتل

قرآن کی سورہ المائدہ میں ارشاد ہوا ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا(5:32) ۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو توگویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کرڈالا۔

قتل ایک انتہائی بھیانک عمل ہے۔ کسی فرد کو قتل کرنا صرف اُس وقت جائز ہے جب کہ وہ سماجی امن کے لیے ناقابلِ علاج خطرہ بن گیا ہو۔ حقیقی وجہ جواز کے بغیر کسی ایک انسان کو قتل کرنابھی سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیوں کہ اس سے احترام جان کی روایت ٹوٹتی ہے۔ ایک انسان کو ناحق قتل کرنا بظاہر ایک آسان فعل دکھائی دینے لگتا ہے۔

شراب کے بارے میں حدیث میںآیا ہے کہمااسکرکثیرہ فقلیلہ حرام (سنن ابن ماجه، حديث نمبر 3681)۔ یعنی جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ کرے اس چیز کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ یہی معاملہ قتل کا بھی ہے۔ بہت سے انسانوں کو قتل کرنا جتنا بھیانک ہے اُتنا ہی بھیانک ایک انسان کو قتل کرنا بھی ہے۔ دونوں کے درمیان فرق صرف ڈگری کا ہے، نوعیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

قرآن کی اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میںامن وسلامتی کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ اگر کسی سماج میںایک شخص کو قتل کردیا جائے تو پورا کا پورا سماج اُس پر تڑپ اٹھے۔ سماج میں دوبارہ امن وسلامتی کی حالت کو قائم کرنے کے لیے اس اہتمام کے ساتھ کام کیا جائے جیسے کہ کسی نے ایک فرد کو قتل نہیں کیا ہے بلکہ اُس نے پوری انسانیت پر حملہ کردیا ہے۔

تشدد کی آگ کو بجھانا

قرآن کی سورہ  المائدہ میں ارشاد ہوا ہے: كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ ( 5:64) یعنی جب بھی وہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس آگ کو بُجھادیتا ہے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق کا منصوبہ موجودہ دنیا کے بارے میں کیا ہے۔ یہ منصوبہ امن کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی ایک فریق لڑائی کی آگ بھڑکانے پر آمادہ ہو تو دوسرے فریق کو چاہیے کہ وہ پُر امن تدبیر سے اُس کو بجھادے تاکہ تشدد کی آگ پھیلنے نہ پائے۔ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ ایک فریق اگر بم مارے تو دوسرا فریق جوابی بم سے اُس کا مقابلہ کرے۔ خدا کی اس زمین پر جینے کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایک بم کے اوپر دوسرابم مارا جائے۔ صحیح اور مطلوب طریقہ یہ ہے کہ بم کو ناکارہ  (defuse) کر دیا جائے۔

یہ خدائی اعلان بتاتا ہے کہ ایک بم کے اوپر دوسرابم مارنا شیطان کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ بم کو غیر مؤثر بنادیا جائے، بم کواُس کے پہلے ہی مرحلہ میںناکارہ کردیا جائے تا کہ امن کاماحول بگڑنے سے بچ جائے۔

سماج میں ناخوش گوار حالات کا پیش آنا بالکل فطری ہے۔ کوئی انسانی سماج ناخوش گوارباتوں سے خالی نہیں ہوسکتا۔ ایسی حالت میں مسئلہ کا اصل حل یہ نہیں ہے کہ خود ناخوش گواری کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ اس مسئلہ کا اصل حل یہ ہے کہ ایک ناخوش گواری پر دوسری ناخوش گواری کا اضافہ نہ کیا جائے۔ ایک بم کے اوپر دوسرا بم نہ مارا جائے۔ اس طرح ناخوش گواری کو پھیلنے سے روک کر اُس کو ختم کردیا جائے۔ یہی اس مسئلہ کا حل ہے، اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی دوسرا حل ممکن نہیں۔

اصلاح کے بعد فساد

قرآن کی سورہ الاعراف میں ارشاد ہوا ہے: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (7:85)۔ یعنی زمین میں بگاڑ پیدا نہ کرو، بعد اس کے کہ اُس کی اصلاح کی جاچکی ہو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔

قرآن کی اس آیت میںایک فطری حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ زمین جس پر انسان آباد ہے وہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ یہاں کی ہر چیز اپنے مطلوب نقشہ کے مطابق، بنائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اس زمین پر جو کام بھی کرے، فطرت کے نقشہ کو بدلے بغیر کرے۔ اگر اُس نے فطرت کے نقشہ کو بدلا تو اُس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قائم شدہ اصلاحی نظام ٹوٹ جائے گا اور ہر طرف بگاڑ پھیل جائے گا۔

مثلاً ہماری دنیا میں فطرت کے نظام کے تحت بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں— زمین کی مسلسل گردش، سورج سے اُس کا روشن ہونا، ہواؤں کا چلنا، بارش کا ہونا، دریاؤں کا بہنا، پودوں اور درختوں کا اُگنا، وغیرہ وغیرہ۔ زمین پر اس طرح کے بے شمار کام رات دن مسلسل جاری ہیں مگر یہ سارے کام انتہائی حد تک پُر امن طور پر ہورہے ہیں۔ کہیں کوئی تشدد نہیں، کہیں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔

یہی اصلاح کا نقشہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ بھی اسی نقشہ پر چلے۔ وہ تشدد اور ٹکراؤ سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔ وہ اپنی ہر کوشش امن کے اصول پر جاری کرے۔ جو لوگ اس کے خلاف چلیں وہ یقینی طورپر زمین کے اوپر فساد برپا کریں گے، وہ کبھی زمین کے اوپر اصلاح کا نظام قائم کرنے والے نہیں۔

اعراض، نہ کہ ٹکراؤ

قرآن کی سورہ الاعراف میں حکم دیا گیا ہے کہوَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ(7:199) ۔ یعنی تم نادان لوگوں سے اعراض کرو۔

اعراض کامطلب احتراز (avoidance) ہے، اعراض کااُلٹا ٹکراؤ  (confrontation) ہے۔ اعراض کا طریقہ آدمی کو پُرامن دائرہ میں محدود رکھتا ہے اور ٹکراؤ کاطریقہ اُس کو فریق ثانی کے مقابلہ میں متشددانہ کارروائی کی طرف لے جاتا ہے۔

موجودہ دنیا میں کوئی انسان یا گروہ اکیلا نہیں ہے۔ اُس کے سوا دوسرے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے اپنے مقاصد رکھتے ہیں۔ ہر ایک کااپنا الگ ایجنڈا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں بار بار ایک دوسرے کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ بار بار ایک فرد اور گروہ اوردوسرے فرد اور گروہ کے درمیان کشمکش کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔

ایسی حالت میں آدمی کے لیے دو راستے ہیں—اعراض یا ٹکراؤ، ان دو کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں۔ اب آدمی اگر ٹکراؤ کاراستہ اختیارکرے تو دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ہوگی۔ ساری تاریخ کا تجربہ ہے کہ لڑائی سے صرف دل کی بھڑاس نکلتی ہے۔ حقیقی معنوں میں اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹکراؤ سے ہٹ جائے اوراعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ اعراض کا طریقہ نہ صرف مزید نقصان سے بچاتا ہے بلکہ وہ آدمی کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ اپنے ترقی کے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے۔ اعراض کا عمل بظاہر فریقِ ثانی کے مقابلہ میں ہوتاہے مگر اعراض کا مقصد خود اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچانا ہے۔ اعراض کا مقصد یہ ہے کہ اپنے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھا جائے۔

صبر ترقی کا راز

قرآن کی سورہ الانفال میںارشاد ہوا ہے کہ :وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (8:46) یعنی تم صبر کرو کیوں کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:وَاعْلَمْ أنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (مسند احمد، حديث نمبر 2803) یعنی جان لو کہ بے شک ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنے میں تمہارے لیے بہت بھلائی ہے۔ اور کامیابی صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی مشقت کے ساتھ ہے۔ اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کے سامنے مشکل حالات آئیں یا اُس کو کوئی تلخ تجربہ پیش آئے تو وہ گھبرا اُٹھتا ہے اور بعض اوقات تشدد پر اُتر آتا ہے۔ مگر اس قسم کا ردِّ عمل فطرت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون ہمیشہ اُن لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو حق اور انصاف پر ہوں۔ حق پرست فرد یا گروہ اگر جلد بازی نہ کرے اور صبر سے کام لے تو کامیابی اپنے آپ اُس کی طرف چلی آتی ہے۔

بیشتر حالات میں ناکامی اُن لوگوں کے حصہ میںآتی ہے جو جلد بازی سے کام لیں اور قبل از وقت پُر جوش اقدام کر بیٹھیں۔ اس کے برعکس جو لوگ صبر کا طریقہ اختیار کریں اُن کے لیے ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اُن کو کامیابی کی منزل تک پہنچا دیں۔

قرآن کے مطابق، صبر کا اُلٹا عجلت ہے (الاحقاف ، 46:35)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص صبر کی روش اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ کی پیروی کررہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ عجلت کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ سے ہٹ جاتا ہے اور جو آدمی فطرت کے نقشہ سے ہٹ جائے اُس کے لیے خداکی اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔

نزاع نہیں

قرآن کی سورہ الحج میں خدانے ارشاد فرمایا ہے: فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ (22:67) یعنی وہ تم سے امر میں ہر گز نزاع نہ کریں اور لوگوں کو تم اپنے رب کی طرف بُلاؤ۔

اس آیت میں نزاع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تم اُنہیں نزاع کا موقع نہ دو(قال الزجاج معنى قوله فَلا يُنازِعُنَّكَ لا تنازعهم ) التفسیر المظہری، جلد6، صفحہ346۔ یعنی جب بھی تمہارے اور فریقِ ثانی کے درمیان کوئی اختلافی بات پیش آئے تواُس کو پُر امن بات چیت کے دائرہ میں محدود رکھو۔ ایسا ہر گز نہ ہونے دو کہ اختلاف اپنی ابتدائی حد سے گذر کر عملی نزاع بن جائے۔ اور متشددانہ مقابلہ آرائی کی نوبت آجائے۔

موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی بات پر دو فریقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تناؤ بذات خود ایک فطری چیز ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہرمقام پر پیدا ہوگا۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اس تناؤ یا اس اختلاف کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اختلاف کا امن کے دائرہ میں رہنا اُس کا حد کے اندر رہنا ہے۔ اختلاف کا عملی ٹکراؤ یا تشدد کے دائرہ میں پہنچ جانااُس کاحد سے تجاوز کرنا ہے۔ حد کے اندر کوئی بھی اختلاف بُرا نہیں، مگر حد کے باہر چلے جانے کے بعد ہر اختلاف بُرا بن جاتا ہے۔

قرآن کی اس آیت میں با مقصد انسان کا طریق عمل بتایا گیا ہے۔ایک انسان جو ایک سنجیدہ مقصد کے لیے اُٹھا ہو، اُس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے اور دوسروں کے درمیان صرف وہی چیز زیر بحث آئے جو کہ اس کا اصل مقصد ہے۔ دونوں کے درمیان کسی اور چیز کا زیر بحث آنا بامقصد انسان کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ دونوں کے درمیان عدم نزاع کی یہ فضا کیسے قائم ہو۔ جواب یہ ہے کہ یہ فضا صرف اُس انسان کے یک طرفہ صبر کے ذریعہ قائم ہوسکتی ہے جو ایک مثبت مقصد اپنے ساتھ لے کر اُٹھتا ہے۔ عملی اعتبار سے اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ بامقصد انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ یک طرفہ اعراض کے ذریعہ اپنے اور فریقِ ثانی کے درمیان معتدل ماحول قائم رکھے۔ تاکہ اُس کا سفر کسی توقف کے بغیر مسلسل جاری رہے۔

جنگ صرف دفاع کے لیے

قرآن کی سورہ الحج میںارشاد ہوا ہے : أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا  (22:39) یعنی اُن لوگوں کو جنگ کی اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیوں کہ وہ مظلوم ہیں۔

قرآن کی یہ آیت صرف ایک آیت نہیں وہ ایک بین اقوامی قانون کا بیان ہے۔ اس میں یہ بات طے کردی گئی ہے کہ جائز جنگ صرف وہ ہے جو واضح جارحیت کے مقابلہ میںدفاع کے طورپر لڑی جائے ۔ جنگ کی ہر دوسری قسم ظلم کی حیثیت رکھتی ہے اور ظالموں کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ اس آیت کے مطابق، دفاعی جنگ کے سوا کسی اور جنگ کے حق میں کوئی وجہِ جواز نہیں۔

قرآن کے مطابق، دفاعی جنگ بھی صرف اعلان کے ساتھ لڑی جاسکتی ہے، بلا اعلان نہیں۔ مزید یہ کہ دفاعی جنگ بھی صرف ایک قائم شدہ حکومت لڑسکتی ہے۔ غیر حکومتی افراد کو کسی بھی عذر کی بنا پر لڑائی چھیڑنے کی اجازت نہیں۔ ان تعلیمات کو سامنے رکھئے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کے مقرر کیے ہوئے قانونِ جنگ کے مطابق، مجبورانہ نوعیت کی دفاعی جنگ کے سوا ہر جنگ ناجائز ہے— مثلاً گوریلا وار، پراکسی وار، بلا اعلان وار اور جارحانہ وار، یہ سب کی سب بلاشبہ اسلام میں ناجائز ہیں۔

جنگ ایک حیوانی فعل ہے، جنگ کوئی انسانی فعل نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے ابدی قانون کے مطابق، امن ایک عموم (rule) ہے، اور جنگ صرف ایک استثنا (exception) ۔ امن ہر حال میں ایک قابل اختیار چیز ہے، جب کہ جنگ صرف شدید ضرورت کے وقت اپنے بچاؤ کے لیے اختیار کی جاتی ہے، وہ بھی اُس وقت جب کہ ٹکراؤ سے اعراض کی تمام پُر امن تدبیریں ناکام ہوگئی ہوں۔

صبر کا طریقہ حمایت یافتہ طریقہ

قرآن کی سورہ الانفال میںکہاگیا ہے کہوَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ( 8:46) یعنی تم لوگ صبر کی روش اختیار کرو، بیشک اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر کی روش اختیار کریں۔

صابرانہ طریقِ کار کو دوسرے لفظوں میں پُر امن طریقِ کار کہا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقِ کار متشدادانہ طریقِ کار ہے۔ مذکورہ آیت فطرت کے اس قانون کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں جو لوگ پُر امن طریقِ کار اختیار کریں اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے تمام اسباب اُن کی حمایت میں مستعد ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ متشددانہ طریقِ کار اختیار کریں وہ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہوجاتے ہیں، اور جو لوگ قوانین فطرت کی تائید سے محروم ہوجائیں اُن کے لیے خدا کی اس دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

صبر کے طریقہ کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ناخوش گوار باتوں پر اپنی برداشت نہ کھوئے۔ تاکہ اس کی مثبت سوچ درہم برہم نہ ہونے پائے۔ وہ ممکن اور ناممکن میں فرق کرے اور ممکن کواپنا نقطۂ آغاز بنائے۔ وہ اچانک انجام کا خواہش مند نہ ہو بلکہ تدریج کا انداز اختیار کرے۔ وہ نقصان پر مایوس نہ ہو بلکہ مستقبل کے پیش نظر اپنا عمل جاری رکھے۔ جو کچھ آج ملنے والا ہے اُس کو وہ آج حاصل کرے اور جو کچھ کل ملنے والاہے اُس کے لیے وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ اپنی خواہش کو فطرت کے قانون کے ماتحت رکھے، نہ کہ فطرت کے قانون کو اپنی خواہش کے ماتحت بنانے کی کوشش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر مکمل طورپر ایک مثبت عمل ہے، صبر کوئی سلبی یا انفعالی روش نہیں۔

پر امن نظریاتی اشاعت

قرآن کی سورہ الفرقان میںاہل حق کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہوَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ( 25:52) یعنی تم اُن کے اوپر جہاد کرو، بڑا جہاد، قرآن کے ذریعہ۔

جیسا کہ معلوم ہے، قرآن ایک کتاب ہے، ایک نظریاتی کتاب۔ وہ کوئی تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب صرف یہی ہوسکتا ہے کہ قرآن کے افکار کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ قرآن کے پیغام کو پُر امن انداز میں لوگوں کے درمیان عام کرو۔ قرآن کے نظریات کو مدلّل انداز میں بیان کرکے اُس کو لوگوں کے لیے قابلِ قبول بناؤ۔

اس آیت سے واضح طورپر معلوم ہوتاہے کہ اسلام میںجس چیز کو جہاد کہا گیا ہے وہ پُر امن جدوجہد (peaceful struggle) ہے، اُس کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد کا لفظ عربی زبان میں مبالغہ آمیز کوشش کے لیے بولا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ محنت کرنا۔ کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی آخری کوشش صرف کردینا۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ پُرتشدد کوشش کے مقابلہ میں پُر امن کوشش زیادہ عظیم ہے۔ کوئی آدمی جب متشددانہ طریقِ کار اختیار کرے تو کوشش کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے۔ لیکن جب وہ پرامن طریقِ کار اختیار کرے تو اُس کا دائرہ کار لامحدودحد تک بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ متشددانہ طریقِ کار میں صرف تلوار یا گن کار آمد ہے لیکن پُر امن طریقِ کار میں ہر چیز آدمی کے لیے ذریعہ اور وسیلہ بن جاتی ہے، حتیٰ کہ بند کمرہ میں استعمال ہونے والا ایک قلم بھی۔

دشمن کو دوست بنانا

قرآن کی سورہ فصلت میں ارشاد ہوا ہےبھلائی اور بُرائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میںاور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔

قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک راز بتایا گیا ہے— وہ راز یہ ہے کہ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو۔ اور پھر یہ معجزاتی واقعہ پیش آئے گا کہ جو آدمی بظاہر تمہارا دشمن دکھائی دیتا تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن جائے گا۔

اصل یہ ہے کہ دشمنی کوئی فطری چیز نہیں، وہ ایک مصنوعی رد عمل ہے۔ جب بھی کسی وجہ سے کوئی شخص بظاہر تمہارا دشمن بن جائے تو تم اُس کے ساتھ رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کرتے ہوئے اُس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرو، خواہ یہ بہتر سلوک تم کو مفروضہ دشمن کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود یک طرفہ بنیاد پر کرنا پڑے۔

تمہارا یک طرفہ سلوک یہ کرے گا کہ وہ دشمن کے اندر پیدا ہونے والے منفی جذبات کو دبا دے گا۔ تمہارا یک طرفہ سلوک دشمن کی سوئی ہوئی انسانیت کو جگا کر اُس کو ایک نیا انسان بنادے گا۔ اور یہ نیا انسان وہی ہوگا جس کو قرآن میں قریبی دوست کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا آدمی ایک ہی مشترک فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی پہلے مسٹر نیچر ہے، اُس کے بعد وہ مسٹر دشمن یا مسٹر دوست بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ہیں وہی آپ کا مفروضہ دشمن بھی ہے۔ اور جو آپ کا مفروضہ دشمن ہے وہی خود آپ بھی ہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ بظاہر دشمنی کے باوجود وہ فریقِ ثانی کے اندر اپنے مشترک انسان کو تلاش کرے۔ وہ دوسروں سے بھی وہی اُمید رکھے جو امید وہ اپنے آپ سے کیے ہوئے ہے۔

خود اپنے عمل کا نتیجہ

قرآن کی سورہ الشوریٰ میں کہا گیا ہے کہجو مصیبت بھی تمہارے اوپر پڑتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے( 42:30)۔

قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا اسباب و علل کے اصول پر قائم ہے۔ جیسے اسباب ویسا نتیجہ ۔ یہ آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ کسی آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اُس کو چاہیے کہ اُس کا سبب وہ خود اپنے اندر دریافت کرے، نہ کہ وہ اپنے سے باہر اس کا سبب تلاش کرنے لگے۔

زندگی کی یہ حقیقت جس آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے وہ ایسا نہیں کرسکتا کہ کسی کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار بتاکر اُس کے خلاف تشددکا معاملہ کرنے لگے۔ اس کے بجائے وہ صرف یہ کرے گا کہ بے لاگ طورپر اپنی زندگی کاجائزہ لے گا۔ وہ خود اپنی غلطیوں کو دریافت کرے گا تاکہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرکے وہ مصیبت کا شکار ہونے سے بچ جائے۔ مصیبت کا حوالہ دے کر دوسرے کے خلاف کارروائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض اپنے مرض کا ذمہ دار اپنے پڑوسی کو بتا کر اُس سے لڑنے لگے۔

ایک شہر جہاں کا ٹریفک ضابطہ دائیں چلو(keep right)   کے اصول پر قائم ہو، وہاں اگر کوئی شخص بائیں چلو (keep left) کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے تو یقینی طورپر اُس کی گاڑی حادثہ کا شکار ہوجائے گی۔

یہ حادثہ اگر چہ بظاہر فریقِ ثانی کی گاڑی کے ٹکرانے سے پیش آیا ہوگا مگرآپ یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ فریقِ ثانی نے ٹکر مار کر آپ کو زخمی کردیا۔ اس کے برعکس صحیح طورپر آپ کو صرف یہ کہنا چاہیے کہ میں غلط رُخ پر چل رہا تھا اور فریقِ ثانی کی گاڑی صحیح رخ پر۔ اس لیے فریق ثانی کی گاڑی میری گاڑی سے ٹکرا گئی۔

یہی معاملہ زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں کا بھی ہے۔ آپ کو جب بھی اپنی زندگی میں کسی نقصان سے دوچار ہونا پڑے تو پیشگی طورپر یہ سمجھ لیجیے کہ جو کچھ ہوا وہ خود آپ کی غلطی کی بنا پر ہوا۔ یہی زندگی کے معاملات میں صحیح سوچ ہے۔ اگر آپ صحیح انداز میں سوچیں تو آپ اپنی اصلاح کرکے اپنے مستقبل کو بچالیں گے۔ اور اگر آپ اس کے برعکس یہ کریں کہ اپنی مصیبت کا الزام دوسروں کو دیتے رہیں تو آپ اپنے مستقبل کو بھی برباد کریں گے، اور آپ کا ماضی اور حال تو پہلے ہی برباد ہوچکا ہے۔

غصہ ایک کمزوری ہے

قرآن کی سورہ الشوریٰ میں سچے انسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (42:37) یعنی جب اُنہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں۔

اس کا مطلب سادہ طورپر صرف غصہ کو معاف کرنا یا اُس کو بھلا دینا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب غصہ کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر معاملہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ دلانے کے باوجود آدمی بے غصہ ہو کر سوچے۔ وہ غصہ سے متاثر ہوئے بغیر اس کا جواب دے۔

غصہ ایک کمزوری ہے، اور غصہ نہ کرنا ایک طاقت ہے۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ ہر صورت حال کو مینیج کرسکتاہے۔ وہ ہر معاملہ کو اپنے موافق بنا سکتا ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کو مختل کردیتا ہے۔ ایسا آدمی صورت معاملہ کو نہ تو صحیح طورپر سمجھ سکتا ہے اور نہ صحیح طورپر اُس کا جواب دے سکتا ہے۔ کوئی آدمی غصہ ہوجائے تو فوراً وہ تشدد کی طرف جاتا ہے۔ حالاں کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ اور جو آدمی اپنے غصہ کو قابو میں رکھے، وہ مسئلہ کا پُر امن حل تلاش کرے گا۔ اور پُر امن حل ہی کسی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔

انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بھر پور صلاحیتوں کواپنے حق میںاستعمال کرے۔ مگر آدمی جب غصہ ہو جائے تو اُس کے ذہن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی ذہنی صلاحیت کو بھر پور طورپر اپنے حق میںاستعمال کرے۔ غصہ نہ ہونا جیت ہے، اورغصہ ہونا اُس کے مقابلہ میں ہار۔

حق پر صبر کے ساتھ جمنا

قرآن کی سورہ العصر میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچتے ہیں اور کامیاب زندگی حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (103:3) یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

جب بھی کوئی آدمی سچائی کے راستہ پر قائم ہوتا ہے یا لوگوں کو سچائی کی طرف بلاتا ہے تو ہمیشہ ایساہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اُس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اُس کو لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں حق پرست آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے، وہ پیش آنے والی مشکلات کو اپنے اوپر سہے، وہ اُن کودوسروں کے اوپر انڈیلنے کی کوشش نہ کرے۔

صبر غیر جارحانہ طریقہ کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پرست آدمی کو چاہیے کہ وہ تشدد کے مقابلہ میں جوابی تشدد نہ کرے۔ وہ یک طرفہ طورپر اپنے آپ کو پُر امن طریقِ کار کا پابند بنائے۔ اسی روش کا دوسرا نام صبر ہے۔

حق اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ جو آدمی حق کو لینا چاہے تو اُس کو تشدد کو چھوڑنا پڑے گا۔ تشدد، خواہ کسی بھی عذر کی بنا پر استعمال کیا جائے، وہ تشدد ہے۔ ہر تشدد یکساں طورپر تباہ کُن ہے۔ کوئی خوب صورت عذر تشدد کو اُس کے تباہ کن اثرات سے بچا نہیں سکتا۔

حق کے حصول کے نام پر تشدد کرنا خود حق کی نفی ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر تشدد کریں وہ اپنے بارے میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُن کا کیس حق کا کیس نہیں۔ حق پسند آدمی کبھی تشدد پسند نہیں ہوسکتا۔ جو آدمی تشدد کو پسند کرے وہ یقینی طورپر حق پسند نہیں، خواہ وہ بطور خود اپنے آپ کو حق کا چیمپین کیوں نہ سمجھتا ہو۔

امن کی قیمت

ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کوئی چیز آدمی کو اُسی وقت ملتی ہے جب کہ وہ اُس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ ضروری قیمت ادا کیے بغیر اس دنیا میں کسی کو اپنی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ یہی معاملہ امن کا بھی ہے۔ امن کی بھی ایک قیمت ہے۔ کوئی فرد یا گروہ اُسی وقت امن کو حاصل کرسکتا ہے جب کہ وہ اس کی مطلوب قیمت ادا کرے۔ امن کی یہ قیمت نقصان کو برداشت کرنا ہے۔

یہ حقیقت قرآن کی سورہالبقرہ میں اس طرح بیان کی گئی ہےہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیںہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ( 2:155-56)۔

قرآن کی اس آیت میں زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کانظام جس قانون کے تحت بنا ہے، اُس کے مطابق، ایسا ہونا ضروری ہے کہ لوگوں کو مختلف قسم کا نقصان اٹھانا پڑے۔ کبھی انہیں دوسروں کی طرف سے چیلنج پیش آئے، کبھی انہیں اقتصادی تنگی کا شکار ہونا پڑے، کبھی اُنہیں ملک ومال میں کمی کا تجربہ ہو، کبھی وہ کسی حادثہ کا شکار ہوجائیں، کبھی وہ کسی ایسے فائدے سے محروم ہوجائیں جس کو وہ اپنا حق سمجھتے تھے، وغیرہ۔

اس قسم کے ناخوش گوار تجربات عین فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں ہر ایک کو کبھی نہ کبھی پیش آئیں گے۔ ایسی حالت میں لوگ اگر نقصان کو برداشت نہ کریں تو اسی کے نتیجہ کا نام تشدد ہے۔ اوراگر وہ اس کو برداشت کرلیں تو اسی کے نتیجہ کا نام امن ہے۔

نقصان پیش آنے پر صبر اور برداشت کا رویہ اختیار کرنا کوئی پسپائی کی بات نہیں۔ یہ ہمت و حوصلہ کی بات ہے۔ یہ حقیقتِ واقعہ کو اختیارانہ طورپر تسلیم کرنا ہے۔ اس کا مطلب، ایک چیز کھونے کے بعد یہ یقین رکھنا ہے کہ بہت سی دوسری چیزیں اب بھی اُس کے پاس موجود ہیں جن کے سہارے وہ ازسرِ نو اپنی زندگی کی تعمیر کرسکتا ہے۔

صبر و برداشت کا فائدہ یہ ہے کہ چیز کو کھونے کے باوجود آدمی اپنے اعتدال کو نہیں کھوتا۔ وہ وقتی ناکامی کے باوجود اپنی اس صلاحیت کو باقی رکھتا ہے کہ وہ صورت حال پر معتدل انداز میں غور کرے۔ وہ معاملہ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر ازسرِ نو اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ وہ کھوئے ہوئے کو بھلا کر باقی رہنے والی چیزوں کی بنیاد پر دوبارہ اپنے کام کو منظّم کرے۔ وہ مایوسی کے بجائے تدبیر سے کام لے کر پھر سے زندگی کا سفر شروع کردے۔

موجودہ دنیا کی ایک صفت یہ ہے کہ یہاں ہر شام کے بعد دوبارہ صبح طلوع ہوتی ہے۔ دنیا امکانات ومواقع سے بھری ہوئی ہے۔ یہاںایک موقع کھونے کے بعد آدمی کو دوسرا موقع مل جاتا ہے۔ ایک زینہ سے محرومی کے بعد اُس کے لیے دوسرے زینہ کے دروازے کھُل جاتے ہیں۔ اس طرح اس دنیا میں بار بار یہ امکان موجود رہتا ہے کہ ایک نقشہ ٹوٹنے کے بعدآدمی دوسرے نقشہ کو استعمال کرکے اپنی زندگی کی نئی تعمیر کرلے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر بُری خبر کے ساتھ ایک اچھی خبر شامل رہتی ہے۔ ہر حادثہ آدمی کوخاموش زبان میں یہ خوش خبری دیتا ہے کہ تم مایوس اور بد دل نہ ہو۔ بلکہ ہمت سے کام لے کر نئے مواقع کی تلاش کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو فطرت کا نظام پیشگی طورپر تم کو یہ خوش خبری دیتا ہے کہ تمہاری محرومی مستقل محرومی نہیںبنے گی۔ جلد ہی تم اپنے لیے ایک نئی اور زیادہ بہتر دنیا کی تعمیر کرلوگے۔ جلد ہی تمہاری شکست ایک نئی قسم کا رہنما ثابت ہوگی۔

جو لوگ نقصان کو برداشت نہ کریں، وہ منفی سوچ کا شکار ہوکر اپنی زندگی کوایک بوجھ بنالیتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ صبراور ہمت سے کام لیں وہ ماضی کے کھنڈر پر اپنے لیے ایک نیا محل تعمیر کرلیتے ہیں۔ وہ ایک شام کے بعد دوبارہ اپنے لیے ایک نئی صبح تلاش کرلیتے ہیں جس کی روشنی میں وہ اپنا سفر رُکے بغیر جاری رکھ سکیں۔

صلح کی پیشکش کو قبول کرنا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش کی جارحیت کے نتیجہ میں، قریش اور مسلمانوں کے درمیان حالتِ جنگ قائم ہوگئی تھی۔ اس موقع پر جو احکام قرآن میںدیے گئے اُن میں سے ایک حکم یہ تھا:وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ،وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ (8:61-62) یعنی اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں امن آخری حد تک مطلوب ہے۔ حتیٰ کہ اگر رسک(risk)لے کر امن قائم ہوتا ہو تو رسک لے کر بھی امن قائم کیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کی اس آیت میںتعلیم دی گئی ہے۔ حالت جنگ کے دوران اگر فریقِ ثانی صلح کی پیش کش کرے تو بلا تاخیر اُس کو قبول کرلینا چاہیے۔ بالفرض اگر یہ اندیشہ ہو کہ صُلح کی اس پیش کش میںکوئی دھوکہ چھپا ہوا ہے تب بھی اس اعتماد پر فریقِ ثانی سے صُلح کی جائے گی کہ خدا ہمیشہ امن پسندوں کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ فریب دینے والوں کے ساتھ۔

اس سے مزید یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس دنیا میںامن ہمیشہ وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو اعلیٰ حوصلہ کے مالک ہوں۔ موجودہ دنیا میںہمیشہ ایک اور دوسرے فریق کے درمیان مسائل موجودرہتے ہیں۔ ہمیشہ حقوق اور بے انصافی کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہی لوگ امن قائم کرسکتے ہیں جو ہر دوسرے تقاضہ سے بُلند ہوکر سوچیں، جوکسی بھی چیز کو عذر نہ بنائیں۔ صرف ایسے باحوصلہ لوگ ہی دنیا میں امن قائم کرتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو وہ صرف لڑتے رہیں گے، وہ امن کی تاریخ نہیں بناسکتے۔

زیادہ بڑا رزق

قرآن کی سورہ طٰہ میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بتایا گیا ہے: وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى(20:131) یعنی تم ہر گز ان چیزوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو جن کو ہم نے اُن کے کچھ گروہوں کو اُن کی آزمائش کے لیے اُنہیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔

اصل یہ ہے کہ زندگی کی دو مختلف صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی مادی دنیا کو اپنا نشانہ بنائے۔ وہ ملک و مال میںاپنی کامیابی تلاش کرے۔ ان چیزوں میںہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہی مادّی چیزیں ہیںجن میں چھین جھپٹ کا معاملہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے جو لوگ مادیّات میں جیتے ہوں وہ یکسرحق تلفی یا محرومی کے احساس کا شکار رہتے ہیں۔ یہ احساس بار بار حسد اور انتقام اور تشدد کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔

زندگی کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی یافت (achievement) کے احساس میں جیتا ہو۔ ایسا آدمی اپنے آپ میں مطمئن ہوگا۔ اُس کے اندر پانے کا احساس اُس کو اس سے بچائے گا کہ وہ دوسروں کے خلاف نفرت کرے یا اُن کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے۔

یافت کا یہ احساس کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن کے الفاظ میں، رزق رب مل رہاہو۔ رزق رب سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو یہ یقین حاصل ہوکہ اُس نے سچائی کو پالیا ہے۔ اُس نے اس حقیقت کو دریافت کیاہو کہ خالق نے اُس کو جو وجود دیا ہے وہ سونے چاندی کے تمام ذخیروں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ اس طرح بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں رہے کہ پوری کائنات اُس کے لیے فکری اور روحانی خوراک کا دستر خوان بن جائے۔

جو آدمی دنیا سے اس طرح کا رزقِ رب پارہا ہو وہ اتنا زیادہ اوپر اُٹھ جاتا ہے کہ ملک و مال جیسی چیزیں اُس کے لیے حقیر بن جاتی ہیں۔ اُس کی یہ نفسیات اپنے آپ اُس کو امن پسند بنادیتی ہے۔ نفرت اور تشدد جیسی چیزیں اُس کو اتنا زیادہ بے معنٰی معلوم ہونے لگتی ہیں کہ اُس کے پاس اس کا وقت نہیں رہتا کہ وہ کسی کے خلاف نفرت کرے یا کسی کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے—جس آدمی کو زیادہ بڑی چیز مل جائے وہ کبھی چھوٹی چیز کی طرف نہیں دوڑے گا۔

امن پسندی تحفظ کا ذریعہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر سے اُس کی قوم نے کہا:وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (11:91)۔ یعنی،اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تم کو سنگسار کردیتے۔ یہ رہط پیغمبر کے مومنین کا نہ تھا، بلکہ پیغمبر کی قوم کا تھا جو ایمان نہ لانے کے باوجود قبائلی روایت کی بنا پر، پیغمبر کا تحفظ کرتے تھے۔ یہی حقیقت حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے :مَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ  نَبِيًّا بَعْدَهُ، إِلَّا فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ (مسند احمد، حديث نمبر 10903) یعنی ہر پیغمبر کو خدا نے اپنی قوم کی منعہ (محافظ قوت) کے ساتھ بھیجا ۔

قدیم زمانہ میں جب کہ جدید طرز کا حکومتی نظام موجود نہ تھا۔ لوگ قبائل کی حمایت میں رہا کرتے تھے۔ قبائلی روایات کے مطابق، ہر قبیلہ اس کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنے افراد کا تحفظ کرے۔ قدیم زمانہ میں یہی قبائلی روایت پیغمبروں کے لیے محافظ قوت بنی رہی۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہاشم کے سردار ابو طالب کی طرف سے یہ منعہ حاصل تھا۔ ابو طالب اگر چہ آخر وقت تک ایمان نہیں لائے مگر وہ قبائلی روایات کی بنا پر، پیغمبر اسلام کے مخالفین کے مقابلہ میںآپ کے لیے منعہ(محافظ قوت) بنے رہے۔ (ديكھيے، السيرة النبوية لابن هشام، جلد 1، ص 164)

موجودہ زمانہ میں قبائلی نظام ختم ہوچکا ہے۔ مگر جدید تصور ریاست کے تحت سیکولر نظام اہل ایمان اوراہل دعوت کو یہی منعہ فراہم کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کی سیکولر حکومت اپنے ہر شہری کو یہ گارنٹی  دیتی ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے، اُس کو کوئی روک نہیں سکتا، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ اہل مذہب یا اہل دعوت کسی کے خلاف تشدد نہ کریں۔

پیغمبروں کو قدیم زمانہ میں جو منعہ(protection) ملا وہ قبائلی منعہ تھا، نہ کہ اسلامی منعہ۔ اس کے باوجود پیغمبروں نے اُس کو قبول کیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو منعہ ملا وہ بھی سیکولر منعہ ہے، نہ کہ اسلامی منعہ۔ پیغمبروں کی سنت کے مطابق، مسلمانوں کوچاہیے تھا کہ وہ اس منعہ کو قبول کرتے ہوئے اس کے ماتحت پُر امن طورپر دعوت کا کام کریں۔ مگر ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں نے سیکولرزم کو لادینیت قرار دے کر اُس کے خلاف لفظی اورعملی لڑائی چھیڑ دی۔ اس طرح وہ غیر ضروری طورپر سیکولرزم کے حریف بن گئے۔ سیکولر نظام کے تحت ملا ہوا قیمتی منعہ استعمال ہونے سے رہ گیا۔

انسانوں کے لیے رحمت

قرآن کی سورہ الأنبیاء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایاوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (21:107) یعنی ہم نے تم کو تو بس دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا ساری دنیا کے انسانوں کے لیے خدا کی رحمت کا ظہور تھا۔ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے وہ اصول بتائے جن کو اختیار کرکے انسان ’دارالسلام‘ (یونس، 10:25) میں آباد ہوسکتا ہے، یعنی امن وسلامتی کی کالونی میں۔ آپ کے ذریعہ وہ تعلیمات اُتاری گئیں جو انسانی معاشرہ کو پُر امن معاشرہ بناسکتی ہیں۔ آپ نے تاریخ میں پہلی بار امن (peace)کے تصور پر مبنی مکمل آئیڈیالوجی پیش کی۔ آپ نے زندگی کا وہ فارمولا بتایا جو آدمی کواس قابل بناتا ہے کہ وہ نفرت اورتشدد سے بچـتے ہوئے اپنے لیے ایک صحت مند زندگی کی تعمیر کرسکے۔ آپ کے ذریعہ دنیا میں وہ انقلاب آیا جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ٹکراؤ اور جنگ سے بچتے ہوئے انسان ایک پُرامن سماج بنا سکے۔

پیغمبر اسلام کو اگر چہ مجبور کن حالات میں بعض ایسی لڑائیاں لڑنی پڑیں جواتنی چھوٹی تھیں کہ اُن کو جنگ کے بجائے جھڑپ کہنا زیادہ صحیح ہے۔ پیغمبر اسلام نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس کو بجاطورپر غیر خونی انقلاب (bloodless  revolution) کہا جاسکتا ہے۔

پیغمبر اسلام نے امن کو مکمل نظریۂ حیات کی حیثیت دی۔ آپ نے بتایا کہ تشددتخریب کا ذریعہ ہے اورامن تعمیر کا ذریعہ۔ آپ نے صبر کو سب سے بڑی عبادت بتایا جس کا مطلب مکمل طورپر امن کی روش پر قائم رہنا ہے۔ آپ نے فساد کو سب سے بڑا جرم بتایا جس کا مطلب فطرت کے پُر امن نظام کو درہم برہم کرنا ہے۔ آپ نے امن کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ ایک انسان کے قتل کوسارے انسانوں کے قتل کے برابر قرار دیا۔

ملاقات میں السلام علیکم کہنے کو رواج دینا ، اس کا مطلب یہ تھا کہ باہمی تعلقات کی بنیاد امن و سلامتی پر ہے۔ آپ نے آخرت کی کامیابی کو انسانی جدوجہد کی منزل بتایا، اس طرح آپ نے دنیوی ترقی کو نشانہ بنانے کی جڑ کاٹ دی جس کی وجہ سے ٹکراؤ اور تشدد کی تمام صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ آپ نے انسان کے لیے بہتر زندگی کا یہ فارمولا دیا — لوگوں کو نفع دینے والے بنو، اور اگر تم نفع نہیںدے سکتے ہو تو لوگوں کے لیے بے ضرر(harmless) بن جاؤ۔ آپ نے بتایا کہ کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھو۔ تم دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو، پھر تم کو معلوم ہوگا کہ ہر دشمن امکانی طورپر (potentially) تمہارا دوست تھا۔ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا تھا۔

جہاد پُر امن عمل کانام ہے

ملّا علی قاری مشہور عالم اور فقیہ ہیں۔ اُن کا پورا نام یہ ہےعلی بن (سلطان) محمد، نورالدین الملّا الہروی القاری۔ ملّا علی قاری ہرات میں پیدا ہوئے۔ اُن کی وفات 1014ھ (1606ء) میں مکہ میں ہوئی۔ انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھیں۔ (الأعلام للزرکلی، جلد5، صفحہ12)

ملاّ علی قاری کی ایک کتاب کانام مرقاۃ المفاتیح ہے جو مشکاۃ المصابیح کی شرح میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں ملاعلی قاری کتاب الجہاد کے تحت لکھتے ہیں کہ جہاد کے لفظ میں لغوی طورپر جدوجہد اور مشقت کا مفہوم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیںثُمَّ غَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ عَلَى قِتَالِ الْكُفَّارِ(جلد12، صفحہ2452)۔ یعنی پھر جہاد کا لفظ اسلام میں اہل کفر سے جنگ کے لیے استعمال ہونے لگا۔

ہر لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتاہے اور دوسرا استعمالی مفہوم۔ یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ جہاد کالفظ جہد سے نکلا ہے۔ لغوی طورپر اس کے معنیٰ کوشش کے ہیں۔ اس میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ استعمال میں یہ لفظ مختلف قسم کی جدوجہد کے لیے لکھا یا بولا جاتا ہے۔ اُنہی میںسے ایک جنگ بھی ہے، تاہم اس کا استعمال صرف اس استثنائی جنگ کے لیے خاص ہے جو فی سبیل اللہ کی گئی ہو، ملک و مال کے لیے جو جنگ کی جائے اُس کو جہاد نہیں کہا جائے گا۔

قرآن میںاس سلسلہ میں دو مختلف لفظ استعمال کیے گئے ہیں— جہاد اور قتال۔ جب پُرامن جدوجہد مراد ہو تو وہاں قرآن میں جہاد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن کے ذریعہ پُر امن دعوتی جدوجہد (الفرقان، 25:52)۔ اور جب باقاعدہ جنگ مراد ہو تو وہاں قرآن میں قتال کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً سورہ آل عمران آیت 121۔ تاہم بعد کے زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر قتال کے ہم معنیٰ لفظ کے طورپر استعمال کیا جانے لگا۔ جہاد کے لفظ کے اس استعمال کو اگر بالفرض درست مانا جائے تب بھی وہ جہاد کے لفظ کا ایک توسیعی استعمال ہوگا، نہ کہ اُس کا حقیقی استعمال۔

اپنے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے جہاد ایک پُر امن عمل کا نام ہے، نہ کہ متشددانہ عمل کا نام۔ جہاد کا عمل انسان کو ذہنی اور روحانی طورپر بدلنے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کو قتل کرنے کے لیے۔

ہر حال میں امن

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی حد تک ایک امن پسند آدمی تھے۔ آپ کے مخالفین نے بار بار آپ کو لڑائی میں الجھانا چاہا مگر ہر بار آپ اعراض کرکے لڑائی سے بچتے رہے۔ تاہم چند بار یک طرفہ جارحیت کی بنا پر آپ کو وقتی طورپر دفاعی جنگ کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ انہی چند دفاعی جنگوں میں سے ایک بدر کا غزوہ ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ عین اُس وقت جب کہ دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں، پیغمبر اسلام کے پاس خدا کا فرشتہ آیا۔ اُس نے کہا کہ اے محمد ، اللہ نے آپ کو سلام (سلامتی) کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ سُن کر پیغمبر اسلام نے فرمایاہو السلام ومنہ السلام والیہ السلام۔ (البداية والنهاية لابن كثير، جلد 3، ص 327) یعنی اللہ سلامتی ہے اور اُس سے سلامتی ہے اوراُسی کی طرف سلامتی ہے۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عین لڑائی کے وقت بھی پیغمبر اسلام ایک امن پسندانسان بنے ہوئے تھے۔ اُس ہنگامی وقت میں بھی ایسا نہ تھا کہ آپ کا ذہن نفرت اور تشدد سے بھر جائے بلکہ اُس وقت بھی آپ امن اور سلامتی کی اصطلاحوں میںسوچتے ـتھے، اُ س وقت بھی آپ کا دل اس آرزو سے تڑپ رہا تھا کہ اللہ کی مدد سے وہ دنیا میں امن اورسلامتی کا ماحول قائم کر سکیں۔ سچا انسان وہ ہے جو جنگ کے وقت بھی امن کی بات سوچے، جو لڑائی کے ہنگاموں میں بھی سلامتی کا جذبہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہو۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ مثبت سوچ (positive thinking) کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جنگ تمام منفی واقعات میں سب سے بڑا منفی واقعہ ہے۔ پیغمبر عین اس کے کنارے کھڑا ہوا ہے مگر اُس کی زبان سے خون اور تشدد کے بجائے امن اور سلامتی کے الفاظ نکل رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو تشدد کے درمیان بھی امن کی بات سوچے، جو جنگ کے حالات میں بھی صُلح کامنصوبہ بنائے۔

اللہ کا نام سلامتی

قرآن میںاللہ کے مختلف نام (یا صفات) بتائے گئے ہیں۔ اُن میں سے ایک السلام ہے، یعنی سلامتی۔ گویا خدا خود سلامتی کا مظہر ہے، خدا خود سلامتی کا پیکر ہے۔ خدا کو امن و سلامتی اتنا زیادہ پسند ہے کہ اُس نے اپنا ایک نام السلام رکھا۔

اس آیت کی تفسیر میںابوسلیمان الخطابی نے لکھا ہے هُوَ الذِي سلِمَ الخَلْقُ منْ ظُلْمِه (شان الدعاء للخطابي، ص 41)۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہستی جس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں۔ لوگوں کو جس سے سلامتی کا تجربہ ہو، نہ کہ تشدد کا۔

خدا کی حیثیت اعلیٰ ترین معیار کی ہے۔ جب خداکا برتاؤ انسانوں سے امن اور سلامتی پر مبنی ہو توانسانوں کو بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ اسی برتاؤ کا معاملہ کرنا چائیے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ امن وسلامتی کا برتاؤ کرنا چاہیے، نہ کہ اس کے خلاف سختی اور تشدد کا۔

طاقتور کون

ایک حدیث کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ (صحيح البخاري، حديث نمبر 6114؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2609)۔ یعنی طاقت ور وہ نہیں ہے جو کُشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے۔ طاقتور صرف وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔

غصہ کے وقت غصہ کو روکنا سلف کنٹرول (self-control) کی علامت ہے۔ اور سلف کنٹرول بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسے موقع پر سلف کنٹرول آدمی کو غلط کارروائیوں سے بچاتا ہے۔ اورجس آدمی کے اندر سلف کنٹرول کی طاقت نہ ہو، وہ غصہ کے وقت بپھر اُٹھے گا، یہاں تک کہ وہ متشددانہ کارروائی کرنے لگے گا۔ غصہ کو قابو میں رکھناامن پسند انسان کا طریقہ ہے اور غصہ کے وقت بے قابو ہوجانا تشدد پسند انسان کا طریقہ۔

ایک آدمی کی لڑائی دوسرے آدمی سے ہو اور وہ اُس کو لڑائی میںپچھاڑ دے تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسرے آدمی کے مقابلہ میں پہلا آدمی جسمانی اعتبار سے زیادہ طاقتور تھا۔ مگر جسمانی طاقت ایک محدود طاقت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس شخص کا یہ حال ہو کہ اُس کے اندرغصہ بھڑکے مگر وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کرلے اور غصہ دلانے والے کے ساتھ معتدل اندازمیں معاملہ کرے، ایسا آدمی زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اُس کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقل کی طاقت رکھتا ہے، اور عقل کی طاقت بلاشبہ جسم کی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ ایسا آدمی اپنی دانش مندانہ منصوبہ کے ذریعہ ہرجنگ کو جیت سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اُس نے ایک انسان کا بھی خون بہایا ہو۔

سماجی امن کا فارمولا

سماجی امن کا فارمولاکیا ہے اور کسی سماج میں معتدل حالات کو کس طرح برقرار رکھا جاسکتا ہے، اس کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان الفتنۃ نائمۃ لعن اللہ مَن أیقظہا (كنز العمال، حديث نمبر 30891) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو سوئے ہوئے فتنہ کو جگائے۔

یہ سماجی امن کا ایک فطری فارمولا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر اَنا(ego) کا جذبہ موجود ہے۔ اور اَنا کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو چھیڑا جائے تو وہ بہت جلد بھڑک اٹھے گا اور فساد برپا کرے گا۔ مگر فطرت نے اس جذبہ کو ہر آدمی کے سینہ میںسُلا دیا ہے۔ وہ ہر انسان کے اندر موجود ہے مگر تخلیقی نظام کے تحت وہ خوابیدہ حالت میں ہے۔ ایسی حالت میں کسی سماج کو پُر امن سماج بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے سینے میں سوئی ہوئی انانیت کو سویا رہنے دیا جائے۔

سماجی امن کو وہی لوگ درہم برہم کرتے ہیں جن کی انانیت کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ اگر اَنانیت کو بھڑکانے سے بچا جائے تو سماج کا امن بھی تباہ نہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی امن کا قیام خود آپ کے اپنے بس میں ہے، نہ کہ دوسروں کے بس میں۔ آپ اپنے مثبت رویہ سے دوسروں کی اَنا کو نہ چھیڑیے، اور پھر یقینی طورپر آپ اُن کے شر سے محفوظ رہیں گے۔

خاموشی میں نجات

حدیثوں میںمختلف انداز سے خاموشی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامن صمت نجا (سنن الترمذي، حديث نمبر 2501، سنن الدارمي، حديث نمبر 2755؛ مسند احمد، حديث نمبر 6481) یعنی جو شخص چُپ رہا اُس نے نجات پائی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بولنا چھوڑ دے، وہ بالکل خاموش رہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ آدمی خاموش رہ کر سوچے، وہ پہلے خاموش رہ کر معاملہ کو سمجھے، اس کے بعد وہ بولے۔ یہ بلاشبہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ اپنی تربیت کرکے یہ عادت ڈالے کہ وہ بولنے سے زیادہ خاموش رہے۔ وہ بولے تو اُس وقت بولے جب کہ وہ سوچنے کا کام کر چکا ہو۔

یہ تربیت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ روزانہ کے معمول کی بات چیت میںوہ بالقصد اپنے آپ کواس کا عادی بنائے۔ اگر آدمی اپنی روزمرہ کی معمولی بات چیت میں یہ عادت ڈال لے تو اپنی اس عادت کی بناپر وہ اس وقت بھی ایسا ہی کرے گا جب کہ خلاف معمول کوئی بات پیش آگئی ہو۔

عام طورپر لوگ یہ کرتے ہیں کہ جب اُن کے سامنے کوئی بات آتی ہے تو فوری طورپر اُس کا جو جواب اُن کے ذہن میں آتا ہے، اُس کو اپنی زبان سے بولنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے سوچنے کا عمل کیا جائے اور پھر اُس کے بعد بولنا شروع کیاجائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اس انجام سے بچ جائیں گے کہ وہ اپنے بولے ہوئے الفاظ پر پچھتائیں۔ وہ اپنے کہے ہوئے بول کو لوٹانا چاہیں، حالاںکہ کسی کا کہا ہوا بول دوبارہ اُس کی طرف لوٹنے والا نہیں۔

عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی خلاف مزاج بات سامنے آتی ہے تو آدمی بھڑک کر ناپسندیدہ انداز میں کلام کرنے لگتا ہے۔ اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ روز مرہ کی معمولی بات چیت میں آدمی اس کی عادت ڈالے کہ وہ پہلے سوچے اور پھر بولے۔ جب ایسا ہوگا کہ معمول کی بات چیت میںوہ بولنے سے پہلے سوچنے کا عادی ہو جائے گا تو وہ اپنی اس عادت کی بنا پر خلاف معمول بات چیت میں بھی اسی طریقہ پر کار بند رہے گا۔ عام بات چیت میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولنے کی عادت اُس کو اس قابل بنا دے گی کہ وہ ہنگامی مواقع پر بھی اپنے آپ پر کنٹرول رکھ کر بولے، وہ ذہنی ڈسپلن کے ساتھ بات چیت کرے۔

دنیا کے اکثر فتنے الفاظ کے فتنے ہیں۔ کچھ الفاظ نفرت اور تشدد کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے الفاظ امن اور انسانیت کا ماحول قائم کرتے ہیں۔ اگر آدمی صرف یہ کرے کہ وہ بولنے سـے پہلے سوچے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بولے تو بیشتر فتنے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گے۔

اپنے آپ کو قابو میںرکھ کر کلام کرنا ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ صفت ان لوگوں میں ہوتی ہے جو اپنے آپ پر نظر ثانی کرتے رہیں، جو اپنے قول و عمل کا حساب لیتے رہیں۔

آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی بات سُنے تو وہ فوراً اُس کا جواب نہ دے، وہ فوراً اپنا رد عمل پیش نہ کرے۔ وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھہر کر سوچے کہ کہنے والے نے کیا بات کہی ہے اور میری طرف سے اس کا بہتر جوا ب کیا ہوسکتا ہے۔ بات کو سن کر ایک لمحہ کے لیے ٹھہرنا اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کادرست جواب دے گا، وہ پتھر کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے پتھر کا جواب پھول سے دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔

دشمن سے ٹکراؤ نہیں

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالا تتمنّوا لقاء العدو،وسلوا اللہ العافیۃ(صحيح البخاري، حديث نمبر 2966)۔ یعنی دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، تم اللہ سے امن مانگو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر تمہارا دشمن بن جائے تو ایسا نہ کرو کہ تم بھی اُس کے دشمن بن کر اُس سے لڑناشروع کردو۔ بلکہ فریق ثانی کی دشمنی کے باوجود تم اُس کے ساتھ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ دشمنی کے حالات کے باوجود تمہارا طریقہ لڑائی سے بچنے کاہونا چاہیے، نہ کہ اپنے آپ کو لڑائی میں پھنسالینے کا۔

اللہ سے امن مانگو— اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ٹکراؤ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرو اور اپنی امن پسندانہ کوششوں کے ساتھ خدا کو بھی دعاؤں کے ذریعہ اُس میں شامل کرو۔ تمہاری دعا یہ نہیں ہونی چاہیے کہ خدایا، دشمن کو ہلاک کردے بلکہ یہ ہونی چاہیے کہ خدایا، مجھے توفیق دے کہ میں لوگوں کی دشمنی کے باوجود تشد د اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کروں بلکہ امن کے راستہ پر اپنی زندگی کا سفر طے کرتارہوں۔

اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے نقشہ کے مطابق، اس دنیا میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور تشدد کی حیثیت صرف ایک استثنا (exception) کی۔ مزید اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بظاہر کوئی شخص یا گروہ آپ کا دشمن ہو تواُس سے نپٹنے کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ اُس سے مڈبھیڑ کی جائے۔ زیادہ بہتر اور مؤثر شکل یہ ہے کہ امن کی تدبیر سے دشمن کے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔ امن کی طاقت تشدد کی طاقت کے مقابلہ میں، زیادہ کارگر بھی ہے اور زیادہ مفید بھی۔

نان وائلنس کا طریقہ

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاإِنَّ اللهَ َيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ(صحيح مسلم، حديث نمبر 2593؛ سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4807)  یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتاہے جو وہ سختی پر نہیں دتیا۔ یہ دراصل فطرت کے اُس قانون کا بیان ہے جو خُدا نے موجودہ دنیا میں قائم کررکھا ہے۔ اسی قانون کی بنا پر ایسا ہے کہ جب کوئی شخص نرمی اور عدم تشدد کے حدود میں رہ کر کام کرے تو اُس کا کام زیادہ نتیجہ خیز بن جاتا ہے۔ اور جو شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے اُس کا کام آگے بڑھنے کے بجائے اور پیچھے کی طرف چلا جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے تو اُس کی کوششیں غیرضروری طورپر دو محاذوں میں بٹ جاتی ہیں۔ ایک محاذ، اپنی داخلی تعمیر کا۔ اور دوسرا محاذ، خارجی حریف سے لڑنے کا۔ اس کے برعکس جو شخص نرمی اور عدم تشدد کا طریقہ اختیار کرے، اُس کے لیے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی تمام موجود طاقتوں کو صرف ایک محاذ، داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائے، اور اُس کے فطری نتیجہ کے طورپر زیادہ بڑ ی ترقی حاصل کرلے۔

اس حدیث میں فطرت کے اس قانون کاذکر ہے جس پر ہماری دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ اسی نظام کے تحت ملتاہے، اس کے بغیر نہیں۔ فطرت کا یہ نظام تمام تر امن اور عدم تشدد کے اصول پر قائم ہے۔ اس لیے یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا، امن اورعدم تشدد کے اصول پر ملے گا، اُس سے انحراف کرکے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔

اختلاف کی حد

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف یہ فرمایا کہ —أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ اَمِيْرٍ جَائِرٍ(سنن الترمذي، حديث نمبر 2174، سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4344؛ سنن ابن ماجه، حديث نمبر 4011) یعنی ظالم حکمراں کے سامنے حق و عدل کی بات کہنا افضل جہاد ہے۔

دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا:مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَكَرِهَهُ فَلْيَصْبِرْ (صحيح البخاري، حديث نمبر 7143؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 1849) یعنی جو شخص اپنے حاکم میںایسی چیز دیکھے جو اُس کو پسند نہ ہو تو وہ اُس پر صبر کرے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا:تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُك َ(صحيح مسلم، حديث نمبر 1847) یعنی تم اپنے حاکم کی بات سُنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارا جائے اور تمہارا مال چھین لیا جائے۔

ان حدیثوں میں بظاہر دو قسم کے احکام ہیں۔ ایک طرف یہ حکم ہے کہ تم اپنے حاکم میں کوئی غلط بات دیکھو تو کھُلے طورپر اُس کااعلان کرو۔ دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ امیر کے اندر تمہیں کوئی غلط بات دکھائی دے تو اُس پر صبرکرو، اگر وہ تمہارے اوپر ظلم کرے تب بھی تم اُس کو برداشت کرو۔

یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے جس سے دو چیزوں کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ ہے، اعلان اور اقدام کا فرق۔ یہ ایک مطلوب بات ہے کہ آدمی حکمراں کے اندر کوئی غلط بات دیکھے تو وہ نصیحت اور خیر خواہی کے انداز میںاُس کا اعلان کرے۔ مگر جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے تو آدمی کو اُس سے مکمل طورپر باز رہنا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت اور ٹکراؤ کی سیاست میں فرق کرے۔ نصیحت کے جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے وہ سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طورپر بچے۔

فرق کا یہ اصول بے حد اہم ہے۔ سماج میںجب بھی تشدد کا ماحول بنتا ہے، وہ اُس وقت بنتا ہے جب کہ لوگ حکمراں کے خلاف عملی ٹکراؤ کی مہم شروع کردیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمراں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ لیکن اگر اس قسم کی نزاعی سیاست سے بچتے ہوئے صرف قولی نصیحت پر اکتفا کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ سماج میں امن قائم رہے گا، سماج کبھی بھی تشدد کا جنگل نہیں بنے گا۔

پُر امن طریق کار زیادہ بہتر

ایک روایت میںبتایا گیا ہے کہ معاملات میںپیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا(صحيح البخاري، حديث نمبر 3560؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2327) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی معاملہ میں دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب کرناہوتا توآپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان ترکا انتخاب کرتے تھے۔

اختیار أیسر کے اس اصول کو اگر متشددانہ طریقِ کار اور پُر امن طریقِ کار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اُس سے نپٹنے کے لیے متشددانہ طریقِ کار کو اختیار نہ کیا جائے بلکہ پُر امن طریقِ کار کواختیار کیا جائے۔ کیوں کہ متشددانہ طریقِ کار یقینی طورپر مشکل ہے اور پُر امن طریقِ کار یقینی طورپر آسان۔

تاہم یہ سادہ طورپر صرف آسان اور مشکل کا معاملہ نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پُر امن طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے اور متشددانہ طریقہ یقینی طورپر بے نتیجہ ہے۔ وہ مسئلہ کو حل نہیںکرتا البتہ اُس میں کچھ اور اضافہ کر کے اُس کو مزید پیچیدہ بنادیتا ہے۔ حدیث میںمشکل طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول مشکل ہو۔ اس کے مقابلہ میںآسان سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول آسان اور یقینی ہو۔

لچک کا طریقہ، نہ کہ اکڑ کا طریقہ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس حدیث میں مومن، بالفاظ دیگر، خداپرست انسان کی مثال خامہ سے دی گئی ہے۔ خامہ نرم پودے کو کہتے ہیں۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن کا حال نرم پودے کی طرح ہے۔ جب بھی ہوا کا کوئی جھونکا آتا ہے تو وہ اُس کے مطابق، جھک جاتا ہے۔ اورجب جھونکا چلا جائے تو وہ دوبارہ اُٹھ جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بلا اور مصیبت سے بچا لیتا ہے (صحيح البخاري، حديث نمبر 5644؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2810)۔

اس حدیث کے مطابق، کسی طوفان کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ اُس کے مقابلہ میںاکڑ دکھائی جائے۔ اوردوسرا طریقہ یہ ہے کہ اُس کے مقابلہ میں لچک کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مقابلہ کا ایک طریقہ متشددانہ طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ پُر امن طریقہ ۔ خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے طریقہ کو چھوڑ دیا جائے اور دوسرے طریقہ کو اختیار کیا جائے۔

طوفان کے مقابلہ میں جو لوگ اکڑ کا طریقہ اختیار کریں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ انانیت میںمبتلا ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امن کا طریقہ تواضع پر مبنی ہے۔ خدا کی اس دنیا میںاَنانیت کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تباہی ہے اور تواضع کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے کامیابی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: من تواضع رفعہ اللہ(مسند الشهاب، حديث نمبر 335)۔ یعنی جس نے تواضع کی روش اختیار کی، خدا اُس کو بلندی عطا فرمائے گا۔

پُر امن شہری

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہالمؤمن من أمنہ الناس علی دمائہم واموالہم (سنن الترمذي، حديث نمبر 2627) یعنی مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور اپنے مال کے معاملہ میں مامون ہوں۔

کسی سماج میں رہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان امن کے ساتھ رہے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسروں سے لڑائی جھگڑا کرتا رہے۔ اس حدیث کے مطابق، ایمانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان پُر امن شہری بن کر رہے۔ دوسروں کی جان اور مال اور عزت کے لیے وہ مسئلہ نہ بنے۔ وہ کسی حال میں دوسروں کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے۔

زندگی کا وہ طریقہ کیا ہے جس میں سماج کے افراد ایک دوسرے کی زیادتیوں سے محفوظ ہوں۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ شکایت کے باوجود آدمی اپنی معتدل روش کو برقرار رکھے۔ دوسروں سے شکایت کو وہ اپنے سینے میں دفن کردے، وہ اپنے سینے کی آگ کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے سے بچے۔ اسی قسم کا سماج وہ سماج ہے جہاں لوگ ایک دوسرے سے مامون رہ کر زندگی گذاریں۔ پُر امن سماج معیاری انسانی سماج ہے۔ اس کے برعکس جس سماج میںتشدد ہو وہ حیوانی سماج ہے، نہ کہ انسانی سماج۔

امن پسندی ایک اعلیٰ اخلاق ہے۔ اس کے مقابلہ میں تشدد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی انسانی اخلاق کی سطح سے گر کر حیوانی اخلاق کی سطح پر آگیا ہو۔

انتظار بھی حل ہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:أفضل العبادۃ انتظار الفرج (سنن الترمذي، حديث نمبر 3571)۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرناایک افضل عبادت ہے۔

ہر فرد اور ہر گروہ پر ہمیشہ ایسے حالات آتے ہیںجن میں وہ اپنے آپ کو تنگی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر بیشتر لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر تنگی کو ایک مستقل حالت سمجھ لیتے ہیں اوراُس کو فوراً اپنے آپ سے دور کرنے کے لیے حالات سے لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ تنگی پر کچھ اور مشکلات کا اضافہ کر لیا جائے۔

تنگی کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتی، وہ صرف وقتی طورپر آتی ہے۔ ایسی حالت میں تنگی کے مسئلہ کا آسان حل صرف یہ ہے کہ انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی غیر ضروری طورپر حالات سے لڑائی نہ چھیڑی جائے بلکہ سادہ طورپر انتظار کرو اور دیکھو(wait and see)  کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کا ذہنی سکون برباد نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ اپنے آپ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔

جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے توآدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ فوراً اُس کا حل نکل آئے۔ یہی اصل غلطی ہے۔ آدمی اگر پیش آئے ہوئے مسئلہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دے تو کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں۔

خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بعدکے جن حالات سے پیشگی طورپر آگاہ کیا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں مسلم امت دوسری قوموں کی زدمیں آجائے گی۔ چنانچہ فرمایا:يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا (سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4297) یعنی قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو پکاریں جس طرح کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو دسترخوان پر پکارتے ہیں۔

قرائن بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پیش آیا۔ ابتداء ً یورپ کی نو آبادیاتی قوموں کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا۔ اس کے بعد دوسری قومیں اس میںشریک ہوتی چلی گئیں۔ اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسا کیوں ہوا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہ راست خدا کی سنت کے تحت پیش آیا۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ قوموں کو جگانے کے لیے اُن پر تنبیہات نازل کی جاتی ہیں۔ یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے تاکہ وہ چونکیں اوراپنی اصلاح کریں۔ قرآن میں اس قانونِ فطرت کا ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ( 6:43) یعنی پس جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے۔بلکہ اُن کے دل سخت ہوگئے۔ اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کرکے دکھاتا رہا۔

اس آیت میں تزئین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے—ایک بُرے کام کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا تا کہ اُس کی بُرائی چھپ جائے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعوری طورپر عین وہی کام کیا جس کو مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر قوموں کی طرف سے جو مسائل پیش آئے وہ خدائی انتباہ (warning) تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے ان مسائل کو ظلم اور سازش کی اصطلاحوں میںبیان کرنا شروع کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو واقعہ اس لیے تھا کہ مسلمان اپنی کوتاہیوں کو محسوس کریں اور اپنی داخلی اصلاح میں سرگرم ہوجائیں۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ساری سوچ غیر اقوام کی طرف متوجہ ہوگئی۔ جس واقعہ سے احتسابِ خویش کا ذہن پیدا ہونا چاہیے تھا، اس سے احتسابِ غیر کا ذہن جاگ اُٹھا، جو بڑھتے بڑھتے تشدد تک جاپہنچا۔

خاموشی کی طاقت

حضرت عمر فاروق اسلامی تاریخ کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ اُن کا ایک قول ان الفاظ میںنقل کیا گیا ہے:أمیتوا الباطل بالصمت عنہ (تم لوگ باطل کو ہلاک کرو اُس کے بارے میں چپ رہ کر)۔ ديكھيے، ابو نعيم اصبهاني، حلية الأولياء ، جلد 1، ص 55

فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں حق کو زندگی ملتی ہے اور باطل کے لیے موت مقدر ہے ۔ ایسی حالت میں باطل کی ہلاکت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اُس کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی جائے۔ باطل کے خلاف بولنا یا اُس کے خلاف ہنگامہ کرنا اُس کو زندگی دیتا ہے۔ اور باطل کو نظر انداز کرکے اُس کے بارے میں چپ رہنا اُس کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔

باطل کے بارے میںچپ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اُس کو نظر انداز کیا جائے۔ اُس کے خلاف کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا جائے۔ اُس کے مقابلہ میں احتجاج اور صف آرائی کا طریقہ اختیار نہ کیاجائے۔ تاہم ایسا کرنا صرف اُن لوگوں کے لیے ممکن ہے جو فطرت کی طاقت کو جانیں اور اُس پر بھروسہ کرسکیں۔ جو لوگ فطرت کی طاقت کو نہ جانیں، وہی لوگ باطل کے خلاف ہنگامہ آرائی کرکے اُس کو زندگی دینے کا سبب بن جاتے ہیں۔

تشدد مایوسی کا نتیجہ

تشدد محرومی کے احساس کانتیجہ ہے، اورامن یافت کے احساس کا نتیجہ۔ جولوگ اس احساس میں مبتلا ہوں کہ وہ محروم ہیں، دوسروں نے اُن کی چیز اُن سے چھین لی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ منفی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں۔ اور اُن کا یہی احساس اکثر تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ اس احساس میں جیتے ہوں کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں یافت کا تجربہ کیا ہے، ایسے لوگ ذہنی سکون سے ہم کنار ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ پُر امن زندگی گذارتے ہیں۔

جو فرد یا گروہ دوسروں کے خلاف نفرت کرے، جو دوسروں کے خلاف تشدد پر اُتر آئے، وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو محروم سمجھ رہا ہے۔ اس کے برعکس جو فرد یا گروہ امن پسندی کی زندگی گذارے وہ اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ اُس نے اپنی زندگی میں وہ چیز پالی ہے جو اُس کو پانا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ محرومی کا احساس کسی کو کیوں پیدا ہوتا ہے اور وہ کون لوگ ہیںجو ہمیشہ یافت کے احساس میں جیتے ہیں۔

اس دنیا میں سب سے بڑا پانا یہ ہے کہ آدمی نے خدا کو پالیا ہو اور سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی خدا کو پانے سے محروم ہو۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی، اور جو لوگ خدا کو پانے سے محروم ہوں وہ گویا محرومی کی اس آخری حالت پر پہنچ گئے ہیں جہاں محرومی ہی محرومی ہے، اول بھی اور آخر بھی، کوئی بھی چیز اُن کی محرومی کے احساس کو ختم کرنے والی نہیں۔

پازیٹیو اسٹیٹس کوازم

جب بھی کوئی آدمی عمل کرنا چاہے تواُس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے راستہ میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں۔ ایسا ایک فرد کے لیے بھی ہوتا ہے اور پوری قوم کے لیے بھی۔ اب عمل کاایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے رکاوٹوں سے لڑکر اُن کو راستہ سے ہٹا دیا جائے اور اُس کے بعد اپنا مطلوب عمل شروع کیا جائے۔ اس طریقہ کو عام طورپر ریڈیکلزم  (radicalism) کہا جاتا ہے۔

ریڈیکلزم کا طریقہ جذباتی لوگوں کو یا انتہا پسند لوگوں کو بظاہر پسند آتا ہے، مگر وہ کسی مثبت مقصد کے لیے مفید نہیں۔ ریڈیکلزم کا طریقہ تخریب کے لیے کار آمد ہے، وہ تعمیر کے لیے کار آمد نہیں۔ ریڈیکلزم کے طریقہ میں صرف موجودہ سسٹم ہی نہیں ٹوٹتا، بلکہ اس عمل کے دوران وہ سماجی روایات ٹوٹ جاتی ہیں جو صدیوں کے درمیان بنی تھیں۔ قتل وخون اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے بے شمار لوگ طرح طرح کی مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ریڈیکلزم کا طریقہ نظریاتی طورپر بظاہر خوب صورت معلوم ہوتا ہے، مگر عملی انجام کے اعتبار سے اُس میں کوئی خوبی نہیں۔

اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صورت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ صورت موجودہ (status  quo)  کو وقتی طورپر قبول کرتے ہوئے اُن مواقع کواستعمال کیا جائے جو اب بھی موجود ہیں۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میںپازیٹیو اسٹیٹس کوازم (positive  status-quoism) کہا جاسکتا ہے۔

ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ تشدد پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم سماج کے امن کو باقی رکھتے ہوئے اپناکام انجام دیتا ہے۔ ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ مسئلہ میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کا طریقہ سماج میں کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر اپنا عمل انجام دیتا ہے۔ ایک اگر بگاڑ کا راستہ ہے تو دوسرا بناؤ کا راستہ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میںاصلاح کاجو طریقہ اختیار کیا اُس کو ایک لفظ میں، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً اُس زمانہ میں خانۂ کعبہ کے اندر 360 بُت رکھے ہوئے تھے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔ مگر قرآن کے ابتدائی دور میں اس قسم کا حکم نہیں اُترا کہ طہر الکعبۃ من الاصنام(کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ اس کے بجائے اس ابتدائی دور میں قرآن میںجو آیت اُتری وہ یہ تھی:وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (74:4) یعنی اپنے کپڑے کو پاک کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے اخلاق کو اور دوسروں کے اخلاق کو درست بناؤ۔

تشدد کا کوئی جواز نہیں

تشدد انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ تشدد انسانیت کا قتل ہے۔ تشدد تمام جرموں میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس کے باوجود لوگ کیوں تشددکرتے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ایسے لوگ خود ساختہ طورپر اپنے لیے تشدد کا ایک جواز(justification) ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ بطور خود یہ خیال قائم کرلیتے ہیں کہ فلاں وجہ سے اُن کے لیے تشدد کرناجائز ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ تشدد کا ہر جواز جھوٹا جواز ہے۔ کوئی فرد یا گروہ جب بھی تشدد کرتا ہے، عین اُسی وقت اُس کے لیے عدم تشدد یا پُر امن طریقِ کار موجود ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں تشدد کیوں۔ جب تشدد کے بغیر عمل کرنے کا موقع موجود ہو تو تشدد کیوں کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد مطلق طورپر قابل ترک ہے اور امن مطلق طورپر قابل اختیار۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد نہ کرے، وہ ہر صورت حال میںپر امن طریقِ عمل پر قائم رہے۔

عداوت کے مسئلہ کا حل

بہت سے لوگ یہ خیال کرلیتے ہیں کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے۔ پھر اس مفروضہ کے تحت وہ اُس قوم کے خلاف متشددانہ لڑائی چھیڑ دیتے ہیں تاکہ اُس کی دشمنی کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ مگریہ مفروضہ بھی غلط ہے اور اس مفروضہ کی بنیاد پر بنایا جانے والا نقشۂ کار بھی غلط۔

دشمنی ہاتھ کی انگلی کی طرح انسانی وجود کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ وہ انسانی وجود کا ایک اوپری حصہ ہے۔ مثبت تدبیر کے ذریعہ ہر دشمنی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ دشمنی کی مثال ایسی ہے جیسے گلاس کے اوپر لگی ہوئی مٹی۔ ایسی مٹی کونہایت آسانی کے ساتھ پانی سے دھوکر صاف کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ گلاس میںمٹی کا لگنا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے پاس مٹی کو دھونے کے لیے صاف پانی نہ ہو۔

تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے، ایک ہاتھ سے کبھی تالی نہیں بجتی۔ اسی طرح دشمنی ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کا دشمن بنے تو آپ خود اُس کے دشمن نہ بنیں۔ اس کے بعد دشمنی اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔ دشمن کے ساتھ دشمنی نہ کرنا ہی دشمنی کے مسئلہ کا سب سے زیادہ کار گر عمل ہے۔

ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا گھر شہر کے ایک ایسے کنارہ پر ہے جہاں سے غیر قوم کی آبادی شروع ہوجاتی ہے۔ میںنے سوچا کہ مجھے اپنی اوراپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ میںنے پیسہ خرچ کرکے اپنے گھر کے ہر فرد کے لیے لائسنس بنوایا اور پھر گھر کے ہر فرد کے نام گن اور ریوالور حاصل کر لیا۔ اب میںاپنے آپ کو اور اپنے خاندان کومحفوظ سمجھتا ہوں۔ اب مجھے دنگے اور فساد کا کوئی ڈر نہیں۔

میں نے کہا کہ آپ تجارت کااصول جانتے ہیں مگرآپ سماجی زندگی کے اصول کو نہیں جانتے۔ سماجی تحفظ کا ذریعہ گن اور ریوالور نہیںہے۔ سماجی تحفظ کا اصول یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لیے بہترین پڑوسی بن کر رہیں۔ آپ دوسروں کو اپنے شر سے بچائیں۔ اس کے بعد لازمی طورپر ایسا ہوگا کہ آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اگرآپ دوسروں سے نفرت کریں تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو نفرت ملے گی اور اگر آپ کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہو تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت اور خیر خواہی کا تحفہ ملے گا۔

میں نے کہا کہ اگر آپ کے گھر کے سامنے غیر قوم کی بھیڑ اکٹھا ہوجائے او رآپ اپنی بالکنی پر کھڑے ہو کر اُس کے اوپر گولی چلادیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بس اتنے ہی پر معاملہ ختم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ انسانوں کے اوپر گولی چلانا آپ کے لیے قابل دست اندازی پولیس جرم (cognizable offence) کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ جب بھی ایسا ہوگا تو پولیس فوراً وہاں آجائے گی اورآپ ہر گز پولیس سے لڑ نہیں سکتے۔

آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ کے پاس گن ہونا اور پولیس کے پاس گن ہونا دونوں میں بے حد بنیادی فرق ہے۔ آپ گن رکھنے کے باوجود کسی کو گولی مارنے کا قانونی حق نہیں رکھتے۔ لیکن پولیس کے پاس گن ہے تو وہ گولی مارنے کا قانونی حق بھی رکھتی ہے۔ غیر قوم کے مقابلہ میں بظاہر مقابلہ دو مساوی فریق کے درمیان نظر آتا ہے مگر جب معاملہ آپ کے اور پولیس کے درمیان کا ہوجائے تو یہ مقابلہ مکمل طورپر غیرمساوی ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا گولی چلانا اپنے نتیجہ کے اعتبار سے، آبیل مجھے مار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا اقدام تحفظ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف ہلاکت کی حیثیت رکھتا ہے۔

ضمیر بہترین جج ہے

ایک شہر میںایک مسلمان نے اپنے لیے نیا گھر بنایا۔ گھر سے ملی ہوئی ایک زمین کو انہوں نے حصار بناکر اپنے گھر میں داخل کرلیا۔ اُن کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکہ دار تھا۔ اس ہند و ٹھیکہ دار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اُس کی ہے۔ چنانچہ اُس نے شہر کے کٹّر ہندوؤں سے مل کر انہیں بھڑکایا۔ یہاں تک کہ ایک دن ہندوؤں کی ایک بھیڑ گھر کے سامنے سڑک پر اکٹھا ہوگئی، اور نعرے لگانے لگی۔

مذکورہ مسلمان کے پاس اُس وقت دو بندوقیں تھیں۔ مگر اُنہوں نے بندوق نہیںاُٹھائی۔ وہ تنہا اور خالی ہاتھ گھر سے نکل کر باہر آئے۔ انہوں نے نعرہ لگانے والی بھیڑ سے کچھ نہیں کہا۔ اُنہوں نے صرف یہ پوچھا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ ایک صاحب جن کا نام مسٹر سونڈ تھا، آگے بڑھے اور کہا، وہ میںہوں، بتائیے کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ مسلمان نے بھیڑ سے کہا کہ آپ لوگ یہاںٹھہریئے اور مسٹرسونڈ کولے کر گھر کے اندر آگئے۔ اُن کو کمرہ میں لاکر اُنہیں کُرسی پر بٹھادیا۔

اس کے بعد مسلمان نے کہا کہ مسٹر سونڈ آپ لوگ کس سلسلہ میں یہاں آئے ۔ مسٹر سونڈ نے غصہ میں کہا کہ آپ نے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کرلیا ہے، ہم اسی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کاغذ پر ہوتی ہے۔ زمین کا فیصلہ کاغذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کیجئے کہ میرے پاس جو کاغذات ہیںاُن کو لے لیجیے اور ٹھیکہ دار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں اُن کو بھی لے لیجیے۔ اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیے۔ اس معاملہ میں میں آپ ہی کو جج بناتا ہوں۔ آپ کاغذات کو دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کردیں وہ مجھے بلا شرط منظور ہوگا۔

یہ سُن کر مسٹر سونڈ بالکل نارمل ہوگئے۔ وہ غصہ کی حالت میں اندر گئے تھے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے۔ اُنہوں نے سڑک پرکھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ میاں جی نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے۔ اب ہم دونوں کے کاغذات دیکھ کر فیصلہ کریںگے۔ مسٹر سونڈ نے اس کے بعد گھر جاکر دونوں کے کاغذات کو دیکھا اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد اُنہوں نے صد فی صد مسلمان کے حق میںاپنا فیصلہ دے دیا۔

مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفس امارہ (ایگو) کو جگادیتے۔ اور پھر یقینی طورپر سارامعاملہ مسلمان کے خلاف ہوجاتا۔ مگر جب انہوں نے گن کے بجائے معقولیت کو استعمال کیا تواُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفس لوّامہ (ضمیر) جاگ اُٹھا۔ اور جب ضمیر جاگ اُٹھے تو اُس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے، ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیںکرتا۔

فتح بھی شکست ہے

شاہ پائرس (King Pyrrhus)  تیسری صدی قبل مسیح کا ایک یونانی بادشاہ تھا۔ اُس کی لڑائی رومیوں سے ہوئی۔ اس جنگ میں آخر کار شاہ پائرس کو رومیوں کے اوپر فتح حاصل ہوئی۔ مگر لڑائی کے دوران شاہ پائرس کی فوج اور اُس کے ملک کی اقتصادیات بالکل تباہ ہوچکی تھی۔ شاہ پائرس کے لیے یہ بظاہر فتح تھی مگر وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے شکست کے ہم معنیٰ تھی۔ اس تاریخی واقعہ کی بنا پر ایک اصطلاح مشہور ہوئی ہے جس کو پرک وکٹری  (Pyrrhic Victory) کہا جاتا ہے، یعنی بظاہر فتح مگر اپنی حقیقت کے اعتبا رسے مکمل شکست۔

جنگوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اکثر فتح پِرک فتح ہی ہوتی ہے۔ ہر فاتح کے حصہ میں دو نقصان کا پیش آنا لازمی ہے۔ ایک، جان اور مال کی تباہی۔دوسرے ،مفتوح کے دل میں فاتح کے خلاف نفرت۔ کوئی بھی فاتح ان نقصانات سے بچ نہیں سکتا۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ کوئی فاتح اس نقصان کو فوراً بھگتتا ہے ، اور کسی فاتح کے حصہ میں یہ نقصان کسی قدر دیر کے بعد آتا ہے۔

نقصان کا یہ معاملہ صرف پُرتشدد طریقِ کار کے ساتھ وابستہ ہے۔ پُر امن طریقِ کار کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ پُر امن طریقِ کار میں صرف فتح ہے، پُر امن طریقِ کار میںشکست کا کوئی سوال نہیں۔ حتیٰ کہ اگر پُر امن طریقِ کار کا نتیجہ بظاہر شکست کی صورت میں نکلے تب بھی وہ فتح ہے۔ اس لیے کہ پُر امن طریقِ کار کی صورت میں آدمی جنگ کو کھوتا ہے مگر وہ مواقع کو نہیں کھوتا۔ مواقع اور امکانات اب بھی اُس کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ وہ ان مواقع کو استعمال کرکے دوبارہ ایک نئی جدوجہد شروع کرسکتا ہے اور از سرِ نو اپنی کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔

شکایت کو فوراً ختم کرنا

شکایتی مزاج ایک قاتلانہ مزاج ہے۔ شکایتی مزاج آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو مثبت سوچ سے محروم کردیتا ہے۔ اور اس قسم کا مزاج بلاشبہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اکثر تشددکے پیچھے شکایتی مزاج ہی کام کرتاہوا نظر آتاہے۔

موجودہ دنیا کا تخلیقی نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازماً ایک کودوسرے سے شکایت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ ہے کہ شکایت کا خیال آتے ہی فوراً اُس کو اپنے دماغ سے نکال دیا جائے۔ شکایت جب پیدا ہوتی ہے تو پہلے وہ آدمی کے شعوری ذہن (conscious mind) میں ہوتی ہے۔ اگر اُس کو یاد رکھا جائے یا بار بار دہرایا جائے تو وہ دھیرے دھیرے آدمی کے غیرشعوری ذہن  (unconscious mind) میںچلی جاتی ہے۔ اوراس طرح بیٹھ جاتی  ہے کہ اس کے بعد کسی طرح اُس کو نکالا نہیں جاسکتا۔

ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ شکایت کے معاملہ میں وہ ’’گُربہ کشتن روز اول‘‘ کا معاملہ کیا جائے۔ شکایت پیدا ہوتے ہی اس کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ اگر پہلے ہی مرحلہ میںاُس کو ختم نہ کیا جائے تو دھیرے دھیرے وہ آدمی کی نفسیات کا مستقل جزء بن جائے گی۔ اس کے بعد آدمی کی سوچ منفی سوچ بن جائے گی۔ وہ دوسروں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔اگر موقع ہو تو وہ دوسروں کے خلاف تشدد پر اُتر آئے گا۔ یہاں تک کہ وہ زیر شکایت لوگوں سے عملی ٹکراؤ شروع کردے گیا، خواہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں کیوں نہ ظاہر ہو۔

شکایت کو پہلے ہی مرحلہ میںختم کرنے کا فارمولا کیا ہے، وہ فارمولا قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ(42:30) یعنی جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کو دوسرے کے خلاف شکایت پیداہو تو فوراً آپ کویہ کرنا چاہیے کہ شکایت کا رُخ اپنی طرف کرلیں۔ معاملہ کی کوئی ایسی توجیہہ ڈھونڈیں جس میںقصور خود آپ کا نکلتاہو۔ جب آپ کو یہ احساس ہوگا کہ کوتاہی خود آپ کی ہے، نہ کہ کسی غیر کی تو ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ آپ اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے میں لگ جائیں گے، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کے خلاف فریاد اور احتجاج میںوقت ضائع کریں گے۔

 

جنگ اور امن اسلام میں

اسلام میں جنگ اور امن کی حیثیت کیا ہے، اس سوال کا جواب پانے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے۔ جنگ اور امن دونوں دو مختلف طریقِ کار ہیں، وہ بذات خود مقصد نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اس کا تعین ہو جائے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کا تعین ہوجائے گا کہ اسلام کا طریقہ جنگ کاطریقہ ہے یا امن کاطریقہ۔

قرآن میں اس سوال کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک عمومی حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے:وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا  (25:52) یعنی اے محمد، لوگوں کے ساتھ تم قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔

قرآن ایک کتاب ہے، وہ کوئی گن یا تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب واضح طورپر پُر امن جدو جہد (peaceful struggle) ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد(armed struggle)۔

قرآن جب ایک نظریاتی کتاب ہے تو اس کے ذریعہ پر امن جدوجہد کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں کو بدلا جائے۔ لوگوں کی سوچ کو قرآنی سوچ بنایا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، قرآن کا مشن زمین پر قبضہ کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کے ذہن پر قبضہ کرناہے۔ اسلام کا نشانہ ذہنی انقلاب ہے، نہ کہ لوگوں کو جسمانی اعتبار سے مغلوب کرنا۔

قرآن کا مطالعہ کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ پیغمبراسلام نے اپنے مشن کو کس طرح جاری کیا تو واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا پورا مشن جس نشانہ پر چلایا وہ یہی تھا کہ لوگوں کے دل ودماغ کو بدلا جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر پراپنا کلام اس لیے اتارا تا کہ وہ لوگوں کو افکار کے اندھیرے سے نکال کر افکار کی روشنی میں لے آئے (الحدید،57:9) ۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کی اصلاح کے سلسلہ میں اصل اہمیت صرف ایک چیز کی ہے اور وہ اس کے دل کی اصلاح ہے (ألا وھي القلب) صحيح البخاري، حديث نمبر 52؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 1599۔انسان کے دل کو بدل دو اور پھر اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ پیغمبر اسلام کو مکہ میں جب پہلی وحی ملی تو اس وقت آپ نے وہاں کے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا کہ اے لوگو، میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ موت کے بعد آنے والے معاملہ کی تمہیں خبر دوں(أنا النذیر العریان) ۔ صحيح البخاري، حديث نمبر 4770؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 208۔اسی طرح مدینہ میں جب آپ غالب حیثیت میں داخل ہوئے اس وقت بھی آپ نے وہاں کے لوگوں سے یہی کہا کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ خواہ چھوہارے کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو (اتقوا النار و لو بشق تمرۃ)۔سيرة ابن هشام، جلد 1، ص 501

قرآن اور سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ انسان کے ذہن کو بدلنا ہے۔ یہی اسلامی مشن کا اول بھی ہے اور یہی اس کا آخر بھی۔ مگر دنیا میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور خودتخلیقی نقشہ کے مطابق، ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اسی آزادی کی بنا پر ایسا ہواکہ کچھ لوگ پیغمبر اسلام کے مخالف  بن گئے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ اس آخری حد تک گئے کہ انہوں نے آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کردی۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس کی بنا پر پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو اپنے دفاع میں وقتی طورپر ہتھیار اٹھانا پڑا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف ایک استثنا (exception) کی۔

پیغمبر اسلام کی پیغمبرانہ عمر 23 سال ہے۔ اس 23 سال میں قرآن وقفہ وقفہ سے حسب حالات اترتا رہا۔اس اعتبار سے اگر مدت کی تقسیم کی جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کا ایک حصہ وہ ہے جو تقریبًا 20 سال کی مدت تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو مجموعی طورپر تقریبًا تین سال پر مشتمل ہے۔ 20 سالہ مدت میں قرآن میں جو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں، مثلاً عقیدہ، عبادت، اخلاق، انصاف، انسانیت، وغیرہ۔ جہاںتک جنگ کی آیتوں کا تعلق ہے، وہ صرف تین سال کی اس مدت میں اتاری گئیں جب کہ اہل اسلام کو عملاًمسلح جارحیت کا مسئلہ در پیش تھا۔

قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر قرآن میں کل آیتوں کی تعداد 6,236 ہے۔ ان میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طورپر جنگ (قتال) سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس تناسب کے اعتبار سے قرآن میں جنگ سے تعلق رکھنے والی آیتوں کی تعداد  ایک فیصد سے بھی کم ہے (precisely 0.6 per cent) ۔

اس قسم کا فرق ہر ملک کے دستور میں اور ہر مذہبی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً بائبل (New Testament) میں بہت سی پر امن تعلیمات ہیں۔ اسی کے ساتھ مسیح کی زبان سے اس میں یہ قول بھی موجود ہے کہ میں صلح کروانے نہیں آیا ہوں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:

I do not come to bring peace but a sword. (Matthew 10:34)

اسی طرح بھگوت گیتا میں بہت سی اخلاق اور حکمت کی باتیں ہیں۔ مگراسی کے ساتھ گیتا میں یہ بھی موجود ہے کہ کرشن نے ارجن سے اصرار کے ساتھ کہا کہ اے ارجن، آگے بڑھ اور جنگ کر۔ مگر ظاہر ہے کہ بائبل اور گیتا میںان اقوال کی حیثیت استثنا کی ہے، نہ کہ عموم کی۔

اسلام کی امن پسندی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ یک طرفہ حملہ کے ذریعہ عملی طورپر جارحیت کی صورت پیدا کر دے تو اس وقت ایک ناگزیر برائی(necessary evil) کے طورپر دفاع کی ضرورت کے تحت جنگ کی جائے گی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہےأُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا  (22:39) یعنی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔

مگر جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، ان کے خلاف محض دشمنی کی بنا پر جنگی کارروائی کی اجازت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت اہل اسلام کو ایک واضح ہدایت دیتی ہےاور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔

اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تم کو دشمن نظر آئے تو اس کو اپنا ابدی دشمن نہ سمجھ لو۔ ہر دشمن انسان کے اندر تمہارا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو اور اس  امکان (potential) کو واقعہ  (actual) بناؤ، اس کے بعد تمہیں کسی سے دشمنی کی شکایت نہ ہوگی۔

اس معاملہ کی مزید وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ اس روایت میں پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو بتاتے ہوئے آپ کی اہلیہ عائشہ نے کہاماخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین امرین إلا اختار أیسرھما (صحيح البخاري، حديث نمبر 3560؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2327) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔

یہ واضح ہے کہ طریق کار کی دو قسمیں ہیں۔ پرتشدد طریقِ کار (violent method) اور پر امن طریق کار (peaceful method)۔ اب دونوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی نزاعی معاملہ کے وقت پر تشدد طریق کار کو اپنانا مشکل انتخاب (harder option) ہے اور پر امن طریق کار کو اپنانا آسان انتخاب (easier option) ہے۔ اس کے مطابق، اسلام کی جنرل پالیسی یہ قرار پاتی ہے کہ جب بھی کسی فریق سے کوئی نزاع پیدا ہو تو اس سے مقابلہ کے لیے ہمیشہ پرامن طریق کار کا انتخاب کیا جائے، نہ کہ پر تشدد طریقِ کار کا۔ موجودہ زمانہ میں جب کہ آزادی کو انسان کاایک ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے تواب صرف پر امن طریق کار ہی کا انتخاب کیا جائے گا۔ کیوں کہ وقت کے مسلّمہ اصول کے مطابق، پر تشدد طریق کار کو اختیار کرنے میں تو یقینًا رکاوٹیں ہیں مگر پر امن طریق کار کو اختیار کرنے میںکوئی رکاوٹ نہیں۔

یہاں یہ اضافہ کرنا مناسب ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں محدود نوعیت کی جو چند لڑائیاں پیش آئیں ان میں دراصل زمانی عامل (age-factor) کام کررہا تھا۔ یہ لڑائیاں ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوئیں۔ یہ زمانہ مذہبی جبر اور مذہبی ایذا رسانی  (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں موجودہ قسم کا مذہبی ٹالرنس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبراسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلّم حق بن چکی ہے ۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لیے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔

اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ فریقِ مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا کیوں کہ اسلام کی تعمیری سرگرمیاں صرف پر امن اور معتدل ماحول ہی میں انجام دی جاسکتی ہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت ہے۔

پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس مدت میں مکہ کے مخالفین کی طرف سے بار بار زیادتیاں کی گئیں۔ مگر پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے ان زیادتیوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کیا۔ اسی صبر و اعراض کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ پیغمبراور آپ کے اصحاب نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ کیا کہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان تین سو میل کا فاصلہ ہے۔ مگر مکہ کے مخالفین نے خاموشی اختیار نہ کی بلکہ انہوں نے باقاعدہ طورپر مدینہ پر اقدامی حملے شروع کردئے۔ ان حملوں کو سیرت کی کتابوں میں غزوہ کہا جاتا ہے۔ چھوٹے اور بڑے غزوات کی تعداد 83 شمار کی گئی ہے۔ مگر پیغمبر اسلام اور مخالفین کے درمیان صرف تین بار باقاعدہ جنگ(full-fledged war) ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 80 غزوات میں پیغمبر اسلام نے اعراض اور حسن تدبیر کے ذریعہ دونوں فریقوں کے درمیان عملی مقابلہ کو ٹال دیا۔ صرف تین بار (بدر، احد، حنین) میں مجبورانہ حالات کی بنا پر آپ کوجنگی مقابلہ کرنا پڑا۔

جنگی مقابلہ سے اعراض کی اسی پالیسی کی ایک مثال وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ جب پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان جنگی صورت حال پیدا ہوگئی تو آپ نے یہ کوشش شروع کی کہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ جنگی حالات کو ختم کر دیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان پر امن فضا کو بحال کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے آپ نے اپنے مخالفین سے صلح کی گفت و شنید شروع کی جو دو ہفتہ تک جاری رہی۔ یہ گفت وشنید مکہ سے دس میل دور حدیبیہ کے مقام پر ہوئی اس لیے اس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ گفت وشنید کے دوران پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ فریقِ ثانی اپنی ضد کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ چنانچہ آپ نے فریقِ مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر ان سے امن کامعاہدہ کر لیا۔

اس معاہدہ کا مقصد یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کو ختم کیا جائے اور نارمل فضا کو قائم کیا جائے تا کہ معتدل حالات میں دعوت و تعمیر کا وہ کام کیا جاسکے جو اصلاً اسلامی مشن کا مقصود تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا معاہدہ ہوتے ہی حالات معمول پر آگئے اور اسلام کی تمام تعمیری سرگرمیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری ہوگئیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ اسلام پورے علاقہ میں پھیل گیا۔

یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جنگ صرف باقاعدہ طورپر قائم شدہ حکومت کا کام ہے، وہ غیرحکومتی افراد یااداروں کا کام نہیں۔ غیر حکومتی ادارے اگر کسی اصلاح کی ضرورت محسوس کریں تو وہ صرف امن کے دائرے میں رہ کر اپنی تحریک چلا سکتے ہیں ،تشدد کی حد میں داخل ہونا ان کے لیے ہر گز جائز نہیں۔

اس سلسلہ میں دو باتیں بے حد اہم ہیں۔ ایک یہ کہ غیر حکومتی تنظیموںکے لیے کسی بھی عذر کی بنا پر مسلح تحریک چلانا جائز نہیں۔ دوسرے یہ کہ قائم شدہ حکومت کے لیے اگر چہ دفاعی جنگ حکماًجائز ہے مگر اس کے لیے بھی اعلان کی شرط ہے، اسلام میں بلا اعلان جنگ قطعًا جائز نہیں ۔ ان دو شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ گوریلاوار اور پراکسی وار دونوں ہی اسلام میں ناجائزہیں۔ گوریلا وار اس لیے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے کی جاتی ہے اور پراکسی وار اس لیے کہ اس میں اگر چہ حکومت بھی شامل رہتی ہے مگراس کی شمولیت بغیر اعلان کے ہوتی ہے۔ اور اعلان کے بغیر جنگ کا جواز اسلامی حکومت کے لیے بھی نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ  (8:58)۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازمًا دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ نزاع کو متشددانہ ٹکراؤتک نہ پہنچنے دیا جائے۔ اسی پالیسی کو قرآن میں صبر واعراض کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میںایک مستقل اصول کے طورپر فرمایا کہالصُّلْحُ خَيْرٌ  (النساء، 4:128)۔ یعنی باہمی نزاع کے وقت صلح کرکے نزاع کو ختم کر دینا نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صلح یا مصالحت کا طریقہ اختیار کرنے سے یہ موقع مل جاتا ہے کہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ میں ضائع کرنے سے بچایا جائے اور ان کو پوری طرح تعمیری کاموں میں لگایا جائے۔ اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ (صحيح البخاري، حديث نمبر 3560؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2327؛ ابو داؤد، حديث نمبر 4785؛ سنن ابن ماجه، حديث نمبر 1984؛ مسند احمد، حديث نمبر 24549) یعنی تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن مانگو۔

اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ  (5:64) یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔

اس قرآنی آیت سے جنگ اور امن کے بارے میں اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لوگ باربار جنگ پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ دنیا کے مخصوص نظام کا تقاضا ہے جو مسابقت (competition) کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ مگر اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ دوسرے لوگ جب جنگ کی آگ بھڑکائیں تو وہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ اس آگ کو ٹھنڈا کردیں۔ گویا اہل اسلام کا طریقہ جنگ نہیں ہے بلکہ اعراض جنگ ہے۔ انہیں ایک طرف یہ کرنا ہے کہ جنگ کی حد تک جائے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ دوسری طرف ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امن کے پیغامبر بنیں۔ وہ دنیا میںامن کے تاجر ہوں، نہ کہ جنگ کے تاجر۔

اسلام کی یہی اسپرٹ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کو جب مدینہ میں اقتدار ملا تو آپ نے ایسا نہیں کیا کہ لوگوں کو اپنا ماتحت بنانے کے لیے ان سے جنگ چھیڑ دیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل سے گفت و شنید کرکے ان سے معاہدے کیے۔ اس طرح آپ نے پورے عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کو معاہدات کے ایک شیرازۂ امن میں باندھ دیا۔

اسلام کی تعلیم کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام ان اسباب کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہے جوجنگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔جنگ کرنے والا جنگ کیو ں کرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی سبب ہیں۔ ایک ہے دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ اور دوسرا سبب ہے سیاسی طاقت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ ان دونوں مقاصد کے لیے اسلام میں جنگ کا کوئی جواز موجود نہیں۔

جہاں تک دشمن کا معاملہ ہے، اس معاملہ میں جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن کی ایک آیت ابدی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کرو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔

اس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میںاسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کی دشمنی کو ختم کیا جائے، نہ کہ خود دشمن کو۔ اس کے مطابق، کوئی دشمن حقیقی دشمن نہیں ہوتا۔ ہر دشمن انسان کے اندر بالقوۃ طورپر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس لیے اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ حسن سلوک کے ذریعہ اس چھپے ہوئے انسان تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ وہ حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنالیں۔

قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔دشمن کے بارے  میں یہ حکم ہے کہ اس سے نفرت کا معاملہ نہ کیا جائے بلکہ حسن تدبیر کے ذریعہ اس کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کی جائے۔ البتہ اگر کسی کی طرف سے یک طرفہ طورپر حملہ کر دیا جائے تو ایسے حملہ آور کے مقابلہ میں دفاع کے طورپر جنگ کرنا جائز ہے۔ یہ حکم قرآن کی جن آیتوں سے معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا(2:190) یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑوجو تم سے لڑتے ہیں ، اورزیادتی نہ کرو۔

اس طرح کی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ کوئی فریق یک طرفہ طورپر اہل اسلام کے خلاف جارحانہ حملہ کردے۔ اس قسم کی عملی جارحیت کے بغیر اسلام میںجنگ کی اجازت نہیں۔

جنگ اور امن کے معاملہ میں اسلام کا جو بنیادی اصول ہے وہ قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے:فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ(9:7) یعنی پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو۔ اس قرآنی حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے درمیان باہمی تعلقات کااصول یہ ہے کہ اگر دوسرا فریق امن پر قائم ہو تو اہل اسلام کو بھی لازماً امن کی روش اختیار کرنی ہوگی۔ اہل اسلام ایسا نہیں کرسکتے کہ فریقِ ثانی کی پر امن روش کے باوجود کوئی عذر لے کر اس کے خلاف جنگی کارروائی کرنے لگیں۔ اس معاملہ میں عملی جارحیت کے سوا کوئی بھی دوسرا عذر قابل قبول نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں مکہ میںہوئی۔ 610ء میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ 23 سا ل تک پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں رہے۔ اس 23 سالہ مدت کے ابتدائی 13 سال آپ نے مکہ میں گزارے اور بعد کے 10 سال مدینہ میں۔ قرآن کی کچھ سورتیں مکی دو رمیں نازل ہوئیں اور کچھ سورتیں مدنی دور میں ۔ اس پیغمبرانہ مدت میں آپ نے کیا کیا۔

آپ نے لوگوں کواقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ(96:1) اور اس قسم کی دوسری غیر حربی آیتیں سنائیں۔ آپ لوگوں سے یہ کہتے رہے کہ أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا(مسند احمد، حديث نمبر 16023)۔ یعنی اے لوگو، تم لا الٰہ الا اللہ کہو کامیاب ہوجاؤگے۔

آپ نے لوگوں کو دعا اور عبادت کے طریقے بتائے۔ لوگوں کو اخلاق اورانسانیت کی تعلیم دی۔ لوگوں کو بتایا کہ دوسرے لوگ جب تم کو ستائیں تب بھی تم صبر واعراض کے ساتھ زندگی گزارو۔ آپ نے قرآن کوایک اصلاحی کتاب اور ایک دعوتی کتاب کے طور پر لوگوں کے درمیان عام کیا۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ دار الندوہ (مکہ کی پارلیمنٹ) میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کے بجائے جنت میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ آپ نے لوگوں کواپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ کعبہ جیسی مقدس عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے ہوں تب بھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیے بغیر تم اپنامشن پُرامن طورپر شروع کر سکتے ہو۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ آدمی اشتعال انگیز حالات کے درمیان اپنے آپ کو لوگوں کے خلاف نفرت سے بچائے اور پر امن رہ کر لوگوں کی خیرخواہی کا کام انجام دے، وغیرہ۔

پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی میں اس قسم کے جو غیر متشددانہ کام کیے وہ سب بلاشبہ عظیم اسلامی کام تھے۔بلکہ یہی نبوت کا اصل مشن ہے۔ اور جہاں تک جنگ کا تعلق ہے وہ صرف ایک استثنائی ضرورت ہے، اسی لیے فقہاء نے جنگ کو حسن لغیرہ بتایا ہے۔

Not for the sake of Islam, but due to some practical reasons.

 

صلح حدیبیہ

صلح حدیبیہ کیا ہے۔ صلح حدیبیہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ جب یہ صلح ہوئی تو اس کے بعد قرآن میں یہ آیت اتریإِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا(48:1)۔ یعنی یہ صلح تمہارے لیے فتح کی ایک یقینی ضمانت ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 ء میں شروع کیا۔آپ کا یہ مشن توحید کا مشن تھا۔ اُس وقت عرب میں بہت سے مشرک لوگ رہتے تھے۔ یہ لوگ آپ کے مشن کو پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے سخت مخالف بن گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ کئی سال تک لڑائی کا ماحول قائم رہا۔ لڑائی کے ماحول کی بنا پر دعوت اور تعمیر کا کام معتدل طورپر جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔

اس ناموافق ماحول کو ختم کرنے کے لیے پیغمبراسلام نے اپنے مخالفین سے صلح کی بات چیت شروع کردی۔ یہ بات چیت حدیبیہ کے مقام پر ہوئی۔وہ لوگ کڑی شرطیں پیش کرتے رہے۔ دو ہفتہ کی بات چیت کے بعد پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ اپنے مخالفین کی پیش کی ہوئی شرطوں کو یک طرفہ طورپر مانتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ کر لیا اور اس طرح جنگ کی حالت کو موقوف کردیا۔ اور اپنے اور مخالفین کے درمیان امن کی حالت قائم کردی۔

اس معاہدہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل اسلام کو دعوت وتعمیر کے مواقع حاصل ہوگئے۔ چنانچہ مثبت تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہوگیا۔ اس کے بعد صرف دو سال کے اندر اسلام کو اتنا زیادہ استحکام حاصل ہوا کہ جلد ہی خون بہائے بغیر پورے عرب میں اسلام کا غلبہ قائم ہوگیا۔

صلح حدیبیہ کوئی منفرد قسم کا واقعہ نہیں، یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی فرد یا قوم تنہانہیں ہے، بلکہ یہاں دوسرے بہت سے لوگ ہیں۔ ہر ایک کا انٹرسٹ الگ الگ ہے۔ اس بنا پر بار بار ایک اور دوسرے کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ایسی حالت میں صرف دو ممکن صورتیں ہیں—مسائل سے ٹکراؤ شروع کر دینا یا مسائل سے اعراض کرتے ہوئے آگے بڑھ جانا۔ پہلا طریقہ جنگ کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ صلح کا طریقہ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:وَالصُّلْحُ خَیْر( 2:128)۔ یعنی صلح کا طریقہ زیادہ مفید ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرآنی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صلح حدیبیہ کا معاملہ کیا جو اسلام کے لیے فاتحانہ صلح ثابت ہوئی۔

صلح یا ایڈجسٹمنٹ کا یہ طریقہ خود فطرت کا طریقہ ہے۔ مثال کے طورپر ایک بہتے ہوئے چشمہ کو لیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ چشمہ کے راستہ میں جب بھی کوئی پتھر آتا ہے تو وہ پتھر کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ پتھر کے کنارے سے راستہ نکال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص سڑک پر اپنی گاڑی دوڑاتا ہے تو وہ سامنے کی طرف سے آنے والی گاڑی سے ٹکراؤ نہیں کرتا۔ وہ کنارے کی طرف مڑکر آگے بڑھ جاتا ہے۔

اسی مصالحانہ طریقہ کا نام حدیبیہ ہے۔ حدیبیہ کے طریقہ کو ایک لفظ میں اس طرح بیا ن کیا جاسکتا ہے— مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔ یہ ایک ابدی اصول ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ خاندان کا معاملہ ہو یا سماج کا معاملہ یا کوئی بین اقوامی معاملہ، ہر جگہ کامیاب زندگی کا یہی واحد اصول ہے۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ چھوڑنے کا انجام صرف ٹکراؤ ہے اور ٹکراؤ سے کوئی مسئلہ کبھی حل نہیں ہوتا۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ اگر زندگی ہے تو ٹکراؤ اور جنگ کا طریقہ صرف موت۔

صلح حدیبیہ کا طریقہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ یہ طریقہ آدمی کو منفی سوچ سے ہٹا کر مثبت سوچ کی طرف لاتا ہے۔ وہ آدمی کو اس نقصان سے بچاتا ہے کہ وہ ٹکراؤ میں وقت ضائع کرتا رہے اور ممکن دائرہ میں موجود مواقع کو استعمال نہ کرسکے۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے ڈس ایڈوانٹج کو ایڈوانٹج میں تبدیل کرلے۔ وہ اپنے مائنس کو پلس بنا سکے۔ وہ اپنے نہیں میں ہے کا راز دریافت کرلے۔

 

تشددکا اسلامائزیشن

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پہلے انسان حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ایک ذاتی سبب سے اپنے بھائی ہابیل کو مار ڈالا۔ اس کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے :اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے۔ اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے ہیں۔( 5:32)

اس سے معلوم ہوا کہ خدائی شریعت میں انسان کو قتل کرنا ہمیشہ سے ایک بدترین جرم قرار دیا گیا ہے۔ مگر انسان اپنی سرکشی کی بناپر ہر زمانہ میں اس کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔ تاہم اس معاملہ میں قدیم وجدید کے درمیان ایک فرق پایا جاتا ہے۔ قدیم انسان یا تو ذاتی مفاد کے لیے کسی کو قتل کرتا تھا یا انتقام کے لیے۔ اس لیے قدیم زمانہ میں قتل کا معاملہ ایک حد کے اندر رہتا تھا۔ وہ لامحدود سفاکی کے درجہ کو نہیں پہنچتا تھا۔

موجودہ زمانہ میں قتل انسان کی ایک نئی صورت ظہور میں آئی ہے۔ اس کو نظریاتی قتل کہا جاسکتا ہے۔ یعنی ایک نظریہ بنا کر لوگوں کو قتل کرنا، نظریاتی جواز(ideological justification) کے تحت انسانوں کا خون بہانا۔ مبنی بر نظریہ قتل کے اس تصور نے انسان کے لیے ممکن بنا دیا کہ وہ قصور وار اور بے قصور کے فرق کو ملحوظ رکھے بغیر اندھا دھند لوگوں کو قتل کرے، اس کے باوجود اس کے ضمیر میں کوئی خلش پیدانہ ہو۔ کیوں کہ اپنے مفروضہ عقیدے کے مطابق وہ سمجھتا ہے کہ وہ حق کے لیے لوگوں کا قتل کر رہا ہے۔

نظریاتی قتل کے اس طریقہ کو بیسویں صدی کے نصف اول میں کمیونسٹوں نے ایجاد کیا۔ یہ لوگ کمیونزم کے فلسفہ جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) میں عقیدہ رکھتے تھے۔ اس عقیدہ کے مطابق، انقلاب صرف اس طرح آسکتا تھا کہ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو متشددانہ طورپر مٹا دے۔ اس عقیدے کے تحت ان لوگوں نے مختلف ملکوں میں پچاس ملین سے زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

نظریاتی قتل کی دوسری زیادہ بھیانک مثال وہ ہے جو مسلم دنیا میں ظہور میںآئی۔بیسویں صدی کے نصف اول میں اس انتہا پسندانہ نظریہ کو فروغ حاصل ہوا۔ اس نظریہ کو وضع کرنے اور پھیلانے میں موجودہ زمانہ کی دو مسلم جماعتیں خاص طورپر ذمہ دار ہیں—عرب دنیا میں الاخوان المسلمون، اور غیرعرب دنیا میں جماعت اسلامی۔

الاخوان المسلمون نے اپنے مخصوص نظریہ کے تحت یہ نعرہ اختیار کیا:القرآن دستورنا والجہاد منھجنا۔ یعنی قرآن ہمارا آئین ہے اور جہاد (متشددانہ طریقِ کار) کے ذریعہ ہمیں اس کو ساری دنیا میں نافذ کرنا ہے۔ عرب دنیا میں یہ نعرہ اتنا مقبول ہوا کہ سڑکوں پر یہ نغمہ سنائی دینے لگا:

ھلم نقاتل ھلم نقاتل                                فإن القتال سبیل الرشاد

فلسطین سے لے کر افغانستان تک اور چیچنیا اور بوسنیا تک جہاں جہاں اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کیا گیا وہ سب اسی نظریہ کا نتیجہ تھا۔

اسی طرح جماعت اسلامی نے یہ نظریہ بنایا کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں جو نظام رائج ہے وہ طاغوتی نظام ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس طاغوتی نظام کو مٹائے اور اس کی جگہ اسلامی نظام کو نافذ کرے۔ یہ کام اتنا ضروری ہے کہ اگر وہ فہمائش کے ذریعہ پورا نہ ہو تو اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ تشدد کی طاقت کو استعمال کرکے اہل طاغوت سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں اور اسلامی قانون کی حکومت ساری دنیا میں نافذ کردیں۔ پاکستان اور کشمیر جیسے مقامات پر اسلام کے نام سے جو تشدد ہورہا ہے وہ مکمل طورپر اسی خود ساختہ نظریہ کا نتیجہ ہے۔

11 ستمبر 2001ء سے پہلے اور 11 ستمبر 2001ء کے بعد دنیا کے مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے جو بھیانک تشدد ہوا یا ہو رہا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر انہی دونوں نام نہاد انقلابی تحریکوں کا نتیجہ ہے۔

ان دونوں جماعتوں کے بانیوں کی غلط فکری کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ انہوں نے جماعت اور اسٹیٹ کے فرق کو نہیں سمجھا۔ جو کام صرف ایک منظم اسٹیٹ کی ذمہ داری تھی اس کو انہوں نے اپنی بنائی ہوئی جماعت کی ذمہ داری سمجھ لیا۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، جہاد بمعنیٰ قتال اوراجتماعی شریعت کا نفاذجیسا کام مکمل طورپر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان مقاصد کے لیے جماعت بنا کر ہنگامہ آرائی کرنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔

اسلام میں جماعت کے جو حدود کار ہیں وہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ارشاد ہوا ہےاور چاہیے کہ تم میںایک جماعت ہو جو خیر کی طرف بلائے اور معروف کا حکم کرے اور منکر سے منع کرے، یہی لوگ فلاح کو پہنچنے والے ہیں(آل عمران، 3:104)۔ اس قرآنی ارشاد کے مطابق، غیر اہل حکومت کے لیے جماعت بنانا صرف دو مقصد کے لیے جائز ہے۔ ایک، پُرامن دعوت خیر، اور دوسرے، پُر امن نصیحت اور تلقین۔دعوت خیر سے مراد غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور امر بالمعروف، نھی عن المنکر سے مراد مسلمانوں کے اندر نا صحانہ ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی ہنگامہ آرائی کے لیے جماعت بنانا سراسر بدعت اور ضلالت ہے جس کا کوئی جواز اسلام میں نہیں۔ نیز واضح ہو کہ قرآن میں جماعت سے مراد گروہ ہے ،نہ کہ پارٹی۔

اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کے بانیوں نے جو خود ساختہ نظریہ سازی کی وہ شریعت کے بھی خلاف تھی اور فطرت کے بھی خلاف۔ اس قسم کی غیر فطری نظریہ سازی ہمیشہ تشدد سے شروع ہوتی ہے اور منافقت پر ختم ہوتی ہے۔لوگوں کے ذہن میں جب تک اپنے رومانی تصورات کا جنون ہوتا ہے وہ اپنے مفروضہ انقلاب کے لیے اتنے دیوانے ہوجاتے ہیں کہ استشہاد کے نام پر خود کش بمباری کو بھی جائز قرار دے لیتے ہیں۔ مگر جب حقائق کی چٹان  ان کے جنون کو ٹھنڈا کر دیتی ہے تو اس کے بعد وہ منافقانہ روش اختیار کر لیتے ہیں۔ یعنی فکر ی اور اعتقادی اعتبارسے بدستور اپنے سابق نظریہ کو ماننا، مگر عملی اعتبار سے مکمل ہم آہنگی کا طریقہ اختیارکرکے اپنے دنیوی مفادات کو محفوظ کر لینا۔

 

دہشت گردی کیا ہے

آج کل آتنک واد یا دہشت گردی (terrorism) کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ تقریباً ہر ملک میں اس موضوع پر لکھا اور بولا جارہا ہے۔ مگر میرے علم کے مطابق، ابھی تک اس کی کوئی واضح تعریف سامنے نہ آسکی۔ لوگ آتنک واد کی مذمت کرتے ہیں، مگر وہ بتا نہیں پاتے کہ آتنک واد متعین طور پر ہے کیا۔

راقم الحروف نے اس سوال کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق، غیر حکومتی تنظیموں کا ہتھیار اُٹھانا آتنک واد ہے:

Armed struggle by non-governmental organisations

اسلام آزادی کا حق تسلیم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، قومی یا سیاسی مقصد کے لیے پُر امن تحریک چلانے کا حق کسی بھی شخص یا جماعت کو حاصل ہے۔ یہ حق اُس کو اس وقت تک حاصل رہے گا جب تک وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جارحیت کا ارتکاب نہ کرے۔ اسلام میں ہتھیار کا استعمال یا کسی حقیقی ضرورت کے تحت مسلّح عمل کا حق صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کوحاصل ہے۔ غیرحکومتی تنظیمیں (NGOs) کو کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار اٹھانے کا حق حاصل نہیں (اس اسلامی حکم کی تفصیل میری کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے)۔

مجرم کو سزا دینا، حملہ آور کے مقابلہ میںدفاع کرنا، اس طرح کے امور جو بین اقوامی اُصول کے مطابق، کسی قائم شدہ حکومت کو مسلّح کارروائی کا حق دیتے ہیں۔ یہی خود اسلام کا اصول بھی ہے۔ اس اُصول کی روشنی میں ٹیررزم کی تعریف یہ ہے —  ٹیررزم اُس مسلح کارروائی کا نام ہے جو کسی غیرحکومتی تنظیم نے کی ہو۔ یہ غیر حکومتی تنظیم خواہ کوئی بھی عذر پیش کرے مگر وہ ہر حال میں ناقابلِ قبول ہوگا۔ ایک غیر حکومتی تنظیم اگر یہ محسوس کرتی ہے کہ ملک میں کوئی بے انصافی ہوئی ہے یا حقوق کی پامالی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو اُس کو صرف یہ حق ہے کہ وہ پُر امن جدوجہد کے دائرہ میں رہـتے ہوئے اپنی کوشش کو جاری کرے۔ وہ کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ نہ اختیار کرے۔

کوئی فرد یا کوئی غیر حکومتی تنظیم اگر یہ کہے کہ ہم تو پُر امن عمل چاہتے ہیں مگر فریقِ ثانی پُر امن عمل کے ذریعہ ہمیں ہمارا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ ایسی حالت میں ہم کیا کریں۔ جواب یہ ہے کہ اس معاملہ کی ذمہ داری حکومت پر ہے، نہ کہ غیر حکومتی تنظیم پر۔ اگر کسی کا یہ احساس ہو کہ حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہی ہے تب بھی اُس کے لیے جائز نہیں کہ وہ حکومت کا کام خود کرنے لگے۔ ایسی حالت میں بھی اُس کے لیے صرف دو میں سے ایک راستہ کا انتخاب ہیــــصبر یا پُر امن جدوجہد۔ یعنی یا تو پُر امن عمل کرنا، یا سِرے سے کوئی عمل ہی نہ کرنا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی دہشت گردی یا حکومتی تشدد کا حکم کیا ہے۔ یعنی حکومت اگر غیر مطلوب تشدد کا وہی کام کرے جو کوئی غیرحکومتی تنظیم کرتی ہے تو ایسی حالت میں اُس کا حکم کیا ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ حکومتی تشدد حکومت کے لیے اپنے حق کا بے جا استعمال ہے، جب کہ غیر حکومتی تنظیم کے لیے تشدد ایک ایسا فعل ہے جس کو کرنے کا اُسے کوئی حق ہی نہیں۔ اور یہ واضح ہے کہ حق کے بغیر کسی فعل کو کرنا اور حکماً حق رکھتے ہوئے اُس کا بےجا استعمال(misuse)  کرنا، دونوں ایک دوسرے سے نوعی طورپر مختلف ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر غیر حکومتی تنظیم تشدد کرتی ہے تو اُس سے اُس کا جواز پوچھے بغیر تشدد سے باز رہنے کا حکم دیا جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر کوئی باقاعدہ حکومت بے جا تشدد کرتی ہے تو اُس سے کہا جائے گا کہ تم کو چاہیے کہ اپنے حاصل شدہ حق کا صرف جائز استعمال کرو۔ حق کا ناجائز استعمال کرکے حکومت بھی اپنے آپ کو اُسی طرح مجرم بنالیتی ہے جس طرح کوئی غیر حکومتی تنظیم۔

مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھیے کہ کوئی باضابطہ سرجن اگر جسم کے غلط حصہ پر نشتر چلائے تو وہ اپنے حق کا بے جا استعمال کرنے کا مجرم ہوگا۔ ایک تربیت یافتہ سرجن کو صحیح مقام پر نشتر چلانے کا حق تو ضرور ہے مگر غلط مقام پر نشتر چلانے کا اُس کو کوئی حق نہیں۔ اس کے برعکس، اگر ایک غیر سرجن کسی انسان کے جسم پر نشتر چلانے لگے تو اُس کا ایسا کرنا ہر حال میں غلط ہوگا۔ کیونکہ ایک غیر سرجن کو نہ بظاہر درست مقام پر نشتر چلانے کا حق ہے اور نہ غلط مقام پر۔

 

فتح مبین کا راز

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔

صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لیے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو  (give and take) کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اپنے مخالفین کے اس مطالبہ کو مانا کہ وہ مکہ میں داخلہ کے بارے میں اپنے حق کوچھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں مخالفین اس پر راضی ہوئے کہ وہ اہل اسلام کے خلاف اپنی جنگی کارروائی کو ترک کر کے انہیں امن کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گے۔

اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو احساس شکست کے بغیر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہوں۔ اس دنیا میں پانا صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو دوسروں کو دینے کے لیے راضی ہو جائے۔ اس دنیا میںکامیاب اقدام کی خوش قسمتی صرف اس کو ملتی ہے جو دوسروں کو راستہ دینے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتا ہو۔

اب اس اصول کی روشنی میںکشمیر کے مسئلہ کو سمجھیے۔پاکستان کے لیڈروں نے کشمیر کے نزاع کو حل کرنے کے لیے جو پالیسی اختیار کی، وہ مکمل طورپر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں مذکورہ قرآنی اصول کو اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو جانا مگر انہوں نے فطرت کے قانون کو نہیں جانا۔

1947ء میں یہ مسئلہ بالکل سادہ تھا۔ جیسا کہ الرسالہ میں ایک سے زیادہ بار لکھا جاچکا ہے، اس وقت یہ مسئلہ اپنی فطری حالت میں تھا۔ اس وقت پاکستانی لیڈروں کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ حیدرآباد پر اپنے دعویٰ کو چھوڑدیںاور اس کے نتیجہ میں پورا کشمیر انہیں حاصل ہوجائے۔ مگر پاکستان کے لیڈراپنی ناقابل فہم نادانی کی بناپر ایسا نہ کرسکے اور یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تباہ کن نزاع کے طورپر باقی رہا۔

بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد 1971ء میں پاکستان کے 93 ہزار فوجی انڈیا کے قبضہ میں آگئے۔ اس وقت یہ ممکن تھا کہ ان 93 ہزار فوجیوں کو دے کر پاکستان سے کشمیر کے معاملہ کا مستقل تصفیہ کر لیا جائے مگر دوبارہ دونوں ملکوں کی قیادت ناکام رہی اور اس قیمتی موقع کے باوجود کشمیر کا مسئلہ بدستور غیرحل شدہ صورت میں پڑا رہا۔

2001ء کے آخر میںآگرہ میں کشمیر کے سوال پر دونوں ملکوں کے لیڈروں کی کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ صورت موجودہ  (status quo) کو مان کر اس کا تصفیہ کر لیا جائے۔ یعنی کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے قبضہ میںہے وہ پاکستان کا حصہ بن جائے اور اس کا جو حصہ انڈیا کے زیر انتظام ہے، اس کو انڈیا کا مستقل حصہ مان لیا جائے۔ مگر اس بار بھی دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا اور یہ نزاعی معاملہ پہلے جہاں تھا وہیں اب بھی باقی رہا۔

آخری صورت کے طورپر راقم الحروف نے الرسالہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس معاملہ میں ایک قسم کی ڈی لنکنگ پالیسی (delinking  policy) اختیار کر لی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کے سیاسی سوال کو دوسرے اہم تر انسانی سوالات سے الگ کر دیا جائے۔ کشمیر کے مسئلہ کوسختی کے ساتھ پرامن بات چیت کی میز پر رکھ دیا جائے اوراس کے سوا جو اہم تر غیر سیاسی معاملات ہیں ان میں پوری طرح نارمل پالیسی اختیار کر لی جائے۔ مثلاً تجارت، تعلیم، آمد ورفت، سیاحت، ثقافتی تعلقات اور دوسرے انسانی معاملات میںاسی طرح معتدل تعلقات قائم کر لیے جائیں جس طرح انڈیا اورنیپال کے درمیان یا یورپ کے ایک ملک اور دوسرے ملک کے درمیان ہیں۔ اس پالیسی کا یہ فائدہ ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ دوسری انسانی اور قومی ترقیوں میںرکاوٹ نہ رہے گا، جیسا کہ وہ اب بنا ہوا ہے۔

کشمیر کے معاملہ میں پاکستانی لیڈروں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ ابھی تک ماضی میں جی رہے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کی قیمت دوسرے فریق سے وصول کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فطرت کے ناقابلِ تغیر اصول کو نظر انداز کرکے اپنے خود ساختہ مفروضات کی بنیاد پر اپنی ایک دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ مگرعالم حقیقت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔

کشمیر کے بارے میں پاکستان کی موجودہ غیر حقیقت پسندانہ روش نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اب اگر پاکستان اپنی اس غیر حقیقت پسندانہ روش پر باقی رہتا ہے تو اس کا آخری نتیجہ دونوں ملکوں کے درمیان تباہ کن جنگ ہے۔ خدا نخواستہ اگر یہ جنگ ہوتی ہے تو وہ دونوں ملکوں کے لیے سخت نقصان کا باعث ہوگی۔ اگر چہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ فرق ہے کہ انڈیا ایک بڑا ملک ہونے کی بنا پر پھر بھی اس کو سہار لے گا۔ مگر جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، وہ نسبتاً بہت چھوٹا ملک ہے۔ جنگ کی صورت میںاس کا انجام یقینی طورپر یہ ہوگا کہ اب تو وہ کشمیر پر انڈیا کی بالادستی ماننے پر راضی نہیں لیکن جنگ کے بعد وہ اتنا تباہ ہوگا کہ وہ اپنی بحالی کے لیے کئی دوسرے ملکوں کی بالا دستی قبول کر لے گا تاکہ وہ ان کے تعاون کے ذریعہ زندہ رہ سکے۔ اور جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے، اس کا سیاسی نقشہ کسی تبدیلی کے بغیر وہی رہے گا جو کہ آج ہمیں نظر آتاہے۔

 

اسلام کے نام پر غیر اسلام

ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو امر یکہ میں رہتے ہیں انھوں نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ آج کل امریکہ میں اسلام کی تصویر اتنی خراب ہو گئی ہے کہ میں اپنے کو مسلمان بتاتے ہوئے گھبراتا ہوں۔ کوئی مجھ سے میر امذ ہب پوچھتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں مذ ہب انسانیت کو مانتا ہوں اگر میں اپنامذ ہب اسلام بتاؤں تو وہ فورا کہے گا— پھر تو تم ایک دہشت گر د ہو :

Then you must be a terrorist

انھوں نے کہا کہ اسلام کی یہ تصویر جدید میڈیا نے بنائی ہے ۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ بلکہ اسلام کی یہ تصویر خود مسلمانوں نے بنائی ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان جگہ جگہ اسلام کے نام پر تشدد کی تحریکیں چلار ہے ہیں ۔ اسی کو میڈیا کے لوگ رپورٹ کرتے ہیں۔ مسلمان اپنی یہ تحریکیں چونکہ اسلام کے نام پر چلاتے ہیں اس لیےوہ اسلام سے منسوب ہو کر میڈیا میں آتی ہیں۔ جب مسلمان خوداس قسم کی تحریکوں کو اسلام کے نام پر چلار ہے ہوں تو میڈیا ان کو کسی اور نام سے کیسے رپورٹ کرے گا۔ 

انھوں نے کہا کہ اس قسم کی متشد دانہ تحریکیں صرف کچھ مسلمان چلاتے ہیں، نہ کہ سارے مسلمان۔ پھر ان کی بنیاد پر سارے مسلمانوں کے بارے میں منفی رائے قائم کرنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی تحریکیں تھوڑے مسلمان چلاتے ہیں مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح  ہے کہ بقیہ مسلمان ان تحریکوں کی کھلی مذمت نہیں کرتے۔ وہ ان کے بارے میں خاموشی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے خود اسلامی اصول کے مطابق، یہ کہنا درست ہو گا کہ اسلام کے نام پر نفرت اور تشد د کی ان تحریکوں کو چلانے کے لیے اگر تھوڑے لوگ بر اہ ر است ذمہ دار ہیں تو بقیہ لوگ اس کے بالواسطہ ذمہ دار ۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ روش بے حد افسوسناک ہے۔ اسلامی حکومت اور نظام  مصطفی اور اسلامی جہاد کے نام پر ایسے افعال کیے جار ہے ہیں جو سر اسر اسلام کے خلاف ہیں۔ جو لوگوں کو خدا کے دین سے قریب کرنے کے بجائے انھیں اس سے دور کر رہے ہیں۔ اس اندوہناک صورت حال کو دیکھ کر ایک شاعر نے بجاطور پر کہا ہے

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی

جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

اسلامی نظام

موجودہ زمانہ میں اس قسم کی متشد دانہ تحریکیں نظام اسلام یا نظام مصطفی کے نام پر چلائی جارہی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے نام پر سیاسی لیڈری کر نے کے ہم معنی ہیں۔ سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے تحریکیں چلانا اسلام میں جائز ہی نہیں۔ اسلامی تحریک کا نشانه فرد کو اسلامائز کرنا ہے، نہ کہ حکومت یا اسٹیٹ کو اسلامائز کرنا۔ صوفیاء کرام نے سیکڑوں سال تک جو کام کیادہ فرد کو اسلامائز کرنے کا کام تھا۔ یہ کام پر امن طور پر مسلسل جاری رہا، وہ بھی نفرت اور تشدد پھیلانے کا ذریعہ نہ بن سکا۔ صوفیاء کے ذریعہ ہمیشہ امن اور انسانیت کو فروغ حاصل ہوا، جب کہ موجودہ نام نہادا نقلابی تحریکیں بر عکس نتیجہ ظاہر کر رہی ہیں۔ اسلام کے ساتھ نفرت اور تشد د کا وابستہ ہو نا صرف موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈروں کا پید اکر دہ ہے جنھوں نے خود ساختہ طور پر حکومت و اقتدار کو نشانہ بنا کر اپنی تحریکیں چلائیں ۔ ان لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کو نفرت اور تشد د کا دین بنادیا ہے حالانکہ خدا کا بھیجا ہوا اسلام امن اور خیر خواہی کا مذ ہب ہے ۔ مسلمان خیر خواہ ِانسانیت ہو تا ہے، نہ کہ فوجدار ِانسانیت۔

اسلامی جہاد

اگر ایک شخص میدان میں کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ پاؤں ہلائے یا اٹھ بیٹھ کرے اور کہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس کے کہنے سے اس کا یہ فعل نماز نہیں بن جائے گا۔ نماز کی کچھ متعین شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ نماز ہے ،ورنہ وہ نماز نہیں۔

یہی معاملہ اسلامی جہاد کا ہے ۔ جہاد کی کچھ متعین شرطیں ہیں۔ان شرطوں کی پابندی کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ اللہ کے نزدیک جہاد ہو گا۔ اور جس عمل میں یہ شر طیں نہ پائی جائیں وہ بے معنی ہنگامہ آرائی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں جہاد۔

اسلامی جہاد وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں کیا جائے۔ ملک یا مال جیسی دنیوی چیزوں کے لیے لڑائی چھیڑ نا اور اس کو جہاد بتانا صرف فساد ہے۔ ایسے لوگوں کو کسی بھی حال میں اسلامی جہاد کا کریڈٹ نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح اسلامی شریعت کے مطابق کسی کے خلاف جنگ کا اعلان باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ افراد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ بطور خود جہاد کے نام پر کسی کے خلاف لڑائی چھیڑ دیں۔افراد کو خواہ کوئی بھی شکایت ہو مگر انھیں لا زم پر امن دائرہ میں کام کرنا ہے ۔ جنگ اور تشد د کا طریقہ اختیار کر ناان کے لیے کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ اسی طرح جہاد (بمعنی قتال) مکمل طور پر ایک دفاعی عمل ہے۔ جارحانہ قتال اسلام میں قطعاً جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی قوم جارحانہ حملہ کرے تب بھی پہلے جنگ کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جنگ صرف اس وقت کی جائے گی جب کہ اس کو ٹالنے یا اعراض کر نے کی ساری کو ششیں ناکام ہو چکی ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے ان کو 80 سے زیادہ بار جنگ اور ٹکر اؤ میں الجھانا چاہا مگر ہر بار آپ نے حسنِ تد بیر سے جنگ کو ٹال دیا۔ صرف تین بار ، بدراور احد اور حنین کے مواقع پر آپ عملی طور پر جنگ میں شریک ہوئے جبکہ جنگ کے بغیر کوئی چارہ ہی باقی نہیں رہ گیا تھا۔

اس طرح خود حکومت کے لیے بھی جنگ کر ناصرف اس وقت جائز ہو گا جب کہ اس نے  جنگ کی ضروری تیاری کر لی ہو۔ ضروری تیاری کے بغیر جنگ میں کود نا خود کشی ہے، نہ کہ اسلامی معنوں میں کوئی جہاد۔ اسلام میں صرف نتیجہ خیز اقدام کی اجازت ہے۔ جس اقدام کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خود کشی کی ایک چھلانگ ہے، نہ کہ کوئی اسلامی یاد ینی عمل۔ اسلام میں جائز جنگ بھی ایک کھلے عمل کا نام ہے ، خفیہ انداز کی جنگی کاروائی کر تا اسلام میں ہر گز جائز نہیں۔ اس اصول کی بنا پر پراکسی وار ( proxy war) اسلام میں نا جائز قرار پاتی ہے۔ کیوں کہ پراکسی وار میں ملوث حکومت خفیہ مدد کے ذریعہ کسی اور گروہ سے تشد د کی کاروائی کراتی ہے ، وہ اعلان کے ساتھ اس میں شریک نہیں ہوتی۔

یر غمال بنانا

موجودہ زمانہ کے کچھ مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف وہ متشد دانہ کار روائیاں کر رہے ہیں جن کو ہائی جیکنگ یا یر غمال بنانا کہا جا تا ہے۔ اس قسم کے تمام طریقے اسلام میں سراسر ناجائز ہیں۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ یقینی طور پر اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہیں، ورنہ وہ ہرگز ایسی مذموم حرکتیں نہ کر یں۔ ہوائی جہاز کوہائی جیک کر نا بے قصور انسانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ اس قسم کی بزدلانہ حرکت انسانیت کے خلاف بھی ہے اور خدا کے دین کے خلاف بھی۔

یر غمال بنانے کا غیر اسلامی ہو نادور اول کے ایک واقعہ سے ثابت ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین جو مکہ میں تھے ،انھوں نے یہ خلاف انسانیت حرکت کی تھی کہ کچھ مسلمانوں کو اپنے یہاں قید کر رکھا تھا۔ اس دوران پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے در میان وہ معاہدہ ہوا جو معاہد ہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدہ کے وقت پیغمبر اسلام نے مخالفین سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تم لوگ ہمارے آدمیوں کو واپس کر و۔ البتہ خود یک طرفہ طور پر یہ اعلان فرمایا کہ اگر تمہارا کوئی آدمی ہمارے قبضہ میں آ جائے گا تو ہم اس کو اپنے پاس نہیں روکیں گے بلکہ اس کو تمہاری طرف واپس کر دیں گے ۔ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ فریق ثانی اگر ہمارے آدمیوں کو یر غمال بنائے تب بھی ہمارے  لیے جائز نہیں کہ ہم ان کے آدمیوں کو یر غمال بنانے لگیں۔

اصل ذمہ دار

موجود ہ ز مانہ میں اسلام کے نام پر نفرت اور تشد د کا جو طوفان برپا ہے، اس کا اصل ذمہ دار کون ہے ۔ اس کا اصل ذمہ دار وہ مسلم نوجوان نہیں ہیں جو نفرت اور تشدد کے مذکورہ کام میں مبتلا ہیں۔ بلکہ اس کے اصل ذمہ دار وہ نام نہاد اسلامی مفکرین ہیں جنھوں نے ان نوجوانوں کو اسلامی انقلاب کے نام پر ایک ایسا فکر دیاجو عملی طور پر یہی منفی نتیجہ پیدا کر سکتا تھا اور یہی اس نے پیداکیا۔

اسلام کا طریقہ دعوت کا طریقہ ہے ۔اس کے بر عکس، دو سر اطریقہ سیاست کا طریقہ ہے۔ دعوت کا طریقہ امن کی بنیاد پر چلتا ہے اور سیاست کا طریقہ ٹکراؤ کی بنیاد پر چلایا جا تا ہے۔ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مفکرین نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی تحر یک سیاست کی تحریک بن گئی۔ اور پھر غلط طور پر اسلام کے ساتھ وہ تمام نا محمود چیزیں جڑ گئیں جو صرف سیاست اور سیاسی تحریک کا حصہ ہیں۔

دعوت اپنے فطری مزاج کی بنا پر فریق ثانی کو اپنے امکانی دوست کے روپ میں دیکھتی ہے۔ سیاست کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے ۔ اہل سیاست اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر فریقِ ثانی کو اپنے حریف اور دشمن کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتی عمل سے رحمت کلچر وجود میں آتا ہے، اور سیاسی عمل سے صرف نفرت کلچر ۔ جس سماج میں رحمت کلچر ہو وہاں ہر قسم کی اچھائیاں فروغ پائیں گی، اور جہاں نفرت کلچر ظہور میں آئے وہاں ہر قسم کی برائی اور تشد د کھلے گا۔ نفرت کے ساتھ بھی کوئی خوبی کی چیز جمع نہیں ہو سکتی۔

کرنے کا اصل کام

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے موجودہ قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی یا تشد د نہ صرف یہ کہ غیر اسلامی ہے ، بلکہ وہ انتہائی حد تک بے فائدہ بھی ہے۔ قریبی ماضی کی تاریخ اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیر اقتدار تھے، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں۔ آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں۔ ان ملکوں کی تعداد تقریباً 60 تک پہنچ چکی ہے۔ گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔اس کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کر تا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی ہے۔ اب تعلیم اور سائنس اور ٹکنالوجی اور اقتہ ادیات کی اہمیت ہے۔ صرف سیاسی طور پر آزاد ہونا آج کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

موجود مسلم ممالک چو نکہ ان غیر سیاسی شعبوں میں دوسری قوموں سے بچھڑے ہوئے ہیں اس لیے عالمی نقشہ میں ان کا کوئی مقام نہیں۔ان کے عوام بھی تک زیادہ تر غیرتعلیم یافتہ ہیں۔ سائنس اورٹکنالوجی میں وہ ا بھی تک مغربی ملکوں کے محتاج ہیں۔ جد یدمعیار کے اعتبار سے انھیں اقتصادی ترقی حاصل نہیں۔ بظاہرسیاسی اقتدار کا مالک ہونے کے باوجود وہ زندگی کے تمام جدید شعبوں میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں حدیث کے مطابق، صرف ید سفلی (لینے والا ہاتھ )بنے ہوئے ہیں(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5355)۔ آزادی کے باوجودوہ عملاً محکومی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ مزید چشم کشا مثال یہ ہے کہ بہت سے مسلم ملک ہیں جہاں ان کے دعوی کے مطابق مفروضه اسلامی انقلاب آ چکا ہے ۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، الجزائر ، سوڈان، افغانستان، وغیره۔ مگر اصل مسئلہ کی نسبت سے یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی انہیں سنگین مسائل کا شکار ہیں، جن کا شکار دوسرے مسلم ممالک ہیں، جن کو سیکولر کہا جا تا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ علمی اور اقتصادی شعبوں میں یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی اتنا ہی پچھڑے ہوئے ہیں جتنا کہ دوسرے سیکولر مسلم ممالک۔ اس لیے آج کر نے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے۔اور بلاشبہ یہ سب غیر سیاسی کام ہیں ، ان کا سیاست اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ ان غیر سیاسی کاموں میں عمل کر ناخالص امن کے دائرہ میں ممکن ہے۔ ان میدانوں میں متحرک ہو نے کے لیے نہ نفرت پھیلانے کی ضرورت ہے اور نہ تشد د بھڑکانے کی۔ یہ سارے مثبت نوعیت کے کام ہیں ،ان کا منفی سر گر میوں سے کوئی تعلق نہیں۔

 

اسلامی جہاد

جہاد زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ جس چیز کو ہم عمل یا جدو جہد (struggle) کہتے ہیں اسی کا عربی مترادف جہاد ہے۔ جہاد نہ کوئی پر اسرار چیز ہے اور نہ وہ تشدد کے ہم معنی ہے۔ وہ سادہ طور پر بھر پور کوشش کے لیے بولا جانے والا ایک لفظ ہے۔

اردو میں ہم کہتے ہیں کہ جب میں بڑا ہوا اور جدو جہدحیات کے مرحلہ میں داخل ہوا۔ اسی طرح عربی میں کہا جاتا ہے کہبَذَل جُهْدَه ، اس نے اپنی پوری کوشش صرف کی۔ اسی طرح انگریزی میں کہتے ہیں کہ:

We must struggle against this prejudice

کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا ایک عام انسانی صفت ہے۔ اس کے لیے جس طرح ہر زبان میں الفاظ ہیں اسی طرح عربی زبان میں بھی الفاظ ہیں۔ جہاد کا لفظ بھی اصلاً یہی مفہوم رکھتا ہے۔ کوشش کے لیے عربی میں سعی ایک عام لفظ ہے۔ لیکن جہاد کے لفظ میں مبالغہ کا عنصر شامل ہے۔ یعنی بہت زیادہ کوشش کرنا۔

البتہ یہاں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ جب ہم کوشش یا جدوجہد یا اسٹرگل کا لفظ بولیں تو اس میں ثواب یا عبادت کا مفہوم شامل نہیں رہتا۔ لیکن جہاد کا لفظ جب اسلامی اصطلاح بنا تو اس میں اصطلاحی طور پر یہ مفہوم بھی شامل ہو گیا۔ یعنی کوشش کے معنی اگر صرف کوشش کے ہیں تو جہاد کا مطلب ایک ایسی کوشش کرنا ہے جو عبادت ہو اور جس میں مشغول ہونے پر انسان کو ثواب حاصل ہوتا ہو جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ (22:78)۔ یعنی اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔

جہاد لغت میں

جہاد کی اصل جُہد ہے۔ اس کے معنی کوشش کے ہیں مگر جہد کے مادے میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے:جَهَدَ اللَّبَنَ  ( کوشش کرکے سارا مکھن نکال لیا) اورأَجهَد دَابَّتَهُ (جانور کے اوپر طاقت سے زیادہ لادنا)۔ اسی طرح کہا جاتا ہے:بَذَل جُهْدَه( اس نے اپنی پوری طاقت صرف کی)۔ اسی طرح کہا جاتا ہے:لأَبْلُغَنَّ جُهَيْدَاي  فِي هَذَا الْأَمر ( میں معاملہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا) ۔جہاد یا مجاہدہ کا مفہوم بھی یہی ہے۔ قرآن میں آیا ہے :وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ (22:78)۔یعنی اللہ کے راستہ میں پوری کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔

مشہور عربی لغت لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ جھد کے معنی مبالغہ آمیز کوشش کے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے: جَهَدْت جَهْدي واجْتَهَدتُ رأْيي وَنَفْسِي حَتَّى بَلَغْتُ مَجهودي ( میں نے ہر طرح اپنی پوری کوشش کی یہاں تک کہ میں اپنی آخری کوشش تک پہنچ گیا)۔ اسی طرح کہا جاتا ہے:جَهَدَ الرَّجُلُ فِي كَذَا أَي جدَّ فِيهِ وَبَالَغَ (آدمی نے معاملے میں کوشش کی اور اپنی پوری کوشش کر ڈالی) جہاد د یا اجتہاد کا مطلب ہے: بَذَلَ الْوُسْعَ فِي طَلَبِ الأَمر (کسی کام میں اپنی پوری کوشش صرف کر نا) لسان العرب ،جلد3،ص 135۔

حالات کی نسبت سے کبھی جہاد یا جد وجہد کا یہ عمل دشمنوں سے مقابلہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت، باعتبار استعمال نہ کہ باعتبار لغت، اس میں محاربہ کا مفہوم بھی شامل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ امام راغب اصفہانی نے استعمال کی نسبت سے جہاد کی تین قسمیں بتائی ہیں : ظاہری دشمن سے مقابلہ اور شیطان سے مقابلہ اور نفس سے مقابلہ )الجھاد ثلاثۃ اضربمجاهدۃ العدو الظاهر، ومجاهدۃ الشیطان، ومجاهدۃ النفس(المفردات في غريب القرآن، ص 208۔

جہاد قرآن میں

قرآن میں بھی جہاد یا اس کے مشتقات اسی معنی میں آئے ہیں جس معنی میں وہ لغتِ عرب میں استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی کسی مقصد کے لیے مبالغہ آمیز کو شش کرنا۔ لفظ’’جہاد‘‘ قرآن میں چار بار استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ یہ لفظ کوشش اور جدوجہد کے معنی میں ہے، نہ کہ براہِ راست طور پر جنگ و قتال کے معنی میں۔

اس سلسلہ میں پہلی قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، یہ سب تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں دیتا ( 9:24)۔

اس آیت میں اہل اسلام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ قربانی کی حد تک جاکر اسلام کے دعوتی مشن میں پیغمبر کا ساتھ دیں۔ خواہ اس کام میں ان کے ذاتی مفادات مجروح ہوں یا مال اور تجارت کا نقصان ہو یا جسمانی مشقتیں برداشت کرنی پڑیں، ہر حال میں وہ اس دعوتی مشن میں پیغمبر کے ساتھی بنے رہیں۔ اس آیت میں جہاد فی سبیل اللہ کا لفظ اصلاً پیغمبر کے دعوتی مشن کے لیے آیا ہے، نہ کہ جنگ کے لیے۔

قرآن کی سورہ  الفرقانمیں حکم دیا گیا ہے کہتم منکرین کی بات نہ مانو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو(25:52)۔ اس آیت میں واضح طور پر جہاد سے مراد دعوتی جہاد ہے ۔ کیوں کہ قرآن کے ذریعہ جہاد کا کوئی دوسرا مطلب نہیں ہو سکتا۔ یہ لفظ تیسری جگہ قرآن میں اس طرح آیا ہے:إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي (60:1)۔ یعنی اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا مندی کی طلب کے لیے نکلے ہو۔ یہ آیت فتح مکہ سے کچھ پہلے اتری۔ مدینہ سے مکہ کا سفر جنگ کے لیے نہ تھا۔ وہ دراصل ایک پر امن مارچ تھا جو صلح حدیبیہ کی صورت میں نکلنے والے پر امن نتائج کو حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔چنانچہ اس موقع پر ایک مسلمان کی زبان سے یہ الفاظ نکلےالیوم یوم الملحمۃ( آج کا دن لڑائی کا دن ہے)۔ یہ سن کر رسول اللہ نے فرمایا کہ نہیں، آج کا دن رحمت کا دن ہےالیوم یوم المرحمۃ (كتاب المغازي للواقدي، جلد 2، صفحات 821-822)۔چوتھی بار قرآن میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے: وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ(22:78) یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس آیت میں جہاد سے مراد دعوتی جہاد ہے۔ یہ حقیقت اس کے سیاق سے بالکل واضح ہے۔

 

دشمن اور مُقاتِل کا فرق

قرآن کی سورہ فصلت میں ایک طرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک شخص اگر بظاہر تمہارا دشمن ہو تب بھی تم اس کے ساتھ احسن طریق پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے (41:34)۔دوسری طرف قرآن کی سورہ الممتحنہ میںارشاد ہوا ہے کہ جن لوگوں نے تم سے قتال نہیں کیا ان سے تم کو بھلائی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ مگر اللہ اس سے روکتا ہے کہ تم ان لوگوں سے بھلائی کے ساتھ معاملہ کرو جو تمہارے ساتھ قتال کر رہے ہیں(60:8)۔

ان دونوں آیتوں کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن عدو(enemy) اور مُقاتل (combatant) کے درمیان فرق کرتا ہے۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ بظاہر اگر کوئی شخص یا گروہ تمہارا دشمن ہو تب بھی تم کواس کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا چاہیے تا کہ دعوت کا عمل معتدل انداز میں جاری رہے۔ ظاہری دشمنی کو اختلاط (interaction) میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے کیوں کہ اختلاط سے دعوت کا عمل جاری رہتا ہے اور دعوت کا عمل دشمن کو بھی دوست بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ البتہ مُحارب یا مُقاتل (combatant) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عملاً اور یک طرفہ طورپر اہل ایمان کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ ہنگامی اصول یا جنگی اخلاقیات کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ حتی کہ ان کے ساتھ اس وقت تک قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے جب تک وہ جنگ سے باز نہ آئیں۔

یہ ایک بے حد اہم فرق ہے جس کو عملی زندگی میںاختیار کرنا ضروری ہے۔ اہل ایمان اگر اس فرق کو نہ سمجھیں تو وہ دشمن سے بھی مقاتل جیسا معاملہ کرنے لگیں گے، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلام کے دعوتی مصالح مجروح ہوں گے اور دعوت و تبلیغ کا مطلوب عمل رک جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ بالفعل مسلح جنگ چھیڑدے اس کے مقابلہ میں تو سخت احتیاط کا برتاؤ کیاجائے گا۔ حتی کہ معتدل تعلق سے بھی پرہیز کیاجائے گا۔ کیوں کہ یہ اندیشہ ہے کہ اس کے ذریعہ مُقاتل فریق اہل ایمان کے جنگی راز معلوم کرلے۔ مگر جہاں تک عام انسان کا تعلق ہے تو ظاہری دوستی یا ظاہری دشمنی کا لحاظ کیے بغیر ہر ایک سے یکساں انسانی تعلق قائم رکھا جائے گا۔ تا کہ اسلام کا دعوتی عمل غیر منقطع طورپر جاری رہے، وہ کسی حال میں رکنے نہ پائے۔

اسلام کی یہ واضح تعلیم ہے کہ حقیقی جنگ (genuine war)  میں بھی مقاتل اور غیر مقاتل کے درمیان فرق کیا جائے۔ یعنی مقاتل پر وار کیا جائے لیکن غیر مقاتل پر ہر گز وار نہ کیا جائے۔ ایسی حالت میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اُصول قدیم زمانہ کی جنگ میںممکن تھا۔ موجودہ زمانہ میں جنگ گولہ بارود سے لڑی جاتی ہے اور گولہ بارود کی جنگ میںمقاتل اور غیر مقاتل کی تفریق ممکن نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جب ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ جنگی اقدام کی صورت میں غیرمقاتل بھی ہلاک ہو جائیں گے تو جنگ ہی نہیں کی جائے گی۔ جنگ نہ کرنا اور جنگ کرکے غیر مقاتل کو ہلاک کرنا— دونوں میں سے پہلی صورت کمتر برائی (lesser evil) کی ہے اور دوسری صورت شدید تر برائی (greater evil) کی۔ اور جب انتخاب کمتر برائی اور شدید تر بُرائی کے درمیان ہو تو یقینی طورپر کمتر بُرائی کو لیا جائے گا اور شدید تر برائی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور یہی شریعت کا تقاضا بھی۔

موجودہ زمانہ میں اگر ایک طرف غیر موافق صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں غیر مقاتل کی ہلاکت سے پرہیز عملاً ممکن نہیں۔ تو اسی کے ساتھ خودموجودہ ترقیوں کے نتیجہ میں ایک موافق صورت حال بھی بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوئی ہے۔ وہ ہے جدید تعمیری امکانات۔

یہ جدید تعمیری امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ جنگ میں جیتنا یا ہارنا دونوں اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک گروہ جنگ جیت کر بھی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسرا گروہ جنگ ہار کر بھی ایسے پُر امن ذرائع پاسکتا ہے جن کواستعمال کرکے وہ کسی لڑائی کے بغیر ہی اعلیٰ کامیابی حاصل کرلے۔

اس معاملہ کی ایک مثال جاپان کی جدید تاریخ میں ملتی ہے۔ جاپان کودوسری عالمی جنگ میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر اُس نے اپنی تعمیر نو کے لیے دوبارہ جنگی منصوبہ نہیں بنایا۔ بلکہ عملاً مغلوبیت کو قبول کرتے ہوئے پُر امن دائرہ میں تعمیر نو کی جدوجہد شروع کردی۔ یہ منصوبہ اتنا کامیاب ہوا کہ پچیس سال میں جاپان کی تاریخ بدل گئی۔ جاپان کی یہ کامیابی جدید ذرائع کی بنا پر ممکن ہو سکی۔

اس معاملہ کی ایک برعکس مثال فلسطین میںملتی ہے۔ 1948 کے بعد فلسطینی مسلمانوں کے لیے جو صورت حال پیدا ہوئی اُس کو اُنہوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ کارروائی کے لیے کافی سمجھ لیا۔ مگر نتیجہ کیا نکلا۔ 1948 میں فلسطینی مسلمانوں کے پاس فلسطین کا آدھے سے زیادہ حصہ ملا ہوا تھا جس میں یروشلم بھی پورا کا پورا شامل تھا۔ مگر متشددانہ عمل کا انتخاب لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج فلسطینیوں کے پاس کچھ بھی نہیں۔ یکساں مدت میں فلسطینیوں کو متشددانہ عمل کے نتیجہ میں تباہی ملی اور ٹھیک اُسی مدت میں جاپان کا حال یہ ہوا کہ وہ اقتصادی اعتبار سے عالمی سُپر پاور بن گیا۔

 

مذہبِ امن

پیسیفزم(pacifism) ایک مستقل موضوع ہے جس پر صدیوں سے غور وفکر جاری ہے اور اس کے بارے میں اہل علم نے بہت کچھ لکھا ہے اور لکھ رہے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں پیسیفزم پر ایک تفصیلی مقالہ ہے جو 8 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ مقالہ جرمن پروفیسر موہلمان (Wilhelm Emil Muhlmann) کا لکھا ہوا ہے جو اس موضوع پر اکسپرٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پیسیفزم کے موضوع پر انگریزی میں چھپی ہوئی چند کتابوں کے نام یہ ہیں

1.     E. L. Allen, F.E. Pollard, and G. A. Sutherland, The Case for Pacifism and Conscientious Objection. 1946.

2.     Hannah Arendt, On Violence. 1970

3.     Raymon Aron, Peace and War. 1962

4.     C.J. Cadoux, Christian Pacifism Re-examined. 1940

5.     Ted Dunn, Alternatives to War and Violence: A search. 1963.

6.     Carl Joachim Friedrich, Inevitable Peace. 1948

7.     Richard Gregg, The Power of Non-violence. 1966

8.     Aldous Huxley, An Encyclopaedia for Pacifism. 1937.

9.     Ralph T. Templin, Democracy and Non-Violence. 1965.

10.    Quincy Wright, A Study of War. 1965.

امن پسندی یا مذہبِ أمن (Pacifism) صدیوں پُرانی ایک تحریک ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا سے جنگ کا خاتمہ کر دیا جائے تاکہ انسانی سماج میں مستقل طور پر امن کی حالت قائم ہو۔وہ تحریکیں جن کو عدمِ تشدد کی تحریک (non-violent movement) کہا جاتا ہے، اُن کا مقصد جزئی یا بنیادی طورپر یہی رہا ہے۔

پیسیفزم کی یہ تحریک تاریخ کے تقریباً تمام دوروں میں پائی جاتی رہی ہے۔ کبھی مذہبی بنیاد پر اور کبھی فلسفیانہ بنیاد پر اور کبھی اخلاقی بنیاد پر۔ پیسیفزم کے ماننے والوں میںایک گروہ وہ ہے جو امن برائے امن کا قائل ہے۔ اُس کے نزدیک امن کی تعریف ہے عدم جنگ (absence of war)۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو امن کے ساتھ انصاف کو ضروری قرار دیتا ہے۔ وہ امن کے ساتھ انصاف (peace with justice) کی وکالت کرتا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف امن ایک منفی امن (negative peace) ہے اور امن مع انصاف مثبت امن (positive peace) ۔

گاندھی عدم تشدد کے علم بردار تھے۔ مگر کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ گاندھی کا عدم تشدد (non-violence) محدود مقصد کے حصول کے لیے تھا۔ اسی لیے وہ 15 اگست 1947 کو اچانک ختم ہوگیا۔ اُن کی تحریک کا اصل مقصد برٹش رول کو ختم کرنا تھا، نہ کہ حقیقۃً ملک میں ایک پُر امن سماج قائم کرنا۔

Gandhi’s policy of non-violence was not to establish peace in the society, but to stage a coup in order to oust the British rule. He was successful, but not in the first sense rather in the second sense.

امن آزادی کا ایک عمل ہے، نہ کہ مجبوری کا عمل۔ مجبور کن امن جبر ہے وہ امن نہیں۔ امن وہ ہے جو ذہنی انقلاب کے ذریعہ آئے۔ قدیم زمانہ میں رومیوں نے محدود طورپر اپنی ریاست میں امن قائم کیا تھا جس کو وہ رومی امن (Pax Romana) کہتے تھے۔ اسی طرح بیسویں صدی میں سوویت یونین میںبظاہر امن پایا جاتا تھا جس کو کمیونسٹ امن کا نام دیا گیا۔ مگر یہ دونوں جبری امن تھے، اور جبری امن کوئی مطلوب امن نہیں۔

کچھ مفکرین امن کے لیے عالمی ریاست  (world state) کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی ریاست کا قیام کبھی ممکن نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ پُر امن معاشرہ ذہنی تربیت اور فکری انقلاب کے ذریعہ وجود میںلایا جاسکتا ہے، نہ کہ کسی عالمی حکومت کے مرکزی کنٹرول کے ذریعہ۔ مغرب کی نشأۃ ثانیہ کے بعد بہت سے مغربی مفکرین نے جنگ کے بغیر دنیا کا خواب دیکھا مگر یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔

ڈَچ فلسفی اور ہیومنسٹ اریسمس (Erasmus)  1466 میں روٹرڈم میں پیدا ہوا اور 1536 میں اُس کی وفات ہوئی۔ اُس کی تعلیم یہ تھی کہ انسانیت کا سب سے اونچا آئیڈیل امن اور انسانی اتحاد ہے:

He taught that the highest ideal of mankind would be peace and concord. (13/849)

اس میں کوئی شک نہیں کہ عملی اعتبار سے امن تمام مطلوب چیزوں میں سب سے بڑا مطلوب ہے۔ اس لیے کہ کسی بھی مثبت یا تعمیری کام کے لیے انسانی آبادی میںامن کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ امن کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔

عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ امن کے قیام کے سلسلہ میں مذہب کی زیادہ اہمیت نہیں۔ اُن کے نزدیک تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مذہب کے ذریعہ امن کبھی قائم نہ ہوسکا:

Efforts to confirm a lasting peace through religious sanctions have had little effect. (13/846)

راقم الحروف کو اس نظریہ سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ ایک ناقص مطالعہ کی بنیاد پر قائم کیا گیاہے۔ یہ حضرات جب قیامِ امن کے سوال پر غور کرتے ہیں تو وہ اسلام کو حذف کرکے صرف دوسرے مذاہب کے مطالعہ کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔ کیوں کہ غلط طورپر یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام پورے معنٰی میں امن کا مذہب ہے۔ اسلام نے پہلی بار عملی طورپر امن کا نظام قائم کیا اور انسانیت کے لیے پُر امن زندگی کے بند راستے کھول دیے۔

یہاں اسلام سے میری مراد اسلام کا دور اوّل ہے جو اسلام کو سمجھنے کے لیے گویا نمائندہ حیثیت رکھتا ہے۔ اس دور میں اسلام کے زیر اثر دو بڑے واقعات ہوئے۔ (1)  امن کے راستہ کی رکاوٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینا۔ (2)  نظریاتی اور عملی دونوں اعتبار سے امن کا ایک کامل ماڈل قائم کرنا۔

یہ صحیح ہے کہ اسلام کے دور اول میںکچھ لڑائیاں نظر آتی ہیں۔ مگر ان لڑائیوں کا مقصد عین وہی تھا جس کو اہل علم ان الفاظ میں بیان کرتے رہے ہیں— آخری جنگ تمام جنگوں کو ختم کرنے کے لیے:

Last war to end all wars (13/851)

پیغمبر اسلام 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 632ء میں مدینہ میںآپ کی وفات ہوئی۔ جیساکہ معلوم ہے، اُس زمانہ میں دنیا میں شہنشاہیت کا نظام قائم تھا۔ یہ نظام ہزاروں سال سے چلا آرہا تھا۔ اس سیاسی نظام نے انسانی آزادی کا خاتمہ کردیا تھا۔ بادشاہ کی مرضی واحد فیصلہ کُن طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔

آزادی اور امن کے قیام کے لیے اس جبری نظام کاخاتمہ ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے محدود مدت کے لیے طاقت کا استعمال کیا تا کہ اس نظام کو ختم کردیا جائے۔ یہ نظام اولاً عرب میں ختم کیا گیا۔ اُس کے بعد اُس زمانہ کے دو سب سے بڑے شہنشاہی نظام رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سے اُن کا ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میںپیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو کامیابی حاصل ہوئی اور دونوں ایمپائر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئے۔

فرانس کے مؤرخ ہنری پرین(Henry Pyrenne) نے اس قدیم نظام کو مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ اُس نے لکھا ہے کہ اہل اسلام اگر اس مطلق شہنشاہیت کو نہ توڑتے تو دنیا میںکبھی آزادی اور امن کا دور نہ آتا۔

جہاد کیا ہے

جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طورپر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔

جہاد اصلاً پُر امن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنٰی نہیں۔ کبھی توسیعی استعمال کے طورپر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنٰی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کیے جاتے ہیں

1۔  قرآن میں ارشاد ہوا ہے:وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا( 29:69)۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔اس آیت میںتلاشِ حق کو جہاد کہاگیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔

2۔  اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہے: وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ( 49:15)۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔

3۔  اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہے: وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا(25:52)۔ یعنی غیرمومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پُر امن جدوجہد کرو۔

4۔  اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، حديث نمبر 23967)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑکر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طورپر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طورپر کسی جنگ کے میدان میں۔

5۔  ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نِعْمَ الجِهَادُ الحَجُّ (صحيح البخاري، حديث نمبر 2876)۔ یعنی حج کیا ہی اچھا جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔

6۔  ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا:فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ(صحيح البخاري، حديث نمبر 3004)۔ یعنی تم اپنے والدین میںجہاد کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔

اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پُرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پُر امن دائرہ کے اندر جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پُر امن جدو جہد (peaceful struggle) ہے۔

ُعسر میں   ُیسر

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بیشک عسر کے ساتھ یُسر ہے (الانشراح، 94:5-6)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا فطرت کے جس قانون پر چل رہی ہے اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ مشکل کے ساتھ آسانی موجود رہے۔ یہاں ہمیشہ رکاوٹ کے ساتھ نکاس کا راستہ باقی رہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیامیںامن کی حالت کو مسلسل قائم رکھنے کا راز کیا ہے۔ وہ ہے— رکاوٹوں سے ٹکرائے بغیر اپنا راستہ نکالنا۔ انسانی سماج میں امن ختم ہونے کا سبب ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ افراد یا جماعتوں کے راستہ میں جب بھی کوئی رکاوٹ آتی ہے تو وہ یہ چاہنے لگتے ہیں کہ رکاوٹ کو توڑ کر اپنے لیے ہموار راستہ بنائیں۔ یہی مزاج امن شکنی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس لیے لوگوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ کوئی مشکل پیش آجائے تو تم اُس کو رکاوٹ نہ سمجھو بلکہ یہ یقین رکھو کہ جہاں مشکل ہے وہیں آسانی بھی ہے۔ جہاں سفر بظاہر رُک رہا ہے، وہیں سے نئے سفر کا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔

آپ کسی پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ پہاڑ کی چوٹی سے چشمے جاری ہو کر تیزی سے میدان کی طرف بہہ رہے ہیں۔ ان چشموں کے راستہ میں بار بار پتھر آتے ہیں جو بظاہر چشمہ کا راستہ روکنے والے ہیں۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی پتھر کسی چشمہ کا راستہ روک دے۔

اس کا سادہ راز، ایک لفظ میں، اعراض ہے۔ یعنی ٹکراؤ سے بچ کر اپنا راستہ نکالنا۔ چنانچہ جب بھی چشمہ کے سامنے کوئی پتھر آتا ہے تو ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر چشمہ یہ کرتا ہے کہ دائیں یا بائیں مڑ کر اپنا راستہ نکال لیتا ہے اور آگے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ وہ راستہ کے پتھر کو ہٹانے کے بجائے خود اپنے آپ کو ہٹا لیتا ہے۔ اس طرح کسی ٹھہراؤ کے بغیر چشمہ کا سفر برابر جاری رہتا ہے۔

یہ فطرت کا سبق ہے۔ اس طرح فطرت عمل کی زبان میں انسان کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ مشکلات سے ٹکرانے کے بجائے مشکلات کو نظر انداز کرو۔ رکاوٹوں کو توڑنے کے بجائے رکاوٹوں سے ہٹ کر اپنا عمل جاری رکھو۔ اس طریقِ عمل کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive  status-quoism)  کہا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کامطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اسی پالیسی کو اختیار کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ ایک ایسا انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے جس میں اتنی کم جانیں ہلاک ہوئیں کہ اُس کو بلاشبہ ایک غیر خونی انقلاب (bloodless  revolution)  کہا جاسکتا ہے۔

پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کی یہ پالیسی موجودہ دنیا میں امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا سب سے بڑا سبب اسٹیٹس کو (status quo) کو توڑنے کی کوشش ہے، اور امن کے قیام کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اسٹیٹس کو  کو مان کر بقیہ دائرہ میں اپنی تعمیر کی جائے۔

اسلام میں جہاد کا تصور

جہاد ایک عربی لفظ ہے۔ اس کے معنٰی سادہ طور پر کوشش کرنے کے ہیں۔ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے وہ پر امن جد وجہد کے ہم معنٰی ہے۔ توسیعی مفہوم کے اعتبار سے جہاد کو جنگ کے معنٰی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر عربی میںجنگ کے لیے اصل لفظ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔

موجودہ زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر جنگ اور تشدد کے معنٰی میں بولا جاتا ہے۔ میڈیا کے کثرتِ استعمال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھا جانے لگا۔ مثلاً لندن کے انگریزی روزنامہ ٹائمس (The Times) میںایک آرٹیکل چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے— ایک مذہب جو تشدد کی اجازت دیتا ہے:

A religion that sanctions violence

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں پیغمبر اسلام کو رحمت للعالمین ( 21:107)كی حیثیت سے متعارف کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو دین لائے وہ دنیا کے لیے دین رحمت تھا۔ ایسے دین کی تصویر متشددانہ مذہب کی کیسے بن گئی۔ جواب یہ ہے کہ دو قسم کی غلط فہمیاں اس خلاف واقعہ تصویر کی ذمہ دار ہیں۔ ایک، نظریہ اور عمل میں فرق نہ کرنا۔ دوسرے، استثنا کو عموم کا درجہ دینا۔

1۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نظریہ کی روشنی میںعمل کو جانچا جاتا ہے، نہ کہ عمل کی روشنی میں نظریہ کو جانچا جانے لگے۔ مثلاً اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اس کی ممبر قوموں کے رویّہ کو جانچا جائے گا، نہ یہ کہ ممبر قوموں کی عملی روش کی روشنی میں چارٹر کا مفہوم متعین کیاجائے۔ اسی طرح اس مسئلہ کے علمی مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا جائے۔

مثلاً مسلمانوں کی ایک تعداد ان قبروں کو پوجتی ہے جس میں کسی بزرگ کو کبھی دفن کیا گیا تھا۔ اس کو دیکھ کر بت پرست لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہبِ شرک اور اسلام کے مذہب توحید میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ ہندو دھرم میں کھڑا کر کے پوجا جاتا ہے اور اسلام دھرم میں لِٹا کر پوجا جاتا ہے۔ مگر یہ تقابل درست نہیں۔ کیوں کہ جو مسلمان قبروں کو پوجتے ہیں وہ ان کا ایک انحرافی فعل ہے، اس کا اسلام کی اصل تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔

یہی معاملہ جہاد کا ہے۔ جہاد بلاشبہ ایک پر امن عمل ہے۔ لیکن اگر محمود غزنوی اور اورنگ زیب کی متشددانہ کارروائیوں کو اسلامی جہاد بتایا جائے یا موجودہ زمانہ میں جو مسلمان مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں ان کو جہاد کہا جائے تو یہ رائے قائم کرنے کا صحیح طریقہ نہ ہوگا۔ صحیح علمی طریقہ یہ ہے کہ قرآن وسنت کی ثابت شدہ تعلیمات کو اسلامی نظریہ کا ماخذ بنایا جائے اور مسلمانوں کی کارروائیوں کو اس کی روشنی میں جانچا جائے۔ مسلمانوں کا جو عمل اسلام کے نظریۂ جہاد پر پورا نہ اترے اُس کو رد کردیا جائے۔

2۔   غلط فہمی کا دوسرا سبب استثنائی تعلیم کو عمومی تعلیم کا درجہ دینا ہے۔ قرآن میں تقریباً چھ ہزار آیتیں ہیں۔ ان میںسے بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو جہاد بمعنٰی قتال سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی ایک فیصد سے بھی کم آیتیں، زیادہ متعین طور پر اعشاریہ 5 فیصد (0.5 per cent)۔

اصل یہ ہے کہ قرآن 23 سال کی مدت میں وقفہ وقفہ سے اترا۔ جیسے حالات پیداہوتے تھے اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے احکام نازل کر دئے جاتے تھے۔ اس 23 سال کو دو مختلف مدتوں میںتقسیم کیاجاسکتا ہے۔ ایک 20 سال کی مدت اور دوسرے تین سال کی مدت۔ 20 سال کی مدت میں قرآن میںوہ احکام اترے جو ایمان، اخلاص، عبادت، اخلاق، عدل، اصلاح سے تعلق رکھتے تھے اور تین سال کی مدت میں جنگ کے احکام اترے جب کہ پیغمبر اسلام کے مخالفوں نے یک طرفہ طورپر حملہ کر کے اہل اسلام کے لیے دفاع کا مسئلہ پیدا کردیا تھا۔ گویا قرآن میں جہاد بمعنٰی قتال کی آیتوں کی حیثیت استثنا کی ہے اور دوسری آیتوں کی حیثیت عموم کی۔

استثنا اور عموم کا یہ فرق ہرجگہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر گیتا ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب ہے۔ اس میں حکمت کی بہت سی باتیں ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ گیتا میں کرشن جی ارجن سے کہتے ہیں کہ ہے ارجن، لڑائی کے لیے تیار ہو اور جنگ کر۔

O Arjun, be ready and fight. (Chapter 3, 11)

پوری گیتا کو پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ جنگ کی بات اس میں استثنا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر صرف اسی استثنائی حصہ کو لیا جائے اور اس کو جنرلائز کرکے اسی سے گیتا کی مجموعی تعلیم نکالی جائے تو یہ ایک غیر علمی طریقہ ہوگا اور گیتا کوصحیح طورپر سمجھنے میں رکاوٹ بن جائے گا۔

اسی طرح بائبل میںآیا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ:

Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword. (Matthew 10/34)

حضرت مسیح کے پورے کلام کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کا یہ قول استثنائی قول ہے۔ یہی ان کی عمومی تعلیم نہیں۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح کے پیغام کو متعین کرنے کے لیے ان کے عمومی اقوال کو دیکھا جائے گا۔ بعض استثنائی اقوال کو لے کر مسیح کی عمومی تصویر بنانا درست نہیں ہوسکتا۔

یہی کسی کتاب کے مطالعہ کا علمی طریقہ ہے۔ یہی طریقہ گیتا اور بائبل کے مطالعہ کے لیے بھی درست ہے اور یہی طریقہ قرآن کے مطالعہ کے لیے بھی درست۔

اب قرآن اور حدیث کے حوالوں کی روشنی میں جہاد کا مفہوم متعین کیجئے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے:وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا(29:69)۔ یعنی جو لوگ اللہ میں جہاد کریں گے اللہ انہیں اپنے راستے دکھائے گا۔ اس آیت میں جہاد سے مراد وہ کوشش ہے جو سچائی کی تلاش میں یا اللہ کی معرفت حاصل کرنے میں کی جائے۔ اس آیت میںایک ایسے عمل کو جہاد کہا گیا ہے جو مکمل طورپر ایک فکری جستجو (intellectual pursuit) کی حیثیت رکھتی ہے۔

کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے

کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام میں دفاع کے لیے لڑنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ ہر مذہبی اور غیر مذہبی سسٹم میں اس کی اجازت ہے۔ مگر تشدد میرے نزدیک اس سے الگ ایک اور فعل کا نام ہے۔ اس پہلو سے اسلام میں قطعاً تشدد کی اجازت نہیں۔ تشدد کا لفظ عام طورپر جس مفہوم میں بولا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا جائے۔ اور اس قسم کے تصور کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ کوئی شخص کسی کو اپنا دشمن سمجھے تو اس بنا پر اُس کے لیے جائز نہیں ہوجاتا کہ وہ اُس کو ختم کرنے کے نام پر اُس کے خلاف تشدد کرنے لگے۔

قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں دشمن اور جارح کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اگر کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کے خلاف یک طرفہ طورپر متشددانہ جارحیت کرے تو قرآن کے مطابق، اُس کو حق ہے کہ وہ ایسے جارح کے خلاف دفاعی کارروائی کرے اور بقدرِ ضرورت جوابی تشدد کا استعمال کرے۔ قرآن کی سورہ الحج میںکہا گیا ہے کہ لڑنے کی اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف لڑائی کی جارہی ہے:

Permission of fighting is given to those who are attacked. (22:39)

مگر دشمن کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔دشمن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم عین وہی ہے جو مسیح کی زبان سے بائبل میں اس طرح آئی ہے کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو:

Love your enemy (Luke 6-31)

قرآن میں دشمنانہ سلوک کا جواب دشمنانہ سلوک کے ساتھ دینے سے منع کیا گیا ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میںدشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا  (41:34)۔

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، دشمن سے لڑنا نہیں ہے بلکہ دشمن کو اپنا دوست بنانا ہے۔ اسلام کے مطابق، ہر انسان اصلاً مسٹر نیچر ہے۔ وہ صرف وقتی طورپر کبھی مسٹر دشمن بن جاتا ہے۔ اگر اُس کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کیاجائے تو وہ اپنی فطرت کی طرف لوٹ آئے گا۔ اور ماضی کا دشمن حال کا دوست بن جائے گا۔

اب غور کیجئے کہ کوئی شخص تشدد کیوں کرتا ہے۔ اس کا ایک سبب آئیڈیالاجیکل ایکسٹریمزم ہے۔ جہاں ایکسٹریمزم نہ ہو وہاں تشدد بھی نہ ہوگا۔ چنانچہ اسلام میں ایکسٹریمزم کو منع کرکے اس قسم کے تشدد کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اسلام نے کہا کہ دین میںکسی قسم کا غلو نہیں (سنن النسائي، حديث نمبر 3057؛ سنن ابن ماجه، حديث نمبر 3029؛ مسند احمد، حديث نمبر 1851)

There is no extremism in the religion of Islam.

اسی طرح تشدد کا ایک سبب غصہ ہے۔ اور اسلام میں غصہ کو ایک بہت بڑی اخلاقی بُرائی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں (الشوریٰ،42:37)۔اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اگر اسلام کی اس تعلیم کے مطابق لوگ ایسا کریں کہ جب انہیں کسی پر غصہ آئے تو وہ اُس کو معاف کردیں، ایسی صورت میں تشدد کی نوبت ہی نہ آئے گی۔

تشدد کو استعمال کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی یہ سمجھ لیتا ہے کہ تشدد ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اس طاقتور ذریعہ کو استعمال کرکے وہ اپنے مقصد کو حاصل کرسکتاہے۔ مگر قرآن میںاس ذہن کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قرآن کے مطابق، تشدد صرف ایک بے نتیجہ قسم کا منفی رد عمل ہے، وہ کسی مقصد کے حصول کا کوئی مؤثراور مفید ذریعہ نہیں۔

قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ کسی سے تمہاری نزاع قائم ہو تو نزاع کو ٹکراؤ تک نہ جانے دو جوآخر کار تشدد بن جاتا ہے۔ بلکہ نزاع کو مصالحانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردو۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ صلح بہتر ہے (4:128)

Reconciliation is the best.

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب کسی سے کسی معاملہ میں نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو اُس کے حل کے لیے مصالحانہ طریقِ عمل(conciliatory course of action) اختیار کرو، نہ کہ منازعانہ طریق عمل confrontational course of action) (۔  ظاہر ہے کہ اگر اسلام کی اس تعلیم کو اختیار کیاجائے تو نزاع پیدا ہونے کے باوجود تشدد کی نوبت نہیں آئے گی۔

اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام کا ایک قول بہت زیادہ مددگار ہوسکتا ہے۔ وہ قول یہ ہے :إِنَّ اللهَ...يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔

پیغمبر اسلام کے اس قول میں فطرت کانظام بتایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نے فطرت کا جو نظام قائم کیا ہے وہ ایسے اصولوں پر مبنی ہے کہ یہاں کسی مقصد کے حصول کے لیے پُر امن طریقہ زیادہ کار آمد اور نتیجہ خیز ہے۔ اس کے مقابلہ میں پُر تشدد طریقہ تخریب کاری تو کرسکتا ہے مگر وہ کسی مثبت مقصد کے حصول کے لیے نتیجہ خیز نہیں ۔

یہاںیہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمان دونوں ایک چیز نہیں۔ اسلام ایک آئیڈیالوجی کا نام ہے اور مسلمان اُس گروہ کانام ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اسلام کو اپنے مذہب کے طورپر اختیار کیا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیم سے جانچا جائے گا، نہ یہ کہ مسلمان جوکچھ کریں اُس کو اسلام سمجھ لیا جائے۔

کوئی مسلمان یا مسلمانوں کا کوئی گروہ اگر تشدد کرے تو یہ اُس کا اپنا ذاتی فعل ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کی زبان سے کہا جائے گا کہ اگر چہ وہ اسلام کا دعویٰ کرـتے ہیں مگر اُنہوں نے اسلام کو دل سے قبول نہیں کیا۔ (الحجرات، 49:14)

اسلام اور دہشت گردی

اگر کوئی شخص کرشچین ٹیررزم کا ٹرم استعمال کرے تو کہنے والا کہے گا کہ تم متضاد ترکیب (contradictory term)  استعمال کررہے ہو ۔ کرشچین کا کوئی تعلق ٹیررزم سے نہیں ہے۔ چنانچہ مسیح نے کہا ہے کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو(Love your enemy) ۔کرشچینٹی کی تعلیمات لَو(Love) پر مبنی ہیں۔ ایسی حالت میں کرشچین ٹیررزم کے کوئی معنٰی نہیں۔ مگریہ آدھی سچائی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسیح نے کہا کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو، مگر اسی کے ساتھ نیو ٹسٹمنٹ کی روایت کے مطابق، مسیح نے یہ بھی کہا کہ یہ نہ سمجھو کہ میں صلح کروانے آیا ہوں بلکہ میں جنگ کروانے آیا ہوں:

Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword. (10:34)

پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح کے اس واضح قول کے باوجود کوئی شخص کرشچین لوگوں پرٹررزم کا الزام عائد نہیں کرتا۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ کرشچین لوگ لڑائی نہیں کرتے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی لڑائی کو نیشنل انٹرسٹ کے نام پر چلاتے ہیں، نہ کہ مسیحی مذہب کے نام پر۔ مثلاً ہٹلر ایک کرشچین تھا۔ اس نے دوسری عالمی جنگ چھیڑی مگر اس نے اپنی اس جنگ کومسیحیت کے نام پر نہیں کیا بلکہ جرمن قومیت کے نام پر کیا۔ اسی طرح امریکہ نے ویت نام میںدس سال سے زیادہ مدت تک جنگ کی مگر اس میں بھی اس نے ایسانہیں کیا کہ وہ اپنی اس جنگ کو کرشچین وار کہے۔ اس کے برعکس اس نے یہ کہا کہ وہ اس جنگ کو امریکی مفاد کے لیے کر رہا ہے۔

کچھ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ میڈیا اسلام کو ٹیررزم کا نام دے کر اسلام کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ مگر میں کہوں گا کہ اس معاملہ میں میڈیا کاقصور نہیں۔ کیوں کہ مسلمان خود اسلام کے نام پر جگہ جگہ تشدد پھیلائے ہوئے ہیں جس کو وہ بطور خود جہاد کا نام دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں میڈیا کا رول اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ مسلمانوں کے قول و عمل کو اُن کے اپنے دعویٰ کے مطابق رپورٹ کرتا ہے۔ مسلمان اگر اپنی جنگ کو اپنی کمیونٹی کے انٹرسٹ کے نام پر لڑی جانے والی جنگ بتائیں تو اس کو مسلم کمیونٹی کے نام سے جوڑا جائے گا۔ مگر جب وہ اپنے تشدد کو اسلام کا نام دیتے ہیں تو بالکل فطری ہے کہ میڈیا میں وہ اسلامی تشددکے نام سے رپورٹ کیا جائے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تمام تعلیمات امن کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ اسلام کی 99 فیصد آیتیں براہِ راست یا بالواسطہ طورپر امن ہی سے تعلق رکھتی ہیں۔ تاہم اسی کے ساتھ اس میں بعض آیتیں یا کچھ آیتیں جنگ سے تعلق رکھنے والی بھی ہیں۔ مگر اسلام میں امن کی حیثیت عموم کی ہے اور جنگ کی حیثیت استثنا کی۔

عسکری دور سے غیر عسکری دور تک

ساتویں صدی کے نصف اول میں جب اسلام کا ظہور ہوا، اُس وقت ساری دنیا میں سیاسی جبر کا وہ نظام قائم تھا جس کو فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین نے مطلق بادشاہت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ یہ نظام جبر انسان کو ہر قسم کے خیر سے محروم کیے ہوئے تھا۔ اُس وقت حکم دیا گیا کہ اس مصنوعی نظام کا خاتمہ کر دو تاکہ انسان کے اوپر ان بھلائیوں کا دروازہ کھل جائے جو اللہ نے اُن کے لیے مقدر کیا ہے۔

قرآن میںیہ حکم ان الفاظ میں دیا گیا:وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39)۔اور اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد سیاسی جبر کا وہ قدیم نظام ہے جو آیت کے نزول کے وقت ساری دنیا میں رائج تھا۔ اور دین سے مراد فطرت پر مبنی خدا کا تخلیقی نظام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصنوعی جبر کا نظام ختم ہو جائے اور دنیا میںخدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق حالتِ فطری قائم ہو جائے۔ جس میںہر انسان اپنے عمل کے لیے آزاد ہو، ہر انسان کھلے ماحول میںاپنا ٹیسٹ دے سکے۔

رسول اور اصحاب رسول کی جدو جہد اور اُن کی قربانی سے مذکورہ قدیم نظام ٹوٹ گیا اور دنیا میںوہ نظام آگیا جو اللہ کو مطلوب تھا۔ تاہم یہ ایک عظیم تبدیلی تھی۔یہ وہ انوکھا انقلاب تھا جس کو ہنری پرین نے اس طرح بیان کیا ہے— اسلام نے دنیا کی حالت کو بدل دیا۔ تاریخ کا روایتی ڈھانچہ توڑ کر پھینک دیا گیا:

Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown.

یہ انقلاب اتنا بڑا تھا کہ وہ اچانک نہیں آسکتا تھا۔ چنانچہ اللہ کی خصوصی مدد سے وہ ایک عمل (process) کے روپ میں جاری ہوا۔ اسلام کے دور اول کا یہ انقلاب گویا ایک دھکا تھا جو تاریخ کو دیا گیا۔اس کے بعد انسانی تاریخ ایک مخصوص رُخ پر چل پڑی۔ ساتویں صدی کا یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی کے وسط میں اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہوگیا کہ قدیم طرز کا جبری نظام دوبارہ زمین پر قائم ہو۔

بعد کے زمانہ میں دوبارہ کسی اور ایمپائر کادنیا میں قائم نہ ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ پچھلی چند صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں دنیا میں ایسی ہمہ گیر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جو کسی نئے ایمپائر کے قیام کی راہ میں فیصلہ کن طورپر رکاوٹ ہیں۔ اب وہ اسباب دنیا میں موجود ہی نہیں جب کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند دوبارہ قدیم طرز کا ایمپائر کھڑا کرسکے۔

موجودہ زمانہ میں سیاسی ایمپائر کے قیام کے خلاف جو موانع (deterrents) پیدا ہوئے ہیں اُن کو چند مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔

1۔   قدیم زمانہ میں یہ صورت حال تھی کہ جب کوئی بادشاہ فوجی طاقت کے زور پر ایک علاقہ پر قبضہ کرلیتا تھا تو وہاں کے لوگ اُس کو بادشاہ کا فطری حق سمجھ کر اُس کی سیاسی بالا دستی کو قبول کرلیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک بادشاہ کو صرف دوسرا بادشاہ ختم کرسکتا تھا، نہ کہ عوام۔ مگر موجودہ زمانہ میں جمہوریت اور سیاسی آزادی اور قومی حکومت کے تصورات کے نتیجہ میں رائے عامہ اتنی زیادہ بدل چکی ہے کہ اب کسی بیرونی بادشاہ کو وہ اجتماعی قبولیت (social acceptance) حاصل نہیںہوتی جو کسی حکومت کے قیام و بقا کے لیے ضروری ہے۔

2۔   قدیم زمانہ میں اقتصادیات کاانحصار تمام تر زمین پر مبنی ہوتا تھا اور زمین صرف بادشاہ کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب نے بے شمار نئے اقتصادی ذرائع پیدا کردیے ہیں۔ یہ نئے ذرائع ہر انسان کے لیے قابل حصول ہیں۔ اس لیے اب عام لوگوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ سیاسی حکمراں کے خلاف ایسے آزاداقتصادی وسائل پالیں جو سیاسی حکمراں کے دائرۂ اقتدار کے باہر ہوں۔ اس اقتصادی تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آج ایسی انقلابی تحریک چلائی جاسکے جس کو روکنا سیاسی حکمراں کے لیے ممکن نہ ہو۔

3۔   اسی طرح ایک چیز وہ ہے جس کو مانع میڈیا(media deterrent) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں میڈیا اور کمیونی کیشن کی ترقی نے یہ صورت حال پیدا کردی ہے کہ ایک علاقہ میں پیش آنے والا واقعہ فوراً ہی ساری دنیا میں پہنچ جائے۔ تمام دنیا کے لوگ اُس سے پوری طرح باخبر ہوجائیں۔ یہ ایک ایسا چیک (check)ہے جس نے قدیم طرز کے سیاسی ایمپائر کے قیام کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ اب کوئی بادشاہ اپنے اختیارات کا اُس طرح بے خوف استعمال نہیں کرسکتا جو پہلے ممکن ہوا کرتا تھا۔

4۔  اسی طرح ایک اور چیزوہ ہے جس کو عالمی مانع (universal deterrent) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کے تحفظ کے نام پر قائم ہونے والے ادارے، ایسے مستقل چیک ہیں جن کو کوئی سیاسی حکمراں نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ دیر تک اُن کی خلاف ورزی کا تحمل کرسکتا ہے۔

ان عالمی تبدیلیوں کے بعدانسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ قدیم دور اگر عسکری دور تھا تو اب نیا دور غیر عسکری دور ہے۔ قدیم زمانہ میں پُرتشدد طریقہ کو کسی بڑی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب پُرامن طریقہ(peaceful method) کو مطلق طورپر کامیاب طریقہ کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ اب کسی مقصد کے حصول کی جدو جہد کو اول سے آخر تک اس طرح چلایا جاسکتا ہے کہ اُس کے کسی بھی مرحلہ میں تشدد کے استعمال کی ضرورت پیش نہ آئے۔ وہ مکمل طورپر پُرامن ذرائع کی پابندرہتے ہوئے کامیابی کی آخری منزل تک پہنچ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پُر تشدد طریقِ کار ایک خلاف زمانہ عمل(anachronism) کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، اب وہ وقت کے مطابق، کوئی عمل نہیں۔

جہاد بمعنٰی قتال کو تمام علماء حسن لغیرہٖ مانتے ہیں، نہ کہ حسن لذاتہ۔ اب موجودہ حالات میںیہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب جہاد بمعنٰی قتال کا وقت نہیں رہا، اب جہاد بمعنٰی پُر امن جدوجہد کا وقت دنیا میں واپس آگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد بمعنٰی قتال اب منسوخ ہوگیا۔وہ حکماً بدستور باقی ہے۔ یہ نیا معاملہ جو پیش آیا ہے اُس کا تعلق خود حکم کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ احوال کی تبدیلی سے ہے۔ اس کی توجیہہ اس فقہی مسلّمہ میں پائی جاتی ہے:تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان (زمان ومکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔ یہ امر واضح ہے کہ تبدیلی اور منسوخی میںنوعی فرق پایا جاتا ہے۔

یہ تبدیلی جو موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے وہ عین اسلام کے حق میں ہے اور وہ اسلام ہی کے پیدا کردہ انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے مواقع آخری حد تک کھول دیے جائیں۔ اب اہلِ اسلام گویا آخری طورپر اُس دور میںداخل ہوچکے ہیں جس کی آمد کی دعا رسول اور اصحاب رسول نے ان الفاظ میںکی تھی:رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ( 2:286)۔ یعنی اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔

اب اسلام کے دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی ٹکراؤ کی ضرورت نہیں۔ اب پُرامن طریقِ کار پر عمل کرتے ہوئے وہ سب کچھ حاصل کیاجاسکتا ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔

ایک حدیث

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک پیش آنے والی ساری باتیں آپ نے ہم کو بتائیں۔ اس خطبہ میں آپ نے اپنی امت کونہایت شدت کے ساتھ سیاسی بغاوت سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی حکمراں خواہ تمہارے نزدیک ظالم ہو، وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی تم اس کی اطاعت کرو۔

اس کے بعد آپ نے فرمایا: وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (سنن ابی داؤد، حديث نمبر4252؛سنن الترمذي، حديث نمبر 2202) یعنی میں اپنی امت پر سب سے زیادہ گمراہ کرنے والے لیڈروں سے خائف ہوں، اور جب میری امت میں تلوار داخل ہوجائے گی تو وہ اس سے قیامت تک اٹھائی نہ جائے گی۔

اس قسم کی دوسری حدیثوں کی روشنی میں اس حدیث پر غور کیاجائے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سیاسی معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ پر تشدد عمل سے روکا اور پُرامن عمل کی نصیحت کی۔ اس لیے کہ پر تشدد عمل کی روایت اگر ایک بار قائم ہو جائے تو اس کے بعد اُس کو ختم کرنا بے حد مشکل ہوجاتاہے۔

حدیث کی کتابوں میںکثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں آپ نے حکمراں کے خلاف خروج سے آخری حد تک منع فرمایا ہے۔ اس بنا پر علماء نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف کسی بھی عذر کی بنا پر بغاوت کرنا حرام ہے۔ (الغلو فی الدین  صفحہ  417)

ایک طرف حاکم کے خلاف متشددانہ سیاست کی یہ مطلق ممانعت ہے۔ دوسری طرف روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایاافضل الجهاد من قال کلمۃ حقٍ عندسلطان جائر (سنن النسائي حديث نمبر 4209؛ سنن الترمذي، حديث نمبر 2174؛ سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4344؛سنن ابن ماجه، حديث نمبر 4344؛ مسند احمد، حديث نمبر 11143) یعنی افضل جہاد یہ ہے کہ کوئی شخص ظالم بادشاہ کے سامنے حق کی بات کہے۔

ان دونوں قسم کی روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ کسی کو کوئی حکمراں شخص ظالم دکھائی دے تب بھی اس کے لیے زیادہ سے زیادہ جس حد تک جانے کی اجازت ہے وہ صرف قولی معنٰی میں اظہار رائے ہے ، نہ کہ عملی معنٰی میں مخالفانہ سیاست چلانا یا حکمراں کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلام میں صرف پر امن جدوجہد (peaceful  struggle)  ہے۔ پر تشدد جدوجہد (violent struggle) کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر اسلام میں جائز نہیں۔

اسلام کی بعد کی تاریخ کا غالباً سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مذکورہ واضح ہدایات کے باوجود بعد کی مسلم نسلوں میں جہاد کے نام پر متشددانہ سیاست کی روایت چل پڑی۔ حتٰی کہ یہ ذہن مسلمانوں پر اتنا زیادہ چھایا کہ دین رحمت (الانبیاء،21:107) ان کے یہاں دین جہاد بمعنٰی قتال بن گیا۔ بعد کی صدیوں میںتیار ہونے والا بیشتر لٹریچر براہ راست یا بالواسطہ طورپر اسی ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔

بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں اُن میں اس ذہن کی عکاسی اس طرح ہوئی کہ صبر واعراض کی آیتوں کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ قتال کا حکم اُترنے کے بعد یہ آیتیں منسوخ ہوگئیں۔ احادیث جمع کرکے مرتب کی گئیں تو اُن میں کتاب الجہاد تو نہایت تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا مگر کتاب الدعوہ والتبلیغ سرے سے کسی کتاب میں شامل نہیں۔ یہی حال فقہ کی تمام کتابوں کا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں جہاد اور متعلقاتِ جہاد کے احکام نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں مگر دعوت اور متعلقاتِ دعوت کے ابواب کسی بھی فقہی کتاب میںقائم نہیں کیے گئے۔

یہی حال بعد کو پیدا ہونے والے تقریباً تمام اسلامی لٹریچر کا ہوا۔ ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ تک، اور شاہ ولی اللہ سے لے کر موجودہ زمانہ کے مصنفین تک، کوئی بھی شخص دعوت کے موضوع پر کوئی کتاب تیار نہ کرسکا۔ اگر کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ ہے تو وہ بھی ایسا ہی ہے جیسے سیاست یا فضائل کی کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ رکھ دیا جائے۔

اس قسم کے لٹریچر کے تحت مسلمانوں کا جومزاج بنا اُسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے والے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں اور جو شخص ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرے وہ اُن میں غیر مقبول ہو کر رہ جاتاہے۔

اسی بنا پر ایسا ہوا کہ امام حسین کے کردار کو تو ہمارے مقررین اور محررین نے خوب نمایاں کیا مگر امام حسن کا کردار نمایاں نہ کیاجاسکا۔صلاح الدین ایوبی کو مسلمانوں کے درمیان زبردست شہرت حاصل ہوئی۔ مگر وہ لوگ جنہوںنے تاتاری غارت گروں کو اسلام میں داخل کرکے انہیں اسلام کا خادم بنایا اُن کا کوئی تذکرہ ہماری تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ موجودہ زمانہ میں اُسامہ بن لادن جیسے تشدد کی بات کرنے والے لوگ نہایت آسانی سے مسلمانوں کے درمیان ہیرو بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص امن اور احترامِ انسانیت کی بات کرے تو وہ مسلمانوں کے درمیان عمومی قبولیت حاصل نہ کرسکے گا۔

اس ذہن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عام انسانیت مسلمانوں کا کنسرن (concern) ہی نہ رہی۔ مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ خداکے بندوں کو وہ ’’اپنی قوم‘‘ اور ’’غیر قوم‘‘ میں تقسیم کرکے دیکھنے لگے۔ دعوتی طرزِ فکر کے مطابق، مسلمان اور غیر مسلم داعی اور مدعو قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جہادی (بمعنٰی قتالی) طرزِ فکر میں یہ ہوتا ہے کہ مسلمان دوسروں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھنے لگتے ہیں۔

مغربی قوموں کے استیلاء کے بعد یہ فرق بہت زیادہ بڑھ گیا۔مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مغربی قوموں نے اُن سے اُن کا برتری کا مقام چھین لیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ رقابت مزید اضافہ کے ساتھ نفرت بن گئی۔ مسلمان عام طورپر دوسری قوموں کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔

اسلام اکیسویں صدی میں

پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ دور اوّل میں جو انقلاب آیا اُس کاایک پہلو وہ ہے جس کی تکمیل دور اول ہی میں ہوگئی۔ یعنی نزول قرآن کی تکمیل اوراسلامی طرز زندگی کا نظری اور عملی نمونہ دنیا میں قائم ہو جانا۔ یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت اور احوالِ صحابہ کی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا ہے۔ وہ ابدی طورپر انسان کے لیے ربّانی طرز زندگی کا مستند نمونہ ہے۔

دور اول کے اسلامی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تدریج کا طالب تھا۔ چنانچہ وہ لمبی مدت کے بعد اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ دوسرا پہلو ایک مسلسل عمل (process) کے طورپر انسانی تاریخ میںداخل ہوا۔ یہ تاریخ میں ایک بے حد دور رس تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اُس کے لیے ہزار سالہ تغیراتی عمل درکار تھا۔چنانچہ یہ عمل مکہ اور مدینہ سے جاری ہو کر دمشق اور بغداد تک پہنچا۔ اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھا۔ وہ اولاً یورپ (اندلس) میںداخل ہوا اور اُس کے بعد وہ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ مستقبل میںآنے والے اس انقلاب کا ذکر قرآن میں واضح طورپر موجود ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں چند آیتوں کے حوالے نقل کیے جاتے ہیں

1۔  اور تم اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ (الأنفال، 8:39)

2۔  آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ (المائدہ، 5:3)

3۔  عنقریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ (حٰم السجدہ، 41:53)

4۔  اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ (البقرہ، 2:286)

اسلامی انقلاب کے اس دوسرے پہلو کا خلاصہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ اُس کے بعد اسلام پر عمل کرنا زمانۂ ماضی کے مقابلہ میںآسان ہوجائے۔ پچھلے دور کے اہل ایمان کو جو کام ’’عسر‘‘ کے حالات میں کرنا پڑتا تھا وہ اگلے دو ر کے اہل ایمان کے لیے ’’یُسر‘‘ کے حالات میں انجام دینا ممکن ہوجائے (الانشراح،94:5-6)۔ تیسیر کے اس عمل کے مختلف پہلو ہیں۔

اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں بادشاہت کے تحت سیاسی جبر کا نظام قائم تھا۔ اس نظام کے تحت انسان کو سوچنے یا عمل کرنے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ جب کہ آزادی کے بغیر نہ دینی احکام پر عمل کیا جاسکتا اور نہ دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔ اسلامی انقلاب نے نہ صرف ابتدائی طورپر جبرکے اس نظام کو توڑا بلکہ تاریخ میںایک نیا عمل (process)  جاری کیا۔ اس عمل کی تکمیل موجودہ زمانہ میں اس طرح ہوئی ہے کہ آج اہل ایمان کو دینی عمل اور دینی دعوت دونوں کی مکمل آزادی حاصل ہے، الاّ یہ کہ وہ خود اپنی کسی نادانی سے حالات کو مصنوعی طورپر اپنے مخالف بنا لیں۔

اس انقلاب کاایک اور پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ٹیکنیکل ترقی کے ذریعہ کمیونیکیشن کے جدید ذرائع حاصل ہوگئے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ حق کی دعوت کو تیزی کے ساتھ دنیا کے ہر حصہ میں پہنچایا جاسکے۔

اسی طرح موجودہ زمانہ میں سائنسی دریافتوں نے اس کو ممکن بنا دیا کہ کائنات میں چھپی ہوئی خداکی نشانیاں ظاہرہوں اور خدا کے دین کو خود علم انسانی کی روشنی میں مدلّل اور مبرہن کرسکے۔

بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا تھا۔ اب اہل ایمان کے لیے یہ ممکن ہوگیا تھا کہ وہ امن اورآزادی کی فضا میں بخوبی طورپر اللہ کے دین پر عمل کریں اور اللہ کے دین کو دوسری اقوام تک پہنچانے کا دعوتی فریضہ کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دیں۔ مگر عین اسی صدی میںمسلمانوں کے نا اہل رہنماؤں نے غلط رہنمائی کرکے اُنہیں ایسی سرگرمیوں میں الجھا دیا جس کا نتیجہ صرف یہ ہوسکتا تھا کہ اہل ایمان جدید مواقع کو استعمال نہ کرسکیں، حتٰی کہ وہ اُن کے شعور سے بھی بے بہرہ ہوجائیں۔ یہ غلطیاں بنیادی طور پر دو قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔

ایک غلطی وہ ہے جو اسلام کی سیاسی تعبیر کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔ اس تعبیر نے غلط طور پر مسلمانوں کا یہ ذہن بنایا کہ وہ اسلام کے کامل پیرو صرف اُس وقت بن سکتے ہیں جب کہ وہ اسلام کے تمام قوانین کو عملاً نافذ کردیں۔ اس سیاسی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم عوام اپنے حکمرانوں سے لڑ گئے، تاکہ اُن کو ہٹا کر وہ شریعت کا قانون نافذ کرسکیں۔ اس سیاسی بدعت کے نتیجہ میں کوئی خیر تو سامنے نہیںآیا البتہ مسلم دنیا میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں وہ جبر اور ظلم دوبارہ قائم ہوگیا جس کو لمبے تاریخی عمل کے نتیجہ میں ختم کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بندوں سے اسلام کی کامل پیروی مطلوب ہے، نہ کہ اسلام کا کامل نفاذ۔

دوسری غلطی وہ ہے جو جہاد کے نام پر موجودہ زمانہ میں شروع کی گئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ سیاسی اور مادّی شکایتیں تھیں۔ ان شکایتوں کو پُر امن طریقِ کار کے ذریعہ حل کیا جاسکتا تھا مگر پُر جوش رہنماؤں نے فوراً جہاد کے نام پر ہتھیار اُٹھالیے اور دوسری قوموں کے خلاف مسلّح لڑائی شروع کردی۔ اس خود ساختہ جہاد کے نتیجہ میں نہ صرف جدید امکانات ضائع ہوگئے بلکہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اتنی بڑی تباہی سے دوچار ہوئے، جیسی تباہی ماضی کی طویل تاریخ میں اُن کے ساتھ کبھی پیش نہیں آئی تھی۔

مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمان بیسویں صدی کو کھو چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی ان غلطیوں کی اصلاح کریں گے یا موجودہ صدی کو بھی وہ اُسی طرح کھو دیں گے جس طرح وہ پچھلی صدی کو کھو چکے ہیں۔

 

جنگ اسلام میں

بعض "مفکرین اسلام "کاکہنا ہے کہ اسلام میں جنگ کی دوقسمیں ہیں— مصلحانہ جنگ اور مدافعانہ جنگ۔ مگریہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ اس نظریہ کے لیے قرآن اور حدیث میں کوئی دلیل موجود نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں صرف ایک جنگ ہے اور وہ مدافعانہ جنگ ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ، مصلحانہ تحریک ہو تی ہے ، مصلحانہ جنگ نہیں ہوتی۔ مصلحانہ جنگ قرآن وسنت کے پورے ذخیرے میں ایک اجنبی چیز ہے ۔ اس کا ما خذشاعروں اورخطیبوں اور انشا پر دازوں کی طبع آزمائیاں ہیں، نہ کہ خد اکی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔ مشہور حدیث کے مطابق ہرقسم کی اصلاح کا مدار قلب پر ہے ۔ حدیث میں کہاگیا ہے کہ بس طرح جسمانی نظام میں قلب کی اصلاح سے پورے جس کی اصلاح ہوتی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 52)۔ وہی معاملہ دینی نظام کا بھی ہے۔ انسان کواصلاح یافتہ بنانے کی صورت یہ ہے کہ قلب یا ذ ہن کی سطح پر اس کے اندراصلاح لائی جائے ۔

اس حدیث کے مطابق مصلحانہ تحریک (نہ که مصلحانہ جنگ) کا اصول یہ ہے کہ ساری طاقت انسان کے فکر وشعو رکو بدلنے پر صرف کی جائے — دلائل کے ذریعہ آدمی کی سو چ کو بدلنا۔ جنت اور جہنم کی باتوں کے ذریعہ اس کے قلب میں نرمی پید اکرنا ، خد اکی نشا نیوں کی یادہانی کے ذریعہ اس کی ربانی فطرت کو جگانا۔ یہ ہے انسانی اصلاح کاطریقہ ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں مصلحانہ تحریک بھی کہا جاسکتا ہے۔

جنگ کا مقصد ہمیشہ کسی خارجی رکاوٹ کو دور کر نا ہو تا ہے، نہ کہ انسان کے اندر باطنی کیفت پیدا کرنا۔ باطنی کیفیت یا باطنی شعور کا ذریعہ صرف وعظ و تلقین ہے، اس کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

 اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم ہے اور وہ دفاع (defence) ہے ۔ اگر کوئی کردہ اہل اسلام کے خلاف جارحیت کرے تو حسبِ استطاعت اس سے مقابلہ کیا جائے گا خواہ یہ مقا بلہ کھلی جنگ کی صورت میں ہو یاکسی اور صورت میں ۔ عام حالات میں اسلام کا طریقہ پرامن دعوت کا طریقہ ہے ، اور جارحیت کی صورت میں مسلح مقابلہ کا طریقہ ۔

ایک مطالعہ

صلح حد یبیہ (7ھ ) کے بعد جب حالات معتد ل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے باہر مختلف علاقوں میں تبلیغی دستے روانہ فرمائے۔ انھیں میں سے ایک تبلیغی دستہ وہ تھا جو مدینہ کے شمال میں شام کی سرحد سے ملے ہوئے علاقہ کی طرف بھیجا گیا۔ یہاں عیسائی قبائل آباد تھے اور وه رومی ( بازنطینی) حکومت کے ماتحت تھے ۔

اس تبلیغی وفد میں پندرہ آدمی تھے اور ان کے سردار کعب بن عمیر الغفاری تھے ۔ وہ شام کے قریب ذات اطلاح میں پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک مقام پر کافی لوگ جمع ہیں۔ انھوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی ۔ مگر انھوں نے ان کی پکار پر لبیک نہیں کہا ۔ بلکہ ان پر تیر برسانے لگے (فَدَعَوْهُمْ إلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَشَقُوهُمْ بِالنّبْل)مغازی الواقدی، جلد2، صفحہ753۔

 اس یک طرف حملہ میں بارہ مسلمان شہید ہوگئے ۔ صرف ایک آدمی زخمی حالت میں مدینہ واپس آیا۔ شامی سرحد پر بسنے والے ان عیسایئوں کا حملہ ، بالواسطہ طور پر رومی سلطنت کا حملہ تھا ۔ اس طرح رومی سلطنت نے سب سے پہلے اسلام کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحارث بن عمیرالازدی کو ایک دعوتی مکتوب لے کر حاکم بُصریٰ کی طرف روانہ کیا، جب وہ موتہ (شام) میں پہنچے توان کی ملاقات شُرحبِیل ابن عمر و الغسانی سے ہوئی ۔ اس نے ان سے پو چھا کہ تم کہاں جا رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ حاکم بُصریٰ کے پاس ۔ اس نے کہا ، شایدتم محمد کے فرستادہ ہو۔ انھوں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا اور انھوں نے الحارث بن عمیرکو تلوارمارکرقتل کر دیا۔ کہا جاتاہےکہ اس نے یہ قتل حاکم بُصریٰ کے اشارہ پرکیاتھا (الرسول فی المدینۃ، صفحہ 229)۔

شرحبیل بن عمرد الغسانی عیسائی تھا اور وہ رومی حکومت کا ایک افسر تھا۔ اس کا یہ فعل بین اقوامی روایت کے مطابق ، اقدام جنگ کے ہم معنی تھا۔ اس نے آپ نے تین ہزار افراد کا ایک لشکر تیار کیا اور جمادی الاولی 8ھ میں اس کو مؤتہ (شام) کی طرف روانہ فرمایا۔

شرحبیل کوجب مسلم لشکر کی روانگی کا علم ہوا تو اس نے ایک لاکھ آدمیوں کالشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے جمع کیا۔ اس کے ساتھ خودشاہ ہرقل ایک لاکھ فوج لے کر شرحبیل کی مدد کے لیےبلقاء کے مقام پر پہنچا۔ تین ہزار اور دو لاکھ کا تنا سب بہت زیادہ غیر مساوی تھا۔ یہ مقابلہ فیصلہ کن نہ بن سکا، تاہم مسلمانوں نے اتنی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا کہ رومیوں کے اوپرمسلمانوں کی فوجی صلاحیت کارعب قائم ہوگیا۔

مستشرق واشنگٹن ارونگ (Washington Irving) نے پیغمبراسلام کی زندگی پر ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے ۔ اس کا اقتباس دکتورعلی حسنی الخربوطلی نے اپنی کتاب " الرسول فی المدینہ" میں نقل کیا ہے۔ واشنگٹن ارونگ نے لکھا ہے کہ عرب میں اسلام کی اشاعت سے جب عرب کے بکھرے ہوئے قبائل متحد ہوگئے توشہنشاہ ہرقل کو یہ عرب اتحاد اپنے لیے خطرہ محسوس ہوا۔ اس نے طے کی کہ ایک بڑالشکر تیار کرے،  اور اپنے اس "امکانی دشمن" پر حملہ کر کے اس کو کچل ڈالےچنانچہ اس نے عرب کی سرحد پر اپنی فو میں جمع کر نا شروع کر دیا۔ (صفحه 232)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بر ابر اطراف کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ جب آپ کو معلوم ہواکہ ہرقل نے سرحدِ عرب پر فوجیں جمع کی ہیں تاکہ عرب پر حملہ کر کے اسلام کازورتوڑ دے تو آپ نے فور اًجوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ مہم پیش آئی جس کو غزوۂ تبوک کہا جاتا ہے۔

 آپ نے مسلسل وعظ و تلقین کے ذریعہ مسلمانوں میں یہ جذبہ پید اکیا کہ ز یا دہ سے زیادہ لوگ اس مہم کے لیے نکلیں ۔ چنانچہ سخت حالات کے با وجود 30 ہزار آدمیوں کالشکر اس مہم کے لیے تیار ہو گیا۔ اس سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، ان میں ایک واقعہ یہ ہے:

وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّ مَا يَخْرُجُ فِي غَزْوَةٍ إِلَّا كَنَّى عَنْهَا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَإِنَّهُ بَيَّنَهَا لِلنَّاسِ ... فَأَمَرَهُمْ بِالْجِهَادِ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يُرِيدُ الرُّومَ (البدایۃ و النہایۃ، جلد5، صفحہ 3)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کے لیے نكلتے تو زیادہ تر آپ اشارہ اورکنایہ سے کام لیتےمگرغزوہ تبوک میں آپ نے اس سے مختلف طریقہ اختیار فرمایا۔ اس کی بارے میں آپ نے صاف طور پرلوگوں کے سامنے اعلان کیا ۔ آپ نے انھیں جہادکا حکم دیا اور ان کو اس بات کی خبردی کہ آپ کا قصد روم کی طرف ہے ۔

غزوۂ تبوک اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے ۔ اس کے بارے میں بہت سی تفصیلات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں آئی ہیں ۔ اس واقعہ کا مطالع کیجیے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق جنگ کے بارے میں نہایت اہم اصول سامنے آتے ہیں ۔ ان میں سے دو اصول یہ ہیں

 1۔ ایک یہ کہ تبوک کی مہم کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فوجی اقدام بطوردفاع تھا، وہ جار حانہ اقدام کے طور پر نہ تھا۔ اس سے معلوم ہواکہ اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں جنگی اقدام صرف اس وقت کیا جاتا ہے، جب کہ بطور دفاع ایسااقدام کر نا ضروری ہوگیا ہو۔

 2۔ دوسری بات یہ ہے کہ دفاعی اقدام میں بھی ٹکر اؤ لازمی طور پر ضروری نہیں ہے ۔ اگر اس کا امکان ہو کہ طاقت کے مظاہرے سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ دشمن پیچھے ہٹ جائے اور اپنے جار حانہ ارا دہ سے باز آ جائے تو اپنے اقدام کو "مظاہرہ" کی حد میں رکھا جائے گا، اس کو لاز ماً جنگی ٹکراؤ تک نہیں لے جا یا جائے گا۔

یہی مصلحت تھی جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عام عادت کے خلاف غزوہ ٔتبوک کی تیاری پورے اعلان و اظہار کے ساتھ کی، اور روانگی میں ہی اخفاء کے بجائے اظہار کا طریقہ اختیارفرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو اکہ آپ کے سرحد شام پہنچنے سے پہلے رومیوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ پیغمبراسلام 30ہزار جاں بازوں کے ساتھ تمہاری طرف بڑھ رہے ہیں۔

اس مظاہرہ کا متوقع فائدہ حاصل ہوا۔ رومی حکمراں نے مرعوب ہو کر اپنی فوجوں کو پیچھے لوٹنےکاحکم دے دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومی فوجوں کی پسپائی کا علم ہوا تو آپ بھی مزیداقدام سے رک گئے (الرسول فی المدینہ ، صفحہ 234) ۔

اسلام کی عام پالیسی ہی ہے کہ حتی الا مکان جنگ سے اعراض کیا جائے ۔ یہ پالیسی اسلام کے اصل مقصد و مدعا کے عین مطابق ہے ۔ کیوں کہ اسلام کا مقصد لوگوں کو جہنم کے راستہ سے ہٹاکر جنت کے راستے پر ڈالنا ہے، نہ یہ کہ وہ جاہلیت کی جس زندگی میں ہیں ، وہیں مارکر انھیں ختم کر دیا جائے ۔

ایک تاجر کی نگاہ آدمی کی جیب پر ہوتی ہے ۔ ایک جنگ با زکی نگاہ آدمی کی گردن پر ۔ اس برعکس، اسلام کی نگاہ آدمی کے دل پر ہوتی ہے ۔ اسلام کا مقصد لوگوں کے دلوں کو بدلنا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی رحمتوں میں حصہ پاسکیں۔

 کوئی شخص خواہ دشمن ہو یا غیر مذ ہب سے تعلق رکھتا ہو ۔ ان سب سے پہلے وہ انسان ہے۔ اسلام چا ہتا ہے کہ ہم اس "انسان "تک پہنچیں، اور اس کے دل کے دروازہ پر دستک دیں۔ کیا عجب کہ اس کی فطری صلاحیت جاگ اٹھے، اور وہ دینِ حق کے دائرہ میں داخل ہو جائے۔

 اس کی مثال خودرومیوں کے قصہ میں موجود ہے ۔ عین اس زمانہ میں جب کہ رومیوں سے کش مکش چل رہی تھی ، اسی زمانہ میں رومیوں کی اعلی صف کے ایک آدمی نے اسلام قبول کر لیا۔یہ فروة بن عمرہ الجذامی (م12ھ) تھے ۔ وہ ایک عیسائی تھے اور بنو النافرۃ کے اوپر رومیوں کی طرف سے حاکم تھے ۔ بنوالنا فرۃ کے لوگ خلیج عقبہ اور ینبع کے درمیان رہتے تھے ۔جب اسلام کا ظہور ہوا اور اس کی خبریں عرب میں پھیلیں تو فروۃ اس سے متاثر ہو گئے۔آخر کا را نھوں نے اسلام قبول کرلیا۔

فردة الجذامی نے اپنے قبول اسلام کی اطلاع ایک قاصد کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجی۔اور ہدیہ کے طور پہ ایک سفید خچر بھی آپ کے لیے روانہ کیا ۔ رومی حکمراں کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے فروۃ کو اپنے پاس بلاکر انھیں قید میں ڈال دیا ۔ اس کے بعد وہ فروۃ کوفلسطین میں عفراء نامی ایک چشمہ کے پاس لے گئے اور تلوار مار کر انھیں قتل کر دیا۔ رومی جب فروۃ کوقتل کے مقام پر لائے تو فروۃ نے یہ شعر کہا:

بَلِّغْ سَرَاةَ الْمُسْلِمِينَ بِأَنَّنِي                                       سَلْمٌ لِرَبِّي أَعْظُمِي وَمَقَامِي

مسلمانوں کے سردار کو یہ خبر پہنچادو کہ میری ہڈیاں اور میراپورا وجود میرے رب کے لیے ہے (سیرت ابن ہشام ، جلد2، صفحہ 591-92)۔

فروة بن عمرو اگر چہ قتل کر دئے گئے، مگر ایک اصول پر قائم رہنے کی بنا پرقتل کیا جا ناکوئی معمولی واقعہ نہیں ۔ایسا آدمی اپنے پورے وجودسے اس اصول کی صداقت کی گواہی دیتا ہے جس کی خاطراس نے اپنی جان دی ہے ۔جہاں لوگوں نے اپنے خود ساختہ نظریات کو با زار کی سیاہی سے لکھ رکھاہے ، وہاں وہ اپنے نظریہ کی صداقت کو اپنے خون کی سرخی سے تحریر کر تا ہے ۔ ایسی موت ہزاروں لوگوں کے لیے زندگی کا سبب ہوتی ہے. چنانچہ یہی ہوا ۔ دورِ اول کے مسلمانوں کی اس قسم کی قربانیوں نے ایک عیسائی علاقہ کو ابدی طور پر ایک مسلم علاقہ بنا دیا۔

 

امن مشترک سماج میں

بر صغیر ہند لمبی جدوجہد کے بعد 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔ یہ آزادی دو قومی نظریہ کے اصول پر ہوئی۔ تا ہم جو چیز تقسیم ہوئی وہ جغرافیہ تھا، نہ کہ قوم۔ یعنی انڈیا او رپاکستان کے نام پر دو ملک بن گئے مگردونوں قوم کے افراد دونوں حصوں میں بدستور آباد رہے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال تھی۔ کیوںکہ قومی جھگڑے کو ختم کرنے کے نام پر ملک کو تو تقسیم کردیا گیا مگر قوم بدستور غیر منقسم رہی۔ اس طرح زمینی بٹوارہ کے باوجود نزاعی صورت حال بدستور قائم رہی، بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ۔ پہلے اگر وہ دو بے اقتدار قوموں کا جھگڑا تھا تو اب وہ دو بااقتدار ریاستوں کا جھگڑا بن گیا۔

اس مسئلہ کی نزاکت کو مہاتما گاندھی نے پہلے ہی دن محسوس کرلیا تھا۔ چنانچہ آزادی کے وقت اُنہوں نے اپنے ایک مضمون میں یہ تاریخی الفاظ لکھے تھے— ہندو ؤںاور مسلمانوں کو امن اور ہم آہنگی سے ایک ساتھ رہنا ہوگا، ورنہ میں اس کوشش میں اپنی جان دے دوں گا:

Hindus and Musalmans should learn to live together with peace and harmony, otherwise I should die in the attempt.

سوئے اتفاق سے مہاتما گاندھی کو آزادی ہند کے جلد ہی بعد گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا حادثہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امن و اتحاد قائم کرنے کا عمل اپنے پہلے ہی مرحلہ میں اپنے سب سے بڑے لیڈر سے محروم ہوگیا۔

جیسا کہ معلوم ہے، آزادی کے ساتھ ہی خطّ تقسیم کے دونوں طرف فرقہ وارانہ تشدد ایک بھیانک عمل کی صورت میں شروع ہوگیا۔ تشدد کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ آخر کار اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس مسئلہ پر ایک نیشنل کانفرنس بلائی۔ اس کااجلاس نئی دہلی میں 28 ستمبر سے یکم اکتوبر 1961 تک جاری رہا۔ اس کانفرنس میں اتفاق رائے سے ایک آرگنائزیشن (تنظیم) کی تشکیل کی گئی جس کا نام نیشنل انٹگریشن کونسل (قومی یکجہتی کونسل)تھا۔ اس کا مرکزی دفتر نئی دہلی میں قائم کیا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ وہ قومی یکجہتی سے متعلق تمام مسائل کا جائزہ لے اور ضروری سفارشیں پیش کرے۔

اس کونسل کا اجلاس دوسری بار 2-3 جون 1962 کو نئی دہلی میںہوا۔ شرکاء نے تقریریں کیں اور فرقہ وارانہ مسئلہ کے حل کے لیے کئی تجویزیں پیش کیں۔ مگر ان تجویزوں پر کوئی عمل نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ دوبارکے بعد اس کونسل کاکوئی تیسرا اجلاس جواہر لال نہرو کی زندگی میں نہیں ہوا۔

اس کے بعد جب اندرا گاندھی ملک کی وزیر اعظم بنیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ نیشنل انٹگریشن کونسل کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ اُنہوں نے 20-21 جون 1968 کو سری نگر میں تنظیم کا اجلاس بُلایا۔ یہاں تفصیلی بحثیں ہوئیں۔ آخر کار ایک مکمل لائحہ عمل ترتیب دیاگیا۔ اس کا ایک حصّہ یہ تھا

فرقہ وارانہ سرگرمی کے معنٰی یہ قرار دیے جائیں کہ ہر وہ فعل جو مختلف مذہبی فرقوں، یا نسلی گروپوں یا ذاتوں یا برادریوں کے درمیان مذہب، نسل، ذات پات یا برادری کی بنیاد پر یا کسی بھی بنیاد پر دشمنی یا نفرت پھیلائے یا پھیلانے کی کوشش کرے۔ یہ جرم قابلِ دست اندازی پولیس ہو اور اُس کے تحت سزا پانے والے کو عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت نااہل قرار دے دیاجائے۔ افواہ پھیلانا یا گھبرادینے والی خبریں اور افکار کی اشاعت کو دفعہ 153 (اے) کے تحت جرم قرار دے دیا جائے۔

کونسل کے جلسوں میں اس قسم کی بہت سی تجویزیں اتفاق رائے کے ساتھ پاس کی گئیں۔ اُس کے بعد اُس کی تائید میں بہت سے قانون اور ضابطے بنائے گئے۔ مگر عملاً ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ اس اعتبار سے ملک کی حقیقی صورت حال اب بھی تقریباً وہی ہے جیسی کہ وہ 1947 میں تھی۔

اس ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس مسئلہ کو سادہ طورپر لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ سمجھ لیاگیا۔ مگر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ مسئلہ لااینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں۔ وہ ذہنی تعمیر یا شعوری بیداری کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کوایجوکیٹ کیا جائے۔ اُن کے اندر صحیح سوچ پیدا کی جائے۔ اُن کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو سمجھیں۔ وہ نتیجہ خیز عمل اور بے نتیجہ عمل کے درمیان تمیز کرنا جانیں۔ وہ یہ جانیں کہ اُنہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ عملی اقدام سے پہلے سوچنے کے مراحل کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔ عمل کو سوچ کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ سوچ کو عمل کے تابع بنا دیا جائے۔

اس قسم کا باشعور سماج گویا کہ وہ زمین ہے جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فصل اُگائی جاسکتی ہے۔ قانون کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سماج کے استثنائی بگاڑکو جرّاحی جیسے عمل کے ذریعہ درست کیا جائے۔ کوئی بھی قانون سماج کی عمومی حالت کی اصلاح کے لیے نہیں ہوتا۔ جرّاحی کا عمل جسم کی ایک جزئی بیماری کو شفا دینے کے لیے ہوتاہے۔ اگر پورا جسم عمومی طورپر مرض کا شکار ہوجائے تو ایسی حالت میں جرّاحی کے عمل کاکوئی فائدہ نہیں۔

یہاں میں اس مسئلہ کے چند بنیادی پہلوؤں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ پہلو براہِ راست طورپر عوام کی ذہنی تشکیل کے سوال سے تعلق رکھتے ہیں۔ بے حد ضروری ہے کہ ان سوالات کا واضح جواب ہمارے ذہن میں ہو تاکہ کسی کنفیوژن کے بغیر ذہنی تشکیل یا شعوری تعمیر کا کام عمل میںلایا جاسکے۔

مذہبی اختلاف

اس سلسلہ میں پہلا نظری مسئلہ وہ ہے جو مذہبی اختلاف سے تعلق رکھتا ہے۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ مذاہب کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کسی مذہبی گروہ کا عقیدہ وحدتِ وجود(monism) کے تصور پر قائم ہے اور کسی گروہ کا عقیدہ توحید (monotheism) کے تصور پر قائم ہے۔ کسی مذہب میں خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) کا تصور ہے اور کسی مذہب میں الہامی سچائی(revealed truth)کا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مذہبی فرق و اختلاف ہی تمام فرقہ وارانہ نزاعات کی اصل جڑ ہے۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی صرف اُس وقت پیدا کی جاسکتی ہے جب کہ کسی نہ کسی طرح ان مذہبی اختلافات کا خاتمہ کردیا جائے۔ کچھ انتہا پسند لوگ، اُن کو بلڈوز کردو(buldose them all) کی زبان بولتے ہیں۔ مگر وہ اتنی زیادہ ناقابلِ عمل ہے کہ وہ سرے سے قابلِ تذکرہ ہی نہیں۔ کچھ دوسرے لوگ یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ تمام مذاہب کی تعلیمات ایک ہیں۔

اس دوسرے گروہ میںایک نمایاں نام ڈاکٹر بھگوان داس (1869-1958) کا ہے۔ وہ نہایت قابل آدمی تھے۔ اُنہوں نے تمام بڑے بڑے مذاہب کے لمبے مطالعہ کے بعد ایک کتاب تیار کی جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے۔ یہ کتاب 929 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا نام یہ ہے:

Essential Unity of All Religions

منتخب اقتباسات کو لے کر ہر مذہب کو ایک ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مختلف ملکوں کے دستور کو لے اور پھر ہر دستور سے کچھ منتخب دفعات کو جمع کر کے ایک کتاب چھاپے اور اُس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرے کہ ہر ملک کا دستور ایک ہے اور ایک ہی قسم کی دفعات کا مجموعہ ہے۔ اس قسم کا آفاقی دستور کسی مصنف کو تو خوش کرسکتا ہے مگر وہ کسی ایک ملک کے لیے بھی قابلِ قبول نہ ہوگا۔ ہر ملک اس کو شکر یہ کے ساتھ رد کردے گا۔ یہی معاملہ اتحاد مذہب کے بارے میں مذکورہ قسم کی کتابوں کا ہے۔ اس قسم کی کتاب اُس کے مرتب کو خوش کرسکتی ہے مگر وہ اہلِ مذاہب کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔

میں نے بھی اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ تمام مذاہب کو ایک بتانا واقعہ کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں اتنے زیادہ اختلافات ہیں کہ اُن کو ایک ثابت کرنا عملی طورپر ممکن ہی نہیں۔ مثلاً کسی مذہب کا کہنا ہے کہ خدا ایک ہے۔ کوئی مذہب کہتا ہے کہ خدا دو ہیں۔ کوئی مذہب بتاتا ہے کہ خدا تین ہیںاور کسی مذہب کادعویٰ ہے کہ خداؤں کی تعداد 33 یا 33کروڑ ہے۔ کسی کے نزدیک خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اُن کی گنتی ہی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں ہر مذہب کی تعلیم کو ایک بتانا ایک ایسا بیان ہے جوکسی خوش فہم کے دماغ میں تو جگہ پاسکتا ہے مگر عملی اور منطقی طورپر اس کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔

حتیٰ کہ بالفرض کسی تدبیر سے تمام مذاہب کے ٹیکسٹ کو ایک ثابت کردیاجائے تب بھی اختلاف ختم نہ ہوگا۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب میں ہر ایک کا ایک تسلیم شدہ ٹیکسٹ ہے مگر اس ٹیکسٹ کی تعبیر میں دوبارہ اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اور ایک مذہبی ٹیکسٹ خود داخلی طورپر کئی مذہبی فرقے (sects)   وجود میں لانے کا سبب بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اختلاف یا فرق صرف مذہب کی بات نہیں۔ ہماری دنیا پوری کی پوری فرق اور تنوع کے اصول پر قائم ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہمہ گیر ہے کہ کوئی بھی دو چیز یا کوئی بھی دو انسان فرق سے خالی نہیں۔ کسی نے بجا طورپر کہا ہے کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے:

Nature abhors uniformity

جب فرق و اختلاف خود نیچر کا ایک قانون ہو تو مذہب اُس سے مستثنیٰ کیوں کر ہوسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دنیا کی تمام چیزوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق پایا جاتا ہے اسی طرح مذاہب میں بھی ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہے۔ دوسرے معاملات میں ہم نے فرق کو مٹانے کی ضروری کوشش نہیں کی بلکہ یہ کہہ دیا کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کرلیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے:

Let us agree to disagree

یہی عملی فارمولا ہمیں مذہب کے معاملہ میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔ یہاں بھی ہمیں فرق و اختلاف کے باوجود اتحاد پر زور دینا چاہیے، نہ کہ فرق و اختلاف کے بغیر اتحاد پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی اختلافات کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے او روہ ہے— ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو:

Follow one and respect all

کلچر کا اختلاف

اس سلسلہ میں دوسرا مسئلہ کلچر کا اختلاف ہے۔ مختلف گروہوں کے درمیان کلچر کا اختلاف ایک حقیقت ہے۔ کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ یہی اختلاف تمام نزاعات کی جڑ ہیں۔ اُن کے نزدیک اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ کلچر کے نام پر جو اختلافات سماج میں پائے جاتے ہیں اُن کو یکسر مٹادیا جائے اور ایسا سماج قائم کیا جائے جس کے اندر کلچرل یونٹی ہو۔

یہ تجویز بھی سراسر غیر عملی ہے۔ کلچر نہ کسی کے بنانے سے بنتا اورنہ کسی کے مٹانے سے مٹ جاتا۔ کلچر ہمیشہ تاریخی عوامل کے تحت لمبی مدت کے درمیان بنتا ہے۔ کسی دفتر میں بیٹھ کر کلچر کا نقشہ نہیں بنایا جاسکتا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی ملکوں میں ایسے نظریہ ساز (idealogue) پیدا ہوئے جنہوں نے قومی اتحاد کے لیے ایک کلچر کا سماج بنانے پر زور دیا۔ مثلاً کناڈا میں اسی نظریہ کے تحت یونی کلچرل ازم کی تحریک چلائی گئی۔ مگر تجربہ نے بتایا کہ یہ قابلِ عمل نہیں۔چنانچہ بیس سال کے اندر ہی اندر اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا۔اب کناڈا میںسرکاری طورپر ملٹی کلچرلزم کے اصول کواختیار کر لیا گیا ہے اور یونی کلچرلزم کے نظریہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا گیاہے۔

یہی معاملہ امریکا کا ہے۔ امریکا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکنائزیشن کی تحریک چلائی گئی۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا۔ مگر لمبی جدوجہد کے بعد معلوم ہوا کہ وحدت کلچر کایہ نظریہ قابلِ عمل نہیں۔ چنانچہ اس نظریہ کو ترک کر دیا گیا اور امریکا میںبھی ملٹی کلچرلزم کے اصول کو اختیار کرلیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ کلچر کا اختلاف دوگروہوں کے درمیان اختلاف کا معاملہ نہیں ہے۔ خودایک گروہ کے درمیان بھی یہ اختلاف پایا جاسکتاہے۔ اس داخلی اختلاف کی مثالیں ہر گروہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس لیے مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی لانے کے لیے مذہبی تعلیمات میںتبدیلی ضروری نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر وہ سوچ پیدا کی جائے جس کو جیو اور جینے دو (live and let live) کہا جاتاہے۔

کچھ لوگ اس ناکام تجربہ کو اب بھی دوہرانا چاہتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے سوشل ری انجینئرنگ رکھ دیا ہے:

Social re-engineering of Indian Society

اس کا مطلب یہ ہے کہ سماج کے مختلف گروہوں میں کلچر کے اعتبار سے جو فرق پایا جاتا ہے اس کی دوبارہ تشکیل دی جائے اور ایسا سماج بنایا جائے جس میں کلچر کا فرق ختم کردیا گیا ہو اور ملک کے تمام لوگ ایک ہی مشترک کلچر کے مطابق زندگی گزاریں۔

یکساں کلچر بنانے کے کام کو جوبھی نام دیا جائے، نتیجہ بہر حال سب کا ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس قسم کا نظریہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کلچرل بلڈوزنگ ہے۔ اس کو خواہ سوشل ری انجینئرنگ کہا جائے یا کلچرل نیشنلزم، وہ بہر حال ناقابلِ عمل ہے۔ اور جو چیز فطری قوانین کے مطابق، سرے سے قابلِ عمل ہی نہ ہو اس کو اپنے عمل کا نشانہ بنانا صرف اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔

اس معاملہ میں میرا اختلاف نظریاتی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ عملی بنیاد پر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہے بلکہ میں کہتا ہوں کہ یہ ناقابلِ عمل ہے۔ اگر بالفرض ایسا ممکن ہوتا کہ پورے ملک کی ایک زبان ایک کلچر ، رہن سہن کا ایک طریقہ بن جائے تو میں کہتا کہ ضرور ایسا کرنا چاہیے۔ مگر فطرت اور تاریخ کے قوانین کے اعتبار سے ایسی یکسانیت ممکن ہی نہیں۔ نہ کبھی وہ ماضی میں ممکن ہوئی ہے اور نہ وہ مستقبل میں ممکن ہو سکتی ہے۔ کلچر ہمیشہ خود اپنے قوانین کے تحت بنتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ کسی دفتر میں کلچر کا ایک خود پسند نقشہ بنایا جائے اور اس کو ملک کے تمام گروہوں میں رائج کردیا جائے۔

ایسی حالت میں ہم کو وہی کرنا چاہیے جو ہم دوسرے اختلافی معاملات میں کرتے ہیں، یعنی رواداری (tolerance) کے اصول پر اپنے مسئلہ کو حل کرنا۔ حقیقتِ واقعہ سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرکے اس سے نپٹنا، نہ کہ اس سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنا۔اس معاملہ میں ٹکراؤ کا طریقہ صرف مسئلہ کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ اس کو حل کرنے والا۔

یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندو تو انڈیا میں پیدا ہوئے ۔ ان کی وفاداری کے مراکز اسی ملک میں ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مسلمانوں کے اعتقادی مراکز (مثلاً مکہ اور مدینہ) انڈیا سے باہر ہیں۔ اس لیے مسلمان کبھی اس ملک کے وفادار نہیں ہوسکتے۔

میں کہوں گا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق ہندو اور مسلمان دونوں سے ہے۔ مثلاً ایک ہندو اگر سومناتھ کے مندر سے عقیدت رکھتا ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اجودھیا کے مندر کا عقیدت مند نہیں ہو سکتا۔ ایک ہندو کے دل میں اگر اپنی ماں کی محبت ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا دل باپ کی محبت سے خالی ہوگا۔

یہی معاملہ مسلمانوں کا بھی ہے۔ مسلمان اگر مکہ اور مدینہ سے قلبی لگاؤ رکھتاہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو انڈیا سے قلبی لگاؤ نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سوچ انسان کی تصغیر (underestimation) ہے۔ کوئی شخص ہندو ہو یا مسلمان دونوں حالتوں میں وہ فطرت کا ایک مظہر ہے اور فطرت نے جو انسان پیدا کیا ہے اُس کے اندر اتنی وسعت موجود ہے کہ وہ بیک وقت کئی محبتوں اور وفاداریوں کو یکساں طورپر اپنے دل میں جگہ دے سکے۔

یہ ایک ایسی فطری حقیقت ہے جس کا تجربہ ہر انسان کررہا ہے۔ ہر مرد اور عورت خود اپنے ذاتی تجربہ کے تحت اس کو جانتے ہیں۔ اس فطری حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— میرے اندر اتنی زیادہ وسعت ہے کہ میں مختلف تضادات کو بیک وقت اپنے اندر جگہ دے سکوں:

I am large enough to contain all these contradictions.

مذہب اور سیاست

فرقہ وارانہ جھگڑوں میںاکثر مذہب کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی سیاسی یاقومی چیز مذہبی ایشو بن جاتی ہے اور پھر تیزی سے لوگوں کے جذبات بھڑک اُٹھتے ہیں جو مختلف فرقوں کے درمیان متشددانہ ٹکراؤ کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس بنا پر بہت سے لوگ خود مذہب کے مخالف بن گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسان کو مذہب کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لیے مذہب کا خاتمہ کردینا چاہیے۔اس کے بغیر سماجی اتحاد ممکن نہیں۔

مگر یہ ایک انتہا پسندی کے جواب میں دوسری انتہا پسندی ہے۔ یہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ سیکولر انتہا پسندی سے کرنا ہے جو نہ تو ممکن ہے اور نہ مفید۔ اصل یہ ہے کہ مذہب بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ مذہب انسانی زندگی کا ایک صحت مند حصہ ہے۔ جو چیز مسئلہ ہے وہ کچھ مفاد پرست لوگوں کی طرف سے مذہب کا سیاسی ایکسپلائٹیشن ہے۔ اس لیے اصل کام ایکسپلائٹیشن کو ختم کرنا ہے، نہ کہ خود مذہب کو۔

مذہب کے دو حصے ہیں— انفرادی اوراجتماعی۔ مذہب کے انفرادی حصہ سے مراد عقیدہ اور عبادت اور اخلاق اور روحانیت کاحصہ ہے۔ اور اجتماعی حصہ سے مراد اُس کے سیاسی اور سماجی احکام ہیں۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ عام حالات میں صرف مذہب کے انفرادی حصہ پر زور دیا جائے۔ ساری توجہ مذہب کی روح زندہ کرنے پر لگائی جائے۔

جہاں تک مذہب کے سماجی اور سیاسی احکام کا معاملہ ہے، اُس کو اُس وقت تک نہ چھیڑا جائے جب تک پورا معاشرہ اُس کے لیے سازگار نہ ہوجائے۔ سماجی اور سیاسی احکام پورے سماج کی اجتماعی رضامندی سے قائم ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ایسے احکام کے معاملہ میں کسی عملی اقدام سے اُس وقت تک بچنا چاہیے جب تک پورے سماج کا اجتماعی ارادہ اُس کی موافقت میں نہ ہوجائے۔

اس معاملہ کو مذہب او ر سیاست کے درمیان عملی تفریق کہا جاسکتا ہے۔ یعنی نظری طورپر سیاست کو مذہب کا حصّہ مانتے ہوئے عملی حقائق کی بنا پر سیاسی احکام کے عملی نفاذ کو موخر یا ملتوی کردیا جائے۔ اسی کا نام حکمت ہے۔ اس حکمت کا یہ فائدہ ہے کہ مذہب اور سیاست دونوں کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں۔ مذہب کے تقاضے حال میں، اور سیاست کے تقاضے مستقبل میں۔ اس کے برعکس اگر اس حکمت کو ملحوظ نہ رکھا جائے اور دونوں پہلوؤں کو بیک وقت اُبھار دیا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مذہبی تقاضے اور سیاسی تقاضے دونوں ہی پورے ہونے سے رہ جائیں گے۔

نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کا فرق

کمیونل ہارمنی کا سوال بنیادی طورپر نارتھ انڈیا کا سوال ہے۔ ساؤتھ انڈیا میںآج بھی کمیونل ہارمنی پوری طرح پائی جاتی ہے۔ کمیونل ہارمنی یا نیشنل انٹگریشن کے نام سے ہم جیسا سماج بنانا چاہتے ہیں وہ سماج بر وقت ہی ساؤتھ انڈیا میں موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فرقہ وارانہ جھگڑوں کے تقریباً تمام واقعات نارتھ انڈیا کے علاقہ میں ہوتے ہیں۔ جہاں تک ساؤتھ انڈیا کا تعلق ہے، وہاں فرقہ وارانہ جھگڑے اتنے کم ہیں کہ وہ کسی گنتی میں نہیں آتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس فرق کا مطالعہ ہمارے لیے ایک رہنما مطالعہ بن سکتا ہے۔

مزید یہ کہ خود نارتھ انڈیا کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک شہری علاقہ اور دوسرا دیہات کا علاقہ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بیشتر فرقہ وارانہ جھگڑے شہروں میں ہوئے ہیں یا ہوتے ہیں۔ جہاں تک دیہات کے علاقہ کا تعلق ہے، وہاں شاذونادر ہی اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے۔ اس فرق کا مطالعہ بھی بے حد اہم ہے۔ اس سے ہمیں نہ صرف واقعات کی توجیہہ میں مدد ملتی ہے بلکہ یہ فیصلہ کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے کہ فرقہ وارانہ نزاعات کو ختم کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنا ان تدابیر کے ذریعہ ممکن ہے۔

قومی یکجہتی کے سلسلہ میں ہندوؤں کے کچھ عقائد ہیں جن سے مسلمانوں کو شکایت ہے۔ یہاں میں ان سے بحث نہیں کروں گا۔ اس معاملہ میں میرا مشورہ مسلمانوں کو یہ ہے کہ وہ اسلامی اصول کے مطابق اعراض اور رواداری (avoidance and tolerance) کا طریقہ اختیار کریں۔ البتہ کچھ شکایتیں یا غلط فہمیاں ہندوؤں کو مسلمانوں کے بارے میں ہیں۔ یہاں میں اس دوسرے مسئلہ کی کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں اور کچھ اسلامی اصطلاحات کی تشریح کرناچاہتا ہوں جو دونوں فرقوں کے درمیان غلط فہمی کا باعث ہیں یا باعث بن سکتی ہیں۔

یہاں میں ضمناً ایک بات کہوں گا۔ ہمارے یہاں عام رواج یہ ہے کہ مسلمان کوئی غلطی کریں تو ہندو اس کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں۔ اسی طرح ہندو اگر کوئی غلطی کریں تو مسلمان اُس کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں۔ یہ طریقہ اصلاح کے نقطۂ نظر سے بالکل بے فائدہ ہے۔ ایسی باتوں کو ایک فریق اپنی وکالت سمجھ کر خوش ہوگا مگر دوسرا فریق اُس سے کوئی مثبت اثر نہ لے گا۔

اس کے برعکس، صحیح اور مفید طریقہ یہ ہے کہ مسلمان اگر غلطی کریں تو خود مسلمانوں کے علماء اور دانشور اس کے خلاف بولیں اور لکھیں۔ اسی طرح ہندو اگر کوئی غلطی کریں تو ہندوؤں کے ذمہ دار اس کے خلاف لکھیں اور بولیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی گھر کا کوئی لڑکااگر غلطی کرے تو سب سے پہلے اُس کا اپنا باپ اُس کی تنبیہہ کرتا ہے۔ باپ اس کا انتظار نہیں کرتا کہ محلہ کے لوگ آکر اس کے خلاف بولیں۔ اور اگر محلہ کے لوگ آکر اس کے خلاف بولیں تو بچہ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ اپنوں کی تنبیہہ کو آدمی مثبت ذہن سے سنتا ہے اور اپنی اصلاح کرتا ہے۔اس کے برعکس غیر کی تنبیہہ کو وہ وقار کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ اس کا کوئی مثبت اثر قبول نہیں کرتا۔ فرقہ وارانہ اتحاد کے سلسلہ میں اس حکمت عملی کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔

قوم اور قومیت

اس سلسلہ میں چند اسلامی اصطلاحیں ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ ان اصطلاحوں کا صحیح مفہوم مسلم اور غیر مسلم کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرتا ہے اور ان اصطلاحوں کا غلط مفہوم برعکس طورپر دونوں کے درمیان دوری کا سبب بن جاتا ہے۔

ان میں سے ایک قومیت کا مسئلہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے غیر مومن مخاطبین کو اے میری قوم، (یا قومی) کے لفظ سے خطاب کیاہے۔ اس قرآنی بیان کے مطابق، مومن اور غیر مومن کی قومیت (nationality) ایک ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے بلکہ وطن سے ہے۔ مذہبی اشتراک کو بتانے کے لیے ملّت کا لفظ بولا جائے گا اور وطنی اشتراک کو بتانے کے لیے قومیت کا لفظ۔ موجودہ زمانہ میں وطن (home land) کو قومیت کی بنیاد سمجھا جاتاہے۔ اسلام کا اصول بھی یہی ہے۔ اسلام کے مطابق، بھی وطن ہی قومیت کی بنیاد ہے۔

اس اعتبار سے دو قومی نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ ہم الگ قوم ہیں اور دوسرے لوگ الگ قوم۔ جب کہ صحیح اسلامی ذہن یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو دوسروں کا ہم قوم سمجھیں، وہ دوسروں کو اے میری قوم کے لوگو، کہہ کر خطاب کرسکیں، جیسا کہ تمام پیغمبروں نے کیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہےاے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو شعوب اور قبائل میں تقسیم کردیاتاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو (الحجرات، 49:13) ۔اس آیت میںشعب سے مراد وطنی اشتراک سے بننے والی قوم ہے اور قبیلہ سے مراد نسلی اشتراک سے بننے والا گروہ۔ قرآن کے مطابق، یہ دونوں قسم کی گروہ بندی صرف تعارف کے لیے ہے، وہ عقیدہ یا مذہب کے رشتہ کو بتانے کے لیے نہیں۔

1947 سے پہلے کے دور میں مولانا حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ’’فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں‘‘۔ مولانا موصوف کا یہ بیان بجائے خوددرست تھا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُس میں فی زمانہ (موجوہ زمانہ) کی شرط درست نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم ہمیشہ وطن ہی کی بنیاد پر تشکیل پاتی رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں صرف یہ ہوا ہے کہ دوسری بہت سی چیزوں کی طرح، اس معاملہ میں بھی تعین اور تشخص کے لیے جدید طریقے استعمال کیے گئے۔ مثلاً پاسپورٹ میں قومیت کا اندارج، جب کہ پہلے پاسپورٹ کا طریقہ رائج نہ تھا، بین اقوامی حقوق کے تعیّن کے لیے قومیت کی قانونی تعریف، ملک کی نسبت سے کسی قوم کے افراد کے حقوق کو قانون کی زبان میں متعین کرنا، وغیرہ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قوم کا لفظ موجودہ زمانہ میں بھی اصلاً اسی معنٰی میں بولا جاتا ہے جس معنٰی میں وہ قدیم زمانہ میں بولا جاتا تھا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے وہ مجمل مفہوم میں بولا جاتا تھا اور اب وہ مفصل مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

کچھ لوگ قومیت کی تشریح انتہا پسندانہ انداز میں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ قومیت کو مذہب کے ہم معنٰی بنا دیتے ہیں، مگر یہ ایک نظریاتی انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کی نظریاتی انتہا پسندی کی مثالیں خود مذہب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کی تشریح ایسے انتہا پسندانہ انداز میں کی کہ اسلام کے سوا ہر نظام طاغوتی نظام بن گیا۔ کسی مسلمان کے لیے اس طاغوتی نظام میں موافقت کرکے رہنا حرام قرار پاگیا۔ حتی کہ اس مفروضہ طاغوتی نظام میں تعلیم حاصل کرنا، سرکاری ملازمت کرنا، ووٹ دینا، نزاعات کے قانونی تصفیہ کے لیے ملکی عدالت سے رجوع کرنا، سب کا سب حرام قرار پاگیا۔

طاغوتی نظام کا یہ نظریہ بعض افراد کے انتہا پسندانہ ذہن کی پیداوار تھا، اُس کا خدا و رسول والے اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقائق نے اس نظریہ کے وابستگان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے دست بردار ہوجائیں۔ چنانچہ اب یہ تمام لوگ بلا اعلان عملی طور پر اس انتہا پسندانہ نظریہ کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہی معاملہ قومیت کا بھی ہے۔ مغرب کے کچھ انتہا پسند مفکرین نے قومیت کو توسیع دے کر مکمل مذہب کے روپ میں پیش کیا۔ مگر حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر یہ نظریہ ٹوٹ کر ختم ہوگیا۔ اب عملی طور پر قومیت کا تصور تقریباً اسی فطری معنی میں بولا جاتا ہے جس فطری معنٰی میں وہ قرآن کے اندر استعمال ہوا تھا۔

بیسویں صدی کے نصف اوّل میں اُٹھنے والے مسلم رہنما اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ اُنہوں نے قومیت اور وطنیت کے معاملہ میں اس غیر فطری انتہا پسندی کو اصل سمجھ لیا اور اس بنا پر اُس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کی ایک مثال مشہور مسلم شاعر اقبال (وفات 1938) کی ہے۔ انہوں نے قومیت اور وطنیت کے اس انتہا پسندانہ وقتی تصور کو اصل سمجھ کر اُس کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے:

اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اُس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

قومیت اور وطنیت کے بارے میں یہ نظریہ بلاشبہ بے بنیاد ہے۔ عجیب بات ہے کہ اُس دور کے اکثر مسلم علماء اور دانشوروں نے سیاسی نوعیت کی چیزوں کو مذہب یا اسلام کے لیے موت و حیات کا مسئلہ سمجھ لیا۔ حالاں کہ کوئی بھی سیاسی اُتار چڑھاؤ مذہب اسلام کی ابدیت کے لیے چیلنج نہیں بن سکتا۔ مثلاً بیسویں صدی کے آغاز میںترکی کی عثمانی سلطنت ٹوٹی تو شبلی نعمانی نے یہ شعر کہا:

زوال دولتِ عثماں زوالِ شرع و ملت ہے         عزیز و فکرِ فرزند و عیال و خانماں کب تک

یہ تصور یقینی طورپر بے بنیاد ہے کہ کسی حکومت کا ٹوٹنا ’’شرع و ملّت‘‘ کے لیے زوال کے ہم معنیٰ ہے۔ ایسا نہ کبھی ہوا اور نہ ایسا کبھی ہوسکتا ۔ دور اول میںخلافتِ راشدہ ٹوٹی مگر اسلام کی پُر امن توسیع مسلسل جاری رہی۔ اس کے بعد اموی سلطنت ٹوٹی تب بھی اسلام کا سفر بدستور جاری رہا، اس کے بعد عباسی سلطنت ٹوٹی، اندلس کی مسلم سلطنت ٹوٹی، مصر کی فاطمی سلطنت ٹوٹی، ہندستان کی مغل سلطنت ٹوٹی، وغیرہ وغیرہ۔ مگر سلطنتوں کا یہ زوال اسلام کے زوال کا سبب نہ بن سکا۔

اسی طرح بیسویں صدی میں کئی انتہا پسندانہ نظریات اُبھرے۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، نیشنلزم اور وطنیت، وغیرہ۔ مگر ان سب کا آخری انجام یہ ہوا کہ فطرت کا قانون اُن کے انتہا پسندانہ عناصر کو رد کرتا ہے اور آخر کار جو چیز بچی وہ وہی تھی جو قانونِ فطرت کے مطابق مطلوب تھی۔ فطرت کا ابدی قانون ہر دوسری چیز پر بالا ہے۔ فطرت کا قانون اپنے آپ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معتدل افکار کو رد کرکے اُنہیں میدانِ حیات سے ہٹا دیتا ہے اور اُن کے بجائے معتدل افکار کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔

کفر اور کافر کا تصور

اسی طرح اس معاملہ میں ایک متعلق اصطلاح کفر کی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میںکفر اور کافر کا جوتصور پایا جاتا ہے وہ قومی یکجہتی کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ مگر یہ خیال ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔

کفر کے لفظی معنٰی انکار کے ہوتے ہیں اور کافر کا مطلب ہے، انکار کرنے والا۔ یہ دونوں الفاظ قرآن میں پیغمبر کی نسبت سے بولے گئے ہیں، وہ عام لوگوں کی نسبت سے نہیں بولے گئے۔ مزید یہ کہ کفر یاکافر ایک شخصی کردار ہے۔ وہ کسی گروہ کا نسلی یا وراثتی نام نہیں۔ کفر یا انکار کا تحقق کسی کے بارے میں اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کے اوپر پیغمبرانہ قسم کی دعوت جاری کی جائے اور اُس کو تکمیل کی حد تک پہنچایا جائے جس کو اتمامِ حجت کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی پیغمبرانہ دعوت کے بغیر کسی کے بارے میںیہ کہنا درست نہیں کہ اُس نے کفر یا انکار کا فعل کیا ہے۔

اسی طرح کسی فرد یا مجموعۂ افراد کے بارے میں متعین اور مشخص طورپر یہ اعلان کرناکہ وہ کافر ہوچکے ہیں، عام لوگوں کے لیے جائز نہیں۔ کفر کے فعل کاتعلق حقیقتاً نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے متعین اور مشخص طورپر کسی کے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہوگیا ہے، یہ خالصتاً اللہ کا کام ہے یا اللہ کے دیے ہوئے علم کی بنا پر پیغمبر کا۔ چنانچہ قرآن میںصرف ایک ایسا حوالہ ہے جب کہ قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں کو متعین طورپر کافر قرار دے کر کہا گیا کہ:قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ (109:1)۔ اس انداز کا مشخص خطاب قرآن میں کسی بھی دوسرے گروہ کے لیے نہیں آیا ہے۔ یعنی قرآن میں اس ایک استثنا کو چھوڑ کر فعل کفر کا ذکر تو ہے مگر مشخص طورپر کسی کو فاعلِ کفر کا درجہ نہیں دیا گیا۔

دار الحرب کی اصطلاح

دار الحرب کی اصطلاح دورِ عباسی میں بننے والی فقہ میں ضرور استعمال ہوئی ہے مگریہ اصطلاح قرآن اور حدیث میںمذکور نہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی اصطلاح ہے، وہ کوئی منصوص اصطلاح نہیں۔ اور جو نظریہ اجتہادی ہو اُس کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ وہ صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔

میرے نزدیک دار الحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی خطا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے کسی بھی علاقہ کو دار الحرب قرار نہیں دیا۔ اگر قرآن وسنت میںاجتہاد کرکے اس سلسلہ میںکوئی اصطلاح بنائی جائے تو وہ صرف ایک ہوگی، اور وہ دار الدعوہ ہے۔ یہی اسلامی روح کے مطابق ہے۔ اسلام ہر قوم کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے،خواہ اہلِ اسلام کاتعلق اُن سے امن کا ہو یا حرب کا۔ اس لیے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دار الاسلام اور دار الدعوہ۔ اس کے سوا جو بھی اصطلاحیں بولی گئی ہیں وہ سب میرے نزدیک اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً دار الحرب، دار الکفر، دار الطاغوت، وغیرہ۔

جہاد کا تصور

کچھ مسلمانوں کی غلط تعبیر کے نتیجہ میں، جہاد کا تصور یہ بن گیا ہے کہ جہاد کا مطلب ہے، مصلحانہ جنگ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان دنیا میں خدا کے خلیفہ ہیں۔ مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کی نیابت میںخدا کی حکومت دنیا میں قائم کرے۔ وہ خدا کی طرف سے لوگوں کو خدا کے احکام کا پابند بنائے۔ اُن کے نزدیک اس لڑائی کا نام جہاد ہے۔جہاد کا یہ تصور بلاشبہ بے اصل ہے۔ قرآن و سنت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

مصلحانہ جنگ اپنے نتیجہ کے اعتبارسے صرف مفسدانہ جنگ ہے۔ اجتماعی زندگی میں پرامن اظہار خیال کا حق تو ہر ایک کو ہے لیکن طاقت کو استعمال کرکے اصلاح کرنے کا نظریہ بین اقوامی زندگی میں ناقابل قبول ہے۔ اجتماعی یا بین اقوامی زندگی میںکوئی گروہ اپنے لیے ایک ایسا حق نہیں لے سکتا جسے وہ دوسروں کو دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اگر ایک گروہ اپنے لیے اصلاحی جنگ کا حق لینا چاہے تو یقینی طورپر اسے دوسروں کو بھی اصلاحی جنگ کا یہ حق دینا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر گروہ خود ساختہ اصلاح کے نام پر دوسرے سے جنگ شروع کردے گا۔ اس کے نتیجہ میںاصلاح تونہ ہوگی البتہ اس کی وجہ سے ایک ایسا فساد برپا ہوگا جو کبھی ختم نہ ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی جائز صورت صرف ایک ہے، اور وہ دفاع ہے۔ اگر ایک قوم اپنی جغرافی حد سے تجاوز کرکے دوسری قوم کے اوپرکھلا حملہ کردے تو ایسی صورت میں زیر حملہ قوم کواپنے بچاؤ میں جوابی جنگ کا حق حاصل ہے۔ اس ایک صورت کے سوا کسی بھی دوسری صورت میں متشددانہ جنگ کا کوئی جواز نہیں۔

یہ اجتماعی اصول اسلام میں بھی اسی طرح مسلّم ہے جس طرح سے وہ دوسرے نظاموں میںتسلیم کیاگیا ۔ اس اجتماعی اصول کے معاملہ میںاسلام اور غیر اسلام کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

اس سلسلہ میںایک مسئلہ وہ ہے جو پچھلی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ پچھلا زمانہ بادشاہی زمانہ تھا۔ ساری دنیا میں ہر جگہ کچھ خاندان حکومت کرتے تھے۔ اُس زمانہ میں بادشاہ کا یہ حق سمجھا جاتا تھا کہ وہ قانون سے بالا تر ہے اور وہ جو چاہے کرے۔ اس بنا پر قدیم شاہی زمانہ میں ہر بادشاہ نے ایسے کام کیے جو اخلاقی یا قانونی اعتبار سے درست نہ تھے۔ قدیم زمانہ میں ہندستان کے مسلم بادشاہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ مثلاً محمود غزنوی نے سومناتھ کے ہندو مندر کو ڈھایا اور اُس کے سونے کے ذخیرہ کو لوٹا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے بنارس کے ایک ہندو مندر کو ڈھایا اور اُسی جگہ مسجد تعمیر کی، وغیرہ۔

بادشاہوں کی طرف سے اس قسم کے واقعات قدیم زمانہ میں ہر ملک میںہوئے۔ مگر وہ صرف قدیم تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گئے، وہ بعدکے زمانہ میں دو قوموں کے درمیان مستقل نزاع کا سبب نہ بن سکے۔ صرف ہندستان میںایسا ہوا کہ اس طرح کے واقعات یہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مستقل طورپر تلخی کا سبب بن گئے۔ اس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ فساد بھی بار بار ہوئے۔ وہ قومی یکجہتی کا ماحول قائم کرنے کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ بن گئے۔

میرے نزدیک اس استثنائی صورت حال کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مسلم علماء اور دانشوروں نے ہندستان کی مسلم حکومتوں کو اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ وہ اس کو اسلام کی تاریخ کا ایک باب سمجھنے لگے۔حالاں کہ ان حکومتوں کی حیثیت صرف کچھ مسلم خاندانوں کی حکومت (dynasty) کی تھی۔ اُن کو اُصولی اعتبار سے اسلام کی حکومت بتانا درست نہ تھا۔ اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر ایسا ہوا کہ جو واقعات ایک مخصوص مسلم خاندان کی حکمرانی سے تعلق رکھتا تھا وہ اسلام کے نام کے ساتھ جُڑگیا۔

اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر یہ شدید غلطی ہوئی کہ مسلمان ان حکمرانوں کے دورِ حکومت کو اپنے لیے اسلامی فخر کے طور پر لینے لگے۔ وہ اُس کوغلبۂ اسلام کی علامت سمجھنے لگے۔دوسری طرف ہندوؤں میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو تاریخی غلطیوں (historical wrongs) کی اصلاح کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ واضح طورپرباہمی تلخی کی صورت میں نکلا۔ مسلمانوں نے جب اس کو اپنا فخر بنایا تو شعوری یا غیر شعوری طورپر وہ اُن کی مذہبی تاریخ کا ایک مقدّس حصہ بن گیا اور دوسری طرف ہندوؤں نے اُس کو تاریخی غلطی سمجھ کر اُس کی اصلاح کی کوشش شروع کردی۔

میرے نزدیک اس معاملہ میں دونوں فریق غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مسلمان کی غلطی یہ ہے کہ وہ اس تاریخ کو مذہبی حیثیت دینے کی بنا پر اُس پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور دوسری طرف ہندوؤں کی غلطی یہ ہے کہ وہ گذری ہوئی تاریخ کو بھولنے پر تیار نہیں۔ وہ ماضی کی غلطیوں کی تصحیح پر اصرار کررہے ہیں، خواہ اُس کے نتیجہ میں حال کے امکانات برباد ہوکر رہ جائیں۔

میرے نزدیک اس معاملہ میں دونوں فریقوں کو حقیقت پسند بننا چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پچھلے مسلم بادشاہوں کو اسلامی حاکم کا درجہ نہ دیں بلکہ اُن کی حکومت کو صرف ایک خاندان کی حکومت (dynasty) قرار دیں۔ وہ ان مسلم بادشاہوں کی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی کارروائیوں کا انکار (disown) کریں، وہ کھلے طورپر اُن کی مذمت کریں، خواہ، وہ محمود غزنوی ہو یا اورنگ زیب یا کوئی اور۔

دوسری طرف ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ مضی ما مضی (gone is gone) کے اُصول پر ماضی کو بھلا دیں۔ وہ اس معاملہ میںجذباتی طریقہ کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کریں۔ ہندوؤں کو جاننا چاہیے کہ تاریخی غلطیاں ہمیشہ ہوئی ہیں مگر کوئی بھی کبھی تاریخی غلطیوں کی تصحیح نہ کرسکا۔ تاریخی غلطیوں کی تصحیح کا نظریہ بلاشبہ غیر دانش مندانہ ہے۔ یہ ماضی کی تصحیح کے نام پر حال کی تخریب ہے۔ یہ فطرت کے اُصول کے خلاف ہے۔ ایسے لوگ ماضی کو پانے کے نام پر اپنے حال اور مستقبل کو بھی کھو دیتے ہیں۔

بد قسمتی سے ہندستان کے حق میں یہ بات پوری طرح واقعہ بن گئی ہے۔ جن ملکوں نے اپنے ماضی کو بھُلا کر اپنے حال کو تعمیر کرنا چاہا، اُنہوں نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان نے امریکہ کی غلطیوں کی تصحیح کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان آج ایک اقتصادی سُپر پاور بنا ہوا ہے۔ دوسری مثال ہندستان کی ہے۔ ہندستان میں ماضی کی غلطیوں کی تصحیح کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندستان صرف ایک پچھڑا ہوا ملک بن کر رہ گیا۔

قومی ترقی کی لازمی شرط یہ ہے کہ قومی ترقی کے سوال کو اصل بنایا جائے اور بقیہ تمام چیزوں کو سیکنڈری حیثیت دے دی جائے۔ لوگوں میں یہ سوچا سمجھا ذہن موجود ہو کہ اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ قومی ترقی کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اس کے سوا جو جذباتی مسائل ہیں یا اور جو ذاتی مفروضات ہیں وہ اگر قومی ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈالے بغیر حاصل ہوتے ہوں تو ٹھیک، ورنہ وہ ہمیں منظور نہیں۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کی پیروی کرکے ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی دی جاسکتی ہے، اس کے بغیر امن ممکن نہیں۔

مشہور قصہ ہے کہ ایک قاضی کے پاس ایک کیس آیا۔ ایک نوزائیدہ بچہ تھا اور دو عورتیں یہ دعویٰ کررہی تھیں کہ وہ اُس کی ماںہے اور اس بچہ کو اس کے حوالہ کردینا چاہیے۔ مگر دونوں میں سے کسی کے پاس بھی کوئی قانونی ثبوت موجود نہ تھا۔ یہ قاضی کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ آخر کار اُس نے یہ حکم دیا کہ بچہ کے جسم کو بیچ سے کاٹ کر دو ٹکڑے کردیئے جائیں اور پھر اُس کا ایک ٹکڑا ایک عورت کو دیاجائے اور اُس کا دوسرا ٹکڑا دوسری عورت کو دیا جائے۔

قاضی نے جب اپنا یہ حکم سنایا تو جو عورت بچہ کی ماں ہونے کی فرضی دعویدار تھی اُس پراس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ مگر جو عورت بچہ کی حقیقی ماں تھی وہ چیخ اٹھی ۔ اُس نے کہا کہ بچہ کو مت کاٹو۔ اُس کو تم دوسری عورت کے حوالہ کردو۔ یہی محبت کا حقیقی معیار ہے۔ جن لوگوں کو ملک سے حقیقی محبت ہے اُنہیں چلّا کر کہنا چاہیے کہ ہم دیش کی تباہی کو دیکھ نہیں سکتے۔ پچھلی تاریخ میں جو کچھ ہوا اُس کو ہم بھلاتے ہیں تاکہ حال کے مواقع کو بھر پور طورپر استعمال کیا جاسکے اور ملک کا ایک نیا شاندار مستقبل پیدا کیا جاسکے۔

قومی زندگی میںامن اور اتحاد کا اصول صرف tolerationکی بنیاد پر ممکن ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ مختلف افراد اور مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات پیداہوں۔ فرق اور اختلاف زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے فرقہ وارانہ زندگی میں اعتدال کا ماحول فرق اور اختلاف کو مٹا کر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مقصد جب بھی حاصل ہوگا تحمل اور ٹالرنس کی بنیاد پر حاصل ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے کی کوشش کسی انسانی گروہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ فطرت کے عالم گیر قانون کے خلاف ہے۔ کوئی بھی شخص یا گروہ اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ فطرت سے لڑکر جیت سکے۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس معاملہ میںبرداشت کے اصول کو اپنایا جائے نہ کہ ٹکراؤ کے اصول کو۔ اختلاف کو گوارا کرو تاکہ اتحاد قائم ہو۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ تو سرے سے ممکن ہی نہیں۔

 

ہائی جیکنگ ایک جرم

ہائی جیکنگ (ہوائی قذّافی) بلاشبہ ایک فعل حرام ہے۔ اس کو جس پہلو سے بھی دیکھا جائے، یقینی طورپر وہ شرعی اعتبار سے حرام اور انسانی اعتبار سے جرم قرار پائے گا۔ ہائی جیکنگ کو جائز ثابت کرنا صرف جرم کے اوپر سرکشی کا اضافہ ہے۔ ہائی جیکنگ ایک ایسا جرم ہے جس میں بیک وقت کئی سنگین جرائم شامل ہو جاتے ہیں — رہزنی (highway  robbery) ، یرغمال (hostage) بنانا، ناحق قتل کرنا، دھوکہ کی جنگ، کسی کے مال کو غصب کرنا اور اس کو نقصان پہنچانا۔

1۔  رہزنی کیا ہے، رہزنی یہ ہے کہ کسی آدمی کو غیر محفوظ (vulnerable) حالت میں پاکر اس پر حملہ کرنا اور اس کو جانی اور مالی نقصان پہنچانا۔ پہلے زمانہ میں برّی رہزنی  (highway robbery)کا رواج تھا۔ اس کے بعد بحری قذافی (piracy) کی جانے لگی۔ اب موجودہ زمانہ میں ہوائی قذّافی (hijacking) شروع ہوگئی ہے۔ رہزنی کی یہ تمام قسمیں اسلام میں یکساں طور پر حرام ہیں۔ جو فرد یا گروہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اس قسم کا فعل کرے وہ بلاشبہ سخت گناہ گار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے لیے اسی انجام کا خطرہ ہے جو کسی فعل حرام کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے مقدر ہے۔ الاّ یہ کہ وہ توبہ کرے اور علی الاعلان متعلقہ افراد سے اپنے جرم کی معافی مانگے۔ اسی کے ساتھ وہ اس نقصان کی تلافی کرے جو اس نے ہائی جیکنگ کے ذریعہ کسی کو پہنچایا ہے۔

2۔  یرغمال بنانا یہ ہے کہ اپنی کچھ مانگوں کے لیے موقع پا کر معصوم لوگوں کو پکڑنا اور پھر سودے بازی کرنا۔ یرغمال بنانے کا یہ رواج قدیم زمانہ میں بھی تھا لیکن موجودہ زمانہ میں اس نے اب باقاعدہ فن کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اس قسم کا فعل بلاشبہ سخت گناہ بھی ہے اور بزدلی بھی۔ یہ بات اسلام میں سراسر حرام ہے کہ آپ کو کسی سے شکایت ہو اور آپ اس کا بدلہ کسی اور سے لیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر کسی معصوم جان کو ستانا اسلام میں ہر گز جائز نہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے نام سے جو معاہدہ کیا تھا اس سے مزید ثابت ہوتا ہے کہ اگر فریق ثانی ہمارے کسی آدمی کو یرغمال بنا لے تب بھی ہمیں فریقِ ثانی کے آدمی کو یرغمال بنانا جائز نہیں۔ کیوں کہ یہ معصوم افراد سے انتقام لینے کے ہم معنٰی ہے اور معصوم افراد پر ظلم کرکے اپنے انتقام کی آگ بجھانا بلاشبہ اسلامی شریعت میں جائز نہیں۔

3۔  جو لوگ ہائی جیکنگ کرتے ہیں وہ اپنے مجرمانہ مقصد کو پورا کرنے کے لیے اکثر بے قصور مسافروں کو قتل بھی کر ڈالتے ہیں۔ اس قسم کاقتل بلاشبہ انتہائی سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص کسی ایک آدمی کو بھی ناحق قتل کرے، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کرڈالا (المائدہ،5:32) ۔اس اعلان خداوندی کے باوجود جو لوگ بے قصور مسافروں کو قتل کریں یا ان کو ستائیں ان کے دل بلاشبہ خدا کے خوف سے خالی ہیں۔ اور جس دل کے اندر خدا کا خوف نہ ہو وہ یقینی طورپر ایمان سے بھی خالی ہوگا۔

ہوائی جہاز میں جو مسافر سفر کررہے ہوتے ہیں، واضح طورپر وہ بے قصور ہوتے ہیں۔ ہائی جیکروں کے ساتھ ان کا کوئی بھی نزاعی معاملہ نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں ان کے سفر میں رکاوٹ ڈالنا، ان کو ستانا، یا ان کو قتل کرنا، یہ سب کا سب اسلام میں حرام ہے، حتٰی کہ اگر بالفرض کسی مسافر نے کوئی غلطی کی ہو تب بھی اس کی غلطی پر سزادینے کا اختیار صرف باقاعدہ عدالت کو ہے۔ کوئی بھی غیرعدالتی آدمی قصور وار کو بھی سزا دینے کا حق نہیں رکھتا۔ پھر بے قصور مسافروں کو سزا دینا تو اور بھی زیادہ غیراسلامی فعل قرار پائے گا۔

4۔  اسلام میں دھوکہ دینا مطلق طورپر حرام ہے، خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو۔ موجودہ زمانہ کی ہائی جیکنگ مکمل طورپر دھوکہ کا ایک فعل ہے۔ ہائی جیکنگ کرنے والے ہائی جیکنگ کے ہر اسٹیج پر لوگوں کے ساتھ دھوکہ کا معاملہ کرتے ہیں۔ فرضی پاسپورٹ بنوانا، جعلی کرنسی استعمال کرنا، ائرپورٹ پر عملہ کو دھوکہ دے کر خطرناک ہتھیار جہاز میں پہنچانا، متعلق افراد کو دھوکہ دے کر جہاز کے اندر داخل ہونا، وغیرہ۔ یہ سارا عمل جھوٹ اور دھوکہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اور جھوٹ اور دھوکہ اسلام میں انتہائی سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام میں صرف کھلے معاملہ کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام میں اس مجرمانہ کارروائی کے لیے کوئی گنجائش نہیں کہ لوگوں کو فریب دے کر اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ حتی کہ اگر ایک مسلم ملک کے تعلقات دوسرے ملک سے امن کی بنیاد پر قائم ہوں اور پھر مسلم ملک کسی وجہ سے اس ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا چاہے تو مسلم ملک پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اپنے اس فیصلہ کا کھلا اعلان کرے اور یہ کہے کہ آج سے ہم اور تم بر سرِ جنگ ہیں (الانفال، 8:58)۔ در پردہ جنگ یا پراکسی وار (proxy war) اسلام میں قطعاً جائز نہیں۔

جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر اپنا مقصد حاصل کرنا انسانی نقطۂ نظر سے بھی ایک پست حرکت ہے۔ اور اسلامی نقطۂ نظر سے بھی وہ ایک گناہ عظیم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامن غشنا فلیس منا (صحيح مسلم حديث نمبر 101)۔ یعنی جو شخص دھوکہ کا معاملہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔

5۔  ہائی جیکنگ میں جان اور مال دونوں کا نقصان شامل ہے۔ ایک طرف ایک پورا ہوائی جہاز ہے جس کی قیمت کروڑوں روپیہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میںجہاز میں گھس کر یہ دھمکی دینا کہ ہماری مانگیں پوری کرو ورنہ ہم جہاز کو بم سے اڑا دیں گے، یہ مال کا غصب بھی ہے اور دوسرے کے مال کو ناحق تلف کرنا بھی۔ جہاز میں عام طورپر سیکڑوں آدمی سوار رہتے ہیں اور یہ سب بے قصور ہوتے ہیں اس لیے جہاز کو تباہ کرنے کا ہر منصوبہ سیکڑوں بے گناہ لوگوں پر ظلم اور قتل کے ہم معنیٰ ہے۔ مزید یہ کہ اس قسم کا ہر فعل خود ہائی جیکرس کے لیے بھی خود کشی کے اقدام کے برابر ہے جو خود بھی اتنی بری چیز ہے کہ اسلامی شریعت میں بتایا گیا ہے کہ جو آدمی جان بوجھ کر اپنے آپ کو مارے وہ حرام موت مرا۔ اور حرام موت سے بُری کوئی موت اسلام میں نہیں۔

ہائی جیکنگ کا خونیں ڈرامہ کرنے والے اپنے اس فعل کو اسلامی جہاد قرار دیتے ہیں۔ یہ توجیہہ بلاشبہ مجرمانہ حد تک غلط ہے۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔

اسلامی جہاد اللہ کے راستہ میں دفاعی طورپر کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ لوگ جو نام نہاد جنگ لڑرہے ہیں وہ ملک اور مال کے لیے ہے۔ ملک اور مال کے لیے جو جنگ لڑی جائے وہ ہر گز جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہوسکتی۔

دوسری بات یہ ہے کہ جہاد (بمعنیٰ قتال) صرف ایک قائم شدہ ریاست کا فعل ہے، نہ کہ عام افراد کا۔ موجودہ جنگ کی صورت یہ ہے کہ اس کو عام افراد چھیڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ عام افراد کو اسلامی نقطۂ نظر سے یہ حق ہی حاصل نہیں۔ عام افراد اگر جنگ چھیڑیں تو یہ ان کے لیے ایک فعل حرام کا ارتکاب ہوگا۔

ایک قائم شدہ ریاست جارحیت کی صورت میں دفاعی جنگ لڑسکتی ہے مگر ایسی دفاعی جنگ بھی اس وقت اسلامی جنگ ہوگی جب کہ وہ کھلے اعلان کے ساتھ لڑی جائے۔ اعلان کے بغیر کسی کے خلاف پراکسی وار چھیڑنا اور اس کو جھوٹ کے بل پر چلانا اسلام میں ہر گز جائز نہیں۔

اسلام میں حقوق کی دو قسمیں کی گئی ہیں—حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ حقوق اللہ سے مراد وہ ذمہ داریاں ہیں جو خدا کی نسبت سے بندے پر عائد ہوتی ہیں۔اگر کوئی بندہ حقوق اللہ کے معاملہ میں کوتاہی کرے تو اس کی تلافی کے لیے معافی مانگنا ہی کافی ہو جاتا ہے۔

مگر حقوق العباد کا معاملہ بے حد سنگین ہے۔ حقوق العباد میں غلطی کرنے کا معاملہ انسانوں سے ہوتا ہے۔ جو آدمی انسان کے معاملہ میں کوئی جرم کرے تو صرف خدا سے معافی مانگنا اس کی تلافی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ خدا سے معافی مانگنے کے ساتھ  اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ متعلق لوگوں سے بھی معافی مانگے اور اس نقصان کی تلافی کرے جو اس نے انہیں پہنچایا ہے۔

ہائی جیکنگ کا تعلق بلاشبہ حقوق العباد سے ہے۔ یہ انسان کے مقابلہ میں ظلم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہائی جیکروں پر لازم ہے کہ وہ ستم زدہ انسانوں سے باقاعدہ طورپر اس کی تلافی کریں۔ ورنہ وہ خدا کے نزدیک ناقابل معافی مجرم قرار پائیں گے، خواہ وہ بظاہر نماز روزہ کیوں نہ ادا کررہے ہوں۔

 

کشمیر میں امن

زیرِ نظر مجموعہ کشمیر گائڈ کے طورپر شائع کیا جارہا ہے۔ میں تحریری اعتبار سے 1968 سے کشمیر سے وابستہ رہا ہوں۔ اول دن سے میری یہ رائے ہے کہ کشمیر کو غیر حقیقت پسندانہ سیاست نے تباہ کیا ہے، اور اب حقیقت پسندانہ سیاست کے ذریعہ اس کو دوبارہ ایک ترقی یافتہ کشمیر بنایا جاسکتا ہے۔

کشمیری مسلمانوں کی موجودہ نفسیات یہ ہے کہ وہ ہر ایک سے بیزار ہوچکے ہیں۔ وہ بے اعتمادی کی فضا میں جی رہے ہیں۔ زیرِ نظر مجموعہ کا مقصد یہ ہے کہ ان کو اس بے اعتمادی کی فضا سے نکالا جائے اور انہیں حوصلہ اور اعتماد پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔

کشمیریوں کے لیے اس نئی زندگی کا آغاز ہر لمحہ ممکن ہے۔ مگر اس کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ اول یہ کہ آج وہ جس ناخوش گوا ر صورت حال سے دوچار ہیں، اس کا ذمہ دار وہ خود اپنے آپ کو ٹھہرائیں۔ جب تک وہ اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے رہیں گے، ان کے لیے نئی زندگی کا آغاز ممکن نہیں۔

دوسری ضروری بات یہ ہے کہ وہ مفروضات کی دنیا سے نکلیں اور عملی حقائق کی دنیا میں جینا شروع کریں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان کے نااہل لیڈروں نے انہیں جن خوش فہمیوں میں مبتلا کیا تھا ان سے وہ باہر آئیں۔ وہ حالاتِ موجودہ سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی تعمیر کا نیا منصوبہ بنائیں۔حالات کا فیصلہ ہے کہ وہ آزادانہ طورپر، نہ کہ مجبورانہ طورپر، یہ جرأت مندانہ فیصلہ کریں کہ تقدیر نے ان کو انڈیا کا ایک حصہ بنا دیا ہے اور اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی ممکن صورت نہیں کہ وہ خوش دلی کے ساتھ تقدیر کے اس فیصلہ کو قبول کرلیں۔

مزید یہ کہ یہ ان کے لیے کوئی برائی نہیں، وہ یقینی طورپر ان کے لیے ہر اعتبار سے خیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ انڈیا ایک بڑا ملک ہے۔ یہاں آزادی اور جمہوریت ہے۔ یہاں تقریباً بیس کروڑ کی تعداد میں ان کے ہم مذہب مسلمان رہتے ہیں۔ بر صغیر ہند کے تمام بڑے اسلامی ادارے انڈیا میں قائم ہیں۔ انڈیا میں اس علاقہ کے مسلمانوں کی ہزار سالہ تاریخ کے نقوش موجود ہیں جو اس علاقہ کے مسلمانوں کو زندگی کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ انڈیامیںدعوتِ دین کے وہ عظیم مواقع موجودہیں جن کی انجام دہی پر حدیث میں نجاتِ آخرت کی خوش خبری دی گئی ہے۔ (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175، مسند احمد، حدیث نمبر8823)

ایک بار میں چند دن کے لیے کراچی میں تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک مسلم صنعت کار سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ انڈیا میں ہم سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔ میںنے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دیکھیے، پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے۔ اگر ہم کوئی پروڈکٹ تیار کریں تو اس کو مارکیٹ کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت محدود دنیا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، انڈیا بہت بڑا ملک ہے۔ انڈیا میں اگر آپ کوئی پروڈکٹ تیار کریں تو اس کو مارکیٹ کرنے کے لیے آپ کے پاس ایک نہایت وسیع دنیا موجود ہوتی ہے۔

مذکورہ مسلم تاجر کی یہ بات اب ایک واقعہ بن چکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی میں پہنچ کر انڈیا کے مسلمان پورے بر صغیر ہند کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان بن چکے ہیں۔ یہ بات بلا مبالغہ درست ہے اور کسی بھی شہر کا تقابلی سروے کرکے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس واقعہ کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ آج نہ صرف بر صغیر ہند بلکہ پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی ہندستان میں پایا جاتا ہے، یعنی بنگلور کے مسٹر عظیم ہاشم پریم جی۔

کشمیر کے مسلمان اگر دل کی آمادگی سے انڈیا کے ساتھ مل جائیں تو ان کے لیے ہر قسم کی ترقی کے شاندار مواقع کھل جائیں گے۔ تعلیم، اقتصادیات اور دوسرے تمام ترقیاتی شعبوں میں یہاں ان کے لیے ترقی کے جو امکانات ہیں وہ کسی بھی دوسرے مقام پرنہیں۔

مزید یہ کہ سیاست کے اعتبار سے انڈیا میں ان کے لیے ترقی کے عظیم مواقع موجود ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میرا ایک مضمون اردو اورہندی اور انگریزی اخباروں میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے لکھا تھا کہ کشمیر کے مسلمان اگر ٹکراؤ کی پالیسی چھوڑ دیں اور ہندستان کو دل سے قبول کرتے ہوئے اس کا حصہ بن جائیں تو آئندہ جمہوری ہندستان میں جو پہلا مسلم وزیر اعظم بنے گا وہ ایک کشمیری مسلمان ہوگا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے بارے میں مجھے کوئی شبہ نہیں—اگلے صفحات میں جو کچھ لکھا جارہا ہے وہ مختلف پہلوؤں سے اسی حقیقت کی تفصیل و تشریح ہے۔

کشمیری قیادت

کشمیر کے مسئلہ پر میں اس کے آغاز ہی سے سوچتا رہا ہوں ۔ اللہ کی توفیق سے میں نے ابتداء میں اس معاملہ میں جورائے قائم کی تھی وہی رائے آج بھی مجھ کو درست نظر آتی ہے۔ اللہ کے فضل سے اس معاملہ میں مجھے کبھی اپنی رائے بدلنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

مطبوعہ ریکارڈ کے مطابق، اس موضوع پر میں 1968 سے لکھتا رہا ہوں۔ اس کے بارے میں غالباً میری پہلی تحریر وہ ہے جو الجمعیۃ ویکلی میں چھپی تھی۔ یہاں یہ تحریر الجمعیۃ کے صفحات سے لے کر نقل کی جارہی ہے

’’اپنا حق وصول کرنے کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ فیصلے کا سرا اپنے ہاتھ میں ہو۔ مگر ہمارے لیڈر اس وقت ہوش میںآتے ہیں جب کہ ان کا کیس اخلاقی کیس بن چکا ہو‘‘—یہ احساس مجھے اکثر اس وقت ہوتا ہے جب کہ میں کشمیری لیڈر شیخ عبد اللہ کی تقریر پڑھتا ہوں۔ شیخ صاحب ایک مخلص کشمیری ہیں۔ اپنی جرأت اور قربانیوں کی وجہ سے وہ بجا طورپر شیر کشمیر کہلانے کے مستحق ہیں۔ مگر ان کی موجودہ کشمیری مہم مجھے مشتے بعد از جنگ سے زیادہ نظر نہیں آتی۔

1947 میں وہ اس پوزیشن میں تھے کہ اگر وہ حقیقت پسندی اختیار کرتے تو اپنا فیصلہ خود اپنی مرضی کے مطابق کرسکتے تھے۔ مگرانہوں نے فیصلے کے وقت کو غیر حقیقت پسندانہ خوابوں میں کھودیا۔ اب جب کہ فیصلہ کا سرا ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو وہ چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ اب ان کی چیخ و پکار کی حیثیت محض اخلاقی دہائی کی ہے، اور اخلاقی دہائی اس دنیا میںکوئی وزن نہیں رکھتی۔

ایک نوجوان نے ایک مرتبہ دکان کھولی۔ ابھی انہوں نے زندگی میں پہلی بارقدم رکھا تھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ دنیا میں کس قسم کے تحفظات کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ دکان میں ایک معمولی تالا لگانا شروع کیا۔

ایک روز وہ دکان سے اداس حالت میں لوٹے۔ یہ دیکھ کر ایک بزرگ نے پوچھا ’’کیا بات ہے۔ آج اُداس نظر آرہے ہو‘‘۔

’’دکان میں چوری ہوگئی ‘‘ ۔ نوجوان نے کہا۔

’’کیسے ‘‘

’’تالا معمولی تھا۔ کوئی شخص رات میں کھول کر سامان نکال لے گیا‘‘۔

’’یہ تو تمہاری غلطی تھی ‘‘۔

’’جی ہاں۔ اب تجربہ ہوا کہ دکان میںتالا اچھے قسم کا لگانا چاہیے‘‘۔

یہ سن کر بزرگ نے فرمایا—’’یہ بھی کوئی تجربہ کے بعد معلوم ہونے کی چیز ہے۔ جب تم دکانداری کی لائن میں داخل ہوئے تو تمہیں اول دن سے جاننا چاہیے تھا کہ دکان میںتالا مضبوط لگایا جاتا ہے۔‘‘

دکان اور اس طرح کے دوسرے شخصی معاملات میں تو اس کا بھی امکان ہے کہ آدمی ایک بار ٹھوکر کھاکر دوبارہ سنبھل جائے۔ مگر قومی فیصلوں کی نوعیت بالکل جداگانہ ہے۔ شخصی معاملات میں ایک بار نقصان اٹھانے کے بعد یہ بھی امکان رہتا ہے کہ محنت کر کے آدمی دوبارہ حالات کو اپنے موافق بنالے۔ مگر قومی معاملات میں جب فیصلہ کا سرا ایک بار ہاتھ سے نکل گیا تو مسئلہ بے حد پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پھر تو زمین و آسمان کی نئی کروٹیں ہی اس کو بدل سکتی ہیں۔

قومی قیادت ایک ایسا کام ہے جو ان لوگوں کے کرنے کا ہے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکیں— باقی وہ لوگ جن کی نگاہیں صرف ماضی اور حال تک جاتی ہوں اور مستقبل انہیں صرف اس وقت نظر آئے جب وہ واقعہ بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑا ہو، ایسے لوگ قوموں کی قیادت نہیں کرسکتے۔ البتہ اپنے غیر دانش مندانہ اقدامات سے قوموں کو مسائل میں الجھانے کا فرض ضرور انجام دے سکتے ہیں۔‘‘  (الجمعیۃ ویکلی، نئی دہلی، 14 جون، 1968، صفحہ  4)

اس کے بعد میں اسی انداز سے مسلسل کشمیر کے بارے میں لکھتا رہا ہوں۔ پچھلے 35 سال میں کشمیر کے موضوع پر میں نے جو کچھ لکھا ہے ان کو اگر یکجا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔

یہ اللہ کا شکر ہے کہ میری اس طویل کوشش سے ہزاروں کشمیریوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ہزاروں لوگ جنگجوئی کا مزاج ختم کرکے تعلیم و ترقی کے میدان میں مثبت طورپر سرگرم ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے کشمیریوں کی طرف سے مسلسل خطوط اور ٹیلیفون، وغیرہ ملتے رہتے ہیں جن کی تفصیل یہاں بتانے کی ضرورت نہیں۔

کوئی بھی تحریک بظاہر عوام کی طرف منسوب ہوتی ہے، مگر حقیقۃً وہ لیڈر کی تحریک ہوتی ہے۔ ایک یا چند لیڈر اپنی تقریر وں اور تحریر وںکے ذریعہ عوام کو ابھارتے ہیں اور پھر عوام کے نام سے اپنی لیڈری کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ صورت حال لیڈر کی ذمہ داری کوبہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف اسی شخص کو لیڈر شپ کے میدان میں داخل ہونا چاہیے جس نے وہ ضروری تیاری کی ہو جو اس کو لیڈر شپ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ضروری تیاری کے بغیر جو شخص لیڈر شپ کے میدان میں سرگرم ہو وہ اللہ کے نزدیک سخت مجرم ہے، خواہ بے شعور عوام کے درمیان اس نے کتنی ہی زیادہ مقبولیت حاصل کرلی ہو۔

کشمیریوں کے لیے آخری وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں سے اوپر اٹھ کر پورے معاملہ پر از سرِ نو غور کریں۔ لیڈروں کے الفاظ کی روشنی میں نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اس کے سوا ان کے لیے کامیابی کی اور کوئی صورت نہیں۔

فطرت کا سبق

دریا کا سامنا چٹان سے ہو تو وہ اپنا راستہ بدل کر آگے بڑھ جاتا ہے مگر نادان انسان چاہتا ہے کہ وہ چٹان کو توڑ کر اپنا راستہ بنائے، خواہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ اس کا سفر ہی ہمیشہ کے لیے رک جائے۔

کشمیر میںانڈیا کے خلاف مسلّح تحریک اکتوبر 1989 میں شروع ہوئی۔ اس سے صرف ایک مہینہ پہلے میںنے کشمیر کا سفر کیا تھا۔وہاں سری نگر کے ٹیگور ہال میں میرا خطاب تھا۔ اس کے علاوہ، اس قیام کے دوران بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کا سفرنامہ میں نے اسی وقت لکھا تھا مگر وہ کسی وجہ سے الرسالہ میں شائع نہ ہوسکا۔

ایک دن میں کچھ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ سری نگر کے باہر کھلی وادی میں گیا۔ ہر طرف فطرت کے خوبصورت مناظر تھے۔ پہاڑ کے اوپر سے پانی کے چشمے بہتے ہوئے میدان میں آرہے تھے۔ کشمیری مسلمانوں کو لے کر میں ایک چشمہ کے پاس بیٹھ گیا۔ وہاں یہ منظر تھا کہ چشمہ کا پانی بہتا ہوا ایک جگہ پہنچتا ہے جہاں اس کے سامنے ایک پتھر ہے۔ پانی یہ نہیں کرتا کہ وہ پتھر کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس وہ پتھر کے دائیں اور بائیں سے مُڑ کر آگے نکل جاتا ہے اور اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔

میں نے کشمیری مسلمانوں سے کہا کہ اس کو دیکھیے، یہ آپ کے نام قدرت کا ایک پیغام ہے۔ اس فطری واقعہ کے ذریعہ آپ کو یہ خاموش پیغام دیا جارہا ہے کہ تمہاری زندگی کے سفر میںکوئی رکاوٹ کی چیز آجائے تو تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ رکا وٹ سے ٹکرا جاؤ، اور رکاوٹ کی چٹان کو توڑ کر اپنے لیے سیدھا راستہ بناؤ۔ اس کے بجائے تم کو یہ کرنا چاہیے کہ رکاوٹ سے اعراض کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھو۔

یہی زندگی میں کامیابی کا راز ہے۔ فرد کا معاملہ ہو یا کسی قوم کا معاملہ، ہر ایک کے لیے تعمیر و ترقی کی واحد تدبیر یہ ہے کہ وہ راستہ کے پتھروں کو نظر انداز کرکے آگے بڑھے، وہ مسائل سے اعراض کرے اور مواقع کو استعمال کرکے اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔

جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں کشمیر میں انڈیا کی فوجی یا سیاسی موجودگی کو کشمیریوں کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں سمجھتا۔ موجودہ جمہوری زمانہ میں سیاست صرف ایک دردِ سر ہے۔ اور فوج صرف سرحدوں کی چوکیدار۔ 1989 سے پہلے انڈیا کی فوج کشمیر کی سرحدوں پر رہتی تھی، وہ کشمیر کی بستیوں میں داخل نہیں ہوئی تھی۔مگر جب اکتوبر 1989 میں کشمیری تحریک کے لوگوں نے اسلحہ اٹھایا اور تشدد کا طریقہ اختیار کیا تو اس وقت انڈیا کی فوج اس سے مقابلہ کے لیے بستیوں میں داخل ہوئی۔ کیوں کہ جنگجو لوگ بستیوں میں رہ کر اپنی مسلح کارروائیاں کرتے تھے۔

تاہم بالفرض اگر کشمیری مسلمان ہندستانی فوج کی کشمیر میںموجودگی کو اپنے لیے راستہ کا پتھر سمجھیں تب بھی ان کے لیے کامیابی اور ترقی کا راز وہی ہے جو فطرت کی زبان سے انہیں بتایا جارہا ہے۔یعنی— مسائل کو نظر انداز کرواور مواقع کو استعمال کرو:

Ignore the problems, avail the opportunities.

یہ کوئی مجبورانہ اصول نہیں جس کا تعلق صرف موجودہ کشمیر سے ہو۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر انسانی آبادی سے ہے۔ مزید یہ کہ زندگی کا یہی اصول فرد کے لیے بھی ہے اور قوم کے لیے بھی، یہی اصول مسلم ملک کے لیے بھی ہے اور غیر مسلم ملک کے لیے بھی۔

غیر حکیمانہ طریقہ

موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ جب کسی سے کسی مسئلہ میں نزاع پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میںیہ کیا جائے کہ جو کچھ مل رہا ہے اس کو رضامندی کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ اگر پہلے مرحلہ میں ایسا نہیں کیا گیا اور زیادہ حاصل کرنے کی خاطر مسئلہ کے تصفیہ کو لمبا کیا گیا تو مسئلہ اور پیچیدہ ہو جائے گا، اور پہلے مرحلہ میں جو کچھ مل رہا تھا اس کا ملنا بھی ناممکن ہوجائے گا۔

اس کی ایک مثال فلسطین کا موجودہ مسئلہ ہے۔ 1917 کا واقعہ ہے۔ برٹش امپائر نے فلسطین کی تقسیم کا ایک فارمولا بنایا۔ یہ عام طورپر بالفور ڈیکلریشن کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تقسیم واضح طور پر عربوں کے حق میں تھی۔ اس تقسیم میں فلسطین کا ایک تہائی سے کم حصہ اسرائیل کو دیا گیا تھا اور اس کا دو تہائی سے زیادہ حصہ عربوں کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، یروشلم کا پورا شہر اور بیت المقدس کا پورا علاقہ عربوں کو ملا تھا۔ مگر اس وقت کی مسلم قیادت نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک عرب عالم نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس کو قبول کر لینے کی بات کہی تو اس پر عرب مفاد سے غداری کا الزام لگایا گیا۔ وہ شخص یہ شعر کہہ کر مرگیا:

سیعلم قومی أننی لا أغشھم                     ومھما استطال اللیل فالصبح واصل

یعنی عنقریب میری قوم جان لے گی کہ میںنے اس کو دھوکہ نہیںدیا ہے۔ اور رات خواہ کتنی ہی لمبی ہو جائے صبح بہر حال آکر رہتی ہے۔

اس وقت کی مسلم قیادت یا عرب قیادت اگر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتی اورابتدائی مرحلہ میں جو کچھ اس کو مل رہا تھا اس کو لے کر وہ اپنی ساری کوشش تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دیتی تو آج فلسطین کے عرب مسلمانوں کی حالت وہاں کے یہود سے بدرجہا زیادہ بہتر ہوتی۔ مگر غیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ فلسطینیوں کے حصہ میں تباہی کے سوا کچھ نہ آیا۔

ٹھیک یہی معاملہ جموں و کشمیر میں بھی پیش آیا ہے۔ کشمیری قیادت اور پاکستانی قیادت دونوں اس معاملہ میں بد ترین نااہلی کا شکار ہوئی ہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیر کا موجودہ مسئلہ خود اس کے قائدین کی نادانیوں کے نتیجہ میںپیدا ہوا، نہ کہ کسی اور کے ظلم یا سازش کے نتیجہ میں۔

اس معاملہ میں مسلم قائدین کی نادانیوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ یہاں میں اس کے صرف ایک پہلو کا ذکر کروں گا۔ 1947 میں جب ملک تقسیم ہو اتو پاکستان کی قیادت غیر حقیقت پسندانہ طورپر دو مختلف ریاستوں کی دعویدار بن گئی—جونا گڑھ اور حیدرآباد۔ اگر پاکستان کی قیادت حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے جونا گڑھ اورحیدرآباد کی مدعی نہ بنتی (جو پاکستان کو سرے سے ملنے والا ہی نہ تھا) تو کشمیر کا معاملہ کبھی سنگین نہ بنتا۔ اس کا فیصلہ نہایت آسانی کے ساتھ پاکستان کے حق میں ہو جاتا۔ مگر پاکستانی قائدین کی دو طرفہ دوڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی ان کے حصہ میں نہ آیا۔ یہاں میں اس سلسلے میں خود پاکستان کے دو حوالے نقل کروں گا۔

اس سلسلہ میں پہلا حوالہ چودھری محمد علی کا ہے۔ وہ 1955-56 میں پاکستان کے پرائم منسٹر تھے۔ اس سے پہلے وہ لیاقت علی خاں کی حکومت میں منسٹر کی حیثیت سے شریک تھے۔ پاکستان کے حالات پر ان کی ایک ضخیم انگریزی کتاب چھپی ہے جس کا نام ایمرجنس آف پاکستان (Emergence of Pakistan) ہے۔

اس کتاب میں وہ بتاتے ہیں کہ تقسیم کے بعد جو نا گڑھ کے مسلم نواب نے پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست کا الحاق کرلیا جب کہ جوناگڑھ میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ انڈیا نے اس الحاق کو نہیں مانا اور پولیس ایکشن کے ذریعہ ریاست جونا گڑھ کو انڈین یونین میں ملالیا۔ اس کے بعد دہلی میںایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں ہندستان کی طرف سے جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل شریک تھے۔ اور پاکستان کی طرف سے نواب زادہ لیاقت علی خاں اور چودھری محمد علی نے شرکت کی۔ مصنف لکھتے ہیں کہ سردار پٹیل اگر چہ پاکستان کے سخت دشمن تھے مگر وہ نہرو سے زیادہ حقیقت پسند تھے۔ دونوں ملکوں کے وزیر اعظم کے درمیان ایک گفتگو میں ،جس میں پٹیل اور میں دونوں موجود تھے، لیاقت علی خاں نے کشمیر اور جونا گڑھ کے معاملہ میں انڈیا کے متضاد رویہ پر تفصیلی کلام کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوناگڑھ کے حکمراں کے پاکستان سے الحاق کے باوجود وہ انڈیا کا حصہ ہے۔ کیوں کہ وہاں کی اکثریت ہندو ہے تو کشمیر اپنی مسلم اکثریت کے ساتھ کیوں کر انڈیا کا حصہ بن سکتا ہے، صرف اس لیے کہ وہاں کے ہندو حکمراں نے انڈیا کے ساتھ ایک مشروط الحاق کے کاغذات پر دستخط کردئے۔اگر جوناگڑھ کے الحاق کی دستاویز جس پر وہاں کے مسلم حکمراں نے دستخط کیے ہیں اپنے اندر کوئی جواز نہیں رکھتی تو اس دستاویز کا بھی کوئی جواز نہیں جس پر کشمیر کے ہندو حکمراں نے دستخط کیے ہیں۔ اگر جونا گڑھ میں وہاں کے عوام کی خواہش اہمیت رکھتی ہے تو یہی اصول کشمیر کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ انڈیا کشمیر اور جونا گڑھ دونوں کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ جب لیاقت علی خاں نے یہ بات کہی تو پٹیل اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور پھٹ پڑے، انہوں نے کہا کہ تم جونا گڑھ کا موازنہ کشمیر سے کیوں کرتے ہو، حیدر آباد اور کشمیر کی بات کرو، اور ہم ابھی ایک تصفیہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ پٹیل کا نظریہ اس موقع پر اور بعد کو بھی یہ تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے کو ان کی مرضی کے خلاف اپنے قبضہ میں رکھنا انڈیا کے لیے کمزوری کا ذریعہ ہوگا، نہ کہ طاقت کا ذریعہ۔ ان کا احساس تھا کہ انڈیا اور پاکستان اگر اس پر راضی ہو جائیں کہ حیدر آباد انڈیا کے ساتھ ہو اور کشمیر پاکستان کے ساتھ، تو کشمیر اور حیدر آباد کا مسئلہ پُر امن طورپر حل کیا جاسکتا ہے۔ اس میں مشترک طورپر دونوں ہی کا فائدہ ہوگا۔

Sardar Patel, although a bitter enemy of Pakistan was a greater realist than Nehru. In one of the discussions between the two Prime Ministers, at which Patel and I were also present, Liaquat Ali Khan dwelt at length on the inconsistency of the Indian stand with regard to Junagadh and Kashmir. If Junagadh, despite its Muslim ruler's accession to Pakistan belonged to India because of its Hindu majority, how could Kashmir, with its Muslim majority, be a part of India simply by virtue of its Hindu ruler having signed a conditional instrument of accession to India. If the instrument of accession signed by the Muslim ruler of Junagarh was of no validity, the instrument of accession signed by Hindu ruler of Kashmir was also invalid. If the will of the people was to prevail in Junagadh, it must prevail in Kashmir as well. India could not claim both Junagadh and Kashmir. When Liaqut Ali Khan made these incontrovertible points, Patel could not contain himself and burst out: “Why do you compare Junagadh with Kashmir? Talk of Hyderabad and Kashmir, and we could reach an agreement.” Patel’s view at this time and even later was that India’s effort to retain Muslim majority areas against the will of the people was a source not of strength but of weakness to India. He felt that if India and Pakistan agreed to let Kashmir go to Pakistan and Hyderabad to India, the problems of Kashmir and of Hyderabad could be solved peacefully and to the mutual advantage of India and Pakistan.

Chaudhry Muhammad Ali, Emergence of Pakistan, pp. 299-300

اگر پاکستانی لیڈر کا یہ بیان درست ہے تو یہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ خود پاکستانی لیڈروں کا پیدا کیاہوا ہے، نہ کہ ہندستانی لیڈروں کا پیدا کیا ہوا۔

اس سلسلہ میں دوسری مثال وہ ہے جو پاکستان کے ایک معروف لیڈر سردار شوکت حیات خاں کی کتاب میں ملتی ہے۔ ان کی یہ کتاب لاہور سے اردو میں ’’گم گشتہ ٔ قوم‘‘ کے نام سے 460 صفحات پر چھپی ہے۔ اس کتاب کا انگریزی نام یہ ہے:

The Nation that Lost its Soul.

یہاں اس کتاب کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:

’’بعد میں کشمیر پر حملہ کے دوران جب ماؤنٹ بیٹن لاہور آیا۔ ایک ڈنر جس میں لیاقت، گورنر مودی اور پنجاب کے چار وزیر موجود تھے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پٹیل کا پیغام پہنچایا۔ پٹیل جو ہندستان کی ایک طاقتور شخصیت تھا اس کا پیغام تھا کہ اس اصول کی پابندی کی جائے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں طے پایا تھا۔ وہ یہ کہ ریاست اپنے باشندوں کی اکثریت اور سرحدوں کے ساتھ ملاپ کی بنا پر پاکستان یا ہندستان کے ساتھ الحاق کریںگی۔ پٹیل نے کہلایا کہ پاکستان کشمیر لے لے اور حیدرآباد دکن کا مطالبہ چھوڑ دے۔ جہاں پر ہندو آبادی کی اکثریت تھی اور جس کا پاکستان کے ساتھ زمینی یا سمندری ذریعے سے کوئی اتصال بھی نہ تھا۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہاؤس میں آرام کرنے چلا گیا۔

میں کشمیر آپریشن کا مکمل نگراں تھا۔ میں نے لیاقت علی کے پاس جاکر انہیں تجویز دی کہ ہندستان کی فوج کشمیر میں داخل ہوچکی ہے۔ ہم قبائلیوں کی مدد سے اس کو باہر نکالنے اور کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ یہاں تک کہ ہماری اس وقت کی فوج بھی اس کامیابی کے حصول میں شاید مدد گار ثابت نہ ہو سکے گی۔ لہٰذا ہمیں پٹیل کی پیش کش کو ٹھکرانا نہیں چاہیے۔ نواب زادہ نے میری جانب مڑ کر کہا’’سردار صاحب کیا میں پاگل ہوگیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدر آباد دکن کو چھوڑ دوں جو پنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے‘‘۔

لیاقت علی خاں کے اس رد عمل کو دیکھ کر میں تو سن ہوگیا کہ ہمارا وزیر اعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدرآباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے۔ یہ تو احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ــتھی۔ حیدر آباد کا حصول ایک سراب تھا جب کہ کشمیر مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج کے طورپر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا(صفحہ 231-32)۔

پاکستانی لیڈر کے مذکورہ بیان کو اگر درست مان لیاجائے تویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مکمل طورپر اوریک طرفہ طور پر خود مسلم قیادت کا پیدا کیا ہوا ہے، کسی اور کا نہیں۔ یہاں میں صرف یہ اضافہ کروں گا کہ فطرت کے مسلمہ قانون کے مطابق، کسی شخص یا قوم کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اپنی غلطی کی قیمت دوسرے سے وصول کرسکے۔ اپنی غلطی کی قیمت آدمی کو بہرحال خود ادا کرنا پڑتا ہے، اور یقینی طورپر پاکستان کا اس میں کوئی استثنا نہیں۔

حقیقت پسند بنئے

اپریل  1986ء کے آخری ہفتہ میں امرتسر میںکچھ سکھوں نے بطور خود آزاد خالصتان کے قیام کا اعلان کر دیا۔ عین اسی زمانہ میں میںنے دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس میں ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان یہ تھا—حقیقت کا اعتراف:

Acceptance of Reality.

میرا یہ مضمون پنجاب اور کشمیر دونوں کے بارے میں تھا۔ میںنے پنجابیوں اور کشمیریوں دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ علیٰحدہ پنجاب اور علیٰحدہ کشمیر کی تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ وہ حقیقت کی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی کوشش سے کچھ لوگ اپنا سر تو توڑ سکتے ہیں مگر وہ صورت حال کو بدل نہیں سکتے۔ میں نے دونوں جگہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور صورت موجودہ (status quo) کو مان کر مثبت انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔

سکھ لوگ جلد ہی معاملہ کو سمجھ گئے۔اور انہوں نے اس مسئلہ پراپنی متشددانہ تحریک ختم کردی۔ کشمیر کے لوگ بھی یقینی طورپر آخر کار یہی راستہ اختیار کریں گے مگر اس وقت جب کہ ان پر فارسی کا یہ شعر صادق آچکا ہوگا کہ جو کام ایک عقلمند انسان کرتا ہے وہی کام ایک نادان انسان بھی کرتا ہے ، لیکن کافی نقصان اٹھانے کے بعد :

آں چہ دانا کند کند ناداں               لیک بعد از خرابی ٔ بسیار

اس فرق کا سبب غالباً یہ ہے کہ سکھ لوگوں کے پاس اپنی تباہی کو جائز ثابت (justify) کرنے کے لیے کوئی شاندار نظریہ موجود نہ تھا۔جب کہ دوسرے گروہ کے پاس ایسے شاندار نظریات موجود ہیں جن کے ذریعہ وہ خود کشی کے عمل کو اسلامی شہادت جیسا خوبصورت عنوان دے سکے۔

اس سلسلہ کا ایک تجربہ یہاں قابل ذکر ہے۔ 27 جنوری 1992 کا واقعہ ہے۔ کشمیر کے دو تعلیم یافتہ مسلمان دہلی آئے اور مجھ سے ملاقات کی۔ یہ لوگ خود تو کسی جنگجو تنظیم کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر وہ کشمیر کی جنگجو تحریک کے پوری طرح حامی تھے۔ وہ عملی جنگجو نہ ہوتے ہوئے بھی پورے معنیٰ میں فکر ی جنگجو تھے۔

گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی نام نہاد تحریک ِکشمیر کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔ وہ نہ جہاد ہے اور نہ اس سے اسلامی نظام قائم ہونے والا ہے۔ اور نہ علیٰحدگی کی کوئی معنویت ہے۔ اس کا نتیجہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انہوں نے پرجوش طورپر اپنی موجودہ تحریک کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ ہم جلد ہی ایک عظیم کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے میرے کہنے پر اپنے دستخط کے ساتھ حسب ذیل الفاظ میری ڈائری میں لکھے:

ہندستان سے علیٰحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا ،انشاء اللہ وہ کشمیر اسلامی کشمیر ہوگا۔

اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ بات بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ آپ لوگوں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ آپ کے اندازے کتنے زیادہ بے حقیقت تھے۔ پھر میںنے اپنی ڈائری میں ان کے سامنے یہ الفاظ لکھے

بالفرض اگر کشمیر ہندستان سے علیٰحدہ ہو تو اس کے بعد جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ کشمیریوں کے لیے چوائس (choice) ہندستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے۔ بلکہ ہندستانی کشمیر یا برباد کشمیر میں ہے۔

اس واقعہ پر اب دس سال پورے ہورہے ہیں۔ اس دس سالہ تجربہ نے آخری طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ مذکورہ کشمیری مجاہد کے الفاظ فرضی خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھے۔ اس کے برعکس، میں نے جو کچھ اللہ کی توفیق سے کہا وہ آج ایک ناقابل انکار حقیقت بن چکا ہے۔ واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ حالات میںکشمیر کا فائدہ نہ آزاد کشمیر بننے میںہے اور نہ پاکستانی کشمیر بننے میں۔ کشمیر کا فائدہ ہر اعتبار سے یہ ہے کہ وہ ہندستان کا حصہ بن جائے اور ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ کر پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کرلے۔

کشمیر میں جو لوگ اپنے خیال کے مطابق، جہاد کی تحریک چلارہے ہیں، وہ اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں۔مگر صحیح یہ ہے کہ وہ اسلام پسند بننے سے پہلے حقیقت پسند بنیں۔ اسلام کا قلعہ حقیقت کی زمین پر کھڑا ہوتاہے۔ خوش فہمی کی زمین پر کوئی بھی قلعہ نہیں بن سکتا، نہ اسلام کا اور نہ غیر اسلام کا۔

سیاسی ٹکراؤ سے احتراز

دانش مند آدمی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ دانش مند انسان وہ ہے جو چیزوں کی اضافی حیثیت کو جانے:

A wise man is he who knows the relative value of things.

اس مقولہ کی روشنی میں دیکھا جائے تویہ کہنا پڑے گا کہ شاید کشمیر کے رہنماؤں میں کوئی بھی شخص نہیں جس کو اس مقولہ کے مطابق، دانش مند کہا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اقدام کو جانا مگر انہوں نے اپنے اقدام کے نتیجہ کو نہیں جانا۔

اس معاملہ کو قرآن کی ایک آیت کی روشنی میں سمجھیے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ ٔ سبا کے نام اپنا خط بھیجا اور اس سے اطاعت کا مطالبہ کیا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ درباریوں نے کہا کہ ہمارے پاس فوجی طاقت ہے پھر ہم کیوں کسی غیر کی اطاعت قبول کریں۔ اس کا جواب جو ملکہ ٔ سبا نے دیا وہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے:

ملکۂ سبا نے کہا کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس کو خراب کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریںگے۔ (النمل، 27:34)

قرآن میںیہ واقعہ جو نقل کیا گیا ہے، اس سے ایک نہایت اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ طاقتور حکمراں سے ٹکراؤ کرتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ نتیجہ اگر منفی نکلتا ہو تو اعراض کیا جائے گا نہ کہ ٹکراؤ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ طاقتور حکمراں سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ الٹی صورت میں نکلتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں آبادیاں تباہ ہوتی ہیں اور عزت والے لوگوں کو ذلت کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ سیاسی ٹکراؤ کا یہ تباہ کن نتیجہ ہمیشہ ظاہر ہوتا ہے، خواہ حکمراں کوئی بھی ہو، اور خواہ وہ کوئی صالح انسان کیوں نہ ہو۔

طاقتور حکمراں سے ٹکراؤ ہر حال میں اس قابل ہے کہ اس سے بچا جائے۔ اگر کچھ لوگ اس نصیحت کی پروا نہ کریں اور وہ طاقتور حکمراں سے براہِ راست ٹکرا جائیں تو اس کے بعد ان کے لیے جان و مال کی تباہی کی شکایت کرنا لاحاصل ہے۔ انہیں جاننا چاہیے کہ جو تباہی انہیں پیش آرہی ہے وہ در اصل ٹکراؤ کی قیمت ہے۔ جو لوگ اقتدار کے خلاف مسلّح ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کریں ان کو بہرحال یہ قیمت دینی پڑے گی۔ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ غلطی کوئی ایک گروہ کرے اوراس کی قیمت کسی اور گروہ کی طرف سے ادا کی جائے۔

کشمیری لیڈروں اور پاکستانی لیڈروں کی طرف سے اکثر ایسے مضامین چھپتے ہیں جن کا عنوان ہوتا ہے زخمی کشمیر(Wounded Kashmir)  یا زخمی وادی  (Wounded Valley)، وغیرہ۔ ان مضامین میں بتایا جاتا ہے کہ انڈیا کی فوج کس طرح کشمیر کے لوگوں پر ظلم کر رہی ہے۔ اس قسم کی رپورٹیں ساری دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں چھاپ کر شائع کی گئی ہیں۔ مگر عملاً ان کا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں۔ اس قسم کی تمام رپورٹیں بے فائدہ چیخ وپکار بن کر رہ گئی ہیں۔

فریاد و احتجاج کی اس بے اثری کی شکایت کشمیریوں کو کسی اور سے کرنے کے بجائے خود اپنے آپ سے کرنا چاہیے۔ ان کشمیریوں کے لیے ملکہ ٔ سبا کے مذکورہ واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ ملکہ ٔ سبا نے یہ حکیمانہ پالیسی اختیار کی کہ فوجوں کے ظلم و ستم کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس کے برعکس، کشمیریوں نے اپنی بے دانشی کے تحت فوجوں کو دعوت دی کہ وہ ان پر ٹوٹ پڑیں اور انہیں اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں۔ کشمیریوں نے ’’آبیل مجھے مار‘‘ کا طریقہ اختیار کیا، اور ملکہ ٔ سبا نے بیل سے اعراض کا۔ یہی ایک جملہ میں کشمیر کی پوری کہانی کا خلاصہ ہے۔

کشمیر کے لوگ آج جس مسئلہ سے دوچار ہیں اس کے حل کا آغاز یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور قرآن میں بتائے ہوئے ملکہ ٔ سبا کے واقعہ سے سبق لے کر اپنی زندگی کی تعمیر کی ازسرِ نو منصوبہ بندی کریں۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا اور کوئی حل نہیں۔

حکمت کا تقاضا

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالاتشددوا علی انفسکم فیشدد علیکم ( سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4904)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم تشدد والا طریقہ اختیار نہ کرو۔ ورنہ تمہارے حالات اور زیادہ شدید ہو جائیں گے۔ موجودہ زمانہ میں اس کی مثال ہر اس مسلم ملک میں پائی جاتی ہے جہاں اپنے مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ انہیں میں سے ایک کشمیر بھی ہے۔

کشمیر میں جو تشدد کلچر چلایا گیا، اس کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا البتہ نقصان اتنا زیادہ ہوا جس کی کوئی گنتی نہیں کی جاسکتی—معیشت تباہ ہوگئی، تعلیمی نظام درہم برہم ہوگیا، تقریباً ایک لاکھ آدمی ہلاک ہوگئے۔ اس سے زیادہ لوگ وہ ہیں جو جسمانی معذوری کا شکار ہوکر زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ اخلاقی روایات ٹوٹ گئیں۔ جس کشمیریت کے نام پر تحریک چلائی گئی، وہ کشمیریت تباہ ہو کر رہ گئی۔

انہیں میں سے ایک عظیم نقصان یہ ہے کہ کشمیر کے بیشتر با صلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کشمیر کو چھوڑ کر باہر کے علاقوں میں چلے گئے۔

کشمیر کی ٹورسٹ انڈسٹری اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتی تھی۔ اس کی بدولت تجارتی سرگرمیاں یہاں سال بھر جاری رہتی تھیں۔ مگر اب یہ حال ہے کہ وہاں کی ٹورسٹ انڈسٹری تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ ایک کشمیری نے کہا کہ اس ٹورسٹ انڈسٹری کی بدولت کشمیر کا یہ حال تھا کہ ہم پتھر لے کر سڑک پر بیٹھ جاتے تھے تو وہ بھی ایک قیمتی سودے کی طرح بکتا تھا مگر آج یہ حال ہے کہ ہمارے سیب کا بھی کوئی خریدار نہیں۔ کشمیری عوام کے نام پر اٹھائی جانے والی اس تحریک کا کوئی فائدہ کشمیری عوام کو تو نہیں ملا البتہ کشمیر کے نام نہاد لیڈر وں کو ضرور اس سے فائدہ پہنچا۔

قرآن نے اپنے پیروؤں کو جو تعلیم دی ہے ان میں سے ایک یہ ہے—تم لوگ اس چیز پر غم نہ کرو جو تم سے کھویا گیا ( 57:23)۔

یہ آیت در اصل فطرت کے اس قانون کو بتاتی ہے جو اللہ نے اس دنیا میں مقرر کیا ہے۔ اس قانون کے مطابق، ہر انسان اور ہر گروہ کے ساتھ لازمی طورپر کھونے کا تجربہ پیش آتا ہے۔ کوئی بھی فرد یا قوم فطرت کے اس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ اللہ کی اس حکمت تخلیق کا ایک جزء ہے جس کے تحت اس نے اس دنیا کو بنایا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ اللہ کا قانون ہے اور اللہ کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

مگر اسی کے ساتھ فطرت کا دوسرا لازمی قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں مواقع (opportunities) کبھی ختم نہ ہوں۔ اس دنیا میں جب بھی ایک موقع ختم ہوتا ہے تو فورًا ہی دوسرا موقع اس کے ساتھ لگا ہوا چلا آتا ہے۔ اس لیے عقل مندی یہ ہے کہ آدمی کھوئے ہوئے موقع کو بھلائے اور نئے موقع کو استعمال کرے۔ یہی آج کشمیریوں کو کرنا چاہیے۔

استحصالی لیڈر محرومیوں کے نام پر اپنی لیڈری چلاتا ہے۔ حقیقی لیڈر وہ ہے جو یافت کے اصول پر اپنی تحریک چلائے۔ جو موانع کے بجائے مواقع کی نشان دہی کرکے اپنی قوم کو نئے مستقبل کا راستہ دکھائے۔

امن اور انصاف

امن کے ساتھ آپ ابدی طورپر رہ سکتے ہیں مگرجنگ آپ ابدی طورپر نہیں لڑسکتے— کشمیر کے لیڈروں کو شاید اس آزمودہ تاریخی حقیقت کا علم نہیں۔ وہ اپنی بے نتیجہ جنگ کو مسلسل طورپر جاری رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ یہ بے نتیجہ جنگ اب خود کش بمباری کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ خود کش بمباری کا طریقہ جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں ان کے مقابلہ میں ہزار گنازیادہ بڑے پیمانہ پر استعمال کیا مگر وہ مکمل طورپر ناکام رہا۔ دنیا میں کبھی کوئی بادشاہ بھی کسی جنگ کو ابدی طورپر جاری نہ رکھ سکا۔ پھر کشمیر کے کمزور عوا م کس طرح اس بے نتیجہ جنگ کو ابدی طورپر جاری رکھ سکتے ہیں۔ آخر کار جو کچھ ہونے والا ہے وہ یہ کہ کشمیر کے جنگجو تھک جائیں اور مجبورانہ طورپر اپنی جنگ کو ختم کردیں۔ مگر صحیح یہ ہوگا کہ کشمیر کے لوگ دانش مندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود اپنے فیصلہ کے تحت اس تباہ کن جنگ کا خاتمہ کردیں۔

کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات ہوئی۔ میںنے کہا کہ کشمیر میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن (peace) ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی امن چاہتے ہیں، مگر کون سا امن۔ امن وہ ہے جس کے ساتھ انصاف ملے، جس امن کے ساتھ انصاف شامل نہ ہو وہ توصرف ظالموں کے لیے مفید ہے،نہ کہ مظلوموں کے لیے۔

میں نے کہا کہ یہ سب سے زیادہ سنگین غلط فہمی ہے جس میں تمام دنیا کے مسلم رہنما مبتلا ہیں۔ امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) سے کی جاتی ہے۔ اور یہ بالکل صحیح تعریف ہے۔ امن کبھی انصاف کے لیے نہیں ہوتا۔ امن صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انصاف کے حصول کی کوشش کے لیے کار گر فضا حاصل ہوسکے۔ یہی عقل کے مطابق بھی ہے اور یہی اسلام کے مطابق بھی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تو اس میںآپ کو صرف امن ملا تھا، انصاف نہیں ملا تھا۔ البتہ جب امن کے ذریعہ معتدل حالات پیدا ہوئے تو آپ نے ان حالات میں عمل کرکے بعد کو انصاف بھی حاصل کر لیا۔ انصاف کبھی امن کا جزء نہیں ہوتا، انصاف ہمیشہ امن کے بعد حاصل شدہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتا ہے، نہ کہ براہ راست طورپر خود امن سے۔

کشمیر کی متشددانہ تحریک کے رہنماؤں سے بات کی جائے تو وہ ہمیشہ اور یکساں طورپر ایک بات کو دہراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی تجویزوں کی روشنی میںہمارے معاملہ کا فیصلہ کیا جائے۔ بالفاظ دیگر یہ کہ کشمیر میں (referendum)کرایا جائے۔ قانونی یا منطقی طورپر اس بات کا بے وزن ہونا اس وقت ساری دنیا کو معلوم ہوگیا جب کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے اپنے ایک دورہ کے درمیان اسلام آباد میں یہ اعلان کیا کہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کا رزولیوشن اب غیر متعلق (irrelevant) ہوچکا ہے۔

تاہم اس سے قطع نظر میں ایک اصولی بات کہوں گا۔ وہ یہ کہ اپنا حق خود اپنی طاقت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ دوسرے کی طاقت کے زور پر کبھی کسی نے اپنا حق حاصل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ قسم کا نظریہ صرف کسی خوش فہم انسان کے دماغ میں جگہ پاسکتا ہے۔ عالم واقعہ میں ایسے کسی نظریہ کا وجود نہیں۔ اب کشمیریوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا نام خوش فہم قوم  کی حیثیت سے لکھوانا چاہتے ہیں یا حقیقت شناس قوم کی حیثیت سے۔

اسلامی تحریک نہیں

کشمیر کے جنگجو مسلمان اپنی موجودہ جنگ کو اسلامی جہاد کہتے ہیں۔ یہ ایک سخت قسم کا مغالطہ ہے جس میںیہ حضرات مبتلا ہیں۔ اس معاملہ میں ہمارے لوگوں کی ناقابلِ فہم خاموشی نے ان کے اس یقین میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کشمیر کی موجودہ جنگ یقینی طورپر جہاد نہیں۔ اس میں حصہ لینے والے کوہر گز جہاد کا انعام نہیں مل سکتا۔

جس طرح نماز کی شرطیں ہیں اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کی بھی شرطیں ہیں اور کشمیر کی لڑائی ان شرطوں پر پوری نہیں اترتی—جہاد کے لیے ایک باقاعدہ امیر ہونا چاہیے۔ جہاد کے لیے ایک بااختیارمسلم علاقہ بطور مرکز ہونا چاہیے۔ جہاد کے لیے پہلے ضروری تیاری ہونا چاہیے۔ جہاد ملک و مال کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اعلاءِ کلمۃ اللہ کے لیے ہوتا ہے، وغیرہ۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کشمیر کی لڑائی ان میں سے کسی بھی شرط پر پوری نہیں اترتی۔ کشمیر کی موجودہ لڑائی کو یا تو گوریلا وار کہا جاسکتا ہے یا پراکسی وار۔ اور ان دونوں ہی قسم کی جنگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ گوریلا وار اس لیے غیر اسلامی ہے کہ اسلام میںجہاد حاکم کا کام ہے، نہ کہ عوام کا کام۔ اور پراکسی وار اس لیے غیر اسلامی ہے کہ جو حکومت اس پراکسی وار کو چلارہی ہے اس نے اس کا اعلان نہیں کیا اور اسلامی جنگ کے لیے کھلا اعلان لازمی شرط ہے۔

اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو کشمیر کی موجودہ ناکام جنگ کشمیریوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر تم اپنی لڑائی کو بندکردو۔ اس لیے کہ اس لڑائی میں تمہارے لیے دنیا کی تباہی بھی ہے اورآخرت کی تباہی بھی۔ دنیا کی تباہی اس لیے کہ تم ضروری تیاری کے بغیر لڑ رہے ہو۔ اور آخرت کی تباہی اس لیے کہ تم جہاد کے نام سے ایک ایسی لڑائی لڑ رہے ہو جو اسلامی اصول کے مطابق جہاد ہی نہیں۔

سیاسی آزادی کی تحریک کوئی اسلامی تحریک نہیں، وہ سر تاسر ایک قومی تحریک ہے۔ ایسی کوئی تحریک اگر قومیت کے نام پر چلائی جائے تو اس میں بظاہر کوئی حرج نہیں لیکن اگر ایسی کوئی تحریک اسلامی جہاد کے نام پر چلائی جائے تو یقینی طورپر وہ ایک غلط تحریک بن جائے گی۔

پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر نے ملکی آزادی یا سیاسی آزادی کے نام پر کوئی تحریک نہیں چلائی۔ حالانکہ اکثر پیغمبروں کے زمانہ میں عین وہی حالات موجود تھے جن میں سیاسی لیڈر آزادی ٔ وطن کی تحریک چلایا کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مشرک اور غیر ملکی خاندان مصر کے اوپر حکمراں تھا۔ مگر حضرت یوسف نے مذکورہ قسم کی سیاسی تحریک ملک میںنہیں اٹھائی۔ حضرت یوسف کے بعد اس طرح کی تحریک ملک میں اٹھی مگر وہ ملک کے قومی لیڈروں نے چلائی تھی، نہ کہ حضرت یوسف یا ان کے ساتھیوں نے۔

کشمیر کے مسلمان اگر اپنی جدوجہد کو اسلامی بنانا چاہتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنی جد وجہد کی موجودہ صورت کو ختم کریں۔ وہ اس روش سے بازآئیں کہ انہوں نے سراسر ایک قومی تحریک چلائی اوراس کے اوپر اسلام کا لیبل لگا دیا۔ اس قسم کی تحریک کو کبھی اللہ کی نصرت نہیں مل سکتی۔

کشمیر کے مسلمان اکثر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ہم تو دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ ایک طرف انڈین فوج اور دوسری طرف جنگجو۔ پھر اس پر اضافہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ پہلے جب یہ کشمیری جہاد شروع ہوا تو اس میں اچھے لوگ موجود تھے مگر اب کشمیر کی لڑائی برے لوگوں کے ہاتھ میںآگئی ہے۔

یہ ایک سخت قسم کا مغالطہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گوریلا وار کا انجام ہمیشہ اور ہر جگہ یہی ہوتا ہے۔ گوریلا وار پہلے بظاہر اچھے لوگ شروع کرتے ہیں مگربعد کو اس میں برے لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں شامل ہو کر انہیں اسلامی جہاد یا وطنی آزادی کا شلٹر(shelter) مل جاتا ہے جس کے زیر سایہ وہ اپنی لوٹ مار کو جائز بتا کرجاری رکھ سکیں۔

مذکورہ قسم کا عذر کشمیریوں کے لیے کوئی کام آنے والا نہیں۔ انہیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ گوریلا وار شروع کرنا اول دن ہی سے ایک غلطی تھی۔ اس طرح کے حالات میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پہلا قدم ہوتا ہے، نہ کہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانا۔

ممکن کی سیاست

زندگی نام ہے دوسرے موقع (second chance) کو استعمال کرنے کا۔ یہ تاریخی حقیقت کشمیر کے بارے میں بھی  اتنا ہی درست ہے جتنا کہ دوسرے ملکوںکے بارے میں۔ مثلاً انڈیا کے لیے پہلا موقع یہ تھا کہ آزادی کے بعد وہ ایک متحد ہندستان کی صورت میں دنیا کے نقشہ پر ابھرے۔ مگر یہ پہلا موقع اس کے لیے مقدر نہ ہوسکا۔ اس کے بعد یہاں کے لیڈروں نے دوسرے ملے ہوئے موقع کو استعمال کیا اوراب انڈیا نہایت تیزی کے ساتھ ایک طاقتور اور ترقی یافتہ ملک کی صورت میں ابھر رہا ہے۔ یہی معاملہ پاکستان کے ساتھ پیش آیا۔ پاکستانی لیڈروں کا پہلا خواب یہ تھا کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان، دونوں کے مجموعہ کی صورت میں وہ ایک بڑا ملک بنائیں۔ مگر 1972 میں یہ پہلا موقع ان کے لیے ختم ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرے حاصل شدہ موقع کو استعمال کیا۔ اور اب پاکستان مسلم دنیا کے ایک اہم ملک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہی معاملہ کسی نہ کسی صورت میں دنیا کے ہر ملک کے ساتھ پیش آیا۔ ہر ملک نے کسی نہ کسی صورت میں پہلے موقع کو کھویا ہے۔ مگر دوسرے موقع کو استعمال کرکے اس نے دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لی ہے۔

یہی معاملہ کشمیر کا ہے۔ کشمیر کے لیڈروں نے 1947 سے پہلے کشمیر کے بارے میں ایک سیاسی خواب دیکھا تھا۔ یہ گویا ان کے لیے پہلا موقع تھا۔ مگر 1947 کے انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ان سے کھویا گیا۔ اب کشمیر کے لوگوں کے لیے صحیح اورممکن طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسرے موقع کو استعمال کریں، وہ دوسرے موقع کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر کی نئی تعمیر کریں۔

کشمیری لیڈر کشمیر کو ایک آزاد کشمیر کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے۔ بظاہر یہ ناممکن نہ تھا۔ مگر 1947 کے بعد حالات میں جو فیصلہ کن تبدیلی ہوئی ہے اس نے اب اس کو ناممکن بنا دیا ہے کہ برصغیر ہند کے نقشہ میںآزاد کشمیر کے نام سے کوئی مستقل ملک بنے۔ اب حالات کے اعتبار سے جو چیز ممکن ہے وہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ دستور ہند کی دفعہ 370 کے مطابق وہ انڈیا کا ایک حصہ بنے۔ کشمیری لیڈر اب تک ناممکن کی سیاست چلارہے تھے۔ اب انہیں حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے وہ ممکن سیاست چلانا چاہیے جو بر وقت ان کے لیے قابل حصول ہے۔

کشمیر کے بارے میں اس حقیقت کا اندازہ مجھے خدا کے فضل سے ملکی آزادی کے بعد ہی ہوگیا تھا۔ تاہم اس پر میرا پہلا تحریری بیان غالباً وہ ہے جو 1968 میں چھپا تھا۔ یہ پورا بیان اس مجموعہ میں دوسرے مقام پر موجود ہے۔

کشمیریوں کے لیے واحد درست مشورہ یہ ہے کہ وہ ماضی کو بھلا کر حال میں جینا سیکھیں۔ وہ حال کے ممکن نقشہ میںاپنی زندگی کی تعمیر کریں ،نہ کہ ماضی کے نقشہ میںجو کہ اب عملاً خیالی اور تصوراتی بن چکا ہے۔

کشمیر کے بارے میں پاکستان اگر اعتراف حقیقت کی پالیسی اختیار کر لے تو یہ پاکستان کے لیے کوئی نئی چیز نہ ہوگی۔ اس سے پہلے وہ بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کے بارے میں اعتراف حقیقت کی یہی پالیسی اختیار کرچکا ہے۔ ایسی حالت میں پاکستان کے لیے اس معاملہ میں کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔

عالمی امکانات

کشمیر کے مسلمانوں کو فطری طورپر کئی پلس پائنٹ حاصل ہیں جن پر انہوں نے غالباً ابھی تک غور نہیں کیا ۔ انہیں میں سے ایک یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ مل کر وہ دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک کی حیثیت حاصل کرسکتے ہیں۔ نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش سے زیادہ بلکہ کسی بھی دوسرے مسلم ملک سے زیادہ۔ یہ کشمیری مسلمانوں کا ایک ایسا پلس پائنٹ ہے جس کو اگر وہ شعوری طورپر جان لیں تو وہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت کو حاصل کر سکتے ہیں، یعنی اعتماد اور بلند حوصلہکا مالک ہونا اور احساس کمتری سے مکمل طورپر پاک ہونا۔

کشمیر کے مسلمان اپنے نادان لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں اپنے لیے پہلا موقع کھوچکے ہیں۔ تاہم اب بھی دوسرا موقع ان کے لیے موجود ہے۔ دوسرے موقع کو استعمال کرکے وہ اب بھی وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جس کو وہ چاہتے ہیں۔

یہ کشمیریوں کی خوش قسمتی ہے کہ جب وہ بظاہر پہلا موقع کھو کر دوسرے موقع کے دور میں داخل ہوئے تو خود زمانہ میں ایسا انقلاب آگیا کہ ساری زمین ایک عالمی گاؤں (global village)  کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اب سیاسی نظام کی تبدیلی خود ایک اضافی (relative)  چیز بن چکی ہے۔ نئے حالات میں انسان کے لیے ممکن ہوگیا ہے کہ وہ زمین کے ایک گوشہ میں رہ کر عالمی ربط قائم کرسکے۔ وہ بظاہر حکومتی اقتدار پر فائز نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سارے فوائد حاصل کرسکے جو قدیم زمانہ میں صرف سیاست و حکومت کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔

موجودہ زمانہ میں اس کی مثال سنگاپور اور جاپان جیسے ممالک ہیں۔ وہ بظاہر محدود جغرافیہ کے مالک ہوتے ہوئے عالمی جغرافیہ کے فوائد حاصل کررہے ہیں۔ یہی عالمی امکانات کشمیریوں کے لیے بھی پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ بشرطیکہ وہ دانش مندانہ عمل کے ذریعہ ان کو اپنے حق میںاستعمال کرسکیں۔

دونوں کی جیت

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی زمین پر دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان نزاع ہوجاتی ہے۔ زمین کا کچھ حصہ ایک گروہ کے پاس ہوتا ہے اور بقیہ حصہ دوسرے گروہ کے پاس۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حصہ کو چھیننے کے لیے آپس میں لڑتے رہیں، یہاں تک کہ دونوں تباہ ہوجائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں اس پر راضی ہو جائیں کہ جو حصہ جس گروہ کے قبضہ میں ہے، وہ اس کے پاس رہے اور دونوں باہمی لڑائی کو چھوڑ کر اپنے اپنے حصہ کی تعمیر و ترقی میں مصروف ہو جائیں۔ نزاع کے حل کے اس طریقہ کو امریکی اصطلاح میں ، میں بھی جیتا، تم بھی جیتے (win-win solution) کہا جاتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جموں اور کشمیر کے سوال پر انڈیا اور پاکستان کے لیے یہی بہترین قابل عمل فارمولا ہے۔ دونوں ملکوں کے قبضہ میں جموں و کشمیر کا ایک ایک حصہ ہے۔ دونوں اگر وِن وِن سولوشن کے اصول پر اپنے اپنے حصہ پر راضی ہوجائیں اور جھگڑے کا راستہ چھوڑ کر حاصل شدہ کی تعمیر پر اپنی بھر پور کوشش لگا دیں تو یقینی طورپر یہ دونوں ملکوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا۔دونوں کے یہاں ترقی کا وہ سفر شروع ہوجائے گا جو لمبی مدت سے رکا ہوا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ پاکستان کے پاس ریاست جموں و کشمیر کا جو حصہ ہے وہ مقابلۃً کم ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں رقبہ کی کمی یا بیشی کی حیثیت محض اضافی ہے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ اپنے حاصل شدہ رقبہ کو محنت اور دانش مندی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

دنیا میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔مثلاً دبئی، ہانگ کانگ، تائی وان، سنگا پور، وغیرہ رقبہ کے اعتبار سے بہت چھوٹے ہیں، مگر ترقی اور خوشحالی کے اعتبار سے وہ بہت سے بڑے بڑے ملکوں سے بہتر حالت میں ہیں۔

انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ یہ دراصل نفسیات ہے جو کسی انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کسی انسان کے اندر اگر منفی نفسیات پیداہو جائے تو اس کی پوری شخصیت منفی شخصیت بن جائے گی۔ اس کے برعکس اگر کسی کی نفسیات مثبت نفسیات بن جائے تو اس کی پوری شخصیت مثبت شخصیت میں ڈھل جائے گی۔

جموں و کشمیر کا مسئلہ 1947 سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تلخی کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس لمبی مدت میں دونوں ایک دوسرے کو حریف کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔ دونوں کا احساس یہ رہا ہے کہ فریقِ ثانی نے اس کا حق چھین رکھا ہے۔ اس دو طرفہ احساس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں گویا ’’میں بھی ہارا،تم بھی ہارے‘‘  کی نفسیات میں جیتے رہے۔ دونوں پڑوسیوں کے درمیان وہ معتدل فضا باقی نہ رہی جو دونوں ہی کی ترقی کے لیے ضروری تھی۔

اب اگر دونوں ملک دانش مندی سے کام لیتے ہوئے ’’میں بھی ہارا، تم بھی ہارے‘‘ کی منفی نفسیات سے باہر آجائیںاور اس کے بجائے، دونوں ’’میں بھی جیتا، تم بھی جیتے‘‘ کے مثبت فارمولے کو اختیار کرلیں تو اچانک دونوں ملکوں کے درمیان انسانی ترقی کے نئے دروازے کھل جائیں گے۔ اس کے بعد وہ حقیقی انڈیا اور وہ حقیقی پاکستان بننا شروع ہو جائے گا جس کا خواب دونوں ملکوں کے بانیوں نے دیکھا تھا۔

اب تک دونوں پڑوسی ملک اس احساس میں جیتے رہے ہیں کہ سرحد کے دوسری طرف سے انہیں ایک دشمن ملک کا خطرہ درپیش ہے، اس کے بعد دونوں یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ سرحد کے دوسری طرف ان کا ایک دوست ملک موجود ہے۔ اب تک دونوں ملک محرومی کے احساس میں جی رہے تھے، اس کے بعد دونوں ملک یافت کے احساس میں جینے لگیں گے۔ اب تک دونوں ملک اپنے آپ کو مسائل میں گھرا ہوا سمجھتے تھے، اس کے بعد دونوں ملک یہ محسوس کریں گے کہ وہ کھلے ہوئے مواقع کے درمیان ہیں۔ بظاہر جغرافی اور سیاسی تقسیم کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان ایک برتر انسانی اور تعمیری وحدت قائم ہو جائے گی۔اور یہ سب کرشمہ ہوگا اس بات کا کہ دونوں نے  وِن  وِن سولیوشن کے طریقہ کو اختیار کر لیا۔

حل کی طرف

موجودہ حالت میں پاکستان کے لیے جو انتخاب (choice) ہے وہ جمہوری حکومت اور فوجی حکومت کے درمیان نہیںہے بلکہ حقیقی انتخاب جن دو حالتوں کے درمیان ہے وہ یہ کہ پاکستان کا سفر جس بند گلی (impasse) پر آکر رک گیا ہے وہاں سے وہ اپنے آپ کو نکال کر اپنا سفر دوبارہ شروع کرے یا وہ اسی بند گلی میں بدستور پڑا رہے۔ یہاں تک کہ وہ قوموں کے عالمی روڈمیپ سے غیر موجود ہوجائے۔

کسی قوم کی زند گی میں بعض اوقات ایسا لمحہ آتا ہے جب کہ قوم کا ترقیاتی سفر رک جاتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ایک جرأت مندانہ فیصلہ کیا جائے تاکہ دوبارہ قوم کا سفر معتدل انداز میں جاری ہوسکے۔ اس قسم کا نازک فیصلہ اکثر اوقات عوامی جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ اکثر ایسے افراد کرتے ہیں جو فوجی حکمراں کی حیثیت رکھتے ہوں۔ جمہوری حکمراں اس قسم کا جرأت مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ کیوں کہ وہ عوام کی رایوں سے چن کر حکومت تک پہنچتا ہے ، اس بنا پر اس کے لیے ایسا کوئی انقلابی فیصلہ لینا ناممکن ہو جاتا ہے جو عوامی احساسات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

یہاں میں اس نوعیت کی دومثالیں پیش کروں گا۔ مسلم تاریخ میں اس کی ایک مثال صلاح الدین ایوبی (وفات 1193ء ) کی ہے۔ صلاح الدین کا یہ عظیم کارنامہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے صلیبی قوموں کی فوجی یلغار سے مسلم دنیا کو بچایا۔ مگر صلاح الدین کو یہ طاقتور حاکمانہ حیثیت کیسے ملی جب کہ وہ اپنا یہ عظیم رول ادا کرسکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلاح الدین ایوبی مصر کے سلطان نورالدین محمود زنگی کا ایک فوجی افسر تھا۔ سلطان نور الدین (1118-1174ء)کی موت کے بعد اگر چہ اس کے بیٹے موجود تھے، لیکن صلاح الدین نے حکومت پر قبضہ کر کے سلطان کا منصب حاصل کر لیا۔ مسلم مورخین نے عام طورپر صلاح الدین کے اس قبضہ کی کارروائی کو جائز قرار دیا ہے۔ کیوں کہ یہ قبضہ اگر چہ بظاہر غیرآئینی تھا لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ ایک عظیم سیاسی فائدہ کا سبب بنا۔ اسی نے صلاح الدین ایوبی کے لیے اس امر کو ممکن بنایا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اپنا وہ عظیم کردار ادا کرسکے جو کہ اس نے اس کے بعدادا کیا۔

دوسری مثال فرانس کے چارلس ڈیگال (وفات 1970) کی ہے۔ وہ فرانس کی فوج میں ایک جنرل تھا۔ اس کے بعد اس نے حالات سے فائدہ اٹھا کر فرانس کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ بظاہر یہ ایک غیر جمہوری عمل تھا مگر فرانس کی نجات کے لیے ڈیگال نے ایک ایسا کام کیا جو کوئی جمہوری حکمراں نہیں کرسکتا تھا۔

کیوں کہ جو حکمراں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے وہ عوامی جذبات کو نظر انداز کرکے کوئی جرأت مندانہ فیصلہ نہیں لے سکتا۔ جب کہ بعض حالات میں کسی قوم کی نجات کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کرکے ایک جرأت مندانہ فیصلہ لیا جائے۔

جیسا کہ معلوم ہے، اس وقت فرانس نے افریقہ کے کئی ملکوں مثلاً الجزائر ،وغیرہ پر قبضہ کر رکھا تھا اور ان کو فرانس کے صوبے(provinces) کہتا تھا۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ پالیسی فرانس کے لیے اتنی زیادہ مہلک ثابت ہوئی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاری ہونے والی ترقیاتی دوڑ میں وہ یورپ کا ایک ’’مرد بیمار‘‘ بن گیا۔ ڈیگال نے قومی جذبات سے الگ ہو کر اس مسئلہ پر غور کیا۔ اس کی سمجھ میں آیا کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ افریقہ کی فرانسیسی کالونیوں کو یک طرفہ طورپر آزاد کردیا جائے۔ یہ اقدام فرانس کے عوام کے جذبات کے سراسر خلاف تھا مگر یہی وہ غیرمقبول فیصلہ ہے جس نے فرانس کو جدید ترقیاتی دوڑ میں ایک بڑی طاقت کی حیثیت دے دی۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال بھی تقریباً یہی ہے۔ کشمیر کے سوال پر انڈیا کے خلاف پاکستان کی بلا اعلان جنگ(undeclared war) نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔دنیا اس کو ایک غیرمحفوظ ملک کے طورپر دیکھتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری (investment) کے لیے تیار نہیں۔ پاکستانی عوام کی بے چینی نے ملک میں بد امنی جیسی صورت حال پیدا کردی ہے۔ ملک کے مذہبی اور تعلیمی اور ثقافتی ادارے تخریبی سرگرمیوں کے مرکزبن گئے ہیں۔

ان خرابیوں کا سب سے زیادہ اندوہناک انجام وہ ہے جس کو برین ڈرین(brain drain) کہا جاتا ہے۔ انسان فطر ی طور پر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس لیے کسی ملک کی ترقی کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ وہاں لوگوں کو عمل کے کھلے مواقع دکھائی دیتے ہوں۔ مثلاً وہاں امن ہو، بہترین انفراسٹرکچر(infrastructure) ہو۔ آدمی کو اپنی محنت کا پورا صلہ ملتا ہوا نظر آئے۔اگر کسی ملک میں یہ مواقع پوری طرح موجود ہوں تو اس ملک میں ہر آدمی اپنے آپ سرگرم ہو جائے گا اور ملک خود بخود ترقی کرنے لگے گا۔ مگربدقسمتی سے پاکستان میںایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان میں ’’پہلے صورت موجودہ  (status quo) کو بدلو‘‘ کے نظریہ کے نتیجہ میں مسلسل طورپر ہنگامی صورت حال باقی ہے۔ وہاں عملی طور پر افراد کے لیے حسب حوصلہ کام کے مواقع بہت کم ہوگئے ہیں۔ چنانچہ بیشتر حوصلہ مند اور باصلاحیت افراد پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ امریکہ کے سفروں کے دوران میں نے امریکہ میں مقیم بہت سے پاکستانیوں سے پوچھا کہ آپ اپنے ملک کو چھوڑ کر یہاں کیوں آگئے۔ تقریباً سب کا ایک ہی جواب تھاکہ امریکہ میں کام کے مواقع ہیں جب کہ پاکستان میں کام کے مواقع نہیں۔

کشمیر کے بارے میں پاکستان کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسی پاکستان کے ترقیاتی سیلاب کے لیے بند دروازہ (trap door) بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان موجودہ زمانہ میں ترقیاتی دوڑ میں پچھڑ گیا ہے۔ پاکستان کو اس پچھڑے پن سے نکالنے کی صرف ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال (avail) کرنے کی پالیسی اختیار کرے۔ موجودہ حالات میں اس کی عملی صورت یہ ہے کہ پاکستانی لیڈر کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (status quo) کو علیٰ حالہٖ ماننے پر راضی ہوجائیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کشمیر میں قبضہ کی لائن (LoAC) کو کچھ ضروری ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تسلیم شدہ سرحد قرار دے دیا جائے۔ اس معاملہ میں ہندستان اور پاکستان کے درمیان جو جغرافی اور سیاسی اسٹیٹس کو (political status-quo)بن گیاہے اس کو مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔اپنی اس رائے کو میں 1968 سے برابر پیش کر رہا ہوں۔ مزید یہ کہ اس طرح کا انقلابی فیصلہ صرف ایک غیرجمہوری حکمراں ہی کرسکتا ہے۔ کسی جمہوری حکمراں کے لیے ایسا غیر جذباتی فیصلہ لینا ممکن نہیں۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے لیے یہی تاریخی کام مقدر ہے۔ اس معاملہ میں جو لوگ صدر مشرف کے حق اقتدار پر سوال اٹھارہے ہیں ان کا جواب سابق فوجی صدر محمد ضیاء الحق کی مثال میں موجود ہے۔اس سے پہلے جنرل محمد ضیاء الحق نے یہی کیا تھاکہ پاکستان کے اقتدار پر فوجی قبضہ کیا۔ اور پھر ایک کارروائی کے ذریعہ اپنے صدر مملکت ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت پاکستان کے اسلام پسندوں سے لے کر امریکہ کے محکمہ ٔخارجہ تک ہر ایک نے اس کو قبول کر لیا اور قانون ِضرورت (law of necessity) کے تحت اس کو جائز قرار دیا۔ یہ نظیر کافی ہے کہ صدر پرویز مشرف کو بھی اسی دلیل کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ یہ ایک دہراکردار ہے کہ جہاں ذاتی انٹرسٹ دکھائی دے وہاں آدمی پریکٹکل بن جائے اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ نہ ہو وہاں وہ آئیڈیلزم کی بات کرنے لگے۔

پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا اقتدار سنبھالنا اورپھر 20 جون 2001 کو ملک کے صدر کی حیثیت سے حلف لینا بظاہر ایک غیر آئینی واقعہ ہے۔ مگر میرے نزدیک وہ ایک بالکل بروقت واقعہ ہے۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کو جو جرأت مندانہ فیصلہ لینا ہے وہ صدر پرویز مشرف جیسا فوجی حکمراں ہی لے سکتا ہے۔ انتخابات کے ذریعہ بننے والے کسی جمہوری حکمراں کے لیے ایسا غیرجذباتی فیصلہ لینا ممکن نہیں۔

اس مسئلہ کا واحد علاج یہ ہے کہ پاکستان اپنی جذباتی پالیسی کو چھوڑ کر حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرے۔ وہ کشمیر کے سوال پر ہندستان سے سمجھوتہ کرلے تاکہ ملک میں امن کی فضا پیداہو اور ملکی ذرائع کو تعمیری سرگرمیوں کی طرف موڑا جاسکے۔

پچھلے 55 سال سے پاکستان کی سیاست ایک ہی سوال پر مرتکز رہی ہے۔ اور وہ ہے— کشمیر میں قائم شدہ سیاسی حالت  (political status-quo)  کو بدلنا ۔ اب آخری طورپر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ پالیسی ایک تباہ کن پالیسی ہے۔ وہ سرے سے کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہی نہیں، نہ ماضی اور حال کے اعتبار سے اور نہ ہی مستقبل کے اعتبار سے۔

مذکورہ قسم کاانقلابی فیصلہ لینا یقینی طورپر ایک مشکل کام ہے۔ لیکن اگر ایک بار ہمت کرکے پاکستان ایسا فیصلہ لے لے تو اس کے معجزاتی نتیجے برآمد ہوں گے۔ انڈیا کے خلاف بلا اعلان جنگ کی حالت ختم ہو کر امن قائم ہوجائے گا۔ پاکستانی قوم کی منفی سوچ مثبت سوچ میں تبدیل ہو جائے گی۔ باہمی تجارت کے دروازے کھل جائیں گے۔ تعلیم اور ثقافت اور سیاحت کے میدان میں دونوں ملکوں کے درمیان لین دین شروع ہو جائے گا۔ لٹریچر کی دو طرفہ آمد و رفت کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہوجائیں گی اور برادرانہ ماحول قائم ہوجائے گا۔ انڈیا اور پاکستان کی زبان اور کلچر بڑی حد تک ایک ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے لیے دور کے پڑوسی (distant neighbours)  بنے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ دونوں قریب کے پڑوسی بن جائیں گے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔

اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا قوم کام کرنا چاہے تو اس وقت پیشگی حالات کے نتیجہ میں ایک عملی صورت حال (status quo) موجود رہتی ہے۔ اب سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے موجودصورت حال (status quo) کو بدلا جائے تاکہ عمل کرنے کے راستے پیدا ہوں۔ دوسرے یہ کہ موجود صورت کو اپنے حال پر چھوڑتے ہوئے بقیہ ممکن میدانوں میں اپنا عمل جاری کرنا۔

یہ طریقہ جس کو میں مثبت اسٹیٹس کو ازم(positive status-quoism کہتا ہوں، یہی عقل کے مطابق ہے۔ یعنی جب آئیڈیل کا حصول ممکن نہ ہو تو پریکٹکل پر راضی ہوجانا۔ خود اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم دیا گیاہےالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی نزاعی معاملات میں سب سے زیادہ بہتر اور مفید پالیسی سمجھوتہ کی پالیسی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اختلافی مواقع پر ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مصالحت کا طریقہ اختیار کرنا۔

اسٹیٹس کو (status quo)  کو مانتے ہوئے تعلقات کو مستقل بنیاد پر استوار کرنے کی یہ تجویز کوئی نئی نہیں۔ جواہر لال نہرو کے زمانہ میں دونوں طرف کی حکومتیں مبینہ طورپر اس تجویز پر راضی ہوچکی تھیں۔ حتی کہ شیخ محمد عبد اللہ دونوں کے بیچ میں ایک درمیانی آدمی کے طورپر پاکستان پہنچ چکے تھے۔ مگر نہرو کی اچانک موت سے اس تاریخ ساز منصوبہ پر عمل در آمد نہ ہو سکا:

By 1956, Nehru had publicly offered a settlement of Kashmir with Pakistan over the ceasefire line (now converted into the LoC). On May 23, 1964, Nehru asked Sheikh Abdullah to meet Ayub Khan in Rawalpindi in an effort to resolve the Kashmir imbroglio…the Pakistani leader agreed to a summit with Nehru, to be held in June 1964. This message was urgently telegraphed to Nehru on May 26. But just as Nehru’s consent reached Karachi, the world also learnt that Nehru had died in his sleep. And with that a major opportunity for a peaceful solution over Kashmir was also lost. (The Hindustan Times, June 18, 2001)

پاکستان اگر ایسا کرے کہ کشمیر کے بارے میں صورت موجودہ (status quo) پر رضامند ہوکر اس کو مستقل بندوبست کے طورپر قبول کرلے تو اس میں پاکستان کا یا وسیع تر معنوں میں ملت مسلمہ کا کوئی نقصان نہیں۔ کشمیر کا علاقہ پاکستان سے جدا ہونے کے بعد بھی بدستور ایک مسلم خطہ کے طورپر اپنی جگہ باقی رہے گا۔ پھر اس میں آخر نقصان کی کیا بات۔مزید یہ کہ تجربہ بتاتا ہے کہ بر صغیر ہند کے جو مسلمان انڈیا سے جڑے وہ آج پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔اس فرق کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ ہندستان کے حکیم عبد الحمید صاحب اور پاکستان کے حکیم محمد سعید صاحب سگے بھائی تھے۔دونوں نے بڑے بڑے کام کیے۔ مگر حکیم محمد سعید صاحب کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔ جب کہ حکیم عبد الحمید صاحب امن کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ یہاںتک کہ دہلی میں ان کی طبعی وفات ہوئی۔

دوسری بات یہ کہ پاکستان کا ہندستان سے مصالحت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنے طاقتور پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا ہے۔ اور اپنے پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا گویا اپنے اوپر ہر قسم کی ترقی کے دروازے کھولنا ہے۔ اپنے حریف سے نزاع کو ختم کرنا کس طرح ترقی کا زینہ بنتا ہے، اس کی ایک مثال موجودہ جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان اور امریکہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ سے مکمل مصالحت کرلی۔ اس مصالحت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان عالمی نقشہ میں اقتصادی سُپر پاور بن کر ابھر آیا۔

پاکستان اپنی موجودہ پالیسی سے اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ اپنی موجودہ پالیسی کی بنا پر پاکستان کو یہ کرنا پڑا کہ اس نے انڈیا سے نفرت کو اپنے لیے قومی اتحاد کا ذریعہ بنایا۔ اس غلط پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان (بشمول مشرقی پاکستان) کے لوگ اسلام کے نام پر تو متحد نہ ہوسکے مگر انڈیا سے نفرت کے نام پر وہ مکمل طورپر متحد نظر آتے ہیں۔اس مثال کی بنا پر دنیا کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اسلام کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ مسلمانوں کوباہم متحد کر سکے۔ اسی ذہن کی ترجمانی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (18 جون  2001ء) کے ایک مضمون میں اس طرح کی گئی ہے کہ اسلام پاکستان کو متحد نہ کرسکا، مگر ہندستان دشمنی نے اس کو متحد کردیا:

Islam does not hold Pakistan together anymore, but anti-Indianism does.

پاکستان کی مصالحانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل پاکستان کے اندر نیا مثبت ذہن فروغ پائے گا۔ اس کے بعد اہل پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوجائیں گے جب کہ ان کے قومی اتحاد کی بنیاد اینٹی انڈیا ذہن نہ ہو بلکہ ان کے قومی اتحاد کی بنیاد پرواسلام (pro-Islam) ذہن ہوجائے۔ یہ فائدہ اتنا عظیم ہے کہ عجب نہیں کہ اس کے بعد پاکستان کے اوپر اللہ کی رحمت کے تمام دروازے کھل جائیں اور اس کی رحمت کا کوئی دروازہ  اُس کے اوپر بند نہ رہے۔

دورۂ ہند سے قبل بھیجا ہوا خط

برادر محترم  پریذیڈنٹ پرویز مشرف صاحب         السلام علیکم ورحمۃ اللہ

انڈیا کے لیے آپ کا دورہ (15۔16 جولائی) ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اقدام کو مکمل کامیابی عطا فرمائے۔

12 اکتوبر 1999 کو جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک امکانی ہوائی حادثہ سے بچایا اور پاکستان کے سیاسی اقتدار پر سرفراز کیا تو مجھے رابرٹ کلایو کا واقعہ یاد آیا۔ ایک امکانی حادثہ سے بچنے کے بعد کلایو کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھےخدانے تم کو کسی بڑے کام کے لیے بچایا ہے۔ اور اس کے بعداس نے واقعۃً برطانی تاریخ میں ایک بڑا کام انجام دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی تاریخ آپ کے ساتھ دہرائی جانے والی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کو اپنی خصوصی مدد سے بچایا ہے تاکہ آپ برصغیر ہند میں قیام امن کا وہ ضروری کردار ادا کر سکیں جس کا تاریخ کو نصف صدی سے انتظار ہے۔

جب یہ خبر آئی کہ آپ حکومت ہند کی دعوت پر انڈیا کا دورہ کرنے والے ہیں تو اس دورہ کے بارے میں میں نے کئی مضمون لکھے جو یہاں کے اردو، ہندی اور انگریزی اخباروں میں شائع ہوئے۔ مثال کے طور پر ساؤتھ انڈیا کے کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ ہت واد (The Hit Avada) میں میرا ایک تفصیلی انٹرویو اس کے شمارہ 30 جون 2001 میں چھپا ۔ اس میں ملٹری رولر کی حیثیت سے میں نے آپ کا پرزور دفاع کیا تھا۔ چنانچہ اخبار نے اس انٹرویو کو چھاپتے ہوئے اس کا یہ عنوان دیا:

Military ruler is a blessing for Pakistan

اگر آپ اجازت دیں تو میں کہنا چاہوں گا کہ کشمیر کے معاملہ میں پاکستان کو وہی پالیسی اختیار کرنا چاہیے جو مشہور انگریزی مقولہ میں اس طرح بیان کی گئی ہی— سیاست ممکن کا آرٹ ہے:

Politics is the art of the possible.

میں ایک خیر خواہ کی حیثیت سے کشمیر کے مسئلہ پر اس کے آغاز ہی سے غور کرتا رہا ہوں۔ 1968 سے میں نے اس موضوع پر لکھنا شروع کیا اور اردو اور ہندی اور انگریزی پریس میں بار بار لکھتا رہا ہوں۔ اس مسئلہ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے میری قطعی رائے ہے کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے لیے صرف دو ممکن انتخاب (options) ہیں۔ ایک یہ کہ اس معاملہ میں پاکستان ڈی لنکنگ پالیسی(delinking policy) اختیار کرے۔ یعنی کشمیر کے اشو کو پر امن گفت و شنید کے خانہ میں ڈالتے ہوئے بقیہ تمام امور میں ہندستان سے نارمل تعلقات قائم کرلے۔ اور دوسرے یہ کہ جموں و کشمیر میں جغرافی اعتبار سے جو اسٹیٹس کو (status quo) بن گیا ہے اس کو مستقل سرحد کے طورپر مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ اس کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طورپرممکن نہیں۔ تیسری صورت یقینی طور پرصرف تباہی کی صورت ہے، نہ کہ ترقی اور کامیابی کی صورت ۔

اس معاملہ کا ایک اور نہایت اہم پہلو ہے۔آپ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے مِلیٹنسی (militancy) چلائی جارہی ہے، ان میں سے ایک نمایاں نام کشمیر کا ہے۔ اس مِلیٹنسی کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا۔ البتہ اس کا ایک عظیم نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی امیج ایک وائلنٹ مذہب (violent religion) کی ہوگئی۔ اس بدنامی نے موجودہ زمانہ میں اسلام کے آئیڈیالاجیکل مارچ(ideological march) کوروک دیا جو ایک ہزار سال سے مسلسل ساری دنیا میں چلا آرہا تھا۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کے لیے یہ رول مقدر کیا ہے کہ آپ اسلام کے اس دعوتی سفر کو دوبارہ جاری کریں۔ اگر آپ انڈیا کے ساتھ مستقل قسم کا ایک پیس ٹریٹی (peace treaty) کر لیں تو اس کا فائدہ نہ صرف پاکستان کو ملے گا بلکہ اس کے نتیجہ میں پوری مسلم دنیا میں ایک نیا صحت مند پراسس جاری ہو جائے گا۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ موجودہ متشددانہ رجحان ایک پر امن دعوتی رجحان میں بدل جائے گا۔ لوگ نارمل فضا میں اسلام کا مطالعہ کرنے لگیں گے۔

موجودہ مبصرین پاکستان کو امکانی طورپر نیو کلیر فلیش پائنٹ (nuclear flashpoint) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر آپ جرأت و ہمت سے کام لے کر حدیبیہ جیسا ایک پیس ٹریٹی کر لیں تو پاکستان برعکس طورپر دعوہ فلیش پائنٹ(dawah flashpoint)  بن جائے گا۔

مجھے اندازہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں مصالحت کی پالیسی اختیار کرنا آپ کی مقبولیت کے لیے ایک رِسک (risk) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس اندیشہ کا جواب قرآن میں یہ دیا گیا ہے: الصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلافی معاملات میں ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ کر مصالحت کی پالیسی اختیار کی جائے تو نتیجہ کے اعتبار سے وہ زیادہ بہتر ثابت ہوگی۔

زندگی میں ہر بڑی کامیابی کا تعلق رسک سے ہوتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ افریقہ میں فرانس کی نو آبادیاتی پالیسی نے فرانس کو بے حد کمزور کردیاتھا۔ جنرل ڈیگال نے جرأت کرکے  یک طرفہ طورپر اس پالیسی کو ختم کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرانس میں جنرل ڈیگال کی مقبولیت بہت کم ہوگئی۔ مگر آج اِس ڈیگال ازم کو ایک کامیاب خارجہ پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اسی پالیسی کے نتیجہ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس کو نئی طاقت ملی۔

اس خط کے ساتھ میں دو چیزیں بھیج رہا ہوں۔ ایک اپنی کتاب Islam Rediscovered اور دوسرے، ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ اگست 2001۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کو پڑھنے کے لیے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس مطالعہ سے میرا مدعا مزید واضح ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کا مددگار ہو۔

دعا گو       وحید الدین

نئی دہلی       9 جولائی  2001

نشستند وگفتند و برخاستند

پاکستان کے صدر جنر ل پرویز مشرف 14 جولائی 2001 کو اسلام آباد سے دہلی آئے۔ یہاں ہندستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ان کی پانچ بار ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا خاص مقصد کشمیر کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ مگر بات چیت ناکام رہی اور 16جولائی 2001 کی رات کو واپس ہو کر وہ اسلام آباد چلے گئے۔

اس اعلیٰ سطحی بات چیت کی ناکامی کا سبب کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اس کا سبب یہ تھا کہ ہندستانی وزیر اعظم چاہتے تھے کہ جموں و کشمیر میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور جغرافی اعتبار سے جو واقعی حالت(status quo) قائم ہوگئی ہے، اس کو علی حالہٖ باقی رکھتے ہوئے دوسرے تمام امور میں دونوں ملکوں کے درمیان معتدل تعلقات بحال کر لیے جائیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان ترقی کا رکا ہوا سفر جاری ہوسکے۔ مگر پاکستانی صدر کو غالباً یہ اصرار تھا کہ پہلے جموں و کشمیر کی موجودہ حالت (status quo) کو توڑ کر ان کے دعویٰ کے مطابق پوری ریاست پر پاکستان کا حق تسلیم کیا جائے۔ اس کے بعد ہی وہ دونوں ملکوں کے درمیان معتدل تعلقات کے قیام پر راضی ہوں گے۔ ہندستانی وزیر اعظم پاکستانی صدر کی بات نہ مان سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ناکام ہوکر رہ گئی۔

جنرل پرویز مشرف جب ہندستان آئے تو شروع میںانہوں نے ایسی بات کہی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مصالحت کا ارادہ لے کر ہندستان آئے ہیں۔ مثلاً انہوں نے راشٹرپتی بھون (نئی دہلی) میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھاکہ کشمیر کے نزاع کا کوئی فوجی حل (military solution) ممکن نہیں۔ اسی طرح آگرہ کی پریس کانفرنس میںانہوں نے حقیقت کے اعتراف (acceptance of reality) کی بات کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کھلے ذہن کے ساتھ انڈیا آیا ہوں۔ مگر بعد کو وہ حقیقت پسندانہ مصالحت کیے بغیر پاکستان واپس چلے گئے۔

جہاں تک میرا اندازہ ہے، ان کو غالباً پاکستانی عوام کی طرف سے سخت جذباتی ردّ عمل کا اندیشہ تھا، اس بنا پر وہ مصالحت کا طریقہ اختیار نہ کرسکے اور ناکام واپس چلے گئے۔ ایک مبصر کے الفاظ میں، جنرل پرویز مشرف کو معلوم تھا کہ پاکستان کے جذباتی عوام جو کرکٹ کے میدان میں انڈیا کے مقابلہ میں اپنی ہار کو برداشت نہیں کر پاتے، وہ کشمیر میں انڈیا کے مقابلہ میں اپنی سیاسی ہار کو کیسے برداشت کر سکیں گے۔

مگر یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ پاکستان کے صدر کو جاننا چاہیے کہ ان کا سامنا صرف ایک مسئلہ سے نہیں ہے بلکہ وہ بیک وقت دو مسئلے کے درمیان ہیں—اگر وہ کشمیر کے معاملہ میں انڈیا سے مصالحت (compromise) کا طریقہ اختیار کریں تو پاکستان کے عوام اس کو اپنی سیاسی ہار سمجھ کر جنرل پرویز مشرف سے غصہ ہو جائیں گے۔ لیکن دوسری طرف یہ سخت تر مسئلہ ہے کہ اگر وہ کشمیر کے سوال پر مصالحت نہ کریں تو پاکستان کی اقتصادی تباہی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان میں مایوسی پھیلے گی اور پاکستانی عوام کی نظر میں وہ غیر مطلوب حکمراں بن جائیں گے۔ اور پھر وہ بھی اسی طرح سیاسی زوال کا شکار ہوں گے جس طرح ان کے پیش رو ٹھیک اسی سبب سے سیاسی زوال کا شکار ہوئے۔

ایسی حالت میں پاکستان کے فوجی صدر کے سامنے بیک وقت  دو برائیوں میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ ہے، نہ کہ صرف ایک برائی کا مسئلہ ۔ وہ کسی حال میں بھی اپنے سیاسی کیریر کو برائی کے مسئلہ سے بچا نہیں سکتے۔ اب انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مذکورہ دونوں برائیوں میں سے کون سی چھوٹی برائی (lesser evil) ہے اور کون سی بڑی برائی (greater evil) ۔

اس معاملہ میں اگر مجھے رائے دینا ہو تو میں کہوں گا کہ کشمیر کے بارے میں ہندستانی موقف کو تسلیم کرلینا پاکستانی صدر کے لیے چھوٹی بُرائی ہے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں جو کچھ ہوگا وہ صرف یہ کہ ایک چیز جس کو پاکستان بالفعل کھوچکا ہے، اس کے کھوئے جانے کا اعتراف کر لیا جائے۔ پاکستان کو اس کی یہ نقد قیمت ملے گی کہ اس کی تعمیر و ترقی کے تمام دروازے اچانک کھل جائیں گے جو اب تک گویا اس کے اوپر بند پڑے ہوئے تھے۔

اس کے برعکس اگر پاکستان کی حکومت کشمیر کے بارے میں ہندستانی موقف کو تسلیم نہ کرے اور ہندستان سے اپنی بلا اعلان لڑائی جاری رکھے تو اس کا تباہ کن نقصان یہ ہوگا کہ جس چیز سے پاکستان محروم ہوچکا ہے، اس سے اس کی محرومی تو بدستور قائم رہے گی ۔ مزید یہ نقصان ہوگا کہ پاکستان کی اقتصادی تباہی میں اور زیادہ اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی ناقابل برداشت حد کو پہنچ چکی ہے۔

خوش گوار آغاز، ناخوش گوار انجام

پاکستان کا اسلامک گروپ اور انڈیا کا فنڈمنٹلسٹ گروپ دونوں کے عقیدے بظاہر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ مگر عملی طورپر دونوں کا کیس تقریباً یکساں ہے۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں کے واحد نجات دہندہ ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں گروہوں نے اپنے اپنے ملکوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان شاید کسی اور گروہ نے نہیں پہنچایا۔

اس صورت حال کا مشترک سبب یہ ہے کہ دونوں اگر چہ اپنے اپنے اعتبا ر سے وطن کے خیر خواہ ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ دونوں ہی یکساں طورپر انتہا پسند(extremists) ہیں۔اور انتہاپسندی کے ساتھ ایک گھرکو بھی کامیابی کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا۔ پھر پورے ملک کو کس طرح انتہا پسندی کے ذریعہ کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔

اب پاکستان کے اسلامسٹ گروپ کو لیجیے۔ یہ لوگ پچھلے تقریباً 55 سال سے پاکستان میں سرگرم ہیں۔ اپنے کئی مطالبات کو منوانے میں بھی بظاہر وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ مگر ان کی یہ کامیابی وسیع تر معنوں میں ان کے ملک کے لیے مثبت نتیجہ کا سبب نہ بن سکی۔

پاکستان کی سیاست سے اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ یہاں ہم صرف کشمیر کے مسئلہ کو لیں گے۔ اس معاملہ میں پاکستان کے اسلامسٹ گروپ نے اپنے مخصوص مزاج کے تحت یہ کیا کہ انہوں نے اپنی کشمیری تحریک کو قومی تحریک نہ بتاتے ہوئے اس کو جہاد کا عنوان دے دیا۔

قومی تحریک میں ہمیشہ فیصلہ کن چیز عملی حقائق ہوتے ہیں۔ اس بنا پر قومی تحریک میں ہمیشہ لچک اور ایڈ جسٹ منٹ کی گنجائش رہتی ہـے۔ مگر جہاد ایک مذہبی عقیدہ کی بات ہے۔ جب کسی معاملہ کو جہاد کا معاملہ قرار دے دیا جائے تو اس سے وابستہ لوگوں میں لچک اورایڈجسٹمنٹ کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ جہاد کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ بتاتا ہے کہ اگر تم اس راہ میں کچھ حاصل نہ کر سکو تب بھی اس میں جان دینا ہی تمہاری کامیابی ہے۔کیونکہ جہاد کے راستہ میں مرکر تم سیدھے جنت میں پہنچ جاؤگے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان کا سیکولر طبقہ کشمیر کے معاملہ میں انڈیا کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کرنے پر ذہنی طورپر راضی ہے۔ مگر وہاں کا اسلامسٹ گروپ اس معاملہ میں ان کے خلاف عقب لشکر (rear-guard) کا کردار ادا کررہا ہے۔ اس نے پرجوش تقریریں کر کے اس معاملہ کو اتنا زیادہ جذباتی بنا دیا ہے کہ اب پاکستان کے بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم سرینگر تک پہنچیں یا نہ پہنچیں مگر اس راہ میں لڑ کر ہم جنت تک ضرور پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کا اسلامسٹ گروپ ایڈجسٹمنٹadjustment)) کی پالیسی اختیار کرنے میں ایک مستقل رکاوٹ بن گیا ہے، جب کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی ہی کسی قوم کے لیے کامیابی کا واحد ذریعہ ہے۔

اب انڈیا کو لیجیے ۔ انڈیا کا فنڈمنٹلسٹ طبقہ بھی اپنے حالات کے اعتبارسے وہی منفی کردار ادا کر رہا ہے جو پاکستان کا اسلامسٹ طبقہ اپنے حالات کے لحاظ سے ادا کررہا ہے۔ مذہبی فنڈمنٹلزم عین اپنی فطرت کی بنا پر اپنے آپ کو برحق سمجھنے (self-righteousness)  کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ اس مزاج کا مزید نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر انتہا پسندی اور کٹر پن کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کاحال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جانتے ہیں مگر وہ دوسروں کو نہیں جانتے۔ وہ اپنے آپ کو ہر حال میں درست اور دوسروں کو ہر حال میں نادرست سمجھتے ہیں۔ وہ صرف اپنے آپ کو رعایت کا مستحق سمجھتے ہیں، دوسروں کی رعایت کرنا ان کی فہرست اخلاق میں شامل نہیں ہوتا۔

آزادی کے بعد ہندستان کی تاریخ میںاس فنڈمنٹلسٹ کردار کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہاں ہم کشمیر کے تعلق سے اس معاملہ کی ایک تازہ مثال نقل کریں گے۔

حکومت ہند کی دعوت پر پاکستان کے صدر جنرل پرو یز مشرف نے انڈیا کا دورہ کیا۔ وہ 14جولائی 2001 کی صبح کو یہاں آئے اور 16 جولائی 2001 کی رات کو واپس گئے۔ اس دوران دہلی اور آگرہ میں ان کی ملاقاتیں انڈیا کے لیڈروں سے ہوئیں۔ ابتداء میں بظاہر ملاقات کا یہ پروگرام بہت امید افزا تھا۔ مگر بعد کوایسی تلخی پیدا ہوئی کہ کوئی مشترک اعلان جاری کیے بغیر یہ چوٹی کانفرنس ختم ہوگئی۔ دورہ ناکام ہوکر رہ گیا۔

اس ناکامی کا سبب کیا تھا۔ میرے نزدیک اس کا سبب ہمارے یہاں کے کچھ فنڈمنٹلسٹ لیڈروں کا بے لچک رویہ ہے۔ وہ اپنے مذکورہ ذہن کی بنا پرمعتدل انداز میں پاکستانی صدر سے معاملہ نہ کرسکے اور چوٹی کانفرنس ناکام ہوکر رہ گئی۔

میں ذاتی طورپر پچھلے تقریباً چالیس سال سے یہ رائے رکھتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلہ کا واحد ممکن حل یہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی لائن یا لائن آف ایکچول کنٹرول کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان مستقل سرحد کے طورپر مان لیاجائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ پاکستان کے لیے یہ ایک نہایت کڑوا گھونٹ ہے۔ اس لیے اس تجویز کو واقعہ بنانے کے لیے ہمیں حد درجہ حکمت اور دانش مندی سے کام لینا ہوگا۔اس کے بغیر اس معاملہ میں کامیابی ممکن نہیں۔ اپنے حریف کو بے عزت کرکے آپ اسے جیت نہیں سکتے، البتہ رعایت اور محبت کا معاملہ کرکے یقینی طورپر آپ اس کو جیت سکتے ہیں۔

میں نے صدر پرویز مشرف کے سفر سے پہلے انہیں ایک خط (9جولائی 2001)بھیجا تھا۔ یہ خط زیر نظر مجموعہ میں شامل ہے۔ صدر پرویز مشرف جب ہندستان آئے تو انہوں نے کئی ایسے اشارے دئے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مفاہمت اور مصالحت پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کھلے ذہن (open mind) کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔ دہلی میں اپنے آبائی مکان کی خصوصی زیارت کرکے انہوں نے یہ تاثر دیا کہ میں اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک ہندستانی ہوں، اس لیے فطری طورپر میرے دل میں ہندستان کے لیے ایک نرم گوشہ (soft corner) موجودہے۔ راشٹرپتی بھون نئی دہلی کی پارٹی میں انہوںنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی نزاع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں:

There is no military solution to the Kashmir dispute.

انہوں نے آگرہ کی پریس کانفرنس میں اعتراف حقیقت (acceptance of reality) کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں زینہ بہ زینہ (step by step)آگے بڑھنا ہوگا، وغیرہ۔

پاکستانی صدر کے اس قسم کے اشارے واضح طورپر یہ بتار ہے تھے کہ وہ مصالحانہ انداز اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کشمیر کے نزاعی مسئلہ کو ختم کرنے کا ارادہ لے کر آئے ہیں۔ مگر ہماری لیڈر شپ اپنے مذکورہ فنڈمنٹلسٹ مزاج کی بنا پر پاکستانی صدر کے ان اشاروں (gestures) کو کیش (cash) نہ کر سکی۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔

مثال کے طورپر ہمارے فنڈمنٹلسٹ لیڈروں کو جاننا چاہیے تھا کہ جنرل پرویز مشرف جو بھی معاہدہ کریں، اس کے بعد انہیں اپنے ملک پاکستان واپس جانا ہے۔ اس لیے ہر بات ایسے حکیمانہ انداز سے کہی جائے کہ پرویز مشرف جب واپس ہو کر اسلام آباد پہنچیں تو وہاں ان کا استقبال کالے جھنڈوں سے نہ کیا جائے۔ مگر ہمارے لیڈروں کے بے لچک رویہ اور غیر دانش مندانہ کلام کا نتیجہ یہ ہوا کہ مصالحت کی گفتگو راہ پر آنے کے بعد اچانک اس انجام سے دوچار ہوئی جس کو ایک ہندستانی صحافی نے ڈرامائی موڑ(dramatic turn) کے لفظ سے تعبیر کیا تھا۔ خوش گوار آغاز کا یہ ناخوش گوار انجام کیوںہوا، اس کی کافی تفصیل میڈیا میںآچکی ہے۔ یہاں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔

نزاعی امور کا تصفیہ گہری دانش مندی کے ساتھ فریق ثانی کی مکمل رعایت کا طالب ہوتا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے معاملہ میں ہر آدمی کو معلوم ہے کہ مسئلہ کے حل کے لیے ان دونوں پہلوؤں کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ مگر جب معاملہ قومی انٹرسٹ کا ہو تو لوگ اس حقیقت کو اس طرح بھول جاتے ہیں جیسے کہ وہ اس کو جانتے ہی نہ ہوں۔

کرنے کا کام

پچھلے دو سو سال کے اعتبار سے کشمیر کی تاریخ کو دیکھا جائے تو وہ تین بڑے دوروں سے گزرتے ہوئے دکھائی دے گی۔ پہلے دو رمیں کشمیر کے لوگ صوفیوں سے متاثر ہوئے۔ کشمیر میںصوفیوں کا آنا کشمیریوں کے لیے اس اعتبار سے مفید ثابت ہوا کہ ان کے ذریعہ سے کشمیریوں کو اسلام کا تحفہ ملا۔ کشمیریوں کی بہت بڑی اکثریت اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگئی۔

صوفیا نے کشمیریوں کو مذہبی اعتبار سے اسلام تو دیا مگر وہ کشمیریوں کو وسیع تر معنیٰ میں زندگی کا کوئی مشن نہ دے سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیریوں کے لیے اسلام زیادہ تر کلچر کے ہم معنیٰ بن کر رہ گیا۔ وسیع تر معنوں میں انھیں وہ شعور اور وہ پروگرام نہیں ملا جو کشمیریوں کی پوری زندگی کو ایک جامع نشانہ دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے بیشتر لوگوں کی زندگی بزرگوں کی قبروں یا درگاہوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ مخصوص قسم کے اوراد ووظائف کو وہ اتنے اہتمام کے ساــتھ پڑھتے ہیں جیسے کہ وہی سارا اسلام ہو۔ اس درگاہی اسلام یا کلچرل اسلام کا یہ نقصان ہوا کہ کشمیریوں میں وہ شعور ترقی نہ کرسکا جو وسیع تر معنی میں ان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کرے۔ اسی بے شعوری کایہ نتیجہ ہوا کہ وہ بار بار ایسی منفی سیاست میںملوث ہوتے رہے جس کا کوئی حقیقی تعلق اسلام سے نہ تھا۔ حتی کہ دنیوی اعتبار سے بھی اس کاکوئی فائدہ کشمیریوں کو ملنے والا نہ تھا۔

اسلام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو ایک روحانی مرکز دے، وہ آدمی کو خدا کی عبادت کے طریقے بتائے، وہ آدمی کو ایک ربانی کلچر عطا کرے ۔جہاں تک میرا اندازہ ہے، کشمیری لوگ اس پہلو سے تو اسلام سے آشنا ہوئے مگر ایک اور پہلو سے وہ بڑی حد تک اسلام کے فوائد سے بے بہرہ رہے۔

یہ دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تعمیرِ ذہن کہا جاسکتا ہے۔ کشمیریوں کی تعلیم و تربیت اس نہج پر نہ ہوسکی جو ان کے اندر صحیح اسلامی شعور پیدا کرے۔ جو انہیں سوچنے کے وہ طریقے بتائے جس کی روشنی میں وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلام کے مطابق فیصلہ لے سکیں۔ یہ کہنا شاید درست ہوگا کہ کشمیریوں کو مذہبی اعتبار سے تو اسلام ملا مگر شعوری انقلاب کے اعتبار سے وہ بڑی حد تک اسلام سے اپنا حصہ نہ پاسکے۔

اس سلسلہ کا پہلا واقعہ وہ ہے جب کہ کچھ لیڈروں کے نعرہ پر کشمیری لوگ سابق ڈوگرہ راج کے خلاف متحرک ہوئے۔ اسلامی نقطہ ٔ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک جذباتی ہنگامہ آرائی تھی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بظاہر کامیاب ہونے کے باوجود کشمیریوں کے مستقبل کی تعمیر میں اس تحریک کا کوئی حصہ نہیں۔ ڈوگرہ راج کے خلاف یہ تحریک زیادہ تر کچھ لیڈروں کے سیاسی حوصلہ کا اظہار تھی، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی شعور کا نتیجہ۔

1947 کے بعد کشمیریوں کے درمیان تحریکوں کا نیا دور شروع ہوا۔ اس دور میں کشمیر کے عوام دو بڑی تحریکوں سے متاثر ہوئے۔ ایک وہ جو سیکولرزم کے نام پر اٹھی اور دوسری وہ جو اسلام کے نام پر اٹھی۔یہ دونوں ہی تحریکیں دوبارہ کچھ لیڈروں کے سیاسی عزائم کی پیداوار تھیں، وہ حقیقی معنوں میں اسلامی شعور کے تحت پیدا نہیں ہوئیں۔

سیکولرلیڈروں نے 1947 کے بعد آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر کے نام پر اپنی تحریکیں چلائیں۔ ان تحریکوں کا یہ فائدہ تو ہوا کہ کچھ لیڈروں کو شہرت اور مادی فائدے حاصل ہوئے مگر کشمیری عوام کے لیے وہ ایک ایسے نشانہ کی طرف دوڑنے کے ہم معنیٰ تھی جس کی کوئی منزل نہیں۔ جس کا آغاز تو ہے مگر اس کا کوئی اختتام نہیں۔

دوسرا طبقہ وہ ہے جس نے اسلامی کشمیر اور نظام مصطفی کے نام پر اپنی تحریک چلائی۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا نام لیتے تھے مگر ان کے پاس خوش فہمیوں اور جذباتیت کے سوا کوئی اور سرمایہ نہ تھا۔ وہ اپنے رومانی جذبات کے پیچھے دوڑ رہے تھے اور دوسروں کو دوڑا رہے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ اسلام کی منزل کی طرف جارہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کی تحریک اسلام کے لیے تو درکنار، خود دنیا کے اعتبار سے بھی کوئی واقعی فائدہ کشمیریوں کو دینے والی نہ تھی۔یہ دنیا حقائق کی دنیا ہے۔ یہاں جذباتی سیاست کے ذریعہ کوئی مثبت نتیجہ برآمد کرنا ممکن نہیں۔

ان تحریکوں کا بے نتیجہ ہونے ہی کا یہ انجام ہے کہ کشمیری تحریک 1989 کے بعد تشدد کی راہ پر چل پڑی۔ آخری دور میں تشدد کی جو تباہ کن تحریک کشمیریوں کے درمیان ابھری وہ در اصل کشمیریوں کی مایوسانہ نفسیات کا نتیجہ تھی۔ پہلے وہ اپنے نادان لیڈروں کی پیروی میں بے نتیجہ راہوں کی طرف دوڑے اور جب فطرت کے قانون کے تحت ان کی تحریکوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیںآیا تو مایوسی اور جھنجلاہٹ کا شکار ہو کر انہوں نے مسلّح جدوجہد شروع کر دی۔

اہل کشمیر کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کا از سرِ نواندازہ  (reassessment)  کریں۔ وہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرکے اپنے مستقبل کی تعمیر کا نیا منصوبہ بنائیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیری لوگ پہلا موقع (first chance)   کھوچکے ہیں۔ اب ان کے لیے ممکن صورت صرف یہ ہے کہ وہ دوسرے موقع (second chance) کو شعوری طورپر سمجھیں اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کو اپنے حق میں استعمال کریں۔

کشمیریوں کے لیے اپنی زندگی کی تعمیر کا نیا پروگرام تین نکات پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ وہ تین نکات یہ ہیں—تعلیم، اقتصادیات، دعوت۔

کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ سیاست اور ہتھیار سے مکمل طورپر بے تعلق ہوجائیں۔ وہ اپنی پوری نسل کو تعلیم کے راستہ پر لگا دیں۔ جموں و کشمیر کے پورے علاقہ میں بڑے پیمانہ پر اسکول اور مدرسے کھولے جائیں۔ کم ازکم 25 سال تک وہ یہ کریں کہ اپنے بچوں کو ہر دوسری سرگرمی سے ہٹا کر صرف تعلیم کے راستہ پر لگادیں۔

دوسرا میدان اقتصادیات کا ہے۔ جموں و کشمیر کی ریاست میںتجارت اور صنعت کے غیرمعمولی مواقع موجود ہیں۔ کشمیری مسلمانوں نے ابھی تک ان مواقع سے بہت کم فائدہ اٹھایا ہے۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ نئے ذہن کے تحت پوری طرح یکسو ہو کر تجارت اور صنعت کی طرف متوجہ ہو جائیں۔

تیسرا میدان دعوت کا ہے۔ دعوت سے میری مراد اسلام کا پیغام غیر مسلموں تک پہنچاناہے۔ اس اعتبار سے کشمیریوں کے لیے دو بہت بڑے میدان کھلے ہوئے ہیں۔ ایک وہ غیرمسلم لوگ جو جموں و کشمیر میں بسے ہوئے ہیں اور وہاں کے ریاستی باشندہ ہیں۔ دوسرے وہ غیرمسلم لوگ جو سیاح کے طورپر کشمیر میںآتے ہیں۔

کشمیر میںاگر امن قائم ہوجائے تو وہاں سیاحت کا بہت بڑا میدان کھل جائے گا۔ یہ سیاحت ایک اعتبار سے انڈسٹری ہے اور دوسرے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ مدعوخود داعی کے پاس آگیا۔ یہ سیاحتی امکان اتنا بڑا ہے کہ اگر کشمیر کے لوگ اس کو درست طورپر استعمال کریں تو وہی ان کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لیے کافی ہو جائے۔

کشمیر جنت نظیر

کشمیر کو سیکڑوں سال سے جنت نظیر کہا جاتا تھا۔ یعنی جنت کا نمونہ۔ ایک فارسی شاعر نے جب کشمیر کو دیکھا تو اس نے کشمیر کے بارے میں یہ شعر کہا کہ اگر جنت زمین پر ہے تو وہ یہی کشمیر ہے:

اگر فردوس بر روئے زمیں است                 ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

پچھلے زمانوں میں جب کہ کشمیر کو جنت نظیر کہا جاتا تھا، اس وقت کشمیر میں ’’کشمیری عوام‘‘ کی حکومت نہ تھی۔ پہلے یہاں مغلوں کا راج تھا۔ اس کے بعد یہاں انگریز حکومت کرنے لگے۔ اس کے بعد یہاں ڈوگرہ راجہ کی حکومت قائم ہوئی۔ اس پوری مدت میںکشمیر ایک جنت نظیر خطہ بنا رہا۔ ساری دنیا کے لوگ اس کو دیکھنے کے لیے آتے رہے۔ برصغیر ہند میں تاج محل اگر عمارتی حسن کا اعلیٰ نمونہ تھا تو کشمیر قدرتی حسن کا اعلیٰ نمونہ۔

اس تاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر کو کشمیر بنانے کے لیے اس کی ضرورت نہیں کہ وہاں نام نہاد طورپر ’’کشمیری عوام‘‘ کی حکومت ہو۔ سیاسی اقتدار در اصل ایک قسم کا سیاسی در دِ سر ہے۔ یہ سیاسی دردِ سر خواہ جس کے حصہ میں آئے، کشمیر بدستور کشمیر رہے گا۔ کشمیر میں بسنے والے لوگوں کی اپنی تعمیری سرگرمیوں کے سوا کشمیر کی ترقی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

قرآن میں ہر اس چیز کا ذکر ہے جو انسان کے لیے خیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر قرآن میں آزادی یا حریت کا ذکر نہیں ملتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آزادی محض ایک پرفریب لفظ ہے، اس کی کوئی حقیقی معنویت نہیں۔ اس کا واضح عملی ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں تقریباً ساٹھ مسلم ملک ہیںجنہوں نے زبردست قربانی کے بعد آزادی کو حاصل کر لیا۔ مگر یہ تمام کے تمام ملک عملاً غیر آزاد بنے ہوئے ہیں۔ اس کی قریبی مثالیں پاکستان اور افغانستان اور بنگلہ دیش، وغیرہ ہیں۔ ان مسلم ملکوں میں یہ ہوا کہ آزادی کی خارجی لڑائی آخر میں اقتدار کی باہمی لڑائی بن گئی۔ کشمیریوں کے لیے بھی یہی انجام مقدر ہے۔ یا تو وہ اپنی نام نہاد آزادی کی جنگ جاری رکھیں جس کا آخری انجام صرف یہ ہے کہ خارجی لڑائی داخلی لڑائی کی مہلک تر صورت اختیار کرلے۔ یا وہ اپنی موجودہ سیاسی لڑائی کو ختم کر کے اپنی ساری کوششوں کو تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دیں۔

جولائی 2001 کے آخر میں میں ایک ہفتہ کے لیے سوئزر لینڈ میں تھا۔ یہ سفر ایک انٹرنیشنل کانفرنس کی دعوت پر ہوا۔ وہ لوگ ہم کو سوئزر لینڈ کے مختلف مقامات پر لے گئے اور اس طرح ہم کو سوئزر لینڈ کے بیشتر حصے کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ہماری ٹیم میں ایک 80 سالہ کشمیری خاتون بھی تھیں۔انہوں نے جب سوئزر لینڈ کے حسن کو دیکھا تو وہ بے اختیار رونے لگیں۔ ان کی زبان سے نکلا کہ ہمارا کشمیر بھی ایسا ہی خوبصورت تھا مگر آج وہ تباہ ہو چکا ہے۔

کشمیر کو کس نے تباہ کیا۔ کشمیر کی تباہی کی ذمہ دار کوئی حکومت نہیں۔ اس کی ذمہ داری تمام تر ان نادان لیڈروں پر ہے جنہوں نے اپنی پرجوش تحریر و تقریر سے کشمیری نوجوانوں کو بھڑکا یا اور انہیں تباہ کن جنگجوئی کے راستہ پر ڈال دیا۔ یہ لیڈر اگر کشمیری نوجوانوں کو تعلیم اور تعمیر کے راستہ پر ڈالتے تو آج کشمیر شاید سوئزرلینڈ سے بھی بہتر ہوتا۔ مگر نااہل لیڈروں کی نااہل رہنمائی نے کشمیر کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی کے لیے شاید ایک صدی کی مدت بھی ناکافی ہو۔

ضرورت ہے کہ اب کشمیر کے عوام و خواص جنگجوئی کے راستہ کو مکمل طورپر اور ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔ وہ پر امن تعمیر کے طریقہ کو اختیار کرلیں۔ اگر کشمیر کے لوگ حقیقی فیصلہ کے ساتھ اس تعمیری راستہ کو اختیار کر لیں تو وہی وہ وقت ہوگا جب کہ کشمیر کی وادیوں میں ہر طرف یہ آوازسنائی دے— جاگ اٹھا کشمیر۔